نویدِ حضوری

تبصرہ: مقبول ذکی مقبول

تاریخ نعت کی بات کی جائے تو یہ روزِ اول سے شروع ہوتی ہے اور آج تک جاری و ساری ہے قیامت تک رہے گی۔
جہاں بڑی بڑی برگزیدہ عظیم شخصیات نے نعت کہی ہے وہاں ہر مومن اور مسلمان نے بھی اپنا اظہارِ عقیدہ کھل کر بیان کیا ہے حتیٰ کہ غیر مسلم بھی نعت کہنا سعادت سمجھتے ہیں۔یہ سعادت ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ اللّٰہ پاک کے خاص بندے ہوتے ہیں جو اس سعادت سے شرف یاب ہوتے ہیں ۔نعت کہنے پڑھنے اور سننے میں خود کو تیار رکھتے ہیں۔
ان شعراء کرام میں ایک نام” منیر احمد منیر” کابھی ہے۔ اس قبل ان کا نعتیہ مجموعہ کلام “راستے مدینہ کے “منصہ ء شہود پر آکر علم و ادبی حلقوں سے پزیرائی حاصل کر چکا ہے۔
زیر نظر ان کا دوسرا اردو نعتیہ مجموعہ نویدِ حضوری ہے۔
اس کا انتساب
آل محمّد (ص) کے نام ہے
ان کے کلام میں ایک پرکشش پائی جاتی ہے جو قاری کو اپنی طرف مائل ہی نہیں کرتی بلکہ زندگی کو سنوارنے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
عقیدہ ونظریات کا اظہار خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے
عشقِ نبی (ص) میں ڈوبے اشعار قاری کو اپنے حصار میں لے کر دل میں اتر تے چلے جاتے ہیں
ایک نعت غیر منقوطہ بھی کہی گئی ہے اس سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
ہر گھڑی حوصلہ ملولوں کو
دہر کے ہر الم کا مرہم ہے
منیر احمد منیر کےقرطاس پر اترے ہوئے موتی زنگ آلودہ دلوں کے لئے اکسیر کا درجا رکھتے ہیں
جو خودکو نبی پاک (ص) کا غلام بنا لے دنیا و آخرت دونوں سنور جاتے ہیں،
ان کی فن و شخصیت پر شاعرانہ رنگ میں،محمد سرور قمر اورصاحبزادہ ناصر حسین راضی نے کمال اشعار کہے ہیں
پروفیسر محمد طاہر صدیقی،پروفیسرریاض قادری،شہزاد بیگ،کی آرا و مضامین شامل ہیں،جب کہ بیک ٹائٹل محمد افسرساجدکالکھاہواہے
آخر میں تین اشعار ملاحظہ فرمائیں
ہے جنت کا مثردہ نویدِ حضوری
نوید حضوری ہے عید حضوری
۔۔۔۔۔
جو مدینے سے لے کر کربلا کو جاتے ہیں
ایسا امتحاں ٹھہرے راستے وفاؤں کے
۔۔۔۔۔۔۔
پھر بھول گئے ہیں اسے شاہوں کے قصائد
توصیف محمد (ص) کا سبق جس نے پڑھا ہے

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر پنجاب پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

15ستمبر کی تاریخی حیثیت

جمعرات ستمبر 15 , 2022
15ستمبر کی تاریخی حیثیت
15ستمبر کی تاریخی حیثیت