15ستمبر کی تاریخی حیثیت

سعدیہ وحید
(معاون مدیرہ : شعوروادراک خان پور)

668ء – مشرقی رومی حکمران قسطن ثانی کو، اطالیہسرقوسہ، صقلیہ میں غسل کرتے وقت قتل کر دیا گیا۔
1928ء – الیگزینڈر فلیمنگ نے پینسلین ایجاد کی۔
1935ء – نازی جرمنی نے نرمبرگ لا کو ختم کر دیا جس کے تحت یہودیوں کو جرمنی کا شہری کہا گیا تھا۔
1944ء – دوسری جنگ عظیم:آسٹریلیا اور امریکہ کی فوجیں جاپانی جزیرے موراٹئی میں داخل ہو گئیں جبکہ امریکی نیوی نے پیلیو پر قبضے کی کوششیں شروع کیں۔
1947ء – پاکستان کا پہلا پاسپورٹ نمبر 000001 اسد سلیم کے نام جاری ہوا۔
1947ء – ریاست جونا گڑھ نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا۔
1950ء – سلامتی کونسل میں کشمیر پر ڈِکسن رپورٹ پیش بھارت پر استصواب ِرائے کے لیے ساز گار ماحول میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام۔
1962ء – صدر پاکستان:ایوب خان کے پیرس میں فرانسیسی صدر ڈیگال سے مذاکرات۔
1965ء – پاک بھارت جنگ 1965ء: ترکی نے پاکستان کو بھارتی جارحیت کے خلاف ہر قسم کی مدد کی پیشکش کر دی۔
1970ء – چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالستار نے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔
1981ء – صدر پاکستان:جنرل ضیاء الحق نے بھارت کو جنگ نہ کرنے کے معاہدہ کی پیشکش کر دی۔
1992ء – سیلاب کا پانی ملتان میں داخل ہونے سے جھنگ میں وسیع پیمانے پر تباہی۔
ولادت
786ء – مامون الرشید، عراقی خلیفہ
1254ء – مارکو پولو، اطالوی تاجر اور مہم جو (وفات:1324)
1857ء – ولیم ہاورڈ ٹافٹ، امریکی وکیل، منصف، اور سیاست دان، 27ویں صدر ریاستہائے متحدہ امریکا (وفات: 1930)
1890ء– اگاتھا کرسٹی، انگریزی مصنف اور ڈراما نگار (وفات:1976)

Agatha Christie
By, CC BY-SA 3.0, Link اگاتھا کرسٹی


1897ء۔اسماعیل ابراہیم چندریگر 15 ستمبرکو احمدآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت کے شعبے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور کچھ عرصے بعد مسلم لیگ کے ٹکٹ پر بمبئی کی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ 1940ء میں انہوں نے لاہور میں مسلم لیگ کے اس سالانہ اجلاس میں جس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تقریر کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1946ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے ہندوستان کی عبوری کابینہ کے رکن بنائے گئے اور قیام پاکستان کے بعد مرکزی وزیر تجارت و صنعت، افغانستان میں پاکستان کے سفیر اور صوبہ سرحد اور صوبہ پنجاب کے گورنر رہے۔ 18 اکتوبر 1957ء کو وہ پاکستان کے چھٹے وزیراعظم منتخب ہوئے مگر صرف 55 دن بعد 11 دسمبر 1957ء کو اس عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ اسماعیل ابراہیم چندریگر کا انتقال 26 ستمبر 1960ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

Ibrahim Ismail Chundrigar
اسماعیل ابراہیم چندریگر | By Unknown author Public Domain, Link


1917ء۔ معروف شاعر‘ ادیب‘ محقق و نقاد‘مترجم اورماہر لسانیات شان الحق حقی کی تاریخ پیدائش ہے۔ شان الحق حقی دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد مولوی احتشام الدین حقی اپنے زمانے کے مشہور ماہر لسانیات تھے اور انہوں نے مولوی عبدالحق کی لغت کبیر کی تدوین میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ اسی علمی ماحول میں شان الحق حقی کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور سینٹ اسٹیفنز کالج دہلی سے انگریزی میں ایم اے کیا جس کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو اورہندوستان کے شعبہ اطلاعات کے مشہور ماہنامہ آج کل سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے 1950ء سے 1968ء تک حکومت پاکستان کے محکمہ مطبوعات و فلم سازی میں خدمات انجام دیں، بعدازاں وہ پاکستان ٹیلی وژن سے بھی بطور ڈائریکٹر سیلز منسلک رہے۔ شان الحق حقی کی تصانیف میں تار پیراہن‘ دل کی زبان‘ حرف دل رس‘ نذر خسرو‘ انتخاب ظفر (مع مقدمہ) اور نکتہ راز‘ تراجم میں انجان راہی‘ تیسری دنیا‘ قلوپطرہ‘ گیتا نجلی اور ارتھ شاستر اور مرتبہ لغات میں فرہنگ تلفظ اور اوکسفرڈ انگریزی اردو لغت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک ترقی اردو بورڈ میں بطور معتمد اعزازی خدمات انجام دیں اور اردو کی سب سے بڑی لغت کی تدوین میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا۔شان الحق حقی کو حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ 11 اکتوبر 2005ء کو شان الحق حقی ٹورنٹو (کینیڈا) میں وفات پاگئے اور وہ ٹورنٹو ہی میں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
بھلا دو رنج کی باتوں میں کیا ہے
اِدھر دیکھو مری آنکھوں میں کیا ہے


1926ء۔پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک 15 ستمبر کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ باچاخان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی بھی کاٹی۔ 1990ء سے 1993ء کے دوران وہ قومی اسمبلی اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ اجمل خٹک پشتو اور اردو کے اہم اہل قلم میں بھی شمار ہوتے تھے۔ان کا مجموعہ کلام جلاوطن کی شاعری کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پرانہیں 2007ء کا کمال فن ایوارڈ بھی عطا کیا تھا۔ 7 فروری 2010ء کو اجمل خٹک نوشہرہ میں وفات پاگئے اور اکوڑہ خٹک میں آسودہ خاک ہوئے۔

Ajmal Khatak
اجمل خٹک | CC BY-SA 3.0, Link


1929ء – ماری گیل مین، امریکی طبیعیات دان اور نوبل انعام یافتہ
1937ء – رابرٹ لیوکس، جے آر، امریکی ماہر معاشیات اور نوبل انعام یافتہ
1950ء – مرزا مسرور احمد،جماعتِ احمدیہ کے پانچویں خلیفہ مرزا مسرور احمد 15 ستمبر 1950ء کو ربوہ، پاکستان میں پیدا ہوا۔وہ بانی جماعت ِاحمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کا پڑپوتا اور مرزا شریف احمد کا پوتا ہے۔ والد کا نام مرزا منصور احمد جبکہ والدہ کا نام ناصرہ بیگم تھا۔وہ اپنے بھائیوں مرزا ادریس احمد اور مرزا مغفور احمد اور بہن امتہ القدوس سے عمر میں چھوٹا ہے۔جماعت ِاحمدیہ کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر احمد کے جہنم رسید ہونے کے بعد 22 اپریل 2003ء کو مرزا مسرور احمد جماعت کے بانی مرزا غلام احمد کا پانچویں خلیفہ منتخب ہوا۔
1953ء – پیٹریکا رومبرگ، آسٹریائی اداکارہ
1955ء – عبدالقادر (کرکٹ کھلاڑی)، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی۔15 ستمبر 1955ء مشہور رائٹ آرم، لیگ بریک اور گگلی بائولر عبدالقادر خان کی تاریخ پیدائش ہے۔ عبدالقادر کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 14تا 19 دسمبر 1977ء کے دوران لاہور میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ سے ہوا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 67 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 236 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ایک اننگز میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز 15مرتبہ اور ایک میچ میں 10 وکٹیں لینے کا اعزاز 10 مرتبہ حاصل کیا۔ عبدالقادر نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 6 تا 11 دسمبر 1990ء کو لاہور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔ عبدالقادر نے 104 بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 132 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز 11 جون 1983ء کو برمنگھم میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوا۔انہوں نے ایک میچ میں 5 وکٹیں لینے کا اعزاز دو مرتبہ حاصل کیا۔ انہوں نے اپنا آخری بین الاقوامی میچ 2 نومبر 1993ء کو شارجہ کے مقام پر سری لنکا کے خلاف کھیلا۔
1987ء – علی سیسوکو، فرانسیسی فٹبال کھلاڑی
1988ء – چیلسی کین، امریکی اداکار و گلوکارہ
وفات
668ء – قسطن ثانی، بازنطینی حکمران (پیدائش:630)
1926ء – روڈولف کرسٹوف یوکن، جرمن فلسفی اور نوبل انعام یافتہ (پیدائش: 1846)
2006ء –اوریانا فلاچی، اطالوی صحافی اور مصنف (پیدائش:1929)
2012 ء ۔اُردو کی ممتاز افسانہ نگار ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق ہندوستان کے مرکزِ علم و ادب لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئی تھیں۔ان کے والد ڈاکٹر تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹرتھے۔ ہاجرہ مسرور کی پیدائش کے کچھ سال بعد دل کے دورے سے ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اْن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ہاجرہ کی والدہ نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے اندازمیں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اْردو کی معروف ادیب تھے۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جبکہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار اپنی نسل کے ممتاز شاعروں میں ہوتا تھا۔ قیام ِپاکستان کے بعد ہاجرہ مسروراپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اورلاہورمیں سکونت اختیار کرلی۔ اْس زمانے میں لاہورپاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطورکہانی و افسانہ نگاراپنا عہد شروع کرچکی تھیں۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی۔ 1948ء میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ’’نقوش‘‘ شائع کرنا شروع کیا۔ ہاجرہ مسرورکے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے۔ ان میں ”چاند کے دوسری طرف، تیسری منزل، اندھیرے اْجالے، چوری چھپے، ہائے اللہ، چرکے اوروہ لوگ” شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں ’’میرے سب افسانے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اْن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کی تھیں۔ ہاجرہ مسرور کو اْن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 14 اگست 1995ء کو صدارتی تمغہ برائے حْسنِ کارکردگی دیا گیا۔ 2005ء میں عالمی فروغِ اْردو ادب ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ’’نگار ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ’’آخری اسٹیشن‘‘ کی کہانی بھی لکھی تھی۔ یہ فلم معروف شاعر سرور بارہ بنکوی نے بنائی تھی۔ ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا۔ہاجرہ مسرور ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔
تعطیلات و تہوار
٭عالمی یوم جمہوریت:بین الپارلیمانی یونین کے تحت ہر سال دنیا بھر میں 15 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کی ابتدا 2008ء میں ہوئی۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے 2007ء میں اپنے 62 ویں سیشن کے ایجنڈا آئٹم نمبر 12 کی قراداد نمبر 62/7 کے ذریعے ہر سال یہ دن منانے کی قراداد منظور کی۔ اس دن کو منانے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر نئی جمہوریتوں کی حمایت کرنا اور ملکوں میں حکومتی سطح پر جمہوریت کے فروغ کے اقدامات کرنا ہیں۔
٭کوسٹا ریکا،ایل سیلواڈور،گوئٹے مالا،ہنڈوراس اور نکاراگوا کی یوم آزادی

saadia


٭٭٭

سعدیہ وحید

Next Post

کوہ نور ہیرے کی داستان

جمعہ ستمبر 16 , 2022
ہیرے جواہرات و لعل و یاقوت وغیرہ کا دامن ہمیشہ دھن دولت ، عظمت ، بڑائی اور شاہی دنیاء سے وابستہ ملیگا ۔ عام آدمی ان کے نام سن سکتا ہے
کوہ نور ہیرے کی داستان