عاصم بخاری کثیر الجہات شخصیت اور شاعر ہیں ۔اگر ان کی شاعری کا موضوعاتی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو ان کی شاعری میں موضوعاتی و اسلوبیاتی تنوع پیا جاتا ہے۔ان کے ہاں مقامیت بھی ہے ۔ آفاقیت بھی جھلکتی ہے۔ مشرقیت بھی ہے۔ان کا مرغوب میدان اور اہم موضوع پاکستانیت ہے۔اس عنوان سے ان کے متعدد اشعار ملتے ہیں جو ان کی حُب الوطنی پر بھی دال ہیں۔اور شاعرانہ قدرت کی مثال و دلیل بھی۔ عاصم بخاری کے ہاں قوت ِ مشاہدہ اپنے کمال پر ہے۔ خالقِ لوح و قلم نے انہیں دیکھنے والی آنکھ عطا کی ہے۔اور واقعی۔۔۔ تیرگی میں دیکھنے کو چشم ِ بینا کے مصداق ان کا شعر دیکھیں۔جس میں وہ پاکستانیوں کو دعوت ِ عمل دے رہ ہیں۔
ہیں خزانے بخاری جی ان میں کب نکالو گے تم پہاڑوں سے
اسی شعر کا ایک اور انداز دیکھیں۔ ہیں خزانے کئی پہاڑوں میں کب تلاشو گے تم بخاری جی ۔۔۔۔ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔کلمہء طیبہ کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کو خالق نے کس کس نعمت سے نہیں نوازا۔ یہ بنیادی اور فطری و قدرت طور پر ایک زرعی ملک ہے۔لیکن بخاری صاحب اپنے ہم وطنوں سے نالاں ہیں کہ” حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا” کے مترادف ہمیں زراعت کے حوالے سے جس قدر دل چسپی لینے کی ضرورت ہے۔برا نہ لگے تو اس قدر محنت نہیں کی جا رہی بہت سی اراضی کاشت کاری کی منتظر ہے۔
ملک زرعی ہے یہ بخاری جی آپ فصلیں نہیں اگاتے کیوں ۔۔۔۔۔ وطن ِ عزیز کے ہر نوجوان کے دل میں امنگیں ہیں ارمان ہیں خواہشات ہیں۔جن کی تکمیل کے خواب تعبیر چاہتے ہیں بخاری صاحب بھی اسی خواب کی تعبیر خوش حالی کے خواہاں ہیں۔
خواب پورے ہوں نوجوانوں کے مجھکو خوش حال ہر نظر آئے ۔۔۔۔۔ ہماری مٹی انتہائی زرخیز ہے اور ہر قسم کی فصل اور پھل پیدا کرنے کی فضا سازگار ہے تبھی تو بہت حد تک استفادہ کیا جاتا ہے مگر بخاری صاحب مزید محنت و کوشش کےخواہاں ہیں۔
ملک زرعی ہے یہ بخاری جی فصلیں ساری اگائی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔ پاکستان نام کی تاثیر ہے کہ عاصم بخاری کو اپنی دھیرتی پر خیر کی بالادستی نظر آتی ہے۔حقیقت پسند ہیں ۔ظاہر ہے ہر معاشرے میں خیر ساتھ ساتھ شر سے بھی ان کوانکار نہیں مگر ان کی نظر میں خیر کا پڑا بھاری ہے۔جوکہ خوش آیند بات ہے اور آنےوالے کل سے بھی یہی بہتری کی امید رکھتے ہیں۔
جذبہ زندہ ہے خیر کا اب بھی کام آتے ہیں لوگ لوگوں کے ۔۔۔۔۔ عاصم بخاری کی سوچ اور اپروچ جدید اور سائیٹفک ہے۔وہ دور کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہنر مندی پر زور دیتے ہیں کہ کا دور ہر نوجوان سے ہنر مندی کا متقاضی ہے۔
بے ہنر ہو نہ کوئی بھی عاصم ٹیکنیکل جوان سارے ہوں ۔۔۔۔ پاکستانیت کی خوبیوں میں سے خاندانی نظام اور مرکزیت بہت بڑی خوبی ہے ۔دنیا کا نظام فرد کےگرد گھوم رہا ہے جب کہ پاکستان کا خاندانی نظام تا حال قائم ہے۔عاصم بخاری کی خواہش ہے یہ خوب صورت نظام دائم رہے۔جس کا اپنا حسن اور ضرورت ہے۔
خاندانی نظام ہے اس میں مل کے آپس میں لوگ رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عاصم بخاری کو پاکستانی بھائی چارہ کی فضا متاثر کرتی ہے۔جسے مزید مضبوط کرنے کی شدت سےضرورت محسوس کرتے ہیں۔ لا الہ والا ملک ہے عاصم بھائی چارے کا دور دورہ ہے ۔۔۔۔۔ دنیا کے اندر اولڈ ہاوس قائم ہو رہے ہیں مگر الحمد للہ پاکستان میں بزرگوں کا احترام لحاظ اور خیال ابھی روایتی انداز میں قائم ہے۔جس پر عاصم بخاری نازاں دکھائی دیتے ہیں۔
لا الہ والا ملک ہے عاصم احترام اس میں ہے بزرگوں کا ۔۔۔۔ وطن ِ عزیز میں دنیا کی طرح ہزار تبدیلیاں آ جانے کے باوجود ملک کےہر کونے میں عورت کا احترام بدستور موجود ہے۔
لا الہ والا ملک ہے عاصم احترام اس میں عورتوں کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی اور جمہوری ملکوں کی یہ شان اور پہچان میں ہوتا ہے کہ وہاں کے باشندوں کو یہ حق حاصل ہو۔یہاں بھی ذہنی بلوغت کے ساتھ اعتدالی انداز میں ضرور ہونا چاہیے۔
ملک جمہوری ہے بخاری یہ اس میں آزادی رائے کی ہو گی ۔۔۔۔۔۔ اگر وطن ِ عزیز کے سبز ہلالی پرچم پر غور کیا جائے تو یہ اس بات کا مظہر ہے کہ سبز گنبد والے کے پیروکاروں کے دیس میں ہریالیاں اور خوش حالیاں لازمی ہونی چاہیں۔نظر دل اور دماغ کی طراوت و تازگی کے لیے عاصم بخاری مزید ہریالیوں کے طالب ہیں۔
یہاں ہر یالیاں ہوں گی بخاری بلاتا ہے ہلالی سبز پرچم ۔۔۔۔۔ عاصم بخاری کو ناز اور مکمل یقین ہے کہ لاالہ کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک ہمیشہ لا الہ کے کے سائے میں مزید ترقی کرے گا۔
پاک تیرے وطن پہ عاصم جی سایہ ہے لا الہ کے پرچم کا ۔۔۔۔۔۔ حب الوطنی سے سرشار ملک کے سبھی باشندوں کے جذبہء ایمانی کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک کا بچہ بچہ اپنے دیس پر قربان ہونے کا مثالی اور دیدنی جذبہ رکھتا ہے۔ فوج ہی اک نہ سارے باشندے پاک دھرتی کے سب سپاہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہم وطنوں کی شجاعت کا اعتراف کچھ اس انداز میں کرتے ہیں۔
بارہا جس نے کر دیا ثابت سر زمیں ہے بہادروں کی یہ ۔۔۔۔ وطن کے جوانوں سے بخاری کو محبت ہے۔جن کے بارے نیک جذبات و خواہشات کچھ یوں رکھتے ہیں۔
نظر ِ بد سے بچے رہیں شالا کیا سجیلے جوان ہیں میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری صاحب اگرچہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ "ہر مُلک مِلک مااست” لیکن وہ چاہتے ہیں کہ روزگار کےحوالے سے ہم خود کفیل ہوتے۔دوسرے ممالک کے لوگ یہاں روزگار کے لیے آتے۔جب کہ ہمارے جوانوں کو پرائے دیسوں میں جانا پڑتا ہے۔
جانا پردیس کس لیے پڑتا دیس میں روز گار ہوتا تو ۔۔۔۔۔ وطن ِ عزیز کے وسائل اور مسائل کےتناسب میں بگاڑ دکھائی دیتا ۔آبادی زیادہ ہو چکی ہے۔روزگار کے مواقع کم پڑتے جا رہے ہیں۔جنہیں مزید بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ضرورت ہے۔
دُکھ تو ہوتا بہت بخاری جی دیکھ بے کار نو جوانوں کو ۔۔۔۔۔۔ بخاری صاحب کے ہاں دھیمے انداز میں دھرتی ماں سے اپنے رویے میں نرمی اور ممتا جیسی شفقت کی استدعا بھی ملتی ہے۔
ماں کے جیسے بخاری دھرتی بھی سنتے تھے ہم یہ پیار دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بخاری صاحب دھرتی ماں سے اپنے رویے پر مشفقانہ اور ہمدردانہ غور کی اپیل بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دھرتی ماں سے گلہ ہے تو اتنا ماں کے جیسے خیال بھی رکھتی ۔۔۔۔۔ تعلیم اب عام ہوچکی ہے جو کہ خوشی کی بات ہے۔مگر وہ چاہتے ہیں کہ یہ نوجوان خوش حال اور باروزگار بھی ہوتے۔ان کا معیار ِ زندگی بلند ہوتا۔ جتنے عاصم پڑھے لکھے پھرتے اس قدر روز گار بھی ہوتا ۔۔۔۔۔ اپنے دیس میں ماں باپ کی آنکھوں اور سائے میں جوان پلتے پھولتے اور پھلتے۔
جانا باہر کسی کو نہ پڑتا کارو بار ہوتا دیس میں اتنا ۔۔۔۔۔۔ جوانوں کو روزگار کے سلسلہ میں پرائے دیس جاتے دیکھ کر بخاری کا دل کُڑھتا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے وطن کی خدمت کرتے۔
ہے دُکھ کی بات عاصم اس شجر سے پرندے کوچ کرتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب مسلمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کوحاضروناظر ماننےوالے ہیں۔ ان کے دیس میں تو کیمروں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے مگر طنزا” افسوس۔۔۔ لا الہ والا ملک ہے اس میں کیمرے تو کہیں نہیں ہوں گے ۔۔۔۔۔۔
لوگ مل کے رہیں محبت سے خواب تعبیر میرا یہ پائے ۔۔۔۔۔ عاصم بخاری اس ملک پر مزید اللہ تعالیٰ کے خاص کرم اور عنایت کے خواہاں ہیں۔
لا الہ والا ملک ہے اس پر آپ ہی خاص رحم فرمائے ۔۔۔۔۔۔ ایک اسلامی ملک میں مساوات اخوت بھائی چارے کا مزید فعوغ عاصم بخاری کی دلی خواہش ہے۔
لا الہ والاملک ہے لیکن ایک ہی صف میں سب نہیں دِکھتے ۔۔۔۔ عاصم بخاری کو وطن ِ عزیز کے جوہری ملک ہونے پر خوشی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ اس جوہری طاقت کو مثبت کاموں میں استعمال کرکے مزید روش پاکستان بنایا جائے۔
جوہری ملک تو بخاری جی کام لیتے ہیں کتنے طاقت سے ۔۔۔۔۔۔ عدالتی نظام کی سست روی پرحیراں دکھائی دیتے ہیں کہ ایک اسلامی جمہوری اور نظریاتی ملک میں تو انصاف کی فراہمی میں اس قدر تاخیر دعوت فکر دیتی ہے اور ای لمحہء فکریہ ہے۔
وہ بھی کیا دور تھا بخاری جب ملتا انصاف تھا عدالت میں ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کو آئےروز ہر سال سیلابوں کے عذابوں کا سامنا رہتا ہے۔جس پر انہیں تشویش ہے۔ آج کے دور میں ایسے ناقابل ِ تلافی نقصان بار بار اور ہرسال اٹھانا حیرت سےخالی نہیں۔
شاعر و مصنّف : عبدالمجید آصف لودھرا ( گاؤں غلاماں ، بھکر ) ان کے جو شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں ان کے نام درجِ ذیل ہیں ٫٫ دھاڑیں ،، سرائیکی مجموعہ کلام ( مئی 2024ء ) صفحات 124 ٫٫ ہَکل ،، سرائیکی مجموعہ کلام ( اگست 2024ء ) صفحات 184 ٫٫ بلانگ ،، سرائیکی شعری مجموعہ ( مارچ 2025ء) صفحات 208 ٫٫ کھیچل ،، سرائیکی مجموعہ ( مارچ 2025ء ) صفحات 224 ٫٫ آبلہء جاں ،، اُردو شعری مجموعہ ( ستمبر 2025ء ) صفحات 216 زیرِ نظر سرائیکی مجموعہ کلام ٫٫ بکُل ،، دسمبر 2025ء میں شائع ہوا ہے ۔ تمام تر شعری مجموعے ایم ۔ ارسلان پبلیشرز ملتان نے خوبصورت ٹائٹلز کے ساتھ شائع کئے ہیں ۔
ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
لہو جُسے میڈے دا اگیں نچوڑیں ہن ماس تن دا ، چُندیندی ودی ہے
سرائیکی ادب اپنی مٹی ، اپنی تہذیب ، اپنے دکھ سکھ اور روحانی ورثے کی ترجمانی کا نام ہے ۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر و مصنّف عبدالمجید آصف لودھرا کا شعری مجموعہ ٫٫ بُکل ،، سرائیکی شاعری میں ایک اہم اضافہ ہے ۔ یہ کتاب نہ صرف فنی و فکری اعتبار سے مضبوط ہے بل کہ اپنے موضوعات کے تنوع اور اسلوب کی پختگی کے سبب قاری کو متاثر کرتی ہے ۔ عبدالمجید آصف لودھرا کا تعلق ضلع بھکر کے گاؤں غلاماں تحصیل کلورکوٹ سے ہے ، جو صدیوں سے علم ، محبّت اور درویشی کا گہوارہ رہا ہے ۔ شاعر نے اسی مٹی کی خوشبو ، اسی دھرتی کے دکھ اور اسی خطے کی محرومیوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ۔ بُکل کے کل صفحات 240 ہیں اور یہ ضخامت ہی نہیں بلکہ معنویت کے لحاظ سے بھی بھرپور مجموعہ ہے ۔ کتاب کا آغاز حمدیہ کلام سے ہوتا ہے جن میں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت ، عظمت اور صفاتی جلال کو نہایت عقیدت اور فنی حُسن کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد نعتیہ کلام شامل ہیں جن میں حضور نبی کریم ﷺ سے عشق ، احترام اور عقیدت کا اظہار دل نشیں انداز میں ملتا ہے ۔ نعتیہ کلام میں زبان کی لطافت ، جذبے کی پاکیزگی اور اسلوب کی سادگی قاری کے دل کو چھو لیتی ہے ۔ مجموعے میں حضرت امام حسین علیہ السّلام کی شان میں ایک پُراثر اور فکرانگیز کلام شامل ہے جو حق ، قربانی ، صبر اور استقامت کی عظیم مثال کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے ۔ یہ کلام محض مرثیہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے مظلوم انسان کے لیے پیغامِ حریت بھی ہے ۔ اسی طرح حضرت علی علیہ السّلام کی شان میں کہی گئی نظم کامل ولی شاعر کے فکری شعور اور روحانی وابستگی کا واضح ثبوت ہے ۔ اس نظم میں علم ، عدل، شجاعت اور ولایتِ علیؑ کو نہایت موثر پیرائے میں پیش کیا گیا ہے ۔ کتاب میں شامل کافیاں سرائیکی لوک روایت سے گہرا رشتہ رکھتی ہیں ۔ کافیاں میں عشقِ حقیقی ، ہجر ، وصال اور معرفت کے رنگ نمایاں ہیں ۔ شاعر نے کلاسیکی سرائیکی کافیہ نگاری کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید احساسات کو بھی سمویا ہے ۔ ٫٫ بُکل ،، کا ایک اہم اور منفرد حصّہ غزلیات پر مشتمل ہے ، جو کہ غزل کو غزل کے رنگ میں رکھا گیا ہے ۔ آصف لودھرا کے شعری مجموعے ٫٫ بُکل ،، میں شامل سرائیکی غزلیں فکری بالیدگی ، جذباتی گہرائی اور فنی توازن کا خوب صورت امتزاج ہیں ۔ ان غزلوں میں عشقِ مجازی سے لے کر عشقِ حقیقی تک کے مختلف مدارج نہایت سلیقے اور خلوص کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ شاعر کی زبان سادہ ، رواں اور خالص سرائیکی مزاج کی حامل ہے ، جس میں مقامی رنگ ، تشبیہات اور استعارات غزل کو اپنی دھرتی سے جوڑ دیتے ہیں ۔ فنی اعتبار سے بحر ، قافیہ اور ردیف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو غزلوں میں ترنم اور تاثیر پیدا کرتی ہے ۔ ساتھ ہی شاعر نے حالاتِ حاضرہ ، علاقائی محرومیوں اور عام انسان کے دکھ درد کو علامتی انداز میں سمو کر ان غزلوں کو محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ سماجی شعور کی آئینہ دار تخلیق بنا دیا ہے ۔
عبدالمجید آصف لودھرا اور مقبول ذکی مقبول
دو اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں
ایم اے دیاں چھیں سنداں ہن چھیں ڈپلومے ہتھ ءچ اجن وی تینوں شک ہے کوئی میڈے یار ہنر وچ
روز دی کِٹ کِٹ گھر اجڑیندی کنھ فائدہ نروار نہ ڈتا
نظمیات کی بات کروں تو چند نظمیات شاملِ کتاب ہیں اور جو قابلِ ذکر ہیں ان میں بال ، خود داری اور ہنجو رَت دے کتاب کے سنٹر میں اللّٰہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں پر مشتمل ایک شاندار تخلیق ہے۔ یہ نظم نہ صرف فکری اعتبار سے بلند ہے بلکہ اس کا فنی ڈھانچہ بھی قابلِ تحسین ہے ۔ اسی نظم پر کتاب کا حُسن اور بڑھ جاتا ہے ۔مجموعے کو ایک روحانی تکمیل عطا ہوتی ہے ۔ مدس اور قطعات بھی اپنی بہار دکھا رہے ہیں ۔ اگر ان پر روشنی ڈالوں تو مضمون طویل ہو جائے گا ۔ مجموعی طور پر ٫٫ بُکل ،، کا تمام کلام اپنے فن ، معیار اور فکری پختگی پر پورا اترتا ہے ۔ شاعر نے محض داخلی جذبات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ حالاتِ حاضرہ ، معاشرتی مسائل ، علاقائی محرومیاں اور عوامی دکھ درد کو بھی اپنی شاعری کا حصّہ بنایا ہے ۔ یہی وصف لودھرا کو ایک سنجیدہ اور ذمے دار شاعر کے طور پر نمایاں کرتا ہے ۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٫٫ بُکل ،، سرائیکی ادب میں ایک بامقصد ، فکری اور روحانی شعری مجموعہ ہے جو نہ صرف اہلِ ذوق قارئین بلکہ سنجیدہ ناقدین کی توجہ کا بھی مستحق ہے ۔ یہ کتاب شاعر کے تخلیقی سفر کی ایک مضبوط دستاویز اور سرائیکی شاعری کے روشن مستقبل کی نوید ہے ۔ آخر حصّہ میں شامل ایک سو سے زائد سرائیکی دوہڑے اس کتاب کی جان اور تھل کی اصل پہچان ہیں۔ یہ دوہڑے نہ صرف سرائیکی زبان کی سادگی، مٹھاس اور گہرے جذبات کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں بلکہ تھل کے کلچر ، روایت ، محبّت ، دکھ اور مزاحمت کو بھی زندہ صورت میں پیش کرتے ہیں ۔ ان دوہڑوں میں مٹی کی خوشبو ، لوک دانش کی جھلک اور دھرتی سے جڑی زندگی کے حقیقی رنگ نمایاں ہیں جو قاری کو سرائیکی ادب کی روح سے روشناس کراتے ہیں اور اس مجموعے کو ایک منفرد ادبی مقام عطا کرتے ہیں۔ کتاب میں شامل آرا میڈی گل اے کجھ صاحبِ کتاب عبدالمجید آصف لودھرا ، محبتیں دا سفیر ، ایس ایم اختر ملک ، اُردو پوائنٹ علو والی( میانوالی ) نویکلا انداز ڈاکٹر ساحر رنگ پوری (شعبہ ریاضی یونیورسٹی آف اوکاڑہ ) فرنٹ فلیپ ڈاکٹر اشرف کمال ( شعبہ اُردو پوسٹ گریجویٹ کالج ، بھکر ) بیک فلیپ ڈاکٹر منیر حسین کلو ( ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نُور پور تھل ، خوشاب اور بیک ٹائٹل لکھا ہے ڈاکٹر مہر قلندر حیات لودھرا ( نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگو جز ، اسلام آباد
اردو ادب کی علمی روایت میں بعض شخصیات محض تعارف، عہدوں اور اسناد کی فہرست سے عبارت نہیں ہوتیں۔ ان کی شناخت خاموش ریاضت اور اخلاقی وقار سے تشکیل پاتی ہے۔ ایسی ہی شخصیات میں ڈاکٹر صائمہ خان کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ ان کا علمی و تحقیقی سفر اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ علم اگر خلوصِ نیت اور صبرِ مسلسل کے ساتھ حاصل کیا جائے تو وہ محض ذاتی کامیابی کا وسیلہ نہیں بنتا بلکہ ایک پورے عہد کی فکری تشکیل میں حصہ دار ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اردو زبان و ادب کے میدان میں جس استقلال اور سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا وہ آج کی تیز رفتار، شہرت پسند اور سطحی علمی فضا میں ایک خوش گوار استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے نہ تو علم کو محض ملازمت کی سیڑھی بنایا، نہ تحقیق کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔وہ ہر مرحلے پر اسے ایک فکری امانت اور اخلاقی ذمے داری تصور کرتی ہیں۔ ڈاکٹر صائمہ خان کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کے علمی و تہذیبی مرکز مظفرآباد سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مظفرآباد کے پلیٹ ہائی اسکول سے مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کی طبیعت میں مطالعے کا شوق اور زبان و بیان سے فطری انس نمایاں ہونے لگا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے ایف۔اے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، مظفرآباد سے مکمل کیاجہاں ان کی فکری سَمت واضح طور پر اردو زبان و ادب کی جانب متعین ہو گئی۔ اعلا تعلیم کے مرحلے میں انھوں نے بی۔اے اور ایم۔اے اردو آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی سے مکمل کیا۔ ایم۔اے کے دوران میں ان کی علمی صلاحیت اور تحقیقی رجحان نہ صرف اساتذہ کی توجہ کا مرکز بنا بلکہ ہم عصروں میں بھی ان کی شناخت ایک سنجیدہ طالبہ کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کے اندر محقق کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔ طویل انتظار کے بعد ایم فل اردو کے لیے ڈاکٹر صائمہ خان نے ہزارہ یونی ورسٹی،مانسہرہ کا انتخاب کیا۔ یہاں انھوں نے تحقیقی اصولوں اور تنقیدی توازن کے عملی تقاضوں کو قریب سے سمجھا۔ ان کا تحقیقی موضوع “افتخار مغل بحیثیت شاعر” انتخاب کے اعتبار سے نہایت معنی خیز اور فکری سطح پر خاصا پیچیدہ تھا۔ افتخار مغل کی شاعری جدید اردو شاعری میں فکری تہ داری، علامتی نظام اور عصری شعور کی نمائندہ ہے۔ اس شاعری کا تحقیقی مطالعہ محض اشعار کی توضیح یا موضوعاتی فہرست سازی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے شعری جمالیات اور فکری پس منظر کا ادراک ناگزیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس تحقیقی ذمے داری کو نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ نبھایا۔ 2015ء میں وہ اپنے ایم فل کے تحقیقی مرحلے میں تھیں اور موضوع کی نزاکت کے پیشِ نظر علمی معاونت کی تلاش میں اہلِ علم سے رابطہ کرتی رہیں۔ مسلسل مطالعے، مواد کے انتخاب، تجزیے اور تنقیدی استدلال کے بعد یہ مقالہ پایۂ تکمیل کو پہنچا اور 2017ء میں انھوں نے ہزارہ یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کی ڈگری کامیابی سے حاصل کی۔ یہ مقالہ اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہے اور بلاشبہ شائع ہونے کے بعد افتخار مغل کی شاعری کے مطالعے میں ایک مستند حوالہ بنے گا۔
تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صائمہ خان کا تدریسی سفر بھی نہایت منظم اور بامقصد رہا ہے۔ وہ 2010ء سے آزاد کشمیر کے شعبۂ ہائر ایجوکیشن میں بہ طور لیکچرر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس طویل عرصے میں انھوں نے باغ اور چکار کے کالجز میں تدریسی فرائض سرانجام دیے اور ہر جگہ اپنی شناخت ایک محنتی، ذمے دار اور طلبہ نواز استاذ کے طور پر قائم کی۔ 2019ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے لیے کامیابی حاصل کی اور یوں وہ اس اہم منصب پر فائز ہوئیں۔ اس وقت وہ گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی تدریس محض نصابی متن کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ وہ طلبہ میں فکری سوال اٹھانے، تنقیدی سوچ اپنانے اور زبان کی تہذیب سیکھنے کا شعور بےدار کرتی ہیں۔ ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کا مرحلہ کسی بھی محقق کے لیے سب سے زیادہ صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مرحلے کا آغاز بھی ہزارہ یونی ورسٹی سے کیا۔ ان کا تحقیقی موضوع “اعجاز رحمانی کی شاعری میں اسلامی انقلابی شاعری” تھا۔ یہ موضوع فکری اعتبار سے نہایت حساس اور علمی سطح پر گہری بصیرت کا تقاضا کرتا تھا۔ اسلامی انقلابی شاعری محض جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی ردِعمل کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام، تہذیبی شعور اور اخلاقی نصب العین کی حامل روایت ہے۔ اعجاز رحمانی کی شاعری میں اس رجحان کا تحقیقی مطالعہ ایک ہمہ گیر تنقیدی نگاہ کے ساتھ ساتھ مذہبی علم اور ادبی توازن کا متقاضی تھا۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مقالے میں اسلامی فکر، انقلابی شعور، شعری جمالیات اور فکری تسلسل کو نہایت سلیقے اور تحقیق کے ساتھ مربوط کیا۔ یہ تحقیقی کام ڈاکٹر مطاہر شاہ کی زیرِ نگرانی مکمل ہواجن کی علمی رہنمائی اور فکری سرپرستی نے اس مقالے کو مزید استحکام اور وقار عطا کیا۔ 15 جنوری 2026ء کو ہزارہ یونی ورسٹی کے ایک ہال میں انھوں نے اپنے مقالے کا نہایت اعتماد اور علمی استدلال کے ساتھ کامیاب دفاع کیا اور یوں وہ “ڈاکٹر صائمہ خان” کے معزز خطاب سے سرفراز ہوئیں۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا مظہر تھا بلکہ اردو تحقیق کی روایت میں بھی ایک خوش گوار اضافہ ثابت ہوا۔مقالے کی ممتحن ڈاکٹر فرحت جبین ورک نے ان کے اندازِ تکلم اور اس پر شین قاف کے بہتر ہونے کو خوب سراہا۔ ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شخصیت محض تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں بلکہ وہ ادبی و علمی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ کالج سے شائع ہونے والا ادبی رسالہ “سبدِ گل” ان ہی کی ادارت میں شائع ہوا جو ان کی ادبی بصیرت اور تنظیمی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان تحریروں میں تحقیقی اصولوں کی پاس داری اور اسلوب کی سنجیدگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ میں اردو ریویو کمیٹی کا حصہ بھی رہی ہیں جو ان کی علمی اہلیت اور فکری اعتماد کا عملی اعتراف ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شناخت کا ایک روشن پہلو ان کی تحقیقی دیانت اور فکری انکساری ہے۔ انھوں نے تحقیق کو کبھی ذاتی مفاد یا رسمی تکمیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہر مقالے اور ہر مضمون کو ایک اخلاقی ذمے داری سمجھ کر تحریر کیا۔ ان کے نزدیک تحقیق، متن اور محقق کے درمیان ایک مقدس رشتہ ہے جس کی پاس داری لازم ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک جذباتی اور روحانی حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اس علمی کامیابی کو اپنی والدہ کے نام منسوب کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد ان کی والدہ کی خواہش، دعا اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ناسازیِ صحت، گھریلو ذمے داریاں، اولاد کی پرورش اور ملازمت کے ساتھ اس قدر وقیع تحقیقی کام انجام دینا آسان نہ تھا مگر ماں کی دعا نے اس سفر کو ممکن بنایا۔ ڈاکٹر صائمہ خان کا علمی و تحقیقی سفر اس امر کی زندہ مثال ہے کہ اگر علم کو اخلاص اور دیانت کے ساتھ اختیار کیا جائے تو وہ فرد کی ذات سے آگے بڑھ کر اجتماعی فکری ورثے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی کاوشیں اردو تحقیق کے افق پر ایک ایسی روشنی ہیں جو دیر تک اہلِ علم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ بلاشبہ ڈاکٹر صائمہ خان آزاد کشمیر کی اردو دنیا میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام کی حیثیت رکھتی ہیں۔
وقت وقت کی بات ہے وہ وقت بڑا کمال اور دل کش ہوتا ہے جب کوئی شخص ملتا ہے۔ اور ہمارے سان گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ کل کلاں وہ ہمارا دوست بن جائے گا۔یہ اسی عدیم المثال لمحے کی عطا ہےکہ مجھے عاصم بخاری سے ملاقات میسر ہوئی۔میرے جلیس اور میرے ہم دم ِ دیرینہ میاں ارشد حسان نے ملاقات کرائی تھی۔یہ ان دنوں کی بات ہےجب مجھے افسانہ لکھنے کا نیا نیا شوق ہوا تھا۔عاصم بخاری کے اگر حلیے کی بات کی جاۓ تو کشادہ چہرہ گندمی رنگت، موٹی آنکھیں ، خشخاشی داڑھی ، کترواں مونچھیں ، سر کے بال روٹھنے لگے تو ماتھا مزید کشادہ ہوگیاابھی سر کی چوٹی پر بال موجود ہیں۔جو کہ عہد ِ رفتہ کی دل پذیر یاد ہیں۔ قد نہ زیادہ لمبا ہے نہ زیادہ چھوٹا۔چال میں نہ تیزی ہے نہ سستی۔شلوار قمیض پہنتے ہیں۔اکثر انھیں مسکراتے ہی دیکھا ہے۔یہ مسکراہٹ ان کے ظاہر وباطن کی غماز ہوتی ہے۔ان کا حافظہ بہت تیز ہے۔کئی شعرا کے بیسیوں اشعار ازبر ہیں اور برمحل پیش کرنے کا فن بھی انہیں خوب آتا ہے۔اردو کی محبت ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔اس لیے اردو سے متعلق سوال پوچھیں تو اکثر جواب مل ہی جاتا ہے۔اس لیے پیاس ساحل ِ مراد سے ہم کنار ہو ہی جاتی ہے۔گفتگو کا انداز بڑا عاجزانہ ہے۔بڑی آہستگی سے اور ٹھہر ٹھہر کے بات کرتے ہیں۔اسے سستی کہیں یاانداز ِ تکلم کی خوب صورتی۔یہ مرحلہ قاری کی مرضی پہ منحصر ہے۔جب فون پہ ان سے بات ہوتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کیا حال ہے تو الحمد للہ بڑے سریلے اور تحت اللفظ انداز سے کہتے ہیں۔
نقطہ ء نظر سے اختلاف ہو تو اسے اس مدلل انداز سے نظر انداز کرتے ہیں کہ متکلم کو کانوں کان تک خبر نہیں ہوتی۔فقط پرانے آشنا ہی اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔البتہ اظہار کرنا ہوتو وہ بہت دھیمے اور میٹھے انداز میں بات کرتے ہیں۔اردوکے پروفیسر کی حیثیت سے کالج میں بہت مقبول ہیں۔ان کی اپنے پیشے سے لگن اور خلوص کا اندازہ کرنا ہو تو ان کے طلبہ سے پوچھیۓ۔آج کل گورنمنٹ کالج کالاباغ میانوالی میں اپنے تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔انھوں نے زندگی میں موقع ایک ہی بار ملنے کے نظریہ کو عملا” رد کرکے دکھایا ہے کہ قدرت موقعے بار بار دیتی ہے مگر انسان پست ہمت ہے۔ناکامیوں سے گھبرانا اور ان پہ اشکبار ہونا انہیں نہیں ۔ان کی اس خوبی پہ رشک ہی کیا جاسکتا ہے۔شاعر ہیں نثر نگار ہی نقاد ہیں محقق ہیں۔اردو سرائیکی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔خود پسندی جو بہت سے شعرا کا خاصہ ہوا کرتی ہے ۔ان کے ہاں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ان کے کلام پر جب تنقید ہوتی ہے تو کھلے دل سے سنتے ہیں۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ طبیعت موزوں ہوتو لکھنا لازم ہے۔۔می نویس و می نویس و می نویس کے کلیے پر چلنے والے یہ مسافر کئی نثری و منظوم کتب کے خالق و مصنف ہیں۔اس ابتری کے دور میں بھی ان کارشتہ کتاب وقلم سے قا ئم ہے ۔حال ہی میں ان کا نثر پر مشتمل کتاب ” فسانہ ء محفل” منظر ِ عام پر آئی ہے جو کہ معیار و مقدار اور مواد کے لحاظ سے پڑھنے کے قابل ہے۔۔
سیلاب کے موضوع پر عاصم بخاری کی شاعری(ایک جھلک) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبصر راحت امیر نیازی (میانوالی)
ڈیم نہ ہوں گے تو عاصم جی گھومے گا ، آوارہ پانی
عاصم بخاری ایک بیدار تخیل اور زود نویس شاعر ہیں۔ غور کرنے کااندز فلسفیانہ ہے۔معاشرے میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اور سانحہ پر ان کا راہوار۔ قلم حرکت میں آ جاتا ۔گذشتہ مہینوں میں سیلاب کی صورت ملک پاکستان پر گزرنے والی قیامت وہ درد ناک و کرب ناک مناظر ہر درد مند دل کی طرح ان کے دل دماغ پر پر بھی گہرے نقوش و اثرات مرتب کر گئی ہے۔محسوس تو یقینا ہر صاحب ِ دل و دماغ کرتا ہے لیکن بہ حیثیت شاعر و ادیب عاصم بخاری نے اپنے ان محسوسات کو قلمی و لفظی لباس بھی پہنایا ہے۔ای شاعر و ادیب ہونے کاانھوں نے حق ادا کیاہے۔ اور اس حادثے اور سانحے کو بھی کئی ایک پہلوؤں سے مثبت اور سبق آموز انداز میں لینے اور فکر مند انداز میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ مکالماتی انداز کا خوب صورت اور فکر انگیز قطعہ
سال بھر بہتے رہتے ہیں دریا ڈیم کی شکل کیوں نہیں دیتے آ کے سیلاب نے یہی پوچھا پانی سے کام تم نہیں لیتے ۔۔۔۔۔۔۔
عاصم بخاری ایک حقیقت پسند اور حقیقت نگار شاعر و ادیب ہیں۔تمام پہلوؤں کو مد ِ نظر رکھ کر شعری تجزیہ کرتے ہیں۔ڈیموں کی تعمیر اور آبی منصوبہ بندی کے موضوع پر یوں منظوم اظہار کرتے ہیں۔ شعر
کبھی اتنا سیلاب نقصاں نہ کرتے اگر ڈیم تعمیر ہوتے بخاری سیلاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زلزلہ ہو یاسیلاب یہ آفات ہیں اور آزمائش کی شکل ہوتی ہیں
۔ان میں صبر و تحمل اور استقامت کی بات کرتے ہوئے نظم میں سارا منظر نامہ اور بربادی کی مکمل تصویر کشی بڑے پردرد انداز میں کرتے ہیں۔ ایک نظم ملاحظہ ہو۔ آ فت ہے اک عذاب ہے سیلاب دوستو بہہ ہی چکے ہیں جس میں کئی خواب دوستو ۔۔۔۔ رحمان یا رحیم کا بس ورد کیجیے لا سکتا کون اس کی بھلا تاب دوستو ۔۔۔۔ چک وال کا جو حال ہے ہائے میں کیا کہوں گاؤں بھی شہر بھی کئی غرقاب دوستو ۔۔۔۔ بربادیوں کے ڈیرے ہیں جہلم اداس ہے پنڈی کا حال کیا کہوں غرقاب دوستو ۔۔۔۔ حفظ و امان میں ہی بس اپنی خدا رکھے دردوں بھرا یہ زندگی کا باب دوستو ۔۔۔۔ منظر تمہیں بتانے کی عاصم سکت کہاں یہ داستان ہے سبھی خوناب دوستو ۔۔۔۔۔ بخاری صاحب اس برساتی اور مون سون موسموں میں پیدا ہونے والی سالانہ صورت ِ حال کا حل آبی منصوبہ بندی یعنی ڈیموں کی تعمیر کی صورت قبل از وقت عملی تشویش کی صورت چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا واحد موثر حل یہی ہے۔ ایک شعر بچنا ہے گر عاصم جی سیلابوں سے ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عاصم بخاری ہر معاملے کو سائنسی فکری اور منطقی انداز میں لینے کے قائل ہیں۔ کہ یہ آفت اچانک ہمارے اوپر نازل نہیں ہوتی ۔اس کااگر مقررہ موسم اور وقت ہے تو پھر اس کی پیش بندی ناممکن نہیں مشکل ہو سکتی ہے۔یہی فکر ان کی اس نظم میں ملتی ہے
سیلاب ۔۔۔۔۔
جس سمت دیکھتا ہوں میں سیلاب دوستو اس کے بھی کچھ تو ہوں گے ہاں اسباب دوستو ۔۔۔۔ ہر سال ان مہینوں میں ہوتا ہے اس طرح کب تک یوں دیکھتے رہیں گے خواب دوستو ۔۔۔۔ گاؤں تو خیر گاؤں ہیں آ تجھ کو دکھاؤ ں شہروں کے شہر ہوتے ہیں غرقاب دوستو ۔۔۔۔۔ شہروں میں ٹھاٹھیں مارتے دریا بڑے بڑے کچھ ایسے دیس ہوتا ہے سیراب دوستو ۔۔۔۔ ہم ہیں کہ پھر بھی اس پہ کبھی سوچتے نہیں ہر بار چور ہوتے کئی خواب دوستو ۔۔۔ بوڑھے ضعیف دیکھتے رہ جاتے ہیں مگر بہہ جاتے سب جہیز کے اسباب دوستو ۔۔۔۔ شامل ہے اپنی بے حسی بھی درجہ ء اتم دشمن کی چال بھی ہے یہ گرداب دوستو ۔۔۔۔ حیرت کی اس میں بات تو عاصم کوئی نہیں ہر سال کھلتا رہتا ہے یہ باب دوستو ۔۔۔ اس وقت موت کاہے جو ساماں بناہوا حالاں کہ زندگی یہی آب دوستو ۔۔۔۔۔ کہیں کہیں بخاری صاحب کا شعری لہجہ سخت بھی دکھائی دیتا ہے۔ان کے نزدیک ہماری بے حسی اور غفلت و بے عملی اور غیر سنجیدہ رویہ بھی اس بربادی کے اسباب میں شامل ہے۔فطرت کے قوانین کے تناظر میں شعر دیکھیے۔
یہ مکافات تو نہیں اس کی ہم نے ضائع کیا تھا پانی کو ۔۔۔۔ اک اور شعر کا مزاج بھی اسی موڈ کی غمازی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کہ سیلابی پانی کے زور شور سے شاید یہ آواز آ رہی ہے کہ شعر ۔۔۔۔ بنائے کیوں نہیں ہیں ڈیم تم نے سزا سیلاب شاید دے رہا ہے ۔۔۔ آخر میں دیس کے مستقبل میں پانی کے مسئلے کی اہمیت اور ضرورت کے متعلق فکر مندی کا اظہار اہل وطن کو جگاتے اور جھنجھوڑتے ہوئے یوں کرتے ہیں قطعہ دیر مت کیجیے بخاری جی اس سے پہلے کہ ہم ہوں ارمانی آنے والوں کے واسطے عاصم آؤ محفوظ کر لیں کچھ پانی
المختصر عاصم بخاری اہک پختہ کار قادر الکلام اور بالغ النظر شاعر و ادیب ہیں۔جن کے اپنمعاشرہ اور معاشرتی مسائل و وسائل ہر گہری نظر ہے ۔ایسے درد مند اور فکر مند قلم کار ہی قوم و ملت کا سرمایہ ہیں۔
عاصم بخاری کا ایک اختتامی شعر ڈھونڈ رہا ، ڈیم بخاری در در یہ ، بے چارا پانی
عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری کا ایک اہم موضوع دُھند ۔۔۔۔۔۔۔۔ مضمون نگار
راحت امیر نیازی
عاصم بخاری عہد ِ حاضر کے حاضر دماغ شاعر ہیں۔گرد و پیش اور آنے والے کل کے موسمی حالات پر انکی کڑی نظر رہتی ہے۔پیشین گوئی کرتی ایک نظم دھند (فوگ)
آنے والا بخاری وہ موسم چھانے والا ہے ہر سُو وہ موسم جس میں سردی سے کانپنا ہوگا جسم کوٹوں سے ڈھانپنا ہو گا جس میں عاصم دکھائی مت دے گا جس میں کچھ بھی سجھائی مت دے گا لوگ محصور جس میں ہوں گے سب سرد موسم ہی حکمراں ہوگا چین گھر میں کسے کہاں ہو گا دن بدن بڑھتی جائے گی سردی یہ الگ بات اپنے گھر ہوں گے ایک دوجے سے بے خبر ہوں گے جلد بارش خدایا دے دینا ٹل وبا جائے جس سے یہ فوگی عرض کرتے ہیں پیش تر روگی اس ان ہونی اور مختلف صورت ِ حال پر ان کے ہاں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوتی محسوس ہوتی ہے۔وہ چہل پہل اور دن کی روشنی کے خواہاں ہیں۔ شعر دیکھیں
کاروبار ِ حیات ، ٹَھپ ہیں سب دُھند ہی دُھند ، میرے شعروں میں ۔۔۔ عاصم بخاری کو اس صورت ِ حال میں تشویش کا سامنا ہے۔ قطعہ ملاحظہ ہو۔
ایک مدت سے ہو رہا ایسا تھوڑی یہ آج ہے بخاری جی اپنا یہ آج ہے بخاری جی کوئی آگے بڑھے بھلا کیسے دھند کا راج ہے بخاری جی ۔۔۔۔
اچھا تو، کوئی یہ شگوں، عاصم نہیں جو فوگ بڑھتی جا رہی ، ہے ہر طرف عاصم بخارینے دھند کے لفظ کو تمثیلی انداز میں علامت کے طور پر بھی خوب برتا ہے شعر
آج کل چھائی ہوئی ہے "دُھند” جیسے ہر کہیں آن گھیرا ہے ہمیں یوں ، "کفر” نے ” الحاد” نے ۔۔۔۔ عاصم بخاری کی سوچ کا انداز مفکرانہ ہے۔وہ سبھی کو عوامل پر غور کرنے کی ترغیب دیتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ شعر
کون لایا ہے دُھند کو جس نے جام سارا نظام کر ڈالا ۔۔۔ عاصم بخاری کی سوچ کا دائرہ کائناتی اور تقابلی بھی ہے ۔وہ متفکر کہ کیا یہ سلسلہ صرف ہمارے ہاں یعنی وطن ِ عزیز میں ہی تو نہیں۔اگر عالمی مسئلہ ہے تو دنیا اس سے نمٹنے کے لیے کیا کیا اقدامات کرتی ہے۔ شعر پوچھنا تھا یہ دھند کے بارے اور بھی کیا کہیں یہ ہوتی ہے ۔۔۔ ہمارے وسیب میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دشمنی کا کلچر ہے دونوں اطراف سے آئے روز لوگ مارے جاتے ہیں لیکن بخاری صاحب دھند کے مسئلہ کی سنگینی کچھ یوں تقابلی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ شعر اتنے مرتے نہ”دشمنی”، میں بھی "دُھند” نے جتنے لوگ، مارے ہیں
۔۔۔۔ اسی طرح بخاری کی سوچ کا زاویہ اور دائرہ بہت وسیع اور اپنا ہے۔ون ویلنگ بہت نقصان دہ ہے۔ مگر افسوس کہ اس دھند نے مقابلتا” زیادہ نقصان کیے ہیں۔اس بات کو یوں منظوم کیا۔
"وَن ویِلنگ” نے بھی، نہیں مارے "دُھند” نے جتنے لوگ، مارے ہیں
۔۔۔۔۔ نتیجتا” بخاری صاحب موازنہ کرتے ہوئے نقصان کی تصویر پیش کرکے عزیز ہم وطنوں کو خبردار کرتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے احتیاط برتیں دو شعر کبھی پورے نہ عاصم ہو سکیں گے کیے وہ دُھند نے نقصاں بخاری ۔۔۔۔۔۔
کیے وہ دھند نے نقصان عاصم بخاری جو کبھی پورے نہ ہوں ۔۔۔۔ اس لیے کہ سردست اس کاکوئی علاج نہیں صرف محتاط رویہ اور احتیاط ہی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ شعر میں نے پوچھا کوئی علاج اس کا دُھند کا نام سُن کے مُسکایا
عاصم بخاری اس دھند کو بھی آفات میں شمار کرتے ہوئے انسان کی بے بسی کی تصویر پیش کرتا ہے کہ ان اللہ علی کل شئی قدیر کی بارگاہ میں دست ِ دعا بلند کرتا ہے کہ یارب اس آفت اور امتحان سے ہمیں نجات دے
شعر ہر کسی کی ہے بس دعا یہ ہی دھند کو ٹال دے خداوندا ۔۔۔ عاصم بخاری کے ہاں ہمیں سائنسی شعور بھی ملتا ہے کہ بارگاہ ربی میں سب مل کر لتجا کریں کہ اللہ تعالی بارش کی صورت اس امتحان کو ہمارے سروں سے ٹال دے شعر اپنے رحم و کرم کی بارش سے دھند کو ٹال دے خداوندا ۔۔۔۔ اگر بارش کا امکان نہیں تو پھر دوسری صورت میں عاصم بخاری بارگاہ ِ ربی میں ملتمس ہیں کہ کوئی ایسی ہوا چلے جس سے یہ دھند آبادیوں سے کہیں دور چلی جائے اور مخلوق ِ خدا سکھ کا سانس لے شعر بھیج ایسی ہوا کوئی یارب دھند کو جو بھگا کے لے جائے
منفرد لب و لہجہ کا شاعر ، نقاد ، ادیب ، محقق ، تبصرہ نگار ، انٹرویو نگار، ادبی رپوٹر ، صحافی اور اچھا و مخلص انسان دبستانِ تھل کا روشن ستارہ ، ریگ زار تھل میں رہائش پذیر بھکر کی تحصیل منکیرہ ترجمان ِ ادب ۔ دُنیائے ادب میں اُردو ، سرائیکی اور پنجابی کی خوشبو جو کہ صرف تھل ، صحرا تک ہی محدود نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی جہاں اُردو ادب وہاں اپنے فن و ادب کا لوہا منوایا چکے ہیں ۔
محدود وسائل کے باوجود کمزوری کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مدد آپ کے تحت ادب کی خدمت میں پیش پیش ہیں ۔
پیدائش
مقبول ذکی مقبول کا خاندانی نام مقبول حسین قلمی نام مقبول ذکی مقبول جس سے ادبی دُنیا میں منفرد پہچان رکھتے ہیں ۔ یکم جنوری 1977ء کو کنال کالونی کے کواٹر لیّہ میں عالمِ وجود میں ہوئے ۔ آپ کے والد اقبال حسین کنال کالونی میں ملازمت کیا کرتے تھے ۔ ہمارے بزرگوں کا تعلق بھی لیّہ شہر سے ہے ۔ 1956ء کو آپ کے بزرگوں نے منکیرہ ( بھکر ) سے کوچ کر گئے تھے اور لیّہ میں آباد ہوئے تھے ۔ 1982ء کو واپس منکیرہ آ کر آباد ہوئے ۔
مقبول ذکی مقبول غریب گھر کے چشم و چراغ ہیں ۔ آپ کے والد اقبال حسین ( 1956ء / 18 دسمبر 2005ء ) شریف النفس انسان تھے ۔ ہمیشہ محنت کو شعار بنایا ۔ اقبال حسین کو اللّٰہ پاک نے پانچ بیٹے اور تین بیٹوں سے نوازا ۔ بھائیوں اور بہنوں میں مقبول ذکی مقبول پیدائش کے حوالے سے پہلا نمبر ہے ۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم گھر سے ماں کی گود سے لی پھر مسجد سے پھر مکتب سے سلسلہ چلا گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخلہ لیا بعد ازں رسمی و غیر رسمی انداز میں سیکھنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ تعلیم نے مقبول ذکی مقبول میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ اچھا انسان و مسلمان اور مفید شہری و پاکستانی بنایا ۔ مقبول ذکی مقبول کو پڑھنے لکھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا مگر اُس وقت کی مجبوریاں و مسائل جو کہ تعلیم مکمل نہ کرسکے ۔ البتہ ان کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں نہیں ۔
ملازمت
مقبول ذکی مقبول شروع شروع سے مٹھائی کا کام کیا اُس کے بعد کچھ عرصہ گڑ کی خرید و فروخت کا کام کیا اس کے بعد سائیکلوں کی دُکان بنائی ۔ 29 اپریل 2009ء مقبول ذکی مقبول کو والد کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں نوکری ملی ۔ تحصیل منکیرہ کے گاؤں بنڈیانوالہ گورنمنٹ ڈسپنسری میں ۔
21 نومبر 2010ء میں ٹی ، ایچ ، کیو ہسپتال منکیرہ میں 18 اکتوبر 2010ء تک جنرل ڈیوٹی سر انجام دی ۔ 12 نومبر 2021ء سے لے کر 21 فروری 2023ء ڈی ، ڈی ایچ ، او آفس منکیرہ میں جزل ڈیوٹی سر انجام دی ۔ 19 جون 2023ء سے ٹی ، ایچ ، کیو ، ہسپتال منکیرہ میں ایم ، ایس ، صاحب کے آفس میں جزل ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔ تحصیل منکیرہ کے علاقہ میں ایمرجنسی کی صورت میں بھی کائی بار ڈیوٹی کر چکے ہیں ۔
اس نوکری سے اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ اپنی بیوی بچے اور قرابت داروں سے نہایت ہی شفقت و مہربانی سے پیش آتے ہیں ۔ محکمہ کے لوگ جن کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ اور دیگر ان سے خوش ہیں ۔ اس کے علاوہ ادبی کاموں میں بھی شوق رکھتے ہیں
زمِ اوجِ ادب ، منکیرہ ( بھکر )
بزمِ اوج ادب کا آغاز دسمبر 2022ء سے کیا اس ادبی تنظیم بزمِ اوج ادب منکیرہ ( بھکر ) کے بانی و چیرمین مقبول ذکی مقبول اپنی مدد آپ کے تحت اس بزم کو جوش و خروش کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔ کسی سے چندہ وغیرہ آج تک نہیں لیا ۔ ادبی نشستیں ، ادبی مشاعرے ، نعتیہ مشاعرے ، محفل مسالمہ ، مرحوم شعراء کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ، ادبی کُتب کی اشاعت اور ایوارڈ و اسناد کی تقریبات اور دیگر ادبی سرگرمیاں جاری و ساری رہتی ہیں ۔ اس سے قبل ادبی تنظیم ٫٫ تھل ادبی سنجوک ،، منکیرہ میں خزانچی رہ چکے ہیں اور اس کے بعد ادبی تنظیم ٫٫ بزمِ نذیر ،، منکیرہ اس کے سیکرٹری نثر و اشاعت بھی کام کر چکے ہیں ۔ ادب کے فروغ کے لئے مقبول ذکی مقبول سر گرم رہتے ہیں ۔
مشاعرے
مقبول ذکی مقبول مختلف شہروں میں مشاعرہ پڑھنے کا شرف حاصل کر چکے ہیں ۔ ادبی نشستوں میں بھی اپنا کلام پیش کر چکے ہیں ۔ جن میں اسلام آباد ، لاہور ، مظفرگڑھ ، سرگودھا ، بھکر ، لیّہ ، میانوالی ، دُلے والا ، سرائے مہاجر ، اڈا جہان خان ، فتح پور ، منکیرہ اور بھی مختلف شہروں میں مشاعرہ بڑھ چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ منکیرہ اور اس کے گرد و نواب میں ممبر حضرت امام حسین علیہ السّلام میں بھی جشن کے حوالے سے معصومین علیہ السّلام کی ولادت باسعادت کی نظمیں پڑھ چکے ہیں ۔ سامعین نے بھرپور پسند کیا
ادبی سرمایہ
٫٫ سجدہ ،، سرائیکی اسلامی شاعری ( 21 مئی 2017ء ) صفحات 172 ناشر : اُردو سخن ڈاٹ کام پاکستان ، چوک اعظم ، لیّہ
مقبول ذکی مقبول کے فکر و فن پر اور بھی مقالہ جات لکھے جاسکتے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول کی فن اور شخصیت پر ایک کتاب ترتیب دے چکی ہوں ۔ جس کا نام
٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں )
اس کے صفحات 370 ہیں اس کتاب نے علمی و ادبی حلقوں میں بھرپور مقبولیت حاصل کی جبکہ دوسری کتاب جو اس وقت زیرِ تربیت ہے ۔ جس کا نام ہے ۔
٫٫ مقبول ذکی مقبول : خراجِ فن ،،
( ادبیوں کی نظر میں )
رسائل و جرائد اور اخبارات سے وابستگی
رسائل و جرائد اور اخبارات کی اگر بات کروں تو لمبی فہرست ہے ۔ چند کے نام درجِ ذیل ہیں ۔
ماہ نامہ ٫٫ کاروانِ نعت ،، لاہور
ماہنامہ ٫٫ ارژنگ ،، لاہور
ماہنامہ ٫٫!طلوعِ اشک ،، لاہور
سہ ماہی ٫٫ عالمی رنگ ادب ،، کراچی
کتاب لڑی ٫٫ راوی لہر ،، فیض پور خورد ، شیخو پورہ
سہ ماہی ٫٫ رقصِ بسمل ،، جنگ
٫٫ ریگ زارِ تھل ،، کالج میگزین منکیرہ
انٹر نیشنل ماہنامہ ٫٫ اُردُو ڈائجسٹ ،، اسپین
ماہنامہ ٫٫ ادبی پرچہ دسترس ،، انٹرنیشنل کراچی
ہفت روزہ امن انٹرنیشنل گلاسگو / سکاٹ لینڈ
ہفت روزہ ٫٫ مارگلہ نیوز ،، اسلام آباد انٹرنیشنل
ہفت روزہ ٫٫ اخبارِ اکبر ،، رحیم یار خان
ہفت روزہ ٫٫ عہدِ وطن ،، شیخو پورہ
ہفت روزہ عالمی ٫٫ حصّارِ ادب ،، سنڈے میگزین اسلام آباد
روزنامہ ٫٫ خبریں ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ اوصاف ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ خُوب رُو ،، ملتان
روزنامہ ٫٫ بدلتا زمانہ ،، ملتان
روزنامہ ٫٫ ڈیرہ نیوز ،، ڈیرہ اسماعیل خان
روزنامہ ٫٫ اعتدال ،، ڈیرہ اسماعیل خان
روزنامہ ٫٫ طالبِ نظر ،، کراچی
روزنامہ ٫٫ اٹل فیصلہ ،، لاہور / گوجرانولہ
روزنامہ ٫٫ ٹھنڈی آگ ،، گجرات
روزنامہ ٫٫ سسٹم ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ بارڈر لائن ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ لیّہ ٹوڈے ،، لیّہ
روزنامہ ٫٫ بھکر ٹوڈے ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ نوائے تھل ،، لیّہ
روزنامہ ٫٫ اپنا ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ بھکر نامہ ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ سچائی ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ جموں کشمیر ٹائمز ،، مظفر آباد ، آزاد کشمیر
روزنامہ ٫٫ ڈیلی گلزار ،، لاہور/ ملتان
روزنامہ ٫٫ لودھراں رنگ ،، لودھراں رنگ/ پاکستان
روزنامہ ٫٫ کھٹڑ نیوز ،، فتح جنگ
اور دیگر رسائل و جرائد اور اخبارات میں کلام شائع ہوتا رہا ہے اور شائع ہو بھی رہا ہے ۔
شخصیت کے اوصاف
مقبول ذکی مقبول مہمان نواز ہیں ۔ مہمان نوازی میں بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ مہمان کی آمد پر اللّٰہ پاک کا شکر بھی ادا کرتے ہیں ۔ غمی ہو یا خوشی اہلِ محلہ تک ہی نہیں پورے شہر میں شرکت کرتے ہیں ۔ اور قرابت داروں کا تو اس معاملہ میں زیادہ حق سمجھتے ہیں ۔ نماز روزہ کے سخت پابند ہیں ۔ آج تک کسی قسم کا نشہ نہیں کیا ۔ ایک دن اپنے بڑے چاچا سے سگرٹ لے کر پی لی تھی اس کے دھواں کی سمیل کو بڑا محسوس کیا اس کے بعد کبھی بھی سگرٹ نہیں پی ۔ اپنے علاقہ اور دور دراز سے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں ۔ اور ملک بھر میں ان کو متعارف کرایا ساتھ لے کر بھی چلتے ہیں ۔ شاعرانہ اور نثری عظمت کی بات کروں تو کمال مہارت رکھتے ہیں ۔ صرف یہ میں ہی نہیں کہتی معروف قلم کاروں کی آراء موجود ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔
یکم اکتوبر 2019ء کو مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے کا شرف بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ ( ایران و عراق ) قافلہ میں موجود زائرین کی مقبول ذکی مقبول سے متاثر ہوئے تھے ۔ سب سے زیادہ متاثر ہوئے والوں میں جامع مسجد جعفریہ کے خطیب حاجی زوار مولانا بشیر حسین حیدری ( مرحوم ) متاثر ہوئے اور دو بڑے موقعوں پر بروز جمعہ اور ایک نمازِ جنازہ کے مقام پر زوار مقبول ذکی مقبول کے صحیح مینوں میں زوار ہونے کا ذکر کیا تھا ۔
مقبول ذکی مقبول بھکر کی ادبی تاریخ کا خوبصورت حوالہ ہیں ۔ ہزاروں لوگ ان سے محبّت کرتے ہیں ۔ بہت سی خوبیوں کا مجموعہ ہیں جو ان کی ذات میں موجود ہیں ۔ محبّت کا درس علمی اور عملی طور پر بھی پیش کرتے رہے ہیں ۔
انہوں نے اپنے دوست احباب سے جہاں نثر میں اظہارِ محبّت کیا ہے ۔ وہاں منظوم بھی عقیدت و محبّت کا اظہار کیا ہے ۔ جو کتاب ٫٫ انداز بیاں دیکھ ،، میں موجود ہے ۔
اولاد
مقبول ذکی مقبول کو اللّٰہ پاک نے ایک بیٹی اور ایک بیٹا سے نوازا ہے ۔ بیٹی بڑی ہے ۔ بیٹا چھوٹا ہے ۔ بیٹی کا نام اوج زہرا ہے ۔ جس کی تاریخ پیدائش 8 اکتوبر 2012ء ہے ۔ نہم کلاس میں پڑھتی ہے ۔ اوج زہرا نعت خوانی بھی کرتی ہے اور میلاد مبارک پڑھتی ہے ۔ اس کے الاوا مجالسِ عزا حضرت امام حسین علیہ السّلام میں اکثر مجالسِ پڑھتی ہے ۔ گجرات کے معروف بزرگ شاعر عارف یار سوہلوی گجراتی نے اوج زہرا کی حوصلہ افزائی کچھ اس طرح سے کرتے ہیں ۔
صاحبزادی اوج زہرا
مقبول ذکی مقبول اِک بیٹی حور پَری
آواز پیاری اُس دی کوئی سوز گداز بھری
منقبت حسین دی اوہ عجب بیان کری
اوج زہرا دا سوہلیا شالا زینب ہتھ پھڑی
( راوی لہر ، فیض پور خورد ، شیخو پورہ ، ص 5 )
اللّٰہ پاک نے بیٹے جیسی نعمت سے بھی نوازا جس کا نام گُفام حسین ہے ۔ اس کی تاریخ پیدائش 21 مئی 2015ء ہے ۔ ہفتم جماعت میں پڑھتا ہے ۔
عارف یار سوہلوی گجراتی نے کیا خوب کہا ہے ۔
صاحبزادہ گُلفام حسین
مقبول ذکی نوں بخشیا ربّ ہیرا برخوردار
اوہ کھڑیا پھُل گلاب دا وچ ذکی دے گلزار
اوہدی صورت شکل انو کھڑی تے لذت وچ گُفتار
گُلفام حسین سوہلیا کدی ہوسی سردار
اوہدی عُمر خضر ، الیاس توں لمی کرے خُدا
عیش بہاراں اُس توں کدی نہ ہون جُدا
عزت شرف اقبال دا او اوہدے سر تے رہے ہُما
عارف پہنچے عرش عظیم تے ایہہ شالا میری دُعا
عارف یار سوہلوی گجراتی کی ایک اور نظم بھی ملاحظہ فرمائیں
گُلفام حسین کو عارف یار کی نصیحت
کھیلوں میں کر وقت نہ ضائع بَن جا کِرم کتابوں کا
بغیر علم کے کھوج نہیں ملتا دِل کے گوھر نایابوں کا
علم اِنسان کی زیب و زینت علم اِنسان کا زیور ہے
علم سے نہ شرما پیارے علم ہے حُسن شبابوں کا
علم سے ہوتا ہے دِل روشن جہالت بڑا اندھیرا ہے
علم دیوان خُدا کی طرفوں محشر کے حسابوں کا
جاہل پہ ہے تنگ دین و دُنیا جاہل بڑا نکارا ہے
درد کانٹوں کی جھیل پیارے علم ہے پھُل کتابوں کا
( راوی لہر ، فیض پور خورد ، شیخو پورہ ، ص 5 )
مقبول ذکی مقبول کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدائش کے بعد فوت ہو گئے ہیں ۔ اِس کے بعد بچوں کی پیدائش کا سلسلہ رک گیا ہے ۔
میرے لیے بھی ایک نظم کہی گئی ہے وہ بھی
ملاحظہ فرمائیں
ریحانہ بتول کی تعریف سے عاجز ہے یہ میری زباں
اُس کی نظم و نثر سے متاثر ہے یہ بندہ ناداں
سجدہ کتاب میں چھپا ہوا ہے ریحانہ بتول کا بیاں
وہ خوش نصیب گلی ہے جس میں اُس کا مکاں
مقبول ذکی مقبول کا خاندانی پسِ منظر کتاب ٫٫ سنہرے لوگ ،، ( نام ور ادبی شخصیات سے انٹرویوز ) مصنّف مقبول ذکی مقبول عنوان مقبول ذکی مقبول نقشِ حیات صفحہ نمبر 18 پر ملاحظہ
سخن ریز سوچوں کا شہر اٹک ادبی لحاظ سے بہت زرخیز ہے اس میں ایسے ایسے سخنور پیدا ہوۓ جنہوں نے اپنی فکری عفت سے نہالِ ادب کو اپنے لہو سے سینچا ایسے ہی منفرد سوچ کے حامل افراد میں پروفیسر سجاد حسین سرمد بھی اٹک شہر کا اثاثہ ہیں جو نور حسین کے گھر میں 13 اگست 1988 کو پیدا ہوۓ آپ نے تعلیم اٹک میں ہی حاصل کی
پروفیسر سجاد حسین سرمد سے میری ملاقات 2016 میں ہوئی جس کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا مجھے شاعری کا شوق تھا اور آپ علم عروض جانتے تھے میں نے ان سے اوزان کا پوچھا تو انہوں نے مجھے اس قابل بنا دیا کہ آج میں تین نعتیہ مجموعوں کا مصنف ہوں مجھے یاد ہے کہ میں اوزان سیکھنے کے لیے کئی سینیئر شعرا سے ملا لیکن کسی نے میری مدد نہ کی لیکن اوزان کے مسئلے میں میں نے سرمد صاحب کو کامل پایا اور انہیں سنگِ پارس کا خطاب دیا آپ جہدِ مسلسل پر یقین رکھنے والے شاعر اور خاکہ نگار ہیں آپ کا ذوق بلند ہے سینیئر ادیبوں کے ساتھ مل کر چلتے ہیں کسی بھی مسئلہ پر جو محسوس کرتے ہیں اس کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ادبی مجلے ”دھنگ رنگ“ کے مدیر ہیں نو آموز شعرا اور ادیبوں کا کلام شائع کرتے ہیں آج میں نے ان سے وقت نکالنے کی فرمائش کی تاکہ قارئین کو ایک ادیب سے ملوا کر ان کے احوال پوچھیں تو آئیے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں:۔
س۔ سر احوالِ بچپن سنائیں؟ یعنی کہاں پیدا ہوۓ کہاں کب اور کتنی تعلیم حاصل کی اور پیشہ کیا ہے؟ ج: ماڑی موڑ گلی نمبر 2 اٹک شہر میں آبائی گھر میں پیدائش ہوئی۔ ایم فل اردو کر رکھا ہے۔ جبکہ اس وقت کیڈٹ کالج کوہاٹ میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ س۔ کس شخصیت کی کس کتاب پر ایم فل کیا ہے؟ ج: اٹک کے نامور غالب شناس اور اقبال شناس "ڈاکٹر محمد ایوب شاہد کی تنقید نگاری کا تجزیاتی مطالعہ” میرے ایم فل تھیسس کا عنوان تھا۔
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرعام پر لانا چاہے؟ ج: اس کے جواب میں محبوب خزاں کا شعر پیش خدمت ہے: بات یہ ہے کہ آدمی شاعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
س۔ ادبی دنیا میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں اور کس سے اصلاح لیتے ہیں؟ ج: صاحبزاہ واحد رضوی صاحب میرے استاد ہیں البتہ اٹک کی ساری شعرا برادری سے مشورہ سخن کیا اور بقول حسرت موہانی: طبع حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض
س۔ میرے علم کے مطابق اٹک میں خاکہ نگاری کی پہلی کتاب آپ کی ہے آپ نے خاکہ نگاری کو ہی کیوں چنا ؟ حالاں کہ اس میں اگر سچ لکھیں تو دوست ناراض ہو جاتے ہیں کیا یہ سچ نہیں ہے ؟ ج: منفرد رہنے کے جذبے نے اس میدان میں اتارا، نیز شخصیت کی عکاسی کرنے کا ہنر شعر کی مشقت سے آسان لگتا ہے۔ س۔ حضرت نذر صابریؒ کی شخصیت کو آپ نے کیسا پایا؟ ج: صابری صاحب کے حوالے سے میرے تاثرات خاکے کی صورت میں موجود ہیں جو میری پہلی کتاب "نشاطِ سرمدی” میں رقم ہیں۔ احباب اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
سں۔ حضرت نذر صابریؒ اٹک کے ادب کے روحِ رواں تھے کیا موجودہ دور میں کوئی ادیب ان کی طرح کام کر رہا ہے ؟ ج: ان کی طرح تو نہیں لیکن کام ہو رہا ہے۔
س۔ آپ کی تحریروں میں مزاحمتی عنصر بہت کم دیکھا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ ج: مزاحمت کو ادب کا حصہ نہیں سمجھتا۔
س۔ کیا اکادمی ادبیات کیمبلپور کے کام سے مطمئن ہیں؟ ج: کمیاں ہیں لیکن یقین ہے کہ اکادمی کی انتظامیہ جلد انھیں پورا کر لے گی۔
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ ج: پذیرائی نہ ہوتی تو میرے اندر کا ادیب کب کا مر چکا ہوتا۔
س۔ ادبی مجلے ”دھنک رنگ“ کا مدیر ہونے کا تجربہ کیسا رہا؟ کیا اس مجلے میں تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں؟ ج: یہ مجلہ بھی انفرادیت پسندی کا نتیجہ ہے۔ جس میں کئی تلخ مقام آئے لیکن سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بہتری کی کوشش جاری رکھیں گے۔
س۔ علمِ عروض جانتے ہیں لیکن شاعری بہت کم کرتے ہیں ہماری آنکھیں کب دیکھیں گی کہ آپ کا شعری مجموعہ منصہءشہود پر آ گیا ہے؟ ج: شعر کہہ سکتا ہوں لیکن وہی منفرد نظر کی دھن میں شعر نہیں کہتا کیوں کہ ہزاروں کی تعداد میں موجود شاعروں کے بیچ اپنا آپ منوانا مشکل ہے۔ شاید آپ کی آنکھیں کبھی نہ دیکھ پائیں کہ میرا شعری مجموعہ آیا ہے البتہ پہلی کتاب "نشاطِ سرمدی” کے آخری صفحہ پر غیر مطبوعہ کتب کی فہرست میں "جمال سرمدی” کے نام سے شاعری کی کتاب کا نام لکھ دیا تھا۔
س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟ ج: ان خصوصیات کے بغیر ادب تخلیق کرنا میرے خیال میں ایسا ہی ہے جیسے ان پڑھ آدمی یونیورسٹی میں لیکچر دینا شروع کر دے۔ اردو ادب کا المیہ ہی یہی ہے کہ وہ بغیر مطالعے اور مشاہدے کے جاری وساری ہے۔
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی ضروری ہے؟ ج: اس کے بغیر تو ادب پنپ نہیں سکتا ہے۔
س۔ آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں؟ ج: حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ چند لوگ مسلط ہیں اور ہزاروں زرخیز لوگ گوشئہ گمنامی میں پڑے ہیں۔
س۔آپ کو ادبی بیٹھکیں لکھنے کا خیال کیسے آیا ؟ ج: منفرد کام کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ نیز اس کام سے کئی غیر معروف ہستیاں منظر عام پر آ جائیں گی ۔
س۔ کیا ادبی بیٹھکوں پر کسی دوست نے اعتراض بھی کیا ہے یا سب خوش ہیں؟ ج: اعتراض کی پرواہ کبھی نہیں کی لیکن ابھی تک ایسا معاملہ پیش نہیں آیا۔
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟ ج: سوشل میڈیا اور موبائل، نیز حکومتی سطح پر کتاب کی پذیرائی کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟ ج: کتاب میلے ہوں گے تو لوگ کتابوں کی طرف آئیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر ادارے کو ایسے میلے منعقد کرنے چاہییں۔
س۔ کیا کتاب میلہ فوٹو سیشن تک ہی کارآمد ہوتا ہے یا اس کے نتائج مختلف ہوتے ہیں؟ ج: فوٹو سیشن صرف کتاب میلے تک محدود نہیں، یہ تو ایک روایت ہے جس کی مدد سے لمحات کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ لہذا میں تصویر کشی کو غلط نہیں سمجھتا۔
س۔آپ کی کتاب پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے،آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟ ج: تحقیقی کام کا تاریخ میں امر ہونے سے تعلق نہیں، یہ تو ایک اعتراف ہوتا ہے اس ادیب کے فکر و فن کا۔
س۔ دھنک رنگ پر جو تحقیقی کام ہوا ہے کیا اسے دھنگ رنگ کا خصوصی شمارہ بنانا پسند کریں گے؟ ج: بالکل نہیں۔ البتہ مقالہ نگار اس تھیسس کو کتابی شکل میں شائع کریں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
س۔ اس دور کا ادیب اشرافیہ کے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آتا ہے بے شک اٹک کے ہی لوگ دیکھ لیں یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے اب یہ ٹرینڈ کیسے ختم کیا جاۓ اور معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جاۓ ؟ ج: اشرافیہ کے پیچھے بھاگنا من حیث القوم ہمارا معاشرتی رویہ ہے لہذا اسے ادیبوں کے ساتھ مخصوص نہ کریں۔ البتہ ادیبوں کو ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ماضی کے عظیم اور مثالی کردار اشرافیہ کی چوکھٹ پر نظر آتے رہے ہیں لہذا آپ اٹک کے ادیبوں کو ہدف تنقید نہ بنائیں۔ میرے خیال میں اٹک کے ادیب اشرافیہ کو لفٹ نہیں کراتے ہاں اگر کوئی قدر دان عزت افزائی کر رہا ہو تو عزت سمجھنی چاہیئے۔
س۔ کتنے شاگرد ہیں اور کس کو اپنا فخر سمجھتے ہیں؟ ج: آپ مجھے اپنا استاد مانتے ہیں، عزت دیتے ہیں، بس یہی کافی ہے۔
س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟ ج: علم عروض پر کام جاری ہے، نیز ضلع اٹک کی ادبی بیٹھکیں پر مسلسل انٹرویوز کرتا رہتا ہوں، کچھ حصے شایع کرکے اسے یکجا کر کے شایع کروں گا۔ نیز ایک دو سوانح عمریاں زیر تربیت ہیں۔
س۔قارئین کے لیے اپنے کچھ اشعار پیش کیجیے:۔ اک گھنا پیڑ ہے اور بخت کی تاریکی دیکھ ایک پتے نے مرا چاند چھپا رکھا ہے
چند لمحوں کے لیے تجھ سے بچھڑ کر دیکھا ساری دنیا ہی مجھے چھوڑ گئی ہو جیسے
سبھی سے بے تکلف ہو رہا ہے وہ اپنے حسن سے لاعلم ہو گا
میں پشیماں ہوں بہت ترک تعلق کر کے جانے کب لوٹ کے آئیں گے منانے والے
انٹرویو کو سمیٹتا ہوں آخر میں دعا ہے کہ خدا وند کریم پروفیسر سجاد حسین سرمد کی توفیقات علم عمر اور رزق میں اضافہ فرماۓ۔آمین
حرف و صوت کی ترنگ سے آشنا بزرگ استاد شاعر، افسانہ نگار، انشاء پرداز اور نثر نگار گوہر رحمان گہر مردانوی خیبرپختونخوا کے دوسرے بڑے شہر ضلع مردان کی تحصیل تخت بھائی کے علاقے بائیزئی ( لوندخوڑ گاؤں محلہ دیوان ) کوچاس میں حلیم گل عرف اخوند بابا کے ہاں 10 اپریل 1976 کو پیدا ہوئے آپ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ادب کے لیے کوشاں ہیں مردان کی ادبی تاریخ ان کی شمولیت کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہو سکتی مختلف اصنافِ سخن پر مکمل دسترس رکھنے پر بہت سارے نو آموز ادیبوں کی اصلاح بہت خوشی سے کرتے ہیں اگرچہ بیمار ہیں لیکن ادب کے لیے جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے ہمارے اٹک سے خصوصی محبت کرتے ہیں اس کے بہت سارے ادیبوں اور صحافیوں سے دوستی کو دل سے لگاۓ ہوۓ ہیں میں نے اخبارات میں ان کے افسانے انشائیے تبصرے اور شاعری پڑھی ہے ان کا انداز باقی ادیبوں سے مختلف ہے شاعری میں سادگی اور روزمرہ کے مسائل کو حکومتی سطح تک پہنچاتے رہتے ہیں ادب کی خدمت ان کا مقصد ہے اسی مقصد کے لیے دن رات کوشاں رہتے ہیں میرے خیال میں صوبائی سطح پر ایسے ادیبوں کی پذیرائی حکومت اور ادبی تنظیموں کا حق بنتا ہے لیکن ابھی تک یہ پہلو تشنہ لب ہے اور ان کی حکومتی لیول پر کوئی مدد نہیں ہوئی مردان کے سکول میں آرٹ پڑھاتے ہیں اور زندگی کی گاڑی مشکل سے کھینچ رہے ہیں بیماری ساتھ ساتھ ہے لیکن جذبے جوان ہیں محنت جاری ہے جہاں تک میں جانتا ہوں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور بغیر لالچ کے نئے شعرا کی اصلاح کرتے ہیں آئیے ان سے ایک علمی مصاحبہ کر کے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
س۔ سر باباۓ مردان تک پہنچنے کے احوال سنائیں؟ یعنی کہاں پیدا ہوۓ کہاں اور کتنی تعلیم حاصل کی اور پیشہ کیا ہے ؟
جواب۔ یہ خاکسار اردو کا پیادہ خیبرپختونخوا کے دوسرے بڑے شہر و ضلع مردان کے تحصیل تخت بھائی جو کہ پرانی تہذیب گندھارا کا مرکز رہا ہے کے علاقے بائیزئی ( لوندخوڑ گاؤں محلہ دیوان ) کوچاس جہانِ ناپائیدار میں حلیم گل عرف اخوند بابا کے ہاں آ وارد ہوا اور بچپن ہی سے مختلف متعدی بیماریوں کا شکار رہا لیکن رب العالمین کو ہر حال میں زندہ رکھنا تھا سو اب تک زندگی کی گاڑی کھینچ رہا ہے ۔جہاں تک بابائے مردان تک کے سفر کا تعلق ہے تو یہ کہانی بڑی لمبی ہے لیکن اختصار یہ ہے کہ جماعت ہشتم سے اردو ادب کا خمار چڑھا بالخصوص میرے غائبانہ استاد گرامی مرشد علامہ اقبال کی نظموں سے سال 1989/90 کے درمیان پہلا کلام بزور آورد ہوا جو کچھ اس طرح کا تھا کہ
دیدہ و دل نے جیسے کھینچ لیا وہی نقشہ سراب کا نکلا میں نے شربت سمجھ کے پی ڈالا وہی پیالہ شراب کا نکلا میرے مدرسے کے استاد مکرم جناب بہادر شاہ صاحب نے میری ڈائری دیکھ کر کہا تھا کہ گوہر رحمٰن یہ شاعری تمہیں خراب کر دے گی لیکن وقت کے ساتھ یہ ذوق پروان چڑھتا گیا اور نصابی کتابوں میں شعراء کے کلام سے سیکھ سیکھ کر کچا پکا مجموعہ تیار کر لیا لیکن میرے ارد گرد سوائے پشتون شعراء کے کوئی اردو کا شاعر تو چھوڑ اردو سے منسلک اعلی سند یافتہ استاد تک میسر نہ تھا سوائے میرے ہم جماعت پروفیسر جمیل احمد کے والد پروفیسر علی رحمان صاحب کے لیکن ان کو اصلاح کے لیے کہا تو انہوں نے بھی معذرت کرلی کہ میں شاعر تو نہیں صرف کالج کی سطح تک اردو پڑھاتا ہوں لیکن مایوس نہ ہوا ۔ جبکہ میرے ایک اور ہم جماعت حالیہ ڈاکٹر صابراللہ لندن نے اس وقت مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کی شاعری کا ایک مجموعہ ضرور شائع کردوں گا ۔ تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ جماعت دہم تک رہا باقی سفر محنت مزدوری کے ساتھ بے قاعدہ یعنی بطور پرائیویٹ امیدوار بی اے تک تعلیم حاصل کی اور ساتھ فنون لطیفہ کی تربیت لیکر بطور معلم فنونِ لطیفہ یعنی ڈرائنگ ماسٹر سرکاری ملازمت سے 2007 میں منسلک ہو گیا
س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراُسے منظرعام پر لانا چاہے؟
آپ کے پہلے سوال میں کچھ وضاحت موجود ہے مزید یہ بتادوں کہ شوق بچپن سے پروان چڑھا اور اس وقت خاکسار پر صرف اردو سیکھنے کا خبط سوار رہا لیکن ایک پٹھان معاشرے میں اردو بول چال تذکیر و تانیث کی اغلاط سے تا حال خالی نہیں اس لیے آج جب اپنے پرانے یاداشتی نوشتے کھول لیتا ہوں تو اپنے آپ پر ہنسی آتی ہے لیکن اس چھپے شاعر کو ایک دن ضرور باہر آنا تھا تو خوش قسمتی سمجھ لیں کہ سماجی ابلاغیات نے فاصلے اور اکتساب علم کو پہلے پردہ سیمیں یعنی ٹی وی و کمپیوٹر جن کی نجی ادارے سے تعلیم بھی حاصل کی اور بعد میں لاسلکی ہاتف یعنی موبائل نے جیب تک لا کر آسانی پیدا کردی۔
س۔ ادبی دنیا میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں اور کس سے اصلاح لیتے ہیں؟
جس طرح کہ اوپر مذکور ہے میری کج بختی کہ نزدیک کوئی اردو شاعر میسر نہ تھا اور پشاور کے زعماء ادب تک پہنچنا ہم جیسوں کے لیے کارِ دارد تھا جبکہ پشاور جامعہ نے بھی اس خوگر اردو کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا اور بی اے میں جیسے تیسے کامیابی تو ملی لیکن ایم اے اردو جس کے لیے اپنی سخت مشقت سے کمایا پیسہ صرف خلاصوں تک محدود نہ رکھا بلکہ وہ سارا درکار نصاب بھی خریدا جس سے نہ صرف اردو ادب خود احتسابی عمل سے سیکھا بلکہ خیال تھا کہ جامعہ پشاور اردو شعبہ پاس بھی کردے گی لیکن پانچ چھ بار (وایوا ) یعنی زبانی امتحان میں فیل کرکے اس دلِ بے قرار کو مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا اور ایم اے اردو انہی معاندانہ رویوں سے اب تک ایگری گیٹ یعنی نہ پاس نہ فیل ہے اس لیےاس وقت قسم کھائی کہ ان جیسوں کو دکھاؤں گا کہ کامیابی صرف اسناد سے نہیں ملتی محنت اور خود اکتسابی عمل سے بھی ممکن ہوسکتی ہے اس لیے ہر بار مردان آکر لنڈے سے ڈائجسٹ اور رسائل خرید کر پڑھتا جاتا جس سے اس قدر ہوا کہ اردو کی سمجھ آگئی اس لیے میرے اساتذہ وہ ادیب و شاعر ٹھہرے جن کی کتابیں پڑھتا گیا جبکہ باقاعدہ کوئی استاد نہ میسر تھا نہ شاعر اور نہ کوئی اصلاح کار بلکہ وقت اور اپنی ذاتی محنت نے میرے ذوق شاعری و تصانیف نگاری کو پروان چڑھایا۔۔
س۔ مجھے علم ہے میرے علاوہ بہت سارے شعرا نے آپ سے اصلاح لی ہے کبھی تنگ نہیں پڑتے؟
نہیں جناب بالخصوص آپ جیسے خوگرانِ اردو اور سر زمینِ اٹک کی محبتوں کا تو یہ خاکسار ہمیشہ مقروض رہے گا کیونکہ اسی خطے کے تین سپوتوں جناب اقبال زرقاش بھائی جناب شہزاد حسین بھٹی بھائی اور جناب سردار ایاز خالد صاحب نے خاکسار کے غریب خانے پراتنی دور سے آکر وہ عزت افزائی فرمائی جس کا بدلہ مشکل سے چکا پا رہا ہوں بلکہ اسی پر بس نہیں جب سماجی دنیا یاہو اور ایم ایس این کے بعد11 /2010′ میں خصوصاً کتاب چہرہ یعنی فیس بک اور وٹس ایپ رابطے بحال ہوئے تو اسی سر زمین اٹک کے دلدادگانِ ادب نے اس گوہر گمنام کو نہ صرف کاروانِ قلم اٹک بلکہ حضرو بہارنو کے جناب درویش ڈار صاحب اور مرزا ارشد صاحب نے وہ عزت دی جس کی مٹھاس اب تک منہ سے جاتی نہیں تو اس ادبی زرخیز زمینِ محبت کا تقاضا تنگ نہیں ہونے دیتا۔جبکہ دیگر میں چاہے سندھ کے ہوں ہندوستان کے ہوں آزاد و مقبوضہ کشمیر یا بلوچستان کے فاصلاتی شاگرد ہوں یا لکھنو و دہلی کے شاگرد سوائے چند مطلب پرستوں کے جو اپنی کتابیں تک اصلاح کروا کر منہ موڑ گئے کسی دوسرے شاگرد نے بلا وجہ تنگ نہیں کیا اگرچہ بعضوں کے کلام کی اصلاح دماغ کا دہی بنا دینے کے مترادف ہوتی ہے مگر انکار نہ کیا لیکن اب اس تاحیات مرض المرگی سے یاداشت کمزور اور بصارت تقریباً جاتی رہی ہے تو سوائے چند کے جن میں آپ بھی شامل ہیں کو انکار ممکن نہیں رہا
س۔ میں نے ادیبوں کے نخرے دیکھے ہیں جو نزدیک ہی نہیں آنے دیتے لیکن بغیر لالچ آپ بہت بڑا دل رکھتے ہیں اور ہر کسی کی مدد کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہوا؟ جواب۔۔ زمانے اور حالات کا ستایا ہوا اپنا ظرف بلند رکھتا ہے بے شک بعضوں کے نخرے اور زعمِ علم کا نشہ زیادہ ہوتا ہے لیکن جیسا کہ اوپر بتایا میرا کوئی اصلاح کار نہ تھا بلکہ وقت اور خود اکتسابی عمل نے اس مقام پر لاکھڑا کیا بلکہ شوق اور لگن نے اس احساس کو مزید راسخ کیا کہ ہو نہ ہو ادب میں اپنا الگ تشخص برقرار رکھنا ہے تو اللہ تعالیٰ نے راہیں کھول دیں اور خود احتسابی عمل سے کتابوں اور سماجی دنیا سے سیکھتا رہا اور وقت کی آگ سے تپ کر کندن بنتا رہا تو اپنے جیسے حالات دوسروں کے لیے بنانا بالکل بھی مناسب نہیں لگتا
س۔ پہلی تخلیق کب اور کہاں شائع ہوئی؟
جواب ۔اوپر مذکورہ ہم جماعت جناب ڈاکٹر صابراللہ مقیم لندن نے اپنا دسویں میں کیا ہوا وعدہ 2014 میں وفا کیا اور اس اردو کے پیادے کے لیے پچاس ہزار روپے کتاب کی اشاعت کے لیے بھیجے جس سے دو کتابیں ۔۔۔ (لآلی) یعنی ہیروں کی لڑی اور سکون قلب حمد و نعت مجموعے شائع کیے لیکن جس نزدیکی کمپوزر دوست کو اشاعت کے لیے دیں اس نے املائی اغلاط سمیت پیراگراف ترتیب تک درست نہیں کی اگرچہ مسودے کی کاپی پہلے دی تھی اور میں نے نشان دہی بھی کر دی تھی لیکن اسے شائد پیسوں کا لالچ تھا تو اسی طرح اغلاط سمیت شائع کر دیں اور گھر بھیج دیں جس کو دیکھ کر دل بیٹھ گیا چند کتب فروشوں کے پاس رکھ دیں لیکن ایک بھی نسخہ نہ بکا کیونکہ سماجی دنیا سے جہاں روابط میں آسانی ہوئی وہاں طالب علم اور قاری کو کاغذی کتاب سے دور کیا ۔تو اب تک یہی دو مجموعے شائع شدہ باقی بارہ مجموعے کمپوزڈ ہیں مگر استطاعت نہیں شائع کرنے کی
س۔اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب۔ ہمارے پشتون معاشرے میں شاعروں کو دماغ سے خارج تصور کیا جاتا ہے اس لیے جیسا کہ پہلے کہا کہ اولین نظم اور شاعری پر پذیرائی کی بجائے الٹا حوصلہ شکنی کی گئی لیکن سماجی ابلاغیات بڑھے تو مختلف آن لائن طرحی مشاعروں میں شرکت سے حوصلہ بڑھا اور کلام میں نکھار آتا گیا جبکہ بحر و قافیہ اور علم عروض کی سمجھ آتی گئی اس لیے اس طرف توجہ دی اور اس بارے میں معلومات اور مضامین پڑھ پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کی تب ہی عروض پر مکمل دسترس حاصل ہوئی اور حلقہء ادب کے نام سے وٹس ایپ گروپ بنا کر سکھانا شروع کیا لیکن ہر کوئی مفت سیکھنا چاہتا تھا بس یہ فائدہ ہوا کہ عروض کی اپنی کتاب مرتب ہوئی ۔ آج کل بھی معدودے ادب سے جڑے لوگ دور جدید سے خاکسار کی طرح قارئین کی عدم توجہی سے نالاں و شاکی نظر آتے ہیں
س۔ کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں؟
جواب۔ اب تک صرف دو کتابیں شائع ہوئیں لآلی اور سکون قلب جبکہ دُربار قافیتین و فاصل الشفتین مجموعہ گہر ریز منقوط و غیر منقوط مجموعہ شائع کرنے کا ارادہ ہے لیکن معیشت اجازت نہیں دیتی
س۔ کتابوں پر کتنے ایوارڈز مل چکے ہیں جو آن لائن نہ ہوں صرف تعداد بتا دیں؟
کتابوں پر اب تک کوئی انعام نہیں ملا اور نہ منتخب ہوئیں کیونکہ سوائے مخصوص لوگوں کے کسی نے نہ خریدیں اور نہ کسی ناشر نے مارکیٹ میں متعارف کیں بلکہ وہ بھی خاکسار کی طرح گذشتہ دس سال سے طاقِ نسیاں میں پڑی ہیں
س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
جواب۔ بطور ادیب و شاعر مطالعہ مشاہدے اور تجربات کو ریڑھ کی ہڈی سمجھتا ہوں کیونکہ ان مراحل سے گزر کر ہی اردو کے اس پیادے کو بابائے مردان کے نام متعارف کیا گیا آپ کو اوپر دیے گئے جوابات سے بھی کچھ نہ کچھ روشنی ملی ہوگی کہ مطالعہ اور عمیق مشاہدہ سے ایک ادیب تجربات کے مراحل سے گزر کر استاد شاعر و ادیب بن سکتا ہے
س۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے؟
جواب ۔حوصلہ افزائی و پذیرائی نہ ملے تو اندر کا ادیب و شاعر گمنامی اور عدم توجہی کی پاتال میں گر کر گم ہوجاتا ہے ۔ہاں البتہ کہیں نہ کہیں ذرا پذیرائی ملتی ہے تو اس کے جذبوں میں پھر جوش پیدا ہوتا ہے تبھی ہر شاعر و ادیب کے لیے حوصلہ افزائی کسی اکسیر کا کام کرتی ہے بصورت دیگر دل ہار بیٹھتا ہے
س۔ آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے کیا اُس سے مطمئن ہیں؟
جواب ۔ہماری علاقائی پشتو شاعری کی سطح پر صرف چند ادبی تنظیمیں ہیں جو اپنے علاقے تک محدود رہتے ہیں کیونکہ وسائل کی عدم دستیابی اور عوامی پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے ایک خاص دائرہ کار میں محصور ہوکر رہ گئی ہیں جبکہ اردو کا تو اللہ ہی حافظ ہے سوائے انفرادی کاوشوں کے اجتماعی طور پر کوئی فعال تنظیم نہیں 2016 تا 2018 میں خاکسار کی کاوشوں سے تنظیم محفل رفقائے اردو مردان چلی تھی لیکن وہ بھی متعصب ٹولے کی نذر ہوگئی
س۔آپ جب رثائی ادب لکھ رہے ہوتے ہیں تو روحانی طور پر خود کو کیسا محسوس کر رہے ہوتے ہیں؟
جواب ۔جب بھی حزنیہ اور غم انگیز کلام لکھنے بیٹھ جاتا ہوں تو ہر شعر کی آمد سے پہلے آنسو کی لڑی بر آمد ہوتی ہے اور جب کلام کی مقصدیت پر غور کرتا ہوں تو ایک روحانی طمانیت محسوس ہوتی ہے اور سکون مل جاتا ہے کہ اپنے حصے کا حق تو ادا کر رہا ہوں اس لیے رثائی کلام سے جہاں وقتِ آمد رقت طاری ہوتی ہے وہاں روحانی تسکین بھی ملتی ہے کہ اس گنہگار سے اللہ تعالیٰ یہ کام تو لے رہا ہے
س۔آپ بیک وقت اردو پشتو اور پنجابی زبان میں لکھ رہے ہیں، ذہنی طور پر کس زبان میں لکھنا پسند ہے؟
جواب ۔اظہار کے لیے زبانوں کا استعمال پسندیدہ ماحول کا تقاضا کرتی ہے اور زبانوں سے محبت کا عالم یہ ہے کہ دل چاہتا ہے کہ دنیا کی ہر زبان سیکھ لوں اور اپنا مدعا مختلف اقوام تک انہی کی زبان میں زبان پہنچا دوں چاہے قومی زبان ہو یا علاقائی زبان ۔اردو اور پشتو میں اظہار بہ نسبت فارسی پنجابی اور انگریزی کے زیادہ آسان ہے کیونکہ اول الذکر قومی اور مؤخر الذکر مادری زبان ہے لیکن چونکہ فارسی پنجابی اور انگریزی کے لیے ذخیرہ الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کے لیے بار بار لغات سے رجوع کرنا پڑتا ہے جس سے نہ صرف ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ زبان پر دسترس بھی آہستہ آہستہ مضبوط ہو جاتی ہے
س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟۔
جواب ۔ بطور معلم یہی کہنا چاہوں گا کہ ادیبوں کی مشکل پسندی اور نصاب کی بلاوجہ ضخامت سب سے بڑی وجہ ہے جب کہ قواعد و انشاء اور لغت بینی کی کمی بھی عدم توجہی کی سب سے بڑی وجہ ہے لیکن فی زمانہ سماجی ابلاغی لغویات کی بھر مار اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ ذیادہ مسائل پیدا کر رہے ہیں جس سے تساہل پسندی نے جگہ بنا لی ہے اور لوگ خود اکتسابی عمل سے زیادہ مصنوعی غیر معتبر معلومات پر زیادہ انحصار کرنے لگ گئے ہیں
س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
جواب کتاب میلے گاؤں قصبے شہر کی سطح پر ضروری ہیں جس سے کتب بینی کا رجحان بڑھتا ہے اور لوگ ایسے صحت مندانہ اقدامات سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ کتاب سے قربت بڑھ جاتی ہے لیکن صد افسوس سوائے چند انفرادی کاوشوں کے نہ عوامی اور نہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں
س۔آپ کے شعری مجموعے پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے،آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
جواب ۔ ملاکنڈ اور پشاور جامعات کے کچھ طلباء نے رابطے کیے تھے لیکن شائد اسے خاکسار کی مشکل پسندی اور ادیبانہ تخلیقات کی سمجھ نہ آئی یا جامعات کی طرف سے اجازت نہ ملی کیونکہ ہمیں ابھی تک نہ سرکاری سطح پر اور نہ عوامی سطح پر کوئی پذیرائی ملی اور دارالخلافہ پشاور کے ادبا و شعراء تو صرف خود کو خدائے سخن سمجھتے ہیں دوسروں کو خاطر میں نہیں لاتے سوائے چند سماجی دنیا کے مخصوص عقیدت مندوں کے اس لیے کوئی کتاب منتخب نہیں ہوئی جبکہ میری نظر میں یہ اتنی ضروری بھی نہیں کیونکہ بقید حیات کسی کی قدر و قیمت نہیں لیکن اس عالم ناپائیدار سے اٹھ جانے کے بعد ہر کوئی ساغر صدیقی پر تحقیق کر رہا ہوتا ہے سو یہی انجام ہے اس اردو کے پیادے گوہرگمنام کا ۔ مرشد علامہ اقبال کا ایک شعر کہ زندگانی صدف قطرۂ نیساں ہے خودی دیکھیں کیا ہوتا ہے قطرے پہ گہر ہونے تک پس ہماری خودی اور زمانے کی خود زعمی و معاندانہ رویہ مقابل پے
س۔معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جا سکتا ہے؟ جواب ۔ادیبوں کو اگر حکومتی پذیرائی ملتی ہے اور مقتدرہ ادب کی ترویج و ترقی کے لیے چاروں صوبوں کو لیکر چلتی ہے اور ہر ماہ کوئی نہ کوئی سیمینار یا مشاعرہ منعقد کرتی ہے جبکہ نادار شعراء کےلیے مشاعرہ رکھ دیتی ہے تو ممکن ہے جبکہ عوامی رد و قبول بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے اس لیے اگر ادب کے لیے ماحول سازگار بنایا جاتا ہے تو ممکن ہے ورنہ وہی کاٹ کے دو پات رہیں گے
س۔ افسانہ، انشائیہ اور تقاریظ تقریباً کتنے لکھ چکے ہیں؟ اور یہ کتابی صورت میں کب لائیں گے؟
جواب ۔منثور تین پی ڈی ایف مجموعہ جات ژرف نگاہی ،نطق پیچاک، شذرات گوہر میں افسانے مضامین تقاریظ ،تبصرہ جات انشائیہ جات اور خاکہ نگاری و مائیکرو فکشن شامل ہیں
س۔ کس شاگرد کی سب سے زیادہ اصلاح کی ہے اور اسے اپنا فخر سمجھتے ہیں؟
جواب ۔بلا مبالغہ آپ نے جتنی جلدی اپنے عیوب سخن پر قابو پالیا باقی کسی نے ابھی تک نہیں پایا جبکہ منثور تحاریر میں ڈاکٹر وقار ربانی نے اپنی تحریر میں سقم جلد ختم کیے اور اب الحمدللہ بڑی خوبصورت تحاریر لکھتا ہے جبکہ دیگر میں اب بھی کہیں نہ کہیں کمی بیشی نظر آجاتی ہے لیکن بہرحال خاکسار کی محنت رائیگاں نہیں جارہی
س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
جواب ۔زندگی وفا کرتی ہے تو اپنی تمام کتب بتدریج شائع کرنے کا ارادہ ہے بس ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اور اگر حالات پہلے بہتر ہوئے تو ممکن ہے جلد منظر عام پر آجائیں جبکہ مردان کی سطح پر فروغِ ادب اردو کا باقاعدہ ادارہ اپنی ذاتی خرچ پر شروع کرنے کا عزم رکھتا ہوں چاہے کوئی مدد کو تیار ہو یا نہ ہو
س۔قارئین کے نام کوئی پیغام دینا چاہئیں گے؟
قارئین کے لیے بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ خدارا سماجی ابلاغیات اور بالخصوص مصنوعی ذہانت پر انحصار مت کریں اور کتاب جو اکتساب علم کا سب سے معتبر ذریعہ ہے اس کی طرف آئیں کیونکہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی وہی بتاتی ہے جس کو انہی ادیبوں اور مصنفین یا بعضوں نے غلط معلومات دی ہوتی ہیں بلکہ بعض دفعہ غلط معلومات بھی فراہم کرتی ہیں لہذا کتاب کی طرف واپس آئیں اور کاغذ کی خوشبو کو محسوس کریں تبھی آپ کے علم میں اضافہ ممکن ہے جس سے بصیرت کے دروازے کھلتے ہیں
س۔ اپنے قارئین کے لیے اشعار عنایت کیجیے:۔
حمدیہ کلام
ہرکوئی رحم کی امید سے وابستہ ہے جو تری ذات کی توحید سے وابستہ ہے
اس قدر مہلت ابلیس وسیع ہے خالق ایک ساجد تری تردید سے وابستہ ہے
بساطِ رنگ وبو پردستِ قدرت ہےپڑا بندے نظامِ زیست کو کُن سے وہی آغاز دیتا ہے
اٹھو دوڑو عبادت کو گھڑی دیدار کی آئی وہی معبود برحق جب تمہیں آواز دیتا ہے
نعتیہ کلام
مداح کے تابندہ افکار بتاتے ہیں یہ عشقِ محمدؐ ہے آثار بتاتے ہیں
ایمان جہاں روشن اب تک دلِ مومن میں شک اس میں نہیں کوئی ادوار بتاتے ہیں
دشمن کا برا تک جو چاہا بھی نہیں جس نے باظرف نبیؐ میرے اطوار بتاتے ہیں
اسلام کی خاطر جو گزرےہیں محمدؐ پر حالات وہ سیرت کے دُشوار بتاتے ہیں
ہے مدح سرا گوہر محتاط ہمیشہ سے نعتوں کے رواں لہجے ہموار بتاتے ہیں
متفرق
وصال ضِد پہ اَڑا ہے بڑا فراق کےساتھ گزر گیا ہے جو محبوب طمطراق کے ساتھ
محبتوں میں ملاوٹ ہوئی ہے اتنی کہ ہمیشہ صلح کرائی گئی، نفاق کے ساتھ
آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ اللہ پاک گوہر صاحب کو حیاتِ خضر علیہ السلام اور صحتِ کاملہ و عاجلہ سے نوازے۔آمین
2015ء کی بات ہے، لاہور میں نسلِ نو کا ایک یادگار مشاعرہ منعقد ہوا جس میں شرکت کا موقع عزیز دوست اور معروف شاعر حسن ظہیر راجا کی معیت میں نصیب ہوا۔ یہ مشاعرہ اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ تھا جس میں ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان شعرا شریک ہوئے۔ اس محفل میں ڈیرہ اسماعیل خان سے برادرم خوش حال ناظر، کراچی سے محترم عمار اقبال، اوکاڑہ سے افتخار اشعر اور پہاڑ پور ضلع لیّہ سے جناب افتخار فلک شامل تھے۔ ان میں خوش حال ناظر اردو نظم کی تازہ آواز کے طور پر نمایاں ہیں، جب کہ عمار اقبال غزل کے میدان میں اپنی انفرادیت قائم کر چکے ہیں۔ انہی نوجوان شعرا میں سے افتخار فلک کاظمی وہ نام ہے جو ضلع لیّہ کی زرخیز دھرتی سے اُبھرا اور کم عرصے میں اردو غزل کے اُفق پر نمایاں شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ افتخار فلک اس وقت اپنے پہلے شعری مجموعے "اذیت” کا خالق تھا جو نومبر 2014ء میں سخن سرائے پبلی کیشنز، ملتان کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔ افتخار فلک کی اس اولین کاوش نے نہ صرف قارئین کی توجہ حاصل کی بلکہ اردو ادب کے نام ور نقادوں اور شعرا کی تحسین بھی حاصل کی۔ "اذیت” پر آپا حمیدہ شاہین اورجناب قمر رضا شہزاد جیسی معتبر ادبی شخصیات نے اپنے تاثرات رقم کیے جو افتخار فلک کی شعری صلاحیتوں کی پختگی اور اس کے فکری رجحانات کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ قمر رضا شہزاد رقم طراز ہیں:
"افتخار فلک نئی نسل کے ان تازہ کار شاعروں میں سے ہے جو ادبی منظرنامے پر اپنی الگ شناخت کے ساتھ نمایاں ہونے کی تگ و دو کر رہے ہیں، اور یہ بڑا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ناکامی یا کامیابی کے حوالے سے کسی خوف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ افتخار فلک کی غزل لفظیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئی کیفیات کے ساتھ جلوہ گر ہو رہی ہے۔”
اسی طرح آپا حمیدہ شاہین نے لکھا: "افتخار فلک کی شعری وجاہت ان کی استقامت اور ریاضت پر منحصر ہے۔ مطالعے کے رفیع الشان آفاق، اپنا فرومایہ شعر تو کرنے کی ہمتِ عالی اور تلازمات کا دائرہ مکمل کرنے کی مشقت وہ اوصافِ چنیدہ ہیں جن سے روشنی کشید کر کے افتخار فلک غزل میں اپنی منفرد اور الگ کہکشاں ترتیب دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔”
یہ دونوں آرا اردو غزل کی دنیا کے معتبر اور نمایاں ناموں کی ہیں۔ ان کے مشاہدات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ افتخار فلک کی شاعری ابتدا ہی سے فکری سنجیدگی، فنی سلیقے اور جدتِ اظہار کی حامل رہی ہے۔ ان آرا کے تناظر میں جب ہم افتخار فلک کے شعری سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ وہ اپنے ادبی سفر میں نہ صرف کامیابی سے گام زن ہے بلکہ مسلسل تخلیقی ارتقا کے مراحل طے کر رہا ہے۔ وقت بدلتا ہوا 2014ء سے 2024ء میں داخل ہو جاتا ہے۔ دس سال بعد اس من موہنے شاعر کا دوسرا مجموعۂ کلام”عشق رقاص” سامنے آتا ہے۔ اس مجموعے کو ارمغان مطبوعات ،لاہورکے زیر اہتمام شائع کیا جاتا ہے۔ اس پر لکھنے والوں میں جناب نسیم عباسی، جناب ندیم ناجد،جناب رحمان حفیظ ، محسن اسرار اور جناب قاسم راز سمیت اردو شعری دنیا کے کئی اہم نام نظر آتے ہیں۔جناب قاسم راز لکھتے ہیں کہ: ” افتخار فلک کی شاعری معاصر ادب اور شاعری میں مطلوب فکری جہتوں کو دامنِ الفاظ میں سمیٹنے کے ارتقائی قرینوں سے آراستہ ہے۔ ان کی شاعری سے ہر طبقے اور مزاج کا باشعور اپنے مقصد اور مطلب کی ترجمانی پا کر اپنے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان حاصل کر سکتا ہے ۔” جناب رحمان حفیظ کے نام اور قد کاٹھ سے کون ناآشنا ہو گا۔ ان کی رائے افتخار فلک کے لیے مضبوط سند ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "افتخار فلک نئے دور کا لکھاری ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کی عمر سیکڑوں برس ہے کیوں کہ اس کا سخن جیسے تجربات کا حامل اور جن موضوعات کا مرقع ہے ان کے لیے صدیوں کا مشاہدہ چاہیے۔ کیا معلوم یہ بھی روحانیت کی کوئی شکل ہو۔” افتخار فلک کی شاعری پر نام ور شاعر جناب نسیم عباسی کی رائے ملاحظہ کیجے: "افتخار فلک کے جو اشعار میری نظر سے گزرے انھیں پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ اپنی داخلی اور خارجی واردات پر حیرت انگیز ردِ عمل کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ان کے اشعار سے یہ اندازہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ اس نے روایت کی پاس داری ضرور کی لیکن اس میں مقید ہو کر رہنے سے گریز کرتے ہوئے عصری حقائق کی روشنی میں اپنے اُسلوب ِ سخن کو سادگی،پرکاری، جمالیاتی قرینے اور جذبے کی سچائی کو ساتھ قائم رکھا۔” ان آرا کی روشنی میں جب افتخار فلک کا شعری سفر دیکھا جائے تو تمام کی تمام آرا حرف بہ حرف سچ دکھائی دیتی ہیں۔ افتخار فلک نے مختصر بحروں میں ایسے ایسے عمدہ اشعار تخلیق کیے ہیں کہ قاری اور سامع داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان کی پہلی کتاب سے یہ اشعار دیکھیں۔ سانحہ پیشِ نظر ہے دیکھیے شہر سارا در بہ در ہے دیکھیے
بات میری مانیے ،ضد چھوڑیے عشق کارِ معتبر ہے دیکھیے
پہلے درویشی کو چھوڑا خیر سے اب محبت داؤ پر ہے دیکھیے
جائیے صحرا میں ہو کے مطمئن قیس بھی جانِ جگر ہے دیکھیے
افتخار فلک کی مختصر بحر کی غزل سے یہ اشعار مجموعی طور پر ایک ایسے داخلی و خارجی منظرنامے کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں شاعر کے سامنے بھی کوئی سانحہ ہے اور پورا معاشرہ بھی انتشار اور بےچینی کا شکار ہے۔ سانحہ پیشِ نظر ہے دیکھیے شہر سارا در بہ در ہے دیکھیے
میں شاعر اپنے مخاطب کو اس اجتماعی کیفیت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ شہر کی دربہ دری صرف ظاہری نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بکھراؤ کی علامت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ عدم استحکام، جھنجھلاہٹ، بےروزگاری یا کسی ایسے دباؤ میں مبتلا ہیں جو شہری زندگی کو عدم تحفظ اور اضطراب میں بدل دیتا ہے۔ اسی ماحول میں شاعر مخاطب کو نرمی اور سمجھوتے کی راہ دکھاتا ہے۔ "بات میری مانیے، ضد چھوڑیے” کا لہجہ محض ذاتی مشورہ نہیں بلکہ سماجی رویے کی اصلاح کی طرف اشارہ ہے گویا وہ کہنا چاہتا ہے کہ معاشرہ ضد اور انا کی وجہ سے مزید ٹکرا رہا ہے اس لیے نرمی، سنجیدگی اور حقیقت پسندی ضروری ہو چکی ہے۔ جب وہ کہتا ہے "عشق کارِ معتبر ہے دیکھیے” تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس انتشار زدہ دنیا میں جہاں ظاہری تعلقات اور معاشرتی ترتیب ڈگمگا رہی ہے عشق ہی واحد سچی اور قابلِ بھروسا قوت ہے جو انسان کو داخلی استحکام دے سکتی ہے۔
پہلے درویشی کو چھوڑا خیر سے اب محبت داؤ پر ہے دیکھیے
شاعر ایک اہم معاشی و روحانی تبدیلی کا اعتراف کرتا ہے۔ درویشی ترک کرنا اس بات کی علامت ہے کہ روحانی سادگی اور قناعت سے دور ہو کر انسان دنیاوی مصروفیات، معاشی دوڑ یا خواہشات کے پیچھے لگ گیا ہے لیکن اس کے بعد جب عشق داؤ پر لگ جاتا ہے تو اس سے یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ دنیاوی دوڑ میں سب سے زیادہ نقصان دل اور جذبات کو ہوتا ہے۔ اس میں شاعر انسان کی اس نفسیاتی کش مکش کو بیان کرتا ہے کہ چاہے جتنی بھی مادی پریشانیاں ہوں محبت کی نزاکت سب سے زیادہ حساس ہوتی ہے اور ہر معاشرتی یا معاشی بحران سے فوراً متاثر ہوتی ہے۔ بعد ازاں شاعر مخاطب کو ایک طرح کا روحانی یا ذہنی فرار تجویز کرتا ہے: "جائیے صحرا میں ہو کے مطمئن”۔ صحرا کی تنہائی، سکون اور دنیاوی ہجوم سے دوری کی علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی شورش اور معاشی دباؤ انسان کو اندر سے تھکا دیتے ہیں اور حقیقی سکون کے لیے وہ اپنی ذات کے صحرا میں پڑاؤ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ جب وہ قیس کا حوالہ دیتا ہے”قیس بھی جانِ جگر ہے دیکھیے”تو اس سے عشق کی شدت، جنون اور پاکیزگی دونوں سامنے آتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق اگرچہ آزمائش میں ڈالتا ہے مگر اس کی گہرائی اور اس کا جنون انسانی وجود کے لیے خوراکِ روح بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اور غزل سے یہ دو شعر دیکھیں جن میں افتخار نے کم الفاظ میں کتنی گہری بات کہ ڈالی ہے:
تیرے پاؤں کا نشاں رہبر بنے کارواں یہ معجزہ چکھتا رہا
ماں تمھاری یاد میں بوڑھی ہوئی باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا
افتخار کے یہ اشعار داخلی دکھ، جدائی کے زخم اور وقت کے ستم کی ایک بھرپور علامتی تصویر پیش کرتے ہیں۔ "تیرے پاؤں کا نشاں رہبر بنے” میں شاعر محبوب یا کسی عظیم ہستی کی نسبت کو رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیتا ہے مگر ساتھ ہی "کارواں یہ معجزہ چکھتا رہا” یہ بتاتا ہے کہ رہنمائی موجود ہوتے ہوئے بھی سفر میں تھکن شکست اور زوال جاری ہے یعنی زندگی میں روشنی اور اندھیرا ایک ساتھ چلتے ہیں۔ یہ ایک گہرا فکری نکتہ ہے کہ انسان کے راستے میں نشان بھی ہوں تو اس کے اپنے حالات اور آزمائشیں اسے شکست کے قریب لے جا سکتی ہیں۔ دوسرے شعر میں ذاتی اور خاندانی المیہ نمایاں ہے: "ماں تمھاری یاد میں بوڑھی ہوئی” ایک بیٹے کی جدائی سے ماں کی آہستہ آہستہ مرتی ہوئی امیدوں کا نوحہ ہے جب کہ "باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا” باپ کی خاموش ٹوٹ پھوٹ، بیماری اور اندرونی کرب کا بیان ہے۔ یہاں شاعر نے جذباتی موضوع کو بہت کم الفاظ میں شدید اثر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اگرچہ ردیف بجھتا رہا خشک محسوس ہوتی ہے مگر اسی خشکی نے اشعار میں زندگی کے بجھتے ہوئے چراغ، امید کے مرجھانے اور خاندان کے درد کو ایک ہی تاثر میں سمو دیا ہے۔یاد رہے یہ اشعار ان کے پہلے مجموعے سے ہیں یعنی اس عمر میں جب لڑکے ہر فکر سے آزاد ہوتے ہیں یہ سنجیدہ طبعیت والا درویش شاعر معاشرے کا نوحہ لکھ رہا ہے۔ اسی طرح افتخار فلک نے اپنی شاعری میں جو مضامین رقم کیے ہیں ان کو دیکھ کر اس شاعر کی فکر کی داد ہر قاری دیتا ہے۔ شعر دیکھیں:
تجھے رونا پڑے گا ہر خوشی پر تری آنکھوں کا پانی مر گیا ہے
افتخار فلک کے اس شعر میں مختصر بحر، سادہ زبان اور گہری داخلیت مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس میں انسان کی جذباتی حسّیت کے زوال کا شدید المیہ سامنے آتا ۔ "آنکھوں کا پانی مر گیا ہے” ایک طاقت ور استعارہ ہے جو محض آنسو خشک ہونے کی بات نہیں کرتا بلکہ اس داخلی موت کی علامت ہے جب انسان کے احساسات، رحم، محبت اور درد سے جھلس کر بےجان ہو جائیں۔ اس بےحسی کا براہِ راست اثر یہ ہوتا ہے کہ خوشی بھی دکھ کا روپ دھار لیتی ہے اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ خوشی پر بھی رونا پڑے گا۔یعنی روح اتنی تھک چکی ہے کہ مسرت بھی اذیت بن گئی ہے۔ یہ کیفیت ان داخلی صدمات کی نشان دہی کرتی ہے جو انسان کو جذباتی طور پر منجمد کر دیتے ہیں اور باہر کی دنیا کی خوشیاں بھی اندر کے صحرا میں جذب ہو کر کڑواہٹ بن جاتی ہیں۔ بہت سادہ الفاظ میں ایک پوری نفسیاتی و روحانی ٹریجڈی بیان کرنا افتخار فلک کے اسلوب کی وہ خوبی ہے جو اسے مختصر بحر میں بھی گہرے اور تِہ دار معنی ترتیب دینے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔اسی طرح افتخار فلک کے اس شعر میں محبت کو ایک ایسی قوت اور آزمائش کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو زندگی بھر انسان کو بھگتنا پڑتی ہے۔ شاعر دکھاتا ہے کہ محبت محض دل کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مسلسل کرب، قربانی اور بےپناہ صعوبتوں کا سفر ہے جس میں سچے اور مخلص لوگ اپنی سادگی، اخلاص اور وفاداری کے باعث وقت کے ہاتھوں حالات کے دھکوں یا رشتوں کی ناقدری کے سبب راستے ہی میں ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ "یار ٹھکانے لگتے ہیں” میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے کہ محبت کا راستا ہمیشہ روشن نہیں ہوتا۔ یہ راستا اکثروبیش تر ایسے حسّاس دلوں کو لہولہان کر دیتا ہے جو خود کو اس جذبے کے سپرد کر دیتے ہیں۔ شاعری میں اس قسم کا بیان افتخار فلک کی اس فکری سمت کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ محبت کو رومان تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے انسان کی آزمائش، تنہائی، شکست اور داخلی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ دیکھتا ہے یعنی محبت جتنی خوب صورت ہے اتنی ہی بےرحم بھی ہے۔ افتخار فلک کے ان تمام اشعار میں معانی کی گہرائی اور عصری شعور اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ چھوٹے اور سادہ الفاظ میں اتنی وسیع معنوی تہیں پیدا کرنا دراصل افتخار فلک کی وہ خصوصیت ہے جو اسے نئی نسل کے شعرا میں نمایاں کرتی ہے۔ ہر شعر اپنے اندر داخلی کرب، سماجی مشاہدے، اخلاقی زوال، طبقاتی کش مکش، خاندانی ذمہ داری اور انسانی رشتوں کے ٹوٹنے کا نوحہ سموئے ہوئے ہے۔
"دھجیوں کو سنبھال لیتے تم اس نے پگڑی جو پھاڑ ڈالی تھی”
یہ شعر عزت، وقار اور معاشرتی اقدار کے انہدام کا عکس ہے۔ آج کے معاشرتی حالات میں پگڑی پھٹنے کا مطلب صرف کسی کی ذاتی بےعزتی نہیں بلکہ وہ اجتماعی اخلاقی بحران ہے جہاں رشتوں، خاندانوں، دوستیوں اور اعتماد کی بنیادیں ٹوٹ رہی ہیں۔ شاعر شکوہ نہیں کرتا مگر اشارہ دے کر پوری کہانی مکمل کر دیتا ہےکہ تم ذرا سا تھام لیتے تو شاید بکھراؤ رک جاتا۔
"چوم کر نور بھر دیا ورنہ ان لبوں پر تو خشک سالی تھی”
یہاں شاعر محبت کو زندگی بخشنے والی قوت کے طور پر دکھاتا ہے۔ "خشک سالی” آج کے انسان کی جذباتی تھکن ذہنی بندش اور بےحسی کی علامت ہے۔ محبت کا ایک لمس، ایک لفظ اور سچی توجہ انسان کی پوری داخلی دنیا بدل دیتی ہے۔ آج کے دور میں جب رشتے مشینی ہو چکے ہیں اس شعر کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ "مکالمے کی فضا بناؤ تبھی تو اندر کا ڈر مٹے گا”
یہ شعر موجودہ سماجی اور نفسیاتی بحران کی جڑ پر ہاتھ رکھتا ہے۔ گھر ہو معاشرہ ہو یا سیاست ہم مکالمے سے دور ہو گئے ہیں۔ اندر کے خوف، غلط فہمیاں، تشدد، دشمنی اور ذہنی بوجھ اسی لیے بڑھ رہے ہیں کہ ہم بات کرنا بھول گئے ہیں۔ شاعر علاج بتاتا ہے۔مکالمہ دلوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے کا واحد راستا۔
"سمے کی آری چلی نہیں ہے جو چل پڑی تو پتا چلے گا”
یہ شعر وقت کے بےرحم فیصلوں کی طرف اشارہ ہے۔ ابھی تخت و تاج، طاقت، دولت اور اختیار کی مستیاں قائم ہیں لیکن وقت کی آری چلنے میں دیر نہیں لگتی۔ آج کے سیاسی اور معاشی حالات پر غور کریں تو یہ شعر ایک تنبیہ محسوس ہوتا ہے۔ وقت سب کو کٹہروں میں لاتا ہے کسی کے اختیار کا غرور دائمی نہیں۔
"ترے ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیں تجھے اب نوکری کرنی پڑے گی”
افتخار کا یہ شعر آج کے نوجوان کے سماجی دباؤ کی مکمل تصویر ہے۔ معاشی بحران، بےروزگاری، والدین کی بڑھتی عمر اور ذمہ داریوں کا بوجھ یہ سب مل کر نئی نسل کو اندر تک توڑ رہے ہیں۔ یہ شعر محض نصیحت نہیں موجودہ دور کے خاندانی نظام اور معاشی حقیقت کا کھرا بیان ہے۔
"درختوں میں سیاست چل رہی ہے پرندوں میں کمی کرنی پڑے گی”
یہ دو مصرعے کسی کلاس روم میں پڑھائے جائیں تو معاصر سیاسی اور ماحولیاتی صورتِ حال سمجھنے کے لیے کافی ہوں۔ درختوں میں سیاست یعنی نظامِ قدرت میں بھی طاقت کی کھینچا تانی، مفادات، کش مکش۔ پرندوں میں کمی یعنی کم زور طبقہ ہمیشہ قربانی بنتا ہے۔ یہ شعر آج کے سیاسی نظام ماحولیاتی بحران طاقت ور طبقوں کی سازشوں اور کم زوروں کی قربانی کی ایک علامتی مگر نہایت گہری تصویر ہے۔ مجموعی طور پر فکری گہرائی موجودہ حالات کے تناظر میں ہے افتخار فلک کے یہ اشعار پڑھ کر واضح ہوتا ہے کہ وہ محض جذباتی یا رومانوی شاعر نہیں بلکہ معاشرتی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھنے والا حساس اور باشعور قلم کار ہے۔ اس نے مختصر لفظوں میں: معاشرتی عزت و غیرت کا زوال انسانی جذبات کی خشک سالی مکالمے کی کمی سے پیدا ہونے والا انتشار وقت کی ناانصافی نوجوانوں کی معاشی جدوجہد طاقت ور کے ہاتھوں کم زور کی قربانی سب کچھ ایسی سادگی سے بیان کیا ہے کہ قاری حیران رہ جاتا ہے کہ کم سے کم الفاظ میں اتنی بڑی سچائیاں کیسے سما گئیں۔ یہ فکری گہرائی نہ صرف اس کے مشاہدے کی پختگی دکھاتی ہے بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ افتخار فلک موجودہ عہد کے المیوں، کش مکشوں اور سماجی بےچینی کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کر کے انہیں اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔میں سمجھتا ہوں افتخار فلک کے شعری سفر کی یہ ابتدا ہے۔ ابھی اس نے طویل سفر طے کرنا ہے جس میں اس نے اردو ادب کے دامن کو بہت وسعت دینی ہے۔ اس کی شاعری سے یقیناً اردو شاعری ثروت مند ہو گی۔ اس کے شعری رزق سے ایک جہان فیض پائے گا۔ یہ مختصر مضمون اس کی شاعری کو جاننے کےلیے فقط ایک ہلکا سا نمونہ ہے۔