Tag: بھکر

  • شاعر مقبول ذکی مقبول کی کتاب پر مقالہ

    شاعر مقبول ذکی مقبول کی کتاب پر مقالہ

    شاعر مقبول ذکی مقبول کی کتاب پر مقالہ

    بھکر (نمائندہ خصوصی ) منکیرہ کی تھل دھرتی کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر مقبول ذکی مقبول کی کتاب "روشن چہرے”پر گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین راجن پور کی بی ایس اردو کی طالبہ کا تنقیدی جائزہ سیشن 2020 تا 2024 شائع کردیا گیا ۔ مقالہ نگار سویرا رمضان جب کہ نگران مقالہ مسز تسنیم کوثر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج خواتین راجن پور تھیں کسی بھی شاعر کےلئے کالجز یونیورسٹیز میں مقالہ جات کا شائع ہونا ایک اعزاز کی بات ہوتی ہے.

    شاعر مقبول ذکی مقبول کی کتاب پر مقالہ

    یقینا” مقبول ذکی مقبول بھکر کے صحرائی علاقے کے ایک محنتی شاعر کے طور پر ابھرے ہیں انہوں نے اس کتاب”روشن چہرے” سمیت اور بھی بہت سی کتابیں لکھیں ہیں جو ان کی شاعری اور مختلف شخصیات کے ساتھ انٹرویو اور تاریخ پر مشتمل ہیں۔

  • مقبول ذکی مقبول بے لوث شخص

    مقبول ذکی مقبول بے لوث شخص

    مقبول ذکی مقبول بے لوث شخص

    تحریر : راحت افشاں ، لاہور

    مقبول ذکی مقبول کی دورِ حاضر کے بڑے ادبی لوگوں اور ان کے فن پر مشتمل خوبصورت کتاب ٫٫ سنہرے لوگ ،، آپ سب کے سامنے ہے ۔
    مقبول ذکی صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا شمار ملک کے ابھرتے شعراء اور محققین میں ہوتا ہے .ان کی شاعری میں عروسِ سخن کے کئی خوبصورت رنگ دیکھنے میں آئے ہیں ۔ خاص طور پر صوفیانہ رنگ
    اگر ہم مقبول ذکی مقبول کی شاعری کی بات کریں تو مقبول ذکی نے عصر حاضر کے بیشتر شعراء کی طرح سستی شہرت کے لیے شاعری نہیں کی بلکہ طویل فنی ریاضت کے بعد ہی اس خار زار ادب میں قدم رکھا ہے ۔ ذکی کے صوفیانہ مجموعہ کلام ٫٫ منتہائے فکر ،، (2020ء ) سے چند اقتباسات کو دیکھئے!

    آپﷺ کے دم سے عالم سنوارا گیا
    ذکر سے کام بنتا ہمارا گیا

    اِس قلم سے ہے مقبول عزت ملی
    نعت میں مصطفیٰﷺ کو پکارا گیا

    مقبول ذکی مقبول اس درویش بے مثال کی طرح ہے جو دوسروں کی عزت و احترام بڑھانے کے لیے اپنی شخصیت کو بھول جاتے ۔ ان کی شخصیت اس شعر کی مصداق ہے ۔

    مقبول ذکی مقبول بے لوث شخص
    مقبول ذکی مقبول

    اپنی مثال ایسے ہے جیسے کوئی درخت
    اوروں کو سایہ بخش کے خود دھوپ میں جلے

    ہم ان کے بڑے پن کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نام کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تخلیق کاروں کے فن کی پذیرائی کے لئے ٫٫ سنہرےلوگ ،، اور ٫٫ روشن چہرے ،، جیسی کتب کو تخلیق کیا ۔ میں ان کی اشاعت پر مقبول ذکی مقبول کو مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔

  • مقبول ذکی مقبول کی عمدہ شعری کاوش

    مقبول ذکی مقبول کی عمدہ شعری کاوش

    مقبول ذکی مقبول کی عمدہ شعری کاوش

    تحریر : ڈاکٹر سید قاسم جلال , بہاولپور

    جیسے کسی انسان کی شخصیت , ہمہ پہلو , ہمہ رنگ اور ہمہ نوع ہوتی ہے اور اس میں ایک طرف اس کے افکار و نظریات کے حوالے سے کئی ذاتی میلانات اور رجحانات ہوتے ہیں ۔ کہیں سوچوں کی رنگا رنگی ہوتی ہے اور کہیں اس کے جذباتی و داخلی مسائل اس کے دل و دماغ میں حشر بپا کئے رکھتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح اردو شاعری کی اصناف میں ” فرد” ایک ایسی صنف سخن ہے جس میں شاعر اپنے تجربات , حوادث, مشاہدات اور احساسات کی صورت گری کرتا ہے .
    جناب مقبول ذکی مقبول کی پیش نظر کتاب ان کے "فردیات” کا مجموعہ ہے ۔ اس سے قبل کئی شعرا کی "فردیات” کے حوالے سے کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔ اس کتاب میں شامل "فردیات” بھی ان کے زور قلم کا نتیجہ ہیں۔ مقبول ذکی کی اس سے قبل بھی کئی کتب ان کی شاعری اور دانش وری کی شہادت دیتی ہیں۔

    مقبول ذکی مقبول کی عمدہ شعری کاوش


    وہ ایک عرصے سے میدان سخن وری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ اور ان کے چاہنے والے ان کی نگارشات سے مستفید ہورہے ہیں۔
    اس کتاب کی فردیات بھی ان کے فکر و فن کا خوبصورت اظہار ہے ہے ۔ یہ فردیات بالخصوص بھکر اور منکیرہ کے تعارف کا ایک عمدہ نمونہ ہیں۔
    میری دعا ہے کہ جناب مقبول ذکی مقبول کی یہ کتاب مقبول و ہر دلعزیز ہو اور ان کی ادبی کامیابیوں میں اضافہ کرے .

     ڈاکٹر سید قاسم جلال , بہاولپور

     ڈاکٹر سید قاسم جلال

    بہاولپور

  • معروف ادبی شخصیت مقبول ذکی مقبول سے مصاحبہ

    معروف ادبی شخصیت مقبول ذکی مقبول سے مصاحبہ

    معروف ادبی شخصیت مقبول ذکی مقبول سے مصاحبہ

    تحریر و تحقیق انٹرویو کنندہ : ریحانہ بتول ، بھکر

    مقبول ذکی مقبول کے آباؤاجداد کا تعلق قدیمی و تاریخی شہر منکیرہ (بھکر) سے ہے اِن کے بزرگ بسلسلہ روزگار 1956ء کو منکیرہ چھوڑ کر لیہ چلے گئے تھے ۔ مقبول ذکی کی پیدائش یکم جنوری 1977ء کو کینال کالونی لیہ میں ہوئی اِن کے والد کا نام اقبال حسین ہے اِن کا خاندانی نام مقبول حسین ہے اور ادبی دنیا میں مقبول ذکی مقبول کے نام سے شہرت رکھتے ہیں ۔ اِن کے بزرگ 1982ء کو لیہ سے واپس منکیرہ میں آ کر آباد ہو گئے ۔
    مقبول ذکی مقبول سے میرا تعلق 7 اگست 2008ء سے قائم و دائم ہے ۔ اِن شاء اللّٰہ تا حیات قائم و دائم رہے گا ۔ جتنا میں نے اِن کو قریب سے دیکھا ہے میں دعویٰ کرتی ہوں کسی نے نہیں دیکھا ہوگا ۔ سادہ طبیعت عقل مند ، دین دار ، شرم و حیا کرنے والا ، خوش اخلاق ملن سار سیدھا سادہ ، نماز روزہ کا پابند نیک سیرت کبھی مذاق کرتے نہیں دیکھا کوئی مذاق کرے تو سچ سمجھ لیتا ہے ۔ جو اِس کے من میں بات ہوتی ہے وہی کرتا ہے ۔ اِس کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے جو اپنے لیے بھلائی چاہتا ہے وہی دوسروں کے لیے چاہتا ہے ۔ معاشرے میں اِس طرح کے انسان بہت کم ملتے ہیں ۔ مہمان نوازی میں بڑی خوشی محسوس کرتا ہے ۔ پُر امن رنگ و خوشبو بکھیرتی ہوئی حقیقت اِن کی گفتگو میں تحریر و تقریر میں اور کتب میں جلوہ فگن ہیں ۔
    اِن کے اندر برداشت کی قوت بھی موجود ہے ۔ جیسے کسی نے کیا خوب کہا تھا اچھی کتاب اور اچھا دوست سمجھ میں آتا ہے مگر دیر سے مقبول ذکی آج کے دور میں ایک ایسا ہی اچھا انسان ہے جو سمجھ میں آتا ہے مگر دیر سے ۔ مقبول کی کچھ اُس وقت کی مجبوریاں و مسائل کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکے اللّٰہ پاک نے انِ کو سننے والے کان دیکھنے والی آنکھیں اور سوچنے والا دماغ عطا کر رکھا ہے ۔ اِس کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں نہیں ہیں ۔ اپنے شوق کی بدولت تین زبانوں میں شعر کہتے ہیں ۔ سرائیکی ، اُردو اور پنجابی میں ۔ نثر بھی بڑی جاندار لکھتے ہیں ۔ آٹھ کتابوں کے مصنف ہیں ۔ چار شعری مجموعے اور چار نثر کی کتابیں ہیں ۔ جو عوامی اور علمی و ادبی حلقوں سے پزیرائی حاصل کر چکی ہیں ۔ اِن کی کتابوں میں ملکِ پاکستان کے معروف پروفیسر و ڈاکٹر صاحبان نے مضامین شخصیت و فن پر لکھے ہیں ۔ جو اِن کی کتابوں میں شامل ہیں ۔ کتابوں کے شائع ہونے کے بعد بھی معروف قلم کاروں نے مضامین لکھے ہیں ۔ جو رسائل وجرائد اور اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ اصل میں لکھنے کی خوبی اللّٰہ پاک کی طرف سے ہوتی ہے ۔ لکھنے کی خوبی اللّٰہ پاک ہر کسی کو عطا نہیں کرتا ذکی کے اندر لکھنے کی خوبی فطری طور پر پائی جاتی ہے

    معروف ادبی شخصیت مقبول ذکی مقبول سے مصاحبہ

    مقبول ذکی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہیں ان کے شاعر و ادیب ہونے کی وجہ سے محکمہ کے ملازمین مزید قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنی اچھی رائے کا اظہار بھی کیا کرتے ہیں ۔
    ملازمین کی رائے ملاحظہ فرمائیں

    ٹی ایچ کیو ہسپتال ، منکیرہ ہیڈ نرس پروین کی رائے
    مقبول ذکی مقبول انتہائی ملنسار اور بہت اچھے اخلاق کے حامل انسان ہیں ۔ اپنی ذمہ داری کو بہت خوب انجام دیتے ہیں اور وقت کے پابند انسان ہیں اور اپنے سٹاف کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے ہیں ۔

    بی ایچ یو ، گوہر والا ڈسپنسر حاجی مرید عباس پشیہ کہتے ہیں
    "مقبول ذکی مقبول کی کتب سجدہ اور منتہائے فکر کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جو کہ پڑھ کر بہت خوش ہوا ان کے الفاظ کا چناؤ زبردست ہے ۔ ذکی صاحب صحت کے شعبہ سے وابستہ ہیں ہمارے ایک مدت سے شناسا ہیں ۔ ان کا رویہ بہت اچھا ہے پانچ وقت کے نمازی بہر حال ہر لحاظ سے اِن کی طبیعت قابلِ رشک ہے ۔ دعا ہے کہ ان کی توفیقات میں اللّٰہ پاک مزید اِضافہ کرے ۔”

    محمد ایاز پبلک ہیلتھ انسپکٹر ، تحصیل منکیرہ کہتے ہیں
    "مقبول ذکی مقبول جو کہ محکمہ صحت کا ملازم ہے میں نے ایک سال ڈیوٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر منکیرہ کے دفتر میں ان کے ساتھ ڈیوٹی سر انجام دی مقبول ذکی ایک ایمان دار اور باکردار انسان ہیں اور ڈیوٹی کا پابند تھا ۔ میں نے اپنی 14 سالہ سروس میں مقبول ذکی جیسا اچھا فرد محکمہ صحت میں نہیں دیکھا جو کہ نیک نیتی سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتا تھا ۔ میری خوش قسمتی تھی جو ایک سال مقبول ذکی جیسے شریف ایمان دار کے ساتھ ڈیوٹی کی ۔”

    لکھنے کی خدا داد صلاحیت کی بدولت مقبول ذکی مقبول اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں ۔
    چند روز قبل علم و ادب کے حوالے سے اِن سے گفتگو کی گئی ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش کرتی ہوں ۔

    سوال : آپ کا اسلوب قوسِ قزاح کی طرح ہے ۔ اِس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں ؟
    جواب : میں تو یہی کہہ سکتا ہوں الحمدللہ ،
    جہاں تک اسلوب کا تعلق ہے وہ تو ناقدین ، قارئین ، سکالرز اور آپ جیسے لوگوں نے ہی اسلوب پر بات کرنی ہے ۔ میں بھلا یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ میرا اسلوب اِس طرح کا ہے وغیرہ وغیرہ یہ تو اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہے ۔ بہرکیف آپ کی بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے ۔

    سوال : آپ کے نزدیک ادب کیا ہے ؟
    جواب : ادب زندگی میں خوش گوار بہاریں لاتا ہے ۔ ادب کا زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے ۔ یہ کوئی آج کل کی بات نہیں جب سے انسان وجود میں آیا ہے اُس دن سے ادب نے انسانی زندگی میں انسانیت پیدا کرنے کا کام شروع کیا ہے ۔ جو تا حال جاری ہے ۔

    سوال : شاعری کیا ہے قارئین کو آگاہ کریں ؟
    جواب : شاعری کا تعلق انسانی زندگی سے ہے جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں ۔ یہ ایک درس کا درجہ رکھتی ہے ۔ شاعری انقلاب برپا کرتی ہے انسان کے اندر تبدیلی لاتی ہے ۔ اِس کا واضح ثبوت ہے کہ حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی شاعری نے ہی تو قوم کو بیدار کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا ہے ۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی کتاب ٫٫ مقدمہ شعر و شاعری ،، میں لکھتے ہیں عرب میں ایک بیوہ خاتون کی سات بچیاں تھیں مگر ان کے رشتے نہیں آرہے تھے ۔ وہ خاتون ایک نابینا شاعر کے پاس گئی اور کہا میری بچیوں کے رشتے نہیں آرہے ہیں ۔ شاعر نے کہا آپ ان بچیوں کے نام ابو کا نام اور قبیلہ کا نام بتا دیں رشتے آئے گے ۔ اس شاعر نے نظم کے ذریعے ان کے حُسن و جمال کی تعریف کی تو رشتے آنے شروع ہو گئے اس طرح سب لڑکیوں کی شادی ہوگئی جب ایک بچی کی شادی ہوتی تو وہ خاتون انعام کے طور پر شاعر کو ایک اونٹ دیتی تھی یکے بعد دیگرے سب کی شادی ہوگئی ۔

    سوال آپ مصاحبہ نگاری میں کمال مہارت رکھتے ہیں اور آپ کو اِس ادبی کارمے پر پزیرائی بھی ملی ہے ۔ اِس طرف کیسے آنا ہوا ؟
    جواب : یہ غالباً 2003ء یا 2004ء کی بات ہو گی اُس وقت اخبارات کا عروج تھا روزنامہ ٫٫ نوائے وقت ،، روزنامہ ٫٫ خبریں ،، روزنامہ ٫٫ پاکستان ،، روزنامہ ٫٫ جنگ ،، اور روزنامہ ٫٫ اوصاف ،، ان میں انٹرویو شائع ہوا کرتے تھے ۔ ان کا مطالعہ بڑے شوق سے کرتا تھا ادبی صفحے کا تو شدت سے انتظار کیا کرتا تھا کون سے دن کس اخبار میں ادبی صفحہ ہوگا ۔
    انٹرویو بھی بڑے طویل ہوا کرتے تھے اخبار کے ہاف پیچ پر ہوتے تھے ۔ کبھی کبھار تو پورے پیچ پر انٹرویو ہوتا تھا ۔ ان کا مطالعہ کرنے پر خوشی ہوتی تھی ۔ کراچی سے ایک ڈائجسٹ شائع ہوا کرتا تھا اُس کا نام تھا ماہنامہ ٫٫ سرگزشت ،، اِس میں ہر ماہ کو ایک انٹرویو پڑھنے کو ملتا تھا جو غالباً بیس سے پچیس صفحات پر مشتمل ہوتا تھا اور مجھے یاد آرہا ہے 2006ء یا 2007ء کی بات ہو گی علی شاہ مرحوم ( منکیرہ ) بھکر نے استاد الشعرا سئیں نذیر احمد ڈھالہ خیلوی کا انٹرویو میرے سامنے لیا تھا کچھ دنوں بعد ایک سماجی شخصیت کا انٹرویو لیا تھا مجھے بھی ساتھ لے گئے تھے یہاں تک تو میرے خیال میں مصاحبہ نگاری کی طرف آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ایک ہمارے دوست اسلام آباد میں رہتے ہیں ان کا نام ملک یاسر صابری ہے 2019ء کو انہوں نے اپنی انٹرویو والی کتاب جس کا نام تھا ٫٫ اندازِ گفتگو ،، مجھے بھیجی جب اُس کا مطالعہ کیا تو بڑی خوشی ہوئی اور میرے اندر بھی خواہش پیدا ہوئی کہ ادبی شخصیات کے انٹرویو لیا کروں پھر کچھ مصروفیات کی وجہ سے خواہش اندر کی اندر ہی رہ گئی
    میرے ایک ادبی دوست ہیں پروفیسر جاوید صدیق بھٹی ان کا تعلق لاہور سے ہے ایک دن انہوں نے فون پر مجھ سے پوچھ لیا کیا آپ نے آج تک کسی کا انٹرویو لیا ہے تو میں نے کہا لیا تو نہیں پر ارادہ ہے بس اُس کے بعد انٹرویو کا سلسلہ شروع کر دیا الحمدوللہ بڑی کامیابی ملی ہے ۔

    سوال : کتاب کی اہمیت کیا ہے ؟ اِس پر تھوڑی روشنی ڈالیں ؟
    جواب : کتاب ایک بہترین ریکارڈ ہے جو صدیوں تک محفوظ رہتا ہے کتاب بہترین دوست ہے ۔ کتاب بھی ایک قسم کی مخلوق ہے جو انسان کے اندر سے نکلتی ہے اور ہزاروں لوگوں کو فوائد پہنچاتی ہے انسان خود کو تبدیل کر لیتا ہے آج کل انٹرنیٹ سوشل میڈیا فیس بُک واٹس ایپ کے گروپ کے ذریعے پی ڈی ایف کی صورت کتاب بہت سارے ممالک میں پہنچ جاتی ہے ہم سب مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللّٰہ پاک ہر چیز پر قادر ہے اپنے کلام کو کسی بھی ذریعے سے محفوظ کر سکتا تھا مگر کتاب کی صورت میں محفوظ کیا
    ہمارے دوست گستاخ بخاری مرحوم ( جھنگ) کہا کرتے تھے آپ کسی کو قیمتی گاڑی بطور تحفہ دے دیں اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک اُس کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی سو روپے کی کتاب کی اہمیت ہے کیونکہ کتاب میں علم ہوتا ہے علی شاہ ، مرحوم (منکیرہ بھکر) کہا کرتے تھے کتاب آدھا استاد ہے ۔ کتاب بوطیقا میں ارسطو لکھتے ہیں ہمیشہ کتابوں نے ہی دنیا پر حکومت کی ہے ۔

    سوال : آپ نے بہت سارے انعامات حاصل کئے ہیں ان پر کچھ کہنا پسند کریں گے ؟
    جواب : جی ضرور میں ان تمام ادبی تنظیموں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے ادبی کام کو سراہا میری حوصلہ افزائی کی گولڈ میڈلز ، شیلیڈ ، اسناد ، کیش اور دیگر انعامات سے نوازا ۔
    کچھ یوں ہیں ۔

    1 گولڈ میڈل ، منجانب ادب سرائے انٹرنیشنل (لاہور) 10 دسمبر 2018ء

    2 حسنِ کارکردگی اول ایوارڈ ، منجانب شاخِ ادب فیض پور خرد انصاری فاؤنڈیشن پاکستان (شیخو پورہ)14 مارچ 2019ء

    3 نعت ایوارڈ ، منجانب عشقِ لہر ادبی انجمن (لاہور) 24 مارچ 2019ء

    4 ڈاکٹر یاسین جاوید ادبی ایوارڈ ، منجانب کاروانِ بیدل (جھنگ) 30 مارچ 2019ء

    5 گولڈ میڈل ، منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 3 اگست 2020ء

    6 بھیل ادبی ایوارڈ ، سند اور دیگر تحائف منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 28 مارچ 2021ء

    7 سند امتیاز ، منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 10 جولائی 2021ء

    8 ایوارڈ برائے بہترین تصنیف ، منتہائے فکر ، منجانب انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان (راولپنڈی)26 جولائی 2021ء

    9 گولڈ میڈل ، سند ، کیش اور دیگر تحائف منجانب تنظیم کارِ خیر (گوجرانولہ) 21 نومبر 2021ء

    10 خوشبوئے نعت ایوارڈ ، منجانب عبد الحق نعت فاؤنڈیشن پاکستان (سرگودھا) 25 دسمبر 2021ء

    11 حسنِ کارکردگی ایوارڈ ، منجانب ماہنامہ اوج ڈائجسٹ (ملتان) 16 جنوری 2022ء

    12 سردار ادبی ایوارڈ اور سند امتیاز منجانب بزمِ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ) 13 مارچ 2022ء

    13 نقیبی ادبی ایوارڈ 2021ء منجانب نقیبی کاروانِ ادب (فیصل آباد) 26 دسمبر 2022ء

    14 سریٹفکیٹ منجانب ادارہ اشا ( ڈیرہ اسماعیل خان )3 مارچ 2023ء

    15 گولڈ میڈل 2024ء منجانب المصطفیٰ فاؤنڈیشن اور مختلف ادبی تنظیموں کی طرف سے 5 اسناد ، یعقوب فردوسی ( فیصل آباد) 20 اگست 2023ء

    16 اعزای سند ، منجانب ادبی سفر انٹرنیشنل (لاہور) 24 اگست 2023ء
    شب
    17 سندِ اِعزاز منجانب ای میگزین آئی اٹک ( اٹک ) 25 دسمبر 2023ء

    18 خدمتِ ادب ایوارڈ 2024ء
    منجانب راشد اینڈ ارسلان پبلیکیشز ملتان پاکستان (ملتان) 17 اپریل 2024ء

    19 شھاب دھلوی ایوارڈ 2024ء
    منجانب ادبی تنظیم بزمِ شمسی پاکستان (قائم پور بہاولپور) 17 اپریل 2024ء

    20 گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی گرینڈ ایوارڈ
    منجانب گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی 2024ء ، سرپرست اعلیٰ زیب النساء زیبی ، صدر محمد نواز گلیانہ 20 اپریل 2024ء

    21 میر ببر علی انیس ادبی ایوارڈ 2024ء
    منجانب گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی ، 12 جولائی 2024ء

    22 سند میر ببر علی انیس 2024ء
    منجانب گلوبل رائٹرز ایسوسی ایشن اٹلی 12 جولائی 2024ء

    23 اعزازی سند فخرِ وطن 2024ء
    منجانب ادبی سفر انٹرنیشنل ، لاہور 10 اگست 2024ء

    سوال : آپ کے اندر شعر کہنے کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا ؟
    جواب : بچپن میں شعر کہنے کی طرف مائل ہوا تھا اُس وقت فی البدیہ اشعار کہا کرتا تھا اپنے ماموں زاد بھائی عبد الحمید ، فتح پور( لیہ) اور پھپھو زاد بھائی نذیر حسین مرحوم ( لیہ ) کو فی البدیہ اشعار سنایا کرتا تھا ۔ ریڈیو پاکستان میر پور خاص ( سندھ ) سے آپ کی فرمائش ایک پروگرام نشر ہوتا تھا اُس وقت رات ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوتا تھا اُس میں بڑے مشہور اور پرانے گانے سننے کو ملتے تھے میزبان گانے سے پہلے ایک دو اشعار پڑھا کرتا تھا اُس کا اندازِ بیاں بہت اچھا تھا اشعار بھی بڑے جاندار پڑھتے تھے جو زیادہ اچھا لگتا وہ میں حفظ کر لیا کرتا تھا ۔ روزنامہ ٫٫ خبریں ،، لاہور کے سنڈے میگزین میں کبھی کبھار منکیرہ اور نور پور تھل کے کسی نہ کسی کے انتخاب اشعار پڑھنے کو ملتے تھے تو بہت خوشی ہوتی تھی گانے بھی سنا کرتا تھا اور گنگنایا کرتا تھا کسی گانے کے دو اشعار ہوتے تو تیسرا میں اپنی طرف سے اپنی ایجاد شامل کرتا پھر گنگنانا نے میں بڑا لطف محسوس کرتا ۔
    غالباً تین چار میں نے گانے بھی لکھے تھے اس طرح شوق آگے آگے بڑھتا گیا ایک دن ایسا ہوا گانے سننا لکھنا گنگنانا اور ان میں شعر شامل کرنا دل سے اللّٰہ پاک کی بارگاہ میں توبہ کر لی ۔

    سوال : نظم اور غزل میں کیا فرق ہے ؟
    جواب : نظم تو نظم ہے غزل بھی نظم ہے یعنی منظوم ، نظم میں آپ ایک ہی پیغام دے سکتے ہیں ۔ آزاد نظم کہہ رہے ہیں تو اُس کو مختصر ہونا چاہیے اُس میں خوبصورتی بھی ہوگی اور جان بھی ہوگی طویل نظم تمہید زیادہ ہوتی ہے سامع اور قارئین کو نتیجہ کا انتظار میں بوریت محسوس ہوتی ہے ۔ مجھے شبیر ناقد کی ایک مختصر نظم یاد آرہی ہے

    ٫٫ رازِنمو ،،

    فن بے انت سمندر
    پہلے ڈوبو
    پھر نکلو گے

    نظم کی مختلف اقسام ہیں پابند نظم ، آزاذ نظم ، نظم معریٰ ، وغیرہ وغیرہ
    مکمل غزل کے پانچ اشعار ہوتے ہیں اِس سے زیادہ جتنی مرضی طویل کرلیں ہر ایک شعر سمجھو کہ وہ نظم ہے شعر کی دو ہی تو سطریں ہوتی ہیں ۔ ہر ایک شعر میں الگ الگ پیغام ہوتا ہے ۔

    سوال : نثری نظمیں اور غزلیں ان پر آپ کی رائے ؟
    جواب : اِس سوال کا جواب دینے سے میں معذرت خواہ ہوں ۔

    سوال : ادب کے حوالے سے آپ آگے کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟
    جواب : کوشش تو میری ہے نئے سے نیا ادبی کام کر سکوں باقی جو اللّٰہ پاک کو منظور ہوگا ۔

    سوال : آپ شعر و ادب کے حوالے سے کس نظریات کے کائل ہیں ؟
    جواب : پیار و محبت امن بھائی چارہ اور معاشرے کی اصلاح اُس شاعری کا میں بلکل کائل نہیں جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرے ۔

    سوال : آپ کی شاعری کا بنیادی نقطہ نظر ؟
    جواب : محمد و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے فضائل و مناقب اور غمِ آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم یعنی میں نعت گو اور سلام گزار ہوں ۔

    سوال : کیا قلم کار کے لئے ماحول کا ہونا ضروری ہے ؟
    جواب : اگر ماحول میسر آجائے تو یہ بات سونے پہ سہاگا والی بات ہے ۔ لیکن جو خوبی انسان کے اندر فطری طور پر ہوتی ہے وہ باہر آکے ہی رہتی ہے ۔ رکتی نہیں بلکہ یوں کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا کہ سونے نہیں دیتی ۔

    سوال : آپ بنیادی طور پر شاعر ہیں نثر کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟
    جواب : شبیر ناقد کا شاعری مجموعہ ٫٫ آہنگِ خاطر ،، کا میں نے مطالعہ کیا تو میرے ذہن میں اِس مجموعہ پر تین چار پیرے لکھنے کا خیال آیا یہ بات مارچ 2014ء کی ہے میری یہ پہلی تحریر تھی رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوئی لاہور کی ایک لڑکی عروج انجم نے شبیر ناقد پر ایم فل کا مقالہ لکھا تو میری تحریر سے ایک پیرا کو کوٹ کیا ایک اور لڑکے نے ایم فل کا مقالہ لکھا تو انہوں نے بھی میری تحریر سے ایک پیرا کو کوٹ کیا ان کا تعلق تونسہ شریف (ڈیرہ غازی خان) سے تھا ان کا نام غلام عباس تھا اس طرح میری پہلی تحریر نے ماشاء اللّٰہ بڑا سفر کیا حوصلہ افزائی ہوئی تو پھر لکھنا شروع کر دیا ۔

    سوال : آپ نے نوحے بھی لکھے ہیں ۔ اِس طرف کیسے آئے ؟
    جواب : جی ہاں نوحہ خوانی بہت دور دور تک سننے جایا کرتا تھا کبھی کبھار ماتمی سنگتوں کے ساتھ جاتا تھا جن میں مظہر عباس بھٹی (لیہ) عاطف کربلائی (بھکر) اور مقامی سنگت شہزادہ علی اکبر علیہ السّلام (منکیرہ) بھکر کے ساتھ بھی جایا کرتا تھا مقامی سنگت کے ساتھ نوحہ خوانی بھی کرتا رہا ہوں اُس وقت ٹیپ ریکارڈر اور ڈیک ہوا کرتے تھے کیسٹ لگا کر نوحے سنتا رہا جس کسی میں مقطع نہیں ہوتا تھا اُس شاعر کے نام سے مقطع لِکھ کر شامل کرتا اور اکیلا کمرے میں بیٹھ کر پڑھتا تھا پھر اِس طرح نوحے لکھنے کا شوق بھی پیدا ہو گیا ۔ پہلا نوحہ جو میں نے لکھا تھا اُس کا مطلع اِس طرح ہے ۔

    توں مالک خلد بریں دا ہیں کیوں ڈسدائں باجھ کفن بابا
    پوشاک لوٹیچ گئی تیڈی پامال ہے تیڈا تن بابا

    کچھ دنوں بعد میرا لیہ جانا ہوا تو میں نے اپنے پھپھو زاد بھائی غلام رسول ( مرحوم) کو یہ نوحہ دکھایا تو وہ بہت خوش ہوۓکہنے لگے آپ نے نوحہ بڑا زبردست لکھا ہے اور حسینہ ہال میں جو مسجد ہے وہاں مظہر بھٹی مغرب کی نماز پڑھنے آتا ہے اُن کو نوحہ دکھائیں گے جب ان کو دکھایا تو کہا ماشاء اللّٰہ بہت اچھا کلام ہے ۔ پھر اِس نوحہ کو مختلف ماتمی سنگتوں نے پڑھا سید ظفر عباس شاہ باقری (منکیرہ) نے پڑھا جو آڈیو ، ویڈیو کیسٹوں میں دستیاب ہے ۔ میرے لکھے ہوئے دیگر نوحے بھی پڑھے گئے مگر پہلے نوحے نے بڑی مقبولیت حاصل کی ہے ۔
    سید محمد سجاد حیدری اسفر مرحوم ان کا تعلق کراچی سے تھا اِن کے بزرگوں کی منکیرہ (بھکر) میں زمینیں تھی وہی یہاں رہا کرتا تھا بہت اچھی شاعری بھی کیا کرتے تھے جب انہوں نے یہ نوحہ سنا تو کہنے لگے مقبول ذکی مقبول خدا کی قسم یہ جو نوحہ آپ نے لکھا ہے تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے والے الفاظ ہیں اِس پر میں نے اللّٰہ پاک کا شکر ادا کیا اور کہا شاہ جی اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ ذکر پاک ہی ایسا ہے جو چودہ سو سال سے چلا آ رہا ہے ۔

    سوال : آپ کی ادبی تنظیم بزمِ اوجِ ادب فروغِ ادب کے لئے کیا کیا کام کر رہی ہے ؟
    جواب : الحمدللہ ہماری تنظیم نے فروغِ ادب کے لئے مختلف پروگرام کروائے ہیں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لئے جن میں ایوارڈ تقریب اسناد ادبی نشستیں کتب کی اشاعت مرحوم شعراء کرام کی برسی کے حوالے سے قرآن خوانی و دعا کا اہتمام کیا باقی فروغِ ادب کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔

    سوال : کیا آپ نے کبھی رباعی بھی کہی ہے ؟ اگر کہی ہے تو عنایت فرمائیں ؟
    جواب : جی ضرور

    اے دوست مرے یار مری جان کہاں
    ذی شان مری جان میں قربان کہاں
    مقبول محبت کی یہی خاص ادا بھی
    اس پیار کے اقرار کیا علان کہاں

    سوال : قارئین کے لئے کوئی پیغام ؟
    جواب : میں تو یہی کہوں گا جو کام خلوص کے ساتھ کیا جائے وہ کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتا اُس کا صلہ اللّٰہ پاک دنیا میں بھی دے گا اور آخرت میں بھی اِن شاء اللّٰہ

  • ڈاکٹر خلیل طوقار شخصیت اور فن

    ڈاکٹر خلیل طوقار شخصیت اور فن

    ڈاکٹر خلیل طوقار شخصیت اور فن


    تبصرہ : نگار مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    عالمی شہرت یافتہ پروفیسر ڈاکٹر اشرف کمال جو کہ کتبِ کثیر کے مصنف ہیں ۔ آپ کا تعلق بھکر کی دھرتی سے ہے اپنے نام کی طرح بڑے بڑے کمالات کو اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ اللّٰہ پاک نے آپ کو خوبصورت خدو خال سے نوازا ہے گندمی رنگت درمیانہ قد خوبصورت لب و لہجہ چہرے پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ ، ہینڈسم پینٹ شرٹ میں اکثر ملبوس رہتے ہیں ۔ اِس کم عمری کے عالم میں آپ نے علم و ادب کے میدان میں بڑے بڑے کار نامے سر انجام دیئے ہیں ۔ آپ دل کے بہت اچھے ہیں ۔ انا اور تکبر تو انہیں چھو کر بھی نہیں گزرا چھوٹے بڑے سب کے ساتھ خلوص کے ساتھ پیش آتے ہیں راقم الحروف آپ کے ساتھ بار ہا ملاقاتیں کر چکا ہے ۔ مشاعروں میں بھی ملاقاتیں رہیں اور آپ کے ساتھ سفر کرنے کا بھی اتفاق ہوا ۔ آپ کو ایک اچھا انسان پایا ہے ۔ جو آپ نے تحقیقی کام کئے ہیں اور جو آپ پر ہوئے ہیں اِن کی مثال نہیں ملتی ۔ دن بدن آپ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔ ان کو پورا کرنے میں کمالِ مہارت رکھتے ہیں ۔
    اپنی کتاب ٫٫ یہ میرا بھکر ،، (فردیات) سے ایک شعر یاد آ رہا ہے جو خاص طور پر آپ کے لئے کہا گیا ہے ۔

    ہیں عالم گیر شہرت کے ، کمال اِن میں ، ہیں اشرف بھی
    بڑا ہی معتبر ہے یہ مرا قلمی قبیلہ بھی
    (مقبول ذکی مقبول)

    ڈاکٹر خلیل طوقار شخصیت اور فن

    پروفیسر ڈاکٹر اشرف کمال کی زیرِ نظر کتاب بعنوان پاکستانی ادب کے معمار ٫٫ ڈاکٹر خلیل طوقار شخصیت اور فن ،، اِس کتاب کو اکادمی ادبیات پاکستان 8/1 ۔H اسلام آباد نے شایع کیا ہے پیش نامہ ڈاکٹر یوسف خشک پیشِ لفظ ڈاکٹر اشرف کمال نے لکھا ہے صفحات 231 ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار کی حالاتِ زندگی و خاندانی پسِ منظر اور خدو خال کو بھی لکھا گیا ہے ۔ مصنف نےصرف عرق ریزی کے ساتھ کام نہیں کیا بلکہ اِن کا خلوص بھی جھلک رہا ہے ۔ ڈاکٹر خلیل طوقار کا پاکستان میں 1990ء سے قبل آنا جانا ہے اور لاہور میں پروفیسر غلام حسین ذوالفقار سے تعلیم حاصل کرنا ۔ آج جیسا دور و سہولتیں میسر نہیں تھیں پی ٹی سی ایل ہوا کرتے تھے اور خط لکھے جاتے تھے ۔ ترکی اور پاکستان کے حکومتی سطح پر اچھے تعلقات رہے ہیں ۔ ماشاءاللہ جو اب بھی قائم ہیں ۔ اِن میں مزید بہتری کا سبب طوقار بھی بنے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار 54 کتب کے مصنف ہیں ایک سو مقالہ جات بھی لکھ چکے ہیں ۔ ایک بہترین مترجم کے طور پر بھی اپنا الگ مقام رکھتے ہیں ۔ اُردو سے بے بہا محبت کرتے ہیں ۔ ترکی میں استعبول یونیورسٹی میں شعبہ اردو میں پڑھاتے ہیں ایک اردو شمارہ بھی نکالتے ہیں ۔ ارود ، پنجابی ، انگریزی ، فارسی اور عربی زبان پر عبور رکھتے ہیں ۔ پاکستان سے اِن کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں ۔ اِن کے استاد پروفیسر غلام حسین ذوالفقار کی بیٹی ان کی بیوی ہے اور اللّٰہ پاک نے ایک بیٹی اور ایک بیٹا سے بھی نوازا ہے ۔


    عالمی شہرت یافتہ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے ادب کی بھر پور خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اُردو کو مختلف ممالک میں اس کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ مختلف ممالک میں مشاعروں اور کانفرنسوں میں شرکت کی جسے اردو ادب کو تقویت ملی ۔ قلم کار کا جو مقصد ہوتا ہے مظلوم طبقے کے حق میں آواز بلند کرنا جب خلیل نے اس کا حق ادا کیا تو ایک ملک سے برداشت نہ ہو سکا اور وہاں کے دروازے ان کے لئے بند ہو گئے ۔ بلند حوصلے والا نوجوان نے اپنے قدم جمانے رکھے ۔


    علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کی کتاب ٫٫ شکوہ جوابِ شکوہ ،، امام خمینی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا دیوان اور دیگر کو بھی ترکی زبان میں ترجمہ کیا ۔ اس کے علاؤہ ترکی زبان کی کتب کو اردو ترجمہ کیا اس طرح پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے مختلف اقوامِ عالم پر احسان کیا ہے ۔ جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
    نام خلیل کی خ تخلص طوقار اور اُردو ان الفاظ پر مصنف پروفیسر ڈاکٹر اشرف کمال نے جو بات لکھی ہے وہ علم میں اضافے کا سبب ہے کتاب میں چند رنگین تصاویر جو اہم شخصیات اور ادبی شخصیات کے ساتھ ہیں کتاب میں خوبصورتی میں اضافہ ہیں ۔ کتاب کے آخر میں ایک طویل انٹرویو لیا گیا ہے جو قارئین کے لئے دل چسپی کے ساتھ ساتھ علم میں اضافے کا سبب بھی پیدا کرتا ہے ۔

  • شذرات مقبول کی مقبولیت

    شذرات مقبول کی مقبولیت

    شذرات مقبول کی مقبولیت

    (تحریر۔پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر)

    جناب مقبول ذکی مقبول ضلع بھکر کے اُبھرتے ہوئے شاعر اور ادیب ہیں ، اُنہوں نے تنقید اور تحقیق کے میدان میں معقول کام کیا ہے ۔ سب سے پہلے انہوں ننے مختلف ادبی اور علمی شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل دوکتابیں ٫٫ سنہرے لوگ ،، اور روشن چہرے کے نام سے شائع کی ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے عاصم بخاری کی شخصیت اور ادبی کام کے بارے میں ٫٫ اعتراف فن ،،کے نام سے تنقیدی اور توصیفی کتاب لکھی اب ان کی چوتھی نثری تخلیق ٫٫ شذرات مقبول ،، کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی ہے ۔ یہ کتاب بھکر کے ادب میں خوشگوار اضافہ ہے ۔ یہ کتاب القلم رائٹرز فورم کی وساطت سے شائع ہوئی ہے جس میں مقبول ذکی کے نثری مضامین اور تبصرے شامل ہیں ۔ کتاب کے آغاز میں مقبول ذکی کی ادبی مساعی پرشاعر علی شاعر ، مقٓصود جعفری ، جاوید رسول جوہر ، شہاب صفدر ، سید ضمیر بخاری ، ریاض ندیم نیازی جیسے کہنہ مشق ادب شناس نقاد حضرات کے مضامین شامل کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ افضل صفی اور رقیہ غزل کے تاثرات بھی شامل ہیں۔


    ٫٫ شذرات مقبول ،،کے مندرجات میں مختلف شاعروں اور نثر نگاروں کی تخلیقات ، علمی خدمات اور ان کی ادبی کاوشوں کے حوالے سے مقبول ذکی مقبول کی چھوٹی بڑی تحریریں جمع کی گئی ہیں جو مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع شدہ ہیں ۔ ہر تحریر کے بعد اس کے حوالہ جات درج کئے گئے ہیں ۔ جن شاعروں کا اس میں تذکرہ اور ان کی خدمات ادب کو زیرِ بحث لایا گیا ہے اُن میں ظہور احمد فاتح ، امان اللّٰہ کاظم ، غلام محمد تقی کوٹلہ جامی مرحوم ، محمد اقبال بالم ، شمشاد سرائی ، علی شاہ مرحوم ، صابر جاذب ، خالق داد خاکی ، حبدار حسیبن شاہ المعروف حبدار قائم اورابصار حیدری جیسے باکمال لوگ شامل ہیں ۔ ان کی کتابوں شاعری اور نثر پرسیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔ نثر نگاری اور تنقید کے میدان میں عاصم بخاری ، شبیر ناقد ،خالق داد چھینہ اور فقیر امداد حسین کے تنقیدی نظریات اور خدمات ادب شامل کتاب ہیں ۔اقبال حسین کی تیسری کلیات ، ماہنامہ ارژنگ کی ادبی مساعی ، ابی ستارے اور راحت نعت جیسے ادبی عنوانات بھی قابل مطالعہ ہیں ۔
    لیہ سے شائع ہونے والے تھل میگزین پر خصوصی تبصرہ علاقائی ثقافت اور ادب کا آینہ دار ہے ، بھکر کی ادبی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ برائے سال۲۰۲۳ ایک جامع مضمون ہے جس میں بھکر کی ادبی شخصیات کتب اور ادبی تنظیموں و دیگر ادبی مساعی کے حوالے سے بھرپور معلومات دی گئے ہیں ۔ ٫٫ شذرات مقبول ،، میں عاقائی سطح پر تخلیق ہونے والے شعری اور نثری ادب کی نشان دہی کی گئی ہے جس سے مقبول ذکی کی شعر و ادب سے محبت کا انداذہ ہوتا ہے ۔انہوں نے ادبی اکابرین کے فن اور موضوعات سے قارئین کو متعارف کرایا ہے اور اپنے قلم کے جواہر سے بھی عوام کو آگاہ کیا ہے ۔ بھکر کے بزرگ شاعر غلام محمد کوٹلہ جامی مرحوم کی ادبی خدمات کو تابندہ رکھنے کے لئے انہوں نے ایک ادبی ایوارڈ جاری کیا ہے جو ان کی تنظیم بزمِ اوجِ ادب کی طرف سے ہر سال کسی نمایاں ادبی شخصیت کو دیا جاتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول نے تھل صحرا میں علم وادب کی شمع روشن کی ہے اور اس کی آبیاری کے لئے اپنے محدود وسائل کے باوجود پوری محنت اور کاوش کر رہے ہیں، اللّٰہ ان کے علم اور قلم کے استعداد میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی تازہ تخلیقات دیکھنے کو ملیں ۔آمین
               *

    پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر

شذرات مقبول کی مقبولیت

    پروفیسر جاوید عباس جاوید
    بھکر

  • سرائیکی نعتیہ مشاعرہ

    سرائیکی نعتیہ مشاعرہ

    سرائیکی نعتیہ مشاعرہ

    رپورٹ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    عید الاضحیٰ سے قبل سرائیکی نعتیہ مشاعرہ بزمِ اوجِ ادب منکیرہ کے (بھکر) زیرِ اہتمام نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا یہ خوبصورت و روحانی محفل مقبول ذکی مقبول کی رہائش گاہ منکیرہ ( بھکر) میں منعقد ہوئی ۔ اس نعتیہ نشست میں منکیرہ اور گردونواح کے شعراۓ کرام نے شرکت کی ۔ جن میں
    مقبول ذکی مقبول ، بشیر تصور ، شہباز ہادی ، عارف سہوانی ، راشد ناز اور مظہر قدیم شامل ہیں ۔ بار گاہ میں ہدیہ نعت پیش کیا اس روحانی محفل کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت مقبول ذکی مقبول نے حاصل کی اور نظامت و نقابت کے فرائض بھی سر انجام دیئے ۔ تمام نعت گو شعراء نے دل کھول کر اپنا اپنا نعتیہ کلام پیش کیا جس پر حاضرین محفل کا ایماں تروتازہ ہوا نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں

    شہ رگ دے خون دی وی خوشبو ہے اے ڈسیندی
    آقاﷺ توں ساڈا آقا ﷺ بہوں مہربان آقا ﷺ

    ( مقبول ذکی مقبول )

    محمدﷺ دی مدحت بناں کوئی کم نئیں
    محبت بھری ہک صدا میکوں آدھن

    (بشیر تصور )

    سبز گنبد نگینہ ڈیکھاں
    رحمتاں دا خزینہ ڈیکھاں
    سوہنڑاں مدنی ﷺ جئے راضی تھیوے
    سہوانی میں وی مدینہ ڈیکھاں

    (عارف سہوانی)

    چایا قلم قرطاس لکھن کیتے لکھی پہلی شان خدا دی
    پڑھ بسم اللّٰہ قلم قرطاس تے آئی لکھی حمد رحمٰن دے ناں دی
    تے اگوں سوچ دے سوجھل مکن لگے گھدی ٹیک محبوب ﷺ خدا دی
    میڈی سوچ شہباز معراج کیتا لکھی نعت نبی ﷺ دے ناں دی

    ( شہباز ہادی )

    راشد ناز اور مظہر قدیم نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا
    بزمِ اوجِ ادب کے بانی و چیرمین مقبول ذکی مقبول نے کہا شرکاء کی شرکت نے محفل کو چار چاند لگا دئیے ہیں شعراء کرام نے جو نذرانہ عقیدت پیش کیا تو روح میں خوش گوار بہار آئی ہے بزمِ اوجِ ادب کے صدر عامر اقبال نے حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا اور اپنی بزمِ کے زیرِ اہتمام ایسے اور بھی پروگرام کرنے کی حامی بھری اِن شاءاللہ کوشش کریں گے آخر میں مہمانوں کی چائے اور مٹھائی سے تواضع کی گئی
               *

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • مقبول ذکی مقبول کی عمدہ شعری کاوش

    لفظی منظر کشی

    لفظی منظر کشی

    تحریر: جہاں آراء تبسم
    کوئٹہ

    مقبول ذکی مقبول کے فردیات کا مجموعہ ٫٫ یہ میرا بھکر ،، جو اِس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ کتاب میں سے چند اشعار پڑھتے ہی بڑا لطف آیا
    اور پھر ہم نے ان کے بھیجے ہوئے اشعار غور سے پڑھ کر ہم نے خود کو تھر کے صحرا میں پایا یہ مقبول ذکی مقبول کا حسنِ تخیل ہے کہ ہم نے ان کی شعری کی بدولت جیسے ایک خاص علاقے کی سیر کی وہاں کے لوگوں سے ملے ان کی فطرت سے اگاہ ہوئے ان کے لب و لہجے کا ذائقہ چکھا ۔

    نمایاں منفرد ہر جا ملے گا
    لب و لہجہ تجھے میرے بھکر کا

    وہاں ۔ کے رہنے والے خصوصاََ خواتین کے لباس سے لے کر ان کی آرائش و زیبائش سمیت ان کے انچل کے تقدس تک کا ذکر ملتا ہے
    جیسے کہ۔۔۔

    کوئی عورت نظر نہ آئے گی
    ننگے سر تجھ کو شہر بھکر میں

    پردہ داری عروج پر اپنے
    قصرِ زینب (ع) کا شہر پر سایہ

    مقبول ذکی مقبول کی عمدہ شعری کاوش

    تھل کے علاقے کی پیداوار سے لے کر وہاں کی سوغاتوں کا علم ہوا جانکاری کے اس پورے عمل میں کہیں بھی شعری غنائیت کی کمی کا احساس نہیں ہوا ہر شعر تمام تر فنی لوازمات کے ساتھ اپنے عنوان کی لاج نبھائے ہوا تھا ۔
    ملاحظہ کیجئیے نمونے کے طور پر چند اشعار

    پاکستان میں پہچاں میرے بھکر کی
    خربوزے مشہور ذکی ٫٫ منکیرہ ،،کے

    بھکر کی یہ سوغاتیں ہیں
    ٫٫ پلی ،، ڈڈے ،، اور ٫٫ ترا ڑا ،،

    تحفتاً پیش تجھ کو میں کرتا
    تیل کرنا کا میرے بھکر کا

    ریت کے ٹیلوں کا اثر شاید
    نرم دِل لوگ میرے بھکر کے

    پیار سے رہنے والے ہیں سارے
    امن ہے میرے شہر بھکر میں

    آ ، چنیں مل کے بیریوں کے بیر
    تھل میں جوبن پہ بیریاں ہیں آج

    منہ میں موجود آج بھی اپنے
    ذائقہ تھل کے ںیروں کا ذکی

    جن کو چلاکیاں نہیں آتی
    سیدھے سادھے وہ لوگ بھکر کے

    کیا تو بھکر میں آ کے دیکھے گا
    میرے بھکر میں صرف ٹیلے ہیں

    مقبول کے تمام اشعار میں اپنے دیس اپنے علاقے کی محبت رچی بسی ہوئی ملتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ سارا عمل بے اختیاری ہے وہ خود کو محبت کے اس والہانہ اظہار سے روک نہیں پارہے

    تیرے اشعار میں مقبول ذکی
    جھلکتی ہے محبت ہی بھکر کی

    مجھے اِس لئے جان سے بھی عزیز
    میری جان پہچان بھکر سے ہے

    بعض اشعار میں تو انہوں نے اسقدر لفظی منظر کشی کی ہے کہ جیسے تھل کی ریت نظروں کے سامنے اڑتی محسوس ہوتی ہے حیرت اس وقت انتہا تک جا پہنچتی ہے جب وہ اپنے اشعار میں وہاں کی منغی خصوصیات کو نہایت مثبت انداز میں خوبیوں میں بدل کر پیش کرتے ہیں
    جیسے کہ

    مانا گورے نہ ہوں گے لیکن
    دِل کے کالے نہ لوگ بھکر کے
    یا پھر۔۔۔
    میرے صحرا کی ایک خوبی ہے
    اِس میں کیچڑ کبھی نہیں ہوتی

    غرض یہ کہ مقبول ذکی مقبول نے اپنے اس خوبصورت فردیات کے مجموعہ کی شکل میں جیسے اپنے دیس کے پیار کا قرض چکا دیا ہو
    نیک خواہشات کے ساتھ

  • شذراتِ مقبول منظر عام پر آگئی

    شذراتِ مقبول منظر عام پر آگئی

    شذراتِ مقبول منظر عام پر آگئی

    شذراتِ مقبول منظر عام پر آگئی


    بھکر (نمائندہ خصوصی)معروف شاعر و ادیب مقبول ذکی مقبول کی کتاب شذراتِ مقبول مارکیٹ میں آگئی ہے معروف ادبی شخصیات اور ان کی کتب پر مضامین و تبصرے لکھے گئے ہیں تونسہ شریف ، لیہ ، بھکر اور دیگر شہروں سے قلم کاروں پر تحقیق و تنقید کی گئی ہے جن کی تعداد 28 ہے اور آخر میں ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2023ء بھی شاملِ کتاب ہے پروفیسر و ڈاکٹر صاحبان کی آراء جو کہ مقبول ذکی مقبول کے فن اور شخصیت کے حوالے سے شاملِ کتاب ہیں ۔یاد رہے یہ مقبول ذکی مقبول کی چھٹی کتاب ہے اس سے قبل پانچ کتابیں منصہء شہود پر آچکی ہیں علمی و ادبی حلقوں اور عوام میں پزیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ علاوہ ازیں کچھ اشاعتی سلسلے طباعت و اشاعت کے مراحل میں بھی ہیں۔

  • افسانہ “ٹریفک سگنل” کا فنی و فکری جائزہ

    افسانہ "ٹریفک سگنل” کا فنی و فکری جائزہ

    ملک نعمان حیدر حامی کا افسانہ "ٹریفک سگنل” کا فنی و فکری جائزہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    ملک نعمان حیدر حامی دور جدید کے منفرد سوچ کے حامل شاعر اور ادیب ہیں۔ آپ کا تعلق پنجاب کے ضلع بھکر سے ہے۔ آپ اپنے ضلع کی دھرتی کے پہلے کم عمر نوجوان طالب علم ادیب کا اعزاز رکھتے ہیں۔ آپ اس وقت شعبہ قانون یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں زیر تعلیم ہیں۔ آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو کئی ایوارڈ و اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ آپ بڑوں کے ادب کے ساتھ ساتھ ادب اطفال کے بھی لکھاری ہیں۔ آپ کی پہلی کتاب "جادوئی گیند” منظرعام پر آ چکی ہے۔ آپ بیک وقت افسانہ نگار، سٹوری رائٹر اور کالم نگار بھی ہیں۔ مزید برآں آپ کو پاکستان کے تقریباً ہر نیشنل لیول کے نیوز پیپرز میں لکھنے کا موقع مل چکا ہے۔ آپ بزمِ لوح و قلم انٹرنیشنل کے سی ای او بھی ہیں۔
    ملک نعمان حیدر حامی کی نئی تخلیق "ٹریفک سگنل” کے عنوان سے اردو افسانہ نگاری کی ایک بہترین کہانی کے طور پر کلاس روم کی ایک سیٹنگ کے گرد گھومتی ہے جہاں مس فروا اپنی طالبات کو ٹریفک سگنلز کے بارے میں سبق سکھاتی ہے۔ داستان اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ روزمرہ کی زندگی میں ٹریفک سگنلز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک پہیلی کے ذریعے موضوع کا تعارف کراتی ہے۔ یہ کہانی ٹریفک قوانین کے بارے میں تاریخی سیاق و سباق فراہم کرتی ہے، ٹریفک سگنلز اور ان کے رنگوں کے ارتقاء کی وضاحت کرتی ہے، نظمو ضبط کو برقرار رکھنے اور حادثات کو روکنے میں ان کے کردار پر زور دیتی ہے۔

    افسانہ “ٹریفک سگنل” کا فنی و فکری جائزہ
    ملک نعمان حیدر


    کہانی کا مرکزی موضوع ٹریفک سگنلز کی اہمیت ہے جو کہ نظم و ضبط، حفاظت اور سماجی تعاون کی علامت ہے۔ ٹریفک قوانین کی لفظی سمجھ سے بالاتر، بیانیہ زندگی کے وسیع تر اسباق، صبر، سمجھ اور زندگی کے سفر میں توقف کی ضرورت کی حوصلہ افزائی پر مشتمل ہے۔


    کہانی کلاس روم کے ڈھانچے کی پیروی کرتی ہے، جس میں مس فروا معلومات پہنچانے کے لیے تدریسی طریقے استعمال کرتی ہیں۔ مذہبی اور ثقافتی عناصر پر ابتدائی توجہ (سورہ کوثر اور نعت کی تلاوت) ٹریفک سگنلز پر بعد میں ہونے والی بحث کے ساتھ باریک بینی سے تعلق رکھتی ہے، جو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے باہمی ربط کو واضح کرتی ہے۔ ڈھانچہ بڑی خوبصورتی سے تعلیمی عناصر کو بیانیہ کو پیش کرتا ہے۔
    کہانی میں کئی ادبی آلات استعمال کیے گئے ہیں، جیسے کہ طلبہ کو مشغول کرنے اور سسپنس پیدا کرنے کے لیے ایک پہیلی کا استعمال وغیرہ، مزید برآں، ٹریفک سگنلز کی ترقی کے بارے میں تاریخی حقائق کو شامل کرنا بیانیہ میں گہرائی کا اضافہ کرتا ہے۔ مکالمے پر مبنی نقطہ نظر اور سوالات کا استعمال قارئین کی مصروفیت کو ابھارتا ہے، جس سے کہانی معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ انٹرایکٹو دونوں بنتی ہے۔
    کہانی میں ٹریفک سگنلز کے بارے میں بہترین معلومات لوگوں تک پہنچانے کے لیے کلاس روم کے منظر نامے کو استعمال کیا گیا ہے اور تعلیمی عناصر کو ایک خیالی ترتیب کے ساتھ مؤثر طریقے سے جوڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ تاریخی حقائق کا انضمام اور ٹریفک سگنلز میں رنگوں کے انتخاب کی وضاحت مصنف کی پیچیدہ تحقیق کو ظاہر کرتی ہے۔ بیانیہ باریک بینی سے زندگی کے اسباق کو سامنے لاتا ہے اور زندگی کے چیلنجوں کو نیویگیٹ کرنے میں صبر اور سمجھ کی اہمیت پر عکاسی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ ملک نعمان حیدر حامی کی کہانی "ٹریفک سگنل” نہ صرف ٹریفک قوانین کے بارے میں ایک سبق کے طور پر کام کرتا ہے بلکہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایسے وسیع موضوعات کو بھی شامل کرتا ہے جو روزمرہ کی زندگی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ کہانی ایک اچھی ساخت اور معلوماتی نقطہ نظر کے ذریعے قارئین کو مطالعے میں مشغول کرتی ہے جو اسے اردو کے مختصر افسانے کا ایک بصیرت بخش حصہ بناتی ہے۔