Tag: شاعری

  • رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

    رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

    رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    بلوچستان کے ضلع کچھی کے پسماندہ گاؤں مِٹھڑی میں 16 جون 1962 کو جنم لینے والے عبدالرشید، جنہیں ادبی دنیا میں "رشید حسرت” کے نام سے جانا جاتا ہے، اردو شاعری کے اُن معتبر اور مخلص ناموں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی فکری دیانت، عروضی مہارت اور انسانی جذبات کے توازن سے اردو ادب میں ایک خاص پہچان قائم کی۔ غربت اور سماجی مشکلات کے باوجود، رشید حسرت نے نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ ستائیس سال تک کالج سطح پر اردو ادب پڑھا کر کئی نسلوں کو فکری بصیرت بخشی۔ سبکدوشی کے بعد بھی بلا معاوضہ علمِ عروض کی تدریس ان کے عشقِ ادب اور جذبۂ خدمت کی روشن مثال ہے۔

    رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔
    ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

    رشید حسرت کی شاعری احساس و اظہار کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے اشعار میں ایک طرف زندگی کے تلخ تجربات کی گہرائی ہے تو دوسری طرف انسانی کردار اور اجتماعی رویّوں پر گہرا طنز بھی۔ ان کا لہجہ سادہ مگر پُر اثر ہے، جس میں کلاسیکی روایت کی خوشبو اور جدید عہد کی معنویت دونوں جھلکتی ہیں۔

    ان کی تازہ غزل کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے:
    بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا
    مہکار میں تھا رات کی رانی میں کھڑا تھا
    یہ شعر اپنے اندر دوہری معنویت رکھتا ہے۔ جسمانی عمر کی بڑھاپے کے باوجود جذبے اور عزم کی جوانی۔ "رات کی رانی” کا استعارہ حسن اور مہک کا ہے، جو شاعر کے باطن کی روشنی کا پتہ دیتا ہے۔

    اسی غزل میں کردار، وفا، معاشرتی سرد مہری اور زمانے کی ناقدری جیسے موضوعات نہایت سلیقے سے بیان ہوئے ہیں مثلاً:
    تھے جتنے بھی وہ بیٹھ گئے ایک مگر وہ
    کردار تھا جو ساری کہانی میں کھڑا تھا
    یہ شعر نہ صرف انسانی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ اصول پر قائم رہنے والا شخص ہمیشہ تنہا ہوتا ہے۔
    رشید حسرت کے ہاں ماضی کی یاد اور حال کی تنقید، دونوں ساتھ چلتے ہیں جیسے:
    کچھ دیر کو وہ کوچہ و گھر ذہن میں اترے
    کچھ دیر کو وہ یاد پرانی میں کھڑا تھا
    یہ اشعار داخلی مکالمے اور وقت کی گردش کے احساس سے لبریز ہیں۔

    رشید حسرت عروضی اعتبار سے نہایت مضبوط شاعر ہیں۔ ان کی بحریں متوازن، ردیف و قافیہ میں نفاست اور تشبیہ و استعارے میں تازگی پائی جاتی ہے۔ ان کا لہجہ خطیبانہ نہیں بلکہ تخلیقی صداقت پر مبنی ہے۔ وہ جذبے کو سجا کر نہیں بلکہ سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار قاری کے دل میں اترتے ہیں اور دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔

    رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

    ان کی شاعری میں طنز کی ایک نرم لہر بھی موجود ہے۔ طنز جو دل آزاری نہیں بلکہ اصلاحِ فکر کا ذریعہ بنتا ہے مثلاً:
    سب کرسیاں خالی تھیں مگر ایک ادب دان
    بھاشن پہ رشید اپنی روانی میں کھڑا تھا
    یہ شعر خود شاعر کی ذات کا عکاس ہے، ایک سچا ادیب جو تنہائی میں بھی ادب کے وقار کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

    رشید حسرت کا دکھ صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ وہ اس معاشرے کی سرد مہری، کتاب سے بے رغبتی اور مادیت پرستی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں:
    "حسرت وہ چاندنی وہ عقیدت کے سلسلے
    پر کیا کریں کہ مسئلہ تھا روزگار کا”
    یہ شعر محض ایک ذاتی شکوہ ہی نہیں بلکہ ایک عہد کا نوحہ بھی ہے جس میں فنکار اپنے زمانے کے مادی جبر کے سامنے بے بسی کا اعلان کرتا ہے۔

    رشید حسرت کی شاعری میں نہ تو جذباتی تصنع ہے اور نہ ہی فکری بے سمتی۔ وہ کلاسیکی روایت سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور جدید حسیت کے قائل بھی۔ ان کی شاعری میں میر، فراق اور ناصر کاظمی کی تاثیر کے ساتھ ساتھ اکیسویں صدی کے شعور کی گہرائی بھی موجود ہے۔ ان کے اشعار میں علامتی معنویت، سماجی بصیرت اور فکری پختگی بیک وقت جلوہ گر ہے۔

    رشید حسرت اردو شاعری کے اُن خالص، غیر تجارتی اور فکری طور پر معتبر شعرا میں سے ہیں جنہوں نے ادب کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی شاعری میں انسانی احساس کی صداقت، فن کی پختگی، اور عہدِ حاضر کی تنقید کا حسین امتزاج ہے۔ اگرچہ معاشرتی بے اعتنائی نے ان کے راستے کو مشکل بنایا، مگر وہ آج بھی اپنی "روانی میں کھڑے” ہیں، ادب کی خدمت میں، سچائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    *
    نمونہ کلام
    *
    میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں
    عمیق درد کی گہرائیوں میں رکھتا ہوں

    گداز طبع کو تو کھینچ لوں گا اپنی طرف
    گھمنڈیوں کو میں سودائیوں میں رکھتا ہوں

    وہ زر پرست جو رانجھے سے ہیر چھینتے ہیں
    تو اپنی چیخ میں شہنائیوں میں رکھتا ہوں

    فقط اجالا نہیں راس میری آنکھوں کو
    رمق اندھیرے کی بینائیوں میں رکھتا ہوں

    وہ میرا دوست ہو، دشمن کہ ہو سگا بھائی
    میں خود پرست کو ہرجائیوں میں8 رکھتا ہوں

    کروں میں کیا کہ یہ برداشت میرا شیوہ ہے
    ملال جتنا ملے کھائیوں میں رکھتا ہوں

    جو سچ کہوں تو دھنک ان کے دم قدم سے ہے
    میں اپنے شعروں کو انگڑائیوں میں رکھتا ہوں

    سبھی کو دعویٰ تھا، آیا تھا مجھ پہ وقت کٹھن
    رہے جو ساتھ، انہیں بھائیوں میں رکھتا ہوں

    رشیدؔ تن پہ جو مزدور کے سجی ہے میاں
    پھٹی قمیص کو زیبائیوں میں رکھتا ہوں
    *
    ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے اک ایک کے بعد
    پر وہ الزام دھرا کرتے تھے اک ایک کے بعد

    ہم کو نفرت کی نظر بھی نہ ملی ہے تم سے
    لوگ قربت میں رہا کرتے تھے اک ایک کے بعد

    مان لیتا ہوں کسی نے نہیں چھیڑے گھاؤ
    پر نمک لے کے وہ کیا کرتے تھے اک ایک کے بعد

    تم نے کانوں میں تکبّر کی رئی ٹھونسی تھی
    ہم تو آواز دیا کرتے تھے اک ایک کے بعد

    ہم اسی سوچ میں تھے جا کے کہاں پر بیٹھیں
    لوگ تشریف رکھا کرتے تھے اک ایک کے بعد

    ہم بھی قیدی تھے کئی اور پرندوں کی طرح
    اور صیّاد رہا کرتے تھے اک ایک کے بعد

    زخم ہمدرد رفیقوں سے کہیں بڑھ کے رشیدؔ
    آ کے سینے سے لگا کرتے تھے اک ایک کے بعد
    *
    نصیب ہو نہیں پایا جو رنگ میرؔ کا ہے
    وگرنہ شعر مرا بھی تو زہر تیر کا ہے

    قفس سے اپنی محبت کے مت نکال اسے
    رہے گا قید سدا فیصلہ اسیر کا ہے

    شکست و ریخت سے یہ ہم کنار کر دے گا
    اٹھا نہ پاؤں گا میں بوجھ وہ ضمیر کا ہے

    یہ اس کی سیوہ کرے، وہ لہو نچوڑے گا
    غریبِ شہر سے کیسا سلوک امیر کا ہے

    نکل کے جانے نہ پاؤں تری اسیری سے
    سوال رخ کا ترے، زلفِ حلقہ گیر کا ہے

    چلا تھا پار لگانے کو بیچ میں چھوڑا
    یہ معجزہ بھی عجب اپنے دستگیر کا ہے

    ابھی وہ عہدِ جوانی رشِیدؔ خواب ہؤا
    کہ رنگ پھیکا پڑا وقت کی لکیر کا ہے
    *
    رکھیں گے دل کے قریں تم کو، دور مت جاؤ
    سہارا کون بنے گا حضور، مت جاؤ

    تمہیں تو اور کہیں بھی سکوں ملے گا مگر
    اجاڑ دو گے وفا کا سرور، مت جاؤ

    سفر کا سلسلہ جاری رہے مشقت سے
    ملے گی ہم کو بھی منزل ضرور، مت جاؤ

    سبب تو ہو گا تمہارے برا منانے کا
    ہمیں بتاؤ ہمارا قصور، مت جاؤ

    پھر آج جلوۂِ یزداں کی مانگ ہے لوگو
    صدا سنے گا یہاں سے بھی، طورؔ مت جاؤ

    یہاں کے لوگ حسینوں سے بیر رکھتے ہیں
    تمہارے رخ سے جھلکتا ہے نور، مت جاؤ

    میں کہہ رہا تھا کسی دلپذیر ہستی سے
    تمہیں بہشت ہو، جنّت کی حُور مت جاؤ

    سفر میں کتنے مسائل کا سامنا ہو گا
    کروں گا کیسے اکیلے عبور، مت جاؤ

    بدن پہ زخم ہیں جتنے وہ ڈھانپ کر رکھ لو
    اب اس کے سامنے تو چُور چُور مت جاؤ

    بلائیں راستہ روکے کھڑی ملیں گی تمہیں
    نہیں ہے وقت کا تم کو شعور، مت جاؤ

    چلے ہو روٹھ کے حسرتؔ کہاں، کہ تم سے ہے
    محبّتوں کا، وفا کا غرور، مت جاؤ

    .

  • “تجھ سے مل کے سب در دل کے وا ہوتے ہیں” از فرہاد احمد فگار

    “تجھ سے مل کے سب در دل کے وا ہوتے ہیں” از فرہاد احمد فگار

    تجھ سے مل کے سب در دل کے وا ہوتے ہیں
    تو ہی تو ہوتا ہے ہم جس جا ہوتے ہیں
    تُو کرتا ہے روشن دنیا روح اور دل کی
    چاند اور تارے تیرے آگے کیا ہوتے ہیں
    آج تمھارے ہاتھ میں ایک کنارا تک نہیں
    ہم نے کہا بھی تھا دریا دریا ہوتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرہاد احمد فگار

    تجلیٔ الوہیت اور انسانی دل کا انکشاف

    فرہاد احمد فگار کی یہ حمد روحانی احساس اور الوہی تعلق کی حسین عکاسی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ “تجھ سے مل کے سب در دل کے وا ہوتے ہیں”، گویا خدا کی قربت انسان کے دل کے تمام بند دریچوں کو کھول دیتی ہے۔ یہ مصرعہ صوفیانہ تجربے کی بنیاد پر کھڑا ہے جہاں بندہ اپنے خالق کے ساتھ وصل کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ انسانی دل، جو عام حالات میں غفلت اور خودغرضی کے پردوں میں چھپا رہتا ہے، اس لمحے نورِ یقین سے روشن ہو جاتا ہے۔ شاعر کا لہجہ عقیدت، انکسار اور عرفان سے لبریز ہے۔ یہاں دل کا کھلنا دراصل انسان کے اندرونی نور کی بیداری ہے۔ تصوف کے مطابق، “دل خدا کا گھر ہے” اور جب یہ دل کھلتا ہے تو معرفت کے در وا ہو جاتے ہیں۔ شاعر کا یہ نکتہ روحانیت کے بلند ترین احساس کی نمائندگی کرتا ہے جہاں خدا کی قربت بندے کے شعور کو وسعت بخشتی ہے۔

    الوہی روشنی اور کائناتی تمثیل

    دوسرے شعر میں شاعر کہتا ہے، “تُو کرتا ہے روشن دنیا روح اور دل کی، چاند اور تارے تیرے آگے کیا ہوتے ہیں”۔ یہاں شاعر نے روشنی کو استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے جو خدا کی صفتِ نورانیت کی علامت ہے۔ یہ وہی نور ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے: “اللّٰہ نور السموات والارض”۔ شاعر کے نزدیک دنیا کی ساری روشنی، چاند کی ٹھنڈک اور ستاروں کی چمک خدا کے نور کے سامنے ہیچ ہیں۔ یہ تمثیل کائناتی سطح پر خدا کی قدرت کی مظہر ہے۔ شاعر نے روح اور دل کی روشنی کو کائنات کی روشنی پر فوقیت دی ہے، کیونکہ روحانی بصیرت مادی بصیرت سے زیادہ طاقتور ہے۔ شاعر کا انداز نہ صرف استعاراتی ہے بلکہ فلسفیانہ گہرائی بھی رکھتا ہے۔ یہ مصرعہ ایک ایسی روشنی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے — وہ روشنی جو انسان کو خدا کی پہچان عطا کرتی ہے۔

    انسانی کمزوری اور خدا کی قدرت

    تیسرے شعر میں شاعر کہتا ہے: “آج تمھارے ہاتھ میں ایک کنارا تک نہیں، ہم نے کہا بھی تھا دریا دریا ہوتے ہیں۔” یہاں شاعر انسانی کمزوری اور خدا کی لامحدود طاقت کو بیان کرتا ہے۔ دریا کا استعارہ وسعت، بے ثباتی اور طاقت کے لیے استعمال ہوا ہے، جو خدا کی قدرت اور انسان کی عاجزی کا مظہر ہے۔ شاعر انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ خدا کے دریا سے مقابلہ ممکن نہیں، کیونکہ یہ دریا اُس کی ذات کی علامت ہے، جو لا محدود ہے۔ “کنارا نہ ہونا” دراصل بندگی کی حالت ہے — بندہ اس دریا میں غرق ہو کر فنا فی اللہ کی منزل پاتا ہے۔ شاعر کے نزدیک دنیاوی سہارے عارضی ہیں، اصل سہارا صرف خدا ہے۔ یہی وہ صوفیانہ نظریہ ہے جو انسان کو خود سے ماورا کر کے حقیقتِ ازلی سے جوڑتا ہے۔

    کلیدی مفہوم اور روحانی ہم آہنگی

    مجموعی طور پر یہ حمد روحانی عقیدت، عرفان اور خالص توحید کے احساسات سے بھرپور ہے۔ شاعر کا خدا کے ساتھ مکالمہ سراپا نیازمندی کا مظہر ہے۔ اس کلام میں بندہ خود کو فنا کرتا ہے تاکہ بقا پائے۔ ہر مصرعہ میں ایک لطیف روحانی تجربہ پوشیدہ ہے جو صوفیانہ روایات سے ہم آہنگ ہے۔ شاعر نے نہ صرف الفاظ کے ذریعے عقیدت کا اظہار کیا ہے بلکہ ایک جذباتی کیفیت بھی پیدا کی ہے جو قاری کے دل پر اثر ڈالتی ہے۔ اس حمد میں خدا کی صفاتِ نور، قدرت، محبت اور قربت کے تاثر نمایاں ہیں۔ شاعر کا وژن یہ ہے کہ انسان جب تک خدا سے جڑ نہیں جاتا، تب تک اس کے اندر کی تاریکی ختم نہیں ہوتی۔

    اسلوبِ شاعری اور فنی تجزیہ

    فرہاد احمد فگار کی حمد کا اسلوب نہایت شفاف، رواں اور صوفیانہ نرمی لیے ہوئے ہے۔ ان کے کلام میں خارجی تمثیلیں (چاند، تارے، دریا) داخلی احساسات (روح، دل، قربتِ الٰہی) کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر معنوی گہرائی پیدا کرتی ہیں۔ وہ مشکل الفاظ یا گنجلک تراکیب سے گریز کرتے ہیں اور سادگی کے ذریعے روحانی تاثیر پیدا کرتے ہیں۔ مصرعوں میں صوتی توازن اور روانی حمد کی نعتی فضا کو مزید مؤثر بناتی ہے۔ فگار کی زبان میں ایک لطافت ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتی ہے۔ یہ اسلوب نہ صرف کلاسیکی حمدیہ روایت سے جڑا ہوا ہے بلکہ جدید روحانی حسیت کو بھی منعکس کرتا ہے، جس سے ان کی حمد ایک زندہ روحانی تجربہ بن جاتی ہے۔

    یہ حمد فنی اعتبار سے ایک مکمل روحانی تجربے کا بیان ہے جو انسان کو اپنے خالق کی قربت کے احساس سے لبریز کر دیتی ہے

    Title Image by pixabay

  • تبصرہ بر غزلیں از ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی

    تبصرہ بر غزلیں از ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی

    تبصرہ بر غزلیں از ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی


    ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی صاحب کے یہ اشعار ایک ایسے شاعر کی پہچان ہیں جو اپنی داخلی کیفیات، محرومیوں، تنہائیوں اور انسانی رویوں کے تضادات کو بڑے سادہ اور رواں پیرایے میں پیش کرتا ہے۔ ان کے یہاں نہ لفظوں کی بناوٹ میں تصنع ہے، نہ جذبات کے بیان میں جھول۔

    ان غزلوں میں محبت، بےوفائی، رفاقت، تنہائی اور زندگی کی تلخ حقیقتوں پر گہرا مشاہدہ نظر آتا ہے۔ شاعر کبھی محبوب کی بےرخی پر شکوہ کرتا ہے، کبھی سماج کی منافقت پر طنز، اور کبھی اپنے اندر کے زخموں کو بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر:

    پہلی غزل میں ملاقات نہ ہونے، محبت کے بدلتے رویوں اور تعلقات کے سرد پڑنے کا دکھ نمایاں ہے۔

    دوسری غزل میں انسانی نیتوں کی کھوٹ، جھوٹ اور معاشرتی گراوٹ پر طنزیہ اور حقیقت پسندانہ لہجہ ہے۔

    تیسری اور چوتھی غزلوں میں محبت کے ساتھ ساتھ تنہائی اور زندگی کے بےرحم حقائق کا بیان ہے۔

    دیگر غزلوں میں وفا اور جفا کے تقابل کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی روحانی تھکن اور تقدیر سے بیزاری بھی جھلکتی ہے۔

    شاعری کا اسلوب کلاسیکی اردو غزل کے روایتی سانچے میں ہے، مگر موضوعات اور لہجہ آج کے قاری کو بھی قریب محسوس ہوتے ہیں۔ زبان رواں ہے، تراکیب آسان اور قافیہ ردیف کی ترتیب سنجیدہ اور مضبوط ہے۔ قاری پر اشعار کا اثر اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ شاعر نے تجربات کو تصنع کے بجائے سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

    مجموعی طور پر ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کی یہ غزلیں قاری کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہیں۔ یہ نہ صرف ذاتی واردات کا بیان ہیں بلکہ معاشرتی مزاج اور انسانی نفسیات کی ایک آئینہ داری بھی کرتی ہیں۔

    تبصرہ بر غزلیں از ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی

    چنداشعار اور تبصرہ

    "گلہ نہیں کہ ملاقات بھی نہیں کرتے
    وہ مل بھی جائیں کہیں، بات بھی نہیں کرتے”

    یہ شعر تعلقات میں سرد مہری اور رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے۔ ملاقات ہونا بھی بےمعنی ہو جائے تو رفاقت کا اصل حسن ختم ہو جاتا ہے۔

    "تجھ کو بیچیں گے مرنے سے پہلے
    سب ہی کھوٹے ہیں نیت میں اپنی”

    یہاں شاعر نے معاشرتی منافقت اور لالچ کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ طنز بھرپور ہے اور انسانی رشتوں میں کھوٹ کی حقیقت عیاں کرتا ہے۔

    "وہ مرا کب بنا سدا کے لئے
    اس کی موجودگی رہی پل بھر”

    محبت کی ناپائیداری اور لمحاتی خوشیوں کے ختم ہوجانے کا دکھ اس شعر میں گہری چوٹ کے ساتھ موجود ہے۔

    "تم جو گئے ہو تو تنہائی ساتھ ہے میرے
    غم کا بھوت اب رہنے لگا ہے میرے مکاں پر”

    اس شعر میں تنہائی کو "بھوت” کہا گیا ہے، جو ایک حسین اور منفرد تشبیہ ہے۔ غم کو ایک مستقل باسی کی طرح دکھایا گیا ہے جو دل کے مکان میں ڈیرہ ڈال لیتا ہے۔

    "دم نکل جائے گا امشب مجھے معلوم ہے یہ
    زہر جو تم نے دیا، ہوگا اثر آج کی رات”

    اس شعر میں محبت اور جفا کا انتہائی شدت بھرا رنگ ہے۔ یہاں موت اور عشق کی علامتیں ایک دوسرے سے جڑ کر درد کی انتہا دکھاتی ہیں۔

    "کیا ستم ہے پھیکی پھیکی سی محبت ہے تری
    پیار وہ کیسا بھلا جس میں تری خوشبو نہ ہو”

    محبت کے جذبے کو خوشبو کے استعارے سے باندھنا نہایت نازک اور دلنشیں ہے۔ یہ شعر رومانی حسن کے ساتھ ساتھ ایک کمی کا احساس بھی دلاتا ہے۔

    "اس کے دل کا مکیں تھا میں پہلے
    اب وہ خالی مکان لگتا ہے”

    یہ شعر بےوفائی اور تعلق کے بدل جانے کی انتہائی مؤثر تصویر ہے۔ خالی مکان کی تشبیہ جذباتی خلا کو پوری شدت سے ظاہر کرتی ہے۔
    "میں بادہ خوار ہوں لیکن برا بالکل نہیں ہوں
    مرے دل میں ابھی فاروق ہے ایمان باقی”

    یہاں شاعر نے اپنے کردار کی صفائی دیتے ہوئے عشق اور ایمان کو ساتھ باندھا ہے۔ یہ تضاد قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان گناہوں یا کمزوریوں کے باوجود بھی نیکی اور ایمان کا حامل رہ سکتا ہے۔

    ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے یہ منتخب اشعار ان کے کلام کی گہرائی، سادگی، درد، طنز اور حقیقت پسندی کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے یہاں رومان بھی ہے، تنہائی بھی، اور معاشرتی تلخیاں بھی۔ ان کا اسلوب قاری کے دل پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔


    ہاجرہ نور زریاب۔۔۔۔۔آکولہ مہاراشٹر انڈیا

  • جب وہ دھیرے سے مسکراتا ہے

    جب وہ دھیرے سے مسکراتا ہے

    ہر طرف رنگ و نور لاتا ہے
    جب وہ دھیرے سے مسکراتا ہے

    وہ جھجھکتا ہے بات کرنے سے
    چوڑیاں کھنکھناتا جاتا ہے

    اُس کے ہاتھوں میں پیار کے گجرے
    اُس کا کاجل بھی گنگناتا ہے

    اُس کی آنکھوں میں آنکھ ڈالوں تو
    اُس کا آنچل بھی سرسراتا ہے

    اُس کو دیکھوں تو گیت گاتا ہوں
    وہ اشارے سے چپ کراتا ہے

    میرے اظہارِ پیار پر اکثر
    سنتے ہی بات ٹال جاتا ہے

    اَلوداعِ نظر سے کیوں دیکھوں
    اُس کو دل پاس پاس پاتا ہے

    جب وہ قائم جھٹکتا ہے زلفیں
    کتنے چہروں سے رنگ اڑاتا ہے

    Title Image by Mari Castro from Pixabay

  • نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر

    نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر

    نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    خطہء جھنگ ارب کے حوالے سے ایک عظیم خطہء ہے ۔ اِس علاقے میں تخلیق ہونے والا ادب اپنی مثال آپ ہے ۔ اِس خطہء میں بڑے بڑے شاعر ، ادیب ، محقق پیدا ہوئے جنہوں نے ادب کے میدان میں نمایاں نام پیدا کیا ۔ اِس دھرتی پر دو عالمی شہرت یافتہ لوک داستانوں نے جنم لیا جن میں ہیر رانجھا اور مرزا صاحبہ کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔ رومانیت کی وجہ اس خطے کو عاشقوں صادقوں کا خطہ کہا جاتا ہے ۔ اِن رومانوی داستانوں کی وجہ سے ہی یہاں پر تخلیق ہونے والا ادب اپنے اندر ایک انوکھی چاشنی رکھتا ہے ۔ اس لئے اس خطے کے تخلیقی ادب میں عشق و محبت ، ہجر و وصال اور رومانیت کے اثرات کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ شاعری میں اگر پیار ، محبت ، عشق کے ساتھ وصول اور فطری جذبے نہ ہو تو شاعری ، شاعری نہیں کہلاتی اسی لئے یہ جذبے شاعری بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
    نسیم عباس کاشف اُردُو اور پنجابی زبان کا خوبصورت شاعر ہے ۔ نسیم عباس کاشف 12 دسمبر 1974ء کو اوکاڑہ چھاؤنی میں خادم حسین جعفری کے ہاں پیدا ہوئے ۔ اِن کے والد پاک فوج میں بطور حوال دار ملازم تھے ۔ پھر کچھ عرصے کے بعد سر زمین جھنگ کے چک نمبر 166 دوکہ تحصیل و ضلع میں آ کر رہائش پذیر ہوئے اور اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا چند سالوں کے بعد وہاں سے ہجرت کرکے جھنگ کے علاقے موضع دابگر کلیکہ جو کہ جھنگ شہر سے دور دس کلومیٹر سرگودھا روڈ پر واقع وہاں آ کر سکونت اختیار کی ۔ وہاں کے قریبی گاؤں موضع پکے والا کے ہائی اسکول سے مڈل تک تعلیم حاصل کی ۔ آگے کی تعلیم کچھ نجی معاملات و مسائل کی وجہ سے پوری نہ ہو سکی ۔
    نسیم عباس کاشف نے 1992ء میں اپنے شعری سفر کا آغاز کیا ۔ اُردو ، پنجابی ادب کی تمام اصناف میں اشعار کہے اور اِن کا کلام ماہنامہ ٫٫ جواب عرض ،، لاہور میں شائع ہوتا رہا ہے ۔
    جھنگ کے قریبی دریائے چناب میں 2014ء میں ایک طوفانی سیلاب آیا جس کی وجہ سے موصوف شاعر کا بیشتر کلام اُس دریا کی طوفان کی نظر ہو گیا ۔ اِس بہت بڑے سانحہ نے شاعر کے اعصاب پر گہرے اثرات مرتب کئے اور ایک طویل عرصہ شاعری کی زندگی تخلیقی سقوط کا شکار رہی اور پھر آہستہ آہستہ دوبارہ سے ذہن ادب کی طرف مائل ہوا اور پھر سے تخلیقی شعری سفر کا آغاز ہوا جو اب تک جاری و ساری ہے ۔ اُس وقت ڈائجسٹ میں چھپنا اعزاز سمجھا جاتا تھا ۔ اس لئے بہت سے لکھتے ان اور ماہناموں میں اپنا کلام چھپواتے تھے ۔ دور افتادہ علاقوں کے لکھے اکثریت چھپتی نہیں تھی جو چھپتے تھے وہ ادبی جرائد و رسائل کی بجائے ان ڈائجسٹوں چھپنا ایک کار نامہ سمجھتے تھے ۔
    اب ہم نسیم عباس کاشف کی شعری جہتوں پر بات کرتے ہیں اور اُن کی شاعری مختصر سا ناقدانہ جائزہ بھی پیش کرتے ہیں ۔ اُن کی غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔

    نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر
    نسیم عباس کاشف

    گرچہ صورت ہی جاودانی ہے
    پھر یہ الفت کی کیا کہانی ہے

    خواب سارے لُہو لُہو دیکھے
    بکھری بکھری میری جوانی ہے

    پھول پایا نہ اُن دریچوں کو
    رات بچپن کی کیا سہانی ہے

    کوئی دا مان نہ ملا کاشف
    اُجڑی اُجڑی یہ زندگانی ہے

    نسیم کاشف کے ان کے شعروں کو دیکھا اور پڑھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ اُن کے اندر کی وہ ٹوٹ پھوٹ ، سماجی رویوں کے شکار اُن جذبوں کی محرومیوں کا ذکر ہے جن سے انسان صدیوں سے لڑتا آیا ہے ۔ اس میں محبت جھوٹ نفرت بے بنیاد اَنا پرستی کے ان کے کرداروں سے لڑتا لڑتا آخر کار اندر سے کرچی کرچی ہو جاتا ہے ۔
    نسیم کاشف بھی انہی رویوں کے ظلم کا نشانہ بنتا دیکھائی دیتا ہے ۔ اُن کے کچھ اور اشعار بطور نمونہ پیش خدمت ہیں ۔

    اُس کی آنکھوں میں اِک تجسّس تھا
    تیرگی سا نظارہ اُس کا تھا

    کون جانے گا اُس کے رازوں کو
    کس طرف وہ اشارہ اُس کا تھا

    وہ چلی تھی جو سمت باغوں کے
    جیسے منزل کنارہ اُس کا تھا

    کیسے ہم راز تم ہو کیسے میرے
    یہ سوال ہی دوبارہ اُس کا تھا

    نسیم عباس کاشف رومانوی اور جمالیاتی شاعری کے ساتھ ساتھ رثائی ادب بھی جوبصورت انداز میں تخلیق کرتا ہے ۔ ربّ کائنات اُن کے اِن جذبوں کو ہمیشہ زندہ رکھے اور وہ اسی طرح ادب تخلیق کرتا رہے ۔ آمین

  • منقبت کا سرسری جائزہ

    منقبت کا سرسری جائزہ

    منقبت کا سرسری جائزہ

    منقبت :حضرت علی علیہ السلام


    تبصرہ نگار: سید حبدار قائم

    فلک ٹھہرے زمین ٹھہری زماں ٹھہرے سماں ٹھہرے
    علی کے واسطے لگتا ہے جیسے سب جہاں ٹھہرے

    علی کیا ہیں ذرا نہج البلاغہ دیکھ لو پڑھ کر
    علی کی استقامت پر بڑے حرف و بیاں ٹھہرے

    علی کے ہاتھ میں ہے ہاتھ میزانِ شریعت کا
    علی کی ضرب کے آگے بھلا کوئی کہاں ٹھہرے

    سبھی القاب ان کے واسطے اترے ہیں قدرت سے
    انہی کے راستوں پہ روشنی کے کارواں ٹھہرے

    علی کی ذاتِ اقدس منبع ء صبر و قناعت ہے
    علی کی زندگی میں کیسے کیسے امتحان ٹھہرے

    سخاوت میں امامت میں نہیں ان کا کوئی ثانی
    علی کتنے یتیموں کے سروں پر سائباں ٹھہرے

    علی کے نام کی مالا گلے میں جس نے ڈالی ہو
    اُس اہل دل کے رستے میں کہاں سود و زیاں ٹھہرے

    ”علی ہی جانتے ہیں راز و رشتے حرف و معنی کے“
    نبی گر جسم ہیں مولا علی بھی ان کی جاں ٹھہرے

    اسی میں آس کوئی حکمِ رب کی پاسداری ہے
    شبِ ہجرت میں جو مولا نبیؐ کے رازداں ٹھہرے

    منقبت کا سرسری جائزہ

    حضرت سعادت حسن آس کی یہ منقبت نہایت پُراثر اور عقیدت سے لبریز ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی ذاتِ گرامی کی عظمت، فہم، استقامت، سخاوت، اور روحانی مقام کو نہایت خوبصورت اور بلیغ انداز میں پیش کرتی ہے۔ ذیل میں اس منقبت پر ایک جامع تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے:

    یہ منقبت حضرت علی علیہ السلام کی شان و عظمت کو منظوم پیرائے میں پیش کرنے کا ایک نہایت مؤثر اور ادبی طور پر خوش‌نما اظہار ہے۔ شاعر نے ایک طرف تو عقیدت اور محبت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا ہے، اور دوسری جانب فصاحت و بلاغت کے تقاضوں کو بھی بخوبی نبھایا ہے۔

    اگر ادبی و فکری جہات میں دیکھا جاۓ تو شاعر نے وقت، فضا، زمین و آسمان کو ٹھہر جانے کی کیفیت میں لا کر حضرت علیؑ کے مقام کو کائناتی تناظر میں بیان کیا ہے، جو کہ نہایت بلند تخیل کی عکاسی کرتا ہے:

    ”علی کے واسطے لگتا ہے جیسے سب جہاں ٹھہرے“
    نہج البلاغہ کے ذکر کے ذریعے شاعر نے علیؑ کے علم و حکمت کی عظمت کا حوالہ دیا ہے، جس سے قاری کو حضرت کے فکری ورثے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے:

    ”علی کیا ہیں ذرا نہجل البلاغہ دیکھ لو پڑھ کر“

    میزانِ شریعت اور ضربِ علیؑ کے امتزاج سے شاعر نے حضرت علیؑ کی عدل پسندی اور شجاعت کو اجاگر کیا ہے:

    ”علی کے ہاتھ میں ہے ہاتھ میزانِ شریعت کا“

    ان اشعار میں حضرت علیؑ کی سخاوت، امامت، یتیم نوازی، اور قربِ الٰہی کو جس محبت سے بیان کیا گیا ہے، وہ قاری کے دل میں احترام کی ایک نئی جہت پیدا کرتا ہے:

    ”علی کتنے یتیموں کے سروں پر سائباں ٹھہرے“

    سب سے مؤثر شعر شاید وہ ہے جہاں شاعر نے حضرت علیؑ کو نبی اکرم ﷺ کی "جان” قرار دیا:

    ”نبی گر جسم ہیں مولا علی بھی ان کی جاں ٹھہرے“
    اس شعر میں وحدتِ رسالت و ولایت کا حسین نکتہ بیان کیا گیا ہے جو صوفیانہ فکر کی روح ہے۔

    لسانی و شعری محاسن کو دیکھا جاۓ تو ردیف "ٹھہرے” کا مسلسل استعمال منقبت کو ایک خوبصورت صوتی آہنگ دیتا ہے۔
    قوافی کا نظم، بحور کی روانی، اور مضامین کا تنوع، سب شاعر کی فنکارانہ مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔
    تشبیہ و استعارہ، علامت و کنایہ کا استعمال بھی برمحل ہے، جیسے:

    ”علی کے نام کی مالا گلے میں جس نے ڈالی ہو“
    یہاں "مالا” ایک روحانی تعلق کی علامت ہے۔

    اگر منقبت کے روحانی اثرات کو دیکھا جاۓ تو یہ منقبت نہ صرف ایک نعتیہ جذبے کے ساتھ لکھی گئی ہے بلکہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت کا ایک گہرا اظہار بھی ہے۔ قاری کو یہ اشعار حضرت علیؑ کی معرفت کی طرف مائل کرتے ہیں، اور یہی ایک کامیاب منقبت کا خاصہ ہوتا ہے۔
    سعادت حسن آس کی یہ منقبت زبان و بیان، فکر و فن، اور عقیدت و معرفت تینوں محاذوں پر کامیاب ہے۔ یہ ایک ایسا کلام ہے جسے محفلِ میلاد، مجالسِ ذکرِ علیؑ یا علمی و روحانی نشستوں میں پڑھے جانے کے لائق قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاعر کی محبت اور عقیدت نے اس منقبت کو صرف ایک ادبی تخلیق ہی نہیں، بلکہ ایک روحانی دعوت بھی بنا دیا ہے۔

    درحقیقت، یہ کلام حضرت علیؑ کی عظمت کو نہایت موزوں پیرائے میں بیان کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ جسے پڑھ کر دل مودت سے سرشار ہو جاتا ہے سعادت حسن آس کے لیے میں دعا گو ہوں کہ خدا وند کریم ان کے قلم کے رزق میں اضافہ فرماۓ۔ آمین

    .

  • یہ مُستقَر ہے شہنشاہِ دو جہاں ﷺ کے لیے

    یہ مُستقَر ہے شہنشاہِ دو جہاں ﷺ کے لیے

    یہ مُستقَر ہے شہنشاہِ دو جہاں ﷺ کے لیے
    زمین رشک کے لائق ہے آسماں کے لیے

    ہمارے پاس عقیدت کی اُون ہے موجود
    سو ایک شال بُنی جائے جسم و جاں کے لیے

    بس ایک سمت چمکتی ہوئی اندھیرے میں
    بس ایک نقش کی جِھلمل ہے کارواں کے لیے

    ہمیں حضور ﷺ کی رحمت نے ڈھانپ رکھا ہے
    کبھی دعا نہیں مانگی ہے سائباں کے لیے

    اُس ایک اسم کی خوشبو اُتر گئی مجھ میں
    یہ کام ٹھیک ہُوا تازگیء جاں کے لیے

    Title Photo by Tarik Sami

  • پروفیسر عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم موضوع بیٹی

    پروفیسر عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم موضوع بیٹی

    پروفیسر عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم موضوع بیٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مضمون نگار
    (مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    مختلف زاویوں سے برتا ہے
    لفظ بیٹی کو میں نے شعروں میں
    ۔۔۔۔۔
    مثل مہماں کے بیٹیاں ہوتیں
    بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں
    ۔۔۔۔۔
    ظلم کی انتہا نہیں تو کیا
    آپ تو بیٹی کا بھی حق کھاتے
    ۔۔۔۔۔
    چار دن ہی سہی بخاری جی
    گھر کی رونق تو بیٹیوں سے ہے
    ۔۔۔۔۔
    مثل مہماں کے بیٹیاں ہوتیں
    بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں
    عاصم بخاری ایک سریع الرفتار شاعر و ادیب ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں خلاق ذہن عطا کیا ہے ۔ منفرد آ واش ہیں شعر و ادب کی دنیا میں ۔
    ان کے چند ا ھوتے اشعار سے میں نے اپنے مضمون کا آ غاز کیا ہے ۔ اب کی بار ان کا موضوع مشرقیت ، اسلامیت اور آدمیت و انسانیت کا حامل ہے ۔ اس میں ایمانیات بھی ہے دینیات بھی ہے اور اخلاقیات و سماجیات بھی
    ۔۔۔۔۔
    اس بار انھوں نے اپنی ، شاعری کا موضوع بیٹی جیسے پاکیزہ و مقدس رشتے کو بنایا ہے جسے بڑی جامعیت کے ساتھ کامیاب نبھایا ہے
    شعر ملاحظہ ہو

    کتنے رنگوں میں بیٹیاں عاصم
    آ ج بھی زندہ دفن ہوتی ہیں
    ۔۔۔۔
    عاصم بخاری کا تخیل بیدار ہے ۔سماجی مسائل کا شعور انہیں بخوبی ہے ۔ جس کا بڑے کرب ناک انداز میں ببانگ دہل اظہار بھی کرتے رہتے ہیں ۔ بیٹا بلاشبہ اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے مگر بیٹی کو بھی اللّٰہ تعالیٰ نے ماں باپ اور گھر کے لیے رحمت قرار دیا ہے ۔
    شعر دیکھیں

    بیٹے بھی مانا بیٹے ہیں دل کا سرور ہیں
    عاصم بخاری بیٹیوں سے گھر کی رونقیں
    ۔۔۔۔۔۔
    بخاری یہ حق دار ترکے سے بھی ہے
    فقط تیری میت کی وارث نہیں اک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری ایک حساس دل کے مالک شاعر و ادیب ہیں ۔ ان کے ہاں رشتوں کی پاکیزگی اور قدر و منزلت شعری صورت میں زیادہ ملتی ہے ۔ ان کا نفسیاتی شعور بھی خاصا بلند ہے
    شعر ملاحظہ ہو

    بیٹیوں کی تو قدر پوچھ ان سے
    جن گھروں میں کہ یہ نہیں ہوتیں
    ۔۔۔۔۔
    پروفیسر عاصم بخاری کا تعلق چوں کہ سادات گھرانے سے ہے ۔دینی شعور و تعلیم رکھتے ہیں عورت کے مقام سے باخبر ہی نہ ۔ بیٹی کے مقام و مرتبہ کی بات دین مبین کے تناظر میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کرتے ہیں ۔ دینی تعلیمات کی ترجمانی کرتا شعر

    اس کو ربّ کی رضائیں ہیں حاصل
    بیٹیاں ہیں بخاری جس گھر میں
    ۔۔۔۔
    والدین کی مشرق میں روایت ہے کہ بیٹی کے بچپن سے ہی فکرمند ہو جاتے ہیں اور اپنے فرض اور اس ادائیگی کو ہمہ وقت اپنے ذہن میں رکھتے ہیں اسی اجتماعی سوچ اور فکر کی یہاں کچھ ان الفاظ میں ترجمانی کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
    دیر لگتی نہیں کوئی عاصم بیٹیوں کے جوان ہونے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    معاشرے اور زمانے کے تلخ حالات کی تصویر اور حقیقت نگاری عاصم بخاری کو خوب آ تی ہے ایک مکمل نظمانہ قارئین کی نذر

    باپ بوڑھے نے پوچھا بیٹے سے
    جان کی گر امان میں پاؤں
    دور ہے گھر یہاں سے بیٹی کا
    ہو اجازت تو شب ٹھہر جاؤں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے معاشرے کے ایک رائج نظریے اور خیال سے عاصم بخاری انحراف اور اختلاف کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ عموماً نرینہ اولاد کو ہی پہچان قرار دیا جاتا ہے ۔ عاصم بخاری نے اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ ضروری تو نہیں ، بل کہ معاشری میں اس کے برعکس بھی کبھی کبھی لایا ہےکہ بیٹے خاندان قوم اور قبیلے کے لیے ننگ و عار کا بھی سبب بنتے ہیں اور بیٹیاں قبیلوں کی پہچان فخر اور تعارف ثابت ہوتی ہیں ۔
    شعر ملاحظہ ہو

    بے نظیروں کو ہی قبیلوں کی
    ہم نے پہچان بنتے دیکھا ہے
    ۔۔۔۔۔
    ایک اور قطعہ
    جس میں عاصم نے ایک اور حقیقت کو آ شکار کیا ہے کہ یہ ضروری تو نہیں صرف بیٹے ہی ہماری شناخت اور پہچان بنیں ، بعض اوقات اس کے بر عکس ہی مل جاتا ہے ۔ لیکن یہاں ہندی رسم س رواج کی قدیم جھلک پر بھی چوٹ ملتی ہے ۔

    باعثِ ناز بیٹیاں دیکھیں
    دیکھے پہچان بنتے کم بیٹے
    بعد مرنے کے نام رہ جائے
    مانگتے ہیں خدا سے ہم بیٹے
    ۔۔۔۔
    ادھیڑ عمر والدین کی ہر نماز کے ساتھ بس ایک ہی یہی دعا دل سے نکلتی ہے ۔ بخاری نے موقع کی مناسبت سے خوب عکاسی اور ترجمانی کی ہے ۔

    سو دُعاؤں کی اِک دُعا یاربّ
    بیٹیوں کے نصیب اچھے کر
    ۔۔۔۔۔
    ایک اور خوب صورت نظم جس میں انھوں معاشرتی رویے اور طرزِ عمل پر بیٹی کے حوالے لاجواب طنزیہ نشتر چلایا ہے
    بیٹی
    ۔۔۔۔۔
    ( نظم )

    بیٹی کو ہم
    کیوں پڑھوائیں
    اس نے پڑھ کے
    کیا کرنا ہے
    ایسی سوچیں
    کیسی عاصم
    ۔۔۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالیٰ بیٹی کو رحمت قرار دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ تو اس کی رحمت کا طالب ہو مگر ہم ہندوستانی طرزِ عاشرت میں ایک عرصہ رہنے پر بیٹی کے خواہش مند کم ہوتے ہیں اور اس کی پیدایش پر شکر بجا لانے کی بجائے افسردہ پائے جاتے ہیں جس کی ایک اچھا عمل نہیں

    پروفیسر عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم موضوع بیٹی

    چاہتا ہے وہ مانگ بیٹی بھی
    مانگتے ہو خدا سے بیٹے تم
    ۔۔۔۔
    معاشرے کی ایک اور بھیانک اور خود غرضانہ تصویر یوں پیش کرتے ہیں۔

    وراثت کی تقسیم کے خوف سے
    کئی بیٹی کی شادی کرتے نہیں
    ۔۔۔۔۔۔
    پروفیسر عاصم بخاری نے بیٹی کے ذمہدارانہ رویے کو تحسین پیش کی ہے کہ بیٹی تاحیات اپنے ماں باپ کی عزت اور وقار کا بھرپور خیال رکھتی ہے مگر بیٹوں کے ہاں ایسا رویہ کم ملتا ہے ۔ شعر کا خوب صورت زاویہ دیکھیں

    بیٹی کے جیسے گھر کی عزت کا
    بیٹے پر بھی خیال لازم ہے
    عاصم بخاری بزرگانہ ہمدردانہ اور ناصحانہ انداز امت مسلمہ کی ہر بیٹی کو اپنی بیٹی تصور کرتے ہوئے آج کے جدید اور حاضرہ معاشی مسئلے سے دو چار بیٹی سے کچھ اس انداز میں مخاطب ہوتے ہیں ۔
    بس ہوسٹس
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نظم معریٰ

    عاصم بخاری

    بات اچھی ہے کام کرنا تو
    کام سے کون روکتا تجھ کو
    ایک ٫٫ شو پیِس ،، بن کے گاڑی میں
    کام کرنے سے ہے کہیں بہتر
    کام شایان شان کر کوئی
    تجھ کو یہ زیب تو نہیں دیتا
    کام توقیر کے لیے کرتے
    کب ہیں تحقیر کے لیے کرتے
    گھر میں عورت ہی کام کر کوئی
    کام ایسے ہزار دنیا میں
    جن سے عاصم وقار دنیا میں
    چیتا چنتا جہاں نہ ڈر کوئی
    حال اپنے پہ رحم کر کوئی
    مغربیت کہاں ترا بیٹی
    مشرقیت شعار ہو تیرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری اسلامیت اور مشرقیت کے علم بردار اور بڑے پرچارک ہیں ۔ وہ ایک مشرقی بیٹی کو اپنی مذہبی روایات کی پاس داری کرتے دیکھنا ۔ چاہتے ہیں ۔ اور اس پر اس کی حوصلہ افزائی اور دل کھول کر داد و تحسین بھی کرتے ہیں۔
    قطعہ ملاحظہ فرمائیں
    آ خر بیٹی کس کی ہے یہ سچ تو یہ ہے مشرق کی
    جب بھی دیکھی پورے کپڑوں میں ہی سب نے دیکھی ہے
    مغرب سے دوری کی ہی یہ عاصم ساری برکت ہے
    ہم نے ہر ان پڑھ عورت کے سر پر چادر دیکھی ہے
    ۔۔۔۔۔
    پروفیسر عاصم بخاری دورِ حاضرہ کی جدت اور تیز رفتاری سے مسلم قوم کی بیٹیوں کے بارے فکرمند ہیں کہ مخلوط تعلیم نے قوم کی اخلاقیات کا سب جڑا غرق کر دیا ہے ۔ سج بے چینی کا سبب اظہار بیٹیوں کے چچا حوالے سے وہ کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں
    شعر
    کوئی تو یونی ورسٹی کے علاؤہ بھی جگہ ہوتی
    جہاں تعلیم بے فکری سے عاصم بیٹیاں کرتیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ایک اور درد ناک منظر
    شعر میں دیکھیں
    سامنے بیٹی کے جب اک باپ کو مارا گیا
    یاد اک صدیوں پرانے واقعے کی آ گئی

    مخلوط تعلیم سے خائف اور نالاں باپ کی ترجمانی عاصم بخاری شعری صورت میں کچھ ایسے کرتے ہیں ۔
    یہاں موجود ہے ہر موڑ پر یونی ورسٹی
    کہاں لے جائے بیٹی کو پڑھانے باپ کوئی

  • ریحانہ بتول کی کتاب اشاعت کے آخری مراحل میں

    ریحانہ بتول کی کتاب اشاعت کے آخری مراحل میں

    ریحانہ بتول کی کتاب اشاعت کے آخری مراحل میں

    ریحانہ بتول کی کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، اشاعت کے آخری مراحل میں داخل


    منکیرہ ( نمائندہ خصوصی ) ریحانہ بتول کی کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، منصہء شہود پر آنے والی ہے معروف شاعر و ادیب اور بزمِ اوجِ ادب کے بانی و چیرمین مقبول مقبول ذکی مقبول کی شخصیت اور فن پر مشاہیر کے قلم سے لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف اخبارات میں شائع ہونے کے بعد اب ان کو ریحانہ بتول نے کتاب کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

    ریحانہ بتول کی کتاب اشاعت کے آخری مراحل میں

    جلد مارکیٹ میں آنے والی ہے 370 صفحات پر مشتمل کتاب میں 58 مشاہیر کے مضامین شامل کئے گئے ہیں جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کمال ، پروفیسر ڈاکٹر مختار ظفر ، پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان ، ڈاکٹر محسن مگھیانہ ، ڈاکٹر شہناز مزمل ، پروفیسر ڈاکٹر ضمیر بخاری اور پروفیسر عاصم بخاری کے سب سے زیادہ مضامین شامل کئے گئے ہیں جو مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات کا بھر پور احاطہ کرتے ہیں ۔

  • معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    ممتاز ادبی و صحافتی شخصیات سے ملاقاتیں

    لیّہ ( نامہ نگار ) معروف شاعر ، مصنّف اور ادیب مقبول ذکی مقبول نے ضلع لیّہ کا خصوصی دو رہ کیا ۔ اس موقع پر ان کی ملاقات شہر کی ممتاز ادبی و صحافتی شخصیات سے ہوئی ، جس میں تخلیق ، تحقیق اور ادب کے فروغ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔

    ادبی نشست میں شہر کی معروف ادبی شخصیات پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان ، امان اللہ کاظم ، شمشاد حسین سرائی ، صابر جاذب ، قنمبر نقوی ، تنویر نجف ، امداد حسین سرائی کے ساتھ ساتھ معروف شاعر نجیب چوہدری بھی شریک ہوئے ، جن کا مزاحمتی اور روح پرور شعر آج بھی اہلِ قلم کی پہچان بن چکا ہے :

    "میں جھکا نہیں ، میں بکا نہیں
    میں چھپ چھپا کر چھپا نہیں
    جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر
    مجھے ان صفوں میں تلاش کر”

    معروف شاعر و مصنّف مقبول ذکی مقبول کی لیّہ آمد

    مقبول ذکی مقبول نے اس نشست میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیہ کا ادبی منظرنامہ قابلِ تحسین ہے ، جہاں تخلیق، مزاحمت اور زبان و ثقافت سے جُڑے رجحانات نمایاں طور پر موجود ہیں۔

    نشست میں سینئر صحافی منیر احمد کھوکھر (چیف بیورو "سنگِ بے آب”) اور ملک اسلم کھوکھر نے بھی شرکت کی اور ادبی و صحافتی ہم آہنگی پر اظہار خیال کیا۔ حاضرین نے اس موقع کو ایک نادر علمی و فکری لمحہ قرار دیا جو ادب کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔

    مقامی ادبی حلقوں نے مقبول ذکی مقبول کی آمد کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ اس قسم کی ملاقاتیں ادبی فضا کو مزید تقویت دیں گی۔