Tag: بھکر

  • مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مبصر : فقیر امداد حسین سرائی ، لیہ

    شعراءِ کرام کے بارے میں ایک معروف رائے قائم ہے کہ یہ معاشرے کے بہترین نباض ہوتے ہیں مغربی ادباء نے بھی اس بارے کافی شان دار آراء دی ہیں خوفِ طوالت کے کارن جنہیں قلم انداز کرتا ہوں تاریخ گواہ ہے کہ شعراء نے اپنے قلم کے علم سے کئی جابروں ، فرعونوں ، ظالموں ، فاسقوں ، لعینوں ، کو قلم کیا ہے حق و باطل کی جنگ تو ازل سے لےکر ابد تک جاری رہے گی مگر ِان شاء اللّٰہ ، نار کو نور مات دے کر رہتا ہے ۔ راقم آثم شاعر تو نہیں مگر شاعری کا انتہائی ذوق رکھتا ہے مگر طائرانہ جائزہ پیش خدمت ہے ۔
    سرائیکی ، پنجابی ، اُردو میں شاعری کرنے والے شاعر زوار مقبول حسین المعروف مقبول ذکی مقبول کی جو ضلع بھکر ، منکیرہ کے تاریخی قلعہ کے بالمُقابل ہی رہتے ہیں آپ کا پہلا اُردو شعری مجموعہ ٫٫ مُنتہائےِ فکر ،، جو 2020ء میں اُردو سُخن ڈاٹ ، آرٹ لینڈ چوک اعظم( لیہ) سے شائع ہوا ہے جس کے کل 200 صحفات ہیں جس کاانتساب شاعر نے اپنے والد گرامی اقبال حُسین مرحوم کے نام کیا ہے ۔اٹھارہ عمدہ اشعار کی صورت میں کیا گیا ہے ، شاعر ، مقبول اور ذکی جو دونوں ناموں کو تخلص کے طور پر اپنی شاعری میں برتتے ہیں ویسے تو کافی اشعار ہیں نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ فرمائے ۔

    ہو بڑھ کے اس سے اور کیا ذکی کے پاس مومنو
    نبیؐ کی آلؑ کی وِلا ہے بس یہی میری متاع

    روح یہ مقبول جب تک ھے جہاں میں رب گواہ ہے
    ذکرِ حیدرؑ سے اسے بھی تو ملے گی جگمگاہٹ

    اسی طرح چند اشعار مزید دیکھئے ۔

    پرچم بُلند تر ہے ہوگا نہ سرنگوں یہ
    کہنا یزیدیوں سے اسلام بچ گیا ہے

    نوکِ سنان پر بھی ذکرِ خدا ہے جاری
    دیکھا جہاں نے حق کا پیغام بچ گیا ہے

    مقبول ذکی مقبول کی ادبی پرواز

    مزید برآں آپ کی دیگر تصنیفات میں پہلا سرائیکی شعری مجموعہ ٫٫ سجدہ ،، ہے جو 21 مئی ،2017ء کو سابق اسطور پبلیشر نے ہی شائع کیا تھا مقبول ذکی نے جسے اپنے دادا غلام حسن مغفور کے نام منسوب کیا ہے ، اس کے کُل صحفات اس کے 172 ہیں ، اس نسخہء عظیمہ کی تمام سرائیکی رثائی ادب ، شاعری محمدؐ و آلٌِ محمدؑ کے فضائل و مصائب پر کی گئی ہے ۔
    مقبول ذکی نثر کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں حال ہی میں جون 2023ء کو ملک کے معروف قلم کاروں کے یادگار نایاب انٹرویوز پر مبنی کتاب ٫٫ سُہنرے لوگ ،،
    ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان لاہور سے چھپ چکی ہے جس کے کل صحفات 160، ہیں اس میں کل 27 ادباء، دانشواران کے نادر انٹرویوز ہیں ، جنہیں پڑھ کر قاری ورطہِ حیرت میں پڑ جاتا ہے، وہ اہم معلومات کا خزانہ ہیں ایک اور دوسری کتاب ٫٫ روشن چہرے ،، بھی جولائی 2023ء کو القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور نے شائع کی ہے ۔ اس کے صفحات 176 ہیں ۔ اور زیرِ طباعت
    مزید ٫٫ اعترافِ فن ،، ( تحقیق و تنقید)
    بھی اشاعت کے مراحل میں ہے گاہے بگاہے ملک کے رسائل و اخبارات میں آپ کی تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں آپ کی تاریخِ پیدائش یکم جنوری 1977ء ضلع لیہ کینال کالونی عید گاہ شہر کی ہے کیوں کہ آپ کے والد مغفور اقبال حسین کنال کالونی( لیہ) میں ملازمت کیا کرتے تھے ، آپ کی علم و ادب سے لگن کا جواب نہیں ہے راقم آثم بھی آپ کی علم و ادب سے بے پناہ وابستگی کو دل سے سراہتا ہے آپ کے کلام میں انتہائی فنی پختگی ، عمدہ منظر نگاری ، وارداتِ قلبی ، سادہ بیانی ، اور عقیدت مندی کی جھلک بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے جو مختصراً ان اشعار میں قارئین ملاحظہ فرمائیں ۔

    ہاتفِ غیبی سے آئی تھی صدائے مرحبا
    یاحُسینؑ ابنِ علیؑ کیا کیا ہیں تیرے معجزات

    یہ قلم بھی آپٌ کے لکھتا ہی رہتا ھے سلام
    رب نے مُجھ کو ہے نوازا کیا بھلا میری ذات

    ٫٫ مُنتہائے فکر ،، کتاب سے شعر اس کے عنوان کے متعلق ملاحظہ فرمائیں ۔

    مُنتہائے فکر میں تحریر کر مقبول آج
    ہے دیا کیسے یہ مولاٌ نے پیامِ کربلا

    زکی کو دنیائے تحقیق میں ٫٫ سنہرے لوگ ،، اور ٫٫ روشن چہرے ،، ہمیشہ زندہ اور روشن رکھیں گے ۔ ان شاء اللّٰہ

    فقیر امداد حسین سرائی

    فقیر امداد حسین سرائی

     لیہ

  • منتہائے فکر ، عشقِ کرب و بلا

    منتہائے فکر ، عشقِ کرب و بلا

    منتہائے فکر ، عشقِ کرب و بلا

    مضمون نگار : محمد ساجد (شاعر ، ادیب)
    ساجد سٹریٹ کاہنہ نو ، لاہور
    03249435894

    مقبول ذکی مقبول نے اپنی شعری تصنیف ٫٫ منتہائے فکر ،، مطالعہ کے لئے عنایت کرتے ہوئے اس بات کا تقاضا کیا تھا کہ اس کتاب پر آپ نے حرفِ محبت تحریر کرنا ہیں ۔ سو ، مطالعہ کر چکا ہوں تو وعدے نے آگھیرا ہے ۔ اس مطالعاتی عمل کے دوران ٫٫ منتہائے فکر ،، کے جس زاؤیے نے جکڑے رکھا اس کا نام ٫٫ عشقِ کرب و بلا ،، ہے ۔
    مقبول ذکی مقبول کا شعری سفر ٫٫ کرب و بلا ،، کا استعارہ ہے ۔ یہ ایک ایسا تخلیقی استعارہ ہے کائنات کا تصوراتی نظام روحانی لحاظ سے اسی استعارہ کے گرد گھومتا ہے ۔ عاشق و مستی کی اس عجب داستان کا سفر عشق سے شروع ہوتا اور شہادت پر ختم ہوتا ہے ۔ مگر اس کا اختتام ہی اس کا نقطہءِ آغاز ہے ۔ اس کائناتی ردھم میں سرخ خون کی ایک ایسی لکیر ہے جس نے حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل کھینچ دی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول نے حق و باطل کے اس معرکے کو جابجا اپنی شاعری کا جزوِ لازم بنایا ہے ۔ چند اشعار دیکھئے ۔

    عالم کے ہر طرف ہیں شہادت کے سب ایاغ
    ابنِ علی (ع) کے راہ میں روشن ہیں سب چراغ

    جبر و ستم کے سامنے حق کی صدا ہے یہ
    کرتی رہے گی چہرہءِ باطل کو داغ داغ

    حق و باطل کی اساس کرب و بلا کے دشت کی میراث ہے ۔ جس میں ایک آفاقی اور روحانی رنگ موجود ہے ۔ جس سے نکلنے والی سرخ شعاعیں عشاق پر ایک عجب وجد طاری کر دیتی ہیں ۔ اس کیفیت کو مقبول ذکی مقبول نے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے ۔

    سلام تجھ پر حسین ؑ مولا
    لگا ہے کہنے جہان سارا

    سلام تجھ پر وفا کے پیکر
    وفا ہے بولی عباسؑ اعلیٰ

    سلام تجھ پر گلاب چہرہ
    سنان سینے جہان رویا

    مقبول ذکی مقبول مدحتِ شاہ حسین علیہ السّلام و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میں روز و شب سراپا سپاس رہتا ہے ۔ اس کی نظم و غزل ہر دواصناف میں مشقِ سخن محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی عقیدت و محبت میں وا ہوتی ہے ۔ مدحتِ شاہِ دوسراء حصہ ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ ذریعہ نجات بھی ہے ۔ یہ وہ انمول خزانہ ہے جس کا کوئی مول نہیں ہے ۔ اس ضمن میں اس کے درج ذیل اشعار دیکھئے ۔

    خونِ اطہر سے نبیﷺ کا دین پختہ ہو گیا
    بعد قربانی کے دینِ حق مکمل یوں ہوا

    فکر کے رستے ملیں گے مرتضیٰ ؑ کے لعل ؑ سے
    جادہءِ حق پہ رہے گا ہر عمل ان کا سدا

    منتہائے فکر ، عشقِ کرب و بلا

    مقبول ذکی مقبول کی شاعری ٫٫ عشقِ کرب و بلا ،، سے مزین ہے ان کا ہر شعر پختہ و عمیق ہے ۔ مطالعہ تاریخِ اسلام و تہذیب و تمدن وسیع ہے ۔ جس کا برملا اظہار ان کے اشعار سے ہوتا ہے ۔ عقیدت و مودت بھی مثالی ہے ۔ یہ سب ان پر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا بے پایاں فضل ہے ۔

     محمد ساجد (شاعر ، ادیب)
    ساجد سٹریٹ کاہنہ نو ، لاہور
    03249435894

  • منکیرہ بھکر میں جشن میلاد النبی ﷺ

    منکیرہ بھکر میں جشن میلاد النبی ﷺ

    منکیرہ بھکر میں جشن میلاد النبی ﷺ

    منکیرہ بھکر میں جشن میلاد النبی ﷺ و محفل سیرت و نعت


    منکیرہ / میں گزشتہ رات میلاد النبی ﷺ منایا گیا


    منکیرہ (نمائندہ خصوصی) عاشقانِ رسول ﷺ نے جشنِ ولادت باسعادت عقیدت و احترام سے منایا معروف مقررین نے خطاب کیا ذاکر بشر حسین سالک ، مولانا زوار مختار حسین طاری ، شاہد عارف ، مقبول ذکی مقبول اور دیگر نے خطاب کیا اس پر مسرت موقع پر سب کے چہرے کھلے ہوئے تھے ذاکر بشر حسین سالک ،( جھنگ ) نے نعت خوانی کی مدرسہ دارالقرآن امام جعفر صادق علیہ السّلام کے پرنسپل مولانا زوار مختار حسین طاری نے رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی حیاتِ مبارکہ پر روشنی ڈالی ذاکر شاہد عارف ، (جھنگ )نے معروف نعتیں خوبصورت ترنم کے ساتھ پیش کیں۔ معروف شاعر و ادیب اور بزمِ اوجِ ادب بھکر کے بانی و چیئرمین مقبول ذکی مقبول نے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت باسعادت کے حوالے سے شاندار نظم پیش کی جس میں علمی و ادبی مضامین کے ساتھ ساتھ فلسفہ بھی پایا گیا حاضرینِ محفل نے خوب سراہا اور دیگر مقررین نے بھرپور انداز میں رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور امام جعفر صادق علیہ السّلام کی حیاتِ مبارکہ میں اظہارِ محبت بیان کیا۔

    منکیرہ بھکر میں جشن میلاد النبی ﷺ

    یہ محفل امام بارگاہ قمرِ بنی ہاشم (تھلہ امام حسین علیہ السّلام) نزد نیشنل بنک منکیرہ منعقد ہوئی ۔میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور امام جعفر صادق علیہ السّلام جوش و خروش سے منایا گیا اہلِ علاقہ نے بھرپور شرکت کی زیرِ اہتمام میلاد کمیٹی محبانِ اہلِ بیت علیہ السّلام کا یہ سالانہ میلاد مبارک بڑی شان و شوکت کے ساتھ اپنے وقت پر ختم ہوا میلاد کمیٹی کے نوجوانوں نے آخر میں مٹھائی تقسیم کی اس روحانی و خوب صورت محفل منعقد کرنے پر مبارک باد کے مستحق ہیں

  • امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن

    امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن

    امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    امان اللّٰہ کاظم کا نامِ نامی کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ لیکن نئے قارئین کے لئے آپ بے بہا قابلیت اور شخصیت پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ امان اللّٰہ کاظم پیشہ ورانہ طور پر معلم ہیں تونسہ شریف کے رہنے والے ہیں ۔ آپ کا ٹرانسفر ضلع لیہ میں ہو گیا ۔ اس لئے آپ لیہ کے ہی ہو کر رہ گئے
    اب مستقل طور پر لیہ میں مقیم ہیں ۔ آپ اردو ، سرائیکی دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں دونوں زبانوں پر آپ کو پوری دسترس ہے ۔ آپ چار پشتوں سے علم و ادب کی خدمت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ علم و ادب آپ کو ورثے میں ملا ہے ۔

    امان اللّٰہ کاظم ایک نایاب گوہرِ سخن
    استاد الشعراء سئیں امان اللّٰہ کاظم

    1995 ء میں آپ اپنے عہدہ معلمی سے ریٹائر ہوئے پھر آپ نے اپنے آپ کو ادب کی خدمت کے لئے وقف کر دیا ۔ امان اللّٰہ کاظم انتہائی خلیق ، شفیق اور محبت کرنے والے شخص ہیں اور ہر نئے ملنے والے کو پہلی ملاقات میں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ۔ آپ کی بہت سی کتابیں چھپ کر منظرِ عام پر آ چکی ہیں اور ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کر چکی ہیں ۔ مثلاً اردو انہوں روایت سے ہٹ کر اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔ان کے نام اور مقام کا ہر سطح اور فورم پر اعتراف کیا گیا ہے۔انہوں نے معروف ناولوں اور دیگر عنوانات پر اپنے انداز میں کام کیا ہے

    شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
    ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جاۓ

    مجموعہ کلام،، قندیلِ دل،،
    سرائیکی مجموعہ کلام ٫٫پپلیں ہنجھ نہ ماوے ،،
    کٹن بر ٫٫ سرائیکی اکھان،،
    اردو شرح فنِ شاعری ٫٫ آؤ شاعری سیکھیں ،،
    ٫٫رستہ رستہ اوجھڑ ،، سرائیکی مجموعہ کلام
    پیکرِ جلال و جمال ٫٫ ٹیپو سلطان ،، فاتح اندلس ٫٫
    طارق بن زیاد ،، کم سِن فاتح ٫٫ محمد بن قاسم ،،
    ابو سلمان سیف اللّٰہ ٫٫ حضرت خالد بن ولید ،،
    بطل حریت ٫٫ سلطان صلاح الدین ایوبی ،،
    منگولیا کا دجال ٫٫ چنگیز خان ،، ہلاکوخان ٫٫ خونخوار بھڑیا ،،
    خونابِ خم ٫٫ شرح دیوان مومن خان مومن ،،
    ماء الحسیات ٫٫ شرح دیوان خواجہ میر درد ،،
    تلخابہِ ء شیریں ٫٫
    شرح دیوان ساغر صدیقی ،،
    شرح ضربِ کلیم ٫٫ کلام اقبال ،،
    شرح بانگِ درا ٫٫ کلام اقبال ،،
    شرح بالِ جبریل ٫٫ کلام اقبال ،،
    شرح ارمغانِ حجاز ٫٫ کلام اقبال ،، وغیرہ وغیرہ ۔

    maqbool
    بھکر/ معروف استاد الشعراء سئیں امان اللّٰہ کاظم ( لیہ) کو مقبول ذکی مقبول اپنی کتاب سنہرے لوگ پیش کرتے ہوئے

    میرا آج کا موضوعِ بحث جناب امان اللّٰہ کاظم صاحب کا اردو مجموعہ کلام ٫٫ قندیلِ دل ،، ہے جو دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے ۔ زیرِ نظر کتاب میں نظمیں ، غزلیں ، قطعات اور بیت شامل ہیں ۔ آپ کی نظمیں انتہائی خوبصورت اور عقیدتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں ۔ جن میں اللّٰہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے مودت بزرگوں سے عقیدت اور وطن عزیز سے محبت کی روشن دلیل ہیں ۔ چند نظموں کے علاوہ آپ کی تمام شاعری پرائمری سے میٹرک تک کے زمانے کی ہے ۔ آپ انقلابی اور لطیف جذبوں کے شاعر ہیں اور معاشرے کی محرومیوں کو قریب سے محسوس کرتے ہیں ۔ ادب کے اندر اپنی منفرد شان جان اور پہچان رکھتے ہیں ۔ راہ رومنزل ہی نہیں سالار ِ قافلہ ء ادب ہیں ۔ان کو شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب کو بہت کچھ دیا۔ یہ بجا طور پر کہ سکتے ہیں کہ

    ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

    امان اللّٰہ کاظم کا ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیں

    ضمیر زندہ تو پھر گناہ و ثواب کی ہے تمیز باقی
    سوال کا ہے شعور باقی جواب کی ہے تمیز باقی
    ضمیر مردہ ، اور آدمیت کی روح مردہ
    نہ احترامِ خدا نہ ام الکتاب کی ہے تمیز باقی

    صنفِ سخن ہائیکو جاپان کی ایجاد ہے جسے صوفیاء کرام نے خوب سراہا ہے اور اِسے بیت کا بھی نام دیا ہے ۔ سندھی زبان کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اِس صنف پر بہت زیادہ طبع آزمائی کی ہے اور جب سرائیکی شعراء نے اِس پر طبع آزمائی کی تو اِسے سرائیکو کا نام دیا ۔
    اڈھائی سے تین سطور پر یہ معصوم صنف اپنے اندر بڑی سے بڑی بات اور بڑا لطف رکھتی ہے ۔ امان اللّٰہ کاظم اِسے بیت کا نام دیا ہے اور اپنے خوبصورت خیالات کا اظہار شان دار انداز میں کیا ہے ۔
    ایک بیت ملاحظہ ہو
    زاغ زغن سب کھائیں ہیں ماس مگر مردار
    پاکیزہ ماحول کا اِن پر ہے آدھار
    رب کا شکر گزار ، جس کی یہ مخلوق ہے

    امان اللّٰہ کاظم نے غزل کے معیار کو اِس قدر ملحوظِ خاطر رکھا ہے کہ غزل کی روح کو زخمی نہیں ہونے دیا ۔ غزل کی خوشبو قاری کے دل و دماغ میں اتر کر اس کے دل و دماغ کو معطر کر دیتی ہے ۔ آخر میں امان اللّٰہ کاظم کی اِس غزل کے ساتھ قارئین سے اجازت چاہوں گا

    غزل

    ساقی اٹھا لے جام طبیعت اداس ہے
    رہنے دے تشنہ کام طبیعت اداس ہے

    میں اژدرِ خلوص گزیدہ ہوں دوستو
    ہوں خوں چکیدہ جام طبیعت اداس ہے

    ان کو گماں کہ تیرِ نظر کارگر ہوا
    اپنا خیال خام طبیعت اداس ہے

    چھیڑو کہ جھنجھنا اٹھیں تارِ ربابِ دل
    ٹوٹے سکوتِ شام طبیعت اداس ہے

    ناصح اِک شب مری بے کیف کٹ گئی
    جا وقت کے غلام طبیعت اداس ہے

    شاید طلسمِ رنگ و بو اب ٹوٹنے کو ہے
    لب پر ہے تیرا نام طبیعت اداس ہے

    دوگام چل سکے نہ کاظم خطا معاف
    یارانِ تیز گام طبیعت اداس ہے

  • صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

    تحریر : مقبول ذکی مقبول                                بھکر پنجاب پاکستان

                                                    معاشرے میں رہن سہن کے لیے انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا ۔ اسی لیے انسانوں کے ساتھ رہنے کا نظام بنایا گیا ہے جو صدیوں سے رائج ہے ۔ اس نظام کو خاندان یا گھرانہ کہا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ خاندان کا آغاز و ارتقاء ایک ایسا مسلسل عمل ہے جس میں ہر فرد دوسرے کا سہارا بن جاتا ہے ۔ خاندان ایک ایسا ادارہ ہے جو انسانی رویے اور طرز عمل کی تشکیل کرتا ہے ۔ خاندان ہی وہ ادارہ ہے ۔ جس کے ذریعے معاشرتی تربیت ہوتی ہے اور خاندان ہی وہ ادارہ ہے جو فرد کو اپنے فرائض کا احساس دلاتا اور اسے فرق مراتب کا شعور بخشتا ہے اگر خاندان کا استحکام ختم ہوجائے تو انسانی طرز عمل معاشرتی فرائض کا شعور اور افراد معاشرہ کے مراتب کا تعین سب کچھ ختم ہوجائے ۔

    صابر جاذب کی شاعری کا فکری جائزہ

                                                    صابر جاذب ایسے ہی مستحکم علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے پردادا احمد بخش بستی عظیم تحصیل کروڑ (لیہ) سے تعلق رکھتے تھے ۔ جو اپنے وقت کے بڑے فن کار تھے ۔ جن کی سریلی آواز اور جگت بازی کی وجہ سے انھیں دعوتوں پر خصوصی طور پر بلایا جاتا تھا ۔ صابر جاذب کے دادا امیر محمد بھٹی باقائدہ شاعر تو نہیں تھے مگر شاعری کا ذوق رکھتے تھے ۔ موقع کی مناسبت سے فی البدیہہ اشعار سنا دیتے تھے ۔ لیکن صابر جاذب کے والد گرامی شعیب جاذب ایک کہنہ مشق اور پختہ شاعر تھے ۔ وہ اتنا پختہ کار شاعر تھے کہ غیر منقوط ، فوق النقاط اور تحت النقاط جیسی مشکل ترین اصناف میں شعری مجموعے منصہ شہود پر لے آئے ۔ حالیہ کویت اور دیگر ممالک پر مشتمل ایک انٹر نیشنل بزم نے انھیں فوق النقاط اور تحت النقاط جیسی اصناف کا بانی قرار دیا ہے ۔ ان کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کہ آئندہ جہاں پر بھی ان صنفوں پر کام کیا جائے گا تو بانی شعیب جاذب کا حوالہ لازمی دیا جائے گا ۔

                                                    صابر جاذب کا اصل نام صابر حسین اور قلمی نام صابر جاذب ہے جو ۱۵ فروری ۱۹۷۵ء کو لیہ شہر میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ایم سی پرائمری سکول نمبر۲ سے حاصل کی ۔ انھوں نے میڑک کا امتحان گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول لیہ ۔ ایف ایس سی ، بی ۔ اے گورنمنٹ کالج لیہ سے پاس کیا ۔ بی ۔ ایڈ ور ایم ۔ اے کا امتحان بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے پاس کرنے کے بعد ۲۰۰۲ء میں ہی محکمہ تعلیم میں بہ طور مدرس بھرتی ہوگئے ۔ تال حال وہ بہ طور ہیڈ ٹیچر ملازمت سے وابستہ ہیں ۔ بہ طور مدرس ان کو دیکھا جائے تو پچھلے سال ۲۰۲۲ء میں انھیں محکمہ تعلیم کی جانب سے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ۔

                                                    صابر جاذب کی شاعری میں نعتیہ رنگ ملاحظہ کیا جائے تو ذکر رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نعت اور سیرت کی صورت میں دنیا کی تقریباََ ہر زبان میں ہوتا رہا ، ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا ۔ یہ روح پرور سلسبیل ہے جو لمحۂ اول فرشتوں اور خود ذاتِ باری تعالیٰ کے وردِ زبان ہے ۔ ان گنت زمانے بیت گئے اُدھر لبیک الٰھُمّ لبیک کی اعترافی صدائیں بندِگان خدا کا حرزِ جاں ہیں ۔ صابر جاذب کی نعوت عقیدتوں کے موتی پروتی ہیں اور قلم ہے کہ بے قرار ہو کر صفحہ قرطاس پر پھول کھلاتا نظر آتا ہے ۔ ان کی نعت رسول کریمؐ سے محبت کے اظہار کا خوبصورت پیرایہ ہے ۔ اس لیے وہ لکھتے ہیں ۔

    نبیؐ کے چشمۂ رحمت نے دھو دیا صابرؔ
    بہت پڑی تھی گناہوں کی دھول آنکھوں میں

                                                    صابر جاذب کی شاعری ایک معتبر حوالہ رکھتی ہے ۔ ان کا شاعرانہ انداز اور لب ولہجہ اپنے ہم عصر شعرا ء سے منفرد نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری میں مزاحمتی و احتجاجی انداز کا اپنا رنگ ہے ۔ وہ مزاحمت کو طنز کے زہر میں ڈبو کر جب وہ پیش کرتے ہیں تو انسان تڑپ اٹھتا ہے ۔ ان کی شاعری دو بنیادی جذبوں ، رویوں اور تیوروں سے مل کر تیار ہوتی ہے وہ احتجاج مزاحمت اور رومان ہیں ۔ ان کی شاعری سے ایک رومانی ، ایک نوکلاسیکی ، ایک جدید اور ایک باغی شاعر کی تصویر بنتی ہے ۔

                                                    صابر جاذب ایسے معاشرے میں رہنے والا فرد ہے جس میں ظلم و زیادتی ، معاشرتی ناہمواریوں غربت و افلاس اور تنگی کا بازار گرم رہتا ہے ۔ اس معاشرے کا فرد ہوتے ہوئے زندگی کے ناگوار حقیقتوں درد مند دلوں ، جبر و ظلم ، معاشرتی ناہمواریوں نے ان کو انقلابی شاعر بنایا دیا ہے ۔ ان کا ایک انداز ملاحظہ کریں ۔

    ڈھونڈ کر ہر ایک خود سر دار پر لایا گیا
    ٹانک ڈالے دار پر شوریدہ سر جتنے بھی تھے

                                                    صابر جاذب کے کلام میں درد مندی کا عنصر بہت عیاں ہے ۔ وہ جس دور میں سانس لے رہا وہ نہایت ابتری کا دور ہے انسانی زندگی کی اقدار پامال ہو چکی ہیں ۔ انسانی خون ارزاں ہو چکا ہے ۔ اقتصادی ناہمواری نے لوگوں کو بد حال کر رکھا ہے ۔ ہر طرف ظلمت کا راج ہے ۔ تباہ حال معاشرہ میں ہمہ گیر انسانی تباہی نے ہر سوچنے والے کو متاثر کیا ہے تو ایسے میں ایک حساس اور باشعور شاعر کیسے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا ہے ۔ سماج میں موجود بے ترتیبی صابر جاذب کے شعری وژن کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ پاتی ۔ زندگی سماج کے اندر ایک سیال حالت میں رہتی ہے ۔  سماج اور زندگی کا خالص تصور دو الگ الگ حالتیں بن جاتے ہیں ۔ سماج زندگی کو اپنی ہیئت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ سماج کے پاس طاقت ہے ، زندگی خالص جذبوں کا بیرونی لبادہ کب تک اوڑھے رکھے ، اُسے سماج کی طاقت کے ہاتھوں شکست مل جاتی ہے ۔ صابر جاذب اس شکست ناروا کے حامی نہیں ۔ وہ اس شکست میں سماج کے غیر مرئی اور غیر متعین ہاتھوں کی نشان دہی کرتے ہیں ۔اس لیے وہ برملا کہتا ہے ۔

    دولت کی ہوس میں ہوئے ناموس گریزاں
    کب سے سرِ سردار پہ دستار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کی شاعری میں فلسفہ زندگی کا پہلو بھی نمایاں ہے فلسفہ زندگی تقریباً ہر بڑے شاعر کے ہاں یہ مضمون پایا جاتا ہے جس میں ہر ایک شاعر نے زندگی کے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ کوئی شاعر زندگی کو مخص ایک لمحہ قرار دیتا ہے کوئی کہتا ہے کہ زندگی مسلسل غم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ایک شاعر جس انداز سے زندگی دیکھتا ہے ممکن ہے ایک عام آدمی کا انداز نظر وہ نہ ہو ، چند قدریں تمام انسانوں کی زندگی میں یکساں ہوتی ہیں جو فطری ہوتی ہیں جن میں غم ، دکھ ، خوشی وغیرہ ۔ ایک شاعر کے ہاں قدرتی بصارت ہوتی ہے جو کائنات میں چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتی ہے شاعر کائنات کی باریکیوں کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے ۔صابر جاذب کا فلسفیانہ رنگ دیکھیں ۔

    وقت کی سازش سہی خون کی بارش سہی
    کون ہوگا سرخرو ایک میں ہوں ایک تو

                                                    صابر جاذب نے غربت ، بے روزگاری عدم استحکام ، انسانی بے توقیری ، انسانی استحصال اور ان جیسے دیگر مسائل کو بہترین انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ انھوں نے چابک دستی سے معاشرے کو در پیش تمام تر مسائل کو خوبصورت الفاظ کے پیکر میں اپنے قاری تک پہنچا کر اپنا فرض بھی ادا کیا اس بات کا اظہار وہ کچھ اس طرح سے کرتے ہیں ۔

    حالات کا سورج تو سرِ بام ہے تاباں
    سستائیں کہاں سایۂ دیوار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کو شعرو ادب سے لگاؤ تو بچپن سے تھا مگر کالج علمی و ادبی ماحول نے اس کو مزید حسن آفریں بنایا ۔اُن کے ادبی ذوق کی تشکیل و تعمیر میں جہاں پر کلاسیکی شعریات کا اہم حصّہ ہے ۔وہیں پر رومانوی رحجان کے اثرات بھی شدت سے پائے جاتے ہیں ۔ بلکہ اُن کے رومانی مزاج پر کلاسیکیت کی سخت گیری بے اثر ثابت ہوئی ۔

    کیسے تیروں کے احاطے سے نکل کر جاؤں
    کھا گئے ہیں ترے ابرو کے تناؤ مجھ کو

                                                    صابر جاذب کے ہاں غم جاناں کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنا غم دوراں کو دی گئی ہے ۔ وہ حسن وعشق کی بجائے بھوک افلاس کو بیان کرتے ہیں ۔ فکری اور جذباتی اضطراب بھی ہے نمایاں ہے ۔ ان کے ہاں غربت و افلاس کا نوحہ اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ بسا اوقات ان کے لیجے سے کڑواہٹ جھلکتی ہے ۔ ان کے قریب غربت انسان کا بڑادکھ ہے جو اکثر زندگی کو بھی کھا جاتا ہے ۔ صابر جاذب کی شاعری میں احساس محرومی کے اعلیٰ درجے پردکھائی دیتی ہے ۔

    کشت غربت میں بہت ٹوٹ کے بادل برسا
    سیمگوں کھیت میں پھر درد ہیں پھلنے والے

                                                    انسانیت کا سب سے بڑا المیہ طبقاتی امتیاز ہے ۔صرف شجرنسب ، خاندان اور دولت کی بنیاد پر انسانوں کو چھوٹے اور بڑے کی اکائی میں تقسیم کرنا، انسانیت کے منافی ہے ۔ ادب زندگی کا عکاس ہوا کرتا ہے ۔ سو سماج اور سماجی اقدار کا پورا عکس کسی نہ کسی طور سے ادب کا موضوع بن جایا کرتے ہیں ۔ معاشرے میں بسنے والے افراد فکری اور نظری طور پر مختلف خیالات کے حامل ہوا کرتے ہیں ۔ ادب نہ صرف ان خیالات کا احاطہ کرتا ہے بل کہ ان نظریات کے اظہار و ترویج میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔ صابر جاذب طبقاتی امیتاز کو یوں پیش کرتے ہیں ۔

    اس بات پر نظروں سے گرایا گیا صابرؔ
    نوکر نہںں، کوٹھی نہیں، کار نہیں ہے

                                                    صابر جاذب کی شاعری ایسی شاعری ہے جس میں زندگی صرف لذت کا نام نہیں بلکہ زندگی تلخیوں اور رکاوٹوں کا دوسرا نام ہے ۔ جس سے انسان مختلف تکالیف اور مشکلات کا ایک ایسا بھنور ہوتا ہے جس سے نکلنا کس قدر مشکل اور گراں کام سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے احساس نے اپنے کرب کے ساتھ دوسروں کے کرب اور اپنی الجھنوں کے ساتھ دوسروں کی الجھنوں کو بھی دیکھا ۔ جاذب کے ہاں اس کی انفرادی اور اچھوتا بیان ملتا ہے ۔

    آ ہی نکلے کوئی شاید مجھے پرسہ دینے
    صفِ ماتم ہوں درِ دل پہ بچھاؤ مجھ کو

                                                    صابر جاذب کے خیال میں پاکستانی معاشرے میں فرد سیاسی سماجی سطح پر حکمرانوں ، سماجی ٹھیکداروں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے ۔ بے بسیوں ، بے کسیوں اور مجبوریوں کی تاریک رات ہے کہ کٹنے کا نام نہیں لیتی ۔ نتیجتاً فرد کا اپنی ذات سے اعتبار و اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ اپنی انفردیت اور اعتماد ذات سے محروم ہو چکا ہے ۔ ایسے میں فرد سماجی معاملات سے بے گانہ ہو جاتا ہے اور ابن الوقتی کا رویہ جنم لیتاہے ۔ یہی رویہ آج ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے ۔ معاشرے کے کرب زدہ ماحول کو صابر جاذب کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہیں ۔

    اپنوں میں بھی اب جذبۂ ایثار نہیں ہے
    یہ غم ہے میرا کوئی غم خوار نہیں ہے

                                                    شاعری میں محبوب کے حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے ۔ غزل چونکہ معاملات مہر و محبت اور واردات عشق و عاشقی کی داستان ہے شعراء حضرات ہمیشہ سے حسن فطرت کے ساتھ ساتھ اپنے مجازی محبوب کی تعریف میں رطب اللسان رہے ہیں ۔شعراء نے واقعیت اور تخیل کی مدد سے اپنے محبوب کے حسن کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کی ہے ان کے اشعار سے محبوب کی ایک خوبصورت تصویریں بنتی ہیں ۔ شعراء کے لئے محبوب کے مکھ میں سب سے زیادہ دلکشی ہے یہ مکھ حسن کا دریا ہے ۔ اس کی جھلک سے آفتاب شرمندہ و بے تاب ہے ۔اس کے بعد درجہ بدرجہ آنکھ ، اور اب ، خال اور قد غرض سراپائے جسم کی تعریف و توصیف بہت عمدہ پیرائے میں بیان کی جاتی ہے ۔ صابر جاذب کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے محبوب کی تعریف انفرادی انداز میں کی ہے ۔ ان کا انداز ملاحظہ کریں ۔

    حُسن اپنی سادگی سے آپ شرماتا رہا
    آئینے کو کیوں پسینہ مفت میں آتا رہا

                                                    صابر جاذب کا پیغام امن ، ترقی ، خوشحالی ، محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے ۔ ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان نسل قوم کا مستقبل ہے ، اگر یہ نسل تعلیم یافتہ ، باصلاحیت ، مہذب اور روشن دماغ ہوگی تو قوم کا مستقبل تابناک ہوگا بصورتِ دیگر قوم اندھیروں میں بھٹکتی رہے گی ۔ گویا قوم کا مستقبل نسلِ نو کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ان کی آرزو ہے کہ نوجوانوں کے اندر احساس اور قوم کا درد پیدا ہو ۔ اس لیے وہ کہتے ہیں ۔

    کبھی کا ہوگیا جل بجھ کے راکھ پروانہ
    اب اس کا دیپ کے نیزے پہ سر تلاش نہ کر

                                                    صابر جاذب ایک ایسے شاعر کا نام ہے جو اپنی خوب صورت شاعری اور تنقیدی نگاری کی وجہ سے سوشل میڈیا کے بین الاقومی تنقیدی گروپس میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان کی شاعری احساسات و جذبات اور تہذیب کے بکھراؤ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کشمکش اور دکھ کی امین ہے ، ان کا لہجہ ، ان کا اسلوب ، ان کا طرز ، ان کی فکر ، ان کا شعور ، اور ان کا تخیل ، صرف ہم عصروں میں سب سے انوکھا اور دل پزیر ہے ۔ ان کا جدت بھرا انداز ملاحظہ کریں ۔

    صحن میں جس نے اُگائے ہیں شجر شیشوں کے
    اس کی نسلیں بھی تو کھائیں گی ثمر شیشوں کے

                                                    المختصر صابر جاذب بنیادی طور پر ایک دردمند رومانی شاعر ہیں ۔ جذبوں کی شدت اور صداقت ، لہجے کی قوت اور تاثیر ، حسن و رومان کی فراوانی ، انقلاب اور شباب کا پر زور احوال ان کی شاعری کے امتیازی اوصاف سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کے اسلوب میں ندرت ، شگفتگی ، منظر نگاری اور محبت کے جذبات کی فراوانی قاری کو مسحور کر دیتی ہے ۔ زبان و بیان پر ان کی دسترس کا ایک عالم معترف ہے ۔ ان کی شاعری میں صنائع بدائع کا حسن دھنک رنگ منظر نامہ پیش کرتا ہے ۔ حالات و واقعات کا لفظوں میں نقشہ کھینچ کر رکھ دینا ان کا خاصہ ہے ۔ اپنی شاعری سے انھوں نے اردو ادب کی ثروت میں جو اضافہ کیا وہ تاریخِ ادب کا ایک اہم باب ہے ۔

  • روشن چہرے! انٹرویوز پر مشتمل ایک دلنشیں کتاب

    روشن چہرے! انٹرویوز پر مشتمل ایک دلنشیں کتاب

    روشن چہرے! انٹرویوز پر مشتمل ایک دلنشیں کتاب

    تحریر :ڈاکٹر صائمہ یاسمین سرگودھا

    محترم مقبول ذکی مقبول پاکستان کے ایک خوبصورت ضلع بھکر کی تحصیل منکیرہ کے ایک معتبر شاعر و ادیب ہیں ۔ ادبی میدان کو انہوں نے بہت کم عرصے میں اپنی شاندار اور معیاری کتب سے سجا کر مشاہیرِ علم وادب سے دادو تحسین حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔۔ ان کی شاٸع شدہ دونوں ادبی تخلیقات نے انہیں ادب میں ایک اہم مقام سے سرفراز کرکے ان کے اندر مزید ادبی کارنامے انجام دینے کا حوصلہ پیدا کیا ہے ۔

    روشن چہرے! انٹرویوز پر مشتمل ایک دلنشیں کتاب


    یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ اب وہ مشاہیرِ شعر و سخن کےانٹرویوز پر مشتمل ایک اہم کتاب بعنوان "روشن چہرے "منظرِ عام پر لانے میں کامیاب و کامران ہوۓ ہیں جب کہ قبل ازیں” سجدہ ” ، منتہاۓ فکر” اور سنہرے لوگ” جیسی خوب صورت کتب منظر ِ عام پر لا کر اپنی ادبی حیثیت منوا چکے ہیں جب کہ روشن چہرے اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔۔۔ پاکستان بھر سے اہم علمی و ادبی معتبر شخصیات کے یہ انٹرویوز انہوں نے وقتاً فوقتاً کر کے اپنے اخلاص کا واضح ثبوت دیا ہے اس سلسلے میں انہوں نے جس زبردست محنت ،حوصلہ اور جہدِ مسلسل سےعملی مظاہرہ کیا ہے اسے کسی حال میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ ایک نہایت کٹھن اور دقت طلب کام تھا مگر وہ کسی مشکل کو خاطر میں نہ لا کر جس خوبی کے ساتھ اس مرحلے سے بآسانی گزرے ہیں وہ ان کا کمال ہے ۔۔۔۔۔۔اس کتاب میں علم و ادب سے منسلک جن بڑی بڑی شخصیات کے انٹر ویوز شاملِ اشاعت ہیں ان میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ۔ ڈاکٹر مختار ظفر۔ بشیر احمد بیتاب ۔ ریاض ندیم نیازی ۔ تسنیم تصدق اور ڈاکٹر مقصود احمد عاجز جیسے عظیم لوگ سرِ فہرست ہیں ۔۔۔۔انہوں نے جس خوش اسلوبی کے ساتھ یہ انٹرویوز کٸے ہیں اور پھر انہیں نہایت احسن انداز کے ساتھ صفحات و قرطاس کی زینت بنایا ہے اس عملِ خیر سے ان کے اس خوشنما فن کا نکھار کھل کر نظروں کےسامنے آگیا ہے ۔ امید ہے یہ خوبصورت اور پُر تاثیرکتاب علمی و ادبی دنیا پر اپنے گہرے و حسین نقوش مرتب کرنے میں ضرور کامیاب ہوگی اور بے پناہ داد وتحسین کی مستحق ٹھہراٸی جاۓ گی ۔۔۔۔دعا ہے کہ اللّٰہ کریم انہیں ان کی علمی و ادبی خدمات کا صلہ عطا فرماۓ اور ان کے قلم کی رعناٸی ہمیشہ ہمیشہ قاٸم و داٸم رکھے ۔ آمین ۔۔۔۔


    ڈاکٹر صائمہ یاسمین سرگودھا

  • مقبول ذکی مقبول کے لیے گولڈ میڈل

    مقبول ذکی مقبول کے لیے گولڈ میڈل

    مقبول ذکی مقبول کو ادبی خدمات کے اعتراف میں گولڈ میڈل سے نوازا گیا

    بھکر ( نمائندہ خصوصی) المصطفیٰ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ضلع کچہری قائد اعظم ہال فیصل آباد میں خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے شعراء شاعرات نے شرکت کی۔اس تقریب میں شعراء اور ادیبوں کو گولڈ میڈل ، ایوارڈ اور اسناد سے نوازا گیا ۔ جن میں مقبول ذکی مقبول ( بھکر ) ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم (سرگودھا) ڈاکٹر ماجد مشرقی (گجرانوالہ) علی محمد خاکی (میانوالی) ارشاد ڈیروی ( ڈیرہ غازی خان) معظمہ نقوی اور دیگر جن کی تعداد 40 کے قریب تھی محمد یعقوب فردوسی نے اپنے خطاب میں کہا جن قلم کاروں کو میں نے گولڈ میڈل دیئے ہیں ان کی ادبی خدمات عروج پر ہیں ۔

    مقبول ذکی مقبول کے لیے گولڈ میڈل

    مزید انہوں نے کہا میں اپنی کتاب شائع کرنے پر 75 لاکھ لگا سکتا ہوں تو گولڈ میڈل دینے میرے لئے کوئی مشکل نہیں اور وعدہ کرتا ہوں آپ سب کو نئے سال میں گولڈ میڈل دوں گا ۔ پروگرام کے بعد شرکاء کو کھانا پیش کیا گیا اور ملکِ پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی ۔ بلاشبہ یہ ادیبوں کی بہت بڑی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی ہے ۔ ایسے پروگرام سرکاری سطح پر ہونے کی اشد ضرورت ہے

  • اعترافِ عظمت و اظہارِ عقیدت

    اعترافِ عظمت و اظہارِ عقیدت

    اعترافِ عظمت و اظہارِ عقیدت

    مضمون نگار : مقبول ذکی مقبول بھکر پنجاب پاکستان

    علی شاہ مرحوم
    (پیدایش یکم فروری 1966ء ۔ 38 چک خانیوال)
    (وفات 16 جون 2016ء ۔ منکیرہ ضلع بھکر )
    علی شاہ صاحب یکم فروری 1966ء کو سید اعجاز حسین شاہ کے گھر 38 چک ضلع خانیوال میں پیدا ہوئے ۔

    آپ نے 16 جون 2016ء وفات پائی ۔
    خاندانی نام سید امید علی شاہ تھا ۔
    ادبی نام علی شاہ کے نام سے مشہور معروف تھے ۔
    میں ان روایتی انداز سے ہٹ کر شاہ صاحب کی شخصیت کے آئینے سے ان کا فن یعنی ان کی تحریر ان کے کردار کی تصویر کے ذریعے پیش کروں گا ۔ مذکورہ بالا سوالات کے بارے پہلے بہت لکھا جاچکا ہے ۔
    ؏
    اپنے لکھنے کا بھی اپنا انداز ہے

    میں درحقیقت شاہ جی کی شخصیت کے ان گوشوں کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں وہ پہلو قاری کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جن خصوصیات نے علی شاہ کو مر کے بھی نہیں مرنے دیا
    ؏
    تو جا چکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے

    معروف شاعر و ادیب اور صحافی علی شاہ منکیرہ بھکر کے بارے میں اس بات سے آغاز کروں گا کہ اللّٰہ پاک کے فضل و کرم والدین کی دعاؤں کے بعد مقبول ذکی کو اس قابل بنانے میں شاہ جی کا بڑا ہاتھ اور ساتھ ہے ۔

    پکڑ کر جسے انگلی چلنا سکھایا
    وہی قبلہ ، مقبول ہے یہ تمہارا

    اس لیے ان کے بارے لکھنا قرض نہیں فرض سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔

    شاہ صاحب ! فرد نہیں تھے ایک جہان تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات پر کسی شاعر کا اک شعر بے ساختہ لب پر آ گیا

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔

    اعترافِ عظمت و اظہارِ عقیدت

    شاہ صاحب کی صحبتیں رفاقتیں لمحہ لمحہ یاد آنے والی تڑپانے والی مگر راہ نما ہیں ۔ دریا دل تھے خاندان ِ سادات کی خوبی سخاوت ان کے اندر بہ درجہ اتم موجود تھی ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انھیں خرچ کرنے والے دل کے ساتھ ساتھ وسائل سے بھی مالا مال کیا تھا ۔انسانی ہمدری بھی رکھتے تھے ۔ عظیم انسان تھے ہمیں جینا سکھایا لکھنا سکھایا اور پھر لکھے ہوئے کو پڑھنےکا گر بتایا
    سیف الدین سیف کا یہ مصرع اکثر سنایا کرتے تھے
    ؏
    سیف انداز ِ بیاں بات بدل دیتا ہے
    پیدائشی استاد تھے بچے کو سمجھانا ہو یا بڑے کو تعلیم دینا خوب جانتے تھے ۔ ایک نسل کو زیور ِ تعلیم سے آراستہ کر گئے ۔ شاہ جی کی برق رفتاری یعنی ادھر نکلے ادھر
    ڈوبے ڈوبے ، ادھر نکلے۔۔۔ کے انداز میں اپنا تخلیقی و تصنیفی و تالیفی سفر کیا ۔ شاید فطرت کی طرف سے انہیں یہ معلوم ہو چکا تھا کہ

    مہلت ِ عمر ہے مختصر شعر کہ

    دن رات سفر کیا ملک کے طول و عرض میں تقاریب میں شرکت کی ۔ ہزاروں دوست بنائے ۔ بھکر کی اگر بات کی جاۓ تو ملک بھر میں شہر کے ادبی وقار کے اضافے اور تعارف کا باعث بنے ۔ بھکر میں ملکی سطح کی ادبی تقاریب کا اہتمام کیا ۔سماجی اور سیاسی تعلقات بھی ان کے بہت وسیع تھے ۔ خوب نام کمایا ، عزت پائی ۔
    آخر میں ان کے لیے ایک شعر
    بقول شاعر

    کوئی لکھتے ہوئے تھکتا نہیں اِس عمر کے پرچے
    کسی سے ممتحن اوراق ِ سادہ چھین لیتا ہے

    شاہ جی کو موت نے مہلت نہیں دی ہم سے بہت جلد چھین لیا ۔ مگر دماغ دل کوں یوں تسلی دیتا ہے” الموت حق”
    ؏ جب احمد ِ مرسل نہ رہے کون رہے گا ۔ اللّٰہ پاک انہیں جوار ِ اہل ِ بیت علیہ السّلام نصیب فرمائے ۔
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا کر گئے ۔

  • اقبال حسین کے ساتھ گفت گو

    اقبال حسین کے ساتھ گفت گو

    اقبال حسین  ، بھکر

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، بھکر

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    اقبال حسین دنیائے ادب کا ایک معتبر حوالہ ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ مگر نئے قارئین کے لیے تعارف کرانا ضروری سمجھتا ہوں ۔۳۱مئی۱۹۵۹ء کو اقبال حسین نے فطری صلاحیتیں لے کر اللّٰہ بخش خان کے گھر بھکر میں آنکھ کھولی ۔ اللّٰہ بخش خان کچھ عرصہ ٹیچنگ سے وابستہ رہنے کے بعد محکمہ مال میں بھرتی ہو گئے اور ترقی کر کے مجسٹریٹ کے عہدے تک پہنچے ۔ اقبال حسین کے آباؤ اجداد صدیوں پہلے عرب سے ہجرت کر کے بلوچستان میں آبسے ۔ پھر پنجاب کے شہر ضلع بھکر کے مضافات میں سکونت اختیار کرلی ۔ اقبال حسین خان بلوچ خاندان کے قبیلہ کُپچانی سے تعلق رکھتے ہیں ۔آپ نے پانچویں جماعت میں قرآنِ کریم ختم کرلیا ۔ میٹرک خانقاہ سراجیہ ضلع میانوالی سے ۱۹۷۵ء میں پاس کیا ۔ بی۔اے سمندری ضلع فیصل آباد سے کیا جہاں آپ کے والد تحصیل دار تھے ۔ سمندری میں ناز خیالوی اور عبدالستار مفتی سے محفلیں رہتی تھیں اور میاں محمود عامر کے پاس گوجرہ مشاعروں کے سلسلے میں اکثر آناجانا رہتا ۔فٹ بال بڑے شوق سے کھیلتے تھے لیکن پندرہ سال کی عمر میں ٹرین ایکسیڈنٹ میں دایاں بازو اور بائیں ٹانگ ضائع ہونے کے بعد یہ شوق ترک کرنا پڑا ۔ اُنہی دنوں شاعری کا آغاز کیا ۔ شروع میں تخلص مجروحؔ  پھر آورؔ اور صادرؔ کے بعد مستقل طور پر حسینؔ تخلص کرنے لگے ۔مختلف ملکی رسائل وجرائد میں کلام کی اشاعت ہوتی رہی ۔ روزنامہ "تھل ٹائمز” بھکر میں ۱۹۹۱ ء سے ۱۹۹۲ء تک کالم لکھتے رہے ۔ جون ۲۰۱۲ء سے روزنامہ "عوام کی عدالت "بھکر میں سیاسی و معاشرتی موضوعات پر ان کا قطعہ روزانہ شائع ہوتا ہے ۔پہلا شعری مجموعہ’’سورج گری ہے فن اپنا‘‘ ۱۹۸۷ء میں شائع ہوا ۔ جبکہ اب تک ان کے ۱۹شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔۱۶فروری۱۹۸۴ء سے اگست ۱۹۸۶ء تک حبیب بینک جھنگ میں ملازمت کی پھر والد صاحب کی وفات کے بعد بھکر ٹرانسفر کروالیا ۔ آپ کی شادی ۱۹۷۸ء میں ہوئی ۔آپ کی اولاد میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ۔ حبیب بینک سے اپریل ۲۰۰۵ء میں گولڈن ہینڈشیک لے لیا۔ اس کے بعد خود کو ادب کے لیے وقف کردیا ۔ گذشتہ دنوں ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی ۔ دورانِ ملاقات ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین ہے ۔

    اقبال حسین کے ساتھ گفت گو

    سوال :    آپ کا طبعی میلان نظم کی طرف ہے یا غزل کی طرف ۔؟

    جواب :   غزل میری پسندیدہ صنفِ سخن ہے جب کہ چند ایک نظمیں بھی لکھی ہیں جن میں سے زیادہ تر میرے پہلے شعری مجموعہ ’’سورج گری ہے فن اپنا‘‘ میں شامل ہیں ۔

    سوال :    آپ کا ذوقِ مطالعہ ۔؟

    جواب :   شعر و ادب کے علاوہ تاریخ ، فلسفہ ، نفسیات اور سیاسیات ۔

    سوال :    آپ نے جھنگ میں بھی کافی وقت گزارا ہے وہاں کی ادبی فضا کے بارے میں کچھ بتائیں گے ۔؟

    جواب :   والد صاحب کی ملازمت کے باعث میرا پہلا قیام جھنگ میں ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۳ء تک رہا ۔ میں نے آٹھویں جماعت اسلامیہ ہائی سکول جھنگ سے پاس کی ۔اس کے بعد فروری۱۹۸۴ء میں مجھے حبیب بینک جھنگ میں ملازمت مل گئی ۔ اُن دنوں میں لاء کالج پنجاب یونیورسٹی میں ایف ۔ ای ۔ایل کا نسٹوڈنٹ تھا ۔ لہٰذا تعلیم ادھوری چھوڑ کر میں نے بینک جوائن کر لیا ۔ملازمت کے سلسلے میں اگست۱۹۸۶ء تک جھنگ میں مقیم رہا ۔ جھنگ ادبی حوالے سے بڑا زرخیز شہر ہے ۔مشاعرے ، ادبی تقاریب اور شعراء کرام سے ملاقاتیں اب بھی یاد آتی ہیں ۔ جھنگ نے مجید امجدؔ جیسے بڑے شاعر پیدا کیے ہیں ۔ جن شاعروں سے میرا ملنا جلنا رہا ان میں شیرافضل جعفریؔ ، معین تابشؔ اور پنجابی شاعر شاربؔ انصاری شامل ہیں ۔ یونس ملک (اُردو اور پنجابی کے شاعر) فیصل آباد سے اکثر جھنگ آتے رہتے تھے ۔

    سوال :    آپ ایک سرائیکی ناول بھی لکھ رہے تھے وہ کہاں تک پہنچا ۔؟

    جواب :   اُس کا نام’’بَتری دھاراں‘‘ہے ۔ جو  تکمیل کے مراحل میں ہے ۔

    سوال :    ادب کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ۔ ؟

    جواب :   ادب کو زندگی کا ترجمان ہونا چاہیے ۔

    سوال :    آپ ادبی تقریبات میں بہت کم شرکت کرتے ہیں…کیوں ۔ ؟

    جواب :   میں تنہائی پسند واقع ہواہوں ۔ البتہ جوانی میں اس حوالے سے خاصا سرگرم رہا ہوں ۔

    سوال :    ادب نے آپ کو کیا دیا اور آپ نے ادب کی کیا خدمت کی ۔؟

    جواب :   میں(۱۹)اُنیس شعری مجموعوں کا خالق ہوں ۔ میں نے ادب سے زندگی کرنا سیکھا ہے ۔

    سوال :    تخلیق کار تو مجلس پسند ہوتا ہے ۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ۔؟

    جواب :   یہ ہر شخص کے مزاج پر منحصر ہے ۔ کچھ تخلیق کار مجلسی اور بہت سوشل ہوتے ہیں جبکہ کچھ مردم  بیزار اور تنہائی پسند

    سوال :    بھکر کی ادبی فضا کے حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گے ۔؟

    جواب :   بھکر کی ادبی فضا شعر و ادب کیلئے ہمیشہ سازگار رہی ہے ۔ اس دھرتی پر ساٹھ ستر سال قبل لگایا جانے والا شعر و ادب کا پودا اب تناوردرخت بن چکا ہے ۔ٹیکسٹائل ملز کے مالک میاں عزیز اے شیخ کے دور میں یہاں ملکی سطح کے مشاعرے برپا ہوا کرتے تھے جن میں پاکستان بھر سے نامور شعراء شرکت کیا کرتے تھے ۔ بھکر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شکیب جلالی کی شاعری کا بہترین حصہ قیامِ بھکر کے دوران تخلیق ہوا ۔ اس دور کے بھکر کے شعراء میں قاضی فتح محمد فاتح ، خلیل رامپوری ، خلش پیراصحابی ، خلش صہبائی ، شکیب جلالی ، خواجہ قریش علی منشا ء پانی پتی ، ڈاکٹر جی ایم اکمل ، عابد سیمابی، پروفیسر بشیر احمد بشر ، اسد جعفری ، نصرت چوہدری ، باقر بخاری ، اثرترمذی ، شادبخاری ، حیارام پوری ، انجم عابدی ، عارف بخاری ، پروفیسر شہاب صفدر کے والد الطاف صفدر غلام جیلانی انجم ملک ، انور اقبال انور ، کوثر حجازی ، تنویر صہبائی ، شمشاد نظر ، ظفر عباس ملک ، نذیرڈھالہ خیلوی ، اور پروفیسر جاوید عباس ملک شامل ہیں ۔ رثائی شاعری میں غلام سکندرخان غلام ، قیصر بارہوی ، مضطرحیدری ، خلش پیراصحابی ، شعیب جاذب،  موسیٰ کلیم بخاری کے اسماء شامل ہیں ۔ نئی نسل کے شعراء کی بڑی تعداد ادبی سرگرمیوں میں بھر پورحصہ لے رہی ہے اور ان کی کوششوں کے باعث بھکر ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ کسی کا نام لینا نہیں چاہتا ۔ خدشہ ہے کہ کسی کا نام رہ گیا تو اس کی دل آزاری ہوگی ۔

    سوال :    اُردو زبان کے مستقبل سے آپ مطمئن ہیں ۔؟

    جواب :   مایوس کن ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کے پیشِ نظر اُردو کے مستقبل کو بھی اُمید افزا قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ  جب تک کوئی زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان نہیں بنتی اُس وقت تک اُس کا survival ممکن نہیں ہوتا ۔صرف شعر و ادب کے سہارے زبانیں زندہ نہیں رہتیں ۔اُردو کی بدقسمتی کہ وہ ابھی تک ہمارے اداروں کا اعتماد حاصل نہیں کرسکی ۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود اُردو کو اُس کا صحیح مقام نہیں مل سکا ۔ انگریزی کی supremacy ہر جگہ قائم ہے ۔

    سوال :    اُنیس(۱۹)شعری مجموعوں پر مشتمل ’’اِتمام‘‘کے نام سے آپ کے تین کلیات شائع ہوچکے ہیں اور اُن

                            پر ایم۔ فل سطح کے تین مقالہ جات بھی لکھے جاچکے ہیں ۔ کیا آپ مقالہ نگاروں کے کام سے مطمئن ہیں ۔؟

    جواب :   کچھ زیادہ نہیں…کیونکہ ننانوے فیصد مقالہ نگار بہت جلدی میں ہوتے ہیں ۔ اُنھیں صرف ایم ۔ فل کی ڈگری حاصل کرنا ہوتی ہے ۔ معیار سے اُنھیں کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ وہ یہ کام ملازمت کے حصول یا تنخواہ میں اضافے کے لیے کرتے ہیں اور اس بات کا انھیں احساس دلانے والا بھی کوئی نہیں ۔جس کے باعث ہمارا بہت سا ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے ۔ میں اُن کی ذہانت کا دل سے قائل ہوں لیکن وہ بیچارے کیا کریں؟ ان کی سمت کا صحیح تعین کرنے والاکوئی نہیں ۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں بہت قابل اساتذہ موجود ہیں جو اس ذمہ داری سے کماحقہ‘ عہدہ برآہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بس اپنے سٹوڈنٹس کے لیے اپنے اندر ذرا سی ہمدردی پیداکرنے کی ضرورت ہے ۔

                ایم ۔ فل candidates کے حوالے سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اُن کی اہلیت جانچنے کے لیے متعلقہ مضمون اورموضوع کے علاوہ انھیں سخت قسم کے نفسیاتی ٹیسٹ سے گزارا جائے اورکسی قسم کی رُو رعایت اور سفارش کے بغیر سلیکشن کا صاف شفاف طریقہ اختیار کیا جائے ۔ تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کیا اُن کے شوق passion یا ذہنی اُپج کا بھی اُن کی تعلیمی سرگرمیوں میں کچھ دخل ہے یا محض وقتی مفاد یا لالچ  کے تحت وہ یہ فریضہ انجام دینا چاہتے ہیں ۔

                جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے مجھے تو کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جو روایت شکن ہو ۔ مجھ پر کام کرتے ہوئے مروجہ قواعدوضوابط یعنی رائج تنقیدی اصولوں سے انحراف کرنے والاہو ۔ میری یہ خواہش میرے ہی ایک شعر میں اِس طرح بیان ہوئی ہے ۔

    ؎ راستہ بھول کے پا لو گے نئی دنیا اک دن

    مجھ سے تم بے خبر اک لغزشِ پا ہونے تک ہو

                جب تک کوئی نقاد راستہ نہیں بھولتا میری شعری دنیا کو دریافت نہیں کرسکتا ۔

    سوال :    آپ کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ ’’اِتمام‘‘کے نام سے سات شعری مجموعوں پر مشتمل آپ کا کلیاتِ سلام صنفِ سلام میں اُردو کی پہلا کلیات ہے جو ہمارے علاقے کے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ اس کے علاوہ بارہ شعری مجموعوں پر مشتمل دو کلیات جن میں سے ’’بلا مبالغہ ‘‘کے نام سے ایک مجموعہ قطعات پر مشتمل ہے باقی سب مجموعے گنتی کی کچھ نظموں کے علاوہ غزلوں پرمبنی ہیں۔’’بلامبالغہ‘‘میں آپ کے وہ قطعات شامل ہیں جوروزنامہ ’’عوام کی عدالت‘‘میں شائع ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ۲۰۱۲ء سے تاحال جاری ہے ۔

                پوچھنا میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ نے کلیاتِ سلام میں سلام کے حوالے سے جوتجربے کیے ہیں جن کا ذکر ڈاکٹر ہلال نقوی صاحب نے بھی کیا ہے ‘اِس حوالے سے ہمارے قارئین کوکچھ بتائیں ۔ ؟ دوسرے یہ کہ کلیاتِ غزل میں غزلوں میں ترکیب سازی یا زبان کے حوالے سے جو تجربے موجود ہیں اُن کے بارے میں بھی ہمیں آگاہ کریں اورایک سوال یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ قطعہ نگاری کی طرف آنے کا خیال کیوں آیا ۔؟

    جواب : الحمدللہ! اِتمام کے نام سے سات شعری مجموعوں پر مشتمل میرا کلیاتِ سلام صنفِ سلام میں اُردو کا پہلا کلیات ہے ، یہ بات مجھے سب سے پہلے برادرِ عزیز پروفیسر شہاب صفدر نے بتائی کہ آپ کا کلیات صنفِ سلام میں اُردو کا پہلا کلیات ہوگا اور اشاعت کے بعد جب میں نے ڈاکٹر ہلال نقوی صاحب کو اس کا ایک نسخہ بھیجا تو انھوں نے بھی اپنی تحریرمیں میرے کلیاتِ سلام کی اس تاریخی انفرادیت کا ذکر کیا ہے ۔صنفِ سلام کے حوالے سے ڈاکٹرصاحب نے مولاناشبلی کا یہ جملہ بھی نقل کیا

    ’’سلام غزل ہی کی طرز پر ایجاد کیا گیا ۔اس کی بحریں بھی وہی ہیں ،دردانگیز ، پُرتاثیر ، سادہ و صاف مضمون‘‘ اس کے بعد ڈاکٹر ہلال نقوی صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اقبال حسین کے سلام شبلی کے اس دائرہء خیال کو بھی توڑ کر اپنی تہذیبی تعریف خود متعین کرتے ہیں۔‘‘

                جہاں تک نظموں اورغزلوں کا تعلق ہے مَیں نے اس میں ترکیب سازی وغیرہ کے تجر بے کیے ہیں۔’’سورج گری ہے فن اپنا‘‘میرے پہلے شعری مجموعے کا نام ہے ۔ سورج ہندی لفظ ہے اور گری فارسی …ایک نظم ہے ’’مشرق کے باسی‘‘جس میں سورج خیز کی ترکیب استعمال ہوئی ہے ۔اسی شعری مجموعے میں شامل ایک غزل جو کہ اس کے پہلے ایڈیشن میں شامل نہیں تھی کا شعر ملاحظہ ہو

    رُکے نہیں مِرا وینڑِ مسلسل ایسے میں

    سہولت اتنی میسر ہو مجھ کو نرغے میں

                 درج بالا مطلع میں ’’ وینڑِ مسلسل ‘‘ کی ترکیب شامل ہے ۔ اسی طرح اسی غزل کا ایک اور شعر بھی ایسا ہی تجربہ ہے ۔

    پھر اُس کی صحّتِ مَت پر نہ کیوں ہو شک سب کو

    جو موت لے کے رہا زندگی کے بدلے میں

                درج  بالا اشعار میں ’وینڑِمسلسل‘‘ میں وینڑ سرائیکی زبان کا لفظ ہے جب کہ مسلسل عربی زبان کا۔ اسی طرح دوسرے شعر میں ’صحّتِ مَت‘ میں مَت سرائیکی ، سنسکرت اور پنجابی زبان کا لفظ ہے جبکہ صِحّت عربی زبان کا لفظ ہے ۔شعری مجموعے’’آسماں زیرِ زمیں ‘‘میں درج ذیل شعر میں محاورے کی مستندمروّجہ شکل کو تبدیل کردیا گیا ہے ۔

    کون سمجھے مری آواز کا مفہوم حُسینؔ

    خَلقتِ شہر میں صحرا بہ صدا پہنچا ہوں

                جہاں تک میری قطعہ نگاری کا تعلق ہے تو اس بارے عرض ہے کہ میرے اندر ایک ایسا شخص ہمیشہ موجود رہا ہے جو سیاست میں عملی کم لیکن سوچنے کی حد تک بے پناہ دلچسپی رکھتا ہے ۔ جس کا سیاست میں بھی حق اور باطل کو پرکھنے کا مخصوص پیمانہ ہے ۔۱۹۷۶ء ۱۹۷۷ء میری شعری بلوغت کی عمر ہے ۔مَیں نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا بہت اثر لیا تھا اور اُس کا اثر میرے پہلے شعری مجموعے’’ سورج گری ہے فن اپنا‘‘ میں دیکھا جاسکتا ہے ۔لہٰذا اپنے اسی جذبے کی تسکین کے لیے میں نے قطعہ نگاری کاسہارا لیا اور میری خوش قسمتی کہ میرے دوست اور چیف ایڈیٹر روزنامہ’’عوام کی عدالت‘‘رانا انیل چوہان نے بھکر سے اپنے اخبار کا اجراء کیا اور میں نے ان کے اخبار میں قطعہ نگاری کا آغاز کیا‘ سو۲۰۱۲ء سے اب تک سیاسی ومعاشرتی مسائل پر میرا قطعہ روزانہ شائع ہوتا ہے ۔

    سوال :    پاکستان کے حالات کیا رُخ اختیار کرتے دیکھ رہے ہیں ۔؟

    جواب :

    ؎          مریضِ عشق پر رحمت خدا کی……   مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

    سوال :    اُردو شعر و ادب کی ترویج و ترقی کے لیے آپ نے جو ادبی تنظیمیں بنائی ہیں اُن کے نام اورکام کے حوالے سے کچھ بتا ئیں ۔؟

    جواب :   میں’’بزمِ فکرِ جدید‘‘اور’’صحراب ادبی فورم‘‘کابانی اور صدرہوں ۔۱۹۸۶ء میں مَیں نے ’’بزمِ فکرِ جدید‘‘ کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنائی جس کا مقصد ادب میں ترقی پسندانہ نظریات وخیالات کو رواج دینا تھا ۔ میں اِس کا صدر اور کردار صدیقی اس کے جنرل سیکریٹری تھے ۔ میرا پہلا شعری مجموعہ’’سورج گری ہے فن اپنا‘‘ اسی تنظیم کے زیرِ اہتمام شائع ہوا ۔ اب روزنامہ’’عوام کی عدالت ‘‘کے چیف ایڈیٹر رانا انیل چوہان اِس تنظیم کے جنرل سیکریٹری ہیں ۔

                دوسری تنظیم ۱۹۸۷ء میں رانا انیل چوہان اور میں نے ’’صحراب‘‘ ادبی فورم کے نام سے بنائی ۔ واضح رہے کہ لفظ ’’صحراب‘‘ مجھ خاکسار کی اختراع ہے جوکہ دولفظوں صحرا اورآب کامرکب ہے ۔میرے پہلے کلیات ’’اِتمام‘‘ میں میری کچھ غیر مطبوعہ غزلیں صحراب کے عنوان سے شامل ہیں ۔ ہمارا ایک ادبی رسالہ نکالنے کا پروگرام بھی تھا جس کے لیے صحراب پبلی کیشنز کا ادارہ بنایا گیا ۔ ادبی رسالہ نکالنے کا ہمارا خواب تو پورا نہ ہوسکا البتہ رائو سخاوت علی خاں مالی پانی پتی کی دوکتابیں ’’مہتاب رُتیں‘‘(۱۹۹۰ء) جوکہ سہروں پرمشتمل ہے اور دوسرا اُن کا نعتیہ شعری مجموعہ’’سکونِ دل‘‘ (۱۹۹۲ء) اس کے زیرِ اہتمام ہم نے  شائع کیے ۔ یہ وضاحت بھی کرتاچلوں کہ بھکر میں ہمارے ایک دوست ثاقب عابدی ۲۰۰۷ء میں اپنا ایک اخبار نکالنا چاہتے تھے اور اس کانام وہ صحراب رکھنا چاہتے تھے ۔ ان کی اس خواہش کااظہارہمارے مشترکہ دوست شاہد بخاری نے مجھ سے کیا۔جس کی میں نے انھیں اجازت دے دی ۔ لہٰذا دوتین سال صحراب کے نام سے وہ اپنا اخبار نکالتے رہے ہیں ۔

    ٖٖسوال :            قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ۔؟

    جواب : پاکستان کے ساتھ مخلص رہیں ‘جس شعبے ، جس پیشے سے وابستہ ہیں اس کے ساتھ انصاف کریں ۔دُکھی انسانیت کی بہتری کے لیے کام کریں…آپ اَوروں کے مسئلے حل کریں آپ کے مسئلے خدا حل کر دے گا…اپنی سوچ مثبت رکھیں…

    maqbool

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر پنجاب پاکستان

  • بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    تحریر : پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر

    پاکستان کے تیسرے بڑے صحرا ، تھل ، میں واقع ضلع بھکر کی سرزمین اپنے وجود ، اپنی ثقافت اور اپنی خصوصیات سے پہچانی جاتی ہے ۔ برسوں پہلے والدِ مرحوم غلام محمد متین کوٹلہ جامی نے بھکر کی معروف چیزوں کے بارے میں ایک تاریخی شعر کہا تھا جو اُن کی کتاب ، گلدستہَ معانی ، میں موجود ہے ۔

    چار چیز است تحفہِ بھکر
    تیل و تربوز ، سبزی و مچھر

    اسی ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ضلع بھکر کی صحرائی تحصیل منکیرہ کے باسی معروف شاعر مقبول ذکی مقبول نے اپنے صحرائی علاقے کی روایات ، رسوم ، موسم اورثقافت اور مناظر کو اپنی شاعری کا خصوصی موضوع بنایا ہے ۔ ان کی شائع شدہ فردیات ، بھکر کی سرزمین ، فصلوں ، روایات ، ماحول اورعقائد کا خوبصورت ذکر مناظر کی شکل میں موجود ہے ۔ انہوں نے علاقہ تھل میں ہونے والی چنے کی بارانی فصل کے مختلف مناظر کو اردو شاعری میں سرائیکی الفاظ لگا کر شعر میں روایت اور مقامی زبان کے امتزاج سے نیا تجربہ کیا ہے ۔

    بھکر کی یہ سوغاتیں ہیں
    "پلی”، ” ڈڈے ” اور ” تراڑا”

    چنے کے پودوں پر لگنے والے سبز پتوں کو پلی کہتے ہیں ۔ اس کو ساگ کی طرح سالن بنا کر کھایا جاتاہے ۔ پھر جب چنے کے پودوں پر لگنے والے دانے اپنی پھلیوں میں میں کچے ہوتے ہیں تو ان کو ” ڈڈے ” کہا جاتا ہے اور ان سے بہار کے موسم میں خوش ذائقہ سالن بنتا ہے ۔ اس کے بعد جب یہ پھلیاں اچھی طرح پک جاتی ہیں تو ان کو جلا کر زمین پر پکایا جاتا ہے جس کی خوشبو دور تک پھیل جاتی ہے اور سارا خاندان زمین پر بیٹھ کر کھاتا ہے ۔ اس روائتی ڈش کو "تراڑا” کہا جاتا ہے ۔ اس طرح چنے کی فصل تھل صحرا میں خوشیاں لاتی ہے ۔ مقبول ذکی نے تھل کے ٹٰیلوں کے مناظر ۔ چنے کی فصل میں لگے ننھے سرخ پھولوں ، گرم ہواؤں اور بھکر دیس کی مخصوص ثقافت اور مناظر کو اپنی فردیات کے اشعار کا منظر نامہ بنایا ہے ۔ اس طرح انہوں نے مقامیت اور گھریلو احساس کی عکاسی کی ہے ۔

    اپنا سا اک اس کا منظر ہوتا ہے
    تھل بھکر کا دیکھ کبھی تو بارش میں

    مقبول ذکی نے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتے ہوئے سخت گرمی کے موسم میں صحرائے تھل پرحدت کی شدت کے مناظر کو بھی موضوع سخن بنایا ہے ۔ سخت گرمی میں تھل کے ٹیلوں سے اُٹھنے والی ہولناک ہوا کی لپیٹیں
    دیکھ کر دشتِ کربلا کا منظر تصور میں آتا ہے ۔

    العطش کی صدائیں آتی ہیں
    کربلا کی فضا ہے بھکر کی

    مقبول ذکی نے اپنے دیس کے مناظر ، موسموں ، روایات اور آب و ہوا سے والہانہ محبت کا اظہار فردیات میں موجود اشعار کے ذریعے کیا ہے ۔ انہوں نے ہر شعر میں بھکر کا لفظ استعمال کر کے اپنے وطن اور اپنے وسیب کی چھوٹی اور بڑی باتوں کو موضوع سخن بنایا ہے ۔ مجھے تھل کے مرکز منکیرہ کے کامرس کالج میں بطور وائس پرنسپل دس سال کام کرنے کا موقعہ ملا ہے ۔ میں نہ صرف صحرائے تھل کی زندگی ، مناظر اور روایات سے بخوبی باخبر ہوں بلکہ مقبول ذکی کی زندگی ، سوچ اور فطرت سے بھی آگاہ ہوں ۔ایک فطرت پسند ، امن پسند اورسچے فنکار کی خوبیاں ان کے کلام میں موجود ہیں ۔ مقبول ذکی اپنی اس کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں یہ ان کی فردیات پڑھ کر معلوم ہوگا ۔ بہر حال یہ ایک منفرد اور مصورانہ فردیات ہیں جس پر مقبول ذکی مقبول بجا طور پر تحسین کے مستحق ہیں ۔ آخر میں چند فردیات ملاحظہ فرمائیں

    تیرے اشعار میں مقبول ذکی
    مسکراتا ہے پیار بھکر کا

    آ ، چنین مل کے بیریوں کے بیر
    تھل میں جوبن پہ بیریاں ہیں آج

    میرے صحرا کی ایک خوبی ہے
    اس میں کیچر کبھی نہیں ہوتی

    فرد کا تجربہ کریں ذکی
    لوگ کہتے ہیں کہ نہیں آساں

    روشنوں کے دور میں بھی مقبول ذکی
    آج بھی صحرا تاریکی میں ڈوبا ہے

    پروفیسر جاوید عباس جاوید

بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    پروفیسر جاوید عباس جاوید

    بھکر