Tag: شاعری

  • آنسہ مظہر کا پہلا پڑاؤ “صبح آئندہ”

    آنسہ مظہر کا پہلا پڑاؤ "صبح آئندہ”

    آنسہ مظہر کا پہلا پڑاؤ "صبح آئندہ”

    تبصرہ : سعادت حسن آس

    ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والی خوشبودار مٹی تحصیل پنڈیگھیب کے گاؤں کسراں کی خوبصورت لب و لہجہ کی شاعرہ آنسہ مظہر کا ادبی دنیا میں "صبح آئندہ” کے عنوان سے پہلا پڑاؤ خوش آئند اقدام ہے یہ خطہ تاریخ پاکستان میں نہایت اہمیت کا حامل ہے عسکری یا ادبی حوالے سے یہ مٹی بہت مردم خیز ہے آنسہ مظہر کا ادب کے افق پر طلوع ہونا ایک نیک شگون ہے ان کی شاعری کے اچھوتے خیالات ،جذبات ،احساسات قابل ستائش ہیں بہت کم عرصے میں انہوں نے ادبی حلقوں میں اردو اور پنجابی شاعری کے حوالے سے اپنے فن کا لوہا منوایا ہے اور اپنی پہلی کتاب کی تعارفی تقریب بھی بلدیہ ہال اٹک میں کروا کر بہت داد سمیٹی اگر یاد ماضی میں جاؤں تو بالکل اسی طرح 1990 میں نیشنل آرٹس کونسل راولپنڈی میں میری نعتیہ کتاب "آس کے پھول” کی بھی تقریب رونمائی ہوئی تھی اور سید ضمیر جعفری نے انڈونیشیا کی ضرب المثل کا حوالہ مجھ سے منسوب کیا اور فرمایا کہ آس وہ خود رو پودا ہے جو سمندر میں اپنی جگہ خود بناتا ہے یہی صورتحال میں اب آنسہ مظہر کے لیے دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے ادبی حلقوں کو اپنی طرف خوب متوجہ کر لیا ہے اگر اسی جذبے سے ان کی مشق سخن جاری رہی تو وہ بے پناہ کامیابی سمیٹیں گی

    آنسہ مظہر کا پہلا پڑاؤ “صبح آئندہ”

    الحمدللہ میں نے بھی انہی شروعات سے ہی اپنے قدم آگے بڑھاۓ اور مجھ پر دو مختلف یونیورسٹیوں نے اپنے طلباء کو ایم فل کی ڈگریوں سے نوازا. میری ادبی خدمات پر مختلف اداروں نے مجھے گولڈ میڈل عطاء کیے
    آنسہ مظہر کی شاعری کو دیکھتے ہوٸے بے حد مسرت ہو رہی ہے میں ان کے لیے دعاگو ہوں اور ان سے کہوں گا کہ وہ ادھر ادھر سے آنے والے پتھروں کی پرواہ کیے بغیر اپنی منزل کی طرف سفر جاری رکھیں ایک دن ان کی محنت ضرور رنگ لائے گی اور کامیابی ان کے قدم چومے گی
    ان شاءاللہ

    سعادت حسن آس

    سعادت حسن آس

  • ادبی انٹرویو : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    ادبی انٹرویو : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    ادبی انٹرویو : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    انٹرویو کنندہ : انتظار حسین ساقی ، فیصل آباد

    سوال : السلام علیکم ۔ ؟
    جواب : وعلیکم السلام ۔
    سوال : آپ کا نام کیا ہے ۔ ؟
    جواب : مقبول حسین ۔
    سوال : آپ کا قلمی نام کیا ہے ۔ ؟
    جواب : مقبول ذکی مقبول ۔
    سوال : آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے ۔ ؟
    جواب : یکم جنوری انیس سو ستتر ( 01/01/1977)
    سوال : آپ کہاں پیدا ہوئے ۔؟
    جواب : کینال کالونی لیہ لیکن بعد میں منکیرہ ضلع بھکر شفٹ ہو گئے ۔
    سوال : آپ کا مکمل ایڈریس کیا ہے ۔؟
    جواب : بستی شمالی وارڈ نمبر 8 نزد دربار شہزاد علی اکبر (ع) تحصیل منکیرہ ضلع بھکر ۔
    سوال : آپ کا تعلق کس ذات سے ہے ۔؟
    جواب : مسلم شیخ ( برِصغیر کی قدیم سیاہ فام اقوام میں سے ایک قوم)
    سوال : کب سے لِکھنا شروع کیا ۔؟
    جواب : لِکھنے اور پڑھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا لیکن باقاعدہ آغاز 2005ء سے کیا ۔
    سوال : اب تک آپ نے کتنی کتابیں لکھی نیز ان کتابوں کے نام بتائیں ۔؟
    جواب : الحمدللہ میری پانچ کتب طبع شدہ دو شاعری کی اور تین نثر کی
    1 سجدہ( شاعری )2 منتہائے فکر( شاعری) 3 سنہرے لوگ ( نام ور ادبی شخصیات کے) انٹرویوز) 4 روشن چہرے (معروف ادبی شخصیات سے مصاحبے) اور اعترافِ فن (پروفیسر عاصم بخاری تحقیق و تنقید)
    سوال : آپ شائع ہونے والی کتابوں کے کیا نام ہیں ۔ ؟
    جواب : ٫٫ شذراتِ مقبول ،، (مضامین و تبصرے ) ٫٫ یہ میرا بھکر ،، (فردیات) ٫٫ ہک در ،، ( شاعری )


    سوال : آپ کی شاعری/ لکھنا گھر میں کتنے لوگوں کو پسند ہے ۔؟
    جواب : ضروری تو نہیں کہ پسند کریں اگر حوصلہ افزائی نہیں کرتے تو کبھی حوصلہ شکنی بھی نہیں کی ۔
    سوال : کوئی ایوارڈ کوئی سرٹیفکیٹ کوئی اعزازی شیلڈ وغیرہ جو آپ نے لی ہو ۔؟
    جواب : 1 گولڈ میڈل ، منجانب ادب سرائے انٹرنیشنل (لاہور) 10 دسمبر 2018ء
    2 حسنِ کارکردگی اول ایوارڈ ، منجانب شاخِ ادب فیض پور خرد انصاری فاؤنڈیشن پاکستان (شیخو پورہ)14 مارچ 2019ء
    3 نعت ایوارڈ ، منجانب عشقِ لہر ادبی انجمن (لاہور) 24 مارچ 2019ء
    4 ڈاکٹر یاسین جاوید ادبی ایوارڈ ، منجانب کاروانِ بیدل (جھنگ) 30 مارچ 2019ء
    5 گولڈ میڈل ، منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 3 اگست 2020ء
    6 بھیل ادبی ایوارڈ ، سند اور دیگر تحائف منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 28 مارچ 2021ء
    7 سند امتیاز ، منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 10 جولائی 2021ء
    8 ایوارڈ برائے بہترین تصنیف ، منتہائے فکر ، منجانب انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان (راولپنڈی)26 جولائی 2021ء
    9 گولڈ میڈل ، سند ، کیش اور دیگر تحائف منجانب تنظیم کارِ خیر (گوجرانولہ) 21 نومبر 2021ء
    10 خوشبوئے نعت ایوارڈ ، منجانب عبد الحق نعت فاؤنڈیشن پاکستان (سرگودھا) 25 دسمبر 2021ء
    11 حسنِ کارکردگی ایوارڈ ، منجانب ماہنامہ اوج ڈائجسٹ (ملتان) 16 جنوری 2022ء
    12 سردار ادبی ایوارڈ اور سند امتیاز منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 13 مارچ 2022ء
    13 نقیبی ادبی ایوارڈ 2021ء منجانب نقیبی کاروانِ ادب (فیصل آباد) 26 دسمبر 2022ء
    14 گولڈ میڈل 2024ء منجانب المصطفیٰ فاؤنڈیشن اور مختلف ادبی تنظیموں کی طرف سے 5 اسناد ، یعقوب فردوسی ( فیصل آباد) 20 اگست 2023ء
    15 اعزای سند ، منجانب ادبی سفر انٹرنیشنل (لاہور) 24 اگست 2023ء

    ادبی انٹرویو : مقبول ذکی مقبول ، بھکر


    سوال : آپ کس شاعر/ رائٹر کو پسند کرتے ہیں ۔؟
    جواب : شعراء میں سے پسندیدہ شاعر محسن نقوی ہیں اور نثر نگاروں میں سے (قرۃ العین حیدر)
    سوال : آپ کو پاکستان کا کونسا شہر زیادہ پسند ہے ۔؟
    جواب : ویسے تو اپنے چمن کی مٹی کا ذرہ ذرہ اپنی جان سے پیارا ہے چونکہ قدیم سے لاہور علمی و ادبی مرکز رہا ہے اسی حوالے سے لاہور میرا پسندیدہ شہر ہے ۔
    سوال : آپ کو کونسا موسم پسند ہے ۔؟
    جواب : ویسے تو سبھی موسم اچھے ہیں لیکن موسم بہار تو اپنی مثال آپ ۔ سچ پوچھیں تو اندر کا موسم ٹھیک ہو تو سبھی موسم اچھے لگتے ہیں ۔
    سوال : آپ جِس شاعر کو پسند کرتے ہیں ان کا اِک شعر سنائیں ۔ ؟
    جواب : سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے
    چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے (محسن نقوی)
    سوال : آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے ۔؟
    جواب : پیٹ خالی ہو تو جو مل جائے پسند ہی پسند ویسے عربی بڑی شوق سے کھاتا ہوں ۔
    سوال : آپ کو کوئی فلم پسند ہے ۔؟
    جواب : کبھھ فرصت ہی نہیں ملی کہ Enjoy کیئے فلم دیکھیں اب تو شاید اپنی زندگی ہی فلم بنی ہوئی ہے ۔
    سوال : کیا آپ کو موسیقی پسند ہے ۔ ؟
    جواب : جی ہاں پسند ، بعض اوقات سروں کے تال مایوس جذبات کو امید کی نئی دینا دیتے ہیں ۔
    سوال : آپ کو کسی سے محبت ہوئی ۔ ؟
    جواب : نہیں ہوئی ۔
    سوال : آپ کی محبت کا انجام کیا ہوا ۔ ؟
    جواب : جب محبت ہوئی نہیں تو انجم کیا ہونا تھا ۔
    سوال : کیا محبت کرنا ضروری ہے ۔ ؟
    جواب : جی ہاں ضروری ہے ۔
    سوال : آپ محبت کی کیا تعریف کریں گے ۔؟
    جواب : دو دلوں کا آپس میں ایسا سچا اور نیک رشتہ جو احساس پر مبنی ہو محبت کہلاتا ہے ، لیکن بڑے افسوس کے ساتھ آج کل جسم کے پجاریوں نے محبت کو بد نام کیا ہوا ہے حالانکہ محبت تو نیک اور حقیقی جذبہ ہے ۔
    سوال : کیا شاعری کرنے کیلئے محبت کرنا ضروری ہے ۔ ؟
    جواب : نہیں ۔ No
    سوال : کیا آپ کی شادی ہوئی ہے ۔ ؟
    جواب : جی ہاں ۔ Yes
    سوال : آپ کی شادی لو میرج/ ارینج میرج ۔؟
    جواب : شادی تو ارینج میرج تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لو میرج سے بھی کام اوپر چلا گیا ہے ۔
    سوال : آپ کی بیوی آپ سے زیادہ محبت کرتی ہے یا آپ اس سے کرتے ہیں ۔؟
    جواب : الحمدللہ ہم ایک دوسرے سے بڑھ کر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔
    سوال : آپ کے بچے کتنے ہیں ۔؟
    جواب : میرے الحمدللہ دو بچے ہیں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ۔
    سوال : بچوں کے نام بتائیں ۔؟
    جواب : اوج زہرا ، گلفام حسین ۔
    سوال : اپنے بچوں کے Nik نام بتائیں ۔؟
    جواب : بیٹے کو پیار سے اکبر بولتے ہیں اور بیٹی کو پیار سے گڑیا بولتے ہیں ۔
    سوال : آپ نے کونسے ادبی رسالہ میں لکھا ہے ۔ ؟
    جواب : سہ ماہی ٫٫ اردو ڈائجسٹ ،،( اسپین)ماہنامہ ٫٫ ارژنگ ،، (لاہور) ماہنامہ ٫٫ کاروانِ نعت ،،( لاہور) ماہنامہ ٫٫ طلوعِ اشک ،، ( لاہور) ہفت روزہ انٹرنیشنل ٫٫ مار گلہ نیوز ،، ( اسلام آباد) سہ ماہی رقصِ بسمل (جھنگ) ہفت روزہ ٫٫ عالمی حصارِ ادب ،، سنڈے میگزین ( اسلام آباد) اور
    اخبارات میں بھی لکھا ہے روزنامہ ٫٫ طالبِ نظر ،، (کراچی) روزنامہ ٫٫ باڈر لائن ،، (لاہور) ہفت روزہ ٫٫ خوب رو ،، (ملتان) ہفت روزہ ٫٫ اخبارِ اکبر ،،( رحیم یار خان) روزنامہ ٫٫ عوامی جبر ،، (لیہ) اور دیگر اخبارات و رسائل جرائد ۔
    سوال : آپ کے شوق کیا کیا ہیں ۔؟
    جواب : مطالعہ کرنا ۔؟

    ادبی انٹرویو : مقبول ذکی مقبول ، بھکر


    سوال : آپ کو سیاست سے کوئی دلچسپی ہے ۔؟
    جواب : جی نہیں ۔
    سوال : اگر آپ وزیراعظم ہوتے تو کیا کرتے ۔؟
    جواب : اگر میں ملک کا وزیراعظم ہوتا تو مکمل طور پر ملک میں شریعت محمدی (صہ) کا نفاذ کرتا ۔
    سوال : کوئی آپ کی خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو ۔؟
    جواب : الحمدللہ جو آرزو کی خداوند کریم نے پوری کی ۔
    سوال : ایسا شخص جو آپ کو بہت یاد آتا ہو ۔؟
    جواب : اپنے والدین خداوند کریم عالمِ برزخ کی منازل آسان فرمائے آمین اور ان کی مغفرت فرمائے ۔آمین ۔
    سوال : آپ کو کپڑے کس قسم کے پسند ہیں ۔؟
    جواب : وجود ڈھانپنے کیلئے جو مل جائے ویسے سفید رنگ کے کپڑے سادہ بہت پسند ہیں ۔
    سوال : آپ کو کونسا پھول پسند ہے ۔؟
    جواب : گلاب ۔
    سوال : آپ کی پسندیدہ غزل یا شعر بتائیں ۔؟
    جواب : پھول پر شبنم رہے خوشبو بھی اس کا ساتھ دے
    ایک خطبے سے ملا ہم کو پیامِ کربلا ( مقبول ذکی مقبول)
    سوال : آپ کو کونسا کھیل پسند ہے ۔ ؟
    جواب : والی بال ۔
    سوال : کیا ہمارے پاکستان میں اب بھی لوگ کتابیں شوق سے پڑھتے ہیں ۔ ؟
    جواب : بہت کم ۔
    سوال : جدید اور انٹرنیٹ فیس بُک اور واٹس ایپ کے آنے سے کیا قارئین کم ہوگئے ہیں اپنی رائے دیجئے ۔ ؟
    جواب : جی ہاں انٹرنیٹ کی دنیا نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ ہے ۔ جی ہاں انٹرنیٹ کی وجہ سے قارئین کتاب بہت کم ہوتے جارہے ہیں ۔
    سوال : کوئی ایسی کہاوت جو آپ کو پسند ہو ۔ ؟
    جواب : نیکی کر دریا میں ڈال ۔
    سوال : آپ ادب کے فروغ کیلئے کام کرنے والوں کو کوئی رائے دینا چاہتے ہیں ۔ ؟
    جواب : ادب کے فروغ کیلئے کام کرنے والوں کو یہی رائے دونگا کہ وہ شب و روز محنت اور لگن سے کام کریں ۔
    سوال : کوئی دعا جو آپ سب کو دینا چاہتے ہوں ۔ ؟
    جواب : خداوند کریم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور غربت اور بے روزگاری جیسے امتحان سے بچائے اور سب دارین کی خوشیاں نصیب فرمائے ۔
    سوال : چیف ایڈیٹر اوج ڈائجسٹ ایم عاصم کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ۔؟
    جواب : عاصم بھائی کے بارے میں میری رائے یہی ہے عاصم بھائی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے ۔
    جو دوسروں کیلئے جینا چاہتے ہیں خداوند کریم عاصم بھائی کو سدا سلامت رکھے اور دارین کی خوشیاں نصیب فرمائے ۔ آمین ۔
    ***

    انتظار حسین ساقی ، فیصل آباد

    انتظار حسین ساقی

    فیصل آباد

  • کیفی ؔ اعظمی اور بہرائچ

    کیفی ؔ اعظمی اور بہرائچ

    کیفی ؔ اعظمی اور بہرائچ

    ہندو نیپال سرحد پرکوہستان ہمالیہ کی مینوسوادوادی میں آباد ایک چھوٹا سا ضلع بہرائچ علاقہ اودھ کا ایک تاریخی علاقہ ہے جسے سلطان الشہدا فی الہند حضرت سید سالار مسعود غازی ؒکا جائے شہادت ہونے کا شرف حاصل ہے۔ بہرائچ زمانہ قدیم سے علم کا مرکز رہا ہے ۔دریائے گھاگھرا کے کنارے صوبہ اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے۱۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع بہرائچ صوبہ و خطہ اودھ کا تاریخی ضلع اور شہر ہے۔ضلع بہرائچ کو اگر جغرافیائی نقط نظر سے دیکھا جائے تو یہ اتر پردیش کا ایک ایسا ضلع ہے جو نیپال کی سرحد پر اور ہمالیہ کی گود میں بسا ہوا ہے۔ویسے تو یہ ضلع ترقیاتی نقطئہ ونظر سے کافی پسماندہ ہے لیکن قدرتی دولت سے مالامال بھی ہے ۔ ہرائچ زمانہ قدیم سے ہی علم کا گہوارہ رہا ہے۔یہاں خاص طور پر اردو ادب نے بہت ترقی پائی۔ مشہور بزرگ اور شاعر حضرت مرزا مظہر ؔ جان جاناں شہید ؒ کے خلیفہ خاص اور آپ کی اولین سوانح لکھنے والے معمولات مظہریہ کے مصنف حضرت شاہ نعیم اللہ صاحب بہرائچیؒ کوبہرائچ کا پہلا اردو شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ کا کلام آج بھی آپ کے خانوادے کے پاس محفوظ ہے۔بہرائچ ہی وہ سر زمین ہے جہاں شہنشاہ غزل میر تقی میؔر نے اپنی مثنوی’’ شکار نامہ‘ تصنیف کی تھی۔
    میر ؔنے بہرائچ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی تصنیف میں لکھا ہے کہ

    چلےہم جو بہرائچ سے پیشتر
    ہوئےصید دریا کے واں پیشتر

    مشہور ادیب ،عید گاہ اور گودان جیسے بے مثل شاہکار لکھنے والے منشی پریم چند نے بھی شہر بہرائچ کو اپنی رہائش کا شرف بخشا ہے۔منشی پریم چند صاحب کی پیدائش۳؍جولائی ۱۸۸۰ءمیں ہوئی۔آپ صرف۲۰ سال کی عمر میں ٹیچر کے عہدے پر فائز ہو گئے تھے۔ اس دوران۲؍ جولائی۱۹۰۰ءمیں آپ کا ٹرانسفر بہرائچ کے گورنمینٹ انٹر کالج میں ۲۰؍روپے ماہانہ پر ہوا ۔جہاں پرآپ نے تین ماہ تک بطور ٹیچر کے تعلیمی خدمات انجام دی۔اوریہیں بہرائچ میں ہی اپنے ناول ” اسرار معابد“ کی شروعات کی تھی۔پروفیسر سید مسعودحسن رضوی ادیب ؔ کی ولادت محلہ ناظر پورہ بہرائچ میں ہوئی۔ عصمت ؔچغتائی،عظیم بیگ چغتائی اور کیفی ؔاعظمی کی ابتدائی زندگی کا ایک دور یہاں گزرا ہے۔
    یہ تو تھا بہرائچ اور اردو ادب کے درمیان کا تعلق ،ہمارا یہ مضمون اصل میں کیفیؔ اعظمی صاحب پر ہے اور ان کی ہی کتاب کے حوالے سے بہرائچ سے آپ کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔

    کیفی ؔ اعظمی اور بہرائچ
    کیفی اعظمی 1986ء مشاعرہ بہرائچ میں (تصویر باشکریہ جواد ؔوارث بہرائچی)


    مشہور شاعر کیفی ؔ اعظمی صاحب کی ولادت 14 جنوری 1919 ء کو ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی تھی۔ کیفی صاحب کا ہمارے تاریخی شہر بہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔آپ کے بچپن کے دن بھی بہرائچ میں گزرے ہیں۔ کیفی ؔ صاحب کے والد صاحب نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ کے نواب قزلباش کے یہاں ملازمت کرتے تھے اور شہر بہرائچ کے محلہ سید واڑہ قاضی پورہ میں رہتے تھے۔کیفیؔ صاحب نے اپنی پہلی غزل بہرائچ میں ہی پڑھی تھی۔جیسا کہ کیفی ؔصاحب خود اپنے مجموعہ کلام ’’سرمایہ‘‘ میں لکھتے ہیں :
    واقعہ یہ ہے کہ ابّا بہرائچ میں تھے۔نواب قزلباش اسٹیٹ(تعلقہ نواب گنج علی آباد بہرائچ) کے مختار عام یا پتہ نہیں کیا وہا ں ایک مشاعرہ منعقد ہوا اس وقت زیادہ تر مشاعرے طرحی ہوا کرتے تھے اسی طرح کا ایک مشاعرہ تھا۔بھائی صاحبان لکھنؤسے آئے تھے۔بہرائچ ،گونڈہ،نانپارہ اور قریب دور کے بہت سے شعراء مدعو تھے۔مشاعرے کے صدر مانی ؔجائسی صاحب تھے ان کے شعر سننےکا ایک خاص طریقہ تھا کہ وہ شعر سننے کے لئے اپنی جگہ پر اکڑوں بیٹھ جاتے اور اپنا سر اپنے دونوں گھٹنوں سے دبا لیتے اور جھوم جھوم کے شعر سنتے اور داد دیتے ۔اس وقت شعرا ء حسب مراتب بٹھائے جاتے ایک چھوٹی سی چوکی پر قیمتی قالین بچھا ہوتا اور گاؤ تکیہ لگا ہوا ہوتا صدر اسی چوکی پر گاؤ تکیے کے سہارے بیٹھتا تھا جس شاعر کی باری آتی وہ اسی چوکی پر آکے ایک طرف نہایت ادب سے دو زانو ہوکے بیٹھتا ،مجھے موقع ملا تو میں بھی اسی طرح ادب سے چوکی پر ایک کونے میں دو زانو بیٹھ کے اپنی غزل جو طرح میں تھی سنانے لگا طرح تھی ’’مہرباں ہوتا رازداں ہوتا‘‘ وغیرہ میں نے ایک شعر پڑھا ۔

    وہ سب کی سن رہے ہیں سب کو دادِ شوق دیتے ہیں
    کہیں ایسےمیں میرا قصئہ غم بھی بیاں ہوتا

    مانی ؔ صاحب کو نہ جانے شعر اتنا کیوں پسند آیا کہ انھوں نے خوش ہو کر پیٹھ ٹھونکے کے لئے پیٹھ پر ایک ہاتھ مارا تو میں چوکی سے زمیں پر آرہا۔ مانیؔ صاحب کا منھ گھٹنوں میں چھپا ہوا تھا اس لئے انھوں نے دیکھا نہیں کہ کیا ہوا جھوم جھوم کے داد دیتے اور شعر مکرّر مکرّرمجھ سے پڑوھواتے رہے اور میں زمین پڑا پڑا شعر دوہراتا رہا،یہ پہلا مشاعرہ تھا جس میں شاعر کی حیثیت سے میں شریک ہو ا۔اس مشاعرہ میں مجھے جتنی داد ملی اس کی یاد سے اب تک کوفت ہو تی ہے۔بزرگوں نے داد دی اور کچھ لوگوں نے شک کیا کی یہ غزل کسی اور کی ہے اور میں نے اسے اپنے نام سے پڑھی ہے۔اس پر میں رونے لگا تب بڑے بھائی شبیر حسین وفاؔ جنہیں ابا سب سے زیادہ چاہتے تھے انھوں نے ابا سے کہا انھوں نے جو غزل پڑھی ہے وہ انہیں کی ہے شک دور کرنے کئے لئے کیوں نہ ان کا امتحان لے لیا جائے اس وقت ابّاکے منشی حضرت شوقؔ بہرائچی تھے جو مزاحیہ شاعر تھے۔انھوں نے اس تجویز کی تائید کی مجھ سے پوچھا گیا امتحان دینے کے لئے تیار ہو میں خوشی سے تیار ہو گیا۔شوقؔ بہرائچی صاحب نے مصرعہ دیا ؏
    ’’اتنا ہنسو کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے ‘‘
    بھائی صاحب نے کہا ان کے لئے یہ زمین بنجر ثابت ہوگی کوئی شگفتہ سی تجویز کیجئے لیکن میں نے کہا اگر غزل کہوں گا تو اسی زمین میں ورنہ امتحان نہیں دوں گا طے پایا کہ اسی طرح میں طبع آزمائی کروں اور تھوڑی دیر میں تین چار شعر کہے جو اس طرح تھے جسے بعد میں بیگم اختر نے اپنی آواز سےپنکھ لگا دیئے اور وہ ہندوستان ،پاکستان میں مشہور ہوگئی وہ غزل میری زندگی کی پہلی غزل ہے کو میں نے 11 سال کی عمر میں کہی تھی۔

    اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
    ہنسنے سے ہو سکوں نہ رونے سے کل
    جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
    یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے
    اک تم کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے
    اک ہم کہ چل پڑے تو بہرحال چل پڑے
    ساقی سبھی کو ہے غم تشنہ لبی مگر
    مے ہے اسی کی نام پہ جس کے ابل پڑے
    مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہ
    جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے

    کیفی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اب اس غزل کو آپ پسند کریں یا نہ کریں خود میں بھی اب ایسی غزل نہیں کہہ سکتا لیکن اس کی یہ افادیت ضرور ہوئی کہ اس نے لوگوں کا شک دور کر دیا اور سب نے یہ مان لیا کہ میں نے جو کچھ اپنے نام سے مشاعرے میں سنایا تھا۔وہ میراہی کہا ہوا تھامانگے کا اجالا نہیں تھا۔بہرائچ میں یہ غزل کہنے اور مشاعرے میں سنانے کے بعد لکھنؤ تو سب نے یہ سمجھایا کہ اگر سنجیدگی کے ساتھ شاعری کرنا چاہتے ہو تو کسی استاد کا دامن پکڑ لو۔کوئی بے استاد شاعر نہیں ہو سکتا ،ہو سکتا ہے گونڈہ ،بہرائچ میں ہو جائے لیکن یہ لکھنؤ ہے۔اس زمانے میں وہاں دو استادوں کا سکہ چل رہا تھا ۔حضرت آرزوؔ لکھنوی اور مولانا صفیؔ ۔میں آرزوؔ صاحب کے مقابلہ میں صفیؔ صاحب کو زیادہ پسند کرتا تھا ہمت کر کے ان کے گھر پہنچ گیا۔
    بہرائچ کے مشہور استاد شاعر منشی محمد یار خاں رافتؔ بہرائچی ،جمال الدین بابا جمالؔ بہرائچی ، بابو سورج نارائن سنگھ آرزوؔ بہرائچی ،بابو لاڈلی پرشاد حیرتؔ بہرائچی ، راقم کے پرنانا اور بہرائچ کے مشہور تاجر و شاعر جناب حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی کیفی ؔ اعظمی صاحب کے بہرائچ کے دوستوں میں سے تھے۔ بعد میں بھی کیفی کا بہرائچ آناجانا بنا رہا جس میں وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے شفیع ؔصاحب کی دکان پر ملاقات کرتے تھے۔کیفیؔ صاحب آخری مرتبہ8 فروری 1986ء کو بہرائچ کے روڈویز میدان میں منعقد ایک مشاعرہ میں آئے تھے ۔

    کتابت
    • سرمایہ مطبوعہ 1994
    • بہرائچ ایک تاریخی شہر

  • ایس ایم تقی حسین کی غزل کے کھوار تراجم کا فنی و فکری مطالعہ

    ایس ایم تقی حسین کی غزل کے کھوار تراجم کا فنی و فکری مطالعہ

    ایس ایم تقی حسین کی غزل کے کھوار تراجم کا فنی و فکری مطالعہ

    سید محمد تقی حسین اپنے قلمی نام ایس ایم تقی حسین کے نام سے لکھتے ہیں، ان کی غزل میں محبت، آرزو، ندامت اور گزرتے وقت کے موضوعات کو بہترین شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، آپ کے اشعار میں تڑپ کے گہرے احساسات کا ذکر، کھو جانے والے مواقع کا بیان اور نامکمل جذبات کے نتائج کو دکھایا گیا ہے۔ راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کا کھوار ترجمہ تقی حسین کی اردو شاعری کی جذباتی گہرائی اور جوہر کو چترال، مٹلتان کالام اور شمالی پاکستان کے وادی غذر کی کھوار بولنے والے قارئین کے ثقافتی اور لسانی تناظر میں ڈھالنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔

    ایس ایم تقی کی غزل کھوئی ہوئی محبت کی باتیں، ندامت کے احساسات، ادھورے وعدوں کا ذکر، اور بے مقصد جذبات کے درد کے گرد گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس میں شاعر رشتوں کو بچانے کے امکانات اور ضائع ہونے والے مواقع کے پچھتاوے کو تلاش کرتا ہوا نظر آتا ہے اور صبر کے ساتھ ساتھ خیر سگالی کی بھی بات کرتا ہے۔

    تقی حسین کی شاعری غزل کے روایتی ڈھانچے کی پیروی کرتی ہے، ہر شعر خواہش، ندامت اور کھوئے ہوئے مواقع کا ایک پہلو ظاہر کرتا ہے، جس سے جذباتی ہنگامہ آرائی اور عکاسی کی ایک مربوط داستان تخلیق ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    شاعر واضح تصویر کشی کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات کو ابھارنے کے لیے استعاراتی زبان اور علامتوں کا بھی استعمال کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ شیشے جیسے نازک دل کی تصویر کشی اور اندھیرے میں روشنی کی تڑپ جذبات کی نازک نوعیت اور جذباتی روشنی کی آرزو کے استعارے کے طور پر کام کرتی ہے۔ "سمندر بنجر تھا، ہم بہہ سکتے تھے” کا ملاپ غیر دریافت شدہ امکانات اور صلاحیت کے کھو جانے کی علامت کو بیان کرتا ہے۔

    تقی حسین کی غزل انسانی جذبات کی پیچیدگیوں اور رشتوں میں چھوٹ جانے والے مواقع کے نتائج کو گہرائی سے تلاش کرتی ہے۔ ہر شعر خواہش، ندامت، اور ادھورے وعدوں کی ایک واضح تصویر ہے، جو قاری کو غیر اظہار شدہ جذبات کے وزن اور بے عملی کے اثرات پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

    راقم الحروف کے ‘کھوار’ ترجمے کا مقصد تقی حسین کی شاعری کے جوہر اور جذباتی گہرائی کو دیگر علاقائی زبانوں میں پیش کرنا ہے یہ ترجمہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کھوار زبان کی لسانی اور ثقافتی باریکیوں کا بھی احترام کیا جائے اور لسانیات پر کام کرنے والے سرکاری ادارے اردو سے کیے گئے ‘کھوار’ تراجم کو شائع کرکے ‘کھوار’ ادب کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ تجزیہ اور تنقیدی جائزہ کرنا بصیرت انگیز ہو گا کہ ‘کھوار’ (چترالی) زبان اصل اردو غزل میں موجود جذبات، استعاروں اور منظر کشی کی باریکیوں کو ‘کھوار’ میں مؤثر طریقے سے ترجمہ کرنے کے چیلنج کو کس طرح نبھاتی ہے۔

    ایس ایم تقی حسین کی غزل کے کھوار تراجم کا فنی و فکری مطالعہ
    ایس ایم تقی حسین

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایس ایم تقی حسین کی غزل کی ‘کھوار’ تراجم کے ساتھ انسانی جذبات کی پیچیدگی اور رشتوں میں کھوئے ہوئے مواقع کی خواہشات کو سمیٹتے ہوئے آرزو، ندامت اور ادھوری خواہشات کی ایک پُرجوش کہانی پیش کرتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے ایس ایم تقی حسین کی غزل اور ‘کھوار’ تراجم پیش خدمت ہیں۔

    "غزل”

    نیئتیں تو اچھی تھیں گھر بچا تو سکتے تھے

    صبر کرکے تھوڑا سا آزما تو سکتے تھے

    کھوار:نیات تھے جم اوشونی دورو تھے بچ کوریکو باؤ اوشوؤ

    صبر کوری پھوکرو تھے آزماؤ کوریکو باؤ اوشوؤ

    وقت تو گزر جاتا، دل بھی صاف ہو جاتے

    بے سبب کے شکوے کو، تم بھلا تو سکتے تھے

    کھوار:وخت تھے پھار شوخچیسیر، ہردی دی صفا بیسینی

    بے سببو شکوان، تو تھے روخچیکو باؤ اوشوؤ

    بزم نارسائی میں ایک تم ہی میرے تھے

    منظر اس قرینہ کا تم سجا تو سکتے تھے

    کھوار:بزم نارسائیا ای تو تان مه اوشوؤ

    منظر ہے قرینو تو تھے سجاؤ کوریکو باؤ اوشؤ

    ٹوٹنے سے شیشہ کے، شور کچھ تو ہونا تھا

    کانچ سا یہ نازک دل ہم بچا تو سکتے تھے

    کھوار:چھیکو سورا شیشو، ہواز تھے پھوک گئیلک اوشوئے

    شیشو غون ہیہ نازک ہردیو اسپہ بچ تھے کوریک باؤشتم

    دیکھتے اندھیروں میں کیا تڑپنا بسمل کا

    روشنی کی خاطر تم دل جلا تو سکتے تھے

    کھوار:لوڑیسام چھؤیا کچہ کوری کیٹھیکو بسملو؟

    روشتیو بچے تو ہردیو تھے پالئیکو باؤ اوشوؤ

    وہ جو تھا سر مژگاں آنکھ سے ٹپکنے کو

    بحر بیکراں تھا وہ، ہم بہا تو سکتے تھے

    کھوار:ہسے کیاغکہ اوشوۓ سر مژگاں غیچھاری یو چوٹیکو

    بحر بیکراں اوشوئے ہسے، اسپہ آف اولئیکو تھے باؤشتم

    بے رخی کا نشتر تھا ہجر کا الاؤ بھی

    اس قدر اذیئت سے تم بچا تو سکتے تھے

    کھوار:بے رخیو نشتر اوشوئے ہجرو باس انگار دی

    ہش قسمہ اذیئتاری تو تھے مه بچ کوریکو باؤ اوشوؤ

    آنکھ کھول کر تم گر دیکھتے تقی دنیا

    اس بساط وحشت کو تم بسا بھی سکتے تھے

    کھوار:غیچھان ہوری تو اگر کی لاڑیس دنیو اے تقی

    ہیہ بساط وحشتو دی تو ہالئیکو باؤ اوشوؤ

  • درباری سیاست

    درباری سیاست

    درباری سیاست

    Dubai Naama 

درباری سیاست

    آخری مغلیہ شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو اردو شاعری کا بہت شوق تھا۔ ان سے پہلے کے بادشاہ بھی شاعری کے رسیا تھے جن کے ادوار میں ‘ملک الشعرا’ ایک شاہی خطاب تھا اور ایک عہدہ بھی، جو بادشاہوں کی طرف سے ان کے پسندیدہ شاعروں کو دیا جاتا تھا۔ ملک الشعرا کے لغوی معنی شاعروں کا بادشاہ کے ہیں۔
    مثال کے طور پر جلال الدین محمد اکبر کے دربار سے ملک الشعرا کا خطاب فیضی کو ملا۔ طالب آملی نور الدین جہانگیر کے دربار کا اور کلیم کاشانی شاہجہاں کے دربار کا ملک الشعرا تھا۔ چونکہ بہادر شاہ ظفر خود بھی ایک مایا ناز شاعر تھے لھذا انہوں نے اپنے دربار کا ملک الشعرا کا خطاب اپنے پسندیدہ شاعر محمد ابراہیم ذوق کو دیا۔ "جھوٹ بر گردن راوی”. کہا جاتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کی شاعری اور غزلیں ذوق لکھا کرتے تھے۔

    اس کے باوجود بہادر شاہ ظفر سے منسوب شاعری اور ان کی اکثر غزلوں سے حد درجہ اداسی، غم اور پژمردگی جھلکتی ہے جن میں سے ایک غزل کا مطلع ہے: "بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی، جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی”۔ بہادر شاہ ظفر کی نگاہ دور نے اپنی مایوسی اور اداسی کو چھپانے کے لیئے شائد ہمارے موجودہ سیاسی حالات کو بھی مدنظر رکھا تھا جہاں گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے درباری سیاست کا دور دورہ ہے اور جو بھی جماعت اور سیاست دان مقتدرہ کے پسندیدہ ٹھہرتے ہیں "ملک السیاسعہ” کا تاج انہی کے سر پر رکھا جاتا ہے۔ حالیہ الیکشن کے نتائج جو بھی نکلیں اور شہنشاہی کا سہرا جن کے سر پر بھی سجایا جائے موجودہ سیاسی صورتحال کی نزاکت کے حوالے سے آئیندہ انتخابی نتائج اور امکانی سیاسی صورتحال کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا جیسا سیاسی ماحول اب پیدا ہوا ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ یہ مخدوش اور کشیدہ سیاسی صورتحال کی فضا تب تک قائم رہے گی جب تک پی ٹی آئی کو 8فروری کے الیکشن سے پہلے ریلیف دے کر برابری کی سطح پر پلیئنگ فیلڈ نہیں دیا جاتا ہے۔

    کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے ابھی تک سیاسی مہم کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی مینار پاکستان والے استقبالیہ جلسے کے علاوہ کوئی دھماکہ خیز سیاسی جلسہ کیا ہے: "الٹی ہی چال چلتے ہیں دیوانگان عشق، آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کے لئے” درون خانہ یہ بھی خبر گرم ہے کہ میاں صاحب نے ملک سے باہر جانے کی دو دفعہ کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس بناء پر کچھ سیاسی بذلہ سنجوں کا یہ بھی خیال ہے کہ الیکشن کے دوران اور اس کے بعد عوام کے تصادم سے بچنے اور امن و امان کو قائم رکھنے کے لئے عمران خان کو جلد رہا کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیئے گئے اور عمران خان کی درخواست پر سماعت دم تحریر جاری ہے اور تحریک انصاف کے لیئے بلے کا نشان بھی بحال ہونے کا امکان ہے، حالانکہ یہ معاملہ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

    گو کہ عمران خان نے فوج کے خلاف زہر اگلنے کی انتہا کیئے رکھی اور بیرون و اندرون ملک پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلائ، ماردھاڑ، گالی گلوچ اور سیاسی فسطائیت کو فروغ دیا مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 9مئی کے ملک دشمن واقعات کے باوجود عوام میں عمران خان کی مقبولیت اور تحریک انصاف کا ووٹ بنک ہرگز کم نہیں ہوا ہے بلکہ کچھ بڑھا ہی ہے۔ یوں سنہ 2024ء بہت مشکل سال نظر آ رہا ہے کیونکہ بعض معاملات ابھی سے متنازعہ ہو گئے ہیں ان تنازعات میں وقت کے ساتھ اضافہ بھی ہو سکتا ہے جس کی کچھ مثالیں پولیس گردی، تحریک انصاف کے ورکروں کی پکڑ دھکڑ اور تحریک انصاف کے دعوی کے مطابق 90% امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی نامنظوری ہے۔

    2018 کے سیاسی حالات و واقعات مختلف تھے تب عمران خان نے عوام کے سیاسی شعور میں اتنی ہلچل برپا نہیں کی تھی جتنا ان کی وزارت عظمی سے رخصتی اور بعد میں ان کے سلاخوں کے پیچھے جانے سے عوام کے زہنوں میں ایک خاموش طوفان پیدا ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ سنہ 2018ء نہیں بلکہ 2024ء ہے۔ اب وقت اور حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ تاثر بھی درست نہیں ہے کہ کسی سیاسی قوت کو اقتدار دلانے کیلئے کسی دوسری سیاسی قوت کو طاقت سے دیوار سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں جنرل ضیاءالحق نے پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کو طاقت سے ختم کرنے کی کوشش کی مگر جونہی بہاولپور کا حادثہ پیش آیا حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ سیاست میں کسی سیاسی جماعت کو جتنا نیچے کی طرف دبایا جاتا ہے وہ سپرنگ کی مانند اتنا ہی دوبارہ اوپر کی جانب اچھلتی ہے۔ یہ تو الیکشن کے نتائج سے معلوم ہو گا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ 2018 میں مسلم لیگ نون کے کچھ قائدین اور امیدواران کے خلاف بھی اس سے ملتے جلتے مقدمات تھے جو اس وقت پی ٹی آئی کے قائدین اور امیدواروں کے خلاف قائم کیئے گئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مسلم لیگ نون نے فوجی تنصیبات پر حملے کئے تھے اور نہ ہی شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی تھی جو کہ ایک کھلی دہشت گردی اور ریاست مخالف اقدامات ہیں۔ البتہ نون لیگ نے شہباز شریف کی قیادت میں سپریم کورٹ پر ضرور حملہ کیا تھا مگر الیکشن لڑنے کے لئے اسی شہباز شریف کے کاغذات منظور کر کے اسے "گو اے ہیڈ” دے دیا گیا ہے۔ کیا انصاف اور حکمرانی کرنے کا طریقہ اور آداب یہی ہیں؟ اگر اس معیار کے ساتھ برسراقتدار لیڈران کو میدان میں اترنا ہے تو اقتدار میں اترنے سے پہلے یا بعد میں ان کو حکمرانی کرنے اور گڈ گورنینس دینے کے کچھ اصول و ضوابط ہی سیکھا دیئے جائیں۔ نون لیگ کے مقابلے میں تحریک انصاف کو دیکھا جائے تو اس کا دامن بھی صاف نہیں ہے۔ یہ دعوی کرنا تو بالکل غلط ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے یا اس جماعت کو طاقت کے زور پر زبردستی ختم کیا جا رہا ہے۔ بلکہ حیران کن سوال یہ ہے کہ اتنے سنگین الزامات اور مقدمات کے باوجود ابھی تک بلواہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزائیں کیوں نہیں دی گئی ہیں؟

    درباری سیاست

    اس پس منظر میں تو خود نون لیگ شش و پنج کا شکار ہے کہ جتنا ریلیف پی ٹی آئی کو دیا جا رہا ہے اس کا کیا جواز ہے؟ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی کا واویلا ایک بلکل عجیب منطق ہے کہ ایک چور اور دوسرا مچائے شور والی بات ہے۔ اس پر مستزاد مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی یا دیگر غیر مقبول سیاسی جماعتوں میں سے کسی جماعت کے پاس بھی ایسا کوئی معاشی پلان یا جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ وہ برسر اقتدار آنے کے بعد ملک کے معاشی حالات کو یکسر بدل کر رکھ دے گی جس کی ایک مثال تحریک انصاف کی چھٹی کے بعد پی ڈی ایم (PDM) کی متحدہ حکومت ہے جس کے آنے سے ملک کی معاشی ابتری پاتال میں پہنچ گئی تھی کہ مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے غریب لوگ آٹے کے ایک ایک تھیلے کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

    اس وقت کوئی ایک بھی ایسی سیاسی جماعت موجود نہیں ہے جو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے جا رہی ہے جس کا بنیادی منشور و مقصود مہنگائی کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی یا کاروباری مواقع پیدا کرنا ہو کہ جس سے آگے چل کر ملک میں خوشحالی آ جائے۔ اس وقت کی متحرک سیاسی جماعتوں کا ایک اولین مقصد صرف اور صرف درباری سیاست کر کے اقتدار کی کرسی تک پہچنا ہے۔

    ان سب سیاسی جماعتوں کو عوام بارہا آزما چکی ہے۔ آج کے اقتدار کے بھوکے ان تینوں جماعتوں کے بڑے سیاست دان اور الیکشن کے امیدوار حقیقتا درباری سیاست دانوں کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ عوام نے پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے ادوار دیکھے اور پھر پی ٹی آئی کا دور بھی دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی نے کرسی کے جاتے ہی ملک کے دفاعی اور قوم کے محافظ اداروں پر حملے کر کے اپنا اصل چہرہ بھی دکھا دیا۔

    چلو مان لیتے ہیں کہ جمہوریت ہی دنیا کا بہترین نظام حکومت ہے اور عام انتخابات کروانا بھی لازم ہیں لیکن سوچنا چاہیئے کہ ان جمہوری جماعتوں میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ تو جمہوری نہیں بلکہ وراثتی جماعتیں ہیں جن کی ہر دفعہ اصل منزل جمہوریت اور الیکشن کا ڈھونگ رچا کر اقتدار کی راہداریوں تک پہنچنا ہوتا ہے۔

    بلاشبہ موجودہ جمہوریت اور جماعتیں نہ تو ملک میں کوئی مقام رکھتی ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی قابل عمل معاشی فارمولا ہے کہ ان میں سے کوئی جماعت برسراقتدار آ جائے تو ملک میں معاشی انقلاب آ جائے گا اور امن وامان کے حالات میں بھی بہتری قائم ہو جائے گی۔ اس وقت بھی چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر اور ان کے رفقاء جس طرح دن رات ملکی معیشت کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں ماضی میں اس کی کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔ فوج بیرونی ممالک سے رابطوں کے علاوہ ملک میں زراعت کی ترقی اور معدنیات سے ملکی معیشت میں بہتری کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

    اس وقت جو سیاسی آثار نظر آ رہے ہیں کوئی بھی ایسی جماعت نہیں ہے کہ وہ اکثریت حاصل کر سکے۔ اگر الیکشن ہوئے بھی تو نئی حکومت چوں چوں کا مربہ ہو گی جو ماضی کے برعکس اپنی معینہ جمہوری مدت پوری نہیں کر سکے گی۔ اگر پاک فوج سرزمین وطن کے لیئے اتنا کر رہی ہے تو آئندہ الیکشن کے بعد برسراقتدار آنے والی حکومت کو مذاکرات سے یا طاقت سے آداب حکمرانی بھی سکھا دے کہ کیسے اپنی بہتر گورننس سے ملک کی تقدیر بدلنی ہے؟ الیکشن پر قومی خزانے سے عوام کا اربوں روپیہ ضائع ہونے سے بچانا ہے تو اس بار حافظ صاحب قوم و ملک پر اتنا احسان کر دیں کہ وہ اگلی حکومت سے جمہوری مدت بھی پوری کروائیں اور جیسے تیسے کر کے اس سے بہترین کارکردگی بھی نکلوائیں۔

    اگر پاکستان کو ترقی کروانی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے ارباب حل و اختیار کو برسراقتدار سیاست دانوں کے پرانے انداز ہائے سیاست کو بدلوانا ہو گا۔ پرانا یا موجودہ "سیاسی مائنڈ سیٹ” نہیں چلے گا۔ مانا کہ دنیا بھر کی سیاست میں ایجنسیوں کا کسی نہ کسی صورت میں کوئی رول ہوتا ہے۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک کی اسٹیبلشمنٹس سیاست کی شطرنج پر مستقبل کی منصوبہ بندی کے مطابق اپنی چالیں بدلتی ہیں۔ ہماری بادشاہ گر مقتدرہ سیاست دانوں کے لیئے اقتدار کی کہانیاں لکھتی ہے تو اس میں تھوڑی "گڈ گورننس” بھی لکھ دیا کریں۔ کہتے ہیں کہ قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔ یونہی ہماری تقدیر لکھتے رہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر دھیرے دھیرے سہی کبھی تو حالات سنور جائیں گے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اول ہمارے ہاں رائج مغربی جمہوریت کے پتوار میں اعلی پائے کے متبادل سیاست دان نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو انہیں موجودہ جمہوری طریقے اور چناو’ سے کرسی تک پہنچانا مشکل ہے۔ لھذا ہماری اسٹیبلشمنٹ کیا کرتی ہے کہ وہ بار بار انہی مقبول گھوڑوں کو انتخابات کی ریس میں اتارتی ہے جو یا تو مخلص نہیں ہوتے اور یا پھر وہ اس قدر نااہل ہوتے ہیں کہ وہ الیکشن جیت کر اور اقتدار میں آ کر بھی ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

  • شبیر حسن شبیر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

    شبیر حسن شبیر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

    شبیر حسن شبیر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

    شبیر حسن شبیر ایک کہنہ مشق شاعر ہیں اور قریب پچاس سالوں سے 1973 سے شاعری کررہے ہیں اور ان کے کئی شاگرد ہیں آپ اورنگ آباد بہار انڈیا کے رہنے والے ہیں ان کے چار مجموعۂ کلام ( سرمایۂ حیات ،رگ جاں ، بازگشت اور یادوں کے چراغ)منظر عام پر آچکے ہیں اور اہلِ علم کے درمیان قبولیت کی سند حاصل کرچکے ہیں آپ کی ایک نظم "یومِ جمہوریہ”” انڈیا کے بہار سرکار کے چھٹے کلاس کے نصاب میں 1988 سے 2000 تک شامل ہوکر پڑھائی جاتی رہی ہے انہوں نے ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے مگر بنیادی طور پر یہ غزل کے شاعر ہیں انڈیا کے بنگال اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے ان کی کتاب پر ایوارڈ بھی مل چکا ہے،انڈیا اور بیرون ممالک کے مختلف رسائل میں ان کے کلام شائع ہوتے رہتے ہیں آپ کئی بزم میں انڈیا اور بین الاقوامی گروپ میں شامل ہیں، ٹی وی، ریڈیو ،اردو ڈائرکٹوریٹ اور آن لائن ذوم پر قومی اور بین الاقوامی مشاعرے میں شامل ہوتے رہتے ہیں گورنمنٹ آف انڈیا کے ادارہ سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ بھی مل چکا ہے، آپ گورنمنٹ آف انڈیا کے اوڈٹ ڈپارٹمنٹ سے اوڈٹ آفیسر کے عہدے سے نومبر 2009 میں سبکدوش ہوئے ہیں اور ادب کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

    اردو کے ممتاز شاعر شبیر حسن شبیر نے ایک ایسی بہترین غزل پیش کی ہے جس میں محبت، چاہت اور خود شناسی کے موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔ شبیر حسن شبیر اپنے اشعار میں شاعرانہ منظر کشی اور استعاراتی زبان کا استعمال کرتے ہوئے انسانی جذبات کے جوہر کو سمیٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    شبیر کی غزل کا مرکزی موضوع محبت کے گرد گھومتا ہوا نظرآتاہے، جس کا اظہار شاعر نے تڑپ، تعریف اور یاد کے ذریعے کیا ہے۔ اپنی محبوب شخصیت کو راحت جان سے تشبیہ دے کر شاعر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، شاعری کا یہ انداز شاعر کی آرزو کو واضح منظر کشی اور جذباتی شدت سے پیش کرتا ہے۔ غزل جدائی، تقدیر اور محبت کرنے والوں کے درمیان روحانی بندھن کے موضوعات کو بھی چھوتی ہے۔

    غزل کی ساخت بہترین ہونے کے ساتھ ساتھ تھیم بھی بہت ہی خوبصورت ہے۔شبیر حسن شبیر غزل کے کلاسیکی ڈھانچے پر قائم رہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ہر مصرعے کے آخر میں ایک مستقل شاعری کی اسکیم اور گریز کا استعمال کرتے ہیں۔ غزل آزاد لیکن باہم جڑے ہوئے اشعار پر مشتمل ہے، ہر ایک مصرع میں شاعر کے جذبات کا ایک پہلو نظر آتا ہے۔ بار بار آنے والا گریز، "راحت جاں کو تو میں راحت جاں کہتا ہوں/تیری تصویر کو دیکھوں تو نشاں کہتا ہوں ” ایک اینکر کے طور پر کام کرتا ہے، جو شاعر کے لگاؤ اور چاہت کو تقویت دیتا ہے۔

    غزل جذبات کو ابھارنے اور منظر کشی کے لیے مختلف ادبی آلات کا استعمال کرتی ہے۔ امیجری کو استعاراتی تاثرات کے ذریعے واضح طور پر پیش کیا گیا ہے جیسے ” قافلہ لوٹا جہاں دن کے اجالے میں مرا/ راہبر اس کو ہی تیرا میں جہاں کہتا ہوں "، سفر کے اختتام کی علامت اور کھوئے ہوئے لمحات کی یاد تازہ کرتا ہے۔ شخصیت کا استعمال، جیسا کہ ” رات بھر جاگ کے ٹہلایا مجھے گود لیے/دوستو ایسی محبت کو میں ماں کہتا ہوں” شاعر کے وابستگی کو جذباتی گہرائی فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، علامت "محبت کی دکان” جیسی خطوط میں واضح ہوتی ہے، جو ایک ایسی جگہ کی نشاندہی کرتی ہے جہاں محبت اور جذبات کا تبادلہ ہوتا ہے۔

    شبیر حسن شبیر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ
    شبیر حسن شبیر

    غزل کے ہر مصرعے میں شاعر ایک الگ جذبات یا خیال سمیٹتا ہوا نظر آتاہے۔ راحت جان کے لیے شاعر کی آرزو واضح ہے کیونکہ وہ اس کی موجودگی کے لیے ترستا ہے اور مشترکہ لمحات کی یاد تازہ کرتا ہے۔ جذبات کا جوڑ قابل ذکر ہے – شاعری محبت اور استعفیٰ دونوں کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ سطریں جیسے ” تم مرے پاس رہو کوئی ضروری تو نہیں / تم مقدر مرا بن جاؤ کہاں کہتا ہوں ” محبوب کے لیے ترستے ہوئے تقدیر کی قبولیت کا احساس دلاتے ہیں۔

    "ٹوٹے ہوئے تنکے” اور "مکان” جیسے سادہ لیکن پُرجوش استعاروں کا استعمال شاعر کے عاجزانہ ٹھکانہ اور وجود کی نزاکت کی تصویر کشی کرتا ہے۔ آخری شعر، "تیری فرقت میں گزارا ہے جہاں بھی شبیر/جان لے اس کو محبت کی دکاں کہتا ہوں” جسمانی جدائی سے قطع نظر شاعر کی زندگی پر محبت کے لازوال اثرات کو ظاہر کرتا ہے ۔

    راحت جاں کو تو میں راحت جاں کہتا ہوں

    تیری تصویر کو دیکھوں تو نشاں کہتا ہوں

    شاعر مطلع یعنی پہلے شعر میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ جان کی راحت کو میں جان کا سکون کہتا ہوں اور جب تیری تصویر کو دیکھوں تو میں اس کو راحت یا سکون کا نشان کہتا ہوں۔

    قافلہ لوٹا جہاں دن کے اجالے میں مرا

    راہبر اس کو ہی تیرا میں جہاں کہتا ہوں

    راہبر نے راہزن کا کام کیا ہے اس لیے کہ دن کے اجالے میں قافلہ لوٹا ہے اور یہی اس کی دنیا ہے۔

    رات بھر جاگ کے ٹہلایا مجھے گود لیے

    دوستو ایسی محبت کو میں ماں کہتا ہوں

    ایسی ہستی جو رات بھر جاگ کے گود میں لے کر بچے کو ٹہلاتی رہے ایسی ہستی یا محبت کو ماں ہی کہا جاسکتا ہے۔

    تم مرے پاس رہو کوئی ضروری تو نہیں

    تم مقدر مرا بن جاؤ کہاں کہتا ہوں

    محبوب سے کہتا ہے کہ کوئ ضروری نہیں تم مرے پاس رہو لیکن تم مرا مقدر بن جاؤ یہ میں کبھی نہیں کہتا،اس میں محبوب کی بےوفائی کا شکوہ ہے۔

    چند ٹوٹے ہوئے تنکے کا سہارا لے کر

    میں جہاں رہتا ہو‌ں ہاں اس کو مکاں کہتاہوں

    شاعر ٹوٹے پھوٹے تنکوں کو جوڑ کر اپنے رہنے کی جگہ بناتا ہے اور اس کو وہ اپنا مکان کہتا ہے وہ اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے میں تمہارے لۓ محل نہیں بنا سکتا اسی لیے پہلے شعر میں محبوب سے کہتا ہے کہ کوئی ضروری نہیں تم مرے پاس رہو اور میرا مقدر بن جاؤ۔

    تیری فرقت میں گزارا ہے جہاں بھی شبیر

    جان لے اس کو محبت کی دکاں کہتا ہوں

    مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ تیری فرقت میں جہاں بھی وقت گزارا ہے وہ میری محبت کی دکاں ہے تم سے مجھے محبت ہے اور تیری جدائی یا فرقت کا احساس ہے مگر تو اتنا بے وفا ہے کہ تجھے اس کا احساس تک نہیں۔

  • عامر بخاری کی کتاب یادیں

    عامر بخاری کی کتاب یادیں

    عامر بخاری کی کتاب یادیں


    تبصرہ نگار:۔ سید حبدار قاٸم

    فکری عفت انسان کو اوج خیال سے ہمکنار کرتی ہے کوٸی بھی انسان جمالیات سے خالی نہیں ہوتا اسے انسان کے سارے رنگ اچھے لگتے ہیں فکری عفت جب الہام سے مستنیر ہوتی ہے تو الفاظ کی صوتی ترنگ اشعار کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اگر یہ اشعار اوزان کی دولت سے مالا مال ہوں تو بہت جلد قاری کی فکر و نظر میں اترتے چلے جاتے ہیں شاعری کوٸ آسان کام نہیں یہ جوٸے شیر لانے کے مترادف ہے اس میں خونِ جگر سے چراغ جلانے پڑتے ہیں کلیجے کی تواناٸیاں صرف کرنا پڑتی ہیں تب جا کر شعر بنتا ہے عامر بخاری خوبصورت لب و لہجہ کا شاعر ہے اس کی شاعری میں سہل ممتنع اور وارفتگی ہے چھوٹی بحور میں کلام کہتا ہے اور اس کی شاعری میں فطرت کی ضیا پاشیاں بدرجہ اتم موجود ہیں وہ جو دیکھتا ہے وہی لکھتا ہے عامر بخاری احساسات کا شاعر ہے وہ معاشرے کی ساری نبضیں جانتا ہے وہ ہر شعر میں کوٸی نہ کوٸی پیغام دیتا ہے پولیس کے محکمے میں ایسے افراد جو علم و فن سے منسلک ہوں وہ محکمے کا حسن ہوتے ہیں پاکستانی پولیس میں ایسے کٸ نام ہیں جنہوں نے پیشہ ورانہ فراٸض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ قلم اور کاغذ کو اپنایا اور لکھتے چلے گٸے عامر بخاری بھی پولیس کا فخر ہے

    عامر بخاری کی کتاب یادیں


    فیس بک پر میری ملاقات عامر بخاری سے ہوٸی اور آج تک ہم آپس میں رابط رکھے ہوٸے ہیں عامر بخاری نے اپنی کتاب ” یادیں ” مجھے عنایت کی میں نے مکمل پڑھی اور کٸ اشعار پر رک گیا کیونکہ اس کے کٸ اشعار مجھے کھینچ رہے تھے اور دعوتِ فکر و عمل دے رہے تھے میں کتاب پڑھتا گیا اور عامر کی صلاحیتوں کا معترف ہوتا گیا جب میری نظر پاکستان کے ہی نہیں پوری دنیا کے معروف و مقبول شاعر و ادیب امجد اسلام امجد (مرحوم) کے تاثرات پر پڑی تو
    عامر بخاری کی پختہ شاعری پر سند مل گٸ اور میں نے سوچا کہ عامر بخاری کی داد و تحسین کے لیے اپنے چند الفاظ راۓ کی صورت میں پیش کر دوں کیونکہ بلاشبہ یہ کتاب اُردُو ادب کی ترویج میں ایک دل نشین اِضافہ ہے۔
    عامر بخاری کے نگار خانہ ٕ شعر میں ڈھلے فن پاروں کا عکس ہاٸے جمیل اس کے ان فرخندہ بخت اشعار میں ظاہر ہے جو آپ احباب کی نذر کرتا ہوں :۔

    ہر اک دن کربل کا اب تو
    ہر اک شب عاشوری سی ہے

    میری قسمت میں بھی منگل آیا ہے
    اب وہ مجھ سے ملنے جنگل آیا ہے

    دروازہ کھل جاتا ہے
    نام لکھوں جب تالے پر

    چاند زمیں کی چھت پر تھا
    اس کے کان میں بالی تھی

    کبھی دنیا کبھی کٹیا لُٹا کر
    فقیری بھی سخاوت چاہتی ہے

    ان کو آنا پڑا ہے اب عامر
    میری میت پڑی ہے کمرے میں

    رشتے تھے سب کاغذ کے
    بستی دیکھی بھالی تھی

    عامر بخاری کے ہر شعر میں اسلوبیاتی صباحت کی جھلک محسوس ہوتی ہے اشعار کا ریشمی تبسم زندگی کو رنگ دیتا ہوا گزر جاتا ہے مجھے یہ کہنے میں کوٸ عار نہیں ہے کہ جیسے شبنم اگر پھول پر پڑی ہو اور اس کو غور سے دیکھا جاۓ تو کبھی اس میں سرخ رنگ نظر آتا ہے اور کبھی نیلا اور کبھی ارغوانی رنگ کی شعاٸیں پیدا کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے حالانکہ یہ شبنم پانی کا ایک لطیف قطرہ ہوتی ہے جو صدف کے دل میں جاۓ تو گوہر بن جاتی ہے
    پھول پر پڑے تو پھول کی رعناٸی بڑھ جاتی ہے اور وہ نکھر جاتا ہے بالکل اسی طرح عامر بخاری کی شاعری کہیں عشق و محبت کے رنگ دکھاتی ہے اور کہیں معاشرے کی نا ہمواریاں دکھاتی ہے وہ انسانیت کے درد سے لیس ہے اسے غریبی کے دریا چلتے ہوٸے دکھاٸی دیتے ہیں تو وہ آسمان کی طرف منہ کر کے چیخ اٹھتا ہے اور رب سے فریاد کرتا ہے میں عامر بخاری کے عشق و مستی میں لپٹے ہوٸے چند شعر آپ کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں تاکہ آپ بھی عامر بخاری کے خیالات اور اوجِ فکر کے دھنک رنگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر لطف لے سکیں :۔

    دِل کی اینٹیں جوڑ رہا ہُوں
    جِیون اک مزدوری سی ہے
    مُجھ کو گھائل کر دیتی ہے
    اُسکی آنکھ جو بھُوری سی ہے

    اپنے ساتھ پرِندے بھی اُڑ جائیں گے
    ہِجرت کرنے والوں نے کب سوچا تھا

    میری جیب میں پیسہ ہوتا
    مَیں بھی تیرے جیسا ہوتا
    امراؤں کو بھُوک ستاتی
    اُن کے گھر بھی فاقہ ہوتا

    مَیں پھر تیشہ اُٹھا کر چل پڑا ہُوں
    کہانی پھر حِکایت چاہتی ہے
    زمانے کے رِواجوں سے نِکل کر
    مَحَبت اب بغاوت چاہتی ہے

    تُمہارے بعد کیا دُنیا، تُمہارے بعد کیا ہستی
    تُمہیں ہم نے پُکارا ہے تُمہاری چُپ کو جھِیلا ہے

    تمام عُمر اُداسی کے جال میں رہنا
    بہت کٹھن ہے کِسی کے خیال میں رہنا

    کِتنے کمرے بناؤں گا اِس پر
    ایک مرلہ مِلا ہے قِسمت سے

    آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت عامر بخاری کو مزید اوجِ فکر اور فکری عفت عطا فرماٸے۔آمین

  • حسین علیہ السلام دا سچا عاشق

    حسین علیہ السلام دا سچا عاشق

    حسین علیہ السلام دا سچا عاشق

    تحریر : سید طاہر شیرازی ، جھنگ

    انسان دے مڈھ ول جھات ماریئے تاں انسان دا خمیر چار شیواں دا بنیااے ۔ اوہ شیواں اگ پانی ، ہوا تے مٹی نیں۔ ہر شئے وچ ایہناں دی اپنی تاثیر تے اہمیت اے۔
    انسان جدوں مکمل ہویا تاں اوہدے دوگن رکھے گئے۔ ہک چنگیائی داتے دوجھا بریائی دا۔ اتے نال ای اس نوں اختیار دے کے آزاد کر چھوڑیا اتے عقل سلیم توں وی نوازیا۔ ہن ایہہ فیصلہ انسان تے آپیا کہ اوہ طاقت رکھدے ہوئے انہاں دوہناں گناں وچوں کہڑے گن دے سیدھے ٹر دا اے جہیڑا چنگے گن نوں اپنا سارا کجھ بنا لیندا اے تے مندے گن دی نندیا کردائے اسے نوں ای تاں درویش آہدھن ۔ ایہہ صفت مقبول ذکی مقبول وچ ویکھی جا سگدی اے ۔ جتنا اوہ چنگا انسان اے اتنا اوہ چنگا شاعر وی اے ۔

    حسین علیہ السلام دا سچا عاشق


    اس دا شعری مجموعہ”سجدہ”اس دا اوہ روحانی عمل اے جیہڑا کہ اوہدے روح وچ رچیا اے ۔ سجدہ سرائیکی لہجے وچ رچیا حمد و نعت ، مدحت و منقبت دا مجموعہ اے ۔ اس مجموعے وچ شاعر دی نواسئہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نال عقیدت تے کربلا دی مٹی نال جڑت ویکھن نوں ملدی اے۔ مقبول ذکی مقبول نے اپنے شعری مجموعہ دا مڈھ پنجابی ادب دی پرانی روایت نوں مکھ رکھدیاں ہوئیاں رب کعبہ دی حمد توں بدھا اے ۔ اس دی لکھی حمد وچوں ہک شعر ویکھو:

    سن دا ہر ہک گالھ ہے مولا
    شہہ رگ دے جو نال ہے مولا

    جتھے خدا دی وحدانیت بیان کیتی اے اوتھے اس دے سوہنے تے من موہنے مٹھے مدنی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم دا ذکر وی چھیٹریا اے ۔ اوہ لکھدا اے۔

    روز اول توں لا روز محشر تائیں
    یانبی (ص)یا نبی (ص) ذکر کر دا رہواں

    جتھوں تائیں فن دی گل اے اس دا کلام ہر صنف ادب وچ لکھیا ملدا اے ۔ ونگی لئ انہاں دا ایہہ شعر ویکھو

    تساں اندھارے تے چھا گئے ہو تے بن کے سورچ حسین (ع)مولا
    اے ڈینہہ حشر تائیں اجالا راہسی رسول (ص)نانا سلام ڈیندائے

    جے اس شعر دا گوہ نال نتارا کریئے تاں بحر دی روانی تے لفظاں دا چناو ایس گل دی ونڈ کر دا اے کہ شاعر دی شاعری وچ کس حدتک فنی تے فکری پکیائی موجود اے ۔
    شاعر دا نظمیہ انداز ملاحظہ کرو:

    نبی مصطفیٰ (ص) دی توں پگ دا ہیں وارث
    توں قرآن و جنت تے جگ دا ہیں وارث
    کیتا آنڑ کرب و بلا وچ قیام اے
    زمانہ بھجیندا درود و سلام اے

    اس شعر توں پتا لگدا اے مقبول ذکی مقبول ہوراں نظم دے سارے اصولاں نوں اپنے ہتھ وچ رکھیا اے ۔ انہاں دے اس شعری مجموعے وچ غیر منقوط کلام وی پڑھن نوں ملدا اے جس توں شاعر دی قادر کلامی نتر کے ساہمنے آندی اے ۔
    ایہہ شعر ویکھو ۔

    صحرا لہو لہو ہے اے دہر سوگوار اے
    طاہر لہو ہے مہکا مہکار کوں سلام اے

    اس شعر توں اک نتارا ایہہ وی ہویا اے کہ شاعر نے جتھے سرائیکی زبان ورتی اے ۔ اوہدے نال نال عربی ، فارسی ، تے اردو دے اکھر وی مہارت نال ورتے ہن ۔ پر سرائیکی زبان دی مٹھاس وی اپنی تھاں تے موجود اے ۔ حمد و نعت ، منقبت سلام لکھنا کوئی سوکھا کم نئیں ۔ ایہہ دودھاری تلوار تے ٹرنا ہوندا اے ۔ ادب احترام تے تاریخی تقاضے وی مکھ رکھنے ہوندن ۔ ایہہ کم اوہی کر سکدا اے جس تے میرا سوہنا نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تے اوہدا پریوار راضی ہو وے ۔ میری ایہہ دعا اے کہ اللّٰہ سوہنا ایہناں پاک ہستیاں دے صدقے مقبول ذکی مقبول دے ایس جذبے نوں ہور بھڑ کائے تے اوہ انجے وانگ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم تے آل رسول علیہ السلام دا ذکر کرکے لوکاں وچ حق دا چانن _وڈیندارہے

    سید طاہر شیرازی

    سید طاہر شیرازی

     جھنگ

  • صدام فدا کا نعتیہ مجموعہ جادہ ٕ نور

    صدام فدا کا نعتیہ مجموعہ جادہ ٕ نور

    صدام فدا کا نعتیہ مجموعہ جادہ ٕ نور

    تبصرہ نگار:۔ سید حبدار قائم

    غزلیہ آہنگ جب تقدس کے آسمان کو چھوتا ہے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کا آغاز ہوتا ہے آسمانِ شعور پر الہام اس ہستی کے نعلین پر بوسے دیتا ہے جو مبداء کائنات ہے ، جو مخزنِ صاحبِ آیات ہے ، جو صاحبِ معجزات ہے، جو باعث تخلیقِ کائنات ہے ، جو ارفع الدرجات ہے، جو اکمل الرکات ہے ، جو واصلِ ذات ہے، جو خلاصہء موجودات ہے ، جو فخرِ موجودات ہے، جو صاحب التاج و صاحبِ معراج ہے ، جو منشائے کائنات ہے، جو سیدِ کائنات ہے، جو مقصودِ کائنات ہے، جو مقصدِ حیات ہے، جو منبعِ فیوضات ہے، جو افضل الصلوٰت ہے تطہیرِ قلب اُس انسان کی فکری عفت بڑھاتی ہے جو گلستانِ مدحت کا گل چیں بنتا ہے انوارِ خدا اس پر برستے ہیں اس کی فکر عطر نما اور جسم غار حرا کی طرح انوار سمیٹتا چلا جاتا ہے جس طرح نعت گوئیی کی دنیا میں بہت سارے نام مشہور ہوئی اُن میں سے ایک معتبر نام صدام فدا کا بھی ہے جنہوں نے تھوڑی سے مدت میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیے حالانکہ نعت گوئی پلِ صراط پر چلنے کا نام ہے اور پل صراط پر سے وہی گزرے گا جس کے پاس حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سند ہوگی صدام فدا کی مدحت نگاری دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مولا علی علیہ السلام نے ان کا اس پلِ تیز دھار پر ہاتھ تھاما ہوا ہے اور یہ اس پل پر بھاگتے جا رہے ہیں

    بہت سارے نعتیہ مشاعرے جو میں نے صدام فدا کے ساتھ پڑھے ہیں ان میں یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی ہے کہ صدام فدا کی گرج دار آواز سٹیٹس پرستی نہیں کرتی  جس شاعر کا جو شعر دل پر لگے اسے اپنی داد سے نواز دیتے ہیں باقی بہت سارے شعرا مجھے سٹیٹس کے بت کے سامنے سجدہ ریز ملے ہیں۔

    جہاں تک صدام فدا کی شاعری کا تعلق ہے اس میں جگہ جگہ تازہ کاری سلاست بلاغت اور فصاحت نظر آتی ہے عروضی خدوخال دیکھیں تو کہیں بھی آپ کو کمی نظر نہیں آئے گی جادہ ٕ نور میں کئی جگہ پر صنعتِ تلمیح صنعتِ تضاد اور صنعت تکرار استعمال ہوئی ہے جو کہ ان کی شاعری کو چار چاند لگا رہی ہے کتاب میں کوٸی ایسا شعر نہیں ہے جو قاری کی فکری بساط سے بالا ہو سلاست اور سہل ممتنع جادہ ٕ نور کے گہنے ہیں جب قاری کتاب کو پڑھنا شروع کرتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے کہ وہ مدینے کی گلیوں میں گھوم رہا ہے اور مدینہ شہر کی کھجوریں آنکھوں سے لگا لگا کر کھا رہا ہے کبھی وہ غار حرا کےمقدس پتھروں کو چومتا ہے اور کبھی وہ مدینے کی خاک اٹھا کر سینے سے لگاتا ہے جادہ ٕ نور کا جب میری نظروں نے طواف کیا تو مجھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو محسوس ہوئی میں کتاب پڑھتا گیا پڑھتا گیا اور صدام فدا کے علم و فن کا معترف ہوتا گیا صدام فدا کی اساس عشقِ رسول ﷺ ہے عشقِ اہل بیت ہے اور عشقِ صحابہ ہے جو ان کے اشعار میں برتی گئی تلمیحات میں جگہ جگہ نظر آتا ہے

    صدام فدا کا نعتیہ مجموعہ جادہ ٕ نور

    کتاب کا فلیپ شمشیر حیدر اور محمد زاہد نے لکھا ہے کتاب پر پاکستان کی معتبر اور معروف شخصیت نسیم سحر نے اپنی محبتوں اور شفقت کا بہترین اظہار کیا ہے مجھے وہ بھی صدام فدا کے فکر و فن کے معترف نظر آئے کتاب کا انتساب نعت گو شاعر جناب عارف قادری مرحوم کے نام پر ہے کتاب پر تبصرہ راکب راجا کا ہے جو کہ واہ کینٹ سے تعلق رکھتے ہیں

    صدام فدا جو سرکار ﷺ کے متعلق سوچتے ہیں اس کا شعر میں اظہار کر دیتے ہیں ان کا انداز فقیرانہ ہے دل کے سخی ہیں محبت سراپا ہیں عشق و مستی میں ڈوبی ہوئی شاعری ان کا خاصہ ہے ان کی کتاب جادہ ٕ نور میں ان کی حضور اکرم ﷺ سے عشق و وارفتگی دیکھی جا سکتی ہے نٸی نٸی زمینوں میں ان کا کلام سجری رتوں کی مانند ہے جہاں خوشبوٸیں رقص کرتی ہیں جہاں الہام مچلتا ہے جہاں جبریل ہم نوا ہو کر اپنے پر بچھا دیتا ہے کیونکہ یہ ذکر اس کا ہے جو انجمنِ لیل و نہار ہے ، جو شافع یومِ قرار ہے، جو آفتابِ نو بہار ہے ، جو سرورِ عالم ہے، جو مونسِ آدم ہے ، جو قبلہء فخرِ دو عالم ہے، جو مرسلِ خاتم ہے، جو خیرِ مجسم ہے، جو صدرِ مکرم ہے، جو نورِ مقدم ہے، جو نیرِ اعظم ہے، جو مرکزِ عالم ہے، جو وارثِ زمزم ہے،  جو کعبہ ء اعظم ہے، جو جانِ مجسم ہے،  جو نورِ مجسم ہے اور اُن کا ذکر قرآن نے بھی بلند تر قرار دیا ہے

    جادہ ٕ نور میں صدام فدا کے نگار خانہ ٕ شعر میں ڈھلے فن پاروں کا عکس ہاۓ جمیل ان کے ان فرخندہ بخت اشعار میں ملاحظہ کیجیے

    حمد

    آنکھ نے پہلی عدالت تری دیکھی ہے جہاں

    مطمئن سارے خطاوار نظر آتے ہیں

    تجھ پہ ایمان مرا اور بھی بڑھ جاتا ہے

    جب مجھے احمدِ مختار ﷺ نظر آتے ہیں

    نعوت سے انتخاب

    لوگ جو نعت کے میدان میں آجاتے ہیں

    بالیقیں محفلِ حسانؓ میں آجاتے ہیں

    سوچتا ہوں کہ مدینے کی طرف جانا ہے

    اشک مژگان سے سامان میں آجاتے ہیں

    اس سے پہلے اتنی روشن تو نہ تھی

    جتنی روشن زندگی ہے آپ ﷺ سے

    ورنہ پہچان تھی معدوم جہاں میں اپنی

    اُن  ﷺکے دیکھے سے ہوے ہم بھی نمایاں کتنے

    ایسی دنیا کی جستجو میں ہوں

    ہر جگہ ہو جہاں فضائے نعت

    یہ جو خوشبو کا ہے سفر مجھ تک

    اوجِ رحمت بلا رہی ہے مجھے

    میں نے دیوار پہ اک بار محمدﷺ لکھا

    اب نظر اٹھتی ہوئی روز اُدھر جاتی ہے

    میرے الفاظ مری سوچ کی پروازوں میں

    مدحتِ سیدِ ابرار سے خوشبو آئی

    کتنے خوش بخت ہیں جو سینوں میں

    عشقِ خیرالانام رکھتے ہیں

    عہد باندھا ہے کہ جینے کی طرف چلتے ہیں

    آپ ﷺ کے شہر مدینے کی طرف چلتے ہیں

    آپ کی یاد میں اس کو بھی بسر کر دوں گا

    مجھ پہ گر بارِدگر ایسی جوانی آئی

    بس وہی سانس معتبر ٹھہری

    جس کا طیبہ میں اختتام ہوا

    اے مرکز انوار و عنایات مکمل

    ہے بعدِ خدا ایک تری ذات مکمل

    جب سے لوٹا ہوں مدینے کی زیارت کر کے

    موسمِ گل ہی نظر آیا جدھر دیکھا ہے

    راہِ طیبہ پہ جنوں رکنے کہاں دیتا ہے

    آبلے شوقِ سفر اور بڑھا دیتے ہیں

    میرے آقا ﷺ کا حکم سنتے ہی

    سنگ ریزوں نے بھی کلام کیا

    بس ایک دن ہی سجائی تھی نعت کی محفل

    فدا پہ ابرِ کرم سارا سال برسا ہے

    چاند بن کر وہ چمکتا ہے مری راتوں میں

    یادِ آقا ﷺ میں جو آنسو سرِ مژگاں ٹھہرا

    آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت صدام فدا کی توفیقاتِ مدحت نگاری میں مزید نکھار اور اضافہ فرماۓ۔ آمین

  • نذرِ مقبول ذکی مقبول

    نذرِ مقبول ذکی مقبول

    نذرِ مقبول ذکی مقبول

    شاعر : ریاض ندیم نیازی ( سبی بلوچستان)

    گلشنِ اردو ادب کا خوبصورت پھول ہے
    کام بھی مقبول جس کام نام بھی مقبول ہے

    شاعری اردو میں کرتے ہیں سرائیکی میں بھی
    کام ان کا ہر طرف پھیلا رہا ہے روشنی

    نظم بھی کہتے ہیں حمد و نعت بھی کہتے ہیں وہ
    مصطفیٰ (صہ) کے ذکر میں مصروف تر رہتے ہیں وہ

    نعتیہ مجموعہ ٫٫ سجدہ ،، نام سے چھاپا گیا
    نعتیہ منظر پہ جو آتے ہی ہر جا چھا گیا

    ٫٫ منتہائے فکر ،، ہے اِن کی سلاموں کی کتاب
    ہیں مناقب بھی اِس میں باکمال و لاجواب

    ہیں ٫٫ سنہرے لوگ ،، میں ان کے لئے انٹرویوز
    کتنی عمدہ چیز ہیں وہ آپ سے کیسے کہوں

    اور ایک انٹرویو کی آئی ہے ان کی کتاب
    نام ٫٫ روشن چہرے ،، ہے انٹرویو ہیں لاجواب

    اِک کتابِ دِل نشِیں عاصم بخاری پر لکھی
    ٫٫ اعترافِ فن ،، کے جیسے نام میں ہے تازگی

    ہو گیا ہوں ان کا شیدا بن گیا ان کا ندیم
    اور دے اللّٰہ علم و دانش و عقل سلیم

    نذرِ مقبول ذکی مقبول
    مقبول ذکی مقبول