Tag: شاعری

  • عاصم بخاری کی شاعری کے ماحولیاتی عناصرہ

    عاصم بخاری کی شاعری کے ماحولیاتی عناصرہ

    عاصم بخاری کی شاعری کے ماحولیاتی عناصرہ

    تجزیہ :   پروفیسر     میاں ارشد حسان میانوالی

     عاصم بخاری بھی اپنی ثلاثی  نظم بعنوان ” پرندے” میں   کچھ ایسی ہوئی ہے 

     زیادہ تر تو مرتے جا رہے ہیں 

       ماحولیاتی سماج کے تشکیلی عناصر میں سوائے انسان کے کوئی بھی ازلی بے حسی ،نہ مٹنے والی بھوک اور بے انتہا حرص کا شکار نہیں ہے۔ یہ انسان ہی ہے جو ضرورت سے زائد جمع کرتا ہے۔ یہ انسان ہی ہے جس کے لیے رحمن نے الذی جمع مال و عددہ اور الھکم التکاثر جیسی آیات اتاری ہیں۔ اس کی اسی حرص نے ماحول کے آہنگ کو تار تار کر ڈالا ہے۔ باقی تمام جاندار اپنی ضرورت کے مطابق شکار کرتے ،کھاتے اور اگلے دن پھر مشن پر نکل جاتے ہیں ۔مگر تف ہے انسان کی ایسی تعمیرات اور زیبائشات پر جس کارن اس نے جنگل کے جنگل کاٹ ڈالے اور تف ہے اس کی اس بھوک پر جس کے لیے  خالد جاوید نے لکھا ہے کہ "انسان اپنی آنتوں میں رہتا ہے” اور تف ہے اس کی جوج ماجوجی جوع پر  کہ سب پھل دار اشجار ہڑپ کر ڈالے اور پھر بھی ھل من مزید کیے جا رہا ہے۔ عاصم بخاری اسی حرص پر طنز کرتے ہوئے گویا ہے:

     صنعت کا شوق بھی تمہیں حد سے بڑھا ہوا

     ان کارخانوں سے اٹھے گی گرد بھی دھواں

    کالونیاں  بنا رکھی ہیں تم نے جا بجا

     تم کوئلے جلاتے ہو ہر کام کے لیے

     بے گھر کیا طیور کو ہر ایک پرند کو 

    قدرت کو ناپسند ہیں حرکات یہ سبھی

    عاصم بخاری کی شاعری میں ماحولیاتی عناصر 

       جوز اف میکر نے کہا تھا، "انسان زمین کی واحد ادب تخلیق کرنے والی مخلوق ہے”۔یہ بات درست ہے لہذا ادب میں زمین اور ماحول کے متعلقات کا نہ صرف ذکر ہونا چاہیے بلکہ اس کا فطرت کے توازن اور تحفظ کے احساس سے لبریز ہونا بھی ضروری ہے۔ صنعتی انقلاب اور جدید سائنسی ترقی کی وجہ سے ماحول کو لاحق خطرات نے ادیبوں کو  اپنی نگارشات میں قدرتی ماحول اور انسانی رشتوں میں تعلق، فطری توازن کی ناگزیریت اور فطرت اور ثقافت کے باہمی تعامل جیسے موضوعات شامل کرنے کی ضرورت کا احساس دیا۔ ادب اور ماحول کے اسی باہمی رشتے نے ایک نئی تنقیدی طرز فکر کی بنیاد رکھی جسے سبز انتقاد ،ماحولیاتی شعریات سبز شعریات، سبز ثقافتی مطالعات اور ماحولیاتی تنقید کا نام دیا گیا۔

    عاصم بخاری کی شاعری کے ماحولیاتی عناصرہ

        انسان کو آج جس ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے اس سے نکلنے کے لیے عاصم بخاری جیسے ماحول دوست ادیب ہماری ہمہ وقت رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتے رہتے ہیں۔ وہ ہمیں صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کے  بے دریغ استعمال سے متنبہ کرتے رہتے ہیں۔  یہ انسان کی فطرت سے بے اعتنائی ہی کا نتیجہ ہے کہ مختلف قسم کی آفات ہم پر آئے دن نازل ہوتی رہتی ہیں۔ ماحول مخالف انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ماحولیاتی توازن بگڑتا ہے ، گلیشیئرز پگھلتے ہیں ،اوزون کی تہ شگاف پڑتے ہیں اور سیلاب اور زلزلوں کی صورت میں تباہی آتی ہے۔

        تہذیب و تعلیم کی ساری روشنی کے باوجود آج کے انسان کو اس بات کا احساس نہیں کہ حسن و توازن کائنات کے اس نازک آبگینی نظام میں سانس بھی آہستہ  سےلینے کا حکم ہے کہ یہاں بٹرفلائی ایفیکٹ کی موجودگی میں ذرا سی چھیڑ چھاڑ عناصر کے  اعتدال و ترتیب میں  خلل اندازی کا موجب بنتی یے۔

     ایک درجے سے جڑے ہوئے ہیں اس کائنات کے سارے رشتے 

    تم ایک پھول کو جنبش دو گے تو اک تارا کانپ اٹھے گا ( فراق)

         عاصم بخاری کو سائنسی ترقی کے ثمرات کا علم ہے مگر انہیں ترقی کے مضمرات کا بھی بخوبی ادراک ہے ۔ سائنسی فیوض و برکات کے عوض وہ انسان کو فطرت پر بے جا تسلط بلا احتیاج تصرف اور بے لگام استحصال کی اجازت نہیں دے سکتے۔ لطف طبع کے لیے اس نے فطرت کو بد زیب کرنے والوں کو وہ آڑے  ہاتھوں لیتے ہیں۔

     کھیتی باڑی ہماری رہنے دو کچھ روایت ہماری رہنے دو ہم نے دیکھے ہیں کارخانے بھی 

    جانتے ہیں فیوض بھی ان کے 

     مانتے ہیں فیوض بھی ان کے 

     ساتھ ان کے ہزار بیماری 

    گر ہے ان دیکھی کوئی مجبوری 

     لازمی ہے اگر لگانے بھی 

    دور شہروں سے کارخانے ہوں 

       عاصم بخاری مجید امجد کی طرح ماحول کا سچا ہمدرد ہے۔ اس لیے اسے فطرت کا دکھ قلبی گہرائی سے محسوس ہوتا ہے ۔ ان کی بعض نظموں پر مجید امجد کی افریشیا، ہڑپا کا ایک پامال، توسیع شہر وغیرہ کے اثرات صاف دیکھے جا سکتے ہیں ۔ وہ بشر مرکز فکر کے مقابلے میں حیات مرکزیت فکر کے علمبردار بن کر ابھرتے ہیں۔ ٹینی سن کی طرح انہیں فطرت ریڈ ان ٹوتھ اینڈ کلا نظر آتی ہے نہ وہ ہارڈی کے نظریہ فطرت کے قائل ہیں۔ وہ ورڈز ورتھ کی طرح انسان اور فطرت کو ایک دوسرے کا لازمہ سمجھتے ہیں۔ Dante Alighieri

     کی طرح فطرت کو وہ خدا کا آرٹ  سمجھتے ہیں ۔ سو وہ اس آرٹ کو بے ہنر اناڑیوں کے ہاتھوں برباد کرنے پر سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں۔

      بدبو کی اور لپیٹ میں بستی 

    سانس لینا ہوا بہت مشکل بات مذہب نے یہ بتائی بھی حصہ ایمان کا صفائی بھی کون سنتا ہے بےچارے

     کتنی بے جگری سے چلے آرے

     قتل بے دردی سے ہوئے سارے 

    جانے کیا جرم تھا درختوں کا

  • عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

    مبصر   (پروفیسر میاں ارشد حسان)

    عاصم  ایک نہایت حساس شاعر واقع ہوئے ہیں لیکن ان کی حساسیت فطرت کے اس استحصال کو کسی گہرے فلسفیانہ اور سائنسی بیانیے میں نہیں الجھاتی  اور نہ ہی وہ موضوع کی نزاکت کو منطقی بحث کا رنگ دے کر ثقیل اور گنجلک بناتے ہیں۔ ان کے اسلوب کی سادگی، ممد و معاون ہوتی ہے ۔ 

    خطا ہم سے ایسی کیا ہو گئی ہے 
    سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی ہے 

     دھوئیں کے کیے ہم نے اسباب پیدا 
     بڑی ہم سے مولا خطا ہو گئی ہے 

    جلایا ہے خود ہم نے فصلوں کو جب سے 
    یہ زہریلی تب سے فضا ہو گئی ہے 

       پانی حیات ہے اور حیات پانی۔  اسے ہی سرچشمہ حیات کہا گیا ہے۔( وجعلنا من الماء کل شی حی)۔ قرآن کی اس آیت( وکان عرشہ علی الماء ) یعنی رب کا عرش پانی پر تھا کی تفسیر میں مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے پانی کو پیدا کیا گیا۔پانی کی اہمیت مذاہب کی تعلیمات اور سائنسی علوم میں جس قدر ہے بیان ہوئی ہے شاید کسی  اور چیز کی بیان ہوئی ہو۔ ہمارے ادب  میں پانی کی ماہیت و خاصیت پر عجب معنی آفرینی ملتی ہے۔ ” ایک خنجر پانی میں”  کی یہ سطریں تو چونکا دیتی ہیں کہ 

    "پانی سب یاد رکھتا ہے ساری دعاؤں اور بد دعاوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ وہ بولے گئے لفظوں کو اپنی یادداشت سے کبھی باہر نہیں جانے دیتا اس کا حافظہ دائمی ہے۔”

    عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری

        عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری میں جس چیز کا ذکر سب سے زیادہ ملتا ہے وہ پانی ہی ہے۔ پانی طہارت کا وسیلہ ہے ( وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم)۔ کرہ ارض کا 3/4 حصہ پانی ہے ، انسان کی جسامت کا 70 فی صد پانی اور اس کے خون کا 90 فی صد پانی ہی ہے۔ الغرض پانی کی اس درجہ اہمیت نے قلب شاعر پر وہ بارش احساس کی ہے کہ ہمیں ان کی شاعری میں  مندرجہ بالا سارے حوالے مل جاتے ہیں۔

     جس  سمت دیکھتا ہوں میں سیلاب دوستو 
    اس کے بھی تو کچھ ہوں گے ہاں اسباب دوستو

     اس وقت موت کا ہے جو سامان بنا ہوا 
    حالانکہ زندگی ہے یہی آب دوستو 

    سال بھر بہتے رہتے ہیں دریا ڈیم کی شکل کیوں نہیں دیتے

     آ کے سیلاب نے یہی پوچھا پانی سے تو پانی سے کام تم نہیں لیتے

     پانی آلودہ کارخانوں کا میں نے دریا میں گرتے دیکھا ہے

     مچھلیاں جائیں گی کہاں جانے۔

       عاصم بخاری کے ماحولیاتی  تناظر میں لکھی گئی کچھ نظموں کے نام یہ ہیں : لگا احساس کی عینک، تمہیں یاد ہوگا، چھپڑ ،کچے مکاں، سموگی یہ کیوں کر فضا ہو گئی، فوق کا دھند کا ہر طرف راج ہے، سموگ، کارخانے۔  ان کی علامات، تشبیہات بلکہ سارا استعاراتی نظام اسی قدرتی ماحول سے کشید کردہ ہے۔ نمونے کے لیے ان کی نظم اخلاص، ہماری یہ روایت ہے، ہم ہیں پروردہ اسی ثقافت کے وغیرہ ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔  حتیٰ کہ ان کی حمدیہ نظم کی تخلیق بھی اسی فطری قدرتی ماحول کے سیاق میں ہوئی ہے۔ مختصر یہ کہ کہ ان کی حمدیہ نظم میں بھی آپ کو قدرتی اور فطری ماحول کی عناصر ملیں گے۔

    شکر شہری بھی ہیں بجا لاتے 

    شہری بھی شکر ہیں بجا لاتے 

    حمد ربی کا لطف گاؤں میں وہ پرندوں کا اپنی بولی میں

    شکر پروردگار کا کرنا

    شوق سجدہ میں جھومتا سبزہ

    سجدہ شکر میں سبھی فطرت 

    حمد ربی کا لطف گاؤں میں

  • معروف  سخن ور علمدار حسین علمی ( علمی خان )

    معروف  سخن ور علمدار حسین علمی ( علمی خان )

    تحریر : مقبول ذکی مقبول  ، بھکر 

    خاندانی نام علمدار حسین علمی ادبی دُنیا میں علمی خان کے نام سے مشہور و معروف ہیں ۔ 16 مارچ 1983ء کو غلام رضا خان  کے گھر گاؤں نوانی ( بھکر ) میں آنکھ کھولی۔  نوانی بھکر کا ایک معروف گاؤں ہے ۔ 

    علمی خان پیشہ کے لحاظ سے کاشتکاری اور محکمہ ہائی ویز میں ملازمت بھی کرتے ہیں ۔ 

    2023ء سے ڈیوٹی سرگودھا میں سر انجام دے رہے ہیں ۔

     ابتدائی تعلیم : گورنمنٹ پرائمری اسکول نوانی ( بھکر ) سے حاصل کی اُس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول شہانی ( بھکر ) اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج ، بھکر سے بی ۔ اے پاس کیا ۔

    معروف  سخن ور علمدار حسین علمی ( علمی خان )

     آپ نے زیادہ تر اشعار اپنی ماں بولی یعنی سرائیکی زبان میں  کہتے ہیں یہ سلسلہ آگے بڑھا تو پنجابی اور اُردو میں بھی طبع آزمائی کرنے لگے  ۔ پنجابی میں بہت کم اشعار کہے ہیں ۔  پہلا شعر اس وقت کہا جب  پانچویں کلاس میں پڑھتے تھے ۔ لیکن کہا اُردو زبان میں وہ شعر ملاحظہ فرمائیں : 

    گھنٹی بجی سائیکل چلی پینڈل پیر آ گیا 
    دو تین بار گرا لیکن گھر تو خیر آ گیا 

    باقاعدہ آغازِ سخن 2001ء  میں کیا ۔ اصنافِ سخن : غزل ، نظم ، نعت منقبت ، قصیدہ ، سلام ، مرثیہ ، نوحہ ، دوہڑہ ، ماہیا ، بولی وغیرہ شامل ہیں ۔ 

    اصلاحِ سخن کے حوالے سے بات کروں تو استاد الشعراء سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی اور اقبال حسین سے اصلاح لیتے ہیں ۔

    علمی خان کی غزلیں ہفت روزہ ٫٫ اخبارِ جہاں ،، لاہور اور روزنامہ ٫٫ تھل ٹائمز ،، بھکر میں شائع ہوتی رہی ہیں  ۔ تا حال آپ کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوسکا ۔ امید کرتے ہیں کہ اسی سال 2026ء میں آپ کے شعری مجموعہ منصہءِ شہود پر آنے والا ہے ۔   

    ایک سرائیکی شاعری مجموعہ ٫٫ پینگھ ،، کے نام سے زیرِ طبع ہے اور دوسرا ٫٫ باک ،، تیسرا  ٫٫ خدا کے چہرے ،، ان کے علاوہ بھی مواد موجود ہے ۔

    آپ نے اپنے کلام کو صرف بھکر شہر کے مشاعروں میں ہی نہیں پڑھا بل کہ بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے مشاعروں میں اپنا کلام پیش کر چکے ہیں ۔ جس میں بھر پور داد بھی سمیٹی۔ اُن شہروں میں لاہور ، ملتان ، سرگودھا ، کوہاٹ ، خوشاب ، جھنگ ، میانوالی ، چنیوٹ ، ڈیرہ غازی خان ، میلسی ، ڈیرہ اسماعیل خان ، اور منکیرہ شامل ہے ۔ 

    آپ کے پسندیدہ ترین شعراء میں میر انیس ، مرزا دبیر ، مرزا اسد اللّہ خان غالب ، میر تقی میر ، جوش ملیح آبادی ، فیض احمد فیض ، ناصر کاظمی ، عدم اور قمر جلالوی شامل ہیں ۔ یہ اُردو ادب کے وہ عظیم نام ہیں ۔ جن کا کلام سدا بہار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ اُنہی کے کلام سے ادب میں جان ہے ۔ ان عظیم شعراء سے علمی خان کا متاثر ہونا کوئی نئی بات نہیں اِنہی شعراء کو پڑھ کر اشعار کہنے کا لطف ہی کچھ اور ہے ۔ آج کے نئے شعرا کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان عظیم شعراء کا مطالعہ ضرور کریں ۔ 

    علمی خان کا کلام حقیقت پسندی کا مظہر ہے جس کا رنگ نمایاں طور پر جھلک رہا ہے ۔ آپ کے اشعار فکری ، فنی اور روحانی طور پر بھی منفرد ہیں ۔ جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ 

    شعر ملاحظہ فرمائیں :

    مسجد میں پہلی صف کا نمازی نہیں ہوں میں 
    اے نفس !  جا کے اور کسی کو خرید کر 

    ایک اور شعر بھی ملاحظہ فرمائیں :

    اوّل تو زمانے میں نہیں آپ سا کوئی 
    گر ، ہو بھی تو ہم ، کون سا تسلیم کریں گے 

                                    آخر میں ایک غزل کا بھی لطف اٹھائیں :

    پیار  اب ہم سے دوبارا نہیں ہونے والا 
    کہہ دیا نا  نہیں یارا  نہیں ہونے والا 

    جو ہمارا ہے وہ سب کچھ ہے تمھارا  لیکن 
    جو تمھارا ہے  ہمارا  نہیں ہونے والا 

    آپ اِس کُوچے میں  بےکار  کھڑے ہیں صاحب 
    اب جھروکے سے  اشارہ نہیں ہونے والا 

    ہم ہیں دریا  سے تعلق کو  نبھانے والے 
    اب کنارے سے  کنارا  نہیں ہونے والا 

    ہم نے  اُس ایک خُدا  پر  تو  قناعت کر لی 
    ایک شیطاں  پہ  گزارا  نہیں ہونے والا 

                                  ***

  • مقبول ذکی مقبول ، سخن کا سفیر

    مقبول ذکی مقبول ، سخن کا سفیر

    مقبول ذکی مقبول ، سخن کا سفیر

    شاعر خالق داد چھینہ ( بھکر )

    لفظوں کا دریا، معنی کا سمندر،
    مقبول ذکی، مقبول کا جوہر۔

    قلم کی نوک پہ خواب سنورتے،
    خیال کے جادو سے دل مہکتے۔

    شاعری میں نغمہ، نثر میں روشنی،
    دلوں کو بخشے وہ فکرِ زندگی۔

    الفاظ جیسے موتی چمکتے،
    جملے جیسے گلاب مہکتے۔

    ہر مصرع میں ایک نیا جہاں،
    ہر تحریر میں اک نیا بیان۔

    ادب کے افق کا روشن ستارہ،
    سچائی کا پیکر، فن کا سہارا۔

    قلم سے جو نکلا، اثر کر گیا،
    دلوں کے دریچوں میں گھر کر گیا۔

    مقبول ذکی ۔ سخن کا امین،
    ادب کی زمیں کا پیارا نگین۔

    مقبول ذکی مقبول ، سخن کا سفیر
  • تبسم بٹالوی کی غزل میں رومانوی عناصر 

    تبسم بٹالوی کی غزل میں رومانوی عناصر 

    تبسم بٹالوی کا شمار اُن شاعروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو غزل کی روایت میں نصف صدی سے زائد عرصے تک مسلسل تخلیقی محنت، ادبی بصیرت اور شاعرانہ صلاحیت کے ذریعے سے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کا تعلق گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے اور گزشتہ پچاس دہائیوں سے وہ ادب کے مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ان کے متعدد شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی شاعری پر ایم اے اور ایم فل کی سطح پر کئی تحقیقی مقالے بھی تحریر ہو چکے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تبسم بٹالوی نہ صرف اہلِ ذوق شاعر ہیں بلکہ اردو ادب کے محققین اور طلبہ کے لیے مطالعہ و تحقیق کا ایک معتبر موضوع بھی ہیں۔

    Nisbat

    آج سے تیرہ برس قبل 2012ء میں تبسم بٹالوی صاحب کا شعری مجموعہ "ژرف”شائع ہوا تو اس وقت بھی مجھے اس کا پیش لفظ لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ تبسم بٹالوی سے تعلق کراچی سے شائع ہونے والے رسالے ماہ نامہ "دنیائے ادب”کی وساطت سے ہوا۔ اس عرصے میں ان کا مجموعہ "احساس زندگی کا” بھی شائع ہوا جو ڈینگی کے مرض کے حوالے سے عوامی آگاہی کی شاعری پر مشتمل تھا۔ اب کئی سال بعد جب بٹالوی صاحب نے اپنے اس مجموعے پر تاثرات کے لیے حکم صادر کیا تو میں انکار نہ کر سکا۔ اس مجموعے کی شاعری میں رومانوی عناصر غالب دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ شاعر کے ہاں صرف مقصدیت کے موضوعات نہیں بلکہ رومانی رنگ بھی نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیرِ نظر منتخب اشعار کا مطالعہ اردو غزل میں تبسم بٹالوی کے رومانوی رجحان اور جمالیاتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

    تبسم بٹالوی کے ہاں رومان ایک مرکزی اور غالب عُنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا رومان نہ صرف محبوب کے حسن و جمال کا اظہار ہے بلکہ انسانی جذبے، تخیل، خواب اور محرومی کی مختلف کیفیات کا آئینہ دار بھی ہے۔ ان کی شاعری میں رومان کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا ہونے کے باوجود عصری شعور سے ہم آہنگ ہے جو اردو غزل کی تاریخ میں ایک نادر امتزاج پیش کرتا ہے۔

    تبسم بٹالوی کی غزل میں رومانوی عناصر

    رومان کی ابتدائی صورت حسنِ محبوب کی دل آویزی اور اس کی سماجی اہمیت کے بیان میں سامنے آتی ہے۔ شاعر محبوب کو محفل کی جان قرار دے کر رومان کو محض ذاتی دائرے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے اجتماعی فضا میں پیش کرتا ہے:

     حسینوں کے ہی صدقے محفلوں کی شان ہوتی ہے
    ہماری جان جو ہے محفلوں کی جان ہوتی ہے

    اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں محبوب صرف عاشق کی ذات تک محدود نہیں بلکہ سماجی مرکزیت کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ یہ انداز رومانوی تصور کو ایک متنوع اور پیچیدہ سطح پر لے جاتا ہے جہاں محبوب کی موجودگی سماجی تعلقات، محفل کی رونق اور جماعت کے تجربے سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

    Tabassum Batalvi

    اسی طرح تبسم بٹالوی کی شاعری میں رومان طبقاتی شعور اور معاشرتی حقیقت کے ساتھ بھی مربوط ہوتا ہے جیسا کہ یہ شعر دیکھیں:

     نہیں ہے پوچھتا کوئی یہاں پر عام لڑکی کو
    بڑے گھر کی پری زادی کی اک پہچان ہوتی ہے

    یہاں شاعر نے رومان کو طبقاتی شعور کے ساتھ مربوط کر کے اسے نہ صرف ذاتی تجربہ بلکہ معاشرتی حقیقت کو آئینے کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تبسم بٹالوی کا رومانوی شعور صرف خواب اور تصور تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی حقائق اور انسانی رویوں کے گہرے مشاہدے پر بھی مبنی ہے۔

    تبسم بٹالوی کے ہاں رومان کا ایک نہایت اہم پہلو یاد اور تخیل ہے۔ محبوب کی تصویر شاعر کے لیے محض ایک ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک فعال تخلیقی قوت بن جاتی ہے۔ شاعر کو محبوب کی یاد میں غزل کہنے پر مجبور ہونا تخلیقی جبر کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو اردو غزل کی کلاسیکی روایت میں بھی موجود ہے۔ تبسم بٹالوی اس روایت کو نئے معنوں اور جدید احساسات کے ساتھ جوڑ کر اسے عصری شاعر کے وژن سے ہم آہنگ کرتے ہیں:

     تیری تصویر پرانی پہ غزل کہنا پڑی
    تیرے اس عہدِ جوانی پہ غزل کہنا پڑی

    یہ اشعار رومان کے تخلیقی عُنصر کو ظاہر کرتے ہیں جہاں محبوب کی تصویر شاعر کے تخیل کو بامعنی سمت دیتی ہے۔ اسی تسلسل میں محبوب کی غیر موجودگی بھی شاعر کے ذہن میں ایک جیتی جاگتی حقیقت کی شکل اختیار کر جاتی ہے شعر ملاحظہ کریں:

    تصویر تیری مجھ کو باتیں بھی سناتی ہے
    میں سونا بھی چاہوں تو وہ رات جگاتی ہے

    Romantic elements in Tabassum Batalvi's ghazal

    یہ کیفیت خواب اور بےداری کے درمیان ایک لطیف دائرے کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان محض فطری یا جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک مکمل نفسیاتی اور تخلیقی عمل ہے۔تبسم بٹالوی کے ہاں رومان کی ایک دل کش اور نفسیاتی اہمیت والی صورت محبوب کے ناز و ادا اور عاشق کی تمناؤں کے تصادم میں نظر آتی ہے۔ یہ کیفیت ایک دل کشی، حیا اور خواہش کے درمیان لطیف کش مکش پیدا کرتی ہے جسے شاعر نہایت سادہ اور رواں انداز میں بیان کرتے ہیں: 

    میں کھول کر بانہوں کو کہتا ہوں گلے لگ جا
    وہ کھول کے بانہوں کے پیچھے چلی جاتی ہے

    یہ شعر اس بات کا غماز ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان انسانی جذبات اور نفسیاتی کیفیتوں کے ایک متوازن امتزاج پر قائم ہے۔ یہاں قربت کی خواہش کے ساتھ ساتھ حیا کی رکاوٹ اور محبت کی شدت واضح طور پر محسوس کی جاتی ہے۔ یہ فکر ایک نفسیاتی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے جو اردو غزل میں کم ہی نظر آتی ہے۔

    تبسم بٹالوی کے ہاں رومان صرف وصل اور محبت کی سرشاری تک محدود نہیں۔ محبوب کی عدم موجودگی، بے وفائی یا محرومی کے حالات میں رومان ایک سنجیدہ اور دردناک تجربے میں بدل جاتا ہے۔ اس کیفیت کو شاعر کس طرح محفل کی بے رنگی اور ادھوری رونق کے استعارے میں بیان کرتے ہیں ملاحظہ ہو:

     محفل میں آج رنگ نہ شوخی نہ مستیاں
    سارے لوازمات تھے وہ مہ جبیں نہ تھا

    یہ شعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان محبوب کی موجودگی سے گہرا جڑا ہے اور اس کی غیر موجودگی ہر شے کو بے معنی کر دیتی ہے۔ یہاں شاعر نے نہ صرف رومان کو ایک جذباتی تجربے کی حیثیت سے پیش کیا ہے بلکہ اس میں انسانی محرومی کے علاوہ تنہائی اور محبت کے پیچیدہ جذبات کو بھی شامل کیا ہے۔

    Tabassum Batalvi

    تبسم بٹالوی کے ہاں رومان کا جمالیاتی پہلو فطرت اور محبوب کے امتزاج میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ وہ محبوب کی ایک معمولی حرکت یا ادا کو پورے منظر کے رومانوی جمال کے لیے کافی سمجھتے ہیں:

     جب زلف کو جھٹکا تو گریں ننھی سی بوندیں
    لگتا ہے کہ ساون کی گھٹا بول پڑی ہے

    یہاں شاعر کی پیکر تراشی، تخلیقی بصیرت اور جمالیاتی حساسیت کا ایک شان دار نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ جہاں محبوب کی ایک چھوٹی سی حرکت پورے ماحول میں رومانوی اور حسی کیفیت پیدا کرتی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تبسم بٹالوی کے ہاں رومان صرف محبت کا اظہار نہیں بلکہ جمالیات، منظر نگاری اور انسانی احساسات کا ایک مربوط تجربہ ہے۔

    تبسم بٹالوی کا رومان حقیقت پسندی کی سطح پر پہنچ کر عملی زندگی کی مشکلات اور انسانی مزاحمت کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ وہ عشق کو صرف خواب اور خیال کے دائرے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے جدوجہد اور امتحان کے حوالے سے بھی پیش کرتے ہیں مثال دیکھیں :

    تبسمؔ کاٹ کر رستا ملے گا تم کو اے جاناں!
    زمانہ لاکھ رستے میں بھلا دیوار ہو جائے

    اس شعر میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ رومان محض فطری یا خیالی کیفیت نہیں بلکہ عملی زندگی کے تجربات  اور چیلنجوں کے حوالے سے بھی شعور پیدا کرتا ہے۔ یہاں شاعر کی رومانوی بصیرت انسانی زندگی کے تنوع، محنت اور مزاحمت کے ساتھ مربوط ہے۔

    مجموعی طور پر تبسم بٹالوی کی شاعری میں رومان ایک ہمہ گیر اور ارتقائی تجربہ ہے۔ یہ حسن سے شروع ہو کر یاد، خواب، محرومی، جدوجہد اور عملی زندگی کی رکاوٹوں تک پھیلتا ہے۔ شاعر نے رومان کو نہ سطحی جذبات تک محدود رکھا ہے اور نہ ہی محض تصوراتی بنا دیا ہے، بلکہ سادہ، رواں اور مؤثر زبان کے ذریعےسے اسے انسانی زندگی کا ایک بامعنی اور گہرا تجربہ بنایا ہے۔

    Tabassum Batalvi

    تبسم بٹالوی کی رومانوی شاعری نہ صرف اردو غزل کی کلاسیکی روایت کے ساتھ ہم آہنگ ہے بلکہ اسے عصری زندگی کے مسائل، نفسیاتی پیچیدگیوں اور سماجی شعور کے ساتھ بھی مربوط کرتی ہے۔ یہی خصوصیت ان کی شاعری کو اردو ادب میں ایک معتبر مقام عطا کرتی ہے۔ یہ مجموعہ نہ صرف قارئینِ ادب اور طلبہ کے لیے جمالیاتی مسرت کا باعث ہوگا بلکہ اردو غزل میں رومانوی رویّے، انسانی جذبات اور تخلیقی تخیل کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ادبی دستاویز بھی ثابت ہوگا۔آخر میں تبسم بٹالوی صاحب کے چند منتخب اشعار دیکھیں:

    تو نے زلفوں کو بکھیرا تو اندھیرا پھیلا
    دیکھ کر شام سہانی پہ غزل کہنا پڑی

    تصویر تیری مجھ کو باتیں بھی سناتی ہے
    میں سونا بھی چاہوں تو وہ رات جگاتی ہے

    ڈھونڈا ہے چار سو کوئی تجھ سا کہیں نہ تھا
    زلفیں جو کھولی آپ نے ایسا حبس نہ تھا

    اب دل سے صدا پیار کی آتی ہے مسلسل
    لگتا ہے محبت کی فضا بول پڑی ہے

    خدا جانے کہاں مجھے تیرا دیدار ہوجائے
    تیری آنکھوں میں دیکھوں دیکھتے ہی پیار ہوجائے

    وفا کے امتحاں میں پرچے کب آسان ہوتے ہیں
    کسی کا غرق ہو بیڑا ، کسی کا پار ہوجائے

    اسے سب سے زیادہ داد ملتی ہے سرِ محفل
    حسیں جو ہوتی ہے لیکن بے سر بے تان ہوتی ہے

    میں رات کی رانی کو جب پاس بلاتا ہوں
    وہ حُسن پری بن کر تب سامنے آتی ہے

    تصویر غم بنی ہے تبسمؔ کے سامنے
    صورت بتا رہی تھی تیرا دل حزیں نہ تھا

    جلاتے ہو وفا کے تیر آنکھوں کی کمانوں سے
    کہیں ایسا نہ ہو وہ تیر دل کے پار ہوجائے

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار 

    13 جنوری 2026

  • عاصم بخاری کی شاعری میں شعری صنعتوں کا برتاؤ

    عاصم بخاری کی شاعری میں شعری صنعتوں کا برتاؤ

    عاصم بخاری کی شاعری میں شعری صنعتوں کا برتاؤ

    تجزیہ کار

                راحت امیر نیازی

    شعر کی تزئین و آرائش اور ندرت کے لیےادبی اور لسانی صنعتیں شاعری میں حسن اور تاثیر پیدا کرتی ہیں۔نغمگی اور معنوی گہرائی کا سبب بنتی ہیں۔شاعر کا صنائع بدائع کا استعمال اس کی فن ِ شعر پر قدرت کی دلیل ہے۔

    عاصم بخاری ایک وسیع المطالعہ اور عمیق المشاہدہ شخصیت ہیں ۔جن کی شاعری علم ِ بیان و بدیع سے مزین ہے۔ان کے اشعار ہر حوالے سے جان دار و توانا ہںں۔تشبیہ استعارا مجاز مرسل کے ساتھ ساتھ زیادہ شعری صنعتیں بھی ان کے ہاں اشعار میں بڑی خوب صورتی سے برتی گئی ہیں جوکہ ان کا شعری  وصف و امتیاز ہے

    صنعت ِ حیرت و تحیر کو کس کمال چابکدستی سے شاعری میں برتا گیا ہے۔

    ثلاثی ملاحظہ ہو

    ویسے حیرت ہےاِس زمانے میں

    کرتا ہے وہ مدد غریبوں کی

    اور تشہیر بھی نہیں کرتا

    ۔۔۔۔

    صنعت ِ حیرت کا ایک اور خوب صورت شعر ایک اور زاویے سے دیکھیے۔

    شعر تیرے بھی مختصر عاصم

    نسل ِ نو کے لباس ، کے جیسے

    ۔۔۔

    صنعت ِ تضاد

    اس صنعت میں شاعر اپنے شعر میں دو متضاد کیفیتوں یا حالتوں کو بیان کرتا ہے ۔جس سے شعر کی چاشنی بڑھ جاتی ہے۔

    تو نے دیکھا ہے صرف ہنستے ہی

    اُس کو روتے ہوئے نہیں دیکھا

    ۔۔۔

    صنعت ِ تضاد کی مثال عاصم بخاری کے شعر سے

    تو نے  دیکھا ہے دن بخاری جی

    رات بھی اس کے ساتھ ہوتی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صنعت ِ تکرار

    صنعت ِ تکرار میں لفظی تکر کے ذریعے صوتی آہنگ پیدا کیا جاتا ہے جس سے شعر کا صوتی لطف بڑھ جاتا ہے۔لفظوں کا تکرار شعر کے حسن اور قاری کی دلچسپی اور لطف اندوزی کا سبب بنتا ہے۔

    قطعہ ملاحظہ ہو۔

    کہ ثانی اس کا حسن میں

    نہیں نہیں نہیں نہیں

    یہ دل نہیں ہے مانتا

    وہی ہے بس حسیں حسیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    صنعت ِ ایہام یا ۔۔۔توریہ

    اس صنعت کے استعمال میں شاعری قاری سے ذہن مشق کراتا ہے قریب کے معنی دے کر بعید کی بات کرتا ہے ۔ذومعنویت اس کا حسن ہے۔

    کار واوں کی تو قسمت میں سعادت یہ نہ تھی

    کام آیا باپ کے بے کار بیٹا ہی فقط

    صنعت ِ مبالغہ

    یہ غلو سے بات کوبڑھا چڑھا کر بیان کرنا جیسے حسن عشق جذبات کیفیات۔۔۔ اس سے بعض اوقات شعر کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے اگر شاعر فن ِ شعر پر کمال قدرت رکھتا ہو۔

    بخاری کا شعر اس ضمن میں پیش ِ خدمت ہے۔

    شعر تیرے بھی مختصر عاصم

    نسل ِ نو کے لباس کے جیسے

    ۔۔۔۔۔

    صنعت ِ سیاق الاعداد

    اس صنعت میں اعداد کا برتاؤ ہوتا ہے۔اور شعرائے کرام اسے مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔

    عاصم بخاری کے اشعار میں صنعت سیاق الاعداد کااستعمال دیکھیں۔

    چار دن ہی سہی بخاری جی

    گھر کی رونق تو ، بیٹیوں سے ہے

    ۔۔۔۔۔

    ایک اور شعر

    ایک تو ہی نہیں بخاری جی

    چاہنے والے ہیں ہزار اس کے

    ۔۔۔۔

    صنعت ِ ذوالقافیتین

    اس صنعت میں شاعر استادانہ رنگ میں بیک وقت ایک نہیں دو قافیے شعر نظم یاغزل میں استعمال کرتا ہے۔عاصم بخاری کے ہاں بھی اس صنعت کے کمال ہیئتی تجربے ملتے ہیں۔

    سچ تو عاصم روا یہاں جتنا

    جبر عورت پہ ہے کہاں اتنا

    ۔۔۔۔

    صنعت ِ تلمیح

         اس صنعت میں کسی تاریخی اور قرآنی و دینی واقعہ کی طرف مختصرا”اشارا کر کے ایک بڑے واقعہ کے تناظر میں بات کی جاتی ہے۔

    شعر دیکھیں۔

    رات کے بعد دن بھی ہوتا ہے

    عُسرا یُسرا” نہیں پڑھا تم نے

    تلمیح کی مثال کے طور پر عاصم بخاری کے مزید چند اشعار پیش ِ خدمت ہیں۔

     نکلنا ہے اگر ، "مشکل "سے عاصم

    پڑھو تم بھی ، دعا "یونس” نبی کی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    مقام آئے، جہاں بھی” صبر "کا میں

    دعا ” ایوب ” ، کی پڑھتا ہوں اکثر

    ۔۔۔۔۔۔

     مقابل جب بھی ہوں "فرعون” میرے

    دعا” موسیٰ ” ، کی پڑھتا ہوں بکثرت

    ۔۔۔۔۔۔۔

     "خطا” ہو جائے،جب سنگین کوئی

    دعا ” آدم ” ،  نبی کی  بھولنا مت

    ۔۔۔۔۔

    صنعت ِ تعلی

    اس صنعت میں شاعر اپنے فن پر فخر کرتا اور اِتراتا دکھائی دیتا ہے۔ایسا اکثر شعرا کےہاں ملتا ہے۔اسی ضمن میں عاصم بخاری کا شعر قارئین کی نذر کرتا ہوں۔

    اتنا آسان تو نہیں عاصم

    شعر کہتے ہو مختصر کیسے

    ۔۔۔

    صنعت ِ تاریخ

    یہ ایک بہت اہم صنعت ہے جس میں شاعر اپنے شعر میں کسی اہم تاریخ مہینے اور سال کا تذکرہ کرتا ہے  اور اس اختصاری جھلک سے بہت سی وضاحت ہو جاتی ہے۔

    اس حوالے سے عاصم بخاری کی شاعری سے نمونہ پیش ِ خدمت ہے۔ 

    ” سولہ  تاریخ ” مَہ ، دسمبر کی

    تلخ یادیں ہیں تجھ سے وابستہ

    ۔۔۔۔۔

    یاد پینسٹھ نہیں رہا شاید

    میرے دشمن کو ایسے لگتا ہے

    ۔۔۔۔۔

    سہل ِ ممتنع

    اس صنعت سے مراد یہ ہے کہ نظم و نثر اور خصوصا” شعر میں اس سے سلیس پیرائے میں بات ممکن نہیں۔عاصم بخاری کے ہاں یہ خوبی اور صنعت بہت زیادہ اشعار میں پائی جاتی ہے۔

    شعر

    پیدل چلنے والوں کو بھی

    عاصم شوگر ہو سکتی ہے

    ۔۔۔۔

    کیا ہی پہچان ہے تمہاری یہ

    تم رویوں پہ شعر کہتے ہو

    صنعت ِ تضمین

    اس صنعت میں شاعر کسی دوسرے بڑے یا استاد شاعر کا مصرع اپنے شعر میں استعمال کر کے اپنے فن ِ شعر سے خوب صورتی پیدا کرتا ہے۔عاصم بخاری کی شاعری میں یہ خوب صورتی بہ کثرت ملتی ہے۔

    شعر

    فیصلہ عاصم ہے یہ تقدیر کا

    "گندم از گندم بروید جَو ،ز جَو”

    ۔۔۔۔

    صنعت ِ جامع اللسانین

    ۔۔۔۔۔۔۔

    اس صنعت میں شعر میں ایک سے زیادہ یعنی دو زنانیں استعمال کی جاتی ہیں۔اس نوعیت کے منفرد تجربے بھی بخاری کی شاعری میں جابجا اور شان دار انداز میں ملتے ہیں

    ویسے تعلیم یافتہ کو تو

    زیب ” مِس کال” یہ نہیں دیتی

    ۔۔۔۔۔

    عاصم بخاری کی شاعری میں شعری صنعتوں کا برتاؤ

    عاصم بخاری کی شاعری میں فارسی زبان کے الفاظ کاخوب صورت استعمال

    عاصم بخاری چار ہی تو دن کی زندگی

    بابر بہ عیش کوش کے قائل ہیں ہم بھی تو

    ۔۔۔۔۔

    تیری اتنی مجھے ضرورت ہے

    آکسیجن کی جتنی انساں کو

    ۔۔۔۔

    صنعت ِ ملمع

    اردو شاعری میں نعت ِ ملمع سے مراد وہ ادبی صنعت ہے جس میں ایک ہی شعر یا بند میں دو یا دو سے زیادہ زبانوں کے الفاظ باہم اس طرح استعمال کیے جائیں کہ معنی روانی اور حسن برقرار رہے۔اردو شاعری میں عموم” عربی فارسی اور ہندی زبان کا استعمال ملتا ہے۔ عاصم بخاری کی شاعری میں بھی صنعتوں کے برتاؤ کے ایسے تجربات موثر انداز میں ملتے ہیں۔

    شعر

    صنعت ِ تلمیع

    اس طرح تو ہوتا ہے جان ِ جگر

    "از مکافاتِ عمل ، غافل مَشو”

    ۔۔۔۔۔

    انگریزی زبان کے الفاظ کا مانوس اور رواں انداز میں لاجواب استعمال

    کام چلتا ڈرن سے اب کے

    ڈی جی ٹل "دور ، یہ بخاری جی

    ۔۔۔۔

    صنعت ِ ترافق

    علم ِ بدیع کی ایسی اصطلاح ہے جس میں شاعر ایسے الفاظ کو یک جا لاتا ہے جو معنی اور تصور کے لحاظ سے ایک دوسے کے ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔عاصم بخاری کے ہاں بھی صنعت ِ ترافق کے اشعار پائے جاتے ہیں۔اس سے اشعار کے مصرعوں کی تربیب کے بدلنے سے مفہوم میں فرق نہیں پڑتا۔عاصم بخاری کے اشعار میں صنعت کا برتاؤ دیکھیں۔

    اُس قدر دور بے مروت ہے

    جس قدر تم کہ با مروت ہو

    اسی صنعت کا نمائندہ ایک اور شعر

    مہماں گر کوئی وقت پر آئے

    ہوتی حیرت ہے میز بانوں کو

                       ***

  • جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”: تجزیاتی مطالعہ


    عتیق الرحمان اعوان


    6 مئی 2024 بہ روز پیر ریاست جموں و کشمیر کے ادبی منظر نامے پر نعت، غزل اور نظم کے حوالے سے رقم معتبر نام جناب جاوید الحسن جاوید سے ان کے دفتر میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ محترم جاوید الحسن جاوید سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے عہدہ جلیلہ پر متمکن ہیں اور ان دنوں سیکرٹری اسٹیٹ ارتھ کویک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی کے طور پر تعینات ہیں۔ موصوف کی جنم بھومی ضلع سدھنوتی تحصیل پلندری ہے۔ پلندری کی آب و ہوا علم و ادب کے حوالے سے انتہائی سازگار ہے اور ادبی لحاظ سے یہ خطہ ارضی خاصا ثروت مند بھی ہے جہاں پروفیسر عبدالعلیم صدیقی جیسے نابغہ روزگار ادیب پیدا ہوئے اور دھائیوں تک دنیائے ادب کے افق پر چمکے اور اپنی روشنی اور حرارت سے نئے لکھاریوں کو نمو بخشی۔ پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کو "ترجمان اقبال” ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے بعد پلندری کو کئی گوہر نایاب تلاش اور تراش کر دیئے جو اب اپنے حصے کا کام بہ خوبی نبھا رہے ہیں۔ ان نایاب نگینوں میں ایک نام جناب جاوید الحسن جاوید کا بھی ہے جنہیں براہ راست پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ موصوف نے جہاں شعر و ادب میں اپنا الگ نام و مقام پیدا کیا وہیں اپنی اعلا اخلاقی اقدار اور پرکھوں سے وراثت میں ملنے والی روایات کی پاسداری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اعلا حکومتی عہدہ ہونے کے باوجود موصوف عاجزی و انکساری کے جذبے سے سرشار ہیں، انہیں ایک بار ملنے کے بعد بار بار ملنے کو جی کرتا ہے۔

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    مگر یہ طے ہے کہ جو ایک بار ہم سے ملے
    کسی کا ہو بھی چکا ہو ہمارا ہوتا ہے

    جناب جاوید الحسن جاوید سے ملاقات اور گفتگو کا سحر گھنٹوں طاری رہا۔ انہوں کمال محبت و شفقت سے نظموں اور قطعات پر مشتمل اپنا شعری مجموعہ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” اپنے دست خط کے ساتھ عنایت کیا، جو میرے لیے باعث اعزاز ہے۔ میری اس تحریر کا بنیادی مقصد ان کے اس مجموعے پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔
    "رمیل ہاوس آف پبلی کیشنز” راولپنڈی کے زیر اہتمام منصہ شہود پر آنے والی اس کتاب کا سرورق گہرے آسمانی نیلے رنگ سے مزین ہے جسے پہلی نظر دیکھنے پر ہی بے اختیار پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔ مضبوط اور مربوط جلد بندی اضافی وصف ہے۔ مصنف نے اپنی یہ کاوش دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے نام کی ہے۔ جلد کے اندرونی حصے پر نظر پڑتے ہی آپ جان جائیں گے کہ مصنف کے تن بدن میں وطن کی محبت کس درجہ جاگزیں ہے:

    مانو کہ زندگی کی کہانی وطن سے ہے
    شعروں کا طمطراق جوانی وطن سے ہے
    نغموں کا لوچ حرف کی صورت گری سبھی
    سانسوں کا زیر و بم یہ روانی وطن سے ہے!!!

    نظموں، نغموں اور قطعات پر مشتمل اس مجموعے کا آغاز خاتم الانبیاء و رسل، نبی برحق، محبوب خدا و خلائق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت میں ڈوبے اس قطعے سے ہوتا ہے:

    وہ داغ دہلوی تھے جو کہتے سنے گئے
    مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہان کی ہے
    میں نقش پا ہوں اپنے محمدؐ کا اور بس
    مجھ کو خبر ملی مری مٹی جہاں کی ہے!!!

    نظموں کا آغاز معاشرتی برائیوں میں موجود "ونی” جیسی قبیح رسم پر قلم کشائی سے کیا گیا ہے:

    میں مویشی تو نہیں ہوں بابا!
    مجھے تاوان میں دینا تھا اگر
    کیا ہی بہتر تھا کہ جب آنکھ کھلی تھی میری
    زندہ درگور ہی کرتے مجھ کو!!!

    ہمارے معاشرے میں موجود اس قبیح رسم کے خلاف اپنے لفظوں کے ذریعے علم جہاد بلند کرنا جناب جاوید الحسن جاوید کا ہی خاصہ ہے۔
    "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے عنوان سے درج نظم میں شاعر اپنی گزری زندگی پر نظر ڈالتا محسوس ہوتا ہے اور اسے احساس ہو رہا ہے کہ وقت کی مہلت تو ختم ہونے کو ہے اور میزان عمل خالی ہے، شاعر اس بات کو بھی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ اسے تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے:

    قلم کی روشنائی
    ختم ہونے کو چلی آئی
    مگر کاغذ تو کورا ہے
    ابھی کہنے کی سننے کی
    کئی باتیں ضروری ہیں
    ابھی نظمیں ادھوری ہیں!!!

    جاوید الحسن جاوید کہیں غریب اور بے گھر بچوں کا رونا روتے نظر آتے ہیں تو کہیں اشرافیہ اور حکمران طبقہ پر اس انداز سے طنز کرتے ہیں:

    ہجوم روک کے رستہ کھڑا ہے شاہوں کا
    انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ بادشاہ کیا ہے؟
    جو اس کی راہ میں آئے گا مارا جائے گا
    ہجوم شاہ کی عظمت پہ وارا جائے گا!!!

    "مہاجر بچے” کا عنوان لیے نظم کشمیر، فلسطین، روہنگیا، بغداد و مصر کے بچوں کے کرب میں ڈوب کر یوں صورت پذیر ہوتی ہے:

    زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا
    نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے
    نہ منہ پر نور ہوتا ہے
    بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں!!!

    انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت۔۔۔
    بھی نہیں ملتی!!!
    زباں ہوتی ہے لیکن
    ظلم سہہ کر بھی نہیں ہلتی!!!
    "پہلی دنیا کی اقوام” کے عنوان سے لکھی نظم میں اقوام عالم میں پھیلی انارکی، جنگ و جدل اور ناانصافی کے ذمہ داروں کے خلاف جاوید صاحب یوں سینہ سپر ہیں:

    انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
    کہاں جھکڑ چلانا ہیں
    کسے آگے بڑھانا ہے
    کسے پیچھے ہٹانا ہے
    زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
    مقابل کس کو لانا ہے!!!

    انہیں معلوم ہے کیسے
    کبھی بارود، میزائیل
    جہاز اور فالتو پرزےبنا کر بیچنا ہیں
    کس طرح سے تیسری دنیا کی قوموں کو
    لڑانا اور پھر ان کو لڑا کر امن کا رستہ دکھانا ہے
    انہیں معلوم ہے سب کچھ!

    "امر واقعہ” نامی نظم دور حاضر کی سچی تصویر پیش کرتی اور والدین کے دکھ روتی نظر آتی ہے کہ بچے وقت آنے پر ان والدین سے کیسے منہ پھیر لیتے ہیں جنہوں نے انہیں پالنے پوسنے کی خاطر اپنی عزت نفس تک بیچ ڈالی تھی!

    تو امر واقعہ یہ ہے
    یہ بیوہ ہو گئی تھی
    اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
    جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
    انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
    سو وہ بھی کیا کریں آخر
    اسے تو مانگتے رہنے کی عادت ہے
    اسی خاطر اسے بیٹون نے اپنے گھر سے بھی باہر نکالا ہے!!!
    آپ کی زیادہ تر نظمیں معاشرتی برائیوں پر وقوع پذیر ہوئی ہیں، کبھی آپ سرکاری معالجوں کے رویے پر شکوہ کناں ہیں تو کہیں کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور عالمی اداروں کی کشمیر میں ہونے والے جبر پر چشم پوشی کو بیان کرتے ہیں۔
    "اقبال جرم” کا عنوان لیے ایک نظم حاکم و محکوم کے کے لیے بنائے گئے الگ الگ قانون کا رونا روتی محسوس ہوتی ہے۔

    بڑی شدت کی اس دن بھوک تھی
    میں نے ڈبل روٹی چرائی تھی
    تو آخر دھر لیا جاتا ہے انساں کو

    فطرت شناس شاعر جاوید الحسن جاوید بہت باریک بیں نگاہ رکھتے ہیں اور چہروں، رویوں اور ارادوں کو بھانپ لیتے ہیں، ان کی نظم "ترقی کا راز” اسی موضوع کے گرد گھومتی ہے کہ کیسے جھوٹ موٹ کی تعریف اور فرضی لگاوٹ انسان کو ترقی کی راہوں پر ڈال سکتی ہے۔
    جاوید صاحب کی نظموں میں کہیں کہیں آپ کو مزاح کا رنگ بھی نظر آئے گا، آپ بہت خوب صورتی سے روز مرہ کی باتوں کو مزاحیہ آہنگ دیتے ہیں ایک نظم "وارننگ” کا مطالعہ آپ کو میرے اس بیان سے متفق کر دے گا۔ جاوید صاحب اپنی شاعری سے متعلق بتاتے ہہں کہ یہ ان کے بچپن کا شوق ہے کہ میں لفظو جوڑوں اور انہیں شعروں کی لڑی میں پرو کر معتبر کر دوں اور یہ سفر جاری ہے۔

    "راول پنڈی شہر” کے عنوان سے لکھی نظم بہت معنی خیز ہے اور اس کا حرف حرف ذومعنی ہے، سوچنے سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت سبق ہے۔
    محبت کے موضوع کو بھی آپ نے اپنی نظموں میں جا بہ جا جگہ دی ہے:
    دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
    جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
    صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
    دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
    یہ ضروری ہے بہت!!!

    اور وطن سے محبت میں لکھی نظموں میں "چودہ اگست”، "وطن کا گیت”، "رد الفساد”، "ڈل کنارے پہ سرخ پھول” اور "نذر وطن” میں موصوف نے بلا کے اشعار تخلیق کیے ہیں جو قاری کے لہو میں محبت کا ابال سا پیدا کر دیتے ہیں اور جذبوں کو نئی توانائیاں بخشتے ہیں۔
    نظموں کے بعد قطعات کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے جو زیادہ تر معاشرتی موضوعات پر مبنی ہیں اور زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے روز مرہ واقعات کو مزاحیہ آہنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ:

    ایلو پیتھی ہو یا کوئی اور ہو طرز علاج
    تم دوا لیتے رہو اک دن شفا ہو جائے گی
    ہر معالج آپ سے مخلص ہے میرے دوستو
    گر دوا نہ چل سکی تو فاتحہ ہو جائے گی!!!

    اور

    ایک خاوند مر گیا تھا دو سے لے لی تھی طلاق
    اب کوئی جھگڑا ہے باقی اور نہ جنجال ہے
    کاسمیٹک سرجری نے کر دیا ایسا کمال
    ساٹھ کی لگتی ہیں لیکن عمر اسی سال ہے

    اسی طرح ایک قطعہ یوں ہے کہ:

    روز محشر جب اکٹھے تھے سبھی چھوٹے بڑے
    حق نے فرمایا کہ کاغذ پر گناہ اپنے لکھو
    ایک حضرت تھے جو دنیا میں بڑے اعلا وکیل
    وہ لگے کہنے کہ پہلے اک اضافی شیٹ دو!!!

    الغرض "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے سے آپ کو اچھی اور بامعنی شاعری کا بھرپور ذائقہ ملے گا۔ جہاں مختلف معاشرتی موضوعات کو اک قرینے سے منظوم کیا گیا ہے۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جناب جاوید الحسن جاوید شعروں کی تخلیق کا ہنر بہ خوبی جانتے ہیں۔ جو لوگ شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں انہیں میں "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔

  • مقبول ذکی مقبول : شخصیت ، فکر اور انسان دوستی کا آئینہ

    مقبول ذکی مقبول : شخصیت ، فکر اور انسان دوستی کا آئینہ

    تحریر : عامر اقبال ، صدر بزمِ اوجِ ادب ، ( بھکر )

    مقبول ذکی مقبول ایک ایسے شاعر و ادیب ہیں جن کی شخصیت سادگی ، درویشی اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج ہے ۔ ان کا مزاج فقیرانہ اور درویشانہ ہے ۔ وہ زندگی کو ایک امانت سمجھتے ہیں اور انسان کو انسانیت کے رشتے میں پرکھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر میں اخلاق ، روحانیت اور خیر خواہی نمایاں نظر آتی ہے ۔
    ان کی عادات میں وقت کی پابندی ایک نمایاں وصف ہے ۔ وقت کی قدر کرنا دراصل نظم و ضبط ، سنجیدگی اور خود احتسابی کی علامت ہے ، اور یہ خوبی انہیں ایک باوقار اور بااصول شخصیت بناتی ہے ۔ سچ بولنا ان کی فطرت میں شامل ہے ، جو ایک سچے انسان اور سچے ادیب کی بنیادی پہچان ہے ۔ ان کے نزدیک سچائی محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ زندگی کا عملی ضابطہ ہے ، جو انسان کو کردار کی بلندی عطا کرتا ہے ۔
    مقبول ذکی مقبول کی شخصیت کا ایک نہایت خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں ۔ ان کے دل میں تعصب ، نفرت یا برتری کا احساس نہیں بلکہ مروّت ، شفقت اور انسان دوستی کی روشنی ہے ۔ وہ ہر انسان کو عزت دیتے ہیں ، خواہ وہ کسی بھی طبقے ، زبان یا علاقے سے تعلق رکھتا ہو ۔ یہی وصف انہیں ایک سچا انسان دوست اور بااخلاق ادیب بناتا ہے ۔
    ان کے رویّے مثبت اور تعمیری ہیں ۔ وہ ہر فرد کی خیر خواہی چاہتے ہیں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثبت سوچ دراصل ایک تخلیقی ذہن کی علامت ہوتی ہے ، اور شاعر چونکہ معاشرے کا حساس نبض شناس ہوتا ہے ، اس لیے اس کی مثبت فکر معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی شاعری اور نثر میں بھی یہی تعمیری فکر جھلکتی ہے ، جو قاری کو امید ، حوصلہ اور اخلاقی شعور عطا کرتی ہے ۔

    مقبول ذکی مقبول : شخصیت ، فکر اور انسان دوستی کا آئینہ
    مقبول ذکی مقبول اور عامر اقبال


    زندگی کے سفر میں انہیں بے شمار حادثات ، واقعات اور تجربات سے گزرنا پڑا ۔ ہر واقعہ ان کے لیے ایک سبق بن کر آیا اور ان کی فکر میں نئی جہتیں پیدا کرتا رہا ۔ شاعر کی حساس طبیعت پر ہر حادثہ اور سانحہ گہرا اثر چھوڑتا ہے ، اور مقبول ذکی مقبول نے بھی ان تجربات کو اپنی تخلیقی توانائی میں ڈھالا ۔ ان کے مشاہدات نے انہیں زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کیا اور ان کی تحریروں میں بصیرت اور دانائی کا رنگ بھر دیا ۔
    اگرچہ وسائل کے اعتبار سے ان کی زندگی سادہ ہے ، مگر تعلقات کا دائرہ نہایت وسیع ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی اصل دولت اس کا کردار ، اخلاق اور علم ہوتا ہے ، نہ کہ مادی وسائل ۔ ان کی خوش اخلاقیں، علم دوستی اور خلوص نے انہیں دوستوں ، اور اہلِ ادب میں مقبول بنایا ہے ، جو کسی بھی ادیب کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔
    بھائی مقبول ذکی مقبول کی شخصیت درویشی ، صداقت ، مروّت، مثبت فکر اور انسان دوستی کا حسین نمونہ ہے ۔ وہ نہ صرف ایک حساس شاعر و ادیب ہیں بلکہ ایک باکردار انسان بھی ہیں ، جن کی زندگی اور فکر معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے ۔ ایسے لوگ ادب اور انسانیت دونوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ، اور آنے والی نسلیں ان کی فکر سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں ۔
    دعا ہے
    اللّٰہ تعالیٰ مقبول ذکی مقبول کو صحت ، درازیٔ عمر اور مزید علمی و ادبی توفیقات عطا فرمائے ، ان کے قلم کو حق و صداقت کا ترجمان بنائے اور ان کی فکر کو آنے والی نسلوں کے لیے ذریعۂ ہدایت و روشنی بنائے ۔ آمین ۔

  • جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز

    جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز

    جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز

    2012ء اور 2013ء کا زمانہ تھا جب ہم شمس آباد، راولپنڈی کے ایک فلیٹ میں مقیم تھے۔ ہمارے ساتھ شورکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست یاسر اقبال بھی رہائش پذیر تھے۔ اگرچہ یاسر کا مضمون انجینئرنگ تھا مگر ادب سے اس کا شغف غیر معمولی تھا۔ اکثر وہ ایک شعر پڑھا کرتا تھا:
    زندگی تیرے تعاقب میں ہم
    اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
    یہ شعر اس قدر دہرایا گیا کہ مجھے ازبر ہو گیا ہرچند اُس وقت تک شاعر کے نام سے واقفیت نہ تھی۔ شعر دل میں اتر گیا تھا نام بعد میں ملا۔ کچھ عرصے بعد یوٹیوب پر ریختہ کا ایک مشاعرہ سن رہا تھا۔ اسی مشاعرے میں پہلی مرتبہ طاہرؔ فراز کو سننے کا موقع ملا۔ جب ان کی غزل میں یہی شعر سماعت سے ٹکرایا تو گویا برسوں پرانی ایک یاد کو شناخت مل گئی۔
    ہندوستانی دوستوں کے ذریعے سے ان کا رابطہ نمبر حاصل ہوا۔ بات ہوئی تو طاہرؔ فراز نے نہایت شفقت اور خلوص سے خیریت دریافت کی۔ گفتگو میں ان کی شائستگی، ٹھہراؤ اور اپنائیت فوراً محسوس ہوئی۔ بعد ازاں کچھ ادبی اور شخصی معلومات بھی حاصل کیں۔ ارادہ تھا کہ ان پر ایک مفصل مضمون لکھوں گا۔ بدقسمتی سے موبائل کی خرابی کے باعث واٹس ایپ ڈیلیٹ ہو گیا اور تمام ریکارڈ ضائع ہو گیا۔ بعد میں دوبارہ ان سے چند چیزیں طلب کیں انھوں نے ارسال کرنے کا وعدہ بھی کیا تاہم ان کی مصروفیات اور میری کوتاہی کے باعث وہ سلسلہ وہیں رک گیا۔ نہ وہ یاد رکھ سکے نہ میں اصرار کر سکا۔
    آج جب یہ خبر موصول ہوئی کہ طاہرؔ فراز حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث ہم سے جدا ہو گئے ہیں تو دل پر ایک عجیب سی ویرانی اتر آئی۔ یوں لگا جیسے کوئی اپنا جس سے بات ادھوری رہ گئی ہو اچانک خاموش ہو گیا ہو۔
    اردو شاعری ایک ایسی مترنم اور شفیق آواز سے محروم ہو گئی ہے جس کی بازگشت مدتوں دلوں میں باقی رہے گی۔ طاہرؔ فراز رام پوری کا انتقال محض ایک شاعر کی رحلت نہیں بلکہ احساس، تہذیب اور عوامی شعور کے ایک پورے باب کا بند ہو جانا ہے۔ وہ شاعر جو لفظوں کو صرف برتتا نہیں تھا بلکہ انھیں زندگی عطا کرتا تھا۔ جس کی شاعری سننے والا ہر شخص کسی نہ کسی موڑ پر خود کو اس میں پہچان لیتا تھا۔
    طاہرؔ فراز کی شاعری دراصل عوام سے گفتگو ہے اسی لیے ان کا لہجہ بھی خالص عوامی ہے۔ ان کے اشعار میں ایسی سلاست اور شفافیت ہے کہ معمولی ذہنی سطح کا آدمی بھی ان سے حظ اٹھا سکتا ہے اور صاحبِ نظر بھی ان میں معنوی گہرائی پا لیتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ان کی شاعری کو طبقاتی حد بندیوں سے آزاد کرتا ہے اور اسے ایک ہمہ گیر، سورج و چاند آسا وجود عطا کرتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ریختہ نے طاہرؔ فراز کے بارے میں یہ تعارف پیش کیا ہے:
    "طاہر فراز کی گفتگو عوام سے” ہے۔ اس لیے ان کا لہجہ بھی عوامی ہے اور اس قدر کہ معمولی ذہنی سطح کا آدمی بھی ان کی شاعری سے حظ اٹھا سکتا ہے۔ اس نوع کی شاعری طبقاتی حد بندیوں کو توڑتی ہے اور شاعری کو ایک ہمہ گیر سورج ، چاند آسا صورت میں پیش کرتی ہے۔ طاہر فراز کا لہجہ اور آہنگ بہت خوب صورت ہے۔ مترنم آبشار کی مانند ہے ان کی غزل ۔ جو منفرد خوش آہنگ نامیاتی وجود ہے ان کی غزل کا ، وہ انھیں مشاعروں کے شاعروں سے بھی امتیاز کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں درد اور کسک کی فضا ملتی ہے اور یہی ٹیس ان کے لہجے میں پوری شدت سے طلوع ہوتی ہے تو کتنوں کو بے حال کر دیتی ہے اور کتنوں پر وجد طاری کر دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں جو از دل خیزد، بر دل ریزد، والی بات ہے، وہ کم کم شاعروں کو نصیب ہوتی ہے۔”
    ریختہ کے یہ الفاظ طاہرؔ فراز کی شعری شخصیت کا نہایت درست، منصفانہ اور جامع احاطہ کرتے ہیں۔ ان کی غزل واقعی مترنم آبشار کی مانند ہے۔ ایک زندہ، نامیاتی اور خوش آہنگ وجود جو انھیں محض مشاعروں کے شاعروں سے الگ مقام دیتا ہے۔
    طاہرؔ فراز 29 جون 1953ء کو بدایوں (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور بعدازاں روہیل کھنڈ یونی ورسٹی، بریلی سے اردو میں ایم۔اے کیا۔ کم عمری ہی سے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد ہندستان کے نمائندہ شعرا میں شمار ہونے لگے۔ غزل ان کی محبوب صنف تھی۔ حمد، نعت، سلام اور منقبت میں بھی ان کا لہجہ سوز، عقیدت اور روحانی وقار سے لبریز نظر آتا ہے۔ خانقاہ نیازیہ سے وابستگی اور بزرگانِ دین سے عقیدت نے ان کی شاعری کو ایک باطنی گہرائی عطا کی۔

    جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز


    طاہرؔ فراز اردو زبان سے محبت کرتے تھے۔ وہ اردو کے فروغ کے لیے تاعمر کوشاں رہے۔ طاہرؔ فراز نے اردو کو ہندو مسلم کے درمیان رائج کرنے پر زور دیا کہ اگر ملک کی تہذیب کو بچانا ہے تو اردو کو فروغ دینا ہوگا۔ اردو سے غیر مسلموں کی دوری کی ایک وجہ اسکرپٹ بھی ہے لیکن اردو اسکرپٹ کی ہر حال میں حفاظت کی جانی چاہیے کیونکہ یہ اس زبان کی تہذیبی شناخت اور اس کی روح ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اردو زبان کو کوئی خطرہ نہیں اور پوری دنیا میں اس کے چاہنے والے، بولنے والے اور جاننے والے آباد ہیں۔ وہ اردو رسم الخط کو اس کی شناخت اور روح قراردیتے تھے
    یہ بات بھی میرے لیے ہمیشہ ایک قیمتی ذاتی یادداشت رہے گی کہ ان کا شعری مجموعہ ’’کشکول‘‘ جو 2004ء میں شائع ہوا تھا انھوں نے وٹس ایپ پر مجھے پی ڈی ایف صورت میں عطا کیا۔ اسی کشکول اور ان کے دوسرے کلام سے منتخب چند اشعار یہاں بہ طور یادگار درج ہیں:
    جن کو نیندوں کی نہ ہو چادر نصیب
    ان سے خوابوں کا حسیں بستر نہ مانگ
    ۔۔۔۔۔۔
    حادثے راہ کے زیور ہیں مسافر کے لیے
    ایک ٹھوکر جو لگی ہے تو ارادہ نہ بدل
    ۔۔۔۔۔۔
    اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں
    کاش میں سب کے برابر ہوتا
    ۔۔۔۔۔۔
    جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محل
    میں نے گھبرا کے کہی میرؔ کے لہجے میں غزل
    ۔۔۔۔۔
    ختم ہو جائے گا جس دن بھی تمھارا انتظار
    گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی
    ۔۔۔۔۔
    تمام دن کے دکھوں کا حساب کرنا ہے
    میں چاہتا ہوں کوئی میرے آس پاس نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔
    پرانے عہد کے قصے سناتا رہتا ہے
    بچا ہوا ہے جو بوڑھا شجر ہماری طرف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مرے ہنر کا اسے بھی نہ تھا کچھ اندازہ
    ملال یہ ہے اسے دوسری شکست ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس قدر زخم ہیں نگاہوں میں
    روز اک آئینہ توڑ دیتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔
    فقیر وہ ہیں جو اللہ تیرے بندوں کو
    ہر امتیازِ نسب کے بغیر چاہتے ہیں
    طاہرؔ فراز کا انتقال 24 جنوری 2026ء کو ممبئی میں ہوا جہاں وہ اہلِ خانہ کے ساتھ ایک شادی کی تقریب اور صاحب زادی کے علاج کے سلسلے میں مقیم تھے۔ 25 جنوری کو بعد نمازِ ظہر وہیں تدفین عمل میں آئی۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
    طاہرؔ فراز کے جانے سے مشاعرے کچھ دیر کو سونے ہو گئے، غزل خاموش ہو گئی مگر ان کا کلام زندہ رہے گا۔ یادوں میں، کتابوں میں اور ان دلوں میں جنھوں نے کبھی ان کی آواز میں اپنے دکھ کی بازگشت سنی تھی۔ خود ان کا یہ شعر آج ان کی زندگی کا سب سے سچا استعارہ معلوم ہوتا ہے:
    یہ زندگی جو بہت مختصر ملی تھی مجھے
    سو میں نے بھی اسے دریا دلی سے خرچ کیا
    اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

  • عاصم بخاری کی شاعری کا معاشرتی رویوں کے تناظر میں جائزہ

    عاصم بخاری کی شاعری کا معاشرتی رویوں کے تناظر میں جائزہ

    عاصم بخاری کی شاعری کا معاشرتی رویوں کے تناظر میں جائزہ
    ۔۔۔۔۔۔
    تجزیہ کار
    (راحت امیر نیازی میانوالی)

    شاعر تقریبا” زیادہ تر موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔جن میں زندگی اور انسانوں کے سماجی معاشی معاشرتی اخلاقی نفسیاتی اور عمرانی پہلووں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ عاصم کی شاعری کا اگر تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو ان کے موضوعات دیگر شعرا کے مقابل میں زیادہ مختلف اور متنوع ہوتے ہیں۔یہ سماج کا عمیق مشاہدہ رکھتے ہیں۔یہ عوام میں رہتے اور ان کے رویوں کا بہ غور مطالعہ کرتے ہیں اور پھر ان محسوسات کو نظم و نثر ہر دو اصناف ِ ادب میں بڑی مہارت سے انتہائی موثر انداز قرطاس کی زینت بناتے ہیں۔ان کے ہاں مثبت و منفی دونوں صورتوں کو احاطہ بڑی خوب صورتی سے تقابلی انداز میں ملتا ہے۔جس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ہمارے رویوں میں تناسب و اعتدال کی ضرورت ہے۔
    ہمارے معاشرے میں بہت سی خوبیاں ہیں مشرقی اور اسلامی روایات کے اثرات ہمارے لوگوں پر واضح اور نمایاں دکھائی دیتے ہیں جس کی ایک مثال روزمرہ میں دکھائی دیتی ہے۔
    شعر

    لا الہ والا مُلک ، ہے عاصم
    احترام اس میں ہے بزرگوں کا
    بالکل اسی بات کے تسلسل میں میں عاصم بخاری ایک اور سماجی و معاشرتی مثبت رویے کو اپنے شعر کا موضوع بناتے ہیں کہ مغرب کے مقابلے میں ہمارے مشرقی سماج میں عورت کا مقام اور احترام واضح اور نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ جسے وہ شعری روپ میں یوں نبھاتے ہیں۔

    لا الہ والا مُلک ، ہے عاصم
    احترام اس میں عورتوں کا ہے
    ۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری ہمیں اپنی شاعری مں اپنی سابقہ رویات تاریخ اور تہذیب کے ساتھ جوڑتے ہوئے آج کے معاشرہ سے موازنہ کرتے ہوئے بہت سے سوالات کے جوابات قارئین پر چھوڑ جاتے ہیں کہ آج ہمارے ہاں چادر اور چار دیواری کے تقدس و احترام کا معاملہ بالکل برعکس ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔

    چار دیواری کا بخاری جی
    کس قدر احترام ہوتا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اگر چہ زمانہ بڑی تیزی کے ساتھ کروٹ بدل رہا ہے مگر”ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جہاں میں” جو خاندانی وقار اور پاس ابھی معاشرے میں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اور اپنی خاندانی شرافت نجابت اور روایت کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔

    نیچی رکھتا ہے نگہ اپنی وہ اس لیے
    عاصم وہ اک شریف گھرانے کا فرد ہے
    ۔۔۔۔۔
    تعلیم بڑی چیز ہے معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتی ہے۔مرد عورت میں اپنی ذات خودی اور حیا پیدا کرتی ہے۔
    شعر

    اُس کی تعلیم کا اثر ہے یہ
    نیچی رکھتی ہے وہ نگہ اپنی
    ۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری صرف تعلیم پر ہی اکتفا نہیں کرتے بل کہ مثبت رویوں کے رواج میں تربیت کا بھی اتنا ہی اہم مقام گردانتے ہیں ۔یہ شرم و حیا اور پاکیزگی ان دونوں چیزوں کے حسین امتزاج سے ہی ممکن ہے۔

    تربیت کا ہےیہ اثر سارا
    نیچی رکھتی ہے وہ نگہ اپنی
    ۔۔۔۔

    عاصم بخاری کی شاعری کا معاشرتی رویوں کے تناظر میں جائزہ


    ہمارے معاشرے میں نمود نمائش کا بہت زیادہ عمل دخل آ چکا ہے۔ تصنع نمائش دکھاوا ہمارے اوپر غالب آ چکاہے شاید یہ سوشل میڈیا کااحسان ہے کہ ناوسائلی کے باوجود معاشرے کا ہرفرد دکھاے کی خاطر کار کوٹھی ناگزیر سمجھتا ہے ۔حتیٰ کہ اس کے لیے اسے اجداد کا سارا ترکہ ہی کیوں نہ ضائع کرنا پڑے۔ کیوں کہ آسائش بغیر جینا انہیں حیرتوں میں مبتلا کرتا ہے عاصم بخاری اس سوچ پر ششدر ہیں۔

    ویسے حیرت ہے آپ زندہ ہیں
    کار کوٹھی بغیر بھی کیسے
    ۔۔۔۔۔
    اسی رویہ کو ایک اور شعر کے قالب میں کچھ ایسے ڈھالا ہے۔

    بابا جانی کا بیچ کُل ترکہ
    کوٹھی ہر حال میں بنانی ہے
    ۔۔۔
    ہمارے سماج کے اندر خلوص کی جگہ خود غرضانہ رویوں نے لے لی ہے۔آج کی یاریاں ضرورتوں کے تبادلے بن چکی ہیں۔اسی رویے کی عکاسی عاصم بخاری نے شعر میں یوں کی ہے۔

    اُس کو ہوتا ہے کام جب کوئی
    شب بخیری وہ کرتا میسج تب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارا معاشرہ گلوبل ولیج بننے کے بعد حقیقت میں مزید تنہائیوں کاشکار ہو گیا ہے اب دو آدمی ایک ساتھ بیٹھے ہوئے بھی اپنی اپنی دنیا میں گم ہیں ایک دوجے سے بے خبر۔لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوجے سے بے خبر اور لاعلم۔کیا خوب شعری عکاسی ہے

    فیس بُک پر ہی روز ملتے ہیں
    ماسوا اس کے رابطہ کیسا
    ۔۔۔۔
    بخاری صاحب کو نئی نسل کے اس بے خودی و مدہوشی کے رویے پر تشویش ہے کہ انھوں نے ابھی بہت کچھ کرنا تھا مگر موبائل فون میں چوبیس گھنٹے غرق دکھائی دیتے ہیں۔

    نسل ِ نو کے لیے بخاری جی
    آکسیجن کے جیسے موبائل
    ۔۔۔۔۔
    پہلے وقتوں میں شرافت بڑی چیز ہوتی تھی۔ جسکا بڑا احترام اور مقام تھا مگر مادیت پرستی نے اس روش کو یک سر بدل کے رکھ دیا۔اب ہر ایک پیسے کیسے کے چکر میں ہے۔ہر ایک کا رویہ پیسے کی غلامی ہے۔اور اب شرافت اپنا اثر اور تاثیر کھو چکی ہے۔اب صرف اور صرف دولت ہی کی چلتی ہے۔

    دور دولت کا اور صورت کا
    آپ سیرت کی بات کرتے ہیں
    ۔۔۔۔۔
    نمود نمائش کا دور ہے بڑی گاڑی بڑا سٹیٹس اس دور کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔

    دور صورت کا یہ بخاری جی
    کون سیرت کو پوچھتا اس میں
    ۔۔۔۔۔
    ہمارے سماج کا المیہ یہ ہے کہ دکھاوے کا رویہ رواج پاچکا ہے۔ کیمرہ سوشل میڈیاخلوص کو نگل چکا ہے۔اخلاص نام کی چیز نہیں۔ حرام حلال کا تصور پیچھے رہ گیا ہےکالےدھن کو سفید کیا جارہا ہے۔راہ ِ خدا میں دینے کےلیے مال کاحلال ہونا شرط ِ اول یے۔لیکن معاشرے میں اسی رویے کا خوب چلن ہے۔

    یہ الگ بات اُس کی ناجائز
    خوب راہ ِ خدا میں دیتا ہے
    ۔۔۔
    ہمارے معاشرے میں اچھی اور مثبت تبدیلیاں رواج پا رہی ہیں مگر جز وقتی۔ مکمل طور پر ہم سے اسلامی رویے نہیں اپنائے جاتے ۔صرف نکاح کی حد تک تو سادگی نظر آتی ہے مگر بعد ازاں اس کا دامن سماج کے کمزور ہاتھوں سے چھوٹ جاتا ہے۔۔
    شعر دیکھیے

    صرف کافی نکح نہ مسجد میں
    بعد اس کے بھی سادگی لازم
    ۔۔۔۔۔
    آج کل زمانہ بدل رہا ہے قدروں میں تغیر ہے رویوں کے پیمانے بدل چکے ہیں۔” تھا جو نا خوب بتدریج وُہی خوب ہوا”۔
    پرانے وقتوں دوستی کیا دشمنی کے بھی معیار اور پیمانے ہوا کرتے تھے۔ عورت کا بڑا لحاظ تھا یہاں تک کہ اگر عورت ساتھ ہوتی تو دشمن مرد پر بھی حملہ نہ کیا جاتا۔اب جب کہ طور کچھ اور ہے۔
    شعر
    اپنے وقتوں میں دشمنوں کی بھی
    عورتوں کا لحاظ ہوتا تھا
    ۔۔۔۔۔
    ماضی میں روایات کی پاس داری اور کچھ اصول تھے جن کا پاس رکھا جاتا مگر اب رویوں میں دن رات کا فرق ہے۔
    شعر
    پہلے وقتوں میں دشمنی کے بھی
    کچھ بخاری اصول ہوتے تھے
    ۔۔۔۔۔۔
    معاشرہ کو متکبرانہ رویوں نے مسلسل اذیتوں میں مبتلا کررکھا ہے۔

    اُس نے مخلوق کو رویے سے
    ایک مدت رکھا اذیت میں
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ زمانہ گیا جب حق اور حق دار والی بات تھی۔ اب سفارش اور منہ ملاحظہ بھی نہیں چلتا۔اگر بات بنتی ہے تو صرف اور صرف رشوت اور وہ بھی بھاری رشوت سے ہی ورنہ سب بے سود
    شعر
    رشوتی دور ہے بخاری یہ
    تم سفارش تلاشتے پھرتے
    ۔۔۔۔۔
    سوشل میڈیا کے روشن پہلو کے ساتھ تاریک پہلوؤں میں سے ایک پہلو عمل کے خلوص کا ختم ہو جانا اور ریا کاری دکھاوے کا در آنا ہے۔قبرستان ہمیں موت اور فنا کا درس دیتا ہے مگربہت افسوسناک اور شرم ناک رویہ ہے کہ ہم وہاں بھی صرف ایکٹنگ کرتے ہیں
    شعر
    فاتحہ قبر پر نہیں پڑھتے
    صرف تصویر ہی بناتے ہیں
    ۔۔۔۔
    عاصم بخاری کوسوشل میڈیا کے اسی منفی اثر اور پہلو مایوس کیا ہےاور اعمال میں اخلاص نامی چیز کو نہیں چھوڑا
    شعر
    آگیا ہے اب کے سوشل میڈیا
    اب کہاں اخلاص وہ اعمال میں
    ۔۔۔۔
    بعض امور اور اعمال خالصتا” اخلاص کے متقاضی تھے مگر افسوس ہمارے نمودی و نمائشی رویوں سے وہ بھی اپنا دامن نہ بچا سکے۔اگر چہ فاتحہ خوانی قربتہ” الی اللہ عمل تھا مگر افسوس۔۔۔
    شعر
    لازمی عاصم بخاری ہو گئی
    فاتحہ خوانی کی بھی تصویر اب
    ۔۔۔
    ہماری خدمت ِ انسانیت کا نعرہ بھی منافقانہ اور کھوکھلا نکلا۔اس عبادت کے پیشے میں بھی خود غرضی اور لالچ کا غالب رویہ سامنے ہے۔
    شعر
    ڈاکو اک روز مارے جاتے ہیں
    ڈاکٹر ہی ، بنایا بیٹے کو
    ۔۔۔۔۔
    ثقافتی یلغار کی لپیٹ سے ہماری موجودہ نسل اپنا دامن نہ بچا پائی۔ اورجوان نسل فیشن اور جدت کے نام پر کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔بل کہ یہ رویہ اپنی حدیں پار کرگیا۔

    نیم عریانی قصہء ماضی
    بے لباسی کا دور دورہ ہے
    ۔۔۔۔۔
    اس سماجی انقلاب، تغیر اور تبدل نے صرف مرد کو نہیں عورت کے رویوں میں بھی عجیب و غریب تبدیلی لائی ہے۔جو کہ ایک مشرقی اور اسلامی خاتون کے لیے شرمناک چلن بھی ہے اور افسوس ناک رویہ بھی۔
    شعر
    کوشش کے باوجود بھی عورت کے جسم پر
    ملبوس کو لباس کے معنی نہ مل سکے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بخاری صاحب اس نسائی رویے اور صورت ِ حال پر عدم تحفط کا اظہار طنزیہ انداز سے کچھ ایسے کرتے ہیں

    پہنے ملبوس ڈِھیلا وہ کیوں کر
    جسم اس میں نظر ، نہیں آتا