اٹک (ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر) ہمسایہ دشمن ملک بھارت کے خلاف آپریشن بنیان المرصوص پاکستانی فوج کا وہ کارنامہ ہے جسے انڈیا کی کئی نسلیں صدیوں یاد رکھیں گی، پاک فوج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل حافظ سیدعاصم منیر کے وہ الفاظ سونے سے لکھنے کے قابل ہیں جن میں آپ نے کہا ہے کہ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد” اسی جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے اٹک شہر میں ایک جوش و جذبہ کے ساتھ مشاعرہ منعقد کیا گیا ہے، جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا،پیارے وطن پاکستان کی طرف جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھنے کی ناپاک کوشش کی ہے تو ہماری پاک فوج نے شیر کی طرح حملے کر کے ایسا دندان شکن جواب دیا ہے کہ پوری دنیا میں پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور دشمن کو ایسا سبق سکھایا ہے کہ جو رہتی دنیا تک ایک مثال رہے گا،اس عظیم فتح کو بنیان ا لمرصوص کا نام دیا گیا ہے،جب بھی پاک وطن پاکستان کیلئے قربانیوں کی ضرورت پڑی تو اٹک کے لوگوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ملک سے محبت ہونے کا ثبوت دیا ہے، پیارے وطن پاکستان کی اس عظیم الشان فتح کے موقع پر سب سے پہلے اٹک کی نمائندہ علمی، ادبی اور ثقافتی تنظیم کاروانِ قلم اٹک نے محکمہ صحت اٹک اور محکمہ بہبود آبادی اٹک کے اشتراک سے” یوم تشکر ”کے عنوان سے یوم تکبیر کے موقع پر ایک مشاعرے کا اہتمام حبیب ریسٹورنٹ اٹک میں کیا گیا ہے،سخن وروں نے بنیان المرصوص آپریشن پر پاک فوج کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے،
جس مشاعرے کی صدارت تحصیل فتح جنگ سے آئے ہوئے مشہور و معروف نعت گو مہمان شاعر داؤد تابش نے کی ہے جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اٹک ڈاکٹر کاشف تھے،مشاعرے میں مہمانِ اعزاز اٹک کے مشہور و معروف نعت گو شاعر سعادت حسن آس تھے، تقریب میں نظامت کے بہترین فرائض چیئرمین کاروانِ قلم اٹک نزاکت علی نازک نے سر انجام دیئے ہیں،مشاعرے کی تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہواہے،جس کی سعادت طارق بشیر نے حاصل کی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر اٹک ظفر اقبال رحمانی اور نعلین حیدر سلطان نے اپنی خوبصورت اور پرسوز آواز میں بارگاہ رسالت مآب ؐ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے،مشاعرے میں جن شعرائے کرام نے اپنا اپنا کلام سنایا ہے، ان میں صدر محفل داؤد تابش، مہمان اعزاز سعادت حسن آس، حکیم خان حکیم،ارشاد علی،سید حبدار قائم شاہ، ریاست لبید اور نزاکت علی نازک کے اسمائے گرامی شامل ہیں،پروگرام میں پاک فوج اور پاک فضائیہ کے دلیر جوانوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شعراء نے ملی نغمے اور شیر جوانوں کی شان میں منظوم کلام سناتے ہوئے خوب داد وصول کی ہے،پیارے وطن پاکستان کی بھارت کے خلاف عظیم فتح کے موقع پر مختلف پروگرامز ملک کے کونے کونے میں منعقد ہوئے ہیں لیکن مشاعرے کی صورت میں کاروانِ قلم اٹک کا واحد اہتمام نمایاں نظر آیا ہے،جس کو اہل محفل نے شاندار الفاظ میں بہت سراہا ہے،آخر میں پاک وطن کے شہداء اور ایٹمی سائنسدان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کیلئے خصوصی طور پر دعائے مغفرت کی گئی ہے۔
جاوید عباس جاوید : ضلع بھکر میں اُردو شعر و ادب کا روشن چراغ ہیں ۔ جاوید عباس جاوید بھکر شہر کے باسی ہیں اور اُردو شعری و نثری حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں ۔ وہ اُردو زبان و ادب ، شاعری اور ثقافت کے حوالے سے اپنی ذات میں ایک مکمل حوالہ اور ادارہ ہیں ۔ شعر و ادب کے لیے ان کی خدمات بہت قیمتی اور لازوال ہیں ۔جاوید عباس کے والد غلام محمد متین کوٹلہ جامی ایک کہنہ مشق اُردو شاعر اور نثر نگار تھے ۔جاوید نے اپنے والدِ مرحوم کی تقلید میں اُردو شاعری اور نثرنگاری کو اپنا مشغلہ بنایا اور بچپن سے ہی شاعری اور نثر نگاری میں سکون محسوس کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ محکمہ تعلیم میں بطورِ پرائمری مدرس بھرتی ہوئے اور اپنے شعری ذوق و شوق کی وجہ سے ترقی کرتے کرتے اُردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بن گئے اور اسی عہدے سے گورنمنٹ کامرس کالج جھنگ سے ریٹائر ہوئے ۔ انھوں نے شعر و ادب کی دُنیا میں اپنی پہچان کرائی ۔ یہی پہچان آپ کا وسیلہِ روزگار بھی بن گئی اور آپ کی ذات میں چھپی ہوئی خوبیوں کو اجاگر بھی کر دیا ۔ جاوید نے بسلسلہِ ملازمت 2006ء میں ہمارے شہر منکیرہ میں سینئرانسٹرکٹر اُردو کے عہدے پر تعینات ہوئے ۔ وہ بھکر سے روزانہ منکیرہ آتے تھے اور کالج ٹائم کے بعد واپس جاتے تھے ۔ اُن دنوں میرا تعلق اُردو ادب کے سلسلے میں مرحوم علی شاہ کے ساتھ تھا ۔ میں علی شاہ ( مرحوم ) اور بلال مہدی ( مرحوم ) کے ہمراہ کامرس کالج بھکر میں گیا ۔جہاں میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی ۔ پھر اُن سے اکثر منکیرہ کے بس اسٹاپ پر ملاقات ہوتی رہتی تھی ۔ جہاں علی شاہ ( مرحوم ) بھی موجود ہوتے تھے ۔ چائے کی چُسکیوں کے ساتھ ادبی موضوعات پرباتیں ہوتیں اور گپ شپ بھی ہوتی تھی ۔ جاوید عباس جاوید کی ذات سادگی ، خلوص اور سچائی کا ایک مکمل نمونہ ہے ۔ اُن میں کوئی فخر ، بڑائی ، خود سرائی اور خوشامد پسندی کا جذبہ نہیں ہے ۔ سچی اور پرخلوص باتیں کرنا اُن کی شناخت ہے اور اپنی ذات میں موجود فنی خوبیوں اور دیگر اوصاف کے اظہار میں انھوں نے کبھی نہ حسد کیا ہے ، نہ تکبر کیا ہے اور نہ کبھی کسی سے اپنا مقابلہ یا موازنہ کیا ہے ۔ اُن کی ذات میں علم وآگہی کے جو دریا موجود ہیں اُن کے نمایاں کرنے میں وہ کبھی شوق نہیں رکھتے تھے ۔ دوسروں کا کلام اور باتیں بڑے شوق سے سنتے ہیں لیکن اپنی ذات اور فن کے اظہار کرنے میں وہ اکثرکسرِ نفسی سے کام لیتے ہیں ۔ جاوید نے بتایا کہ انھوں نے نثر لکھنے سے ابتدا کی تھی ۔ 1974 ء جب وہ کلورکوٹ ہائی سکول میں نویں جماعت میں پڑھتے تھے تو اُن کے لکھے ہوئے نثری کہانی نما افسانے لاہور سے شائع ہونے والے بچوں کے معروف رسالے ٫٫ کھلونا ،، میں چھپتی تھیں اور اُس وقت کے معروف اخبار ٫٫ امروز ،، کے بچوں کے ایڈیشن ٫٫ بچوں کی دنیا ،، میں اُن کی نظمیں اور مختصر تحریریں چھپتی تھیں ۔ ٫٫ امروز ،، اخبار میں اُن دنوں منو بھائی کا کالم چھپتا تھا ۔جس کا نام ٫٫ گریبان ،، تھا اور اس کالم میں اکثر منو بھائی کلورکوٹ کی اپنی یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ جاوید کا بچپن اور جوانی کا ابتدائی حصّہ کلورکوٹ میں گزرا ہے ۔ جہاں اُن کے والد متین کوٹلہ جامی مارکیٹ کمیٹی کے سیکریٹری تھے ۔ چنانچہ جاوید عباس بھی اکثر کلورکوٹ کی یادوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ جاوید بتاتے ہیں کہ : ٫٫ میرے والد گرامی اکثر اُردو ادب اور شاعری کی باتیں کرتے تھے اور ہم بہن بھائیوں میں بھی یہ عادت سرائیت کر گئی اور یوں ہم بھی اُردوشاعری اور نثر کی طرف راغب ہوئے ۔ غالباً 1971 – 1972ء کی بات ہے جب محلہ جھرولی کلورکوٹ میں ان کا گھر تھا اور ان کے بڑے بھائی اظہار الحسن المعروف حسن رضا نے کلورکوٹ کے ادب شناس ادیبوں لوگوں کے ساتھ مل کر وہاں اُردو کی پہلی انجمن بنائی ۔جس کا نام ٫٫ انجمن اسرارِ ادب ،، تھا ۔ اِس انجمن کے زیرِ انتظام ان کی بیٹھک میں تین مشاعرے ہوئے تھے ۔ جن میں کلورکوٹ کے شاعروں میں سے عبدالکریم مستانہ ، حمید اختر کاشف ، شبیر اختر ، لطیف عابدی ، تقی شاہ راغب ، اشک پٹیالوی ، ماسٹر عبدالعزیز آصف ، کرم حیدر بے کس ، غلام محمد تقی اور رانا جمیل و دیگر شعراء شریک ہوتے تھے ۔ اِس انجمن کے سرپرست رانا نذر محمد خان شمیم تھے ۔ ان مشاعروں میں دریا خان سے عابد سیمابی ، انجم عابدی ، قاضی اشتیاق اسیر جیسے شاعر بھی مدعو کیے گئے تھے ۔ اس انجمن کے زیرِ اہتمام دو کتابچے شائع ہوئے جو کلورکوٹ ( بھکر ) میں اُردو ادب پہلی تحریک تھی ۔ اس رسالے کا نام ٫٫ اسرارِ ادب ،، تھا اور اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے تھے ۔ اُن دنوں ڈیرہ اسماعیل جاکر اشک پٹیالوی یہ رسائل چھپوا کر آتے تھے ۔
کلورکوٹ کی اور بھی دیگر اہم باتیں وہ سناتے رہتے تھے ۔ بعد ازاں اُن کے تنقیدی مضامین ٫٫ ماہِ نو ،، لاہور ، ٫٫ تخلیق ،، لاہور ، ماہنامہ ٫٫ ارژنگ،، ،٫٫ طلوعِ اشک ،، لاہور ، ٫٫ اسالیب ،، سرگودھا ، ٫٫ نظریہِ پاکستان ،، لاہور اور ٫٫ حقیقت ،، بہاولپور میں شائع ہوتے رہے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے بھکر سے شائع ہونے والے تمام مقامی اخبارات میں کالم نگاری کی ہے ۔ جس کا ریکارڈ اُن کے پاس محفوظ ہے ۔ بھکر کامرس کالج میں 1991ء میں انھوں نے پہلا میگزین ٫٫ الفلاح ،، کے نا م سے 1991ء میں شائع کیا اور یہ میگزین نوسال تک شائع ہوتا رہا ۔ بعد میں اس کا نام ٫٫ سرمایہ ،، رکھ دیا گیا ۔ اس رسالے کی معاونت میں ان کے ساتھ سعید عاصم اور قلبِ عباس بھی شامل تھے جوان دنوں کامرس کالج میں پڑھاتے تھے ۔ انھوں نے دیگر کامرس کالجزکے رسائل میں بھی شاعری اور مضامین شائع کیے ہیں ۔ ان کے بڑے بھائی ظفر عباس بھکر کے معروف شاعر ہیں ۔ ان کی چار شعری تصانیف شائع ہوچکی ہیں ۔انھیں شاعرِ ہفت بھی کہاجاتا ہے ۔ انھوں نے اُردو کے شاعری ساتھ ساتھ فارسی میں بھی شاعری کی جو ایرانی رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہے ۔ اس طرح ان کا گھرانہ بھکر کے ادبی گھرانوں میں سرفہرست ہے ۔ ان کے تنقیدی مضامین بہت سی کتابوں میں شائع ہوئے ہیں ۔جن کے تذکرے کے لیے ایک الگ موضوع درکار ہے اور وہ بھکر کے نثرنگاروں میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ۔ آپ کا ایم ۔ فل ( اُردو ) کا مقالہ بعنوان ٫٫ بھکر کے غزل گوشعراء 1947ء تا 2003 ء ،، ایک بہت نادر تحقیقی دستاویز ہے ۔جس سے بھکر کے شعر و ادب کے دلدادہ اور محققین بھرپور استفادہ کرتے ہیں ۔ 2022ء میں اُن کا مجموعہِ کلام ٫٫ راستے آساں ہوئے ،، شائع ہوا ۔ اس میں حمد ، نعت ، مرثیہ ، نظمیں ( آزادوپابند ) ، قطعات اور 100 غزلیات ہیں ۔ وہ بھکر کے اکثر مشاعروں اور ادبی محفلوں میں شرکت کرتے رہے ہیں ۔ ان کے شاگردوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جوان کی قدر جانتے ہیں اور آج بھی ان سے کسبِ فیض کرتے ہیں ۔ ان کی محفل علم و ادب کے متلاشیوں کے لیے ہمہ وقت حاضر ہے اور وہ یہ فریضہ بڑی خوشی اور توجہ سے کرتے ہیں ۔ان کے شاگردوں کے علاوہ ادبی محققین کی بڑی تعداد ان کے پاس اصلاح و مشاورت کے لیے آتے ہیں اور وہ ایم ۔ فل اور پی ۔ ایچ ۔ڈی سطح مقالہ جات کی تکمیل کے ساتھ اشعار کی اصلاح ، نثر نگاری کے عوامل اور ادبی معاملات میں رہنمائی کر کے خوشی محسوس کر تے ہیں ۔ اُن سے میری کافی عرصہ رفاقت رہی اور میں ان کے شاگردوں میں اپنا شمار کرنا اعزاز سمجھتا ہوں ۔ علاوہ ازیں بھکر کے نوجوان شعرا ء میں سے صفدر کربلائی ، مظہر مونس ، سعید عاصم ، شاہد بلال حسرت کاشمار بھی ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ جہاں تک پروفیسر جاوید عباس جاوید کے نظریات اور ان کی شاعری کے موضوعات کا تعلق ہے ، میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کے کلام میں ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کا بڑا ذکر ہے ۔ وہ یہ باتیں کر کے بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے خُدا پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔توحید ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ ان کا کلام متنوع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے ۔انھوں نے نظم ونثر کی کئی اصناف میں اسپِ قلم کے جوہر دکھائے ہیں ۔ بلاتشکیک جاوید عباس ایک مہان شاعر ، نفیس نثرنگار اور شفیق استاد کے تمام خصائل سے مالا مال ہیں ۔توحید پر ان کے یقینِ کامل کے تناظر میں اشعار ملاحظہ فرمائیں :
جاوید وقفِ سجدہ تھی واحد خُدا کی ذات یہ کیا ہوا کہ سینکڑوں مسجود ہو گئے ——–٭——— میرے سچے خُدا کہاں ہے تُو ناخداؤں میں پھنس گیا ہوں میں
جاوید عباس جاوید تھل دھرتی اور وسیب کے ماحول کو بھی اپنی شاعری میں یاد رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے اشعار مقبول ہیں ۔ اپنی مٹی اور صحرا سے محبت کا ثبوت جاوید عباس اشعار کے پیرائے میں کچھ یوں پیش کرتے ہیں :
سنا ہے لوگ بستے ہیں پہاڑوں اور جھیلوں پر ہمیں تو چین ملتا ہے فقط بھکر کے ٹیلوں پر ————٭—— قیامت کی تپش ، آندھی کے جھکڑ یہی دیکھے سدا احوالِ بھکر ———–٭————– تھل کے صحرا میں عجب آئی بہار خشک ٹیلے مرکزِ باراں ہوئے
اُن کی شاعری میں اپنی ذات اور معاشرتی ناہمواروں کے حوالے سے خصوصاً ان کی غزلیات کے مقطع میں خوبصورت اشعار ملتے ہیں جس سے ان کی شاعری میں جدت و انفرادیت واضح جھلکتی ہے :
اپنے ہونے پر بہت نازاں ہوئے ………. ہم بھی اپنے دور کے انساں ہوئے زندگانی کا سفر دشوار تھا ………. بندگی سے ٫٫ راستے آساں ہوئے ،،
وقت کی دُھند میں نہ کھوجانا ………. غمِ ہستی کے داغ دھوجانا کبھی فرصت ملے اگر جاوید ………. گزرے وقتوں کی کھوج کو جانا
الغرض ! جاوید میرے محسن و مربی ہیں اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ خصوصاً ان کی ذات میں جو سادگی اور خلوص پایا جاتا ہے وہ مجھے بہت حوصلہ دیتا ہے ۔ میں ان سے ہر بات پر بے دھڑک مشورہ لیتا ہوں اور وہ کسی دباؤ یا کسی مطلب کے بغیر درست اور بہترین مشورہ دیتے ہیں ۔ بھکر میں ان کی موجودگی ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کا سایہ میرے جیسے نوآموز اور ادب دوست لکھاری اور شعراء کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ اللّٰہ تبارک تعالیٰ انھیں صحتِ کاملہ اور عمرِ خضر عطا فرمائے اور تشنگانِ شعر و ادب ان جیسے نخلِ تناور سے سیراب ہونے والوں کو فیضیاب کرے ۔آخر میں ان کا ایک شعر دیکھیں :
بہت سے کام کرنے کے ابھی جاوید رہتے ہیں مگر یہ زندگانی بھی کہاں تک ساتھ دیتی ہے ۔ *
جاویدعباس جاوید:ضلع بھکر میں اردوشعروادب کا روشن چراغ
جاوید عباس جاوید : ضلع بھکر میں اُردو شعر و ادب کا روشن چراغ ہیں ۔ جاوید عباس جاوید بھکر شہر کے باسی ہیں اور اُردو شعری و نثری حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں ۔ وہ اُردو زبان و ادب ، شاعری اور ثقافت کے حوالے سے اپنی ذات میں ایک مکمل حوالہ اور ادارہ ہیں ۔ شعر و ادب کے لیے ان کی خدمات بہت قیمتی اور لازوال ہیں ۔جاوید عباس کے والد غلام محمد متین کوٹلہ جامی ایک کہنہ مشق اُردو شاعر اور نثر نگار تھے ۔جاوید نے اپنے والدِ مرحوم کی تقلید میں اُردو شاعری اور نثرنگاری کو اپنا مشغلہ بنایا اور بچپن سے ہی شاعری اور نثر نگاری میں سکون محسوس کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ محکمہ تعلیم میں بطورِ پرائمری مدرس بھرتی ہوئے اور اپنے شعری ذوق و شوق کی وجہ سے ترقی کرتے کرتے اُردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بن گئے اور اسی عہدے سے گورنمنٹ کامرس کالج جھنگ سے ریٹائر ہوئے ۔ انھوں نے شعر و ادب کی دُنیا میں اپنی پہچان کرائی ۔ یہی پہچان آپ کا وسیلہِ روزگار بھی بن گئی اور آپ کی ذات میں چھپی ہوئی خوبیوں کو اجاگر بھی کر دیا ۔ جاوید نے بسلسلہِ ملازمت 2006ء میں ہمارے شہر منکیرہ میں سینئرانسٹرکٹر اُردو کے عہدے پر تعینات ہوئے ۔ وہ بھکر سے روزانہ منکیرہ آتے تھے اور کالج ٹائم کے بعد واپس جاتے تھے ۔ اُن دنوں میرا تعلق اُردو ادب کے سلسلے میں مرحوم علی شاہ کے ساتھ تھا ۔ میں علی شاہ ( مرحوم ) اور بلال مہدی ( مرحوم ) کے ہمراہ کامرس کالج بھکر میں گیا ۔جہاں میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی ۔ پھر اُن سے اکثر منکیرہ کے بس اسٹاپ پر ملاقات ہوتی رہتی تھی ۔ جہاں علی شاہ ( مرحوم ) بھی موجود ہوتے تھے ۔ چائے کی چُسکیوں کے ساتھ ادبی موضوعات پرباتیں ہوتیں اور گپ شپ بھی ہوتی تھی ۔ جاوید عباس جاوید کی ذات سادگی ، خلوص اور سچائی کا ایک مکمل نمونہ ہے ۔ اُن میں کوئی فخر ، بڑائی ، خود سرائی اور خوشامد پسندی کا جذبہ نہیں ہے ۔ سچی اور پرخلوص باتیں کرنا اُن کی شناخت ہے اور اپنی ذات میں موجود فنی خوبیوں اور دیگر اوصاف کے اظہار میں انھوں نے کبھی نہ حسد کیا ہے ، نہ تکبر کیا ہے اور نہ کبھی کسی سے اپنا مقابلہ یا موازنہ کیا ہے ۔ اُن کی ذات میں علم وآگہی کے جو دریا موجود ہیں اُن کے نمایاں کرنے میں وہ کبھی شوق نہیں رکھتے تھے ۔ دوسروں کا کلام اور باتیں بڑے شوق سے سنتے ہیں لیکن اپنی ذات اور فن کے اظہار کرنے میں وہ اکثرکسرِ نفسی سے کام لیتے ہیں ۔ جاوید نے بتایا کہ انھوں نے نثر لکھنے سے ابتدا کی تھی ۔ 1974 ء جب وہ کلورکوٹ ہائی سکول میں نویں جماعت میں پڑھتے تھے تو اُن کے لکھے ہوئے نثری کہانی نما افسانے لاہور سے شائع ہونے والے بچوں کے معروف رسالے ٫٫ کھلونا ،، میں چھپتی تھیں اور اُس وقت کے معروف اخبار ٫٫ امروز ،، کے بچوں کے ایڈیشن ٫٫ بچوں کی دنیا ،، میں اُن کی نظمیں اور مختصر تحریریں چھپتی تھیں ۔ ٫٫ امروز ،، اخبار میں اُن دنوں منو بھائی کا کالم چھپتا تھا ۔جس کا نام ٫٫ گریبان ،، تھا اور اس کالم میں اکثر منو بھائی کلورکوٹ کی اپنی یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ جاوید کا بچپن اور جوانی کا ابتدائی حصّہ کلورکوٹ میں گزرا ہے ۔ جہاں اُن کے والد متین کوٹلہ جامی مارکیٹ کمیٹی کے سیکریٹری تھے ۔ چنانچہ جاوید عباس بھی اکثر کلورکوٹ کی یادوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ جاوید بتاتے ہیں کہ : ٫٫ میرے والد گرامی اکثر اُردو ادب اور شاعری کی باتیں کرتے تھے اور ہم بہن بھائیوں میں بھی یہ عادت سرائیت کر گئی اور یوں ہم بھی اُردوشاعری اور نثر کی طرف راغب ہوئے ۔ غالباً 1971 – 1972ء کی بات ہے جب محلہ جھرولی کلورکوٹ میں ان کا گھر تھا اور ان کے بڑے بھائی اظہار الحسن المعروف حسن رضا نے کلورکوٹ کے ادب شناس ادیبوں لوگوں کے ساتھ مل کر وہاں اُردو کی پہلی انجمن بنائی ۔جس کا نام ٫٫ انجمن اسرارِ ادب ،، تھا ۔ اِس انجمن کے زیرِ انتظام ان کی بیٹھک میں تین مشاعرے ہوئے تھے ۔ جن میں کلورکوٹ کے شاعروں میں سے عبدالکریم مستانہ ، حمید اختر کاشف ، شبیر اختر ، لطیف عابدی ، تقی شاہ راغب ، اشک پٹیالوی ، ماسٹر عبدالعزیز آصف ، کرم حیدر بے کس ، غلام محمد تقی اور رانا جمیل و دیگر شعراء شریک ہوتے تھے ۔ اِس انجمن کے سرپرست رانا نذر محمد خان شمیم تھے ۔ ان مشاعروں میں دریا خان سے عابد سیمابی ، انجم عابدی ، قاضی اشتیاق اسیر جیسے شاعر بھی مدعو کیے گئے تھے ۔ اس انجمن کے زیرِ اہتمام دو کتابچے شائع ہوئے جو کلورکوٹ ( بھکر ) میں اُردو ادب پہلی تحریک تھی ۔ اس رسالے کا نام ٫٫ اسرارِ ادب ،، تھا اور اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے تھے ۔ اُن دنوں ڈیرہ اسماعیل جاکر اشک پٹیالوی یہ رسائل چھپوا کر آتے تھے ۔
کلورکوٹ کی اور بھی دیگر اہم باتیں وہ سناتے رہتے تھے ۔ بعد ازاں اُن کے تنقیدی مضامین ٫٫ ماہِ نو ،، لاہور ، ٫٫ تخلیق ،، لاہور ، ماہنامہ ٫٫ ارژنگ،، ،٫٫ طلوعِ اشک ،، لاہور ، ٫٫ اسالیب ،، سرگودھا ، ٫٫ نظریہِ پاکستان ،، لاہور اور ٫٫ حقیقت ،، بہاولپور میں شائع ہوتے رہے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے بھکر سے شائع ہونے والے تمام مقامی اخبارات میں کالم نگاری کی ہے ۔ جس کا ریکارڈ اُن کے پاس محفوظ ہے ۔ بھکر کامرس کالج میں 1991ء میں انھوں نے پہلا میگزین ٫٫ الفلاح ،، کے نا م سے 1991ء میں شائع کیا اور یہ میگزین نوسال تک شائع ہوتا رہا ۔ بعد میں اس کا نام ٫٫ سرمایہ ،، رکھ دیا گیا ۔ اس رسالے کی معاونت میں ان کے ساتھ سعید عاصم اور قلبِ عباس بھی شامل تھے جوان دنوں کامرس کالج میں پڑھاتے تھے ۔ انھوں نے دیگر کامرس کالجزکے رسائل میں بھی شاعری اور مضامین شائع کیے ہیں ۔ ان کے بڑے بھائی ظفر عباس بھکر کے معروف شاعر ہیں ۔ ان کی چار شعری تصانیف شائع ہوچکی ہیں ۔انھیں شاعرِ ہفت بھی کہاجاتا ہے ۔ انھوں نے اُردو کے شاعری ساتھ ساتھ فارسی میں بھی شاعری کی جو ایرانی رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہے ۔ اس طرح ان کا گھرانہ بھکر کے ادبی گھرانوں میں سرفہرست ہے ۔ ان کے تنقیدی مضامین بہت سی کتابوں میں شائع ہوئے ہیں ۔جن کے تذکرے کے لیے ایک الگ موضوع درکار ہے اور وہ بھکر کے نثرنگاروں میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ۔ آپ کا ایم ۔ فل ( اُردو ) کا مقالہ بعنوان ٫٫ بھکر کے غزل گوشعراء 1947ء تا 2003 ء ،، ایک بہت نادر تحقیقی دستاویز ہے ۔جس سے بھکر کے شعر و ادب کے دلدادہ اور محققین بھرپور استفادہ کرتے ہیں ۔ 2022ء میں اُن کا مجموعہِ کلام ٫٫ راستے آساں ہوئے ،، شائع ہوا ۔ اس میں حمد ، نعت ، مرثیہ ، نظمیں ( آزادوپابند ) ، قطعات اور 100 غزلیات ہیں ۔ وہ بھکر کے اکثر مشاعروں اور ادبی محفلوں میں شرکت کرتے رہے ہیں ۔ ان کے شاگردوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جوان کی قدر جانتے ہیں اور آج بھی ان سے کسبِ فیض کرتے ہیں ۔ ان کی محفل علم و ادب کے متلاشیوں کے لیے ہمہ وقت حاضر ہے اور وہ یہ فریضہ بڑی خوشی اور توجہ سے کرتے ہیں ۔ان کے شاگردوں کے علاوہ ادبی محققین کی بڑی تعداد ان کے پاس اصلاح و مشاورت کے لیے آتے ہیں اور وہ ایم ۔ فل اور پی ۔ ایچ ۔ڈی سطح مقالہ جات کی تکمیل کے ساتھ اشعار کی اصلاح ، نثر نگاری کے عوامل اور ادبی معاملات میں رہنمائی کر کے خوشی محسوس کر تے ہیں ۔ اُن سے میری کافی عرصہ رفاقت رہی اور میں ان کے شاگردوں میں اپنا شمار کرنا اعزاز سمجھتا ہوں ۔ علاوہ ازیں بھکر کے نوجوان شعرا ء میں سے صفدر کربلائی ، مظہر مونس ، سعید عاصم ، شاہد بلال حسرت کاشمار بھی ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ جہاں تک پروفیسر جاوید عباس جاوید کے نظریات اور ان کی شاعری کے موضوعات کا تعلق ہے ، میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کے کلام میں ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کا بڑا ذکر ہے ۔ وہ یہ باتیں کر کے بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے خُدا پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔توحید ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ ان کا کلام متنوع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے ۔انھوں نے نظم ونثر کی کئی اصناف میں اسپِ قلم کے جوہر دکھائے ہیں ۔ بلاتشکیک جاوید عباس ایک مہان شاعر ، نفیس نثرنگار اور شفیق استاد کے تمام خصائل سے مالا مال ہیں ۔توحید پر ان کے یقینِ کامل کے تناظر میں اشعار ملاحظہ فرمائیں :
جاوید وقفِ سجدہ تھی واحد خُدا کی ذات یہ کیا ہوا کہ سینکڑوں مسجود ہو گئے ——–٭——— میرے سچے خُدا کہاں ہے تُو ناخداؤں میں پھنس گیا ہوں میں
جاوید عباس جاوید تھل دھرتی اور وسیب کے ماحول کو بھی اپنی شاعری میں یاد رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے اشعار مقبول ہیں ۔ اپنی مٹی اور صحرا سے محبت کا ثبوت جاوید عباس اشعار کے پیرائے میں کچھ یوں پیش کرتے ہیں :
سنا ہے لوگ بستے ہیں پہاڑوں اور جھیلوں پر ہمیں تو چین ملتا ہے فقط بھکر کے ٹیلوں پر ————٭—— قیامت کی تپش ، آندھی کے جھکڑ یہی دیکھے سدا احوالِ بھکر ———–٭————– تھل کے صحرا میں عجب آئی بہار خشک ٹیلے مرکزِ باراں ہوئے
اُن کی شاعری میں اپنی ذات اور معاشرتی ناہمواروں کے حوالے سے خصوصاً ان کی غزلیات کے مقطع میں خوبصورت اشعار ملتے ہیں جس سے ان کی شاعری میں جدت و انفرادیت واضح جھلکتی ہے :
اپنے ہونے پر بہت نازاں ہوئے ………. ہم بھی اپنے دور کے انساں ہوئے زندگانی کا سفر دشوار تھا ………. بندگی سے ٫٫ راستے آساں ہوئے ،،
وقت کی دُھند میں نہ کھوجانا ………. غمِ ہستی کے داغ دھوجانا کبھی فرصت ملے اگر جاوید ………. گزرے وقتوں کی کھوج کو جانا
الغرض ! جاوید میرے محسن و مربی ہیں اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ خصوصاً ان کی ذات میں جو سادگی اور خلوص پایا جاتا ہے وہ مجھے بہت حوصلہ دیتا ہے ۔ میں ان سے ہر بات پر بے دھڑک مشورہ لیتا ہوں اور وہ کسی دباؤ یا کسی مطلب کے بغیر درست اور بہترین مشورہ دیتے ہیں ۔ بھکر میں ان کی موجودگی ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کا سایہ میرے جیسے نوآموز اور ادب دوست لکھاری اور شعراء کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ اللّٰہ تبارک تعالیٰ انھیں صحتِ کاملہ اور عمرِ خضر عطا فرمائے اور تشنگانِ شعر و ادب ان جیسے نخلِ تناور سے سیراب ہونے والوں کو فیضیاب کرے ۔آخر میں ان کا ایک شعر دیکھیں :
بہت سے کام کرنے کے ابھی جاوید رہتے ہیں مگر یہ زندگانی بھی کہاں تک ساتھ دیتی ہے ۔
پنڈی گھیب کے شاعرعبد الرحمن عبد کی کتاب اردو شاعری میں اچھا اضافہ ہے ، طاہر اسیر
اٹک (ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر) اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب،محقق،شاعروں کی پہلی ضلع اٹک رجسٹرڈ تنظیم اکادمی ادبیاتِ کیمبل پور کے کے ضلعی جنرل سیکرٹری اور ضلع اٹک کی تاریخی کتاب”جب کیمبل پور جل رہا تھا“ کے مصنف طاہر اسیرنے ضلع اٹک کی پسماندہ تحصیل پنڈی گھیب سے تعلق رکھنے والے شاعر عبد الرحمن عبد کو ان کی کتاب”نوائے خیال“ کی بہترین اشاعت پر شاندار طریقے سے مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ کتاب”نوائے خیال“ اردو شاعری میں بہترین اضافے کا موجب بنے گی،جبکہ تحصیل پنڈی گھیب کے اردو زبان کے معروف شاعرعبد الرحمن عبد کی نئی کتاب اردو شاعری میں اچھا اضافہ ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی دفتر اکادمی ادبیات کیمبل پور بمقام میونسپل کمیٹی اٹک کے لائبریری ہال میں ضلع اٹک کی پسماندہ تحصیل پنڈی گھیب سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے اردو زبان کے معروف شاعر عبد الرحمن عبدسے ملاقات کے موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے،اس موقع پر دنیا کی سب سے بڑی ویب سائیڈ ”وکی پیڈیا“ کے اردو پیج کے سابق مدیر اور ضلع اٹک کی 121سالہ تاریخ میں پہلے انگلش اور اردو 2زبانوں میں آن لائن میگزین ”آئی اٹک“ کے بانی مدیر، معروف ادیب،خطاط اور مصور آغا سید جہانگیر علی بخاری اور معروف تجزیہ نگار و اینکر پرسن ضلعی سیکرٹری اطلاعات ونشریات پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن اٹک،موسٹ سینئر صحافی ممبرا کادمی ادبیات کیمبل پور ہشام خان اعوان بھی موجود تھے،
تحصیل پنڈی گھیب سے تشریف لائے ہوئے اردو زبان کے معروف شاعر عبد الرحمن عبدجو کہ اردو کے سنیئر سبجیکٹ سپیشلسٹ ہیں اور آج کل تحصیل پنڈی گھیب کے ہائی سکول میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں،جبکہ ان کی شاعری کی نئی کتاب ”نوائے خیال“ سے قبل بھی عبد الرحمن عبد کی اردو شاعری کی2کتابیں ”لہر در لہر اور اشک خنداں“ بھی قارئین میں بے حد مقبول رہی ہیں، عبد الرحمن عبد نے اپنے دورہ اٹک کے دوران اٹک کے مختلف معروف شعراء کرام اور ادیبوں سے خصوصی ملاقاتیں کیں ہیں،اس موقع پر معروف ادیب،خطاط اور مصور آغا سید جہانگیر علی بخاری نے پنڈی گھیب کے معروف شاعر عبد الرحمن عبد کی نئی کتاب”نوائے خیال“ میں شامل گھیبی لہجے کی خصوصی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس شعری مجموعے کو اردو زبان کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان ا ور ادب کی خدمت پر محمول کیا ہے۔
اثر ؔ بہرائچی صاحب کا نام ذہن میں آتے ہی ایک ایسے شاعر کی تصویر آنکھوں میں آتی ہے جن کا کسی بھی ملنے والے سے نرم لہجہ ،خوش مزاجی سے ملنا ،محبت سے بات کرنا ملنے والے کو اپنا مرید بنا لے۔راقم کو بھی آپ سے کئی بار ملنے کا موقع ملا ہے خاص طور پر استاد محترم حضرت اظہار ؔوارثی صاحب مرحوم کے دولت خانے پر۔جو بھی آپ سے ایک بار ملے وہ آپ سے دوبارہ ملنے کی تمنا ضرور اپنے دل میں رکھتا ہے۔راقم سے جب بھی ملے ہمیشہ شفقت سے ملے اور کہتے کہو بیٹا، کیسے ہو ؟،آج کل کیا چل رہا ؟ جب بھی بتاتا کی بس بہرائچ کی ادبی تاریخ پر کام چل رہا ہے۔بڑے خوش ہوتے اور دعاؤں سے نوازتے۔میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب سن ۲۰۲۲ء میں میری کتاب بہرائچ ایک تاریخی شہر حصہ دوم (بہرائچ اردو ادب میں ) کا رسم اجرا آپ کی ہی صدارت میں ہوا تھا۔اس موقع پر آپ نے ہمارے دولت خانہ پر اپنی دلکش اور محسور کن آواز سے اپنے نعتیہ کلام سے محفل کا آغاز کیا تھا۔اب آئیں اثرؔ صاحب کی زندگی اور ادبی سفر پر باتیں کرتے ہیں۔ حضرت سید مبشر حسین اثر ؔبہرائچی کی ولادت شہر بہرائچ کے محلہ چکی پورہ چھوٹی بازار میں سید عنایت حسین صاحب کے گھر میں یکم؍کتوبر۱۹۴۶ءکو ہوئی۔ آپ کی والدہ کا نام مسماۃ مسلمہ خاتون تھا۔ اثرؔ صاحب نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی۔ جب آپ ہائی اسکول میں تھے اس وقت آپ کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے سبب آپ صرف ہائی اسکول تک ہی تعلیم حاصل کر سکے اور۱۹۶۴ءمیں ضلع مجسٹریٹ بہرائچ کے آفس میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور جہاں سے ۲۰۰۶ءمیں آپ ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔ حکیم محمد اظہر ؔ وارثی صاحب(شاگرد مولانا حسرتؔ موہانی و مولانا عبدالکلام آزادؔ) شہربہرائچ کے مشہور حکیم ہونے کے ساتھ ایک مشہور استاد شاعر بھی تھے اور حکیم اظہر ؔصاحب نے آپ کو اثر ؔکا تخلص دیا اور پھر آپ اثرؔ بہرائچی کے نام سے پوری ادبی دنیا میں مشہو رہوئے۔ استاد حکیم محمد اظہر ؔوارثی ؔصاحب کے انتقال کے بعد آپ نے استادالشعرا حضرت اظہار ؔ وارثی سے شرف تلمذ حاصل کیا جو اظہار ؔ صاحب کی وفات تک قائم رہا۔ اثرؔ بہرائچی کا ادبی سفر۱۹۶۹ءمیں ملک محمد جائسی کی سرزمین جائس رائے بریلی کے ایک مشاعرے سے ہوا،اور اب تک ملک و بیرون ملک میں سیکڑوں مشاعرے پڑھے۔ آپ کاآخری ادبی پروگرام اپنی نعتیہ مجموعہ ’’سرتاجِ خوباں‘‘ کی رسم اجرا رہا، جو شہر کے لگن پیلس میں منعقد ہوا تھا جس میں آپ کے قریبی دوست جناب واصف فاروقی( جن کی زندگی کےتقریباً ۳۵ سالوں کا لمبا عرصہ بہرائچ میں بہ سلسلہ ملازمت گزرا )، صوفی سید اظہارعلی ، شکیل گیاوی صاحبان اور مقامی ادبی اور علمی شخصیات نے شرکت کی تھی ۔ آپ نے ۳ بار کاٹھ مانڈو(نیپال) میں۱۹۶۹ء،۱۹۷۰ءاور ۱۹۷۲ءمیں مشاعروں میں شرکت کی اور نیپال کے بادشاہ مہندرا ویر وکرم شاہ دیو اور ہندوستانی صفیر کے سامنے کلام پیش کیااور داد تحسین حاصل کی۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۰ءمیں ریاستہائے متحدہ امریکا کے مختلف شہروں نیویارک،ہوسٹن،شکاگو،نیوجرسی،کیلیفورنیا وغیر ہ میں تقریباً۱۲؍مشاعروں میں شرکت کی اور سامعین کو اپنے کلام سے متاثر کیا۔ آپ کا کلام ملک زادہ منظور احمد کے رسالے امکان میں شائع ہوتا رہتا تھا۔ پد م شری بیکلؔ اتساہی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’اردو شعری اثاثے کا قیتمی اور محبوب سرمایہ صنف غزل ہی تو قلی قطب و لی دکنی سے جگر مرادآبادی تک سب نے اپنےخون جگر سے اس کی آبیاری کی،دکن سے شمال تک اس پیکر ِ محبوبی کے سجاؤ سنگار کے لیے کئی نظریاتی اور فنی اسکول بنا لیے گیے وہ چاہے دلی ہو یا لکھنؤ سبھی اپنے اندازِ فکر سے اسے حسِین سے حسِین تر بنانے میں مصروف رہے اور غزل اپنے رموز و علائم سیاق و سباق میں ہر دور میں پیر ہن بدلتی رہی ہے۔ دورِ نو صنف غزل کے لیے بڑا پُرآشوب دور ہے پھر بھی یہ محبوب صنف ہر اذیت کو برداشت کرتے ہوئے سامعین و قارئینکے دلوں کو لبھاتی رہی ہے۔ایسے انتشاری دور میں عزیز م اثرؔ بہرائچی نے غزل سے وابستگی رکھی ہے اور غزل کی روایتوں کو احترام و اہتمام کے ساتھ نبھایا ہے۔ایسا نہیں کہ اثرؔ بہرائچی صرف روایت اور بزرگوں کی تقلید میں سر بہ خم ہیں بلکہ عصری حیثیت کی بھی قدر کی ہے۔‘‘{ حرف حرف خوشبواز اثرؔ بہرائچی، ص۱۱} پروفیسر مالک جادہ منظور احمد لکھتے ہیں:۔ ”اثر ؔ بہرائچی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز مشاعروں کے حوالے سے کیا اور اپنے کلام کے میعار اور اپنے ترنم کی نغمگی کے باعث پورے ملک کے مشاعروں پر آندھی اور طوفان کی طرح چھائے رہے۔گذشتہ چاردہائیوںمیں مختلف شہروںمیں ہونےوالے مشاعروںمیں دیکھایہ ہے کہ ان کے اشعار کے زیر وبم اور ان کے ترنم کی نغمگی میں سامعین کے دلوں کی دھڑکنیں شامل ہوگئی۔اثرؔنے مشاعروں میں خواص کے دلوںمیں بھی جگہ بنائی اور عوامی ذہنوں کی تربیت بھی کی ہے۔ آپ کے کلام میں انسانیت کی اعلیٰ وارفع قدروں کی ترجمانی بھی ہوتی ہے اور بصیرتوں کے بہت سے پہلو بھی پیدا ہوتے ہیں۔اثرؔ بہرائچی کےیہاں عصرِ حاضر کے مسائل کی ترجمانی میں بھی بوجھل نہیں ہوتی اورپوری نغمگی آہنگِ صوتی اور تغزل کی ایک موج تہ نشیں کے ساتھ نئے موسموں کا اشاریہ بنتی ہے۔“{ حرف حرف خوشبواز اثرؔ بہرائچی، ص۷-۸ } خورشید افسر بسوانی لکھتے ہیں: ’’اثرؔ بہرائچی سے میرے دیرینہ تعلقات ہیں،میں تقریباً تیس سال سے مشاعروں میں ان کا کلام سنتا رہا ہوں ،آج بھی مشاعروں میں ان کے نام کی شمولیت ایک خوش گوار اضافہ سمجھتی جاتی ہے۔خوش آواز،خوش اخلاق،اور خوش پوش و خوش آہنگ شاعر ہیں۔ عام شعراء کی طرح ان میں کوئی بُری عادت نظر نہیں آئی بجز اس کے کہ پان کے شوقین ہیں یا چائے پیتے ہیں۔اثرؔ بہرائچی کلاسیکی غزل کے اچھے شاعر ہیں،ہاں محب وطن ہیں حب الوطنی ان کے مزاج کا حصہ بن چکی ہے لہذا مختلف موقعوں کے لیے حب وطن ست سرشار نظمیں بھی لکھی ہیں ۔ جن میں وطن پرستی اور حسنِ وطن کی پیکر تراشی کی گئی ہے۔شاعر(اثرؔ )نے لفظوں کے رنگوں سے مصوری کا کام لیا ،لیکن غزل انہیں زیادہ عزیز ہے اس صنف پر ان کی پھر پور توجہ رہی ہے ‘ ‘{ حرف حرف خوشبواز اثرؔ بہرائچی، ص۱۲} شہر بہرائچ کی ایک عظیم ادبی ہستی جو اثرؔ صاحب سے اس قدر قلبی تعلق رکھتے تھے کہ اثرؔ صاحب اور ان کی محبت صرف زندگی میں ہی نہیں بالکہ موت پر بھی ساتھ رہی اور صرف دس دنوں کے اندر ہی دونوں حضرات اس دارِ فانی سے کوچ کر گیے میری مراد مشہور افسانہ نگار،شاعر،ناظم ، غلام علی شاہ (متوفی ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۵ء مطابق یکم شوال ۱۴۴۶ھ) اثرؔ صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’اثرؔ کے یہاں انقلابی فکر بھی غنائی لہجہ میں ہے۔انھوں نے انقلابیت کے لیے غنائیت کو یا غنائیت کے لیے انقلابیت کو کبھی قربان نہیں کیا بلکہ اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت سے انقلابی فکر اور عاشقانہ لہجے کو ایسا آمیز کیا کہ ان کی شاعری میں ایک جمالیاتی شان پیدا ہو گئی ۔جیسے؎ مرے اشکوں پہ ہے شبنم کا گماں تم کو مگر آگ لگ جائے نہ دامن کو ، بچائے رکھنا
غنائی سطح پر اثرؔ کی شاعری میں ایسی قوت شفا ہے ،ایسی دلاسائی ،ایسی دلآویزی ایسی نرمی اور ایسا شبنمی لمس ہے کہ محسوس ہو تاہے جیسے کسی نے دل کے رُخسار پر پیار سے ہاتھ رکھ دیا ہو۔ایسی کھنک ہے کو یا آبشاروں نے ترنم چھیڑ دیا ہوں۔مختصر یہ کہ جناب اثر بہرائچی ایک خالص غزل گو شاعر ہیں ۔ ان کی غزلیہ شاوری قدیم و جدید رنگ ِ شاعری کا ایک خوب صورت امتزاج ہے۔ ان کے یہاں حُسن وعشق کی رنگینیاں بھی ہیں ،رعنائیاں بھی ،حدیث دل بھی ہےاور حدیث دیگراں بھی ۔غم جاناں کی چاشنی بھی اور غم دوراں کی لذت بھی ۔خیال کی پاکیزگی بھی اور اور جذبے کہ صداقت بھی روشنی کی جستجو بھی ہے اور اندھیروں سے لڑنے کا حوصلہ بھی۔زندگی کے نئے تجربے بھی ہیں اور عصری آگہی کے نمونے بھی ،فکر و نظر میں گہرائی بھی اور تنوع بھی ۔زبان و بیان میں سلاست بھی اور اسلوب میں ندرت بھی ،نئی علامتیں بھی ہیں اور نئے اشارے کنائے بھی ۔فنکارانہ مہارت بھی ہے اور پیکر تراشی بھی ،وہ کہتے ہیں ؎ ورق ورق ہے پریشاں فضا میں پھولوں کا سزا ملی ہے ذرا دیر مسکرانے کی
(حرف حرف خوشبو،اثرؔ بہرائچی،ص ۲۲)
اثرؔ بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام اب تک منظر عام پر آئے اور داد تحسین حاصل کی۔ پہلا مجموعہ نعتیہ مجموعہ ہے جس کا نام ’’رُوح‘‘ ہے۔ ’’روح ‘‘ کی اشاعت ۔ جب کہ دوسرہ مجموعہ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے اور اس مجموعہ کا نام ’’حرف حرف خوشبوں ‘‘ ہے۔اثرؔصاحب کو بہت سی ادبی تنظیموں نے انعامات سے نوازا ہے جونپور کی ایک تنظیم نے آپ کو ’منظوم‘ ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ ڈی۔ ایم۔ بہرائچ نے بھی انعامات سے نوازا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ و دور درشن لکھنؤ سے آ پ کئی بار اپنا کلام پڑھ چکے ہیں۔ آپ کی طبیعت گزشتہ کئی سالوں سے ناساز چل رہی تھی لیکن ۲۰۲۴ءمیں اپنی کتاب ’’سرتاجِ خوباں‘‘ کی رسم اجرا والے دن گھر پر گِر پڑے تھے جس کی وجہ سے آپ کو کافی چوٹیں آئیں اور پھر اپریشن بھی ہوا اور طبیعت میں سدھار بھی ہوا لیکن پھر گزشتہ دو ماہ قبل بیماری بڑھتی گئی اور لکھنؤ کے ایک ہاسپٹل میں زیر علاج رہے اور جہاں تقریباً ایک ماہ تک علاج چلا اور پھربہ روز شنبہ ۲۲ ؍مارچ ۲۰۲۵ مطابق ۲۱؍رضمان ۱۴۴۶ھ کو بہ وقت ڈھائی بجے دن میں ’’روح‘‘ پرواز گئی۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے سمدھی جناب سید ؔ نیپالی صاحب نے پڑھائی اور تدفین رات میں دس بجےخانقاہ بسم اللہ شاہ ؒ چھوٹی تکیہ کے آبائی قبرستان میں ہوئی۔ جس میں ضلع بہرائچ کے ادبی اور سماجی حلقے کے سرکردہ افراد اور عوام الناس کثیر تعداد میں شرکت فرمائی تھی۔ آپ کی دو صاحب زادے اور دو صاحب زادیاں ہیں ۔ سید دانش ہاشمی اور سید نیر ہاشمی (علیگ)۔ دانش بھائی سعودی کی ایک کمپنی سے وابستہ ہیں جب کہ نیر بھائی محکمہ تعلیم سے وابستہ ہیں او بہرائچ میں ہی رہتے ہیں،اثرؔ صاحب کی ایک صاحب زادی ضلع بہرائچ کے مشہور شاعر سید نذرالحسنین المعروف شاعرؔجمالی کے صاحب زادے جناب سید ظفر الحسنین ظفرؔ جمالی سے منسوب ہیں، جب کہ دوسری صاحب زادی بہرائچ کے تاریخی قصبہ نان پارہ میں مولانا سید مسیح اللہ ہاشمی کے چھوٹے صاحب زادے سید محمد سالک امین اللہ ہاشمی سے منسوب ہیں۔ نمونہ کلام میرے چہرے پہ اُداسی کی جھلک ہے پھر بھی میرے سینے میں محبت کے کنول کھلتے ہیں تیرے دامن میں بہاریں ہیں تو کیا ہے حاصل تیری آنکھوں میں تو نفرت کے دیئے جلتے ہیں ٭٭٭ ترا غم ، تری محبت ہے جبین دل کا مرکز میرا ذوق سجدہ ریزی ابھی در بدر نہیں ہے
٭٭٭ ابھی تو جذب محبت پہ ہے یقین مجھے ابھی نہ کھاؤ قسم لوٹ کے نہ آنے کی
٭٭٭ تغیر نام ہے انسان کی فطرت بدلنے کا زمانہ کب بدلتا ہے زمانہ تو زمانہ ہے
٭٭٭ بے نیاز آج مرے غم سے یہ دنیا ہے اثرؔ کل مرے بعد مرے پیار کا چرچا ہوگا
٭٭٭ میں ہوں خاموش تو خاموش ہے ذرہ ذرہ میری آواز زمانے کی صدا ہو جیسے
جلوؤں کی تمازت سے کبھی طور جلا دیں اور چاہیں تو شعلوں کو بھی گلزار بنا دیں کیا زیست ہے کیا زیست کا انجام بتا دیں بچھڑے ہوئے قطروں کو سمندر کا پتہ دیں جلتا ہے اگر دل بھی ہمارا تو جلا دیں نفرت کے اندھیروں کو بہر حال مٹا دیں رہ جائے نہ دنیا میں کوئی دوست کسی کا ہم آپ کے چہرسے اگر پردہ ہٹا دیں آنکھوں میں اُداسی ہے تو ہونٹوں پہ خموشی ہر شخص ہے تصویر یہاں کس کو صدا دیں روشن ہے ہر اک گوشئہ دل جس کی ضیا سے اس شمع فروزاں کو اثرؔ کیسے بجھا دیں
محمد اقبال بالم کے پردادا کا نام نور محمد تھا اور قوم چھینہ تھی برِ صغیر کے تاریخی شہر منکیرہ میں پیدا ہوئے وہ ایک برہمن ( شیوا لال ) کے ہاں ملازم تھے جس کا وسیع و عریض رقبہ تھا ۔ نور محمد چھینہ یعنی محمد اقبال بالم کے پردادا ۔ رہٹ چلا کر کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ نور محمد چھینہ کو پانچ بیٹیوں کے بعد ( 1895ء ) میں اللّٰہ تعالیٰ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا جس کا نام انہوں نے خدا بخش رکھا اُن کے ہاں ایک بڑی خوشی کا سماں تھا ڈھول بج رہے تھے مٹھائیاں بٹ رہی تھی کہ اچانک اُن کی بڑی بیٹی وفات پا گئی ۔ یوں ایک خوشی کا سماں ماتم میں تبدیل ہو گیا ۔ قصہ مختصر جب خُدا بخش 9 سال کا ہوا تو اُن کے والد نور محمد وفات پاگئے ۔ کم عمری میں ہی کھیتی باڑی کا بوجھ خُدا بخش یعنی ( محمد اقبال بالم ) کے دادا کے کندھوں پر آگیا ۔ بقول محمد اقبال دادا جان بتاتے تھے کہ کنویں کی جو گادھی تھی جس پر بیٹھ کر بیلوں کو ہانکا جاتا ہے اس پر بٹھا کر میرے ابو مجھے باندھ دیتے تھے تا کہ کہیں گر نہ جائے اور یوں خُدا جانے وہ رہٹ کتنے گھنٹے چلتا رہتا ۔ ان کے دادا کو شکار کا بہت شوق تھا اکثر ہرنی و جنگلی خرگوش کا شکار کرکے لاتے اور سب گھر والے مل بیٹھ کر پکا کر کھاتے ۔ ان کے دادا کے ہاں تین بیٹیاں اور چار بیٹے پیدا ہوئے پہلے بیٹے کا نام فلک شیر ، دوسرے بیٹے کا نام فقیر محمد ، تیسرے بیٹے کا نام امیر محمد اور چوتھے بیٹے کا نام غلام شبیر ، پہلی بیٹی کا نام زہرا مائی ، دوسری بیٹی کا نام تاج بی بی ، اور تیسری بیٹی کا نام صدا مائی ۔ بڑے ہنس مکھ انسان تھے انہوں نے ( 1975ء ) میں وفات پائی ۔ خُدا بخش کی زوجہ کا نام پٹھانی تھا جنہوں نے ( 1982ء ) میں وفات پائی ۔
فلک شیر سب بہن بھائیوں سے بڑے تھے ۔ ( محمد اقبال بالم کے والد ) انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے چار بیٹیوں اور چار بیٹوں سے نوازا یکے بعد دیگر چار بیٹیاں اور دو بیٹے اللّٰہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ بڑے بیٹے کا نام ان کے دادا کے نام پر خُدا بخش رکھا گیا جو بعد میں کالو خان کے نام سے مشہور ہوا ۔ خُدا بخش سے کالو خان کا سفر ۔ 15 سال کی عمر تھی گھر والوں کو بتا کر رشتہ داروں کے ساتھ میلہ ٹبی نور شاہ والا پر گیا ۔ فتح پور ( لیّہ ) کے قریب وہ میلہ آج کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے یعنی سالانہ دوسرے دن واپسی پر وہ گاڑی ان سے چھوٹ گئی اور رشتہ داروں نے بھی نہ سنبھالا اب گھر جانے کے لیے اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا وہ پریشان اِدھر اُدھر پھر رہا تھا کہ ٹرک والے نے آواز دی سرائے کرشنا جانے والے آ جائیں گاڑی فری میں جا رہی ہے دو لڑکے اُس میں پہلے ہی سوار تھے انہوں نے کہا آ جاؤ ہم بھی اُدھر جا رہے ہیں ۔ اِس نے یہ سوچا کہ سرائے کرشنا پر اتر کر منکیرہ چلا جاؤں گا ( یاد رہے کہ بعد میں سرائے کرشنا کا نام تبدیل کرکے سرائے مہاجر رکھا گیا ) خُدا بخش محمد اقبال بالم کا بھائی اس گاڑی میں بیٹھ گیا ۔ دو سال تک گھر والوں نے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا لیکن خُدا بخش کا کوئی اتا پتا نہیں ملا ۔ ایک دن اچانک ایک رشتہ دار دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا چارپائی لاؤ آپ کا بیٹا اڈے پر پڑا ہے کوئی ٹرک والا وہاں چھوڑ گیا ہے جا کر دیکھا تو یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ وہی خُدا بخش ہے ۔ سیاہ رنگ اور اتنا کمزور کہ کھڑے ہونے کی سکت بھی نہیں تھی ۔ کچھ دنوں بعد اُس نے بتایا کہ اُسے پٹھان اٹھا کر لے گئے تھے سارا دن بھٹے پر کام کرواتے اور رات کو زنجیروں کے ساتھ باندھ کر رکھتے تھے بارہا بھاگنے کی کوشش کی پر ناکام رہا پھر خُدا بخش کو یقین ہو گیا کہ اب میں یہاں سے نہیں بھاگ سکتا ۔ ڈیڑھ پونے دو سال ہو گئے اب انہیں بھی یہ یقین ہو گیا کہ یہ نہیں بھاگے گا تو انہوں نے ان کے زنجیر کھول دیے اور کھانا بھی ایک روٹی کے بجائے دو روٹیاں ملنے لگ گئیں ایک روٹی کھاتا اور ایک روٹی چھپا لیتا وہ کتوں کو بہت کم کھانا کھلاتے تھے ان سے چھپ چھپا کر کچھ کھانا کتوں کو ڈالتا ۔ کچھ دنوں بعد موقع ملا تو وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا جب بھی کتے نزدیک آتے تو ایک روٹی ڈال دیتا اور پھر بھاگنے لگتا لگ بھگ دو میل بھاگنے کے بعد روٹیاں ختم ہو گئی سردی کی اندھیری رات میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا اب پٹھانوں نے فائرنگ شروع کر دی ڈالوں پر گھروں سے نکل پڑے تھے کتے اتنے نزدیک آگئے تھے کہ سامنے موت نظر آرہی تھی کچھ قدموں کے فاصلے پر نہر نظر آئی اب دونوں طرف موت دکھائی دے رہی تھی کیونکہ وہ تیراکی نہیں جانتا تھا اگر وہ نہر میں چھلانگ نہ لگاتا تو کتے چیر پھاڑ دیتے اتنا ہوش تھا کہ نہر کے ساتھ ساتھ کتے بھی بھونک رہے تھے اور پٹھان نہر میں گولیاں چلا رہے تھے پھر اس کے بعد کیا ہوا خُدا جانے کتنی دیر تک نہر میں رہا صبح ہونے والی تھی کسی بھلے مانس نے نہر سے نکالا تو لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ان میں سے ایک شخص نے پہچان لیا اور کہا کہ یہ تو ہمارے علاقے کا لڑکا ہے وہ ان کو اٹھا کر اپنی گاڑی میں منکیرہ اڈے پر لے آیا ۔ اب رنگ اتنا کالا ہو چکا تھا کہ سب اپنے برائے کالو کالو کہنے لگے یوں خُدا بخش سے کالو خان مشہور ہو گیا ۔ خُدا بخش عرف کالو خان کو اللّٰہ تعالیٰ نے دو بیٹیاں اور دو بیٹے عطا فرمائے بڑی بیٹی کا نام زبیدہ چھوٹی بیٹی کا نام شدن اور بڑے بیٹے کا نام طاہر اقبال چھوٹے بیٹے کا نام زبیر اقبال ۔ خُدا بخش عرف کالو خان کی ( 1950ء) میں پیدا ہوئی ( 11 فروری 2008ء ) میں وفات پا گئے ۔ اور اس کی زوجہ کا نام سکینہ بی بی تھا جن کا ( 13 نومبر 2020ء ) کو انتقال ہوا ۔
محمد اقبال بالم کی جائے پیدائش
( 5 اپریل 1967ء ) کو محلہ چھینہ والا منکیرہ ضلع بھکر میں فلک شیر چھینہ کو اللّٰہ تعالیٰ نے بیٹے سے نوازا جس کا نام انہوں نے محمد شمشیر اقبال رکھا جو بعد میں صرف محمد اقبال رہ گیا ۔ اور پھر شاعری میں تخلص بالم رکھا اب دُنیائے ادب میں محمد اقبال بالم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔ محمد اقبال بالم کو ان کی والدہ ماجدہ بالم کہہ کر پکارتی تھی اِسی بالم کو تخلص کے طور پر استعمال کیا ۔ فلک شیر چھینہ ( محمد اقبال بالم کے والد ) کام کے سلسلہ میں ( 15 مئی 1967ء) کو بمع اہل و عیال منکیرہ سے بھکر شفٹ ہو گئے 10 سال بعد ( 1977ء) میں مقدر پھر واپس منکیرہ میں لے آیا ۔ شومیء قسمت دو سال بعد ( 1979ء) میں پھر حالات نے دو بارہ بھکر جانے پر مجبور کر دیا اور ( 1990ء) ایک بار پھر وہ بھکر کو خیر آباد کہ کر اپنے آبائی شہر منکیرہ واپس آگئے ۔ محمد اقبال بالم کے والد فلک شیر چھینہ نے وقت کی منہ زور آندھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا آخر کار ( 25 مارچ 2015ء ) کو خالقِ حقیقی سے جا ملے اللّٰہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت فرمائے آمین ۔
محمد اقبال بالم کی پیدائش سے جوان ہونے تک کا سفر
محمد اقبال بالم نے ( 5 اپریل 1967ء) محلہ چھینہ والا منکیرہ میں فلک شیر کے گھر آنکھ کھولی محمد اقبال بالم صرف 40 دن کا تھا کہ ان کے والد کو کاروبار کے سلسلہ میں بھکر جانا پڑھا (15 مئی 1967ء) کو محمد اقبال بالم نے اپنی زندگی کا پہلا سفر کیا ٹھیک پانچ سال بعد ( 1972ء ) میں اُن کے والد فلک شیر چھینہ نے پرائمری اسکول محلہ سردار بخش ، بھکر میں داخل کرایا ۔ بقول محمد اقبال بالم اسکول کی چار دیواری کا نام و نشان نہیں تھا ایک خستہ حال کمرہ تھا اور ساتھ دو تین کیکر کے درخت تھے جن کی چھاؤں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پہلی کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا دوسرے دن سُرمئی رنگ کی نئی وردی دوسری جماعت کی کتابیں اور ایک مٹھائی کا ڈِبہ لے کر اسکول پہنچا تو استاد نے دوسرے استادوں کو بلا لیا اُن سب نے مل کر اس کا تمسخر اڑایا خُدا جانے اس دن ان کے ساتھ کیا مسئلہ تھا سب نے اپنی ذہانت کی بنا پر اپنا اپنا مشورہ دیا کسی نے کہا یہ دوسرا علامہ اقبال ہے جو ڈائریکٹ دوسری جماعت میں پہنچ گیا ہے اور کسی نے کہا یہ مٹھائی کا ڈبہ دے کر دوسری کلاس میں بیٹھنا چاہتا ہے ایک استاد نے غصے میں آ کر کہا کہ پکی پہلی تمہارا باپ پڑے گا جو تم دوسری کی کتابیں لے کر آگئے ہو خُدا جانتا ہے اُس وقت اس کے دل پر کیا گزر رہی تھی اس نے غصے میں بستہ اٹھایا اور گھر آ کر بستے اور وردی کو آگ لگا دی اُس کے بعد سب نے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی گھر سے نکل جانے کی دھمکی دی مارا بھی حتٰی کہ استاد نے بھی سمجھانے کی کوشش کی لیکن شومی ء قسمت یہ اپنی ضد پر اڑے رہے ۔ کچھ دن بعد ان کا والد انہیں پڑوسی فضل دراز سائیکل مرمت والے کے پاس کام سیکھنے کے لیے چھوڑ آئے ۔ ایک سال بعد والدہ نے وہاں سے یہ کہہ کر چھٹی کروا دی کہ آئے روز اِس کے کپڑے کالے ہوتے ہیں لہٰذا ہم اسے درزیوں والا کام سکھائیں گے۔ ( 1973ء) میں بالم کے والد ڈیرہ اسماعیل خان کے مشہور لیڈیز ٹیلرز جن کی مین بازار بھکر میں دکان تھی استاد فیصل کے پاس ٹیلر نگ کا کام سیکھنے کے لیے چھوڑا آئے ۔ ( 1977ء) میں کسی مجبوری کے تحت بھکر سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر منکیرہ واپس آنا پڑا ۔ یہاں کچھ عرصہ محمد اقبال ٹیلرز کی شاگردی میں رہے پھر وہ بھکر چلے گئے تو شاہین ٹیلرز استاد یاسین کی شاگردی میں رہے اور ایک سال استاد رب نواز ٹیلرز کی شاگردی اختیار کی دو سال بعد حالات ایک بار پھر اِن کو بھکر لے گئے ۔
تعلیم
( 1979ء ) میں انہوں نے دوبارہ اسکول میں داخلہ لے لیا ۔ ہائی اسکول ( بھکر ) سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ ۔ باھو ٹیلرز بانو بازار میں استاد شیخ محمد اسلم کی شاگردی میں پہلی بار اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ بھکر کے مشہور اداکار مصنّف و ہدایت کار جناب سید نواب قنبر اِن کے استاد کو پاس دے کر کہا کہ آپ نے ڈرامہ دیکھنے ضرور آنا ہے استاد نے وہ پاس محمد اقبال بالم کو دے دیا ڈرامہ دیکھنے کے بعد اِن کے دل میں بھی ڈراموں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہوا ۔ اسلم کے اسرار پر الفنکار اکیڈمی کے سرپرست اعلیٰ سید نواب قنبر نے اِن کو ڈرامہ (خزانے کی تلاش ) میں کام دیا ۔ الفنکار اکیڈمی بھکر کی یادیں آج بھی اُن کے ذہن میں کل کی طرح تازہ بتازہ نظر آتی ہیں اور بے حد ممنون نظر آتے ہیں بھکر کے مشہور اداکار مصنّف و ہدایت کار رفعت شاہین کے جنہوں نے بالم کو مکالمے یاد کروانے میں بہت مدد کی اور ان کی سرپرستی میں ڈرامہ ( فرعون ) اور ایسے کئی ڈراموں میں کام کیا (1981ء) سے لے کر ( 1990ء) تک بھکر اسٹیج ڈراموں میں کام کرتے رہے ہیں ۔
( 1990ء) میں وہ اپنے آبائی شہر منکیرہ آگئے اور اُس نے باھو ٹیلرز کے نام پر دُکان بنائی نت نئے ڈیزائن کی بنا پر دکان 11 سال خوب چلی ۔ جب وقت نے آنکھیں دکھائیں تو محمد اقبال بالم نے ( 2001ء ) کو منکیرہ سے ہجرت کر لی فیصل آباد کے گرد و نواح میں مسلسل چھ سال حوزری کا کام کرنے کے بعد واپس ( 2006ء ) کو منکیرہ میں جیو ٹیلرز کے نام پر دُکان بنائی بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے دُکان چھوڑ کر ( 2013ء ) میں گولی ٹافی کا کاروبار شروع کر لیا ساتھ ساتھ سیلز مین بھی رہے ۔ بقول محمد اقبال بالم ( 2019ء ) میں بھکر کے ایک درینہ دوست سید احمد عباس کا فون آیا اُنہوں نے دریافت کیا ۔ کیا کر رہے ہو تو آپ نے بتایا کہ گولی ٹافی کا کام کر رہا ہوں اور وہ بھی اب تو خسارے میں جا رہا ہے تو اُنہوں نے کہا آپ میرے پاس لاہور آ جائیں تو یوں ایک بار پھر اُن کو قسمت ( 2019ء ) میں ویدک لیبارٹری ۔ مرید کے میں لے گئی ۔ یہاں کام کے ساتھ ساتھ بھکر پروڈکشن کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس میں ایک ٹیلی فلم ( سفید خون ) اور بہت سے ڈرامے بھی متعارف کروائے ۔ فلم ( سفید خون ) کے مصنّف ۔ اداکار ۔ اور ہدایت کاری کے فرائض بھی محمد اقبال بالم نے بخوبی نبھائے ۔ یہ فلم اور بہت سے ڈرامے آپ آج بھی ( اے بی فنی پروڈکشن ) یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں ۔
شادی خانہ آبادی
محمد اقبال بالم کی شادی اِن کے والدین کی پسند سے مسلم کوٹ ضلع بھکر کے محمد بخش عرف ممدو جو اِن کے رشتے میں مامو لگتے تھے ( 21 دسمبر 1989ء) کو اُن کی بیٹی عزیز مائی سے ہوئی۔ بقول محمد اقبال بالم ۔ عزیز مائی ہر موڑ پر ہر مشکل میں مردوں کی طرح میرے شانہ بشانہ کھڑی رہی میں خوش نصیب ہوں کہ ایک با ہمت اور باکردار بیوی مجھے ملی اللّٰہ تعالیٰ اِس کو صحت اور تندرستی والی زندگی عطا فرمائے آمین ۔
اولاد
محمد اقبال بالم کو اللّٰہ پاک نے چار بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا ہے بڑے بیٹے کا نام محمد عامر اقبال جن کی پیدائش محلہ چھینہ والا ( 15 اپریل 1994ء ) میں منکیرہ شہر ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔
بڑی بیٹی اِرم اقبال کی پیدائش ( 15 جنوری 1999ء ) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔
چھوٹی بیٹی کِرن اقبال کی پیدائش ( 13 فروری 2000ء ) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔
دوسرا بیٹا محمد عمران اقبال کی پیدائش ( 25 مارچ 2004ء ) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔
تیسرا بیٹا محمد عرفان اقبال کی پیدائش ( 26 جون 2007ء) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔
چوتھا بیٹا محمد فرحان اقبال کی پیدائش ( 15 مئی 2012ء ) کو منکیرہ شہر ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔
بڑا بیٹا محمد عامر اقبال کاروبار کے سلسلے میں دوبئی میں مقیم ہے محمد عرفان اقبال گلو کاری کے ساتھ ساتھ سیکنڈ ایئر میں ہے اور سب سے چھوٹا بیٹا محمد فرحان اقبال نائن کلاس میں ہے ۔
محمد اقبال بالم کے سسر کا نام محمد بخش اور ساس کا نام سیانی مائی تھا ۔ محمد اقبال بالم کی والدہ ماجدہ کا نام گُلاب مائی تھا ان کی پیدائش ( 1932ء ) کو منکیرہ میں ہوئی اور وہ ( 2005ء ) میں خالق حقیقی سے جا ملی اللّٰہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت فرمائے آمین ۔
محمد اقبال بالم کے نانا دریا خان ( بھکر ) کو خیر آباد کہہ کر منکیرہ آئے اور منکیرہ کے ہی ہو کر رہ گئے اِن کے نانا مال مویشی کی خرید و فروخت کا کام کرتے تھے ۔ بالم کے نانا کا نام غلام حسین اور نانی کا نام شاہدہ بی بی تھا ۔ محمد اقبال بالم کو شاعری کا شوق نیلام گھر کی بیت بازی سے ہوا گاہے بگاہے فی البدیہ اشعار دوستوں کو سنایا کرتے تھے تو وہ خوش بھی ہوتے اور طنزیہ کہتے کہ تم تو شاعر ہو گئے ہو کچھ عرصہ بعد اِنہوں نے ( 1987ء ) میں باقاعدہ طور طریقے سے بھکر کے نام ور استاد استاد الشعراء نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی کی شاگردی حاصل کی اور استاد نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی کے اولین شاگردوں میں شمولیت اختیار کر لی ۔
اِن کے لکھے ہوئے گیت اور دوہڑے ملک کے نام ور گلو کاروں نے گائے میانوالی کے نام ور گلوکار گُل تری خیلوی ، ملتان کے نام ور گلوکار ساجد ملتانی ، سجاد ملتانی ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے جن نام ور گلو کاروں نے کلام گایا اُن میں ۔ امجد نواز کارلو ، باسط نعیمی ، عامر بلوچ ، بھکر کے نام ور گلو کاروں میں سے احمد نواز چھینہ ، شہزاد شیخ ۔ اللّٰہ یار گلو ، مشتاق احمد چھینہ ، عاشق پردیسی ، رانجھا خان ارمانی ، اظہر مہدی ، عرفان احمد چھینہ اور دیگر گلو کاروں نے کلام گا کر خوب داد وصول کی ۔ محمد اقبال بالم چار زبانوں میں شاعری کرتے ہیں ۔ سرائیکی ، اُردو ، پنجابی اور رانگڑی جسے مواتی بھی بولتے ہیں ۔
مختلف اخبارات میں کہانیاں ملی نغمے غزلیں و قطعات وغیرہ جو گاہے بگاہے مختلف اخبارات و رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں ۔ روزنامہ ٫٫ سسٹم ،، لاہور روزنامہ ٫٫ بارڈر لائن ،، لاہور روز نامہ ٫٫ گستاخی معاف ،، ملتان / اسلام آباد پاکستان ماہنامہ ٫٫ اسم ،، انٹرنیشنل پاکستان راولپنڈی ماہنامہ ٫٫ افکارِِ اُفق ،، انٹرنیشنل پاکستان اسلام آباد ماہنامہ ٫٫ ارژنگ ،، لاہور ماہنامہ ٫٫ طلوعِ اشک ،، شیخو پورہ روزنامہ ٫٫ ٹھنڈی آگ ،، گجرات ۔ روزنامہ ٫٫ تھل ٹائمز ،، بھکر روزنامہ ٫٫ اپنا بھکر ،، بھکر روزنامہ ٫٫ بھکر نامہ ،، بھکر روزنامہ ٫٫ سانول ،، بھکر اور روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر کچھ انتخابوں میں بھی کلام شائع ہو چکا ہے ۔
محمد اقبال بالم نے پاکستان کے بہت سے مشاعروں میں شرکت کی ہے جن میں الحمرہ حال لاہور ، میونسپل ہال لاہور اور لاہور کی مختلف تنظیموں کے ماہانہ وار بیٹھک مشاعروں میں بھی بے شمار بار شرکت کی ہے ۔ راولپنڈی ، ملتان ، سرگودھا ، بھلوال ، بھلروان ، میانوالی ، منکیرہ ، ڈیرہ اسماعیل خان پروئے ، لیّہ ، چوک اعظم ، فتح پور ، ننکانہ صاحب ، گجرانوالہ ، بھکر ، مسلم کوٹ ، دریا خان ، لعلِ عیسن کروڑ ، سرائے مہاجر ، دُلے والا ، گوہر والا ، جنجو شریف ، جھنگ ، مرید کے ، شیخو پورہ ، اور فیصل آباد ، کے علاوہ بہت سے مشاعروں میں اپنا کلام سنا کر داد وصول کر چکے ہیں ۔ محمد اقبال بالم مختلف تنظیموں کے بڑے عہدے پر فائز بھی رہ چکے ہیں جن میں بزمِ نذیر ، نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی کے اعزاز میں ان کے نام پر تنظیم بزمِ نذیر منکیرہ کے صدر رہے ہیں ۔ صدر ضلع بھکر ۔ تنظیم ۔ ایف ۔ جے رائٹر فورم لاہور ، صدر ضلع بھکر ۔ تنظیم ۔ انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان راولپنڈی ۔ اور سابقہ صدر تنظیم . تھل کے ادبی سنجوک جو کہ 12 سال ہوگئے ہیں حالات کی نظر ہو گئی ہے ۔ تنظیم بزم نذیر منکیرہ ( بھکر ) کے پلیٹ فارم پر مسلسل 12 سال ملکی لیول کے مشاعرے کروائے جن میں دور دراز کے شعراء نے عوام کو اپنے کلام سے محظوظ کیا اِسی ادبی تنظیم بزمِ نذیر منکیرہ کے زیرِ اہتمام کچھ عرصہ ماہانہ ادبی بیٹھک میں مختلف شعراء کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔
محمد اقبال بالم کے حلقہ احباب میں پروفیسر عاصم بخاری ، راقم الحروف ، جاوید دانش ، علی تنہا اور خالق داد چھینہ شامل ہیں ۔
محمد اقبال بالم کی کتابوں کے نام درجِ ذیل ہیں ۔ منکیرہ میں اِس سے پہلے سرائیکی نعتیہ مجموعہ کلام کسی کا سرائیکی زبان میں سامنے نہیں آیا ۔
سرائیکی نعتیہ مجموعہ کلام ( مودت دے ڈیوے ) ناشر . صدق رنگ پبلی کیشنز ملتان ( یکم اکتوبر 2010ء) شائع ہوئی ۔ صفحات 32
دوسری کتاب ۔ ( تھل دے ہیرے ) مختلف شعراء کا کلام انتخاب ۔ ناشر صدق پبلی کیشنز ملتان ( نومبر 2012ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 48
تیسری کتاب ( دامنِ دل ) اُردو شاعری مجموعہ غزل ناشر. اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ( مئی 2016ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 180
چوتھی کتاب ( چھمکاں ) سرائکی مجموعہ کلام . ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( جون 2016ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 136
پانچویں کتاب ۔ ( چھلے ) پنجابی ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ( مئی 2017ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 32
چھٹی کتاب ( نکھیڑے چنگے تاں نیں ) سرائکی گیت اور دوہڑے ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( مئی 2017ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 32
ساتویں کتاب ۔ ( جنت سردار ) علیہ السلام سرائکی مجموعہ کلام ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( جون 2021ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 128
اٹھویں کتاب ۔ ( چشمِ خوابیدہ ) اُردو مجموعہ غزلیات ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ( مئی 2022ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 115
نویں کتاب ۔ ( گُدڑیاں ) مزاحیہ سرائکی مجموعہ ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیہ ( فروری 2024ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 111
دسویں کتاب ۔ ( ہیں آنکھیں نم اُسے کہنا ) اُردو شاعری مجموعہ ۔ ناصر اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( اگست 2024ء ) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 119 اور پانچ کتابیں زیرِ طبع ہیں ۔
محمد اقبال بالم کے اعزازات
1 : ماہانہ آدابِ عرض ڈائجسٹ کی سالانہ تقریب میں سند برائے حسن کارکردگی منجانب ۔ آدابِ عرض ڈائجسٹ (ملتان) (15 مئی 2013ء)
14: سردار ادبی ایوارڈ بہترین کتاب (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجاب ۔ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ ) (13 مارچ 2020ء)
15: ایف جے رائٹر فورم پاکستان لاہور ایوارڈ و سند بہترین تصنیف (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجانب ۔ ایف جے رائٹر فورم پاکستان ( لاہور ) ( 26 مارچ 2022ء)
16: بھیل ادبی ایوارڈ میڈل و سند برائے ادبی خدمات کُتب کے تحائف منجانب ۔ بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل پاکستان ( ننکانہ صاحب ) 27 مارچ 2022ء
17: سند برائے حسن کارکردگی منجانب ۔ منگیرہ ادبی سنگت بڑا گھر ( ننکانہ صاحب ) 27 مارچ 2022ء
18: الوکیل کتب ایوارڈ وسند برائے حسن کارکردگی کتاب (جنّت دے سردار علیہ السّلام) منجانب۔ بزم الوکیل (حاصل پور ) 15 اپریل 2022ء
19: گولڈ میڈل سند کیش اور دیگر تحائف کتاب ( چشمِ خوابیدہ ) منجانب ۔ تنظیم کارِ خیر ( گوجرانولہ ) 8 مئی 2022ء
20: الفانوس کتاب ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بہترین کتاب (نچشم خوابیدہ ) منجانب بزمِ الفانوس ، گوجرانولہ ، 8 جولائی 2022ء
21: بشیر رحمانی ادبی ایوارڈ وسند برائے ۔ حسن کارکردگی عمدہ تصنیف (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجانب ۔ بزمِ بشیر رحمانی لاہور ، 25 اگست 2022ء
23 : بزمِ رفیق ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بہترین کتاب ( جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجانب ۔ بزم رفیق جہان خان ، بھکر ، 28 دسمبر 2022ء
24 : بھیل ادبی ایوارڈ گولڈ میڈل و سند برائے حسن کارکردگی بہترین تصنیف ( چشمِ خوابیدہ ) منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل پاکستان ( ننکانہ صاحب ) 21 مارچ 2023ء
25 : بزمِ محبانِ قلم انٹرنیشنل لیہ ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بہترین کتاب (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) من جانب بزم منجانب ۔ بزمِ محبانِ قلم انٹرنیشنل فتح پور ، لیّہ 5 جون 2023ء
26 : سند برائے حسنِ کارکردگی بہترین کتاب (چشم خوابیدہ ) منجانب . منگیرہ بڑا گھر ( ننکانہ صاحب ) 21 مارچ 2023ء
آخر میں محمد اقبال بالم کی غزلیات سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔
دے کے دلاسا بچے بھی اکثر سلا دیے لیکن کسی کے سامنے کاسہ نہیں کیا ***
ماں نے بولا تھا فی امان اللّٰہ تب سے خالق کی ہوں پناہوں میں ***
اُجلی رنگت ، دل میں کینہ ، لب ہیں شیریں من کا میلا تن پر خوشبو واہ بھئی واہ
درد کیا کیا نہ اٹھایا باپ نے خون دے کر گھر چلایا باپ نے
جب میسر ہر کسی کو یہ زباں سرکار ہے یار انگریزی سے اُردو اب بھی کیا دشوار ہے
کیا خبر تھی گیسووّں کا جال ڈالا جائے گا دھیرے دھیرے سینے سے پھر دل نکالا جائے گا ***
قدم قدم پر کدورتیں ہیں یہ ہر قدم پر خیال رکھنا خُدا بچائے گا دشمنوں سے نظر میں یاروں کی چال رکھنا
آٹا ، چینی، ڈیزل اور پھر مہنگائی کی قوم سہے گی ضرب یہ کاری آخر کب تک ***
خُدا نصیب کرے آج تجھے عیش و آرام کبھی سوچا ہے کہ مشکل میں ساتھ کس کا تھا *** تجھ کو جانا تھا مگر اتنا بتا کر جاتے وہ مجھ سے ہاتھ چھڑانے میں ہاتھ کس کا تھا ***
ادب کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے اور جب یہ ادب اُس قوم کی اپنی مادری زبان میں ہو تو یہ نہ صرف اُس قوم کو اپنی پہچان عطا کرتا ہے بلکہ اسے اپنی جڑوں سے بھی جوڑتا ہے۔ اس تناظر میں پنجابی ادبی تنظیم ”چاننی“ ساہیوال کی جانب سے منعقد ہونے والا دوسرا سالانہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ پروگرام جوکہ 12 اپریل 2025 کو ساہیوال میں منعقد کیا گیا، ایک اہم ادبی، ثقافتی اور تہذیبی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس ایوارڈ پروگرام میں ایک فکری وژن کی بھر پور انداز میں عکاسی کی گئی۔ یہ پروگرام صرف اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب نہیں بلکہ پنجابی زبان کے ساتھ ساتھ اردو اور کھوار زبان، تہذیب، تاریخ اور ادبی ورثے کی بقا اور ترویج کا ایک بھرپور مظہر بھی تھا۔ شاکر جتوئی (صدر) اور اعظم سہیل ہارون (جنرل سیکرٹری) کی ادبی بصیرت، مسلسل محنت اور خلوص نے اس ایوارڈ پروگرام کو پنجابی ادب کے ساتھ ساتھ اردو اور کھوار زبان و ادب کی ایک معتبر روایت بنا دیا ہے۔
اس سال پورے پاکستان سے جن شعرا، ادباء، محققین اور دانشوروں کو ایوارڈز کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ نہ صرف تخلیقی حوالے سے اہم نام ہیں بلکہ فکری و تنقیدی میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر محبوب سرمد کی کتاب "اکھراکھر حمداں” میں رب کی حمد و ثنا کو روحانی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر مشرف حسین انجم کی تخلیق "خوشبوئے ختم المرسلین” عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو کو لفظوں میں سمیٹتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز کنول کی تحقیقی کتاب "رومی اور اقبال میں فکری روابط” علم و فکر کے نئے زاویے پیش کرتی ہے۔ یہ فہرست صرف شاعری یا نثر پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں تنقید، تحقیق، تاریخی شعور اور زبان کی خدمت کرنے والے سینئر و جونیئر اہلِ قلم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجابی سیوک ایوارڈ بہت ہی اہم ہے جو کہ پنجابی ادب کے فروع کے لیے ادیبوں کی خدمات کا اعتراف بھی ہے۔ تنظیم ”چاننی“ کی جانب سے پیش کیے جانے والے پنجابی سیوک ایوارڈز اُن شخصیات کو دیے جا رہے ہیں جنہوں نے پنجابی زبان و ادب، تحقیق، تعلیم یا سماجی خدمات کے ذریعے نمایاں کام کیا ہے۔مثلاً: اشرف رجوکا، راکی ولسن، ڈاکٹر طارق محمود آکاش وغیرہ کو یہ ایوارڈ دیا گیا ۔ نذیر زاہد مرحوم کو بعد از وفات ایوارڈ دینا اُن کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مترادف ہے۔ ایوارڈ میں خواتین کو بھی بھرپور انداز میں نمائندگی دی گئی ہے۔ اس فہرست میں خواتین اہلِ قلم جیسے کہ انیسہ بتول، نوشین نوشی، نمرہ شہزاد، حائقہ نور کی شمولیت اس امر کا ثبوت ہے کہ پنجابی ادب میں خواتین کی موجودگی دن بہ دن مستحکم ہو رہی ہے اور وہ نئے موضوعات اور منفرد انداز کے ساتھ اپنی ادبی شناخت بنا رہی ہیں۔
ساہیوال، لاہور، فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ، سرگودھا، میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور چترال سمیت کئی اضلاع سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شمولیت اس بات کی مظہر ہے کہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ ایک علاقائی نہیں بلکہ قومی سطح پر پنجابی، اردو اور کھوار ادب کے فروغ کی تحریک بنتا جا رہا ہے۔
بابا طالب جتوئی ایوارڈ صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ایسی ادبی، فکری اور روحانی تحریک ہے جو پنجابی زبان اور ثقافت کو زندہ رکھنے اور اسے دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ ”چاننی“ جیسی ادبی تنظیمیں نہ صرف زبان و ادب کا تحفظ کر رہی ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کر رہی ہیں۔ بابا طالب جتوئی ایوارڈ فقط ایک تقریب نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک خواب اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ میں ادبی تنظیم چاننی، تنظیم کے صدر و جنرل سیکریڑی شاکر جتوئی اور اعظم سہیل ہارون ایڈووکیٹ کو تقریب کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جن جن خوش نصیب ادیبوں کو طالب جتوئی ایوارڈ سے نواز ا گیا ان کے نام یہ ہیں۔
1۔ محبوب سرمد (فیصل آباد) اکھراکھر حمداں
2۔ سید مبارک علی شمسی (حاصل پور) والشمس والضحی
3۔ ڈاکٹر مشرف حسین انجم (سرگودھا) خوشبوٸےختم المرسلین
4۔ محمد یعقوب فردوسی امیر بادشاہ ( بھلوال) جلوہ نور
5۔ غلام محمد حامی(ساہیوال) پکھواں بھلیا اڈنا
6۔ انجینٸر ظفر محی الدین (لاہور) سجن دے ہتھ بانہہ
7۔ محمد طاہر نعیم (دیپالپور) پھلاں نال یارانے
8۔ انتظار حسین ساقی (فیصل آباد) اساں پڑھیاں عشق نمازاں
9۔ احسان فیصل کنجاہی (گجرات) مٹی کے رنگ
10۔ اعظم سہیل ہارون (حاصل پور) ایک دریا ہے میری آنکھوں میں
11۔ انیسہ بتول (گجرات) مقالہ نگاربکھری زلفیں
12۔ پروفیسر طارق ارسلان طارق (ٹوبہ ٹیک سنگھ) پہلی صورت
علامہ ریاست علی مجددی کے پنجابی اور اردو کے ممتاز شاعر ہیں، حمد، نعت رسول مقبول ﷺ، غزل اور نظمیں لکھتے ہیں۔ اردو اور کھوار دونوں زبانوں کے نعتیہ ادب میں حمد باری تعالیٰ کا مقام نہایت ہی بلند اور مقدس ہے۔ یہ صنفِ سخن خالصتاً خالقِ کائنات کی بزرگی، عظمت، صفات اور احسانات کے اعتراف کے طور پر لکھی جاتی ہے۔ علامہ ریاست علی مجددی اردو حمدیہ شاعری کے ایک معتبر اور روحانی شاعر ہیں جن کی حمد میں نہ صرف عقیدت کی چاشنی محسوس ہوتی ہے بلکہ ایک وجدانی کیفیت بھی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کی اردو حمد اور اس کا راقم الحروف کی جانب سے کیا گیا کھوار (چترالی) زبان میں ترجمہ، دونوں زبانوں کی لطافت، معنویت اور روحانیت کا حسین امتزاج کے ساتھ ساتھ پہلی کوشش بھی ہے۔
علامہ ریاست علی مجددی کی اس حمد کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی عطا، کرم، تمحید، رضا اور بندگی مبنی ہے۔ شاعر ابتدا ہی سے خدا کی عطا کو دل کی کیفیت سے جوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے:
"رب کی عطا ہے دل میں حمد و ثناء ہے دل میں”
کھوار: پروردگارو عطا شیر ہردیا
حمد اوچے ثناء شیر ہردیا”
یہ شعر نہ صرف توحید کا اقرار ہے بلکہ ایک باطنی سکون کا اظہاریہ بھی ہے۔ حمد اور ثناء دل میں ہونا اس روحانی وابستگی کی علامت ہے جو ایک مومن کے دل میں اپنے رب کے لیے موجود ہوتی ہے۔
اسی طرح اگلا شعر بھی دیکھئیے:
’’یارب کرم ہو مجھ پر
ہر دم دعا ہے دل میں‘‘
یہ شعر اللہ سے مسلسل دعا اور رحمت طلبی کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ شاعر صرف رسمی دعاؤں پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دل کی گہرائیوں سے التجا بھی کرتا ہے مثلاً:
"یارب کرم ہو مجھ پر
ہر دم دعا ہے دل میں”
کھوار: پروردگارا کرم بار مه سورا
ہر دم دعا شیر ہردیا
مجددی کے حمد کا اسلوب نہایت سادہ، صاف، اور پر اثر ہے۔ شاعری میں علامہ مجددی نے پیچیدہ الفاظ یا تصنع سے گریز کیا ہے۔ ان کی زبان فطری، ایمانی اور وجدانی محسوس ہوتی ہے۔ کھوار ترجمے میں بھی اسی سادگی کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ کھوار قاری بھی اصل مفہوم سے محروم نہ ہو مثلاً:
"کیوں خوف پاس آئے
میرا خدا ہے دل میں”
کھوار: کو بوھورتونی گری نسوتے گوئے
مہ خدائے اسور ہردیا
یہاں "خوف” کے خلاف ایک باطنی طاقت اور یقین کی بات کی گئی ہے کہ جب دل میں خدا موجود ہے تو پھر دنیا کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔
اسی طرح آخری شعر میں شاعر خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں، جو ایک وجدانی مکالمے کی کیفیت پیدا کرتا ہے جیسے:
"ڈرتا ہے کیوں ریاست
رب العلیٰ ہے دل میں”
کھوار: بوھرتوئسان کو ریاست
رب العلیٰ اسور ہردیا
یہ خودکلامی دراصل شاعر کی طرف سے ایک ایمانی تجدید ہے، جو قاری کے دل میں بھی اطمینان اور یقین کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
کھوار زبان میں اس حمد کا ترجمہ صرف لسانی نقل ہی نہیں بلکہ ایک روحانی خدمت بھی ہے۔ اس کے ذریعے چترال، غذر، اور مٹلتان کالام کے وہ افراد جو اردو سے پوری طرح واقف نہیں، حمد کے ایمانی مفاہیم کو اپنی مادری زبان میں محسوس کر سکتے ہیں۔ ترجمے میں جہاں ممکن ہوا ہے لفظ بہ لفظ برابری کی گئی ہے، اور جہاں ضرورت پڑی وہاں معنوی ترجمانی سے کام لیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر "رضا” کا ترجمہ "رضا” ہی رکھا گیا ہے، جو کھوار میں بھی اسی مفہوم کے ساتھ مستعمل ہے، جبکہ "فضا” کو "روشت فضا” کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ روشنی اور روحانیت کا پہلو مزید واضح ہو۔
علامہ ریاست علی مجددی کی اردو حمد اور اس کے کھوار تراجم خدا شناسی، روحانیت، ایمان افروزی اور قومی لسانی خدمت کی ایک حسین مثالیں ہیں۔ اردو اور کھوار دونوں زبانوں میں اس حمد کا مطالعہ قاری کو ایک وجدانی کیفیت سے ہمکنار کرتا ہے۔ یہ نہ صرف اردو حمدیہ ادب میں ایک خوشگوار اضافہ ہے بلکہ کھوار زبان میں نعتیہ و حمدیہ ادب کی ترقی میں بھی ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، اس کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہاں بہت سے نقصانات بھی ہیں ، لیکن ایک تو ماننا پڑے گا کہ جدید سائنسی ایجادات کی بدولت دُنیا اس وقت صیح معنوں میں گلوبل ویلج بن چکی ہے ۔ انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی اتنی آسان بنا دی ہے کہ بیسویں صدی میں اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ رابطے آسان ہو گئے ہیں اورفاصلے سمٹ گئے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے اور ایک دوسرے کا حال معلوم کرنے کے لئے خطوط لکھے جاتے تھے ، پھر سائنس نے ترقی کی تو ٹیلی فون کی سہولت سے ایک دوسرے کے حال سے باخبر رہنے لگے ۔ مزید ترقی ہوئی تو موبائل فون کا سیلاب اور انٹرنیٹ کا انقلاب آ گیا جس نے رابطے اس قدر آسان اور سہل کر دیئے کہ چند سال قبل تک کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ انٹرنیٹ کے کرشمے سے انسان جب چاہے اپنی مرضی سے معلومات تک رسائی حاصل کر لیتا ہے ۔ شاعروں اور ادیبوں کے درمیان رابطے رکھنا انتہائی آسان ہو گیا ہے ۔ لمحوں میں افکار و خیالات کا تبادلہ ہو جاتا ہے ، واٹس ایپ کے ذریعے آپ ادبی مواد اور شاعری بڑی آسانی سے اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچا سکتے ہیں ۔ آج کا شاعر و ادیب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دُنیا سے جڑُا ہوا ہے ۔ ایک دوسرے سے تعارف اور روابط بہت آسان ہو گئے ہیں ۔ سیکڑوں میل دُور بیٹھے اگر کسی شاعر سے ملاقات کا سبب نہیں بن پا رہا تو واٹس ایپ ، موبائل فون اور فیس بُک کے ذریعے آپ اُس سے روابط بھی قائم کر سکتے ہیں اوربات بھی کر لیتے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول سے اگرچہ میری ملاقات تو نہیں لیکن ان کے ادبی قد کاٹھ سے ضرور واقف ہوں ۔ میرا ان سے تعارف سوشل میڈیا ہی کے ذریعے ہوا ۔فیس بُک اور واٹس ایپ پر مختلف ادبی پروگراموں میں بھکر کی ادبی سرگرمیوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ اُن میں مقبول ذکی مقبول کو بے حد نمایاں اور غیر معمولی طور پر متحرک پایا ۔ حالیہ دنوں میں سرگودھا رائٹرز کلب کی سرگرمیوں سے آگاہی کے بعد انہوں نے کال کرکے مجھے بتایا کہ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی وساطت سے مجھے ٫٫ رنگِ تبسم ،، کے نام سے آپ کی کتاب ملی ہے ۔ سوچا کال کر کے آپ کو دِلی طور پر مبارکباد پیش کروں ۔ یوں ہمارے درمیان رابطے اور مکالمے کا آغاز ہوا ۔ رابطوں کا سلسلہ مزید آگے بڑھا تو معلوم ہوا کہ مقبول ذکی مقبول کئی کتابوں کے مصنّف ہیں ۔ ایک پختہ گو شاعر اور عمدہ نثر نگار ہیں ۔ وہ ایک ادبی لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادبی کار کن بھی ہیں ۔ ادب کی ترقی وترویج ان کا مشن ہے منکیرہ ( بھکر ) کو ایک معتبر دبستان بنانے کے لئے گزشتہ کئی سال سے سرگرم عمل ہیں ۔ وہ ایک درویش صفت انسان اور عشقِ محمد و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے سرشار ہیں ۔ ذکرِ حضرت امام حسین علیہ السّلام اور ذکرِ کربلا تو ان کی رگ رگ میں سمایا ہوا ہے ۔ وہ واقعہء کربلا اور شہادتِ حضرت امام حسین علیہ السّلام کو دین کا چہرہ تصوّر کرتے ہیں اور اس چہرے کی تلاوت ان کے ایمان کی رُوح ہے ۔ وہ ذکرِ حضرت امام حسین علیہ السّلام کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ وہ یہ عبادت خُوب اور جی بھر کے کر رہے ہیں ۔ واقعہء کربلا اور سیرت و کردارِ حضرت امام حسین علیہ السّلام ان کے ہاں ایک مستقل استعارے کے طور پر جھلملا رہے ہیں ۔
مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ ( بھکر ) کے ادبی افق پر اس قدر نمایاں طور پر جھلملا رہے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے نشانِ منزل بن گئے ہیں ۔ وہ تخلیقی ، تنقیدی اور تحقیقی شعور ، بصیرت اور صلاحیت سے مالا مال ہیں ۔ ایک اچھے تجزیہ نگار کے طور پر بھی علمی و ادبی حلقوں میں خاصے مقبول ہیں ۔ ان کے نثر پارے ادبی دُنیا میں خاص پہچان اور مقام رکھتے ہیں ۔ ٫٫ سجدہ ،، اور ٫٫ منتہائے فکر ،، جیسی کتابیں ان کا تخلیقی معیار متعین کرنے اور ان کی شاعرانہ عظمت کے لئے کافی ہیں ۔ ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، جیسی کتاب لکھ کے تحقیق اور تنقید کی دُنیا میں انہوں نے اپنا لوہا منوا لیا ہے ۔ عاصم بخاری ادب میں ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اور انہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں اتنی عمدگی سے طبع آزمائی کی ہے کہ پڑھنے والا عش عش کر اُٹھتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنے ہمہ جہت ادبی لکھاری پر قلم اُٹھانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن مقبول ذکی مقبول نے عاصم بخاری کا اتنی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی فنی جہات کا اتنی عرق ریزی سے مشاہدہ کیا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مقبول ذکی مقبول نے عاصم بخاری کی شخصیت اور فن کا عطر کشید کر کے اسے لفظوں کے روپ میں قارئینِ علم و ادب تک منتقل کردیا ہے ۔ ان کی تخلیقی ، تنقیدی اور تحقیقی بصیرت تو قابلِ تحسین ہے ہی ، شاعرانہ اسلوب اور طرزِ نگارش بھی لائقِ تعریف ہے ۔ اُن کا اسلوب اتنا دلکش اور متاثر کن ہے کہ پڑھنے والا اس کے سحر میں کھو جاتا ہے ۔ ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے ۔ شاعرانہ اسلوب اتنا سادہ ، سہل ، عمدہ اور پر تاثیر ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی خوشبو فوری طور پر پڑھنے والے کے رگ و پے میں اتر جاتی ہے ۔ عقیدتوں سے معمور ان کے سلام و منقبت کی مہک پڑھنے والے کو روح کی گہرائی تک سرشار کر دیتی ہے ۔ ان کے یہاں سہل ممتنع کی عمدہ مثالیں بھی موجود ہیں اور ان کی شاعری پڑھ کر تازگی کا بھی احساس ہوتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول ادبی مراکز سے دُور منکیرہ ( بھکر ) جیسے مضافاتی شہر میں ادب کی جو شمع روشن کئے ہوئے ہیں ۔ اس کی کِرنیں نہ صرف منکیرہ ( بھکر ) کے ادبی افق کو منوّر کر رہی ہیں بلکہ بھکر کےاردگرد کے علاقوں کی ادبی فضا میں بھی جھلملاہٹ پیدا کررہی ہیں ۔ مقبول ذکی کا شعری آہنگ اِس کی صاف و شفاف شخصیت کی طرح سچا ، سُچا اور کھرا ہے ۔ رثائی ادب میں مقبول کی ایک خاص پہچان اور مقام ہے ۔ میری دُعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ مقبول ذکی مقبول کے قلم میں اور زور اور تحریریں میں مزید تاثیر پیدا کرے ( آمین)
گھر میں کسی شاعر یا ادیب کا ہونا کسی خاص بخشش یا نعمت سے کم نہیں بلکہ یہ بڑی خُوش نصیبی کی بات ہے کہ اُن کے رابطے اُن کی اولاد کو بھی میسر آتے ہیں اور اُن کا میل جول بڑے بڑے لوگوں سے رہتا ہے ۔ میں عمر میں چھوٹا ہی تھا جب سے مجھے میرے والد صاحب جاوید صدیق بھٹی کی وساطت سے نیشنل بلکہ انٹر نیشنل شخصیات سے ملنے کے مواقع ملے مجھے یاد ہے کہ جب کبھی نعیم واعظ اور عمانوئیل نذیر مانی ( انگلینڈ سے ) مظہر جاوید حسن ( آزاد کشمیر سے ) جن ایم فلیکس ( کراچی سے ) چودھری کرم علی کیفی ( پاک پتن سے ) قیصر ہاشمی ( ملتان سے ) پرویز اختر شاد ( اسلام آباد سے ) صابر نار ( پشاور سے ) اور ڈاکٹر شاہد ایم شاہد ( واہ کینٹ سے ) لاہور تشریف لاتے تو میرے والد صاحب سے ملنے ہمارے گھر ضرور آتے ۔ اسی بہانے مجھے بھی ملنے کا موقع ملتا یہ بالکل ایسے ہی ہوتا جیسے ٫٫ جھونے دے پج ڈیلے نوں پانی آؤ ندا اے ،، چند روز قبل والد محترم کے ایک ادیب شاعر دوست مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ ( بھکر ) سے تشریف لائے گپ شپ کے بعد انہوں نے اپنا بیک کھولا اور اپنی کتاب ٫٫ سُنہرے لوگ ،، والد صاحب کو پیش کی اور مجھے موبائل پر کتاب پیش کرتے ہوئے تصویر بنانے کو کہا جو انہوں نے بننے کے بعد فیس بُک پر بھی لگا دی اُن کے جانے کے بعد میں نے کتاب پڑھی تو پڑھتا ہی چلا گیا یہ کتاب شاعروں ادیبوں کے انٹرویو پر مبنی کتاب تھی اس کتاب میں ستائیس 27 انٹرویوز ہیں اِس خُوب صورت کتاب پر نام ور شاعروں ادیبوں نے رائے دی ہے ۔ دیباچہ پروین سجل نے لکھا ہے ۔ 160 صفحات کی یہ کتاب ادب میں خُوب صورت اضافہ ہے ۔ مقبول ذکی مقبول خُوب صورت شخصیت کے مالک ہیں وہ بہت سی خُوبیوں کے مالک ہیں وہ شاعر ، ادیب ، صحافی اور سماجی کار کن ہیں ۔
شخصیت پسندی بھی ان کا ایک حوالہ ہے وہ نام ور شخصیات پر مضامین بھی لکھتے ہیں اور ان کے انٹرویو کر کے ان کو اخبارات میں بھی شائع کرواتے ہیں اُن کی بہت سی کُتب شائع ہو کر قارئینِ ادب سے داد کی سند وصول کر چکی ہیں کئی کتابوں پر کام کر رہے ہیں جو جلد شائع ہو جائیں گی ۔ ان کو بہت سے ادبی اداروں اور تنظیموں نے ادبی کام پر ایوارڈ اور گولڈ میڈل بھی دیئے ہیں وہ اپنے علاقے کیا پورے ملک میں ادبی محفلوں اور مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں ۔ خاص طور پر لاہور جو ادب کا مرکز اور گڑھ ہے یہاں بھی وہ تقریباً ہر بڑے پروگرام میں مدعو ہوتے ہیں لیکن شرکت وہ مہینے میں ایک آدھ پروگرام میں کرتے ہیں پورے ملک میں بسنے والے شاعروں اور شاعرات سے ان کے روابط ہیں وہ شاعری کم کرتے ہیں نثر کی طرف اُن کا رُجحان زیادہ ہے ۔ مقبول ذکی مقبول اچھی سلجھی شخص کے مالک ہیں سادہ اندازِ بیاں کے قائل ہیں وہ گفتار اور تحریر میں دِلکش انداز رکھتے ہیں بات کو سادہ اور سلیس کرنے کے عادی ہیں ۔ بات کو گنجلک بنانے کی کوشش نہیں کرتے ہمیشہ سچائی اور حق گوئی کی بات کرتے ہیں جھوٹ سے اجتناب کرتے ہیں ان کے قول اور فعل میں تضاد نہیں جو بات کرتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں ان کی تحریروں میں بھی ان کی شخصیت کا عکس دکھائی دیتا ہے ان کا مطالعہ اور مشاہدہ وسیع ہے اسی لئے ان کے نظریات ( Cancept ) واضح ہوتے ہیں وہ اعلیٰ خیال کے مالک ہیں ان کی تحریروں میں پڑھنے والوں کو اچھے اچھے خیال ملتے ہیں جس سے پڑھنے والوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ وہ دوستوں کے دوست ہیں دوستوں سے محبت کرنا اور اُن کے کام آنا مقبول ذکی مقبول کی ذات کا خاصا ہے ۔ ادب سے ان کو بہت بلکہ جُنوں کی حد تک لگاؤ ہے ہر وقت کتابیں پڑھنا اور ادب کے بارے میں سوچنا ان کی ذات کا حصّہ ہے وہ ادب پرور ہیں وہ جس طرح ادبی کاموں کی پرموشن چاہتے ہیں بعض اسی طرح ادیبوں شاعروں کی حوصلہ افزائی بھی وہ اپنا فرض سمجھ کر کرتے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول کی اس عادت اور رویے کی وجہ سے سبھی دوست احباب ان کی عزت اور ان سے محبت کرتے ہیں ۔ وہ تو لوگوں کے دلوں کی قدر کرتے ہیں ۔ ایک ادبی تنظیم بزمِ اوجِ ادب کے نام سے چلا رہے ہیں جس کے پلیٹ فارم سے کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ مشاعرے ، ایوارڈ تقریب ، اسناد تقریب ، نعتیہ نسستیں ، محفل مسالمہ اور مرحومین شعراء و ادباء کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی محفلیں بھی کرواتے رہتے ہیں ۔ بزمِ اوجِ ادب ، منکیرہ ( بھکر ) کے بانی و چئیرمن مقبول ذکی مقبول فروغِ ادب کے لئے کوشاں اور متحرک نظر آتے ہیں ۔
کا اردو شعری مجموعہ ہے۔ جو خواب ان کی زندگی میں تعبیر نہ پا سکا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے برادر۔ عزیز ندیم اقبال نے منظر ۔عام پر لا کر ایک بہترین مثال قائم کر دی ہے۔اور "بھر پی” کا عملی ثبوت پیش کردیا ہے۔حق تو یہ ہے کہ انھوں نےبرادر۔ بزرگ کا حق ادا کر دیا ہے دعا ہے اللہ تعالیٰ سبھی کو ایسے بھائی عطا فرمائے
ورنہ
نفسانفسی کے اس مشکل ترین دور میں
اس بات کا امکان تو نہیں
سلام پیش کرتے ہیں ندیم اقبال صاحب کو ، اللہ پاک انہیں اس کار ۔ خیر کا اجر۔ عظیم عطا فرمائے۔ان کے اس کار ۔ خیر سے مطلوب طالب کی روح یقینا” خوش ہو گی۔
یہ مجموعہ عشال پبلی کیشنز لاہور نے حال ہی میں فروری 2025 میں منظر ۔عام پر لایا ہے۔ پیش لفظ ندیم اقبال کا لکھا ہے جس میں مطلوب حسین کا مکمل تعارف موجود ہے علاؤہ ازیں داؤد تابش ، سید حب دار قائم ،شمشیر حیدر ، مقبول ذکی ،مسعود چشتی اور خاکسار کے تاثرات شامل کتاب ہیں۔جب کہ بیک ٹائیٹل پر عقیل ملک کی خوب صورت اور نپی تلی رائے موجود ہے۔اس مجموعہ میں ان کی حمد نعت منقبت امام۔ حسین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ چھوٹی اور رواں بحروں کی خوب صورت غزلیں شامل کتاب ہیں۔کتاب میں شامل شاعری اپنے اندر تازگی اور جدت و قدامت کا حسین امتزاج رکھتی ہے۔ شاعر۔ موصوف نے بصارت کی کمزوری و معذوری کے باوجود بھرپور اور بابصیرت زندگی گزاری۔اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔