عاصم بخاری ، شخص اور شاعر
مقبول ذکی مقبول کے نام اور کام سے اس خطہ کی ادبی دُنیا بخوبی واقف ہے ۔ پختہ کار شاعر ، ذی علم ادیب اور جنوبی پنجاب میں علم و ادب کی شمع روشن رکھنے والوں میں سے ایک پر خلوص انسان کی حیثیت سے ان کی پہچان وابستہ ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی علمی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ سجدہ اور منتہائے فکر جیسی تخلیقات ان کی تخلیقی نگارشات کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول کی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ تحقیقی ، تنقیدی اور تجزیاتی صلاحیتوں کا اعتراف بھی ضروری ہے ۔ جس کا اظہار ان کے نثر پاروں میں دیکھا جاسکتا ہے ٫٫ عاصم بخاری شخص اور شاعر ،، بھی ان کی تحقیقی تنقیدی اور تجزیاتی نثر کا ایک شہکار ہے ۔ جس میں مقبول ذکی اپنی نثر کی تمام تر توانائیوں اور رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کی تحقیقی و تنقیدی کاوش ٫٫ عاصم بخاری شخص اورشاعر ،، ایک ایسے شاعر ، ادیب ، افسانچہ نگار اور قلم کار کی تخلیقی کاوشوں کا احاطہ کرتی ہے جو چار دہائیوں سے قلم سے جڑے ہوئے ہیں اور نظم و نثر ہر دو صنف میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ پروفیسر عاصم بخاری کی تخلیقات قاری کے اندر نفاست شرافت ، اخلاق اور رواداری کی صفات حمیدہ کو ابھارتی ہیں ۔ نفرت ، تنگ نظری اور بے جا انانیت کے جذبات کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیتی ۔ عاصم بخاری ایک ایسے ہی شریف النفس ، سلیم الطبع اوربا وضع شاعر و ادیب ہیں ۔جنھوں نے نثر ہو یا نظم ہر دوصنف میں جذبات کی ترجمانی کی ہے جو نثر و شعر کو ہی نہیں ، زندگی کو بھی حسن و توانائی بخشتے ہیں ۔ وہ اپنی تخلیقات میں دل کی واردات کا اظہار کریں یا زندگی کے تجربات کا بیان کریں ۔ ان کی تخلیقات ایسے رویوں کی نشان دہی کراتی ہیں جو صاف گوئی اور حقیقت پسندی پر مبنی ہے ۔ عہدِ حاضر کی شکست و ریخت اور درد و داغ ، حسرتوں کی تصاویر جا بہ جا ان کی تخلیقات میں اپنے عہد کے منظر نامے کو اجاگر کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ پروفیسر عاصم بخاری کے ہاں ماضی کی قدروں کا احترام بھی ملتا ہےاور عصری احساسات کی جلوہ گری بھی موجود ہے ۔ ان کے ہاں جہاں زندگی کی حسرتوں کا نوحہ اور کامرانیوں کا مژدہ ہے ۔ شعر ہو یا افسانچہ مثبت قدروں کا اظہا ربھی کرتے ہیں اور انہیں عام بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کے ذاتی تجربات میں آفاقی رنگ جھلکتا ہے ۔ وہ انسان کو موضوع بناتے ہیں اور انسانیت کو اپنے ادبی منشور کا جھومر سمجھتے ہیں ۔ آفاقی اقدار ان کی تخلیقات کا حسن ہیں ۔
مقبول ذکی مقبول نے ٫٫ عاصم بخاری شخص اور شاعر ،، میں جو تحقیقی ، تنقیدی اور تجزیاتی اسلوب اپنایا ہے ان کی پختگی نثر پردسترس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ امید ہے کہ ٫٫ عاصم بخاری شخص اور شاعر ،، مقبول ذکی مقبول کی اس تصنیف کو ادبی حلقوں میں وہ پذیرائی حاصل ہوگی ، جس کی یہ مستحق ہے ۔ خوشی اس بات کی ہے کہ مسلمہ ادبی مراکز سے دور بھکر جیسے دور دراز مقام پر مقبول ذکی جیسے ادیبوں نے علم و فن کے ایسے تابناک چراغ روشن کر رکھے ہیں ۔ اللّٰہ کرے ان کی ضیاء اور زیادہ ۔
ڈاکٹر سید ضمیر بخاری
شعبہ اُردو
گورنمنٹ گریجویٹ کالج
( میانوالی )
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |
