مقبول ذکی مقبول

تحریر : ڈاکٹر خالد اسراں ، بھکر

مقبول ذکی مقبول تھل کی پیاسی دھرتی کا ایک درخشندہ ادبی ستارہ ہے ۔ تھل کی پیاسی سر زمین کی طرح اس میں ادبی پیاس ہے ۔ وہ ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول صرف موجودہ عہد کا شاعر نہیں ہے ۔ اس کی شاعری میں ماضی بھی موجود ہے اور مستقبل بھی جھلکتا ہے ۔ ادبی حوالے سے ان کی پہچان شاعری ہے اور وہ دو کتابوں کے مصنف ہیں ۔ لیکن ان میں نثر نگاری کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے ۔ وہ انٹرویو لینے میں ، انٹرویو کے سوال و جواب مرتب کرنے میں ایک خاص ملکہ رکھتے ہیں اور جلد ہی ان کے انٹرویو ز پر مشتمل ایک کتاب منظر عام پر آرہی ہے ۔

مقبول ذکی مقبول


ایک طرف تو ان کی عوامی اور رومانی شاعری ہے جس میں معاشرے کا اور خاص طور پر تھل کا درد جھلکتا ہے اور دوسری طرف ان کے حمد و نعت اور سلام ہیں ، جن میں ان کی رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہ السلام سے محبت جھلکتی ہے ۔ ان کے چند شعر ملاحظہ ہوں

وہ کم نہ کر سکا یزیدِ وقت جس کی روشنی
سفر کیا ہے عشق کا عبور وہ حسینؑ ہے

ذکی کو ناز ہے بڑا ہر اک ادا حسینؑ پر
کرے وہ حمد زخم سے ہو چور، وہ حسینؑ ہے

ذکی کی شاعری کا بنیادی نکتہ اہل بیت علیہ السّلام سے محبت ہے اور واقعہ کربلا بیان کرتے ہوئے ان کا درد ان کے الفاظ میں اتر آتا ہے ۔

قاسمؑ و اکبرؑ ہیں ہم سے ہم ہیں حیدرؑ کا لہو
چھ مہینے کے مجاہد نے کہا عاشور کو

جس کا جھولا تھا جھلاتا آ کے جبریل امیں
سربریدہ دھوپ میں دیکھا گیا عاشور کو

مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں تھل کی سادگی اور مہمان نوازی کی نمائندہ ہے ۔ وہ انتہائی سادہ اور ملنسار ہیں ۔ بہت جلد لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں ۔ ہر وقت لوگوں کی مدد کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔ وہ انتہائی نفیس انسان ہیں جو کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے ۔ وہ اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ ادب کی ترویج کے لئے بھی کوشاں رہتے ہیں ۔ ادبی پروگراموں اور مشاعروں میں تو ویسے ہی جاتے ہیں لیکن خود بھی ادبی پروگرام ترتیب دیتے رہتے ہیں ۔ جہاں بھی موقع ملے چند دوستوں کو اکھٹا کرکے ادبی محفل جمالیتے ہیں ۔ جس طرح تھل دھرتی پیاسی ہے اسی طرح مقبول ذکی مقبول کی روح ادب کیلئے بے چین ہے ۔ ابھی تو ان کے ادبی سفر کا آغاز ہے ۔ ابھی ان کا سفر کافی باقی ہے ۔ میری دعا ہے اللّٰہ تعالیٰ ان کو مزید کامیابیاں دے ۔ وہ نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر بھی معروف ہیں اور کئی مقامی اور قومی ادبی ایوارڈ لے چکے ہیں ۔ میں ان کی مزید کامیابیوں کےلئے دعا گو ہوں۔

Khalid Isran

ڈاکٹر خالد اسراں

بھکر، پنجاب، پاکستان

سونیا بخاری

Next Post

ھنزہ سکردو کا سفرنامہ

ہفتہ ستمبر 10 , 2022
یوں تو بچپن سے ھی پاکستان کے طول و عرض میں گھومنے کا موقع ملا میرے مرحوم ماموں جان شیخ عبد الرشید ایک سینئر بینکر تھے اور مسلم کمرشل بینک سے وابستہ ھونے کی وجہ
ھنزہ سکردو کا سفرنامہ

مزید دلچسپ تحریریں