Tag: شاعری

  • بھکر کا ادبی جائزہ 2025ء

    بھکر کا ادبی جائزہ 2025ء

    حسب ِ روایت امسال بھی ضلع بھکر کے سالانہ ادبی جائزہ 2025 ء کے ہمراہ نیاز و عقیدت کے ساتھ آپ کا اپنا مقبول ذکی مقبول  ( بھکر )
    ٫٫ پیشِ خدمت جائزہ ہے سال کا ،،
    سالِ رواں کی اگر بات کی جائے تو
    استاد الشعرا سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی محلہ سردار بخش بھکر شہر میں رہائش پذیر ہیں ۔ آپ سرائیکی شاعر ہیں ۔ ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ کی رہائش گاہ ( ڈیرہ کاکا خیل ) بھکر میں آپ کی ادبی تنظیم بزمِ نذیر کے زیرِ اہتمام گزشتہ سال کی طرح سالِ رواں میں بھی آپ کے ہاں متعدد مشاعرے ، شامیں ، ادبی نشستیں ، کروا چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ نوجوان شعرا کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ہیں ۔ 12 اکتوبر 2025ء کو آپ کے دو بیٹوں کی شادی تھی اس موقع پر بھی آپ کے ڈیرہ پر کلام سننے اور سنانے کا سلسلہ جاری رہا ۔ راقم الحروف بھی موجود تھے ۔
    بھکر شہر اور تھل یونی ورسٹی میں سالِ رواں میں ہونے والی ادبی تقریبات اور ادبی سرگرمیوں کی اگر بات کی جائے تو امسال کافی مشاعرے ہوئے ۔ کافی طلبہ و طالبات کے تحقیقی مقالہ جات مختلف رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوئے ۔ علاوہ ازیں پروفیسر ڈاکٹر سرور عظیم قریشی کے مختلف آرٹیکلز بھی ریسرچ جنرل کی زینت بنے ۔ مجموعی طور پر ٫٫ تھل یونی ورسٹی ،، کی ادبی خدمات قابلِ ستائش اور حوصلہ افزا رہیں ۔

    بھکر کا ادبی جائزہ 2025ء


    ادبی بیٹھک
    بھکر میں نظر مارکیٹ ریلوے روڈ مدثر موبائل شاپ جو کہ جاوید دانش کے کاروبار کا ذریعہ ہے وہاں ایک ادبی بیٹھک کا درجہ بھی رکھتی ہے بھکر کے معروف شاعر جاوید دانش کے ہاں گزشتہ سال کی طرح 2025ء میں بھی آیا روز شعرا و ادباء آتے جاتے رہے ہیں ۔ وہاں علم و ادب کا ایک سما بندھا رہتا ہے ۔ راقم الحروف اور محمّد اقبال بالم کو 9 جون 2025ء میں وہاں جانے کا اتفاق ہوا کلام سننے اور سنانے کا موقع میسر آیا ۔
    گورنمنٹ گریجویٹ کالج کلورکوٹ 26 فروری 2025 ء میں ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہوا جس کے سرپرست ڈاکٹر ملک محمّد اقبال اولکھ تھے ۔ ان کے شاندار مشاعرے میں بھکر شہر اور دُور دراز کے شعرا نے بھرپور شرکت کی اور شعراء کرام کو سامعین نے بھرپور داد سے نوازا ۔
    جوئیہ سرائیکی ادبی سنگت کے زیرِ اہتمام 24 ستمبر 2025ء کو اکڑا کانجن ، کلورکوٹ میں ایک سرائیکی مشاعرہ منعقد ہوا ۔ بانیان میں میں ملک محمّد اشرف جوئیہ اور ملک غلام شبیر کانجن ہیں ۔
    20 فروری 2025ء کو
    لیّہ کے معروف شاعر و ادیب استاد الشعراء سئیں امان اللّٰہ کاظم کے ساتھ ایک شام وائٹ ہاؤس بھکر ( ڈاکٹر عتیق الرحمٰن قریشی کی رہائش گاہ ) خان سر روڈ پر منائی گئی اس شام میں محفل مشاعرہ منعقد ہوا سامعین میں محکمہ ہیلتھ کے ڈاکٹر صاحبان تھے بھرپور شرکت کی اور جن شعراء نے شرکت کی اُن میں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، تنویر حسین فائز بخاری ، شاہد بخاری ، مضطر کاظمی اور مقبول ذکی مقبول شامل تھے ۔
    تقدیسی ادب
    حلقہ فروغِ ادب کے زیرِ اہتمام 22 جون 2025ء کو ارشد حسین بھٹی کی رہائش گاہ بھکر شہر میں ایک محفل مسالمہ منعقد ہوا جہاں شعرا کرام نے امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کو سلام پیش کیا وہاں نبی پاک حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شانِ اطہر میں نعتیہ کلام بھی پیش کیا گیا ۔
    22 جون 2025 ء سالانہ محفل مسالمہ بر مکان پروفیسر قلب عباس عابس ، گلشنِ مدینہ بھکر ، شعراء کرام میں
    حشمت رضا بہلول ، کاظم حسین کاظم ، علمدار حسین علمی ، علی عابد ، فیاض حسین بھڈا ، ناصر خیالی ، راحل بخاری اور شاہد مبشر نے شرکت کی ۔
    عابد علیم سہو تحصیل بھکر کے چک نمبر 46 اڈا جہان خان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بزمِ رفیق کے بانی و صدر ہیں ۔ بزم رفیق نے 2025 ء کا پہلا پروگرام 12 جنوری 2025ء کو کتاب ٫٫ گونگے لوگ ،، کی تقریب پذیرائی اور مشاعرہ ہاشمی کلینک منڈی ٹاؤن بھکر میں منعقد ہوا دوسرا پروگرام سالانہ کتاب ایوارڈ تقریب 17 مئی 2025 ء کو سحر سٹوڈیو بھکر میں ہوا ۔
    14 اگست 2025ء کو ایک مشاعرہ بمقام سحر اسٹوڈیو بھکر میں منعقد ہوا ۔ عابد علیم سہو کے ساتھ ایک شام نذیر ٹاؤن بھکر میں منائی گئی زیرِ اہتمام اصلاح معاشرہ بھکر
    8 نومبر 2025 ہفتہ اور اتوار کے درمیانی شب ادبی تنظیم بہار ادب برکت۔۔۔۔۔ کے اراکین اعجاز رازم اور باسط رمضان باسط کے زیر اہتمام محفل مشاعرہ برموقع شادی خانہ آبادی حسنین سوہا ڈیرہ مولانا محمد رمضان سوہا پر منعقد کیا گیا جس میں پروفیسر قلب عباس عابس منور سعید۔ ضیاء اللہ ضیاء۔ صابر غمگین۔ اشفاق قیس بلال حیدر اور دیگر شعرا نے حصّہ لیا –
    بھکر ڈیجیٹل نیٹ ورک کی تیسری سالگرہ پر نیشنل پیس کونسل کے اشتراک سے 31 مئی 2025ء کو امن مشاعرہ اور تقسیم ایوارڈز 2025 ء بمقام آنگن مار کی بھکر روڈ دریا خان میں منعقد ہوا ۔
    تھل ادبی سرائیکی سنگت کا 20 واں سالانہ سرائیکی محفل مشاعرہ 11 اکتوبر 2025ء۔ کو جنجوں شریف میں منعقد ہوا ۔
    تیسرا سالانہ محفل مشاعرہ بیاد نجیب اللّٰہ خان نیازی اور شاہ نواز ارشد جس کے بانی عبدالغفار نئیر اور احسن حیات مغل تھے ۔
    ملک ذولفقار راقم ادبی تنظیم ٫٫ بزمِ پارت ،، کے بانی و صدر ہیں ۔ یہ تحصیل کلورکوٹ کے گاؤں غلاماں میں ہے اس بزم پارت کے زیرِ اہتمام سالِ نو کی پہلی ادبی نشست یکم جنوری 2025ء کو بر مکان ملک تنویر کانیہ آف مُوندی والا کلورکوٹ میں منعقد ہوئی ۔ یکم فروری 2025 ء کو ادبی نشست ملک ذوالفقار راقم کی رہائش گاہ غلاماں میں ہوئی ۔ پروفیسر ثناء اللّٰہ خان کے ساتھ 21 فروری 2025ء کو ایک شام کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں بھرپور شعرا نے شرکت کی ۔ 2 شوال یکم اپریل 2025ء عید ملن مشاعرہ اور عبدالمجید آصف لودھرا کی سرائیکی کُتب ٫٫ بلانگ ،، اور ٫٫ کھیچل ،، کی تقریب رونمائی ہوئی ۔ تیسرا سالانہ مشاعرہ 18 اکتوبر 2025 ء کو غلاماں شہر میں منعقد ہوا جس میں شعرا کرام اور سامعین نے بھرپور شرکت کی ۔ عید الاضحیٰ کے تیسرے دن 9 جون 2025ء بیٹھک عید ملن مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا گیا ۔
    ادبی تنظیم بزمِ یاراں ، غلاماں ، کلورکوٹ اِس بزم کے روحِ رواں فاروق تھلہ فاروق ہیں ۔ جنوری 2025 ء اور فروری 2025 ء کو دو ادبی نشستیں ہوئی ہیں ۔ اِس کے علاوہ کوئی اور ادبی کام سامنے نہ آ سکا ۔
    ادبی تنظیم بزمِ ٫٫ اوجِ ادب ،، یہ منکیرہ شہر میں ہے ۔ اس کے بانی و چیرمین مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ اس بزم کے زیرِ اہتمام 12 فروری 2025ء کو ایک سرائیکی نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا جس میں شعراء پروفیسر کمال الدین خاکی ( خوشاب) محمد سلیم سعد ( خوشاب ) شہباز حسین ہادی اور دیگر نے شرکت کی ۔ 22 اگست 2025ء اور 16 جون 2025ء کو مرحومین شعرا کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا مرحومین شعرا میں علی شاہ ، منکیرہ شاہنواز ارشد ، دُلے والا جمشید اقبال جمشید ، بھکر اس کے علاوہ 2025ء میں بزمِ اوجِ ادب کے زیرِ اہتمام تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔
    مشاعرے
    ادب تقریبات
    تقسیم ایوارڈ تقریبات
    تنقیدی نشستیں
    مسالمے
    نعتیہ مشاعرے
    ناول
    افسانے
    ادبی انٹرویوز
    امسال کوئی ناول منظر عام پر نہ آسکا ۔ چند افسانے لکھے
    پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال نثر سے زیادہ شاعری ہوئی ۔۔۔ کوئی ڈراما نہیں لکھا گیا انشائیہ اور خاکہ پر بھی طبع آزمائی نظر نہ آئی۔۔۔۔
    حماد علی حادی ، منکیرہ شہر سے
    ایک نیا قلم کار منظرِ عام پر آیا ہے ۔

    مجموعی طور پر اس سال بھکر میں شاعری کا پڑا بھاری رہا جب کہ گذشہ سال نثر زیادہ لکھی گئی ۔
    بھکر کے مقامی اخبارات میں روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر روزنامہ ٫٫ سچائی ،، بھکر اِن اخبارات نے گزشتہ سال کی طرح سال 2025ء میں بھی شعرا ادباء کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ان کی ادبی تحریروں کو شائع کیا اور ادبی خبریں بھی شائع کرتے رہے ہیں ۔
    بھکر 2025ء میں جن قلم کاروں کی تحریریں رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ ان میں
    پروفیسر ڈاکٹر محمّد اشرف کمال کی ادبی سرگرمیاں گزشتہ سال کی طرح 2025ء میں بھی اپنے عروج پر رہی ہیں ۔
    پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر آج کل علیل ہیں ان کی صحت یابی کے لیے دُعاوں کی درخواست ہے ۔
    پروفیسر ڈاکٹر ضیاء المصطفیٰ ، حسن خان
    غزالہ کشور ملک ، زوار آباد
    ملک نعمان حیدر حامی ، چاہ اسراں والا
    مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ

    بھکر میں 2025ء کو منصہءِ شہود پر آنے والی ادبی کُتب کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے ۔
    ٫٫ شجرہ نسب ،، ( کلیات ) نیا ایڈیشن جنوری 2025ء کو منصہءِ شہود پر آیا ہے ۔ اس کے مصنّف : نجف علی شاہ بخاری ، محلہ سادات نذد سردار بخش روڈ بھکر شہر ۔

     شجرہ نسب

    ٫٫ شیتل ،، ( افسانوی مجموعہ )
    ٫٫ دِل من مسافر من ،، ( تحقیق و تنقید )
    اِن کے مصنّف تحصیل بھکر کے گاؤں حسن خان سے پروفیسر ڈاکٹر محمّد ضیاء المصطفیٰ ، گورنمنٹ گریجویٹ کالج ، بھکر میں لیکچرار ہیں ۔

     دِل من مسافر من


    ٫٫ بلانگ ،، (سرائیکی مجموعہ کلام )
    ٫٫ کھیچل ،، ( سرائیکی مجموعہ کلام )
    ٫٫ بُکَل ،، ( سرائیکی مجموعہ کلام )
    ٫٫ آبلہء جاں ،، ( اُردو مجموعہ کلام )
    مصنّف : عبدالمجید آصف لودھرا ، غلاماں سے ان کا تعلق ہے پیشہ کے اعتبار سے ٹیچر ہیں ۔
    ٫٫ اُس پار ،، ( غزلیات )
    مصنّف : عابد علیم سہو اِن کا تعلق چک نمبر 46 اڈا جہان خان سے ہے ۔
    ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، ( کیفِ منظوم )
    ٫٫ سید حُب دار قائم : جگمگاتا ستارہ ( شخصیات اور فن )
    ٫٫ حُسنِ بیان ،، ( مضامین اور تبصرے )
    اِن کے
    مصنّف : مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ جن کا تعلق بستی شمالی منکیرہ شہر سے ہے ۔
    ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں )
    اِس کتاب کی مؤلفہ : ریحانہ بتول ہیں ۔ ان کا تعلق بستی شمالی وارڈ نمبر 8 محلہ چھینہ والا منکیرہ شہر سے ہے ۔
    برین کالج بھکر میں سال 2025ء کی آخری تقریب 21 دسمبر کو ہوئی جس کے مہمانان خاص شاعر پروفیسر قلبِ عباس عابس اور سید مضطر کاظمی تھے ۔

    مقبول ذکی مقبول ( بھکر )
  • دن تے گن، میں مر جانا ای

    دن تے گن، میں مر جانا ای

    آخر کو تجمل کلیم مر گئے

    آہ
    23 مئی 2025ء کی صبح بردارم شہزاد ڈوگر کے وٹس ایپ اسٹیٹس سے پتا چلا پنجابی زبان کے مقبول شاعر جناب تجمل کلیم سفرِ آخرت پر روانہ ہو گئے۔ مرحوم سے فیس بک کی حد تک دوستی رہی۔ ان کا کلام سادہ اور عام انداز میں بہت جان دار تھا۔ معمولی باتوں کو سلیقے سے برتنے کا ہنر جانے کہاں سے سیکھا تھا۔ تجمل کلیم کی شاعری نوحہ ہے اس معاشرے کا۔ چھوٹی بحر میں عام بول چال کی زبان کو شعری روپ میں ڈھالنا ان کا خاصہ رہا۔ وہ کسی موذی مرض کا شکار تھے اور جناح اسپتال لاہور میں زیرِ علاج تھے۔ مرحوم تجمل کلیم کی زندگی دکھوں سے عبارت تھی۔ ایک انٹرویو میں بتا رہے تھے کہ واپڈا نے ان کے گھر سے بجلی کا میٹر کاٹ لیا۔ انھوں نے مشکل حالات میں رقم جمع کروائی اور بیماری کی وجہ سے جناح اسپتال داخل ہوئے۔ان کی زندگی کا انت بھی ویسے ہی ہوا جیسے ہمارے ہاں تخلیق کاروں کا ہوتا ہے کسمپرسی کی حالت میں سرکاری اسپتال کے بستر بھی آخری سانس لی۔کہتے ہیں جب واپس آیا تو چار دن بعد دوبارہ میٹر کاٹ لیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہر چونیاں میں بعد از نمازِ جمعہ ادا کی جائے گی۔
    مرحوم تجمل کلیم کے لیے استاد محترم ڈاکٹر عابد سیال صاحب کے الفاظ دیکھیں:

    "یہ نام ہی جمال اور قادرالکلامی کی آمیزش سے بنا ہے، یہی دو خصوصیات اس البیلے اور گہرے شاعر کے شعر کا بڑا وصف ہیں۔

    تخلیقی ادب کے معاصر پارکھ کو اصول نقد وضع کرتے ہوئے ایسے شاعروں کا کہا دھیان میں رکھنا چاہیے۔ یہ وہ اسلوب ہے جس کا علاقہ محض ایک زبان تک محدود نہیں، بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر ’’شاعری کی زبان‘‘ کا اعجاز دکھاتا ہے۔
    ذاتی ملاقات نہیں تھی پر ہمیشہ شوق اور توجہ سے ان کو دیکھا، سنا، اور پڑھا، اس نگاہ سے جس سے ایک طالب علم ہنر کے ایک ادارے کو دیکھتا ہے۔
    ان کے جانے کا دکھ ہے لیکن بڑی زندگی جینے کے لیے لمبی عمر جینا لازمی نہیں، یقین آتا ہے۔
    اپنے تمام تر اعزاز کے ساتھ ایک بڑا شاعر فانی دنیا سے ہمیشگی کی دنیا کی طرف جاتا ہے۔ سلام !”

    دن تے گن، میں مر جانا ای

    تجمل کلیم شاعروں کے اس قبیلے سے تھے جو دل سے لکھتے تھے اور ان کا کلام سیدھا دل پر اثر کرتا تھا۔ انھوں نے پنجابی ادب کو اپنی خوب صورت شاعری سے ثروت مند بنا دیا۔سہل ممتنع کی حامل ان کی یہ غزل جس میں کرب واضح طور پر ملتا ہے۔

    دن تے گِن ،میں مر جانا ای
    تیرے بِن، میں مر جانا ای

    میں گُڈی دے کاغذ ورگا
    توں کِن مِن ،میں مر جانا ای

    جیہڑے دن توں کَنڈ کرنی اے
    اوسے دن ،میں مر جانا ای

    میرے قد نوں تول ریہا ایں
    تول نہ، مِن میں مر جانا ای

    جان دی بولی لا دتی اُو
    اک دو تِن ، میں مر جانا ای

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ان کی کامل کامل مغفرت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے ۔ آمین

    احقر: فرہاد احمد فگار

  • لفظ اور محبت کا روشن مینار: شہباز گردیزی

    لفظ اور محبت کا روشن مینار: شہباز گردیزی

    آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے میں سید شہباز گردیزی ایک درخشاں نام مضبوط و معتبر حوالے اور ایک دل آویز شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ صرف شاعر نہیں اسلوب، روایت اور ایک تہذیب کا نام ہیں۔ اپنی شائستگی، انکساری، اخلاص اور وقار کے باعث وہ ہر محفل، ہر حلقے اور ہر دل میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ ان کے یومِ ولادت پر اٹھنے والی محبت کی لہر اور بے شمار خلوص بھری دعائیں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دلوں کی دنیا میں کتنے مضبوطی سے رچے بسے ہوئے ہیں۔
    2014ء میں نیلم کے ایک مشاعرے میں ہونے والی پہلی ملاقات نے ایک ایسا قلبی رشتہ تشکیل دیا جس نے وقت کے ساتھ کم زور ہونے کی بہ جائے اور زیادہ استحکام اختیار کیا۔ شہباز گردیزی بھائی سے ملاقات ایک شخصیت سے ملنے کا نام نہیں بلکہ ایک دل آویز انسان، مہربان دوست، معتبر شاعر اور ایک روشن دماغ سے روبہ رو ہونے کا نام ہے۔ ان میں علم و ادب کا وقار بھی ہے اور انسان دوستی کی لطافت بھی۔

    لفظ اور محبت کا روشن مینار: شہباز گردیزی


    باغ کی ادبی فضا اُن کے دم سے زندہ ہے۔ طلوحِ ادب باغ میں ان کا کردار روحِ رواں کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی مشاعرے یا کسی ادبی فورم پر باغ کی نمائندگی جس مضبوطی اور سنجیدگی کے ساتھ دکھائی دیتی ہے وہ دراصل شہباز گردیزی بھائی ہی کی مرہونِ منت ہے۔ اہلِ قلم کی ایک پوری نسل ان سے رہنمائی لیتی ہے۔ وہ بڑے شاعر ہونے کے ساتھ بڑے دل والے انسان بھی ہیں۔
    شہباز بھائی کی شاعری احساس، سچائی، درد، مزاحمت، امید اور تجربے کا وہ حسین امتزاج پیش کرتی ہے جو قاری کے دل تک اتر کر اسے دیر تک متاثر رکھتا ہے۔ ان کے اشعار انسانی تجربے کا عطر ہیں سچے اور دل میں اتر جانے والے:

    اس ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری
    میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا

    ٹھیک ہے میں اس کوشش میں ناکام رہا
    لیکن میں نے خوش رہنے کی کوشش کی

    جب بھی میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی
    سب نے مجھ کو چپ رکھنے کی کوشش کی

    ہمارے پیٹ پچکے رہ گئے ہیں
    ہماری بھوک پلتی جا رہی ہے

    اور شہدائے کربلا کی شان میں کہا گیا یہ شعر ان کی فکری عظمت کا روشن ثبوت ہےجو لمحے کے فیصلے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی عظمت کو خوب صورت انداز میں بیان کرتا ہے:

    جنگ کا فیصلہ ہو جاتا ہے اس اک پل میں
    حر کوئی جب کسی لشکر سے نکل آتا ہے

    ان کے فن کا ایک اور جان دار حوالہ نظم نگاری ہے ۔ ان کی نظم "سامبا کا رن” ملاحظہ کریں جو تاریخ، قربانی، جدوجہد اور امید کا بامعنی اور دل کش استعارہ ہے:

    کبھی اسیر ، کبھی دربہ در ، کبھی خوں بار
    ہمارے خون سے سامبا کا رن ہے مہکا ہوا
    ہزار رام نگر ، رائے پور ہم پہ ڈھے
    مگر یہ کارِ جنوں کم نہیں ہوا اپنا
    ہزار بار یہ باغ ارم ہوا صحرا
    ہزار بار یہ صحنِ چمن اجاڑا گیا
    سو اس زمین پہ گزرے ہیں سانحات کئی
    کئی بسیں تھیں ستوری سے آگے جا نہ سکیں
    عجب ٹرین ہے ، وکرم کے چوک پر ہے کھڑی
    اسی ٹرین سے پھوٹے گی لو آزادی کی
    شہر سے نکلے ہوئے پھر سے لوٹ آئیں گے
    عجب نہیں ہے کہ ہم پھر سے گھر بسائیں گے

    یہ نظم ان کی فکری رفعت شعری گہرائی اور امید کے ابدی سفر کی واضح دلیل ہے۔
    اسی طرح نظم "ہے دعا بس یہی” مزاحمت، آگہی اور عزم کا ایسا بلند آہنگ اظہار ہے جو روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے:

    ہر کوئی ظالموں کا طرف دار ہے
    بعیتِ جبر پر شاہ کو اصرار ہے
    لاکھ گزریں گے اب ہم پہ دشتِ الم
    گردنیں ہوں گی تشنہ لبی میں قلم
    ہم سے قائم رہے آگہی کا بھرم
    اس مصیبت میں نہ لڑکھڑائیں قدم
    بک چکے قریۂ جان کے بام و در
    ہے دعا بس یہی
    جسم کی شاخ پر سر سلامت رہیں
    اپنے انکار پر
    گھر سلامت رہیں

    یہ نظم انکار کی قوت، آزادی کی آرزو اور شعور کے تحفّظ کا ایسا مرقع ہے جو کم ہی شاعروں کے ہاں ملتا ہے۔
    شہباز بھائی کی نظم ہو یا کہ غزل ان میں انسان، معاشرے اور داخلی الجھنوں کی بھرپور تصویر نظر آتی ہے۔اس بات کی دلیل کے طور پر بہ ذیل غزل دیکھیں :

    اور اب کیا کوئی تماشا ہو
    جو یہاں واقعی تماشا ہو

    کیا عجب دائروں کی بستی میں
    جو ہوا پھر وہی تماشا ہو

    کیا خبر موت ہو تماشائی
    کیا پتہ موت ہی تماشا ہو

    میں یہاں کس طرح سے رہتا ہوں
    جس جگہ آدمی تماشا ہو

    پھر تماشا ہوا تماشائی
    اب تو اس پر کوئی تماشا ہو

    بھر گیا دل مرا تماشوں سے
    اب تو بس آخری تماشا ہو

    ایسے عالم میں کیا کہوں شہباز
    جب کہی، ان کہی تماشا ہو

    یہ غزل انسانی تجربے کی گہرائی، عہد کی بے حسی اور سچائی کے المیے کا ایک بھرپور تخلیقی اظہار ہے۔
    شہباز گردیزی بھائی کے یومِ ولادت پر دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت، عزت، آسودگی، آسانیاں اور دونوں جہانوں کی روشنیاں عطا فرمائے۔ ان کے لفظ اسی طرح نسلوں کے دلوں کو روشن کرتے رہیں، ان کی شخصیت اسی طرح محبتیں بکھیرتی رہے، اور ان کا فن آنے والے زمانوں تک رہنمائی کا چراغ بنا رہے۔
    شہباز بھائی کو جنم دن کی بے شمار، بے حساب اور دل کی گہرائیوں سے نکلی مبارک باد۔
    اللہ پاک آپ کو ہمیشہ سلامت، شاد اور سربلند رکھے۔

  • سیّد علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

    سیّد علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

    (6 دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    سید علی عباس جلالپوری برصغیر کے ان چیدہ چیدہ دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے فکری سفر کو روایتی حدود سے آزاد رکھا۔ ان کا تعلق ایسے سید گھرانے سے تھا جہاں عربی، فارسی اور کلاسیکی حکمت کی فضا موجود تھی۔ ڈنگہ اور جلالپور شریف کی تہذیبی فضا میں پلنے والے جلالپوری نے گھر کی کتابوں، ادبی رسائل اور داستانوی ادب کے زیر اثر ابتدائی ذہنی تربیت پائی۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کے لیے یہ دور سوال اٹھانے اور نئی دنیا کو سمجھنے کا زمانہ تھا، اور عباس جلالپوری نے اسی دور کے بدلتے ہوئے فکری دباؤ میں اپنی سمت بنائی۔عباس جلالپوری اپنے گھر کے ماحول کے بارے میں کہتے تھے:

    ” خوش قسمتی سے میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جہاں علم و حکمت کا چرچا تھا۔ ہمارے ہاں کم وبیش تمام ادبی رسائل آتے تھے۔ میں ساتویں جماعت میں تھا کہ بچوں کے رسالے ” پھول“ کے ساتھ ساتھ “ ہمایون”، “زمانہ” وغیرہ میں چھپے ہوئے افسانے بھی پڑھنے لگا تھا۔ ان کے علاوہ خواجہ حسن نظامی، راشد الخیری اور نذیر احمد دہلوی کی کتابیں بھی میری نظر سے گزرنے لگی تھیں۔ اس زمانے میں ایک دن اپنے کتب خانے کو کھنگالتے ہوئے دو نایاب کتب مرے ہاتھ لگیں جن کے مطالعے نے مجھے دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا۔ ان میں، ایک ” داستان امیر حمزہ“ اور دوسری ” الف لیلیٰ، “ تھی“۔

    گورنمنٹ کالج لاہور کی علمی فضا نے ان کی ذہنی تربیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ احمد شاہ پطرس بخاری جیسے اساتذہ نے نہ صرف فکری رہنمائی دی بلکہ جلالپوری کے اندازِ نظر کو بھی تشکیل دیا۔ فلسفہ، تاریخ، مذہبیات، شاعری، موسیقی ان سب سے ان کی دلچسپی نے انہیں ایک ہمہ جہت دانشور بنایا۔ ول ڈیورانٹ سے خط و کتابت اور علمی گفتگو اس بات کی گواہ ہے کہ وہ فلسفے کو محض کتابی اصطلاحات کے بجائے ایک زندہ تجربہ سمجھتے تھے۔

    ملازمت کے دوران وہ گاؤں، قصبوں اور شہروں کی عملی زندگی سے گزرے۔ یہ تجربہ ان کے شعور کو زیادہ زمینی اور حقیقت شناس بناتا ہے۔ گوجرانوالہ، ملتان، لاہور، سیٹلائٹ ٹاؤن ان سب مراحل نے ان کی تحریروں میں وہ حقیقت پسندانہ انداز پیدا کیا جس نے انہیں تحریک خرد افروزی کا نمایاں نام بنایا۔ عباس جلالپوری کہتے ہیں:

    ”مسٹر ھیچ میرے ٹٹوریل گروپ کے انچارج تھے۔ انہوں نے مجھے دنیا کی سو بہترین کتابوں کی فہرست دی جس میں ہر موضوع پر کتابیں شامل تھیں، مجھے عام اور کلاس کی کتاب کا فرق یہاں سے معلوم ہوا“۔

    سیّد علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

    عباس جلالپوری نے اردو میں جس موضوعاتی تنوع کے ساتھ کام کیا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ فلسفہ ہو، تصوف ہو، سماجیات ہو یا مذہبی فکر ہر میدان میں انہوں نے واضح اور غیر مبہم موقف پیش کیا۔ ”روح عصر“، ”روایات فلسفہ“، ”عام فکری مغالطے“، ”مقامات وارث شاہ“، ”اقبال کا علم الکلام“، ”رسوم اقوام“ اور ”خردنامہ“ جیسی کتابیں ان کی تحقیقی محنت اور فکری استقامت کی دلیل ہیں۔ جلالپوری کہا کرتے تھے:

    ” اگر میں فلسفی نہ ہوتا تو موسیقار ہوتا“۔

    انہوں نے رائج تصورات کے ابطال یا تصحیح میں کوئی تامل نہیں کیا۔ اقبال کے فلسفی ہونے پر اعتراض ہو یا تصوف کی تعبیر نو، عباس جلالپوری نے ہمیشہ دلیل اور استدلال کو بنیاد بنایا۔ ان کا تعلق ایسی نسل سے تھا جو فکری آزادی کو ذاتی وقار سمجھتی تھی، اور اپنی تحریر میں اس آزادی کا اظہار بھی کرتی تھی۔ عباس جلالپوری اپنے بارے میں کہتے ہیں:

    ”دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جس کے لیے میں جان بھی دے سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے کوئی دبا نہیں سکتا۔ نہ نظریئے سے، نہ باتوں میں، نہ کسی قسم کے رعب سے، جب سے ہوش سنبھالا ہے میں باغی ہوں“۔

    اگرچہ جلالپوری بنیادی طور پر فلسفی اور محقق کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، مگر ان کے شعری اظہار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طالب علمی کے زمانے میں یہ شوق زیادہ نمایاں تھا، مگر بعد میں فکری تحریروں نے شاعری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے باوجود ان کی شاعری میں وہی فکری شفافیت، مشاہدے کی گہرائی اور زبان کی سادگی ملتی ہے جو ان کی نثری تحریروں کا خاصہ ہے۔

    ان کا کلام روایتی رومان یا رسمی تصوف سے الگ نظر آتا ہے۔ وہ جذبات کی شدت سے زیادہ ذہنی وضاحت اور فکری سچائی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں موضوعات کی سنجیدگی، بیانیے کی سادگی اور اظہار کی راست گوئی غالب رہتی ہے۔ عباس جلالپوری کی شاعری میں تین بنیادی رنگ نمایاں طور پر نظر آتے ہیں جن میں سرفہرست ان کی فکری تمثیل اور فلسفیانہ طنز ہے ۔ ان کے اشعار میں بیشتر معاملات زندگی کو فلسفیانہ شدت کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ وہ معاشرتی تضادات، مذہبی تعصبات اور ذہنی جمود پر طنز کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں سوال اٹھانے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

    ان کی شاعری میں انسان دوستی کے ساتھ ساتھ روشن خیالی کا ذکر بھی جابجا ملتا ہے۔ تحریک خرد افروزی کا اثر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔(تحریکخِردافروزی اٹھارھویں صدی کی مشہور عقلیاتی تحریک کا عنوان ہے جو ہالینڈ اور فرانس سے شروع ہوئی اور مقبول ہوکر تمام مغربی ممالک میں پھیل گئی) وہ انسان کی عظمت، فطری آزادی اور شعور کی بلندی کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان اپنی عقل کے ذریعے اپنی قسمت لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    عباس جلالپوری روایتی شاعری سے بغاوت نہیں کرتے، مگر اسے اندھی تقلید کی نذر بھی نہیں ہونے دیتے۔ وہ روایت کو پرکھ کر اپناتے ہیں اور نئے فکری جواز کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کلاسیکی بہاؤ بھی ہے اور جدید ذہن کا سوال بھی ان کی شاعری کا حصہ ہے۔

    عباس جلالپوری کی شاعری اگرچہ ان کے فکری کام کے مقابلے میں کم حجم رکھتی ہے، مگر اپنی فطرت میں اہم ہے۔ یہ شاعری کسی روایتی شاعر کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک مفکر کا تخلیقی رد عمل ہے۔ ان کے اشعار میں رزمیہ شان نہیں، جذبات کی بارش نہیں، بلکہ سوچ کی ٹھہراؤ اور سوالات کی حرارت موجود ہے۔ وہ قومی، فکری اور تہذیبی تاریخ میں ایسے مقام پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں جہاں شاعر، محقق اور فلسفی ایک شخصیت میں گھل جاتے ہیں۔ محمد ارشاد رقمطراز ہیں:

    ”اس بات کو تو معرض بحث میں نہیں لایا جاسکتا کہ اس انداز فکر کا جسے پروفیسر صاحب مغالطہ کہتے ہیں واضح طور پر تہذیب و علوم کے ارتقاء میں رکاوٹ ہے۔ اس لحاظ سے عام فکری مغالطے کی علمی حیثیت عیاں ہے اور غالباً اس موضوع پر پہلی کتاب ہے جو دنیا کی کسی زبان میں لکھی گئی ہے۔“

    سید علی عباس جلالپوری کی زندگی مسلسل جدوجہد کا سفر تھی۔ فکری آزادی، علمی دیانت، سماجی حقیقت پسندی اور دلیل پر مبنی سوچ ان کا اثاثہ تھی۔ سید علی عباس جلالپوری کہتے ہیں:

    ” راقم نے bayle کی طرح علمی اور تحقیقی نکتہ نظر سے اس لغات کی تدوین کی ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کے ذہن و دماغ کو روشن کیا جائے اور انہیں تنگ دلی و تنگ نظری سے نجات دلاکر ایسی معلومات بہم پہنچائی جائیں جن سے قاری کی نگاہیں وسعت اور ذہن و قلب میں کشادگی پیدا کی جائے اور وہ انفرادی و اجتماعی مسائل کا جدید سائنس اور جدید فلسفے کی روشنی میں سامنا کرسکیں“۔

    اردو دنیا میں وہ نہ صرف خرد افروزی کے علمبردار رہے بلکہ ایسے محقق بھی ثابت ہوئے جنہوں نے روایت کے دباؤ کے بغیر زندہ سوال اٹھائے۔ ان کی شاعری میں اگرچہ کمیت کم ہے مگر کیفیت نمایاں ہے۔ یہ شاعری ایک فلسفی کا ذاتی بیان ہے، جو اپنے وقت کی ذہنی گتھیوں کو لفظوں میں کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کی فکر آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ایک روشن تصور رکھتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح ان کی تحریروں کے پہلے جملے نے قاری کو چونکایا تھا۔

    ó

    نمونہ کلام

    ó

    آنکھوں کے ستاروں کو چمکائے ہوئے رہنا

    رخسار کے پھولوں کو مہکائے ہوئے رہنا

    دزدیدہ نگاہوں سے رہ رہ کہ تکے جانا

    کینائے ہوئے رہنا، گھبرائے ہوئے رہنا

    اظہار محبت کی جرات نہ کبھی کرنا

    سید تیری قسمت ہے پچھتائے ہوئے رہنا

  • ادب و صحافت کا درخشاں ستارہ ۔ مقبول ذکی مقبول

    ادب و صحافت کا درخشاں ستارہ ۔ مقبول ذکی مقبول

    تحریر : پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم ( بھکر )

    بھکرکے ادبی و صحافتی افق پر مقبول ذکی مقبول کا نام درخشاں ستارے کی طرح نمایاں ہے ۔ اُن کا تعلق صحرائے تھل کی سر زمین منکیرہ سے ہے ۔ وہ ادب و صحافت کے میدان میں اپنے پیش رو علی شاہ ( مرحوم ) کے مقلد نظر آتے ہیں ۔ جس طرح علی شاہ ( مرحوم ) نے منکیرہ جیسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے میں رہتے ہوئے شاعری اور صحافت کے میدان میں ملکی سطح پر شہرت پائی اسی طرح مقبول ذکی مقبول نے بھی ادب و صحافت کی بے لوث خدمت کر کے ملک گیر شناخت حاصل کر لی ہے ۔ اُن کی ادبی تصانیف اور صحافتی تخلیقات بارہا مقامی اور ملکی سطح پر شائع ہو کے شائقینِ ادب و صحافت سے پزیرائی حاصل کر چکی ہیں ۔ زیرِ نظر کتاب ٫٫ حُسنِ بیان ،، مقبول ذکی مقبول کے علمی ، ادبی ، سماجی ، سوانحی اور صحافتی مضامین پر مشتمل ہے ۔ اِس کتاب میں اُنھوں نے جن موضوعات اور شخصیات کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے اگرچہ اُنھیں اپنے علمی ، ادبی ، سماجی اور صحافتی دائرہ کار میں معتبر حیثیت حاصل ہے لیکن مقبول ذکی مقبول کے قلم نے اُن کے اعتبار میں اور اضافہ کر دیا ہے ۔ اُنھوں نے جو محسوس کیا اُسے دیانت داری سے قلم کے سپرد کر دیا ۔

    ادب و صحافت کا درخشاں ستارہ ۔ مقبول ذکی مقبول


    مقبول ذکی مقبول انتھک قلم کار ہیں ۔ اُن کا ادب و صحافت سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ اُس پر رشک آتا ہے ۔ وہ دُنیاوی زندگی کے تقاضوں سے بے نیاز ہو کے ادب و صحافت کی خدمت کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے مخلص اور درویش صفت ادیب و صحافی بہت کم دیکھے ہیں ۔ خالقِ علم و نطق سے دُعا ہے کہ وہ مقبول ذکی مقبول کے علمی و ادبی رزق میں مزید وسعت پیدا کرے ۔

    پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم
  • مقبول ذکی مقبول ، فکر ، فن اور روحانیت کا درخشاں مینار

    مقبول ذکی مقبول ، فکر ، فن اور روحانیت کا درخشاں مینار

    تحریر : ملک منیر احمد کھوکھر ( لیّہ )

    ادب کے وسیع منظرنامے پر کچھ نام ایسے نمودار ہوتے ہیں جو محض لکھنے والے نہیں رہتے بلکہ عہد کے فکری رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کی تحریریں قاری کے ذہن میں نئی سمتیں روشن کرتی ہیں ، دل کو نرم کرتی ہیں اور سوچ کے نئے دریچے کھولتی ہیں ۔ انہی معتبر شخصیات میں مقبول ذکی مقبول کا نام ایک درخشاں ، مستند اور ہم عصر ادبی مینار کے طور پر اپنی الگ پہچان رکھتا ہے ۔
    مقبول ذکی مقبول نے شاعری ، نثر ، تحقیق اور تنقید کے میدان میں جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ صرف ادبی سرمائے میں اضافہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری اثاثہ بھی ہیں ۔ ان کی تحریروں میں فکری عمق ، روحانی لطافت ، عصری شعور اور تہذیبی آگہی کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو بہت کم اہلِ قلم کو نصیب ہوتا ہے ۔
    سجدہ ، روحانیت اور احساس کا سرائیکی عطر
    مقبول ذکی مقبول کی سرائیکی شاعری کا مجموعہ ٫٫ سجدہ ،، ان کے فکری اور روحانی سفر کا ایک نمائندہ سنگِ میل ہے ۔ یہ کتاب قاری کو محض شاعری نہیں دیتی بلکہ ایک تجربہ ، ایک احساس اور ایک روحانی لمس عطا کرتی ہے ۔

    مقبول ذکی مقبول ، فکر ، فن اور روحانیت کا درخشاں مینار


    اس کے اشعار میں
    انسان اور کائنات کا مکالمہ،
    درد اور شکر کا توازن ،
    محبّت اور الوہیت کا ربط
    ایک ایسے اسلوب میں جلوہ گر ہے جو سرائیکی زبان کی مٹھاس کو فکر کی وسعت کے ساتھ پروتا ہے ۔
    کتاب کا سرورق بھی ایک علامتی فن پارہ ہے ۔ ٹوٹ پھوٹ ، تلاش ، تعمیر اور انسان کے باطنی سفر کی تجریدی ترجمانی ۔
    ٫٫ سجدہ ،، بار بار پڑھنے کی چیز ہے ، ہر مطالعہ ایک نئی پرت ، ایک نیا ادراک عطا کرتا ہے ۔
    منتہائے فکر ۔ شعور کے آفاق تک رسائی
    مقبول ذکی مقبول کی ایک اور اہم کتاب ٫٫ منتہائے فکر ،، ہے جو ان کے فکری سفر ، ادبی پختگی اور مشاہداتی بصیرت کا آئینہ دار ہے ۔ یہ کتاب قاری کو ایک مسلسل ذہنی سفر پر لے جاتی ہے جہاں :
    مذہبی و روحانی وابستگی ،
    سماجی شعور ،
    عصری حالات کی معنویت ،
    اور انسان کے باطنی سوالات
    بے حد سلیقے اور سنجیدگی سے بیان کیے گئے ہیں ۔
    کتاب میں شامل حمد ، نعت ، سلام حضرت امام حسین علیہ السّلام ، فکری نظموں میں ایک خاص وقار ، سادگی اور فنی شفافیت نظر آتی ہے جو مقبول ذکی مقبول کے اسلوب کی پہچان ہے ۔
    یہ مجموعہ نوجوان نسل کے لیے ذہنی تربیت اور سنجیدہ قارئین کے لیے فکری تازگی کا سامان فراہم کرتا ہے ۔
    شذراتِ مقبول ۔ ادبی چہرہ نامہ
    شذراتِ مقبول ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو مختلف اہلِ قلم کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے لکھی ہیں ۔ ( تحقیق و تنقید ) یہ کتاب ادبی خدمات کو نہ صرف محفوظ کرتی ہے بلکہ ان کی شخصیت کے علمی ، فکری اور انسان دوست پہلوؤں کو بھی سامنے لاتی ہے ۔
    سنہرے لوگ ۔ نثر کی دنیا کا خوبصورت سفر
    ٫٫ سنہرے لوگ ،، ( نام ور ادبی شخصیات کے انٹرویوز ) ایک نثری مجموعہ ہے جس میں ادبی ، سوالات اور فکری مضامین شامل ہیں ۔ یہ کتاب مقبول ذکی مقبول کی شخصیت اور فکر کا دوسرا رخ دکھا تی ہے ۔
    نثر میں بھی ان کی زبان :
    شگفتہ
    سادہ
    شفاف
    اور دل میں اتر جانے والی ہے ۔
    یہ کتاب نہ صرف پڑھنے والے کے ذہن کو جِلا بخشتی ہے بلکہ اسے زندگی ، تعلقات ، تاریخ اور انسانی رویوں کے نئے پہلو دکھاتی ہے ۔
    کتاب ٫٫ روشن چہرے ،، ( معروف ادبی شخصیات سے مصاحبے ) یہ بھی اسی سلسلہ کی لڑی ہے ۔
    مقبول ذکی مقبول اور کُتب کے نام پیشِ خدمت ہیں ۔
    ٫٫ عاصم بخاری : اعترافِ فن ،، ( تحقیق و تنقید )
    ٫٫ یہ میرا بھکر ،، ( فردیات )
    ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، ( اُردو ، پنجابی اور سرائیکی شاعری )
    ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، ( کیفِ منظوم )
    ٫٫ حُب دار قائم : جگمگاتا ستارہ ،، ( شخصیت اور فن )
    اور
    حُسنِ بیان ، تحقیق کا سنہرا باب
    ٫٫ حُسنِ بیان ،، ( مضامین اور تبصرے ) مقبول ذکی مقبول کے تحقیقی رجحان کی عکاس ہے ۔ یہ کتاب ادبی اسلوب ، فنِ بیان اور زبان کے فکری ڈھانچے پر روشنی ڈالتی ہے ۔ باقی کتابوں کی طرح علمی و ادبی حلقوں میں بھرپور پزیرائی حاصل کرہی ہے ۔ یہ کتاب اپنی اہمیت و افادیت کے باعث ادبی حلقوں میں موضوعِ گفتگو بن چکی ہے ۔
    یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ٫٫ حسنِ بیان ،، تحقیق و تنقید کے میدان میں ایک بلند معیار قائم کرے گی ۔
    مقبول ذکی مقبول ، ادب کا دم دار ستارہ
    مقبول ذکی مقبول کا قلم محض الفاظ نہیں لکھتا ، بلکہ سچائی ، درد ، محبّت اور فکری آگہی کا راستہ تراشتا ہے ۔ ان کی تحریروں میں :
    درد کی شدت
    محبّت کی لطافت
    سوچ کی وسعت
    اور جذبے کی سچائی
    ایک ساتھ ملتی ہیں ۔ وہ ایسے ادیب ہیں جو محض لکھتے نہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔
    ان کی تخلیقات آنے والے وقت میں ادب کے لیے ایک حوالہ بن جائیں گی ۔
    اختتامی کلمات
    مقبول ذکی مقبول کی تمام کتابیں ۔
    ادب کے افق پر روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہیں ۔
    یہ کتابیں صرف ادب نہیں ، بلکہ روح ، فکر ، تاریخ اور انسانیت کے سفر کی دستاویز ہیں یوں ہی ادب کے آسمان پر اپنی روشنی بکھیرتے رہے ۔
    مقبول ذکی مقبول شخصیت اور فن پر لکھی گئی کتاب اس کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ کتاب کا نام
    ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) مؤلفہ : ریحانہ بتول
    ادبی چہرہ نامہ ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو مختلف اہلِ قلم نے مقبول ذکی مقبول کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے لکھی ہیں ۔ یہ کتاب ان کی ادبی خدمات کو نہ صرف محفوظ کرتی ہے ۔ بلکہ ان کی شخصیت کے علمی ، فکری اور انسان دوست پہلوؤں کو بھی سامنے لاتی ہے ۔ یہ ایک ادبی دستاویز ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ مقبول ذکی مقبول کا قلم آج کے معاصرین اور نقادوں کے نزدیک بھی قابل قدر ہے ۔

    ملک منیر احمد کھوکھر ( لیّہ )
    ملک منیر احمد کھوکھر ( لیّہ )
  • مقبول دا مقبول سجدہ

    مقبول دا مقبول سجدہ

    تبصرہ نگار :  سید حبدار قائم 

    مقبول ذکی مقبول ادبی دُنیا دا او ستارہ اے جس سرائیکی وسیب نوں بہت اُتے لیاندا اے اور اس دی شاعری ، اس دے تبصرے ، اس دے انٹرویوز مختلف اخباراں دے وچ چھپدے رہندے نے مینوں اے کہندیاں بڑی خوشی ہوندی اے کہ مقبول ذکی مقبول  میرا دوست ہے ۔ جس اپنی کتاباں وچ میرا ذکر کیتا اور مینوں محبتاں نال نوازا اے ۔ فیس بک ہک ایسا دریا وے جس دے وچ مینوں بڑے اچھے اچھے دوست ملے نے  جنہاں وچ ارشاد ڈیروی  ،  مقبول ذکی مقبول ،  پروفیسر ریاض قادری اور دوسرے بہت سارے شعراء جنہاں دا ذکر کراں تے مضمون بہت طویل تھی ویسی بس میں صرف مقبول ذکی مقبول  دے فن تے گل کرداں مقبول ذکی مقبول ہوراں میرے واسطے کتاباں بھیجیاں جنہاں دا میں مطالعہ کیتا تے مینوں پتہ لگا اے کہ ہک اچھے نثر نگار دے نال مقبول ذکی مقبول اچھا شاعر وی اے جہڑا پنجابی بی لکھدا اے تے اُردو بی لکھدا اے مقبول ذکی مقبول دی شاعری حضرت محمّد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم دی اہل بیت علیہ السّلام دے نال  مشک بو رہندی اے ۔ مقبول ذکی مقبول دی شاعری وچ بلاغت وی ہے سلاست وی ہے ۔ انہاں دی شاعری عام فہم اے جہڑا کہ ہر بندہ سمجھ سکدا اے اور اس دے اُتے بحث کر سکدا اے مقبول ذکی مقبول نے قلم دا جدوں دا سہارا لیا اے انہاں دی ڈھیر ساری کتاباں منظرِ عام تے آیاں نے ۔ جس دے وچ ویکھن آلیاں بندے واسے بہت کجھ اے انہاں نے اپنے علاقے دا تعارف اتنے اچھے انداز چے کرایا اے کہ میں بھی کئی دفعہ خواہش کرداں کہ میں وی انہاں دے علاقے وچ ہوندا تے مقبول ذکی مقبول مینوں ہی اسی طریقے نال پیش کردے جس طرح نال انہاں بہت سارے شعراء دے انٹرویو کیتے انہاں دی کتاباں دے تبصرے کیتے اور انہاں دے متعلق بہت کچھ لکھا اے ۔

    اصل وچ مقبول ہوراں مرثیہ نگاری نال عشق کریندن اس واسے مقبول ، مقبول تھی گئین تاریخ دسدی اے جہڑے لوگ وی حضورؐ دی اہل بیت علیہ السلام نال جڑن او دُنیا تے بی عزت دا نشان بنڑیں تے آخرت وچ وی ۔

    مقبول ذکی دا وڈا وصف اے ہے جی اے کتاب نال جڑے پیئن تے جہڑا بندہ کتاباں اچ رہندا اے اس دے اوصاف اچ اضافہ ہی تھیندا اے تے نالے او بہوں کجھ سکھدا بی اے ۔

    مقبول دا مقبول سجدہ

    شاعری خدا داد صفت اے جہڑے عروضیے ہِن او صرف قافیہ پیمائی کردن جہڑی تھوڑی دیر چلدی اے لیکن قدرتی شاعر ہمیشہ واسے امر تھی ویندن انہاں دے ذکر مسیتاں اچ منبر تے وی تھیندا اے تے میخانے اچ بی تھیندا جس دا عملی ثبوت اسی تکدے پئے ہاں ۔

    مقبول  کولوں میں کتاب منگی تے انہاں نے مینوں کمال محبّت نال عطا کیتی میں کتاب پڑھ کے ای گل محسوس کیتی کہ ذکرِ اہل بیت علیہ السّلام مقبول دی ہر گل وچ وسدا اے تے انہاں دی رگ رگ وچ کربلا دا ذکر روندا پیا اے تے اتھرو انہاں دی کھاکھاں دے طواف پۓ کردن ۔

    مقبول ذکی مقبول سیاپُل تے بٙھلمٙانڑُس شاعر اے جہڑا لکھت پڑھت نال پہچانڑاں وینا اے اخباراں بھریاں پیاں نیں جنہاں انہاں دیاں لکھیاں گلاں محفوظ کیتیاں نیں نال ای فیس بُک وچ انہاں دے فوٹو لگے پیئین۔ سیانڑے آکھنن کہ جہڑا بندہ بی حضور صلى اللّٰہ عليه وآلہ وسلّم  دی اہل بیت علیہ السّلام نال جڑیا اے اُساں اللّٰہ دی پاک ذات چھپنڑ نیں دیندی اس دیاں تعریفاں ساری دُنیا کر دی تے ایہا گل مقبول ذکی مقبول دی اے جہڑی سچی گل اے جے بہوں مقبول تھی گیا اے ساری دُنیا تے جانڑاں پہچانڑاں ویندا اے ۔

    مقبول دی حمد ہووے یا نعت ہووے یا سلام ہووے سارے عشق و عقیدت نال بھرے ہوئے ہوندے نیں جذباتی وفور ویکھ کے مقبول دا معترف ہونڑاں پیندا اے ۔

    اگر حمد دی گل کرو تے اس شعر وچ مقبول کن فیکون دی گل اس چیز دی ضامن اے جے مقبول قرآن مجید دی سورہ یٰسین دی عرق ریزی کر کے ایہہ شعر کشید کیتا اے جس وچ ہک عجیب جیہا سرُور اے ذرا پڑھ کے وحدت دی چس لو :

      یاربّ سچا لفظِ کُن تے کل سنسار بݨایا ہئی

    ڈیکھݨ آلے کوں ہر شئے وچ اپݨا روپ ڈِکھایا ہئی

    کائنات دا ذرہ ذرہ خالق دی گواہی پیا دیندا اے لیکن ساری تخلیق بادشاہ نے آپڑیں محبوبؐ دی خاطر کیتی اے تے رزق وی انہاںؐ دے وسیلے نال ملدا اے اس گل دا سوہنا اظہار اس شعر وچ ویکھو کہ کیڈا سوہنا انداز اے ۔ :

     جتنے وی جن و بشر ہِن یا اِتھاں کوئی پرند 

    آپؐ دے صدقے پیا اے سارا عالم کھاندا ہے

    ساری کائنات حُسن دا منبع اے تُسی جس چیز نوں ویکھو ربّ دا نور لاٹاں پیا ماردا اے ہکو پرندیاں تے نظر مارو تے پتہ لگ ویندا اے کہ انہاں دا مصور تے خالق خود کڈا سوہنا ہوسی پرندیاں دے رنگ ڈھنگ سارے وکھرے وکھرے نیں جنہاں دے اڈن دا انداز وکھرا اے انہاں دی خوراک وی وکھری اے  انہاں پکھواں نوں رزق وی سوہنے محمّدؐ و آلِ محمّدؐ دے صدقے ملدا اے ویکھو ذکی  کیجا سوہنا شعر لکھیا اے ۔ : 

     پکَھو دِرکھاݨ دے سوہݨے کھمباں اُتے 

    ہِک زباں وچ خُدا آلِ احمد لِکھی

    کائنات دی ہر شے سرکار تے ناز کردی اے بس انہاں دا انداز وکھرا وکھرا اے میں اکثر سوچنا واں جے کوثر بی کتنی خوش نصیب اے جے آلِ محمّدؐ دے ہتھوں ساریاں جنتیاں نوں پوائی ویسی ایس گل تے او ناز تاں کردی ہوسی اسے  خوبصورت خیال دا اظہار ذکی  بی بہوں سوہنا کیتا اے ۔

    اے لو خود اکھیاں ٹھڈیاں کرو :

     کیتا ہے ناز کوثر خود اپݨے اُتے 

    شکر ہے یا خدایا تیڈی ذات دا 

    آیا ساقی میڈا اے وڈا باامر 

    مرحبا یا علی یا علی حق علی

    حُسنِ یوسف علیہ السّلام اُتے تاں انگلیاں کٹیاں سن تے ساڈے آقا پاکؐ اُتے تاں سر پۓ کٹدے ہن تے کٹدے راہسن ۔ سوہنے ہی اتنے ہن جے ربّ خود عاشق ہو گیا۔ اگے ویکھو تاں مولا حسین علیہ السّلام دا بچڑا سرکار دُعاواں نال گھدا اے جہڑا حضورؐ دا ہم شکل اے جیندے ویکھن کان پرندے رک جاندے سن ہواواں مشکبو ہو جاندیاں سن جس دی کربلا وچ قربانی نبی پاکؐ دا دین بچا گئی اے ۔ مقبول ہوراں نے کیڈا سوہنا شعر انہاں تے لکھا اے ۔ ذرا شعر پڑھو سبحان اللّہ سبحان اللّہ :

     پاک حسین دا بچڑا جانی 

    نانے پاک دی پاک نشانی 

    اکبر اکبر یوسف ثانی 

    یثرب چمکا گھڑی سہانی 

    نام علی شبیر رکھا ہے 

    اکبر سوݨا لقب ملا ہے

    کربلا آلے خود تاں تسے رہ گئے لیکن ساری دُنیا دی پیاس بجھا گئے انہاں دی اس قربانی نوں شاعر کیڈا سوہنا سلام پیا دیندا اے : 

     دریا دے نال تسا خنجر تلے ریہا ہیں 

    ایں بے مثال تیڈی شہادت کوں ہے سلام

    ذکی لفظاں نال پیار کردا اے او نقطیاں دا محتاج وی کوئی نئیں بغیر نقطے کیڈی سوہنی گل کیتس ذرا ویکھو تاں سہی ۔ :

    کٹا کے سر کوں مکائی رولا مکار مٹ گئے دہر دے سارے 

    وصیءِ احمد علی ولی دے اے دل دا ٹکڑا سلام ہو وی

    اگر گل لمی کراں تے ہور بہوں کجھ لکھ سکداں لیکن کجھ گلاں قاری اُتے بی چھوڑنیاں چاہیدیاں نیں اس واسے کجھ ہور شعر بی لکھداں تے انہاں دا فیصلہ توہاڈے فہم و شعور تے سٹداں ۔ لو جی خود ویکھو تے سانوں ہی دُعاواں اچ یاد رکھو ۔ :

     بدلا نصیب حُر دا خطبے تہاڈے مولا 

    رحمت تہاڈی رکھا حُر دا بھرم حسین

     اِہم ہک پیغام ہے رحیم تے رحمٰن دا 

    نبی دے بعد ہے علی مولا ہر انسان دا 

    لب نبی دے کھل گئے گونج اٹھی آواز ہے حسین ہے ماحول تے خوشی دا کھلیا راز ہے 

    تھکے ہوئے مسافراں دا حال وی ناساز ہے 

    زمین تے ملائکہ دا تھی گیا آغاز ہے 

    زمین خوش بدل گیا ہے رنگ آسمان دا 

    خوشی توں چہرہ چمکدائے صحابی سلیمان دا

     حرم دی سر زمیں اُتے سدا دُنیا گواہ راہسی 

    نبوت تے امامت کوں نکھارا ہے ابو طالب

     علم عباس دا

     میں ڈیہدا ہاں جس دم علم تیڈا غازی ادب نال سر کوں جھکا کھڑدا  ہاں 

    میں صلواۃ  پڑھ کے تیڈی ذات تے ایویں تسکین دل کوں ڈیوا کھڑ دا ہاں

     وفا تیڈی غازی حشر تائیں نہ بھلسی اے گل مومناں کوں سݨا کھڑ دا ہاں 

     خدا کوں تیڈا واسطہ ڈے کے غازی میں دل دیاں آساں پُجا کھڑ دا ہاں 

    اے خواہش ہے مقبول دی میڈا مولا حشر کوں تہاڈی شفاعت ملے

    اتھاں وی میں نوکر تہاڈا سڈیجاں اُتھاں تہاڈی اطاعت ملے

    اے کعبہ عظمت قائم راہوی تیڈی عظمت شان بچینداں 

    آ قاتل گئے میکوں قتل کرݨ نہ اِتھ میں خون وہینداں 

    مظلوم حسین نہ حج پڑھداں اِحرام پیا میں تُرڑینداں 

    مقبول نہ آساں کول تیڈے تیکوں فقط سلام کرینداں

     رسالت امامت دا حصّہ ہے زہرا 

    اے بچڑی نبی دی تاں ہکا ہے زہرا 

    جہاناں دی ثروت جو بند تھی کے رہ گئی 

    حشر تک ہے چلݨا او سکہ ہے زہرا

     توں خالق مالک جاݨ دا ہیں ساڈیاں اکھیاں وچ برسات ہے کیوں 

    ڈیکھوں درلاہندے اساں سیداں دے ہݨ بھیج جہان تے حجت خدا

    آخر اُتے دُعا گو ہاں جے اللّٰہ پاک مقبول ذکی مقبول دی زندگی دراز فرمائے تا جے  قلم نال ادب دی آبیاری کردے رہن۔ ( آمین )

  • دم توڑتی شاعری کا احیاء

    دم توڑتی شاعری کا احیاء


    آج میں ایک ایسی کتاب کے بارے میں اظہارِ خیال کر رہا ہوں جو کہ اٹک کے عظیم اور نامور شاعر اور ادیب حکیم تائب رضوی مرحوم کی پنجابی شاعری پر مبنی ہے۔ حکیم صاحب نے پنجابی کے ٹکسالی اور کیمبل پوری لہجے میں خُوبصُورت اور لاجواب شاعری کی ہے۔ حکیم تائب رضوی صاحب کیمبل پور کے ایک گاؤں شمس آباد کی ایک ڈھوک شاہ پور میں 24 جنوری 1931 میں پیدا ہوئے۔ اُن کا اصل نامِ نامی سید عنایت علی تھا جبکہ قلمی نام حکیم تائب رضوی تھا۔ آپ کے والد کا اسم گرامی سید علی تھا۔ اور آپ کا گھرانہ علم و فضل میں علاقہ بھر میں منفرد مقام رکھتا تھا۔ حکیم صاحب کی پیدائش تو اٹک کی ہے مگر تعلیم لاہور میں مکمل کی۔ پرائمری کے بعد درسِ نظامی مکمل کیا اور 1955 میں ادیب فاضل اور 1956 میں حکمت کا امتحان پاس کیا۔ اور اس کے بعد کیمبل پور(آج کے اٹک) میں اپنا مطب بنایا۔ جلد ہی یہ مطب اٹک کے اہلِ علم و ادب کا مرکز بن گیا۔ حکیم صاحب کو موسیقی اور شاعری سے خاص شغف تھا۔
    آپ کی پنجابی شاعری نے جلد ہی پورے پنجاب میں مقبولیت حاصل کر لی۔ مختلف اخبارات اور رسالوں میں چھپا۔ اُن کی بعض نظموں نے تو ملک گیر شہرت حاصل کی۔ حکیم تائب رضوی صاحب کی کچھ نظمیں اور غزلیں گا کر گائیکوں نے خُوب شہرت کمائی مگر افسوس کہ کسی نے اُن کے نام کے ساتھ نہیں گایا۔ مثلاً کیمبل پوری لہجے میں اُن کی نظم
    آپڑاں گِراں ہووے۔۔۔ تُوتاں نی چھاں ہووے
    وانڑے نی مَنجی ہووے۔ سِرے تلے بانہہ ہووے
    آپڑاں گراں ہووے
    عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوئی اور ریڈیو پاکستان پر نشر ہوئی۔ اسی طرح اُن کی یہ نظم بعض لوگوں نے معمولی تبدیلی کے بعد اپنے نام سے منسوب کی اور جب گائی گئی تو بہت مقبول ہوئی۔
    تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے
    سِر چُک کے ڈولا لسی دا۔۔۔۔۔
    نی اینج نئیں اَڑیے نَسّی دا ۔۔۔۔۔
    ذرا ہولی ہولی ٹُر کُڑیے۔۔۔۔

    دم توڑتی شاعری کا احیاء


    اُنہوں نے انسانی نفسیات اور جذبوں، پنجاب کی ثقافت اور رہن سہن کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اُن کی غزلوں، نظموں اور گیتوں میں ہجر کا درد، وصل کی خوشی، عشق بیتی اور ملن کی تڑپ پورے جذبات کے ساتھ ملتی ہے۔
    تانگھ سجن دی ہر دم رہندی
    دنیا میں نُوں کملی کہندی
    طعنے دیندیاں نے مُٹیاراں
    ماہی وے ہُنڑ موڑ مہاراں
    حکیم صاحب کا کلام ادھر اُدھر بکھرا پڑا تھا۔ اُن کے نواسے آغا سید جہانگیر علی بُخاری صاحب نے اس کلام کو یکجا کیا۔ اور طویل کوشش کے بعد اپنے نانا کی اس خُوبصُورت شاعری کو کتابی شکل میں اشاعت آشنا کر کے حکیم تائب رضوی صاحب کے مداحوں کے لیے بہت بڑا کام کیا۔ رضوی صاحب کی وفات کے تقریباً 45 برس بعد اس اعلیٰ درجے کی شاعری کو گُم ہونے سے بچا لیا۔ اس کتاب میں رضوی صاحب کی 87 نظمیں،غزلیں،گیت اور دیگر اصناف شاعری شامل ہیں۔۔ کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہے مگر خصوصی رعایت پر دستیاب ہے۔اس کتاب کے لیے ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد صاحب نے ,, گیتاں دا ونجارا،، کے عنوان سے تائب رضوی مرحوم کی زندگی، خاندان اور شاعری کے حوالے سے خُوبصُورت ابتدائیہ تحریر کیا ہے۔ رضوی صاحب کے نواسے آغا سید جہانگیر علی بُخاری، سید زادہ سخاوت بُخاری اور طاہر اسیر نے بھی اپنی آراء لکھی ہیں۔ جمالیات پبلیکیشنز اٹک نے اس اعلیٰ معیار کی شاعری کو نہایت جمالیاتی انداز سے اشاعت آشنا کیا۔ اور اسے ,, تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے،، کا عنوان دیا گیا۔ ادب سے محبت رکھنے والوں کی لائبریری میں یہ کتاب یقیناً قابلِ قدر اضافہ ہو گی۔ کتابوں میں محفوظ ادب، ادیب اور ادب کے متلاشیوں کے لیے دائمی زندگی کا مُوجِب قرار پاتا ہے۔ بقول حکیم تائب رضوی مرحوم،
    دید وچھوڑا، موت، حیاتی
    دو گھڑیاں دے میلے
    رُتّاں چُپ چپیتیاں لنگھن
    واج نہ مارن ویلے

    تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے
  • پروین شاکر: خوشبو کی شاعرہ

    پروین شاکر: خوشبو کی شاعرہ


    (24 نومبر یوم ییدائیش پر خصوصی تحریر)
    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    اردو شاعری کی تاریخ میں وہ خواتین شاعرہ بہت کم ہیں جنہوں نے کم وقت میں اپنی پہچان اس شدت سے قائم کی کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں انہیں ایک عہد کی علامت سمجھنے لگیں۔ پروین شاکر انہی میں سے ایک بہترین شاعرہ تھیں۔ وہ صرف شاعرہ ہی نہیں تھیں، بلکہ ایک پوری سماجی، فکری اور نسائی روایت کی نئی تشکیل کا ذریعہ بھی بنیں۔ ان کی شاعری نے اردو غزل کے لہجے کو نئی سمت دی اور عورت کی داخلی خیالات کو پہلی بار اس کھلے پن، نرمی اور بے ساختگی کے ساتھ بیان کیا جس کی مثال جدید اردو شاعری میں کم ملتی ہے۔
    پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں ایک علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد شاکر حسین ثاقب خود بھی شاعر تھے، جس نے پرویز شاکر کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد نئے وطن مملکت خداداد پاکستان میں شناخت کی تلاش، شہری زندگی کی بنتی بگڑتی صورت حال اور متوسط طبقے کے مسائل یہ ساری فضا پروین کی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں بھی رچی بسی نظر آتی ہے۔
    ان کی تعلیم نہایت متنوع رہی۔ انگریزی ادب، لسانیات، انتظامی علوم اور بعد میں ہارورڈ سے ماسٹرز کی ڈگری یہ سفر بتاتا ہے کہ وہ محض جذبے کی ہی شاعرہ نہیں تھیں بلکہ ایک گہری فکری بنیاد بھی رکھتی تھیں۔
    سن ستر کی دہائی اردو غزل کے لیے ایک نئے تجرباتی دور کا آغاز تھی۔ فیض، جمیل الدین عالی، جون ایلیا، احمد مشتاق اور قتیل شفائی جیسے شعرا اپنی اپنی آوازوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس منظرنامے میں ایک نئی نوجوان شاعرہ کا آنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ان کی کتاب خوشبو (1976) نے منظر ہی بدل دیا۔
    اس مجموعے نے یہ واضح کر دیا کہ ایک نرم لہجے میں کہی گئی بات کبھی کبھی سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ عورت کا احساس، عورت کی زبان اور عورت کی داخلی بے چینی کو پہلی بار اتنی سادگی اور نفاست سے بیان کیا گیا کہ پوری نسل نے اس کی طرف توجہ کی۔
    پروین شاکر کی غزل روایت اور احساس کا نیا امتزاج بھی جابجا ملتا ہے۔ پروین شاکر کی غزل کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہے، لیکن اس میں ایک نیا لہجہ ہے۔ استعارے وہی ہیں مثلاً چاند، پھول، خوشبو، بارش، تتلی وغیرہ لیکن ان کے معنی بدل گئے۔ محبوب کے بجائے محبوبہ کی داخلی کیفیات موضوع بن گئیں۔
    ان کی غزل کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ عورت کو موضوع نہیں بناتیں بلکہ اسے خود مصنف بھی بناتی ہیں۔
    نسائی ضمیر کا براہِ راست استعمال، نرمی کے ساتھ احتجاج اور جذبات کے اظہار میں جھجھک سے انکار یہ وہ خصوصیات ہیں جو پروین شاکر کی غزل کو ممتاز بناتی ہیں۔

    پروین شاکر: خوشبو کی شاعرہ


    مثال کے طور پر “وہ تو خوشبو ہے” والا شعر محض رومانی کیفیت ہی نہیں، بلکہ جذباتی تعلق میں طاقت کے عدم توازن کی نشاندہی بھی ہے۔
    اگر غزل ان کی پہچان ہے تو آزاد نظم ان کا اصل تجربہ گاہ ہے۔ یہاں انہیں کسی عروضی پابندی نے محدود نہیں کیا۔ اسی لئے ان کی آزاد نظموں میں موضوعات نہایت وسیع ہیں جن میں سماجی نابرابری، عورت پر معاشرتی دباؤ، جنسی استحصال، معاشی ظلم، سیاسی اور طبقاتی منافقت، جدید شہری زندگی کی بے حسی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
    "اسٹیل ملز ورکر” جیسی نظمیں صرف ادب نہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز بھی ہیں۔ یہاں محبت کی نہیں، پسینہ بہاتے عام آدمی کی بات کی گئی ہے جو ترقی کے نام پر قربان ہو جاتا ہے۔

    اسی طرح "وی آر آل ڈاکٹر فاسٹس” میں طاقت اور دولت کے کھیل کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
    پروین شاکر نے انگریزی الفاظ کا استعمال بھی بے جھجک کیا، جسے بعض ناقدین نے انہیں اعتراض کا نشانہ بنایا، لیکن ان کا اصرار تھا کہ شہری عورت کی زندگی انہی الفاظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے زبان کو حقیقت سے جوڑ کر پیش کیا، نہ کہ روایت کی خاطر اسے جامد رکھا۔
    ان کی شاعری میں جہاں محبت کا ذکر ملتا ہے وہاں عورت اور سماج کا بھی زکر ملتا ہے۔ پروین شاکر شاعری کے موضوعات کی تہہ داری سب سے منفرد ہے۔ پروین شاکر کی شاعری کا سب سے بنیادی پہلو عورت کے احساسات کی صداقت ہے۔ وہ محبت کو رومانیت کے پردے میں چھپاتی نہیں، بلکہ اس کی تکلیف، اس کی فوری کیفیت اور اس کی سماجی قیمت دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔
    ان کی شاعری میں تین واضح محور دکھائی دیتے ہیں جن میں سرفہرست عورت کی داخلی دنیا ہے۔ محبت، بے وفائی، تنہائی، انتظار، خوف، امید یہ سارے جذبات پروین شاکر کی شاعری کا بنیادی حصہ ہیں۔ وہ ان احساسات کو پوری ایمانداری کے ساتھ لکھتی ہیں۔
    ان کی شاعری میں عورت کا سماجی مقام بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ طلاق، تنہائی، معاشرتی عدم اعتماد، اور مردانہ معاشرے کا جبر یہ سارے موضوعات اس شدت کے ساتھ پہلی بار کسی شاعرہ نے اٹھائے وہ پروین شاکر ہیں۔
    انہوں نے جدید شہری زندگی کی پیچیدگیاں بھی بیان کی ہیں۔ دفتر، کارپوریشن، مہنگائی، تھکن، رش اور سیاسی بے چینی یہ سب کچھ پروین شاکر کی نظموں میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ عورت کو صرف محبت کرنے والی ہستی کے طور پر پیش نہیں کرتیں، بلکہ ایک مکمل سماجی وجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
    پروین شاکر کے اسلوب میں چند بنیادی خصوصیات نمایاں ہیں جن میں نرم، پُرتاثیر اور شگفتہ لہجہ، استعاروں کا تخلیقی استعمال، اشاریت اور علامتوں کی تہہ دار
    جذبات کی براہِ راست ترجمانی،زبان کی سادگی جو گہری معنویت رکھتی ہے، شہری زند گی کے جدید حوالوں کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔ ان کے ہاں جذبات کبھی غیر ضروری پھیلاؤ کا شکار نہیں ہوتے۔ مختصر مصرع، سادہ ترکیب اور پُراثر تصویر یہی ان کا فنی اصول ہے۔
    اردو تنقید نے پروین شاکر کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا۔ ان کے بارے میں تین بڑے نقطۂ نظر ملتے ہیں جن میں وہ جدید اردو غزل میں نسائی آواز کی سب سے مضبوط نمائندہ ہیں۔
    ان کی غزل میں جذباتیت کہیں کہیں زیادہ ہے، لیکن اس کی صداقت سے انکار ممکن نہیں۔
    آزاد نظم میں ان کی فکری گہرائی زیادہ نمایاں ہے بنسبت غزل کے۔

  • پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ

    پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ، مظفرآباد

    سرفراز بزمی اردو شاعری کے اُن دردمند اور باوقار شعرا میں سے ہیں جنھوں نے مشرقی احساس، روحانی گہرائی اور عصری شعور کو یک جا کر کے اپنے اظہار کو ایک منفرد رنگ دیا ہے۔ ان کے ہاں لفظ صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیبی شعور اور انسانی ضمیر کا آئینہ ہے۔سرفراز بزمی کی شاعری میں حضرت اقبال کا واضح پرتو ملتا ہے۔ میرا بزمی صاحب سے تعارف ان کے ایک مشہور قطعے کے ذریعے سے ہوا۔ وہی قطعہ جو اکثر غلطی سے علامہ اقبالؒ سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔
    اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
    املاک بھی، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ
    ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
    شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
    یہ قطعہ ان کے فکری مزاج کی جھلک پیش کرتا ہے ۔ ۔ بزمی صاحب کےاس ضرب المثل قطعے کے حوالے سے میں ایک مضمون کچھ سال قبل ضبط تحریر میں لا بھی چکا ہوں۔ جو ایکسپریس سمیت کئی اہم اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع بھی ہو چکا ہے۔ سرفراز بزمی صاحب نے اپنی ایک تحریر میں اس بات کا برملا اظہار بھی کچھ یوں کیا:
    "آج مجھے اپنی شاعری کے ابتدائی ایام کا اپنا ایک قطعہ جسے نادان احباب نے فکری اور لسانی ہم آہنگی کی بناپر علامہ اقبال سے منسوب کرنے کی غلطی کردی یہاں تک کہ پڑوسی ملک کی نیشنل اسمبلی میں بھی ایک باوقار رکن نے اسے علامہ سے منسوب کرتے ہوئے سنایا جس کے بعد یہ موضوع بحث بنا اور جستجو ہوئی کہ آخر یہ کس کی تخلیق ہے۔اور بالآخر مظفرآباد یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر فرہاد فگار نے اس بابت مجھ سے رابطہ کیا
    پھر ایک تحقیقی مضمون قلم بند کیا جس کے بعد اور بھی کئی احباب نے اس پر مضامین لکھے
    خیر میں عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ میرے اس قطعے کے بابت مظفر نگر یوپی کے مشہور شاعر جناب ریاض ساغر صاحب نے آج مجھ سے رابطہ کیا اور ایک فیس بک پوسٹ پر چل رہی ایک بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علامہ کا قطعہ ہے جسے بعض لوگ آپ سے منسوب کر رہے ہیں مجھے بڑی تکلیف ہوئی کہ ایسے بڑے اصحاب ادب بھی اسے آج تک علامہ کا سمجھ رہے ہیں ۔
    (سرفراز بزمی سوائی مادھوپور راجستھان انڈیا)”
    وہ شاعر جو علم و دولت کی اصل قدر کو روحانی ربط سے ناپتا ہے۔ سرفراز بزمی کی شاعری کی انھی معنوی بلندیوں کا تسلسل ہمیں ان کی نظم "پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” میں ملتا ہے۔ یہ نظم انھوں نے 28اکتوبر 2024ء کو تخلیق کی اور وٹس ایپ کے ذریعے سے 27 اکتوبر 2025ء کو مجھے ارسال کی جب بزمی صاحب نے یہ نظم ارسال کی تو مجھے اتنی پسند آئی کہ میں نے فوراً اپنے محسن ومربی شوکت اقبال صاحب کی خدمت میں ارسال کی۔ انھوں نے نظم مکمل انہماک سے پڑھی اور یہ جواب دیا:”بھر پور تاثراتی نظم ہے اس پر مکمل تنقیدی کالم بنتا ہے۔”

    پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ


    شوکت صاحب کے حکم کی تعمیل میں یہ جسارت کرنے چلا ہوں۔سرفراز بزمی صاحب کی یہ نظم”پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” بہ ظاہر کشمیر کے مناظرِ فطرت کی سیر ہے مگر درحقیقت کشمیر کے دکھ، انسانی بے بسی اور امیدِ نو کی ایک علامتی داستان ہے۔
    نظم کا آغاز ایک دل گرفتہ منظر سے ہوتا ہے ڈل جھیل کے کنارے ایک محافظ کھڑا ہے فولادی لباس میں ملبوس مگر آنکھوں میں خوف کی چمک لیے ہوئے۔ یہ منظر محض ایک سپاہی کی موجودگی نہیں بلکہ اس خوف، جبر اور غیر یقینی فَضا کی علامت ہے جو پورے کشمیر پر طاری ہے۔ شاعر کی نگاہ سطحی نہیں بلکہ باطنی ہے اور یہی بزمی صاحب کی شاعری کی شناخت بھی ہے۔ وہ فولاد میں لپٹے بدن کے پیچھے ایک لرزتے ہوئے انسان کو دیکھ لیتا ہے۔
    ڈل جھیل کا میلا پانی، شکستہ شکارے اور بجھا بجھا سا بزرگ مانجھی یہ سب تصویریں کشمیر کی اداسی اور ماند پڑتی ہوئی زندگی کی عکاس ہیں۔ شاعر کے بیان میں ایک ٹھہرا ہوا درد ہے جو نہ چیخ بن کر ابھرتا ہے نہ خاموشی میں گم ہوتا ہے۔ یہ درد دراصل ایک اجتماعی المیے کا استعارہ ہے۔ شاعر کی نگاہ جہاں بھی جاتی ہے وہاں بارود کی مہک، لہو کی تازگی اور تباہی کی چاپ سنائی دیتی ہے مگر اس تباہی میں بھی وہ جمال کی جھلک دیکھنے سے باز نہیں رہتا۔
    نظم کے ایک حصے میں شاعر سوال اٹھاتا ہے:
    “جو دیوداروں سے پوچھتا ہے چنار میں آگ کیوں لگی ہے؟”
    یہ سوال علامتی ہے۔ درخت فطرت کی صدیوں پرانی خاموش گواہیاں ہیں اور ان سے پوچھنا گویا وقت سے بازپرس کرنا ہے۔ چنار کی آگ صرف درخت کی نہیں بلکہ کشمیر کی روح کی آگ ہے ۔ چنار کشمیر میں ایک خاص استعارہ ہے جس سے آگ اگلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ آگ جو ظلم، جدائی اور بے بسی نے بھڑکائی ہے۔
    لیکن سرفراز بزمی مایوسی کے شاعر نہیں۔ وہ خزاں کے زرد پتوں میں بھی بہار کی جھلک دیکھ لیتے ہیں۔ ان کی نظم کا سب سے درخشاں لمحہ وہ ہے جب وہ کہتے ہیں:
    “بجھی بجھی کانگڑی میں لیکن ابھی شرارے دہک رہے ہیں”
    یہ بات نظم کی فکری روح ہے۔ “کانگڑی” کشمیر کی روایتی حرارت ہے اور “شرارے” انسانی ارادے اور ضمیر کی علامت۔ کانگڑی کشمیر کی ثقافت کا وہ حسین چہرہ ہے جس کی مٹھی بھر آگ یخ بستہ موسم میں بھی حرارت دیتی ہے۔ وہ کم زور سی آگ برف میں بھی سردی کو شکست ریخت کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ شاعر کا بھی یقین ہے کہ ظلمتوں کے باوجود انسان کے باطن میں امید کی چنگاری زندہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں نظم محض بیان سے نکل کر فلسفے میں بدل جاتی ہے۔
    پھر منظر بدلتا ہے۔ برف پوش پہاڑ، پہلگام کی سفید چوٹیاں، آبشاروں کی شوخ سرگم سب امید، بقا اور تجدیدِ حیات کی علامت بن جاتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ خزاں کا موسم عارضی ہے، زخم مندمل ہوں گے اور بہارِ نو پھر سے لوٹے گی۔ یہ ایمان دراصل زندگی کے ابدی اصولِ تغیر پر مبنی ہے۔یہ فکر ہر کشمیری مفکر کی ہے ،ہر شاعر کی اور ہر قلم کار کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر اس زندہ انسان کی جس کا خمیر تو کشمیر کی مٹی سے نہیں اٹھا تاہم وہ کشمیر کے درد سے مکمل طور پر آشنا ہے۔ سرفراز بزمی کا تعلق بھی مؤخر الذکر قبیل سے ہے۔
    نظم کے اختتام پر لہجہ درویشانہ اور روحانی ہو جاتا ہے۔ شاعر دعا دیتا ہے:
    “خدا تمھیں قوتِ نمو دے، وقارِ غیرت رہے سلامت، تمھیں محبت کی آبرو دے۔”
    یہ دعا کشمیر کے لیے ہے مگر اس کی معنویت عالمی ہے۔ یہ دراصل انسانیت، آزادی اور محبت کے بقا کی دعا ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ زمین پر حسن صرف فطرت سے نہیں بلکہ انسان کے ضمیر سے بھی جنم لے۔
    اگر اس نظم کو تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں تین بنیادی سطحیں واضح طور پر محسوس ہوتی ہیں۔ جمالیاتی سطح پر بزمی صاحب نے فطرت کی منظرکشی کو نہایت باریک حِسّی مشاہدے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ڈل جھیل کا نیلگوں پانی، جلے درختوں کی بو، چنار کے زرد پتے یہ سب تصویری ترکیبیں قاری کے ذہن میں متحرک منظر بنا دیتی ہیں۔ فکری سطح پر نظم حسن و جبر، خوف و امید اور خزاں و بہار کے تضاد پر قائم ہے۔ شاعر کے نزدیک مایوسی محض وقتی کیفیت ہے جب کہ امید اور تجدید انسان کی اصل شناخت ہے۔ علامتی سطح پر خزاں زوال اور جبر کی علامت ہے، بہار تجدید و آزادی کی اور شرارے انسانی حوصلے اور بےدار ضمیر کے پیام بر۔
    یہ نظم صرف کشمیر کی روداد نہیں بلکہ انسان کی ابدی جستجو اور مزاحمت کا استعارہ ہے۔ اس میں فطرت، تاریخ اور انسان ایک ہی بیانیے میں ضم ہو گئے ہیں۔ شاعر نے فطرت کے حسن میں چھپا ہوا کرب دکھایا ہے اور کرب میں چھپی ہوئی امید کو جاوداں کیا ہے۔
    “پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” محض مناظرِ فطرت کی نظم نہیں، بلکہ ایک عہد کی روح کا بیان ہے۔ اس میں خزاں کی سرد ہوا کے ساتھ امید کی حرارت بہتی ہے اور شاعر کے الفاظ دل پر یوں نقش ہو جاتے ہیں جیسے چنار کے پتوں پر اترتی دھوپ۔ یہ نظم کشمیر کا نوحہ بھی ہے اور انسان کی جاودانی امید کا اعلان بھی کہ اندھیروں کے باوجود چراغِ ہمت جلا ہوا ہے۔

    Title Image background by Joe from Pixabay