Tag: بھکر

  • پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    تبصرہ۔۔۔۔
    مقبول ذکی مقبول ، بھکر
    عاصم بخاری کے اس موضوع سے مناسبت رکھتے متعدد اشعار میرے دل و دماغ میں مچل رہے ہیں مگر میں ان کے اس شعر سے اپنی تحریر کا آغاز کرنا چاہوں گا ۔

    جامعہ کا لیا کسی نے نام
    ذہن میں آ گیا بہاول پُر
    شاعر معاشرے کا حساس ترین فرد ہوتا ہے ۔ حادثات و واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو شاعر کے لاشعور پر ان مٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔
    اگرچہ طنز کا لفظ تنقید کے جیسے ہمارے معاشرے میں کچھ اچھے معنوں میں مستعمل نہیں
    ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اس قدر قبولِ عام حاصل نہیں ، لیکن عاصم بخاری کے ہاں یہ تنقید برائے تنقید اور طنز برائے طنز والا معاملہ نہیں ۔ان کی شاعری میں طنز کا نشتر بہت خفیف، ہمدردانہ اور فکر انگیز ہے جو کہ قاری اور معاشرے کو سوچنے کی دعوت دیتا ہے ۔ اس طنز کا مقصود توجہ دلانا کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر غور کرے ۔ کس سمت جانا ہے اور آدمی کس طرف رواں ہے ۔ ان کے شعری طنز سے کسی قسم کی تضحیک اور کسی کی تذلیل کا کوئی پہلو نہیں بل کہ قوم کے درد مند دل کے ساتھ سب کی توجہ اخلاقی و سماجی امراض کی طرف کراتا ہے ۔ سچ تو یہ ہےکہ ایسا خفیف طنز قاری پر ناگوار نہیں گزرتا بل کہ اسے خیر خواہانہ انداز میں جھنجھوڑتا ہے ۔ ان کے طنز میں مزاح کی آمیزش بھی پائی جاتی ہے ۔
    معروف محقق و نقاد ، شارق رشید (کراچی) اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں۔
    ٫٫ مزاح تو بہت لوگ لکھ لیتے ہیں مگر طنز و مزاح مشکل کام ہے جو عاصم بخاری نے آسانی سے کیا ہے ،،
    معاشرتی رویوں پر ان کی کڑی نظر ہے ۔ ان کا مشاہدہ بلا ہے یاداشت ان کی بہت زیادہ ہے ۔ معاشرے میں پیش آنے والےحالات و واقعات ان کے دل و دماغ پر دُور رَس اثرات مرتب کر جاتے ہیں ۔ زمینی حقائق کی ایک طنزیہ جھلک دیکھیں۔

    پہلے اک آدھ کوئی ، لیتا تھا
    رشوت اِک آدھ اب ، نہیں لیتا
    اس شعر میں انھوں ہمارے معاشرے کی مکمل اور حقیقی تصویر کس مہارت سے پیش کی ہے کہ ہر باضمیر شخص اعتراف اور افسوس کیے بغیر نہیں رہ سکا۔

    ایک اور سماجی ومعاشرتی رویے کو انھوں نے کس سلیقے سے پیش کیا ہے ۔ ان کے ہر شعر کا موضوع اور زاویہ مختلف ہوتا ہے ۔ ان کا کینوس بہت وسیع ہے ۔ گھریلو تصویر کشی دیکھیے ۔

    کار والوں کی تو قسمت میں سعادت یہ نہ تھی
    کام آیا باپ کے٫٫ بے کار ،، بیٹا ہی فقط

    اس شعر میں کمال ذومعنویت کا تیر چلاتے ہوئے بخاری نے صاحبِ ثروت اولاد پر طنز کیا ہے ۔ اسے آئینہ دکھایا ہے کہ اپنے طرزِ عمل پر غور کریں ۔ کیا یہ شرمناک رویہ ہمارے معاشرے میں نہیں پایا جاتا ۔؟

    عاصم بخاری نے اپنی شاعری کا موضوع صرف گل وبلبل کو ہی نہیں بنایا ۔ زندگی کے ہر شعبہ پر انہوں نے شعر کہے ۔ ایک اور سماجی روش کو یوں لیتے ہیں۔

    قطعہ
    کہاں پیغمبری پیشے کی خاطر
    وہ اس رستے پہ چلنا چاہتا ہے
    نکمے پن کی خاطر ہی بخاری
    پروفیسر ، وہ بننا چاہتا ہے
    آج ہماری درس گاہوں اور جامعات میں ایسی عملی تصاویر اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ کیا یہ رویہ ذمہ دارانہ ہے معلم کو معاشرہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے لہٰذا اسے بھی اپنے مرتبے کا پاس رکھتے ہو ۓ حق ادا کرنا چاہیے ۔
    عاصم بخاری کی شاعری میں موضوعاتی تنوع بہت زیادہ ہے ۔ عموماً کسی بھی قلم کار کا موضوعاتی و محسوساتی دائرہ بہت محدود ہوتا ہے مگر عاصم بخاری کے ہاں اس کے برعکس ملتا ہے ان کا موضوعاتی دائرہ بہت وسیع ہے ۔
    اس شعر میں انھوں نے ملازم طبقہ کے رویہ پر طنز کرتے ہوۓ ایک نیا انداز اپنایا ہے ۔ شعر دیکھیں
    موت کی حشر نشر کی تھوڑی
    فکر اگلے سکیل ، کی اُس کو
    عام مشاہدہ کی بات ہے کہ ملازمین اپنے فرض سے غافل ہو کر حقوق کے حصول کے لیے غیر معمولی اور غیر ضروری حد تک کوشاں اور متفکر دکھائی دیتے ہیں اور ہمارے گرد یہ رویہ بکثرت پایا جاتا ہے۔ جسے عاصم بخاری نے اپنے طنز کا موضوع بنایا ہے ۔
    دنیا پیسے کے چکر میں اندھا دھندپڑ گئی ہے حتٰی کہ اسے اپنے جہان میں آنے کا مقصد بھی بھول گئی۔ دولت سے پیار نے رشتوں محبت مامتا اور شفقتِ پدری تک لاپرواہی و احسان فراموشی کا ایک منظر عاصم بخاری کے قطعہ میں دیکھیں

    بادل اس پر ہوس کے یوں چھاۓ
    سوچتا ہوں کہ ہے ، یہ کیا مانگے
    بیمہ کے پیسوں ، کے لیے بیٹا
    باپ کی موت کی ، دعا مانگے

    عاصم بخاری کے عمیق مشاہدہ کی داد دیتے ہوۓ اس انسانیت سوز رویے کی تائید ہوتی ہے کہ آج کے معاشرے کو کیا ہو گیا اتنی مادیت ، سب مایا ہے ٫٫ تو کرب ناک ہے اور اس کی مثالیں آج کے معاشرے میں قدم قدم پر موجود ہیں ہماری سماجیات و اخلاقیات کے اس عالم آدمیت و انسانیت نوحہ دیکھیں

    قطعہ

    آپ حیراں نہ اک ، زمانہ ہے
    سننے والا ہر ایک ہے ششدر
    دیکھا میں نے بغیر ڈوری کے
    آج رہ میں گلاس ، کولر پر

    آج کی تربیت اور تعلیم کا یہ عالم ہے کہ راستے میں لگے مسافروں اور راہ گیروں کی خاطر لگاۓ جانے والے پانے کے کولر کے پاس رکھے گلاس کو بھی چرا لیا جاتا ہے یا پھر وہ گلاس زنجیر کے ساتھ قید ہوتا ہے تاکہ اسے کوئی چُرا نہ لے ۔حیرت ہے ۔
    اسی طرح ہر موسم اور ہر رت کے ہمارے معاشرتی رویے بھی افسوس ناک اور تشویش ناک ہیں۔جن کو بخاری نے اپنےشعری طنز کا نشانہ بنایا ہے ۔ قطعہ ملاحظہ ہو

    غیربستا نہیں ، یہاں کوئی
    ہے مسلمان یہ ، سبھی بستی
    ختم رمضان ، ہونے والا ہے
    چیزیں ہو جائیں گی سبھی سستی

    ہمارے اک ایک سماجی و اخلاقی رویے پر ان کے ہاں شعر ملتا ہے اور اس پر ہمدردانہ اور مفکرانہ و فلسفیانہ استفہامیہ طنزیہ انداز بھی ، سچ تو یہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہمارا رویہ افسوس ناک اور شرم ناک ہوتا ہے جس پر انتہائی سنجیدگی سےغور کرنے کی ضرورت ہے ۔ عاصم بخاری کے غور فکر کا انداز فلسفیانہ ہے معاشرے کے رویوں پر حیرت کا اظہار وہ اپنے اشعار میں مختلف ہئیتوں میں مختلف زاویوں سے کرتا رہتے ہیں ۔ زمانے کی ناقدری پر کچھ اس انداز سے طنز کرتے ہیں ۔

    تعزیتی اجلاس
    قطعہ
    دستور ہے اِس نگری کا مرنا ہے ضروری
    جیون میں بخاری یہاں تعظیم نہ ممکن
    ہوسکتے ہیں افسوس کے اجلاس تو لیکن
    جیتے جی کوئی عزت و تکریم نہ ممکن

    ان کے ہاں سوچوں اور موضوعاتِ تنقید میں مثبت رویہ پایا جاتا ہے عاصم بخاری کا مقصودِ دل آزاری نہیں بلکہ اصلاح اور توجہ دلاو ہے۔

    پردہ داری اور شرم حیا کے والے سے یونی ورسٹی جو تعلیم و تربیت کا مرکز اور تہذیب کا گہوارہ ہوا کرتی تھی آج کے حسب حال ٫٫ دوپٹہ ،، کے عنوان سے یوں طنز کا نشتر چلاتے ہیں ۔

    سر پہ دوپٹہ ، کرنے والی یہ
    اعلیٰ تعلیم اس نے پائی کیا
    یُونی ورسٹی گئی ہے یہ تھوڑی
    اِس کو معلوم بے حیائی کیا

    گداگری پر کچھ اس انداز سے فرد شعر کی صورت طنز کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

    بھیک انسان مانگتے دیکھا
    میں نے دیکھا نہیں پرندے کو

    زمانے کی جدت اور اپنی غفلت کچھ یوں آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔

    دنیا ریسرچ میں ، بخاری اور
    ہم ہیں مشغول مرغ بازی میں

    اِسی مزاج اور اسی سوچ پر طنز کا حامل ایک شعر جس میں اس اجتماعی تنزلی کا سبب بڑے افسوسناک انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔

    ہم سے دُور اس لیے ، اُجالے ہیں
    ہم نے تِیتر بٹیر ، پالے ہیں

    آج کے دور کی مغرب پرستی اور ثقافت کے نام پر فحاشی کی یلغار کو اس درد مندانہ انداز اور طنز یہ لہجہ اپناتے ہوئے کہتے ہیں ۔

    جسم کر دیتے اور بھی عریاں
    کیسے ملبوس آ گئے اب کے

    اِسی طرح ایک اور مقام پر مغربی اندھی تقلید کے آگے شرم و حیا کا لفظی بند باندھتے ہوئے پڑھی لکھی عورت پہ احساس کے طنز کا نشتر کچھ اس انداز سے چلاتے دکھائی دیتے ہیں۔
    قطعہ ملاحظہ ہو۔

    آخر بیٹی کس کی ہے یہ مشرق کی
    جب بھی دیکھی پورے کپڑوں میں ہی اکثر دیکھی ہے
    مغرب سے دُوری کی ہی یہ عاصم ساری برکت ہے
    ہم نے ہر "ان پڑھ "عورت کے سر پر چادر دیکھی ہے

    برصغیر پاک و ہند کی معیشت و معاشرت اور ترقی پذیری میں زمانے سے پیچھے رہ جائے جانے کا سبب طنزیہ انداز میں یوں ایک شعر میں پیش کرتے ہیں ۔

    کار خانے سب اُن کے حصے میں
    ہِند میں صرف ، صنعتیں شعری
    آخر پر معاشرتی رویے اور مقصد حیات نمود و نمائش اور پیسے کیسے کی ہوس پر چوٹ کرتے ہوئے عاصم خاری کہتے ہیں

    بیٹے کو ڈاکٹر ، بنانا ہے
    مقصد انساں بنانا تھوڑی ہے

  • پروفیسر جاوید عباس جاوید سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات

    پروفیسر جاوید عباس جاوید سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات

    پروفیسر جاوید عباس جاوید سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات


    بھکر (نمائندہ خصوصی) بھکر کے معروف شاعر و ادیب پروفیسر جاوید عباس جاوید سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات بھکر کے ادبی منظر نامہ پر تبادلہ خیال کیا گیا جس پر پروفیسر جاوید عباس جاوید نے کہا گرانی کے اس دور میں ادبی سرگرمیاں ماند دکھائی دیتی ہیں مزید انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کتاب کو مارکیٹ میں لے آ نے سے بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے کتابیں کم شائع ہورہی ہیں کتاب بھی خود لکھنا اور رقم بھی خود پبلشرز کو ادا کرنا ہر لکھاری کے لئے مشکل کام ہے اس مہنگائی نے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے

    پروفیسر جاوید عباس جاوید سے مقبول ذکی مقبول کی ملاقات

    مقبول ذکی مقبول نے پروفیسر جاوید عباس کی علمی و ادبی گفتگو کو سماعت کیا اور غلاماں کے معروف سرائیکی شاعر عبد المجید آصف لودھرا کے دو شاعری مجموعے پیش کیئے جس پر پروفیسر جاوید عباس جاوید نے مقبول ذکی مقبول کا شکریہ ادا کیا ۔

  • عاصم بخاری کی شاعری کا ماحولیاتی تناظر

    عاصم بخاری کی شاعری کا ماحولیاتی تناظر

    عاصم بخاری کی شاعری کا ماحولیاتی تناظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر مقبول زکی مقبول ، بھکر

    حسب ِ معمول میں اپنے اس تبصرے اور مضمون کا آغاز بھی عاصم بخاری کے ایک شعر سے ہی کروں گا ۔

    مجھ کو اعزاز یہ بھی حاصل ہے
    میں نے ماحول پر ، بھی لکھا ہے

    عاصم بخاری کی شاعری میں جہاں دیگر عصری موضوعات پاۓ جاتے ہیں وہاں ساتھ ساتھ ماحولیاتی شاعری بھی بڑے پر اثر انداز میں ملتی ہے ۔
    ایک پردرد اور فکر انگیز ماحولیاتی نظم ملاحظہ ہو

    جانے کیا جرم تھا درختوں کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    (نظم)
    کون فریاد سنتا ، بے چارے
    کتنی بے جگری سے چلے آرے
    قتل بے دردی سے ہوئے سارے
    جانے کیا جرم تھا درختوں کا
    پوچھتے ہو قصور ، ان کا تو
    جرم بتلاتا ہوں ، درختوں کا
    آکسیجن کا یہ ذریعہ تھے
    ٹھنڈی لے کر ہوائیں، آتے تھے
    جرم یہ تھا کہ چھاؤں، دیتے تھے
    جرم یہ تھا سبب ، تھے بارش کا
    جرم یہ تھا کہ روکتے آندھی
    اتنا کافی یا اور ، بتلاؤں
    (عاصم بخاری)
    اسی طرح ماحولیات کو متاثر کرنے والے عناصر میں ایک کا تذکرہ اپنی نظم میں کچھ ایسے کرتے ہیں

    شور
    ۔۔۔۔۔۔
    (نظم)

    شہروں میں ہے دھواں دھواں ہر سمت شوخیاں
    چین و سکوں کا چور یہ ہر سمت شور یہ
    درخت لگانا اگرچہ کارِ ثواب ہے مگر پھر نجانے ایسا کیوں دکھائی دیتا ہے ۔
    اِسی طرح موسموں کے تغیر اور جانوروں اور پرندوں کے قدرتی حسن اور ماحول کے ساتھ انسان دشمن رویے کو کچھ ایسے قطعہ میں بیان کرتے ہیں
    اجڑ کتنے گئے ہیں جانے مسکن
    ہوا اشجار کا قتل اجتماعی
    بظاہر اک لدی لکڑ سے گاڑی
    حقیقت میں جنازے جا رہے ہیں

    ماحولیاتی شور کی آلودگی کا ہمارے رویوں میں احساس تک دکھائی نہیں دیتا۔ ایک ثلاثی نظم میں خوب آئینہ دکھاتے ہیں ۔
    ثلاثی
    ۔۔۔۔۔۔
    سونے دیتا ہے کب جگاتا ہے
    صرف سنتا نہیں وہ خود گانے
    سارے گاؤں کو وہ سناتا ہے

    پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    ماحول پر انتہائی اثر انداز ہونے والے عوامل میں ایک قدرتی پانی بھی ہے جس کا انسانوں حیوانوں جانوروں سب سے براہء راست تعلق ہے ۔ جو کہ زندگی کا جزو لازم ہے مگر بڑی بے حسی اور بے جگری سےندی نالے نہریں اور دریا آلودہ کیے جا رہے ہیں ۔ ایک فکری نظمِ معریٰ دیکھیں

    پانی آلودہ
    (نظم)
    پانی آلودہ کارخانوں کا
    میں نے دریا میں گرتے دیکھا ہے
    مچھلیاں جائیں گی کہاں جانے
    آبی مخلوق کا بنے گا کیا

    ماحول جن عوامل سے متاثر ہوتا ہے اور سماج کے افراد کو اعصابی اذیت دیتا ہے وہ ہمارے ارد گرد بجنے والے بائیک اور گاڑیوں کےعجیب و غریب آوازوں والے ہارن ہیں ۔ جو کہ ہمارے سماجی شعور اور اخلاقی پستی کی تصویر ہیں ۔ اور فطری ماحول کو غارت کرنے کا بڑا سبب ہیں ۔ ایک ثلاثی نظم میں جس کی مکمل اور کامیاب عکاسی کی گئی ہے ۔

    ہارن
    ۔۔۔۔۔۔۔
    (نظم)
    اچانک بجنے سے دل کانپتا ہے
    سنے ہیں تو نے ہارن گاڑیوں کے
    کسی ہارن میں کتا بھونکتا ہے
    صاف شفاف اور پرسکون فطری اور قدرتی ماحول کو مشینوں کی حکومت اور اس صنعتی دور نے ناقابلِ تلافی نقصان پہچایا ہے ۔ فسوس اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ معصوم سیدھے سادے اور بھولے بھالے ہم وطن اس مشینری کو رحمت گراننے لگے ہیں ۔ جب کہ یہ ایک زحمت ثابت ہوئی ہے مشنیری۔۔۔فضائی آلودگی کے منبعوں کی نشاندہی کرتی ایک نظم

    دھڑا دھڑ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (ثلاثی)

    دھڑادھڑ ہر طرف چلتے تھریشر
    کریں ماحول کو آلودہ عاصم
    یہ آبادی میں سب قائم کریشر

    فطری حسن ماند پڑتا جا رہا ہے ۔ پرندے فقیر اور درویش منش ہوتے ہیں ۔ پیار کے متلاشی ہوتے ہیں ۔ نفرتوں سے دور بھاگتے ہیں ۔ ان کو پرسکون اوعر محفوظ ماحول کی ضرورت ہے مگر افسوس

    پرندے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نظم معریٰ

    کہاں جھیلیں ہیں عاصم کب شجر ہیں
    کہاں ٹھہریں بخاری اب پرندے
    دھماکوں پر دھماکے ہو رہے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فضاؤں میں زہر گھل چکا ہے ۔ دھماکوں کے شور نے فطری ماحول کی سازگاری کو ناسازی میں بدل دیا ہے ۔ پرندوں کو پرامن ماحول کی ضرورت ہے مگر جائے امان کہیں نہیں ملتی زیادہ تر تو اس دہشت کے بھینٹ چڑھ چکے ہیں جو باقی ہیں وہ نقل مکانی اور ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ منظر کشی دیکھئے
    نظم
    (معریٰ)
    پرندے کوچ کرتے جا رہے ہیں
    فضا بارودی کچھ ایسی ہوئی ہے
    زیادہ تر تو مرتے جا رہے ہیں

    اشرف المخلوقات حضرتِ انسان کا طرز عمل بھی اس فطری سکوت میں خلل ڈالنے میں بڑی کوشش سے مصروف ہے اور اس تخریب میں کامیاب بھی دکھائی دیتا ہے ۔ اس نے ایسے ایسے مصنوعی شور شرابے کے خرابے ایجاد کر لیے کہ سکون برباد ہو گیا ہے نظم دیکھیں

    ہارن
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اچانک بجنے سے دل کانپتا ہے
    سنے ہیں تو نے ہارن گاڑیوں کے
    کسی ہارن میں کتا بھونکتا ہے
    یہ تصویر کشی ماحول کی ارد گرد کی انھوں نے خوب پیش کی ہے اور اس ماحولیاتی برباد میں انسان کا اپنا ذاتی عمل دخل بہت زیادہ ہے ۔اس کا موردِ الزام کسی اور کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا

    آبی آلودگی کی صورت میں ماحول کو آلودہ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔کارخانے بظاہر خوشحالی کے ضامن ہیں مگر حقیقت میں فطری ماحول کو نیست و نابود کرنے میں اپنے عروج پر ہیں

    آلودہ پانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (نظم معریٰ)

    پانی آلودہ کارخانوں کا
    میں نے دریا میں گرتے دیکھا ہے
    مچھلیاں جائیں گی کہاں جانے
    آبی مخلوق کا بنے گا کیا

    قدرت نے ہمیں لاجواب فطری شفافیت سے نوازا تھا مگر ہم سے اس نعمت کو سنبھالا نہ جاسکا۔ سانس لینے کے لیے اب تازہ ہوا کا فقدان ہے ۔ بھلا کیوں نہ ہو ساری فضا کو انسان نے خود ہی اپنی بے شعوری سے کیا ہے ایک نظم میں تصویر کشی دیکھیں
    گرد ہی گرد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نظم معریٰ

    گرد ہی گرد کی اجازت ہے
    گرد ہی گرد اب تو ہونی ہے
    چار سو ہو گی کو بکو ہوگی
    تم تھریشر کی بات کرتے ہو
    اب کریشر بھی شہر میں ہوگی

    آج کے اس سائنسی دور میں انسانی شعور اپنے کمال پر ہے مگرتھوڑے اور وقتی فائدے کی خاطر بڑے بڑے نقصان کرنا بھی اِسی انسان کا خاصا ہے سورہء والعصر گواہ ہے ۔ ثلاثی نظم ملاحظہ ہو

    بارش
    ۔۔۔۔۔۔
    بارشوں کو تو اب ترسنا ہے
    پودا اک بھی نہ لگ سکا ہم سے
    بادلوں نے کہاں برسنا ہے

    اب گلوبل وارمنگ بڑا اہم موضوع ہے ۔ دنیا جس سے دوچار ہے ۔ اس طرح تو ہوتا ہے جب ہمارے جنگلات کا تناسب کم سے کم ہوتا جائے گا تو پھر ان مسائل سے تو ہم لا محالہ دوچار ہوں ۔

    ایک ثلاثی نظم خوب عکاسی کرتی ہوئی
    گرمی
    ۔۔۔۔۔۔
    گرمی شدت کی تو پڑے گی اب
    یاد رکھنا یہ بھول جانا مت
    تم نے اشجار کاٹ ڈالے سب

                       ***
  • پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    عاصم بخاری کی کرونائی شاعری

    عاصم بخاری کی کرونائی شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مبصر و محقق۔۔۔
    (مقبول ذکی مقبول ۔ بھکر)

    عاصم بخاری کی شخصیت اور شاعری کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ان کے ہاں عصری شعور بہتات کے ساتھ ملتا ہے ۔ ان کی شاعری کے موضوعات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ حالات و واقعات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔ان کے سامنے عالمی منظر نامہ بھی ہے ۔ دنیا کے مسائل پر صرف غور ہی نہیں کرتے اپنی محسوسات کو سپردِ قلم بھی بڑی خوب صورتی سے کرتے ہیں۔یہی ان کی شاعری کی صفت مجھے ان پر لکھنے پر اکساتی ہے ۔ ان کے آفاقی موضوعات میں سے ایک اہم موضوع ٫٫ کرونا وبا ،، بھی ایک ہے دیگر شعرا کی طرح عاصم بخاری نے بھی اس وائرس مختلف علامتوں تلازموں اور زاویوں سے نہ صرف دیکھا بل کہ اس پر بہت سے اشعار اور نظمیں مختلف شعری اصناف میں بھی کہیں ۔ جو کہ سبق آموز بھی ہیں ، ہمت افزا بھی ۔ جن میں اسلامیت بھی ملتی ہےاور فکر بھی ۔
    ایک نظم ملاحظہ ہو۔

    اک ایسا دور آیا تھا
    کہ چوپایوں پرندوں کو
    کوئی ڈر تھا نہ خطرہ تھا
    کھلی عاصم فضاؤں میں
    اڑانیں بھر رہے تھے وہ
    اگر تھی قید پابندی
    فقط انسان پر ہی تھی
    جسے گھر میں ہی رہنا تھا
    کسی سے بھی نہ ملنا تھا
    کرونا کی وبا نامی
    وہ کیسا دور آیا تھا
    وہ کیوں کر دور آیا تھا
    کبھی تو نے نہیں سوچا
    اے مخلوقات سے اشرف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وقت کی ضرورت کے مطابق ان کی ایک اور خیال انگیز نظم دیکھیں

    یہ وقت ہے عاصم توبہ کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (ایک کرونائی نظم)

    یہ وقت ہے یار منانے کا
    یہ وقت ہے جھکتے جانے کا
    کیا واۓ رس یہ آیا ہے
    جس نے سب کو تڑپایا ہے
    بتلایا ہے اس نے اتنا
    میں کچھ بھی نہیں میں کچھ بھی نہیں
    اس خالق کی ناراضی ہوں
    بس توبہ کرو غلطی مانو
    تب جان تمہاری چھوڑوں گا
    سب مان تمہارے توڑوں گا
    تم کہتے ہو ہم طاقت ور
    ہیں دنیا کے اب دیکھ لیا
    یہ واۓ رس اک چھوٹا سا
    وہ قادر ہے ہر اک شے پر
    کم زور ہو تم کم زور ہو تم
    تم کچھ بھی نہیں تم کچھ بھی نہیں
    کچھ ہوش کرو اے نادانو
    یہ وقت نہیں ان باتوں کا
    جن باتوں میں تم الجھے ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس وبا کے بارے عاصم بخاری اپنے وسیب کے مکینوں کو بڑے دل چسپ انداز میں وعظ و نصحیت کرتے دکھائی رہے ہیں۔کہیں کہیں ان کا لہجہ بزرگانہ بھی ہو جاتا ہے ۔ اس وائرس سے بچاؤ کا واحد حل سماجی فاصلہ ہے ۔ عالمی ادارہ ء صحت کی ہدایات کو نظم کے روپ میں کس سلیقے سےخیر خواہانہ انداز میں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
    نظم دیکھئے

    چار دن قید یہ کاٹ لو دوستو
    گھر رہو گھر رہو گھر رہو دوستو

    ہے اِسی میں ہی بس عافیت آپ کی
    کچھ کرو مت کرو گھر رہو دوستو

    بہتری ہے اسی بات میں آپ کی
    گر مری مان لو گھر رہو دوستو

    خوش نہیں رب مرا ہم سے ناراض ہے
    راضی اس کو کرو گھر رہو دوستو

    اس وبا کے گزر جانے تک لازماً
    دوستوں سے کہو گھر رہو دوستو

    پانی سر سے گزر ہی نہ جاۓ کہیں
    ہاتھ پھر مت ملو گھر رہو دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس سماجی فاصلہ کے دور میں سب مشکل بچوں کو گھر قید اور قابو رکھنا تھا بچے چوں کہ نادان ہوتے ہیں اس لیے کہ انہیں حالات و واقعات کی سنگینی کا اتنا اندازہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان کو احتیاطی تدابیر عمل کرانا مشکل ہو جاتا ہے ۔انہیں بڑے پیار سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ لہر پہلی کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے ۔ پروفیسر عاصم بخاری بچوں کے لیے اس نظم میں کیا ہمدردانہ رنگ اپناتے ہیں ۔
    (نظم)

    پھر کرونا آیا بچو
    پھر خطرہ منڈلایا بچو
    جس نے اپنی جان بچائی
    اس نے کر لی خوب کمائی
    صحت کے حفظان نہ بھولو
    بات یہ میری جان نہ بھولو
    ڈھانپ کے رکھو اپنا چہرہ
    فاصلے پر کچھ اور بسیرا
    اک دوجے سے دور رہو تم
    گرچہ ہو مجبور رہو تم
    دور سے ہی خیریت جانو
    اس میں ہی عافیت جانو
    ہاتھوں کو مت دھونا بھولم
    صحت کو مت کھونا بھولو
    ہر اک زخم کو سینا ہے اب
    بچ بچا کے جینا ہے اب
    اس کی طرز جدید ہے ہے عاصم
    اب کی لہر شدید ہے ہے عاصم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بخاری اس خوف زدہ فضا میں امید حوصلے اور ہمت کا لفظی و شعری چراغ لے کر نکلے ہیں ۔ اور چِین جیسے ملک کی مثالی پیراۓ میں بات کی ہے ۔ زندہ قوموں کا تذکرہ کیا ہے ۔ شاعر کا کام بھی یہی ہوتا ہے افسردگی اور پژمردگی کی رت میں اچھے دنوں کی باتیں کرنا ۔
    نظم دیکھئے

    کرونائی نظم

    ہے بڑی چیز یہ حوصلہ دوستو
    منزلوں کا یہی راستہ دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آتے رہتے ہیں وقت ایسے اقوام پر
    ہے ازل سے یہی قاعدہ دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وقت ہے ساتھ دو یہ گھڑی دو گھڑی
    خوف کھانے سے کیا فائدہ دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کام گھبرانے سے تو بنے گا نہ یہ
    کوئی بھی جائے نا بوکھلا دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے گزارش یہی قید گھر میں رہو
    اور سب سے رکھو فاصلہ دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حق میں بہتر تمہارے ہے بس اب یہی
    دور سے ہی رکھو رابطہ دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزم سے جس نے اس کی کمر توڑ دی
    سامنے آپ کے چائنہ دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندہ قوموں کو دیکھا گیا متحد
    ہم نے تو بس یہی ہے پڑھا دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم نے بھی اس وبا کا گلا گھونٹنا
    قوم ساری کا ہے فیصلہ دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں دعا بھی کریں اور دوا بھی کریں
    خوش نہیں ہے یقیناً خدا دوستو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرد مشکل میں گھبراتے عاصم نہیں
    یہ کرونا ہے کیا ، اک وبا دوستو

            ***

    آخر میں جوابِ شکوہ کی صورت عاصم بخاری خلقِ خدا کو احساس تازیانہ لگاتے مفکرانہ انداز اپناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اتنی بڑی پریشانی کے باوجود اے انسان تو نے اپنے طرزِ عمل پر غور نہیں کیا ۔ خود کو نہیں بدلا ، لہٰذا تجھےاپنے آپ پر غور کرنے کی ضرورت ہے جب تک تو اپنے آپ کو نہیں بدلے گا تبدیلی کیسے آئے ۔ ایک فکری نظم میں دیکھئے
    (نظم)
    سماج میرا اناج میرا
    اجارہ داری ہے کیوں تمہاری
    کہ مہنگے داموں ذخیرہ کرکے
    ہر ایک نعمت کو بیچتے ہو
    کہ آزمائش کی اس گھڑی میں
    مذاق بھی تم اڑا رہے ہو
    اڑا رہے ہو مذاق بھی تم
    علیم ہوں میں خبیر ہوں میں
    میں مکر سارے فریب سارے
    میں لفظ کن سے سمیٹ لوں گا
    بلا سے عاصم وبا سے عاصم
    فضا کو کیسے میں پاک کردوں
    رویہ سب کا رویہ جگ کا
    ابھی وہی ہے ابھی وہی ہے

  • ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    تجزیہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    حسبِ سابق امسال بھی ضلع بھکر کا نظم و نثر اور جملہ ادبی سرگرمیوں کا اجمالی جائزہ شائقین و قارئینِ ادب کی بارگاہ میں بہ صد خلوص و احترام پیشِ خدمت ہے ۔ جس سے باآسانی گزشتہ سالوں سے موازنہ ہو پائے گا ۔ کہ یہ سال ادبی حوالے سے کیسا رہا ۔

    سرائیکی شاعر استاد الشعراء سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، محلہ سردار بخش بھکر شہر میں رہتے ہیں ۔ آپ سکول آف تھاٹ کا درجا رکھتے ہیں ۔ گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی آپ کی رہائش گاہ ( ڈیرہ کاکا خیل) پر شعراء و ادباء کا آنا جانا لگا رہا ہ ۔ شان دار ادبی نشستیں ہوتی رہیں اور تین مشاعرے بھی ہوئے ۔ اور ایک کتاب کی تقریب رونمائی بھی

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    ارشد حسین خوبصورت شاعر ہیں بھکر شہر سے ہیں حلقہ فروغِ ادب بھکر کے چیئرمین ہیں حلقہ فروغِ ادب کے زیرِ اہتمام 2 ذی الحجہ 2024ء کو ایک محفل مسالمہ منعقد ہوا ۔
    زیرِ صدارت ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ ( سابق ایم این اے) اور مہمانِ خصوصی استاد الشعراء سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی تھے مقامی شعرا نے بھرپور شرکت کی ۔
    یہ محفل مسالمہ ارشد حسین بھٹی کی رہائش گاہ بھکر شہر میں منعقد ہوا اس کے بعد 2024ء میں کوئی اور ادبی کام سامنے نہ آ سکا۔

    جاوید عباس جاوید کے قلم سے لکھے ہوئے چند مضامین مقامی اخبارات میں میں گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں ۔

    روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی اخبار نے مثبت کردار ادا کیا ہے سال 2024ء میں بھی شعرو شاعری میسج بک کے نام سے ڈیلی کی بنیاد پر نوجوانوں کے پسندیدہ منتخب اشعار شائع ہوتے رہے ہیں ۔ جولائی 2024ء سے تسلسل کے ساتھ انیل چوہان کی غزل شائع ہوتی رہی ہے ۔ راقم الحروف اور دیگر قلم کاروں کی تحریریں اور ادبی خبریں وغیرہ روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر کی زینت بنتی رہی ہیں ۔

    روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر اور روزنامہ ٫٫ سچائی ،، بھکر اخبارات گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی ادبی مضامین و خبریں وغیرہ شائع کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے ۔ اس طرح سے لکھاریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ۔

    محفلِ مسالمہ 2 جولائی 2024ء کو گلشنِ مدینہ بھکر میں قلب عباس عابس کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا ۔

    ڈاکٹر خالد اسراں شاعر و ادیب ہیں اور ادبی تنظیم بزمِ ہادی کے بانی ہیں ۔ ان کی کُتب کا تفصیلی ذکر ادبی جائزہ سال 2023ء میں کیا گیا ہے ۔ بزمِ ہادی کے زیرِ اہتمام ہاشمی کلینک منڈی ٹاؤن بھکر دو ادبی نشستیں منعقد ہوئی ہیں ۔ اس بزمِ کے زیرِ اہتمام 2024ء میں ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے ۔

    ادبی مشاعرہ 7 اکتوبر 2024ء کو ( اونرالمدینہ بوائز ہاسٹل نزد لاری اڈا بھکر ) منعقد ہوا جس میں معروف شعراء کرام نے شرکت کی ۔

    تحصیل بھکر کے قصبہ میں عابد علیم سہو ، اڈا جہان خان چک نمبر 46 میں مقیم ہیں ۔ اُردو پنجابی اور سرائیکی زبان میں شاعری کرتے ہیں ۔ بزمِ رفیق کے روحِ رواں ہیں ان کی بزمِ کے زیرِ اہتمام دو ادبی نشستیں 2024ء میں منعقد ہوئی ہیں ۔

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    12 اگست 2024ء کو سالانہ تقریب پرچم کشائی کے موقع پر محفل مشاعرہ واٹر سپلائی گراؤنڈ نزد گرلز کالج ، بہل میں منعقد ہوا جس میں بھرپور شعراء کرام نے شرکت کی اور عوام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

    9/10 نومبر 2024ء کی درمیانی شب جناح اسکول اینڈ کالج کیمپس دریا خان دوسرا سالانہ مشاعرہ منعقد ہوا ۔ بانیان محفل مشاعرہ ڈاکٹر محمد پروان انجم اور ملک نصیر پہوڑ تھے ۔

    جاوید اختر فاروق تحصیل دریا خان کے گاؤں برکت والا کے رہائشی ہیں ۔ ادبی تنظیم بہارِ ادب کے روحِ رواں ہیں ۔ ادبی تنظیم بہارِ ادب کے زیرِ اہتمام جون 2024ء کو ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ اس تنظیم بہارِ ادب کے باقی ادبی پروگرام حالات کا شکار ہوگئے ہیں ۔

    تحصیل دریا خان کا قصبہ دُلے والا شاہنواز ارشد (مرحوم) اور نجیب اللّٰہ خان نیازی (مرحوم) کی یاد میں ایک مشاعرہ 14 ستمبر 2024ء کو منعقد ہوا ( بمقام اسلام دال ملز ایم ایم روڈ دُلے والا) جس میں بھرپور شعراء اور سامعین نے شرکت کی منتظمین میں عبد الغفار نئر اور احسن حیات مغل تھے ۔

    تحصیل کلورکوٹ بزمِ طاہر ، شاہ عالم نشیب بستی اکڑا کانجن 2024ء میں ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو ادبی نشست ہوتی رہی ہے اور سالانہ مشاعرہ 4 اکتوبر 2024ء کو منعقد ہوا ہے ۔

    تحصیل کلورکوٹ کے گاؤں غلاماں میں ادبی تنظیم بزمِ یاراں کے روحِ رواں فاروق احمد فاروق تھلہ ہیں ۔ ان کی بزمِ کے زیرِ اہتمام 2024ء میں ادبی نشستیں ہر ماہ کو باقاعدگی سے ہوتی رہی ہیں اور ایک شاندار و کامیاب مشاعرہ 23 نومبر 2024ء کو منعقد ہوا ہے
    اسی گاؤں کی ایک اور ادبی تنظیم بزمِ پارت ہے جس کے بانی و صدر ذوالفقار راقم ہیں ۔ 2024ء میں ان کی بزمِ نے ہر تین ماہ بعد ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا ہے اور دو بڑے کامیاب مشاعرے بھی کرواچکی ہے ۔

    28/29 ستمبر 2024ء کی درمیانی شب اکڑا کانجن تحصیل کلورکوٹ میں سرائیکی محفل مشاعرہ منعقد ہوا بانی مشاعرہ ملک محمد اشرف جوئیہ ، ملک غلام شبیر کانجن تھے ۔

    تحصیل منکیرہ کے شمالی گاؤں گوہر والا میں بشیر گوندل کی ادبی تنظیم تھل سرائیکی چانناں کے زیرِ اہتمام۔ 5 ستمبر 2024ء کو گوہر والا میں ایک نشست منعقد ہوئی جس میں عصمت گرمانی ، کاظم حسین کاظم اور مقامی شعرا نے شرکت کی اسی تنظیم کا سالانہ مشاعرہ 5/6 اکتوبر 2024ء کی درمیانی شب تیمور چوک گوہر والا میں منعقد ہوا ۔

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    بزمِ اوجِ ادب یہ ادبی تنظیم منکیرہ شہر میں ہے ۔ اس کے بانی و چیئرمین مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ گزشتہ سال کی طرح ماشاءاللہ سال 2024ء میں بزمِ اوجِ ادب نے اچھی خاصی کارگردی دکھائی ہے ۔ مرحوم شعراء کی یاد میں تعزیتی اجلاس 2024ء ایک علی شاہ (مرحوم) 16 جون 2024ء کو ہوا دوسرا شاہنواز ارشد (مرحوم) 22 اگست 2024ء کو ہوا مرحومین کے لیے قرآن خوانی کی گئی بلندیِ درجات کے لئے دعائیں کی گئیں اور شعراء نے خراجِ تحسین پیش کیا ۔ جون 2024ء کو نعتیہ نشست ہوئی گرد و نواح اور مقامی شعرا نے شرکت کی بزمِ اوجِ ادب نے ایک اسناد تقریب جھنگ سٹی میں منعقد کرائی 17 نومبر 2024ء کو ایک نعتیہ نشست 30 نومبر 2024ء کو منعقد ہوئی جس میں بہاولپور اور روہی سے شعراء کرام تشریف لائے اور منکیرہ کے مقامی شعرا نے شرکت کی 8 دسمبر 2024ء کو بزمِ اوجِ ادب نے 9 شعراء کرام کو انوارِ اہلبیت علیہ السّلام ایوارڈ پیش کیا ۔ بزمِ اوجِ ادب کے زیرِ اہتمام تین کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔
    راقم الحروف شاعری اور مضامین مقامی ملکی رسائل و جرائد و اخبارات میں گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں ۔

    انیل چوہان منڈی ٹاؤن بھکر میں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کا اُردو غزلیات و نظمیات پر مشتمل مجموعہ ٫٫ زندگی نامہ ،، کے نام سے دسمبر 2024ء میں منصہء شہود پر آچکا ہے ۔

    اردو اور سرائیکی شاعر جاوید دانش بھکر کی بستی اکبر آباد نشیب میں مقیم ہیں ۔ ان کی رثائی نظمیں پر مشتمل مجموعہ پلکوں پہ دیپ 2024ء کو لکھنؤ سے شائع ہوا ۔

    قمر بخاری کا تعلق جھوک ٹبہ بھکر نشیب کے رہائشی ہیں ۔ان کا سرائیکی غزلیات پر مشتمل مجموعہ ٫٫ گنگے لوک ،، 2024ء شائع ہوا ۔

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    تحصیل دریا خان کے بستی چاہ اسراں والا چک نمبر TDA 18 میں رہائش پذیر
    ملک نعمان حیدر حامی ان کا افسانوی مجموعہ ٫٫ اے محبت مجھے معاف کر ،، 2024ء کو منصہء شہود آیا ہے ۔

    تحصیل کلورکوٹ کے گاؤں غلاماں کے رہائشی عبد المجید آصف لودھرا کے 2024ء میں دو سرائیکی شاعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ ایک نام ہے ٫٫ دھاڑیں ،، اور دوسرے نام ٫٫ ہکَل ،،

    محمد اقبال بالم کا تعلق منکیرہ شہر سے ہے ۔ ان کے 2024ء میں دو شاعری مجموعے شائع ہوئے ہیں ایک ٫٫ گُدڑیاں ،، اور دوسرا ٫٫ ہیں آنکھیں نم اُسے کہنا ،،

    مقبول ذکی مقبول کا تعلق منکیرہ شہر سے ہے ۔ 2024ء کو دو شعری مجموعے اور ایک نثر کی کتاب شائع ہو چکی ہے ۔ جن کے نام یہ ہیں ٫٫ یہ میرا بھکر ،، ٫٫اندازِ بیاں دیکھ ،، اور ٫٫ شذراتِ مقبول ،،

    2024ء میں جو شعراء ہم سے بچھڑ گئے ہیں ۔
    ان میں عاصم تنہا ( 5جنوری 2024ء) چاندنی چوک ،
    جمشید اقبال جمشید (4 اگست 2024ء) بھکر سیٹی ،
    سجاد ظفر کلیم (7 ستمبر 2024ء) دُلے والا

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    مجموعی طور پر یہ سال گذشتہ سالوں کے مقابلے میں ادبی لحاظ سے سرد رہا ۔سرگرمیاں ماند رہیں ۔ شاید مالی مشکلات غالب رہیں ۔

  • پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    عاصم بخاری کی ماہیا نگاری

    عاصم بخاری کی ماہیا نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تجزیہ کار
    مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    عاصم بخاری ایک زود نویس شاعر و ادیب ہیں ۔ ان کے ہاں موضوعاتی وسعت اور تنوع ملتا ہے ۔ قدیم و جدید موضوعات و اصناف پر نت نئے تخلیقی تجربات کرنا ان کا مرغوب مشغلہ ہے ۔ ان کی شاعری کا اگر جائزہ لیا جائے ہمیں غزل کے ساتھ ساتھ نظم اور نظم کی جملہ جدید و قدیم اصناف میں طبع آزمائی ہوری طاقت کے ساتھ ملتی ہے ۔ ان کے ہاں روائتی اور قدیم اصناف نظم کے ساتھ ساھ آزاد نظم معریٰ نظم قطعہ ثلاثی ہائیکو ترائیلے کے ساتھ ساتھ اردو ماہیا نگاری بھی اپنی فکری و فنی پختگی کے ساتھ ملتی ہے۔
    اگر ان کی ماہیا نگاری کا جائزہ لیا جائے تو روایت کی پاسداری کرتے ہوئے حمد سے آغاز کرتے ہیں

    حمدیہ ماہیا
    ۔۔۔۔
    ہر کام کرے گا وہ
    کچھ فکر نہ کر عاصم
    مخلوق کا خالق جو

    ایک اور حمدیہ ماہیا جس میں اپنے انداز میں ثمدِ ربی بیان کرتے ہیں

    حمدیہ۔۔۔ ماہیا
    خوابیدہ پرندوں کو
    اشجار سے جو عاصم
    گرنے نہیں دیتا وہ

    حمد کے بعد ان کی شاعری میں دہلوی و لکھنوی انداز میں نعت ملتی ہے ۔
    نعتیہ ماہیے کے اندر موضوعاتی جدت ہے تنوع ہے
    آ نعت کہیں عاصم
    محفوظ زمانے کے
    ہر غم سے رہیں عاصم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیا خوب کمائی ہے
    یہ نعت کے کہنے کی
    توفیق جو پائی ہے
    ۔۔۔۔۔
    قرآن میں آیا ہے
    سرکارِ دوعالم ﷺنے
    ہر قول نبھایا ہے
    ۔۔۔۔۔
    انمول خزینہ ہے
    اس نعت کے کہنے کا
    جس کو بھی قرینہ ہے

    پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    دنیا کی بے ثباتی دیگر شعرا کی طرح عاصم بخاری کی شاعری کا بھی موضوع رہی ہے ۔ ماہیا دیکھیں ۔
    جوں بلبلے پانی کے

    یہ ذہن میں رکھ عاصم
    دن چار جوانی کے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بخاری واقعی درویش صفت اور اتتہائی سادہ مزاج ہیں ۔ شخصیت ہمیشہ فن میں جھلکتی ہے ۔ ان کی شخصیت کا آئینہ دار ایک ماہیا
    تُو سادہ بخاری ہے
    چالاک زمانہ یہ
    ہر شخص شکاری ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کردار کی عظمت کے بخاری زیادہ قائل ہیں ۔ اس بات کا اطلاق اپنی ذات پر بھی کرتے ہیں ۔اور سماج کو بھی اس کی اہمیت بتانے کے ساتھ ساتھ ترغیب بھی دیتے ہیں
    ماہیا دیکھیں
    یہ بات ہی پانی ہے
    کردار نے رہنا ہے
    انسان تو فانی ہے

    ۔۔۔۔۔۔
    دنیا کی ناپائیداری بھی ان کے صوفیانہ مزاج کی عکاس ہے ۔انہیں اس بات کا بہ خوبی ادراک ہے کہ یہ گھر یہ شہر یہ ملک یہ دنیا چند روزہ ہے لہٰذا ہم نے یہاں مسافر کے جیسے اچھے سلوک کے ساتھ گزارا کرنا ہے ۔
    ماہیا
    یہ شہر تمہارا ہے
    اپنا تو یہاں دو دن
    دل دار گزارا ہے
    ۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری کی شاعری میں رومان اور رومانویت بھی ملتی ہے ۔ ماہیا چوں کہ ہندی اور رومانوی صنف ہے ۔ لہٰذا انھوں نے اس صنف کے مزاج کا بھی خیال رکھا ہے
    ماہیا
    پھولوں کا وہ مسکانا
    بھاتا ہے مجھے تیرا
    دل دار یہ شرمانا
    اردو شاعری کا ایک خاص موضوع فراق ہجر اور وچھوڑا کی کیفیت و اذیت کا اظہار

    ماہیا
    پردیس نہیں جانا
    روزی کے بہانے سے
    مجھ کو نہیں تڑپانا

    محبوبانہ نزاکت اور شاہانِ وقت یعنی حسن و عشق کا خوب صورت تقابلی ماہیا

    اس چال پہ قرباں ہیں
    یہ کیسے بتاووں میں
    جو وقت کے سلطاں ہیں

    عاصم بخاری کی ماہیا نگاری میں ماہیا کے رنگ اور میں ڈھل کر رومانویت سے بھرپور عشقیہ انداز اپنایا ہے ۔

    ماہیا
    تُو غیر پرایا تھا
    اک میں نہیں مانی تھی
    سب جگ نے بتایا تھا
    ۔۔۔۔
    دل کی کیفیات اور عشق میں اس کی بے بسی کی بھی خوب منظر کشی و عکاسی ہے ۔
    ماہیا
    دل کون لگاتا ہے
    ہے قول سیانوں کا
    یہ وقت بتاتا ہے
    ۔۔۔
    توصیفِ جمال کج جھلک بھی عاصم بخاری کے مزاج کی رومانویت کی غمازی کرتی ملتی ہے


    ماہیا
    کیا چہرہ کتابی ہے
    اک مست نہیں آنکھیں
    لہجہ بھی شرابی ہے
    ۔۔۔۔
    قاصد کا کردار معاملاتِ عشق میں بڑا اہم رہا ۔ اسی موضوع کو کچھ یوں لیتے ہیں
    ماہیا
    قاصد نہ کوئی بھیجا
    بھولوں تو بتا کیسے
    ظالم وہ ترا لہجہ
    ***

  • پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    عاصم بخاری کی غزل گوئی

    عاصم بخاری کی غزل گوئی

    تبصرہ نگار
    (مقبول ذکی مقبول بھکر)

    عاصم بخاری میانوالی کے پر گو اور جدید لب ولہجہ کے شاعر ہیں۔ان کی شاعری ان کے اسلوب اور مزاج کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔یہی انفرادیت ان کو شاعروں میں منفرد و ممتاز کرتی ہے۔ان کے ہاں ہمیں روایت بھی ملتی ہے اور روایت سے بغاوت ہے۔ان کے ہاں کہیں کہیں مزاحمتی رنگ بھی نمایاں ملتا ہے۔ان کی طرز ادا اور جدت ِ خیال کمال پر ہے۔یہ موضوعات ایسے اپناتے ہیں جن پر واقعی قلم اٹھانے کی ضرورت ہے۔محبت بھی ان کا موضوع ہے مگر اس کا زاویہ اپنا ہے۔دیس اور وطن کی مٹی شہروں کا گاؤں کا ذکر ان کے ہاں اچھوتے انداز میں ملتا ہے۔عصری شعور اور سماجی مسائل رویوں کو بڑی خوب صورتی سے اشعار میں ڈھالنے کا انہیں کمال ہنر آتا ہے۔ عاصم بخاری ایک صاحب مطالعہ شخص ہیں۔غزل کے مزاج اورواس کی نزاکتوں لطافتوں سے آشنا ہیں۔اس کی وسعتوں کا بھی انہیں اندازہ ہے۔فارسی غزل کو انھوں نے پڑھا ہی نہیں سمجھا بھی ہے۔اردو کے کلاسک دور کی غزل کی جھلک بھی ان دکے یہاں ہمیں ملتی ہے۔ غالب میر ناصر کاظمی اقبال اور جون ایلیا سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ فکری اور فنی موضوعاتی و اسلوبیاتی پختگی ان کی غزل کی پہچان ہے۔ایک غزل کے دو اشعار میں گاؤں ذکر کس خوب صورت انداز میں کرتے ہیں۔

    شہروں کی بات ، ہم نہیں کرتے
    چین امن و سکون ، گاؤں میں

    شادی ہو یاکہ غم ، میں دیکھا ہے
    کام آتا ہے "خون” ، گاؤں میں
    ۔۔۔۔۔۔
    اسی طرح بات سے بات نکالنے کا ایک اور انداز جس میں شہری زندگی اور گا کے حسن ِ معاشرت کو کس گہرائی و گیرائی سے ایک غزل میں اپنے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔

    پیسے کا ہر غلام ، شہروں میں
    چین سب کا حرام ، شہروں میں
    ۔۔۔۔۔
    زندوں کو نوچتے ہوئے ہر پَل
    جابجا اور عام ، شہروں میں
    ۔۔۔۔۔۔
    ڈر نہ جنگل میں اب رہا کوئی
    بھیڑیے ہیں تمام، شہروں میں
    ۔۔۔۔۔۔
    یہ تو گاؤں کا حسن ، ہے سارا
    کون کرتا سلام ، شہروں میں
    ۔۔۔۔۔
    جو کہ عورت کو گاؤں میں ملتا
    وہ کہاں احترام ، شہروں میں
    ۔۔۔۔۔۔
    ملتی ہیں دولتیں بھی شہرت بھی
    خوب بنتا ہے نام ، شہروں میں
    ۔۔۔۔۔
    پوچھنے والا ہی نہیں کوئی
    ہر کوئی بے لگام ، شہروں میں
    ۔۔۔۔۔۔
    کچلے جاؤ گے ورنہ تم عاصم
    چلنا ہے تیز گام ، شہروں میں

    عاصم بحاری کی غزل رومانویت میں ڈوبی ہوئی ہے فطرت اور مظاہر فطرت کا تذکرہ بھی ان کی شاعری میں بڑے پر اثر انداز میں ملتا ہے۔
    غزل دیکھیۓ

    فردوس کی خوشبو ہے کہ جنت کے نظارے
    ساحل کی ہوا اور ، کھلے گیسو تمہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بے تاب نہیں چاند ، فقط دید کی خاطر
    جھک جھک کے تجھے تکتے ہیں افلاک کے تارے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اے حسن کی دیوی ، تری تعظیم کی خاطر
    دریا کی ہر اک لہر ، قدم چومے تمہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قاتل ہیں مری جان ، تری ساری ادائیں
    اس دل کو لبھائیں ترے ابرو کے اشارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اِس دل نے تو ہر حال ، یہی ٹھان لیا ہے
    جینا ہے تو جینا ہے ، فقط تیرے سہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل کہتا ہے ساتھ اس کا ہو اور چاندنی راتیں
    آ ، عمر بِتا دیں ، سبھی اس "دریا کنارے”

    پروفیسر عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری

    عاصم بخاری کی غزل

    مشاہیر و ماہرین کی نظر میں
    ۔۔۔۔۔۔
    پروفیسر عاصم بخاری کی شاعری سے زندگی بولتی ہے ان کی شاعری اس زمانے سے ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں اپنے اشعار کے لیے وہ تخیل اپنی زندگی سے کشید کرتے ہیں ان کی شاعری ان کی زندگی کے مشاہدات کا عکس ہے وہ بہت ہی آسان الفاظ میں زندگی کی حقیقتوں کو بیان کرتے ہیں ان کے اشعار مضمون آفرینی سے بھرپور ہوتے ہیں ان کی غزلوں کے اچھوتے اور مختلف ردیف ان کا اچھوتا اور مختلف تعارف ہیں جہاں انہوں نے سنجیدہ کلام کہے ہیں وہاں انہوں نے معاشرے میں پائے جانے والے مختلف تضادات پہ طنز بھی کی ہے ان کے طنز کا انداز اس طرح ہے کہ قاری بھی زندگی کے ان تضادات کو آسانی سے سمجھ پاتا ہے ان کے کلام میں ظرافت کا پہلو بھی ہے اور اس ظرافت میں کہیں بھی کسی پر تنقید نہیں بلکہ وہ مثبت انداز میں اپنے مشاہدات کو رقم طراز کرتے ہیں بے شک پروفیسر عاصم بخاری اس عہد کے نمائندہ شاعر ہیں جس میں وہ جی رہے ہیں

    ڈاکٹر اعجاز کشمیری مظفر آباد(آزاد کشمیر)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    عاصم بخاری کا غزلیہ رنگ

    "میاں والی کے عاصم بخاری کی غزلیں بتاتی ہیں کہ وہ عظیم غزل گو ہے۔ میاں والی کا شہر گو مین لائن سے ہٹ کر ہے مگر زرعی اور ذہنی زرخیزی کے اعتبار سے نامور شہر ہے۔ اس کے شہری عاصم بخاری کی غزلیں مزاجی اعتبار سے حسن و عشق کی داستان ہے مگر اس میں زندگی اور زمانے کی کلفتیں اور دکھ اور کرب کے سلسلے بھی تاثر خیز ہیں۔ مثلاً:
    راحتیں ڈھونڈتا ہے ، دل وہی
    الفتیں ڈھونڈتا ہے ، دل وہی
    جلوتوں سے ہیں عاصم اکتائے ہوئے
    خلوتیں ڈھونڈتا ہے ، دل وہی
    اس نے حسن و عشق کے معاملات میں منفرد اور خیال انگیز باتیں کی ہیں۔ ایسی باتیں جنھیں پڑھ کر/سن کر قارئین بھی اپنی ذات کے اندر محسوسات کی دنیا کو انگڑائیاں لیتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یوں اس کی شاعری محسوسات کی کرب ناک کیفیات کی داستانِ الم ہے لیکن حسن و عشق کے آئینے میں۔ مثلاً
    فردوس کی خوشبو ہے جنت کے نظارے
    ساحل کی ہوا اور کھلے گیسو تمھارے
    قاتل ہیں مری جان ، تری ساری ادائیں
    اس دل کو لبھائیں ترے ابرو کے اشارے
    آج چہروں پر کئی چہرے چڑھاتا ہے جہاں
    ہو کوئی اتنا غمگیں بھی یہ ضروری تو نہیں
    اس کی غزل میں تضاداتِ زندگی بھی ہیں اور دکھ اور کرب کے دل دوز سلسلے بھی۔ پھر ڈکشن بڑی سادہ اور تفہیم کن ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ اس نوع کی غزلوں کے گلستاں کھلاتے رہیں۔”

    (ڈاکٹر مختار ظفر۔ملتان) "عاصم بخاری درس و تدریس سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقِ شعرکے میدان میں بھی اپنے جوہر دکھاتے رہتے ہیں۔اُن کی پسندیدہ شعری صنف اردو غزل ہے۔وہ غزل تخلیق کرتے ہوئے موضوعاتی حوالے سے روایت کی پاسداری بھی کرتے ہیں اور جدت کے طرف دار بھی نظر آتے ہیں۔اُن کے اشعار سہل ممتنع کا عمدہ نمونہ معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح اُن کی اکثر غزلیں چھوٹی بحر کی عکاس ہیں۔دنیا کی بے ثباتی محبوبِ مجازی کے حسن و جمال کی تعریف۔۔وسیبی زندگی کے مسائل اور مظاہرِ فطرت کا تذکرہ ان کی غزل کے نمایاں موضوعات ہیں۔اگراُن کی غزل فنی و فکری میدان میں اِسی طرح مائل بہ ارتقا رہی تو وہ مستقبل میں منفرد غزل گو کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے”۔ (ڈاکٹر سعید عاصم بھکر)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "پروفیسر عاصم بخاری کا تعلق اگرچہ میانوالی سے ہے مگر ان کی ادبی شہرت لامقامی ہوتی جارہی ہے _ سبب یہ ہے کہ انھیں قدرت نے تخلیق ، تنقید اور تحقیق کی صلاحیتوں سے نمایاں طور پر نوازا ہے اور پھر اس پر ان کا مطالعہ ، مشاہدہ اور ریاضتفن ہے جو ہمیشہ سے کام یابی کی کنجی رہی ہے یک طرف تو حمدونعت،منقبت جیسی بابرکت اصناف میں ان کی طبع آزمائی آج کے عمومی مزاج سے ہٹ کر محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ پوری تخلیقی شان کی حامل ہے اور دوسری طرف ان کی غزل کلاسیکی رچاؤ میں گندھے عصری شعور کی عکاس ہے _ پروفیسر عاصم بخاری کی متنوع ادبی شخصیت ایک مبسوط اور جامع تنقیدی مطالعے کی متقاضی ہے _ جناب مقبول ذکی جیسے اہلنظر کا اس طرف متوجہ ہونا باعثاطمینان ہے _”

    ڈاکٹر سید عتیق جیلانی
    ، حیدر آباد سندھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      "عاصم بخاری کی غزل گوئی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلاشبہ شعر و سخن سپردگی اور محویت کا حد درجہ متقاضی ہوتا ہے۔حیات و کائنات اور زندگی کی بلند ترین اقدار کا شعور منعکس ہونا ادب کی آفاقیت کی جانب سفر کا پہلا زینہ ہے۔ آج کے شعرا اور ادبا میں یہ وصف انھیں دیگر سخن وروں سے ممیزبنا دیتا ہے۔ عاصم بخاری کی شعر گوئی ان اوصاف سے مزین ہے۔جو انھیں عصر ِ حاضر کے شعرا میں اعتبار بخشے ہیں اور ان کی شخصیت ایسے اوصاف سے متصف ہے جن کے بطن سے ادب ِ عالیہ کی کونپلیں پھوٹتی ہوتی ہیں۔
    عاصم بخاری قادر الکلام شاعر ہیں۔ نظم و غزل ہر دو صنف میں قلم کشائی کرتے ہیں۔ اور ان کاحق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قطعات میں بھی انھوں نےاپنی صلاحیت کے خوب جوہر دکھاۓ ہیں۔زبان و بیان کے ساتھ کسی موضوع کو لیتے ہیں اور اس کی جزیئات کو بھی نہایت خوب صورت انداز سے اپنے اشعار میں سمو دیتے ہیں۔ان کا مرغوب موضوع سماج ہےعاصم بخاری کی نظم ہو یا غزل احساس و معنی کا حسن لیے ہوتی ہے۔”

    ڈاکٹر سید ضمیر بخاری صدر شعبہ اردو گورنمنٹ گریجویٹ کالج میانوالی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عاصم بخاری کی غزلیہ شاعری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "عاصم بخاری کی شاعری حبس زدہ موسم میں آنے والےخوش گوار جھونکےکی طرح ہے۔عاصم بخاری اردو شاعری کے افق پر ابھرنے والا وہ ستارہ ہےجس کی کرنیں چا دانگ ِ عالم کو منور کریں گی۔ان کے لہجے کی موسیقیت اور موسیقیت قاری کو اپنےسحر میں جکڑنے کی کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے ہاں موضوعات کی رنگا رنگی نظر آتی ہے۔انھوں نے عشق و محبت کے کلاسیکی موضوعات کو اپنے قلم سے وہ تازگی اور جدت بخشی ہےجو قاری کو فرحت و انبساط سے سرشارکر دیتی ہے۔ ان کا قلم کہیں عشق و محبت کے خوش کن نغمات الاپتا ہے تو کہیں درد والم کی نوحہ خانی کرتاہوا نظر آتا ہے۔انھوں نے اپنے کلام میں چھوٹی اور بڑی بحروں کوخوب صورتی سےاستعمال کرکےاپنی فنی مہارت و بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔” سر ، قد وہ حسیں جمیل ایسا

    کہ نمایاں ہزار ، میں یارو
    غم کھڑے ہیں قطار میں یارو
    دکھ مرے انتظار ، میں یارو

    ڈاکٹر محمد سجاد ( پسرور۔ سیالکوٹ)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عاصم بخاری کی غزل گوئی

    "عاصم بخاری کی غزل اسلوبیاتی و موضوعاتی دونوں لحاظ سے ہم عصر غزل سے مختلف ہے ۔یہاں آپ کو لمس و ہوس کا عالم رنگ و بو ملے گا نہ حسن و عشق کی وہ بے باکیاں ۔یہاں نہ شاہد بازی ہے نہ حسن نازکاں کی وہ عشوہ طرازیاں جن میں نفس گم ہو جائے ۔ان کی غزل انسان کے سلگتے ہوئے دکھوں کے کربناک انداز ،سماج کی ٹوٹتی قدروں پر ماتمی رنگ،اور تہذیبی شکست و ریخت پر نوحی ڈھنگ سے عبارت ہے ۔ یہاں حسن ازل و مطلق بھی حسن دلبراں کے ساتھ موجود ہے ۔یہاں گل و بلبل کے قصے اگر کہیں موہوم صورت میں موجود ہیں تو مظاہر تہذیب و ثقافت بھی جلوہ افروز ملیں گے ۔یہاں اگر مقامی معاشرت کی جھلک دکھے تو ضرور دیکھیے گا کہ اسلامی افکار بھی کلیت کے ساتھ انعکاس پذیر ہوں گے ۔ بعض اوقات تو وہ پوری پوری غزل کسی ایک احساس پر صرف کر دیتے ہیں۔لب و لہجے کا دھیمہ پن انہیں تلخ حقائق کی پیشکش میں ہمیشہ مددگار رہا ہے ۔میانوالی کی شعری روایت میں ان کی غزل نے نوجوانوں کو حسن و شباب کا گرویدہ کرنے کے بجائے اپنی تہذیبی قدروں سے جوڑنے کے کامیاب کوشش کی ہے ۔۔ان کی عصری آگہی نے انہیں غزل کے نئے افق تلاشنے میں مدد فراہم کی ہے ۔ ان کی غزل میں روایت و جدت کا حسین امتزاج قابل تقلید ہے ۔”

    پروفیسر میاں محمد ارشد حسان (میانوالی)

    ۔۔۔۔۔۔

    "عاصم بخاری صاحب جدید غزل گو شاعر هیں’ان کی غزل میں غزلیت’خوبصورتی’رنگینی و موسیقی هے۔”

    پروفیسر عبدالجبار عبد (شکارپور ۔ سندھ)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری کی غزل

    "عاصم بخاری کی غزل کاٸنات سے حُسن کشید کرتی ہوٸی فہم و ادراک کے زاویے کھینچتی ہے وہ ماضی اور حال کے تعلق کو جوڑ کر مستقبل کی راہیں تلاش کرتی ہے اس میں بلاغت کا عنصر غالب ہوتا ہے جو قاری کے دل میں اترتا جاتا ہے عاصم بخاری کے ہاں بات کرنے کا سلیقہ شاٸستہ ہے ان کی غزل معاشرے کی دکھتی رگوں پر نہ صرف ہاتھ رکھتی ہے بل کہ اس میں اصلاحِ معاشرہ کے پہلو بھی نمایاں ہوتے ہیں اور یہی ایک اچھا ادیب کرتا ہے اس کا قلم اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف ہوتا ہے میں عاصم بخاری کو مبارک باد دیتا ہوں کہ وہ اپنے قلم سے اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ دعوتِ فکر و عمل بھی دیتے ہوٸے نظر آتے ہیں۔” مدیر ادبی مجلہ ”میرے لفظ“ سید حبدار قاٸم۔ (اٹک)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "پروفیسر عاصم بخاری تدریسی شعبہ سے منسلک ہیں اور عہد حاضر کی شعری روایات میں اپنے لہجے کی خوشبو بکھیر رہے ہیں۔میں خوشی اس بات کی ہے کہ رومانیت کے ساتھ آپ کی شاعری میں عصری حسیت بھی ہے اور خارجی اثرات نے آپ کی تخلیقات کو تہذیب سے جوڑ کر تازہ آہنگ میں نئے موضوعات کی طرف راغب کیا ہے ۔آپ کی شاعری میں کئی علامتوں کا تعلق سماج سے ہے۔۔آپ کی شاعری مختلف اخبارات میں پڑھنے کو ملتی ہے ۔ امید ہے آپ خوبصورت تخلیقات قارئین تک پہنچاتے رہیں گے ۔”
    ۔
    (نوید ملک۔ راول پنڈی)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    "پروفیسر سید عاصم بخاری صاحب کا نام شعر و ادب کے حوالے سے جانا پہچانا نام ہے ان کی ادبی خدمات قابل تحسین ہیں نعت گوئی غزل سرائی میں منفرد مقام حاصل ہے ان کے کلام میں شائستگی شگفتگی اور شستگی کے ساتھ ساتھ سلاست روانی اور قادرالکلامی پائی جاتی ہے”

    (متین کشمیری لاہور)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    "عاصم بخاری کی غزل میں تغزل اور موسیقیت اس کی خاص پہچان ہے۔رواں اور مختصر بحر میں اپنا خیال بیاں کرنا عاصم بخاری کی شاعروں میں اپنی مثال آپ ہے ۔ عاصم بخاری کی غزل میں زندگی حرکت میں نظر آتی ہے۔”

    ریحانہ بتول
    جنرل سیکریٹری
    بزمِ اوجِ ادب ، بھکر
    ***

  • محمد اقبال بالم کا ادبی سفر

    محمد اقبال بالم کا ادبی سفر

    محمد اقبال بالم کا ادبی سفر

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    محمد اقبال بالم فلک شیر چھینہ کے فرزندِ ارجمند ہیں ۔ انہوں نے شاعری کا آغاز 1987ء سے کیا ۔ بستی شمالی وارڈ نمبر 7 نزد عید گاہ شمالی منکیرہ ضلع بھکر کے رہائشی ہیں ۔ ان کی تصانیف میں
    ٫٫ مودت دے ڈیوے ،، سرائیکی نعتیہ مجموعہ صدقِ رنگ پبلیکشنز ملتان سے 2010ء کو شائع ہوا جو کہ صفحات 32 پر مشتمل ہے
    ٫٫ تھل دے ہیرے ،، مختلف شعراء کلام ، انتخاب صدقِ رنگ پبلیکشنز ملتان سے 2012ء کو شائع ہوا صفحات 48 پر مشتمل ہے
    ٫٫ دامنِ دل ،، مجموعہ غزلیات ۔ اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے مئی 2016ء کو شائع ہوا صفحات 180 پر مشتمل ہے
    ٫٫ چھمکاں ،، سرائیکی مجموعہ کلام ۔ اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے جون 2016ء کو شائع ہوا صفحات 136 پر مشتمل ہے
    ٫٫ چھلے ،، پنجابی شاعری ۔ اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے مئی 2017 ء کو شائع ہوا صفحات 32 پر مشتمل ہے
    ٫٫ نکھڑے چنگے تاں نئیں ،، سرائیکی گیت و دوہڑے ۔ اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے مئی 2017ء کو شائع ہوا صفحات 32 پر مشتمل ہے
    ٫٫ جنت دے سردار علیہ السّلام ،، سرائیکی مجموعہ منقبت ۔ اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے 2021ء کو شائع ہوا صفحات 128 پر مشتمل ہے
    ٫٫ چشمِ خوابیدہ ،، اُردو مجموعہ غزلیات ۔ اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے مئی 2022ء کو شائع ہوا صفحات 115 پر مشتمل ہے
    ٫٫ گدڑیاں ،، سرائیکی مزاحیہ مجموعہ کلام ۔ اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے 2023ء کو شائع ہوا صفحات 111 پر مشتمل ہے
    ٫٫ ہیں آنکھیں نم اُسے کہنا ،، اُردو مجموعہ غزلیات ۔ اگست 2024ء کو اُردو سخن چوک اعظم ، لیہ سے شائع ہوا صفحات 119 پر مشتمل ہے
    محمد اقبال بالم غزل گوئی کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ ان کی غزل میں تھل کی وسعت ، محرومیاں ، معاشرتی ناانصافیاں اور محبوب کی محبت بھی آب و تاب کے ساتھ جھلک رہی ہے ۔
    ڈاکٹر حفیظ احمد (گوجرانولہ) محمد اقبال بالم کی غزل گوئی کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ "محمد اقبال بالم کی غزل فکری حوالے سے محدود نہیں ہے بلکہ اپنے اندر معنویت کا ایک جہان لئے ہوئے قاری کو اپنے حصار میں رکھتی ہے ۔ ان کے موضوعات زندگی سے بھرے پڑے ہیں ۔ وہ شعر کو زندگی ، سماج ، عمل اور جذبے سے اخذ کرتے ہیں ۔ ان کے یہاں بناوٹ اور مصنوعی پن نہیں بلکہ وہ سادہ بیانی اور سچائی سے کام لیتے ہیں ۔ وہ امکانی واقعات اور زمینی حقائق سے ہٹ کر بات نہیں کرتے ۔ ٫٫ ہیں آنکھیں نم اُسے کہنا ،، ( ص 13 )
    آخر میں محمد اقبال بالم کی مختلف غزلیات سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔

    محمد اقبال بالم کا ادبی سفر


    ***
    جب میسر ہر کسی کو یہ زباں سرکار ہے
    یار انگریزی سے اردو اب بھی کیا دشوار ہے
    ***
    اُجلی رنگت دل میں کینہ لب ہیں شیریں
    من کا میلا تن پر خوشبو واہ بھئی واہ
    ***
    یہ جو کب سے نمی ہے آنکھوں میں
    صرف تیری کمی ہے آنکھوں میں
    ***
    ردیف تشبیہ و استعارہ لکھے گئے ہیں کروڑوں لیکن
    کسی کسی کا ہے کام بالم سخن وری میں کمال
    **
    جب سے موبیل آیا ہے دنیا بدل گئی
    بیٹا گیا کیا ہاتھ سے بیٹی نکل گئی

  • کتاب کا تعارف (روشن چہرے)

    کتاب کا تعارف (روشن چہرے)

    کتاب کا تعارف (روشن چہرے)

    تحریر : ریحانہ بتول ، بھکر

    نام کتاب : روشن چہرے ( معروف ادبی شخصیات سے مصاحبے)
    مصاحبہ نگار : مقبول ذکی مقبول
    اِنتساب اپنی دادی غلام زینب کے نام!
    کتاب کا آغاز اِس شعر سے ہوتا ہے

    روشن چہرے روشن رکھنا
    اللّٰہ میاں دعا ہے میری

    صفحات : 176

    کتاب کا تعارف (روشن چہرے)

    سال اشاعت : جولائی 2023ء
    کتاب میں شامل انٹرویوز جن میں ادبی شخصیات کے ہیں ان کے نام درجِ ذیل ہیں
    پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ، سرگودھا حاجی محمد لطیف ، لاہور ، اقبال حسین ، بھکر ، ریاض ندیم نیازی ، سبی ، شائستہ سحر ، میر پور خاص ، پروفیسر ڈاکٹر مرید حسین عارف ، راجن پور ، اسی طرح پورے پاکستان سے 26 قلم کار شامل کئے گئے ہیں ۔
    جہاں مقبول ذکی مقبول نے خوب صورت سوالات کئے وہاں بھر پور و شان دار جوابات کو قلم بند کیا اُس سے قبل ہر ایک شخصیت کی تعارفی تحریر بھی رقم کی گئی ہے جس پر انٹرویو دینے والی شخصیت کھل کر سامنے آئی ہے ۔
    بیک ٹائٹل پر سینئرز کی آرا موجود ہیں ۔ ان کے نام یہ ہیں ڈاکٹر حمیدہ خانم ، ملتان ، ڈاکٹر صائمہ یاسمین ، سرگودھا ، صاحبزادہ یاسر صابری ، راولپنڈی
    زیرِ اہتمام بزمِ اوجِ ادب ، منکیرہ بھکر
    ناشر : القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور

  • کتاب کا تعارف ( یہ میرا بھکر)

    کتاب کا تعارف ( یہ میرا بھکر)

    کتاب کا تعارف ( یہ میرا بھکر)

    تحریر : ریحانہ بتول ، بھکر

    کتاب کا نام : یہ میرا بھکر ( فردیات)

    شاعر : مقبول ذکی مقبول
    نظر ثانی/ مشاورت ریحانہ بتول
    پبلشرز : القلم رائٹرز فورم پاکستان ، لاہور
    اشاعت : فروری 2024ء
    صفحات : 128
    قمیت : 800

    انتساب
    بیٹے گلفام حسین کے نام!

    کتاب کا آغاز فرد حمد ، فرد نعت اور فرد سلام سے ہوتا ہے ۔ اس مجموعہ میں صنفِ سخن فقط فردیات شامل ہیں جو ضلع بھکر کی تہذیب وثقافت صحرائی محرومیاں اور مشہور سوغات کو فرد کی صورت میں پیش کیا گیا ہے یعنی ہر ایک شعر بھکر کی نمائندگی کررہا ہے اس نوعیت کی تصنیف بھکر میں پہلی بار منظرِ عام پر آئی ہے یہ شرف مقبول ذکی مقبول کے حصے میں آیا ہے خوب صورت دیدہ زیب ٹائٹل چار منظر پیش کر رہا ہے صحرا میں چنے کی فصل و جنگلی جھاڑ بھکر کا ریلوے اسٹیشن منکیرہ کا قلعہ اور صحرا و ریت کے ٹیلے ، تہذیب و ثقافت کی مکمل عکاسی ۔

    کتاب کا تعارف ( یہ میرا بھکر)


    کتاب میں معروف شعراء و ادباء کی رائے بھی شامل ہے ۔ جن میں ڈاکٹر سید قاسم جلال ( بہاولپور) پروفیسر ڈاکٹر مرید عباس عارف ( راجن پور) ریاض ندیم نیازی (سبی) کی نثر کے ساتھ ساتھ منظوم بھی شامل کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ آزاد کشمیر) پروفیسر اسد گوندل (منکیرہ) فرنٹ فلیپ حسن عباسی ( مدیر ماہنامہ ارژنگ لاہور) بیک فلیپ جہاں آرا تبسم ( کوئٹہ)اور بیک ٹائٹل پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم ( گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر) نے لکھا ہے ۔