Tag: بھکر

  • جاوید عباس جاوید : روشن چراغ

    جاوید عباس جاوید : روشن چراغ

    جاوید عباس جاوید : روشن چراغ

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    جاوید عباس جاوید : ضلع بھکر میں اُردو شعر و ادب کا روشن چراغ ہیں ۔
    جاوید عباس جاوید بھکر شہر کے باسی ہیں اور اُردو شعری و نثری حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں ۔ وہ اُردو زبان و ادب ، شاعری اور ثقافت کے حوالے سے اپنی ذات میں ایک مکمل حوالہ اور ادارہ ہیں ۔ شعر و ادب کے لیے ان کی خدمات بہت قیمتی اور لازوال ہیں ۔جاوید عباس کے والد غلام محمد متین کوٹلہ جامی ایک کہنہ مشق اُردو شاعر اور نثر نگار تھے ۔جاوید نے اپنے والدِ مرحوم کی تقلید میں اُردو شاعری اور نثرنگاری کو اپنا مشغلہ بنایا اور بچپن سے ہی شاعری اور نثر نگاری میں سکون محسوس کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ محکمہ تعلیم میں بطورِ پرائمری مدرس بھرتی ہوئے اور اپنے شعری ذوق و شوق کی وجہ سے ترقی کرتے کرتے اُردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بن گئے اور اسی عہدے سے گورنمنٹ کامرس کالج جھنگ سے ریٹائر ہوئے ۔ انھوں نے شعر و ادب کی دُنیا میں اپنی پہچان کرائی ۔ یہی پہچان آپ کا وسیلہِ روزگار بھی بن گئی اور آپ کی ذات میں چھپی ہوئی خوبیوں کو اجاگر بھی کر دیا ۔
    جاوید نے بسلسلہِ ملازمت 2006ء میں ہمارے شہر منکیرہ میں سینئرانسٹرکٹر اُردو کے عہدے پر تعینات ہوئے ۔ وہ بھکر سے روزانہ منکیرہ آتے تھے اور کالج ٹائم کے بعد واپس جاتے تھے ۔ اُن دنوں میرا تعلق اُردو ادب کے سلسلے میں مرحوم علی شاہ کے ساتھ تھا ۔ میں علی شاہ ( مرحوم ) اور بلال مہدی ( مرحوم ) کے ہمراہ کامرس کالج بھکر میں گیا ۔جہاں میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی ۔ پھر اُن سے اکثر منکیرہ کے بس اسٹاپ پر ملاقات ہوتی رہتی تھی ۔ جہاں علی شاہ ( مرحوم ) بھی موجود ہوتے تھے ۔ چائے کی چُسکیوں کے ساتھ ادبی موضوعات پرباتیں ہوتیں اور گپ شپ بھی ہوتی تھی ۔ جاوید عباس جاوید کی ذات سادگی ، خلوص اور سچائی کا ایک مکمل نمونہ ہے ۔ اُن میں کوئی فخر ، بڑائی ، خود سرائی اور خوشامد پسندی کا جذبہ نہیں ہے ۔ سچی اور پرخلوص باتیں کرنا اُن کی شناخت ہے اور اپنی ذات میں موجود فنی خوبیوں اور دیگر اوصاف کے اظہار میں انھوں نے کبھی نہ حسد کیا ہے ، نہ تکبر کیا ہے اور نہ کبھی کسی سے اپنا مقابلہ یا موازنہ کیا ہے ۔ اُن کی ذات میں علم وآگہی کے جو دریا موجود ہیں اُن کے نمایاں کرنے میں وہ کبھی شوق نہیں رکھتے تھے ۔ دوسروں کا کلام اور باتیں بڑے شوق سے سنتے ہیں لیکن اپنی ذات اور فن کے اظہار کرنے میں وہ اکثرکسرِ نفسی سے کام لیتے ہیں ۔
    جاوید نے بتایا کہ انھوں نے نثر لکھنے سے ابتدا کی تھی ۔ 1974 ء جب وہ کلورکوٹ ہائی سکول میں نویں جماعت میں پڑھتے تھے تو اُن کے لکھے ہوئے نثری کہانی نما افسانے لاہور سے شائع ہونے والے بچوں کے معروف رسالے ٫٫ کھلونا ،، میں چھپتی تھیں اور اُس وقت کے معروف اخبار ٫٫ امروز ،، کے بچوں کے ایڈیشن ٫٫ بچوں کی دنیا ،، میں اُن کی نظمیں اور مختصر تحریریں چھپتی تھیں ۔ ٫٫ امروز ،، اخبار میں اُن دنوں منو بھائی کا کالم چھپتا تھا ۔جس کا نام ٫٫ گریبان ،، تھا اور اس کالم میں اکثر منو بھائی کلورکوٹ کی اپنی یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ جاوید کا بچپن اور جوانی کا ابتدائی حصّہ کلورکوٹ میں گزرا ہے ۔ جہاں اُن کے والد متین کوٹلہ جامی مارکیٹ کمیٹی کے سیکریٹری تھے ۔ چنانچہ جاوید عباس بھی اکثر کلورکوٹ کی یادوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔
    جاوید بتاتے ہیں کہ :
    ٫٫ میرے والد گرامی اکثر اُردو ادب اور شاعری کی باتیں کرتے تھے اور ہم بہن بھائیوں میں بھی یہ عادت سرائیت کر گئی اور یوں ہم بھی اُردوشاعری اور نثر کی طرف راغب ہوئے ۔ غالباً 1971 – 1972ء کی بات ہے جب محلہ جھرولی کلورکوٹ میں ان کا گھر تھا اور ان کے بڑے بھائی اظہار الحسن المعروف حسن رضا نے کلورکوٹ کے ادب شناس ادیبوں لوگوں کے ساتھ مل کر وہاں اُردو کی پہلی انجمن بنائی ۔جس کا نام ٫٫ انجمن اسرارِ ادب ،، تھا ۔ اِس انجمن کے زیرِ انتظام ان کی بیٹھک میں تین مشاعرے ہوئے تھے ۔ جن میں کلورکوٹ کے شاعروں میں سے عبدالکریم مستانہ ، حمید اختر کاشف ، شبیر اختر ، لطیف عابدی ، تقی شاہ راغب ، اشک پٹیالوی ، ماسٹر عبدالعزیز آصف ، کرم حیدر بے کس ، غلام محمد تقی اور رانا جمیل و دیگر شعراء شریک ہوتے تھے ۔ اِس انجمن کے سرپرست رانا نذر محمد خان شمیم تھے ۔ ان مشاعروں میں دریا خان سے عابد سیمابی ، انجم عابدی ، قاضی اشتیاق اسیر جیسے شاعر بھی مدعو کیے گئے تھے ۔ اس انجمن کے زیرِ اہتمام دو کتابچے شائع ہوئے جو کلورکوٹ ( بھکر ) میں اُردو ادب پہلی تحریک تھی ۔ اس رسالے کا نام ٫٫ اسرارِ ادب ،، تھا اور اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے تھے ۔ اُن دنوں ڈیرہ اسماعیل جاکر اشک پٹیالوی یہ رسائل چھپوا کر آتے تھے ۔

    کلورکوٹ کی اور بھی دیگر اہم باتیں وہ سناتے رہتے تھے ۔ بعد ازاں اُن کے تنقیدی مضامین ٫٫ ماہِ نو ،، لاہور ، ٫٫ تخلیق ،، لاہور ، ماہنامہ ٫٫ ارژنگ،، ،٫٫ طلوعِ اشک ،، لاہور ، ٫٫ اسالیب ،، سرگودھا ، ٫٫ نظریہِ پاکستان ،، لاہور اور ٫٫ حقیقت ،، بہاولپور میں شائع ہوتے رہے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے بھکر سے شائع ہونے والے تمام مقامی اخبارات میں کالم نگاری کی ہے ۔ جس کا ریکارڈ اُن کے پاس محفوظ ہے ۔ بھکر کامرس کالج میں 1991ء میں انھوں نے پہلا میگزین ٫٫ الفلاح ،، کے نا م سے 1991ء میں شائع کیا اور یہ میگزین نوسال تک شائع ہوتا رہا ۔ بعد میں اس کا نام ٫٫ سرمایہ ،، رکھ دیا گیا ۔ اس رسالے کی معاونت میں ان کے ساتھ سعید عاصم اور قلبِ عباس بھی شامل تھے جوان دنوں کامرس کالج میں پڑھاتے تھے ۔ انھوں نے دیگر کامرس کالجزکے رسائل میں بھی شاعری اور مضامین شائع کیے ہیں ۔ ان کے بڑے بھائی ظفر عباس بھکر کے معروف شاعر ہیں ۔ ان کی چار شعری تصانیف شائع ہوچکی ہیں ۔انھیں شاعرِ ہفت بھی کہاجاتا ہے ۔ انھوں نے اُردو کے شاعری ساتھ ساتھ فارسی میں بھی شاعری کی جو ایرانی رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہے ۔ اس طرح ان کا گھرانہ بھکر کے ادبی گھرانوں میں سرفہرست ہے ۔ ان کے تنقیدی مضامین بہت سی کتابوں میں شائع ہوئے ہیں ۔جن کے تذکرے کے لیے ایک الگ موضوع درکار ہے اور وہ بھکر کے نثرنگاروں میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ۔ آپ کا ایم ۔ فل ( اُردو ) کا مقالہ بعنوان ٫٫ بھکر کے غزل گوشعراء 1947ء تا 2003 ء ،، ایک بہت نادر تحقیقی دستاویز ہے ۔جس سے بھکر کے شعر و ادب کے دلدادہ اور محققین بھرپور استفادہ کرتے ہیں ۔
    2022ء میں اُن کا مجموعہِ کلام ٫٫ راستے آساں ہوئے ،، شائع ہوا ۔ اس میں حمد ، نعت ، مرثیہ ، نظمیں
    ( آزادوپابند ) ، قطعات اور 100 غزلیات ہیں ۔ وہ بھکر کے اکثر مشاعروں اور ادبی محفلوں میں شرکت کرتے رہے ہیں ۔ ان کے شاگردوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جوان کی قدر جانتے ہیں اور آج بھی ان سے کسبِ فیض کرتے ہیں ۔ ان کی محفل علم و ادب کے متلاشیوں کے لیے ہمہ وقت حاضر ہے اور وہ یہ فریضہ بڑی خوشی اور توجہ سے کرتے ہیں ۔ان کے شاگردوں کے علاوہ ادبی محققین کی بڑی تعداد ان کے پاس اصلاح و مشاورت کے لیے آتے ہیں اور وہ ایم ۔ فل اور پی ۔ ایچ ۔ڈی سطح مقالہ جات کی تکمیل کے ساتھ اشعار کی اصلاح ، نثر نگاری کے عوامل اور ادبی معاملات میں رہنمائی کر کے خوشی محسوس کر تے ہیں ۔ اُن سے میری کافی عرصہ رفاقت رہی اور میں ان کے شاگردوں میں اپنا شمار کرنا اعزاز سمجھتا ہوں ۔ علاوہ ازیں بھکر کے نوجوان شعرا ء میں سے صفدر کربلائی ، مظہر مونس ، سعید عاصم ، شاہد بلال حسرت کاشمار بھی ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے ۔
    جہاں تک پروفیسر جاوید عباس جاوید کے نظریات اور ان کی شاعری کے موضوعات کا تعلق ہے ، میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کے کلام میں ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کا بڑا ذکر ہے ۔ وہ یہ باتیں کر کے بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے خُدا پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔توحید ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ ان کا کلام متنوع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے ۔انھوں نے نظم ونثر کی کئی اصناف میں اسپِ قلم کے جوہر دکھائے ہیں ۔ بلاتشکیک جاوید عباس ایک مہان شاعر ، نفیس نثرنگار اور شفیق استاد کے تمام خصائل سے مالا مال ہیں ۔توحید پر ان کے یقینِ کامل کے تناظر میں اشعار ملاحظہ فرمائیں :

    جاوید وقفِ سجدہ تھی واحد خُدا کی ذات
    یہ کیا ہوا کہ سینکڑوں مسجود ہو گئے
    ——–٭———
    میرے سچے خُدا کہاں ہے تُو
    ناخداؤں میں پھنس گیا ہوں میں

    جاوید عباس جاوید تھل دھرتی اور وسیب کے ماحول کو بھی اپنی شاعری میں یاد رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے اشعار مقبول ہیں ۔ اپنی مٹی اور صحرا سے محبت کا ثبوت جاوید عباس اشعار کے پیرائے میں کچھ یوں پیش کرتے ہیں :

    سنا ہے لوگ بستے ہیں پہاڑوں اور جھیلوں پر
    ہمیں تو چین ملتا ہے فقط بھکر کے ٹیلوں پر
    ————٭——
    قیامت کی تپش ، آندھی کے جھکڑ
    یہی دیکھے سدا احوالِ بھکر
    ———–٭————–
    تھل کے صحرا میں عجب آئی بہار
    خشک ٹیلے مرکزِ باراں ہوئے

    اُن کی شاعری میں اپنی ذات اور معاشرتی ناہمواروں کے حوالے سے خصوصاً ان کی غزلیات کے مقطع میں خوبصورت اشعار ملتے ہیں جس سے ان کی شاعری میں جدت و انفرادیت واضح جھلکتی ہے :

    اپنے ہونے پر بہت نازاں ہوئے ………. ہم بھی اپنے دور کے انساں ہوئے
    زندگانی کا سفر دشوار تھا ………. بندگی سے ٫٫ راستے آساں ہوئے ،،

    وقت کی دُھند میں نہ کھوجانا ………. غمِ ہستی کے داغ دھوجانا
    کبھی فرصت ملے اگر جاوید ………. گزرے وقتوں کی کھوج کو جانا

    الغرض ! جاوید میرے محسن و مربی ہیں اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ خصوصاً ان کی ذات میں جو سادگی اور خلوص پایا جاتا ہے وہ مجھے بہت حوصلہ دیتا ہے ۔ میں ان سے ہر بات پر بے دھڑک مشورہ لیتا ہوں اور وہ کسی دباؤ یا کسی مطلب کے بغیر درست اور بہترین مشورہ دیتے ہیں ۔ بھکر میں ان کی موجودگی ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کا سایہ میرے جیسے نوآموز اور ادب دوست لکھاری اور شعراء کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ اللّٰہ تبارک تعالیٰ انھیں صحتِ کاملہ اور عمرِ خضر عطا فرمائے اور تشنگانِ شعر و ادب ان جیسے نخلِ تناور سے سیراب ہونے والوں کو فیضیاب کرے ۔آخر میں ان کا ایک شعر دیکھیں :

    بہت سے کام کرنے کے ابھی جاوید رہتے ہیں
    مگر یہ زندگانی بھی کہاں تک ساتھ دیتی ہے ۔
    *

    جاویدعباس جاوید:ضلع بھکر میں اردوشعروادب کا روشن چراغ

    جاوید عباس جاوید : ضلع بھکر میں اُردو شعر و ادب کا روشن چراغ ہیں ۔
    جاوید عباس جاوید بھکر شہر کے باسی ہیں اور اُردو شعری و نثری حوالوں سے پہچانے جاتے ہیں ۔ وہ اُردو زبان و ادب ، شاعری اور ثقافت کے حوالے سے اپنی ذات میں ایک مکمل حوالہ اور ادارہ ہیں ۔ شعر و ادب کے لیے ان کی خدمات بہت قیمتی اور لازوال ہیں ۔جاوید عباس کے والد غلام محمد متین کوٹلہ جامی ایک کہنہ مشق اُردو شاعر اور نثر نگار تھے ۔جاوید نے اپنے والدِ مرحوم کی تقلید میں اُردو شاعری اور نثرنگاری کو اپنا مشغلہ بنایا اور بچپن سے ہی شاعری اور نثر نگاری میں سکون محسوس کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ محکمہ تعلیم میں بطورِ پرائمری مدرس بھرتی ہوئے اور اپنے شعری ذوق و شوق کی وجہ سے ترقی کرتے کرتے اُردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر بن گئے اور اسی عہدے سے گورنمنٹ کامرس کالج جھنگ سے ریٹائر ہوئے ۔ انھوں نے شعر و ادب کی دُنیا میں اپنی پہچان کرائی ۔ یہی پہچان آپ کا وسیلہِ روزگار بھی بن گئی اور آپ کی ذات میں چھپی ہوئی خوبیوں کو اجاگر بھی کر دیا ۔
    جاوید نے بسلسلہِ ملازمت 2006ء میں ہمارے شہر منکیرہ میں سینئرانسٹرکٹر اُردو کے عہدے پر تعینات ہوئے ۔ وہ بھکر سے روزانہ منکیرہ آتے تھے اور کالج ٹائم کے بعد واپس جاتے تھے ۔ اُن دنوں میرا تعلق اُردو ادب کے سلسلے میں مرحوم علی شاہ کے ساتھ تھا ۔ میں علی شاہ ( مرحوم ) اور بلال مہدی ( مرحوم ) کے ہمراہ کامرس کالج بھکر میں گیا ۔جہاں میری اُن سے پہلی ملاقات ہوئی ۔ پھر اُن سے اکثر منکیرہ کے بس اسٹاپ پر ملاقات ہوتی رہتی تھی ۔ جہاں علی شاہ ( مرحوم ) بھی موجود ہوتے تھے ۔ چائے کی چُسکیوں کے ساتھ ادبی موضوعات پرباتیں ہوتیں اور گپ شپ بھی ہوتی تھی ۔ جاوید عباس جاوید کی ذات سادگی ، خلوص اور سچائی کا ایک مکمل نمونہ ہے ۔ اُن میں کوئی فخر ، بڑائی ، خود سرائی اور خوشامد پسندی کا جذبہ نہیں ہے ۔ سچی اور پرخلوص باتیں کرنا اُن کی شناخت ہے اور اپنی ذات میں موجود فنی خوبیوں اور دیگر اوصاف کے اظہار میں انھوں نے کبھی نہ حسد کیا ہے ، نہ تکبر کیا ہے اور نہ کبھی کسی سے اپنا مقابلہ یا موازنہ کیا ہے ۔ اُن کی ذات میں علم وآگہی کے جو دریا موجود ہیں اُن کے نمایاں کرنے میں وہ کبھی شوق نہیں رکھتے تھے ۔ دوسروں کا کلام اور باتیں بڑے شوق سے سنتے ہیں لیکن اپنی ذات اور فن کے اظہار کرنے میں وہ اکثرکسرِ نفسی سے کام لیتے ہیں ۔
    جاوید نے بتایا کہ انھوں نے نثر لکھنے سے ابتدا کی تھی ۔ 1974 ء جب وہ کلورکوٹ ہائی سکول میں نویں جماعت میں پڑھتے تھے تو اُن کے لکھے ہوئے نثری کہانی نما افسانے لاہور سے شائع ہونے والے بچوں کے معروف رسالے ٫٫ کھلونا ،، میں چھپتی تھیں اور اُس وقت کے معروف اخبار ٫٫ امروز ،، کے بچوں کے ایڈیشن ٫٫ بچوں کی دنیا ،، میں اُن کی نظمیں اور مختصر تحریریں چھپتی تھیں ۔ ٫٫ امروز ،، اخبار میں اُن دنوں منو بھائی کا کالم چھپتا تھا ۔جس کا نام ٫٫ گریبان ،، تھا اور اس کالم میں اکثر منو بھائی کلورکوٹ کی اپنی یادوں کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ جاوید کا بچپن اور جوانی کا ابتدائی حصّہ کلورکوٹ میں گزرا ہے ۔ جہاں اُن کے والد متین کوٹلہ جامی مارکیٹ کمیٹی کے سیکریٹری تھے ۔ چنانچہ جاوید عباس بھی اکثر کلورکوٹ کی یادوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں ۔
    جاوید بتاتے ہیں کہ :
    ٫٫ میرے والد گرامی اکثر اُردو ادب اور شاعری کی باتیں کرتے تھے اور ہم بہن بھائیوں میں بھی یہ عادت سرائیت کر گئی اور یوں ہم بھی اُردوشاعری اور نثر کی طرف راغب ہوئے ۔ غالباً 1971 – 1972ء کی بات ہے جب محلہ جھرولی کلورکوٹ میں ان کا گھر تھا اور ان کے بڑے بھائی اظہار الحسن المعروف حسن رضا نے کلورکوٹ کے ادب شناس ادیبوں لوگوں کے ساتھ مل کر وہاں اُردو کی پہلی انجمن بنائی ۔جس کا نام ٫٫ انجمن اسرارِ ادب ،، تھا ۔ اِس انجمن کے زیرِ انتظام ان کی بیٹھک میں تین مشاعرے ہوئے تھے ۔ جن میں کلورکوٹ کے شاعروں میں سے عبدالکریم مستانہ ، حمید اختر کاشف ، شبیر اختر ، لطیف عابدی ، تقی شاہ راغب ، اشک پٹیالوی ، ماسٹر عبدالعزیز آصف ، کرم حیدر بے کس ، غلام محمد تقی اور رانا جمیل و دیگر شعراء شریک ہوتے تھے ۔ اِس انجمن کے سرپرست رانا نذر محمد خان شمیم تھے ۔ ان مشاعروں میں دریا خان سے عابد سیمابی ، انجم عابدی ، قاضی اشتیاق اسیر جیسے شاعر بھی مدعو کیے گئے تھے ۔ اس انجمن کے زیرِ اہتمام دو کتابچے شائع ہوئے جو کلورکوٹ ( بھکر ) میں اُردو ادب پہلی تحریک تھی ۔ اس رسالے کا نام ٫٫ اسرارِ ادب ،، تھا اور اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے تھے ۔ اُن دنوں ڈیرہ اسماعیل جاکر اشک پٹیالوی یہ رسائل چھپوا کر آتے تھے ۔

    جاوید عباس جاوید : روشن چراغ

    کلورکوٹ کی اور بھی دیگر اہم باتیں وہ سناتے رہتے تھے ۔ بعد ازاں اُن کے تنقیدی مضامین ٫٫ ماہِ نو ،، لاہور ، ٫٫ تخلیق ،، لاہور ، ماہنامہ ٫٫ ارژنگ،، ،٫٫ طلوعِ اشک ،، لاہور ، ٫٫ اسالیب ،، سرگودھا ، ٫٫ نظریہِ پاکستان ،، لاہور اور ٫٫ حقیقت ،، بہاولپور میں شائع ہوتے رہے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے بھکر سے شائع ہونے والے تمام مقامی اخبارات میں کالم نگاری کی ہے ۔ جس کا ریکارڈ اُن کے پاس محفوظ ہے ۔ بھکر کامرس کالج میں 1991ء میں انھوں نے پہلا میگزین ٫٫ الفلاح ،، کے نا م سے 1991ء میں شائع کیا اور یہ میگزین نوسال تک شائع ہوتا رہا ۔ بعد میں اس کا نام ٫٫ سرمایہ ،، رکھ دیا گیا ۔ اس رسالے کی معاونت میں ان کے ساتھ سعید عاصم اور قلبِ عباس بھی شامل تھے جوان دنوں کامرس کالج میں پڑھاتے تھے ۔ انھوں نے دیگر کامرس کالجزکے رسائل میں بھی شاعری اور مضامین شائع کیے ہیں ۔ ان کے بڑے بھائی ظفر عباس بھکر کے معروف شاعر ہیں ۔ ان کی چار شعری تصانیف شائع ہوچکی ہیں ۔انھیں شاعرِ ہفت بھی کہاجاتا ہے ۔ انھوں نے اُردو کے شاعری ساتھ ساتھ فارسی میں بھی شاعری کی جو ایرانی رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہے ۔ اس طرح ان کا گھرانہ بھکر کے ادبی گھرانوں میں سرفہرست ہے ۔ ان کے تنقیدی مضامین بہت سی کتابوں میں شائع ہوئے ہیں ۔جن کے تذکرے کے لیے ایک الگ موضوع درکار ہے اور وہ بھکر کے نثرنگاروں میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ۔ آپ کا ایم ۔ فل ( اُردو ) کا مقالہ بعنوان ٫٫ بھکر کے غزل گوشعراء 1947ء تا 2003 ء ،، ایک بہت نادر تحقیقی دستاویز ہے ۔جس سے بھکر کے شعر و ادب کے دلدادہ اور محققین بھرپور استفادہ کرتے ہیں ۔
    2022ء میں اُن کا مجموعہِ کلام ٫٫ راستے آساں ہوئے ،، شائع ہوا ۔ اس میں حمد ، نعت ، مرثیہ ، نظمیں
    ( آزادوپابند ) ، قطعات اور 100 غزلیات ہیں ۔ وہ بھکر کے اکثر مشاعروں اور ادبی محفلوں میں شرکت کرتے رہے ہیں ۔ ان کے شاگردوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جوان کی قدر جانتے ہیں اور آج بھی ان سے کسبِ فیض کرتے ہیں ۔ ان کی محفل علم و ادب کے متلاشیوں کے لیے ہمہ وقت حاضر ہے اور وہ یہ فریضہ بڑی خوشی اور توجہ سے کرتے ہیں ۔ان کے شاگردوں کے علاوہ ادبی محققین کی بڑی تعداد ان کے پاس اصلاح و مشاورت کے لیے آتے ہیں اور وہ ایم ۔ فل اور پی ۔ ایچ ۔ڈی سطح مقالہ جات کی تکمیل کے ساتھ اشعار کی اصلاح ، نثر نگاری کے عوامل اور ادبی معاملات میں رہنمائی کر کے خوشی محسوس کر تے ہیں ۔ اُن سے میری کافی عرصہ رفاقت رہی اور میں ان کے شاگردوں میں اپنا شمار کرنا اعزاز سمجھتا ہوں ۔ علاوہ ازیں بھکر کے نوجوان شعرا ء میں سے صفدر کربلائی ، مظہر مونس ، سعید عاصم ، شاہد بلال حسرت کاشمار بھی ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے ۔
    جہاں تک پروفیسر جاوید عباس جاوید کے نظریات اور ان کی شاعری کے موضوعات کا تعلق ہے ، میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان کے کلام میں ایک تو اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کا بڑا ذکر ہے ۔ وہ یہ باتیں کر کے بہت خوش ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے خُدا پر کامل یقین رکھتے ہیں ۔توحید ان کا پسندیدہ موضوع ہے ۔ ان کا کلام متنوع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے ۔انھوں نے نظم ونثر کی کئی اصناف میں اسپِ قلم کے جوہر دکھائے ہیں ۔ بلاتشکیک جاوید عباس ایک مہان شاعر ، نفیس نثرنگار اور شفیق استاد کے تمام خصائل سے مالا مال ہیں ۔توحید پر ان کے یقینِ کامل کے تناظر میں اشعار ملاحظہ فرمائیں :

    جاوید وقفِ سجدہ تھی واحد خُدا کی ذات
    یہ کیا ہوا کہ سینکڑوں مسجود ہو گئے
    ——–٭———
    میرے سچے خُدا کہاں ہے تُو
    ناخداؤں میں پھنس گیا ہوں میں

    جاوید عباس جاوید تھل دھرتی اور وسیب کے ماحول کو بھی اپنی شاعری میں یاد رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے اشعار مقبول ہیں ۔ اپنی مٹی اور صحرا سے محبت کا ثبوت جاوید عباس اشعار کے پیرائے میں کچھ یوں پیش کرتے ہیں :

    سنا ہے لوگ بستے ہیں پہاڑوں اور جھیلوں پر
    ہمیں تو چین ملتا ہے فقط بھکر کے ٹیلوں پر
    ————٭——
    قیامت کی تپش ، آندھی کے جھکڑ
    یہی دیکھے سدا احوالِ بھکر
    ———–٭————–
    تھل کے صحرا میں عجب آئی بہار
    خشک ٹیلے مرکزِ باراں ہوئے

    اُن کی شاعری میں اپنی ذات اور معاشرتی ناہمواروں کے حوالے سے خصوصاً ان کی غزلیات کے مقطع میں خوبصورت اشعار ملتے ہیں جس سے ان کی شاعری میں جدت و انفرادیت واضح جھلکتی ہے :

    اپنے ہونے پر بہت نازاں ہوئے ………. ہم بھی اپنے دور کے انساں ہوئے
    زندگانی کا سفر دشوار تھا ………. بندگی سے ٫٫ راستے آساں ہوئے ،،

    وقت کی دُھند میں نہ کھوجانا ………. غمِ ہستی کے داغ دھوجانا
    کبھی فرصت ملے اگر جاوید ………. گزرے وقتوں کی کھوج کو جانا

    الغرض ! جاوید میرے محسن و مربی ہیں اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ خصوصاً ان کی ذات میں جو سادگی اور خلوص پایا جاتا ہے وہ مجھے بہت حوصلہ دیتا ہے ۔ میں ان سے ہر بات پر بے دھڑک مشورہ لیتا ہوں اور وہ کسی دباؤ یا کسی مطلب کے بغیر درست اور بہترین مشورہ دیتے ہیں ۔ بھکر میں ان کی موجودگی ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کا سایہ میرے جیسے نوآموز اور ادب دوست لکھاری اور شعراء کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ اللّٰہ تبارک تعالیٰ انھیں صحتِ کاملہ اور عمرِ خضر عطا فرمائے اور تشنگانِ شعر و ادب ان جیسے نخلِ تناور سے سیراب ہونے والوں کو فیضیاب کرے ۔آخر میں ان کا ایک شعر دیکھیں :

    بہت سے کام کرنے کے ابھی جاوید رہتے ہیں
    مگر یہ زندگانی بھی کہاں تک ساتھ دیتی ہے ۔

  • معروف شاعر محمد اقبال بالم کے حالاتِ زندگی

    معروف شاعر محمد اقبال بالم کے حالاتِ زندگی

    معروف شاعر محمد اقبال بالم کے حالاتِ زندگی

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    محمد اقبال بالم کے آباؤ اجداد میں


    محمد اقبال بالم کے پردادا کا نام نور محمد تھا اور قوم چھینہ تھی برِ صغیر کے تاریخی شہر منکیرہ میں پیدا ہوئے وہ ایک برہمن ( شیوا لال ) کے ہاں ملازم تھے جس کا وسیع و عریض رقبہ تھا ۔ نور محمد چھینہ یعنی محمد اقبال بالم کے پردادا ۔ رہٹ چلا کر کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ نور محمد چھینہ کو پانچ بیٹیوں کے بعد ( 1895ء ) میں اللّٰہ تعالیٰ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا جس کا نام انہوں نے خدا بخش رکھا اُن کے ہاں ایک بڑی خوشی کا سماں تھا ڈھول بج رہے تھے مٹھائیاں بٹ رہی تھی کہ اچانک اُن کی بڑی بیٹی وفات پا گئی ۔ یوں ایک خوشی کا سماں ماتم میں تبدیل ہو گیا ۔ قصہ مختصر جب خُدا بخش 9 سال کا ہوا تو اُن کے والد نور محمد وفات پاگئے ۔ کم عمری میں ہی کھیتی باڑی کا بوجھ خُدا بخش یعنی ( محمد اقبال بالم ) کے دادا کے کندھوں پر آگیا ۔ بقول محمد اقبال دادا جان بتاتے تھے کہ کنویں کی جو گادھی تھی جس پر بیٹھ کر بیلوں کو ہانکا جاتا ہے اس پر بٹھا کر میرے ابو مجھے باندھ دیتے تھے تا کہ کہیں گر نہ جائے اور یوں خُدا جانے وہ رہٹ کتنے گھنٹے چلتا رہتا ۔ ان کے دادا کو شکار کا بہت شوق تھا اکثر ہرنی و جنگلی خرگوش کا شکار کرکے لاتے اور سب گھر والے مل بیٹھ کر پکا کر کھاتے ۔ ان کے دادا کے ہاں تین بیٹیاں اور چار بیٹے پیدا ہوئے پہلے بیٹے کا نام فلک شیر ، دوسرے بیٹے کا نام فقیر محمد ، تیسرے بیٹے کا نام امیر محمد اور چوتھے بیٹے کا نام غلام شبیر ، پہلی بیٹی کا نام زہرا مائی ، دوسری بیٹی کا نام تاج بی بی ، اور تیسری بیٹی کا نام صدا مائی ۔ بڑے ہنس مکھ انسان تھے انہوں نے ( 1975ء ) میں وفات پائی ۔ خُدا بخش کی زوجہ کا نام پٹھانی تھا جنہوں نے ( 1982ء ) میں وفات پائی ۔

    فلک شیر سب بہن بھائیوں سے بڑے تھے ۔ ( محمد اقبال بالم کے والد ) انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے چار بیٹیوں اور چار بیٹوں سے نوازا یکے بعد دیگر چار بیٹیاں اور دو بیٹے اللّٰہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔ بڑے بیٹے کا نام ان کے دادا کے نام پر خُدا بخش رکھا گیا جو بعد میں کالو خان کے نام سے مشہور ہوا ۔ خُدا بخش سے کالو خان کا سفر ۔ 15 سال کی عمر تھی گھر والوں کو بتا کر رشتہ داروں کے ساتھ میلہ ٹبی نور شاہ والا پر گیا ۔ فتح پور ( لیّہ ) کے قریب وہ میلہ آج کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے یعنی سالانہ دوسرے دن واپسی پر وہ گاڑی ان سے چھوٹ گئی اور رشتہ داروں نے بھی نہ سنبھالا اب گھر جانے کے لیے اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا وہ پریشان اِدھر اُدھر پھر رہا تھا کہ ٹرک والے نے آواز دی سرائے کرشنا جانے والے آ جائیں گاڑی فری میں جا رہی ہے دو لڑکے اُس میں پہلے ہی سوار تھے انہوں نے کہا آ جاؤ ہم بھی اُدھر جا رہے ہیں ۔ اِس نے یہ سوچا کہ سرائے کرشنا پر اتر کر منکیرہ چلا جاؤں گا ( یاد رہے کہ بعد میں سرائے کرشنا کا نام تبدیل کرکے سرائے مہاجر رکھا گیا ) خُدا بخش محمد اقبال بالم کا بھائی اس گاڑی میں بیٹھ گیا ۔ دو سال تک گھر والوں نے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا لیکن خُدا بخش کا کوئی اتا پتا نہیں ملا ۔ ایک دن اچانک ایک رشتہ دار دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا چارپائی لاؤ آپ کا بیٹا اڈے پر پڑا ہے کوئی ٹرک والا وہاں چھوڑ گیا ہے جا کر دیکھا تو یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ وہی خُدا بخش ہے ۔ سیاہ رنگ اور اتنا کمزور کہ کھڑے ہونے کی سکت بھی نہیں تھی ۔ کچھ دنوں بعد اُس نے بتایا کہ اُسے پٹھان اٹھا کر لے گئے تھے سارا دن بھٹے پر کام کرواتے اور رات کو زنجیروں کے ساتھ باندھ کر رکھتے تھے بارہا بھاگنے کی کوشش کی پر ناکام رہا پھر خُدا بخش کو یقین ہو گیا کہ اب میں یہاں سے نہیں بھاگ سکتا ۔ ڈیڑھ پونے دو سال ہو گئے اب انہیں بھی یہ یقین ہو گیا کہ یہ نہیں بھاگے گا تو انہوں نے ان کے زنجیر کھول دیے اور کھانا بھی ایک روٹی کے بجائے دو روٹیاں ملنے لگ گئیں ایک روٹی کھاتا اور ایک روٹی چھپا لیتا وہ کتوں کو بہت کم کھانا کھلاتے تھے ان سے چھپ چھپا کر کچھ کھانا کتوں کو ڈالتا ۔ کچھ دنوں بعد موقع ملا تو وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا جب بھی کتے نزدیک آتے تو ایک روٹی ڈال دیتا اور پھر بھاگنے لگتا لگ بھگ دو میل بھاگنے کے بعد روٹیاں ختم ہو گئی سردی کی اندھیری رات میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا اب پٹھانوں نے فائرنگ شروع کر دی ڈالوں پر گھروں سے نکل پڑے تھے کتے اتنے نزدیک آگئے تھے کہ سامنے موت نظر آرہی تھی کچھ قدموں کے فاصلے پر نہر نظر آئی اب دونوں طرف موت دکھائی دے رہی تھی کیونکہ وہ تیراکی نہیں جانتا
    تھا اگر وہ نہر میں چھلانگ نہ لگاتا تو کتے چیر پھاڑ دیتے اتنا ہوش تھا کہ نہر کے ساتھ ساتھ کتے بھی بھونک رہے تھے اور پٹھان نہر میں گولیاں چلا رہے تھے پھر اس کے بعد کیا ہوا خُدا جانے کتنی دیر تک نہر میں رہا صبح ہونے والی تھی کسی بھلے مانس نے نہر سے نکالا تو لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ان میں سے ایک شخص نے پہچان لیا اور کہا کہ یہ تو ہمارے علاقے کا لڑکا ہے وہ ان کو اٹھا کر اپنی گاڑی میں منکیرہ اڈے پر لے آیا ۔ اب رنگ اتنا کالا ہو چکا تھا کہ سب اپنے برائے کالو کالو کہنے لگے یوں خُدا بخش سے کالو خان مشہور ہو گیا ۔ خُدا بخش عرف کالو خان کو اللّٰہ تعالیٰ نے دو بیٹیاں اور دو بیٹے عطا فرمائے بڑی بیٹی کا نام زبیدہ چھوٹی بیٹی کا نام شدن اور بڑے بیٹے کا نام طاہر اقبال چھوٹے بیٹے کا نام زبیر اقبال ۔ خُدا بخش عرف کالو خان کی ( 1950ء) میں پیدا ہوئی ( 11 فروری 2008ء ) میں وفات پا گئے ۔ اور اس کی زوجہ کا نام سکینہ بی بی تھا جن کا ( 13 نومبر 2020ء ) کو انتقال ہوا ۔

    معروف شاعر محمد اقبال بالم کے حالاتِ زندگی

    محمد اقبال بالم کی جائے پیدائش

    ( 5 اپریل 1967ء ) کو محلہ چھینہ والا منکیرہ ضلع بھکر میں فلک شیر چھینہ کو اللّٰہ تعالیٰ نے بیٹے سے نوازا جس کا نام انہوں نے محمد شمشیر اقبال رکھا جو بعد میں صرف محمد اقبال رہ گیا ۔ اور پھر شاعری میں تخلص بالم رکھا اب دُنیائے ادب میں محمد اقبال بالم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔ محمد اقبال بالم کو ان کی والدہ ماجدہ بالم کہہ کر پکارتی تھی اِسی بالم کو تخلص کے طور پر استعمال کیا ۔
    فلک شیر چھینہ ( محمد اقبال بالم کے والد ) کام کے سلسلہ میں ( 15 مئی 1967ء) کو بمع اہل و عیال منکیرہ سے بھکر شفٹ ہو گئے 10 سال بعد ( 1977ء) میں مقدر پھر واپس منکیرہ میں لے آیا ۔ شومیء قسمت دو سال بعد ( 1979ء) میں پھر حالات نے دو بارہ بھکر جانے پر مجبور کر دیا اور ( 1990ء) ایک بار پھر وہ بھکر کو خیر آباد کہ کر اپنے آبائی شہر منکیرہ واپس آگئے ۔ محمد اقبال بالم کے والد فلک شیر چھینہ نے وقت کی منہ زور آندھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا آخر کار ( 25 مارچ 2015ء ) کو خالقِ حقیقی سے جا ملے اللّٰہ تعالیٰ انہیں غریقِ رحمت فرمائے آمین ۔

    محمد اقبال بالم کی پیدائش سے جوان ہونے تک کا سفر

    محمد اقبال بالم نے ( 5 اپریل 1967ء) محلہ چھینہ والا منکیرہ میں فلک شیر کے گھر آنکھ کھولی محمد اقبال بالم صرف 40 دن کا تھا کہ ان کے والد کو کاروبار کے سلسلہ میں بھکر جانا پڑھا (15 مئی 1967ء) کو محمد اقبال بالم نے اپنی زندگی کا پہلا سفر کیا ٹھیک پانچ سال بعد ( 1972ء ) میں اُن کے والد فلک شیر چھینہ نے پرائمری اسکول محلہ سردار بخش ، بھکر میں داخل کرایا ۔ بقول محمد اقبال بالم اسکول کی چار دیواری کا نام و نشان نہیں تھا ایک خستہ حال کمرہ تھا اور ساتھ دو تین کیکر کے درخت تھے جن کی چھاؤں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پہلی کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا دوسرے دن سُرمئی رنگ کی نئی وردی دوسری جماعت کی کتابیں اور ایک مٹھائی کا ڈِبہ لے کر اسکول پہنچا تو استاد نے دوسرے استادوں کو بلا لیا اُن سب نے مل کر اس کا تمسخر اڑایا خُدا جانے اس دن ان کے ساتھ کیا مسئلہ تھا سب نے اپنی ذہانت کی بنا پر اپنا اپنا مشورہ دیا کسی نے کہا یہ دوسرا علامہ اقبال ہے جو ڈائریکٹ دوسری جماعت میں پہنچ گیا ہے اور کسی نے کہا یہ مٹھائی کا ڈبہ دے کر دوسری کلاس میں بیٹھنا چاہتا ہے ایک استاد نے غصے میں آ کر کہا کہ پکی پہلی تمہارا باپ پڑے گا جو تم دوسری کی کتابیں لے کر آگئے ہو خُدا جانتا ہے اُس وقت اس کے دل پر کیا گزر رہی تھی اس نے غصے میں بستہ اٹھایا اور گھر آ کر بستے اور وردی کو آگ لگا دی اُس کے بعد سب نے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی گھر سے نکل جانے کی دھمکی دی مارا بھی حتٰی کہ استاد نے بھی سمجھانے کی کوشش کی لیکن شومی ء قسمت یہ اپنی ضد پر اڑے رہے ۔ کچھ دن بعد ان کا والد انہیں پڑوسی فضل دراز سائیکل مرمت والے کے پاس کام سیکھنے کے لیے چھوڑ آئے ۔ ایک سال بعد والدہ نے وہاں سے یہ کہہ کر چھٹی کروا دی کہ آئے روز اِس کے کپڑے کالے ہوتے ہیں لہٰذا ہم اسے درزیوں والا کام سکھائیں گے۔
    ( 1973ء) میں بالم کے والد ڈیرہ اسماعیل خان کے مشہور لیڈیز ٹیلرز جن کی مین بازار بھکر میں دکان تھی استاد فیصل کے پاس ٹیلر نگ کا کام سیکھنے کے لیے چھوڑا آئے ۔ ( 1977ء) میں کسی مجبوری کے تحت بھکر سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر منکیرہ واپس آنا پڑا ۔ یہاں کچھ عرصہ محمد اقبال ٹیلرز کی شاگردی میں رہے پھر وہ بھکر چلے گئے تو شاہین ٹیلرز استاد یاسین کی شاگردی میں رہے اور ایک سال استاد رب نواز ٹیلرز کی شاگردی اختیار کی دو سال بعد حالات ایک بار پھر اِن کو بھکر لے گئے ۔

    تعلیم


    ( 1979ء ) میں انہوں نے دوبارہ اسکول میں داخلہ لے لیا ۔ ہائی اسکول ( بھکر ) سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ
    ۔ باھو ٹیلرز بانو بازار میں استاد شیخ محمد اسلم کی شاگردی میں پہلی بار اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ بھکر کے مشہور اداکار مصنّف و ہدایت کار جناب سید نواب قنبر اِن کے استاد کو پاس دے کر کہا کہ آپ نے ڈرامہ دیکھنے ضرور آنا ہے استاد نے وہ پاس محمد اقبال بالم کو دے دیا ڈرامہ دیکھنے کے بعد اِن کے دل میں بھی ڈراموں میں کام کرنے کا شوق پیدا ہوا ۔ اسلم کے اسرار پر الفنکار اکیڈمی کے سرپرست اعلیٰ سید نواب قنبر نے اِن کو ڈرامہ (خزانے کی تلاش ) میں کام دیا ۔ الفنکار اکیڈمی بھکر کی یادیں آج بھی اُن کے ذہن میں کل کی طرح تازہ بتازہ نظر آتی ہیں اور بے حد ممنون نظر آتے ہیں بھکر کے مشہور اداکار مصنّف و ہدایت کار رفعت شاہین کے جنہوں نے بالم کو مکالمے یاد کروانے میں بہت مدد کی اور ان کی سرپرستی میں ڈرامہ ( فرعون ) اور ایسے کئی ڈراموں میں کام کیا (1981ء) سے لے کر ( 1990ء) تک بھکر اسٹیج ڈراموں میں کام کرتے رہے ہیں ۔

    ( 1990ء) میں وہ اپنے آبائی شہر منکیرہ آگئے اور اُس نے باھو ٹیلرز کے نام پر دُکان بنائی نت نئے ڈیزائن کی بنا پر دکان 11 سال خوب چلی ۔ جب وقت نے آنکھیں دکھائیں تو محمد اقبال بالم نے ( 2001ء ) کو منکیرہ سے ہجرت کر لی فیصل آباد کے گرد و نواح میں مسلسل چھ سال حوزری کا کام کرنے کے بعد واپس ( 2006ء ) کو منکیرہ میں جیو ٹیلرز کے نام پر دُکان بنائی بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے دُکان چھوڑ کر ( 2013ء ) میں گولی ٹافی کا کاروبار شروع کر لیا ساتھ ساتھ سیلز مین بھی رہے ۔ بقول محمد اقبال بالم ( 2019ء ) میں بھکر کے ایک درینہ دوست سید احمد عباس کا فون آیا اُنہوں نے دریافت کیا ۔ کیا کر رہے ہو تو آپ نے بتایا کہ گولی ٹافی کا کام کر رہا ہوں اور وہ بھی اب تو خسارے میں جا رہا ہے تو اُنہوں نے کہا آپ میرے پاس لاہور آ جائیں تو یوں ایک بار پھر اُن کو قسمت ( 2019ء ) میں ویدک لیبارٹری ۔ مرید کے میں لے گئی ۔ یہاں کام کے ساتھ ساتھ
    بھکر پروڈکشن کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس میں ایک ٹیلی فلم ( سفید خون ) اور بہت سے ڈرامے بھی متعارف کروائے ۔ فلم ( سفید خون ) کے مصنّف ۔ اداکار ۔ اور ہدایت کاری کے فرائض بھی محمد اقبال بالم نے بخوبی نبھائے ۔ یہ فلم اور بہت سے ڈرامے آپ آج بھی ( اے بی فنی پروڈکشن ) یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں ۔

    شادی خانہ آبادی


    محمد اقبال بالم کی شادی اِن کے والدین کی پسند سے مسلم کوٹ ضلع بھکر کے محمد بخش عرف ممدو جو اِن کے رشتے میں مامو لگتے تھے ( 21 دسمبر 1989ء) کو اُن کی بیٹی عزیز مائی سے ہوئی۔ بقول محمد اقبال بالم ۔ عزیز مائی ہر موڑ پر ہر مشکل میں مردوں کی طرح میرے شانہ بشانہ کھڑی رہی میں خوش نصیب ہوں کہ ایک با ہمت اور باکردار بیوی مجھے ملی اللّٰہ تعالیٰ اِس کو صحت اور تندرستی والی زندگی عطا فرمائے آمین ۔

    اولاد


    محمد اقبال بالم کو اللّٰہ پاک نے چار بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا ہے
    بڑے بیٹے کا نام محمد عامر اقبال جن کی پیدائش محلہ چھینہ والا ( 15 اپریل 1994ء ) میں منکیرہ شہر ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔

    بڑی بیٹی اِرم اقبال کی پیدائش ( 15 جنوری 1999ء ) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔

    چھوٹی بیٹی کِرن اقبال کی پیدائش ( 13 فروری 2000ء ) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔

    دوسرا بیٹا محمد عمران اقبال کی پیدائش ( 25 مارچ 2004ء ) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔

    تیسرا بیٹا محمد عرفان اقبال کی پیدائش ( 26 جون 2007ء) منکیرہ ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔

    چوتھا بیٹا محمد فرحان اقبال کی پیدائش ( 15 مئی 2012ء ) کو منکیرہ شہر ( بھکر ) میں ہوئی ہے ۔

    بڑا بیٹا محمد عامر اقبال کاروبار کے سلسلے میں دوبئی میں مقیم ہے محمد عرفان اقبال گلو کاری کے ساتھ ساتھ سیکنڈ ایئر میں ہے اور سب سے چھوٹا بیٹا محمد فرحان اقبال نائن کلاس میں ہے ۔

    محمد اقبال بالم کے سسر کا نام محمد بخش اور ساس کا نام سیانی مائی تھا ۔
    محمد اقبال بالم کی
    والدہ ماجدہ کا نام گُلاب مائی تھا ان کی پیدائش ( 1932ء ) کو منکیرہ میں ہوئی اور وہ ( 2005ء ) میں خالق حقیقی سے جا ملی اللّٰہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت فرمائے آمین ۔

    محمد اقبال بالم کے نانا دریا خان ( بھکر ) کو خیر آباد کہہ کر منکیرہ آئے اور منکیرہ کے ہی ہو کر رہ گئے اِن کے نانا مال مویشی کی خرید و فروخت کا کام کرتے تھے ۔
    بالم کے نانا کا نام غلام حسین اور نانی کا نام شاہدہ بی بی تھا ۔
    محمد اقبال بالم کو
    شاعری کا شوق نیلام گھر کی بیت بازی سے ہوا گاہے بگاہے فی البدیہ اشعار دوستوں کو سنایا کرتے تھے تو وہ خوش بھی ہوتے اور طنزیہ کہتے کہ تم تو شاعر ہو گئے ہو کچھ عرصہ بعد اِنہوں نے ( 1987ء ) میں باقاعدہ طور طریقے سے بھکر کے نام ور استاد استاد الشعراء نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی کی شاگردی حاصل کی اور استاد نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی کے اولین شاگردوں میں شمولیت اختیار کر لی ۔

    اِن کے لکھے ہوئے گیت اور دوہڑے ملک کے نام ور گلو کاروں نے گائے میانوالی کے نام ور گلوکار گُل تری خیلوی ، ملتان کے نام ور گلوکار ساجد ملتانی ، سجاد ملتانی ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے جن نام ور گلو کاروں نے کلام گایا اُن میں ۔ امجد نواز کارلو ، باسط نعیمی ، عامر بلوچ ، بھکر کے نام ور گلو کاروں میں سے احمد نواز چھینہ ، شہزاد شیخ ۔ اللّٰہ یار گلو ، مشتاق احمد چھینہ ، عاشق پردیسی ، رانجھا خان ارمانی ، اظہر مہدی ، عرفان احمد چھینہ اور دیگر گلو کاروں نے کلام گا کر خوب داد وصول کی ۔
    محمد اقبال بالم
    چار زبانوں میں شاعری کرتے ہیں ۔ سرائیکی ، اُردو ، پنجابی اور رانگڑی جسے مواتی بھی بولتے ہیں ۔

    مختلف اخبارات میں کہانیاں ملی نغمے غزلیں و قطعات وغیرہ جو گاہے بگاہے مختلف اخبارات و رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ ان میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں ۔
    روزنامہ ٫٫ سسٹم ،، لاہور روزنامہ ٫٫ بارڈر لائن ،، لاہور روز نامہ ٫٫ گستاخی معاف ،، ملتان / اسلام آباد پاکستان ماہنامہ ٫٫ اسم ،، انٹرنیشنل پاکستان راولپنڈی ماہنامہ ٫٫ افکارِِ اُفق ،، انٹرنیشنل پاکستان اسلام آباد ماہنامہ ٫٫ ارژنگ ،، لاہور ماہنامہ ٫٫ طلوعِ اشک ،، شیخو پورہ روزنامہ ٫٫ ٹھنڈی آگ ،، گجرات ۔ روزنامہ ٫٫ تھل ٹائمز ،، بھکر روزنامہ ٫٫ اپنا بھکر ،، بھکر روزنامہ ٫٫ بھکر نامہ ،، بھکر روزنامہ ٫٫ سانول ،، بھکر اور روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر کچھ انتخابوں میں بھی کلام شائع ہو چکا ہے ۔

    محمد اقبال بالم نے پاکستان کے بہت سے مشاعروں میں شرکت کی ہے جن میں الحمرہ حال لاہور ، میونسپل ہال لاہور اور لاہور کی مختلف تنظیموں کے ماہانہ وار بیٹھک مشاعروں میں بھی بے شمار بار شرکت کی ہے ۔ راولپنڈی ، ملتان ، سرگودھا ، بھلوال ، بھلروان ، میانوالی ، منکیرہ ، ڈیرہ اسماعیل خان پروئے ، لیّہ ، چوک اعظم ، فتح پور ، ننکانہ صاحب ، گجرانوالہ ، بھکر ، مسلم کوٹ ، دریا خان ، لعلِ عیسن کروڑ ، سرائے مہاجر ، دُلے والا ، گوہر والا ، جنجو شریف ، جھنگ ، مرید کے ، شیخو پورہ ، اور فیصل آباد ، کے علاوہ بہت سے مشاعروں میں اپنا کلام سنا کر داد وصول کر چکے ہیں ۔
    محمد اقبال بالم
    مختلف تنظیموں کے بڑے عہدے پر فائز بھی رہ چکے ہیں جن میں بزمِ نذیر ، نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی کے اعزاز میں ان کے نام پر تنظیم بزمِ نذیر منکیرہ کے صدر رہے ہیں ۔ صدر ضلع بھکر ۔ تنظیم ۔ ایف ۔ جے رائٹر فورم لاہور ، صدر ضلع بھکر ۔ تنظیم ۔ انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان راولپنڈی ۔
    اور سابقہ صدر تنظیم . تھل کے ادبی سنجوک جو کہ 12 سال ہوگئے ہیں حالات کی نظر ہو گئی ہے ۔
    تنظیم بزم نذیر منکیرہ ( بھکر ) کے پلیٹ فارم پر مسلسل 12 سال ملکی لیول کے مشاعرے کروائے جن میں دور دراز کے شعراء نے عوام کو اپنے کلام سے محظوظ کیا اِسی ادبی تنظیم بزمِ نذیر منکیرہ کے زیرِ اہتمام کچھ عرصہ ماہانہ ادبی بیٹھک میں مختلف شعراء کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

    محمد اقبال بالم کے حلقہ احباب میں
    پروفیسر عاصم بخاری ، راقم الحروف ، جاوید دانش ، علی تنہا اور خالق داد چھینہ شامل ہیں ۔

    محمد اقبال بالم کی کتابوں کے نام درجِ ذیل ہیں ۔
    منکیرہ میں اِس سے پہلے سرائیکی نعتیہ مجموعہ کلام کسی کا سرائیکی زبان میں سامنے نہیں آیا ۔

    سرائیکی نعتیہ مجموعہ کلام ( مودت دے ڈیوے ) ناشر . صدق رنگ پبلی کیشنز ملتان ( یکم اکتوبر 2010ء) شائع ہوئی ۔
    صفحات 32

    دوسری کتاب ۔ ( تھل دے ہیرے ) مختلف شعراء کا کلام انتخاب ۔ ناشر صدق پبلی کیشنز ملتان ( نومبر 2012ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 48

    تیسری کتاب ( دامنِ دل ) اُردو شاعری مجموعہ غزل ناشر. اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ( مئی 2016ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 180

    چوتھی کتاب ( چھمکاں ) سرائکی مجموعہ کلام . ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( جون 2016ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 136

    پانچویں کتاب ۔ ( چھلے ) پنجابی ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ( مئی 2017ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 32

    چھٹی کتاب ( نکھیڑے چنگے تاں نیں ) سرائکی گیت اور دوہڑے ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( مئی 2017ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 32

    ساتویں کتاب ۔ ( جنت سردار ) علیہ السلام سرائکی مجموعہ کلام ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( جون 2021ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 128

    اٹھویں کتاب ۔ ( چشمِ خوابیدہ ) اُردو مجموعہ غزلیات ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ( مئی 2022ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 115

    نویں کتاب ۔ ( گُدڑیاں ) مزاحیہ سرائکی مجموعہ ۔ ناشر ۔ اُردو سخن چوک اعظم لیہ ( فروری 2024ء) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 111

    دسویں کتاب ۔ ( ہیں آنکھیں نم اُسے کہنا ) اُردو شاعری مجموعہ ۔ ناصر اُردو سخن چوک اعظم لیّہ ۔ ( اگست 2024ء ) کو شائع ہوئی ۔ صفحات 119
    اور پانچ کتابیں زیرِ طبع ہیں ۔

    محمد اقبال بالم کے اعزازات

    1 : ماہانہ آدابِ عرض ڈائجسٹ کی سالانہ تقریب میں سند برائے حسن کارکردگی منجانب ۔ آدابِ عرض ڈائجسٹ (ملتان)
    (15 مئی 2013ء)

    2 : ایوارڈ برائے حسن کارکردگی منجانب ۔ اُردو ڈاٹ کام ( چوک اعظم ) لیّہ ( 3 اگست 2020ء )

    3 : ایوارڈ و سند بہترین کتاب ( دامنِ دِل ) منجانب ۔ بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل ( ننکانہ صاحب ) ( 3 اگست 2020ء)

    4 : سندِ امتیاز بہترین کتاب ( چھلے ) منجانب ۔ بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل ( ننکانہ صاحب ) ( 23 مارچ 2021ء )

    5 : سند برائے ادبی خدمات منجانب ۔ منکیرہ ادبی سنگت بڑا گھر ( ننکانہ صاحب ) ( 23 مارچ 2021ء)

    6 : ایوارڈ وسند بہترین تصنیف ( دامن دل ) منجانب ۔ انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان ( راولپنڈی ) ( 26 جولائی 2021ء )

    7 : سند امتیاز بہترین کتاب ( چھلے ) منجانب ۔ انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان ( راولپنڈی ) (26 جولائی 2021ء)

    8 : گولڈ میڈل وسند کیش اور دیگر تحائف بہترین کتاب (جنت دے سردار ) منجانب ۔ تنظیم کار خیر ( گوجرانوالہ ) (21 نومبر 2021ء)

    9 : ایوارڈ و سند برائے ادبی خدمات منجانب ۔ انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان ( راولپنڈی ) ( 27 نومبر 2021ء )

    10 : الفانوس ایوارڈ وسند برائے حسن کار کردگی کتاب ( جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجانب ۔ بزم الفانوس ( گجرانوالہ ) ( 12 دسمبر 2021ء)

    11: گولڈ میڈل برائے حسن کارکردگی سندِ اعزازی عربی خدمات و اتھارٹی لیٹر ضلع ( بھکر ) برائے تربیتی ورکشاپ منجانب ۔ انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان ( راولپنڈی ) ( 25 دسمبر 2021ء)

    12: ایوارڈ و سند برائے حسن کار کردگی منجانب ۔ ماہانہ اوج ڈائجسٹ ( ملتان ) (16 جنوری 2022ء)

    13: انٹرنیشنل ایوارڈ پروگرام و مشاعرہ سند حسن کارکردگی منجانب ۔ بزم قیصر ( بھلوال ) ( سرگودھا ) ( 28 فروری 2022ء)

    14: سردار ادبی ایوارڈ بہترین کتاب (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجاب ۔ ذوقِ ادب جامکے چیمہ (سیالکوٹ ) (13 مارچ 2020ء)

    15: ایف جے رائٹر فورم پاکستان لاہور ایوارڈ و سند بہترین تصنیف (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجانب ۔ ایف جے رائٹر فورم پاکستان ( لاہور ) ( 26 مارچ 2022ء)

    16: بھیل ادبی ایوارڈ میڈل و سند برائے ادبی خدمات کُتب کے تحائف منجانب ۔ بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل پاکستان ( ننکانہ صاحب ) 27 مارچ 2022ء

    17: سند برائے حسن کارکردگی منجانب ۔ منگیرہ ادبی سنگت بڑا گھر ( ننکانہ صاحب ) 27 مارچ 2022ء

    18: الوکیل کتب ایوارڈ وسند برائے حسن کارکردگی کتاب (جنّت دے سردار علیہ السّلام) منجانب۔ بزم الوکیل (حاصل پور ) 15 اپریل 2022ء

    19: گولڈ میڈل سند کیش اور دیگر تحائف کتاب ( چشمِ خوابیدہ ) منجانب ۔ تنظیم کارِ خیر ( گوجرانولہ ) 8 مئی 2022ء

    20: الفانوس کتاب ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بہترین کتاب (نچشم خوابیدہ ) منجانب بزمِ الفانوس ، گوجرانولہ ، 8 جولائی 2022ء

    21: بشیر رحمانی ادبی ایوارڈ وسند برائے ۔ حسن کارکردگی عمدہ تصنیف (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجانب ۔ بزمِ بشیر رحمانی لاہور ، 25 اگست 2022ء

    22 : خوشبوئے نعت ایوارڈ برائے حسن کارکردگی منجانب ۔بزم خوشبوئے نعت ( سرگودھا ) 7 اکتوبر 2022ء

    23 : بزمِ رفیق ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بہترین کتاب ( جنّت دے سردار علیہ السّلام ) منجانب ۔ بزم رفیق جہان خان ، بھکر ، 28 دسمبر 2022ء

    24 : بھیل ادبی ایوارڈ گولڈ میڈل و سند برائے حسن کارکردگی بہترین تصنیف ( چشمِ خوابیدہ ) منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل پاکستان ( ننکانہ صاحب ) 21 مارچ 2023ء

    25 : بزمِ محبانِ قلم انٹرنیشنل لیہ ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بہترین کتاب (جنّت دے سردار علیہ السّلام ) من جانب بزم منجانب ۔ بزمِ محبانِ قلم انٹرنیشنل فتح پور ، لیّہ 5 جون 2023ء

    26 : سند برائے حسنِ کارکردگی بہترین کتاب (چشم خوابیدہ ) منجانب . منگیرہ بڑا گھر ( ننکانہ صاحب ) 21 مارچ 2023ء

    27 : گولڈن سٹار ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی منجانب ۔ بزم سٹار بھلوال( سرگودھا ) 27 مارچ 2023ء

    28 : بشیر رحمانی ایوارڈ وسند برائے حسن کارکردگی بہترین تصنیف ( چشم خوابیدہ ) منجانب ۔ بزمِ بشیر رحمانی لاہور ، 23 جون 2023

    29 : میڈل و سند برائے ادبی خدمات منجانب ۔ بزمِ لطیف ، فتح پور ( لیّہ ) یکم جولائی 2023ء

    30 : نقیبی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی بہترین تصنیف (چشمِ خوابیدہ ) منجانب ۔ بزم نقیبی فیصل آباد ، 25 نومبر 2023ء

    31 : بزمِ احبابِ انور ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی مزاحیہ کتاب ( گُدڑیاں ) منجانب ۔ بزمِ احباب انوار ( مرید کے ) ، یکم ستمبر 2024ء

    32 : سردار ادبی ایوارڈ و سند برائے حسنِ کارکردگی بہترین کتاب ( چشمِ خوابیدہ ) منجانب ۔ ذوقِ ادب جامکے چیمہ ، سیالکوٹ ، 22 ستمبر 2024ء

    آخر میں محمد اقبال بالم کی غزلیات سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔

    دے کے دلاسا بچے بھی اکثر سلا دیے
    لیکن کسی کے سامنے کاسہ نہیں کیا
    ***

    ماں نے بولا تھا فی امان اللّٰہ
    تب سے خالق کی ہوں پناہوں میں
    ***

    اُجلی رنگت ، دل میں کینہ ، لب ہیں شیریں
    من کا میلا تن پر خوشبو واہ بھئی واہ

    درد کیا کیا نہ اٹھایا باپ نے
    خون دے کر گھر چلایا باپ نے

    جب میسر ہر کسی کو یہ زباں سرکار ہے
    یار انگریزی سے اُردو اب بھی کیا دشوار ہے

    کیا خبر تھی گیسووّں کا جال ڈالا جائے گا
    دھیرے دھیرے سینے سے پھر دل نکالا جائے گا
    ***

    قدم قدم پر کدورتیں ہیں یہ ہر قدم پر خیال رکھنا
    خُدا بچائے گا دشمنوں سے نظر میں یاروں کی چال رکھنا

    آٹا ، چینی، ڈیزل اور پھر مہنگائی کی
    قوم سہے گی ضرب یہ کاری آخر کب تک
    ***

    خُدا نصیب کرے آج تجھے عیش و آرام
    کبھی سوچا ہے کہ مشکل میں ساتھ کس کا تھا
    ***
    تجھ کو جانا تھا مگر اتنا بتا کر جاتے
    وہ مجھ سے ہاتھ چھڑانے میں ہاتھ کس کا تھا
    ***

  • مقبول ذکی مقبول ایک درویش صفت ادبی لکھاری

    مقبول ذکی مقبول ایک درویش صفت ادبی لکھاری

    مقبول ذکی مقبول ایک درویش صفت ادبی لکھاری

    تحریر : ممتاز عارف
    ( ریڈیو پاکستان سرگودھا )

    سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ، اس کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہاں بہت سے نقصانات بھی ہیں ، لیکن ایک تو ماننا پڑے گا کہ جدید سائنسی ایجادات کی بدولت دُنیا اس وقت صیح معنوں میں گلوبل ویلج بن چکی ہے ۔ انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی اتنی آسان بنا دی ہے کہ بیسویں صدی میں اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ رابطے آسان ہو گئے ہیں اورفاصلے سمٹ گئے ہیں ۔ ایک وقت تھا جب ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے اور ایک دوسرے کا حال معلوم کرنے کے لئے خطوط لکھے جاتے تھے ، پھر سائنس نے ترقی کی تو ٹیلی فون کی سہولت سے ایک دوسرے کے حال سے باخبر رہنے لگے ۔ مزید ترقی ہوئی تو موبائل فون کا سیلاب اور انٹرنیٹ کا انقلاب آ گیا جس نے رابطے اس قدر آسان اور سہل کر دیئے کہ چند سال قبل تک کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ انٹرنیٹ کے کرشمے سے انسان جب چاہے اپنی مرضی سے معلومات تک رسائی حاصل کر لیتا ہے ۔ شاعروں اور ادیبوں کے درمیان رابطے رکھنا انتہائی آسان ہو گیا ہے ۔ لمحوں میں افکار و خیالات کا تبادلہ ہو جاتا ہے ، واٹس ایپ کے ذریعے آپ ادبی مواد اور شاعری بڑی آسانی سے اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچا سکتے ہیں ۔ آج کا شاعر و ادیب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دُنیا سے جڑُا ہوا ہے ۔ ایک دوسرے سے تعارف اور روابط بہت آسان ہو گئے ہیں ۔ سیکڑوں میل دُور بیٹھے اگر کسی شاعر سے ملاقات کا سبب نہیں بن پا رہا تو واٹس ایپ ، موبائل فون اور فیس بُک کے ذریعے آپ اُس سے روابط بھی قائم کر سکتے ہیں اوربات بھی کر لیتے ہیں ۔
    مقبول ذکی مقبول سے اگرچہ میری ملاقات تو نہیں لیکن ان کے ادبی قد کاٹھ سے ضرور واقف ہوں ۔ میرا ان سے تعارف سوشل میڈیا ہی کے ذریعے ہوا ۔فیس بُک اور واٹس ایپ پر مختلف ادبی پروگراموں میں بھکر کی ادبی سرگرمیوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ اُن میں مقبول ذکی مقبول کو بے حد نمایاں اور غیر معمولی طور پر متحرک پایا ۔ حالیہ دنوں میں سرگودھا رائٹرز کلب کی سرگرمیوں سے آگاہی کے بعد انہوں نے کال کرکے مجھے بتایا کہ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی وساطت سے مجھے ٫٫ رنگِ تبسم ،، کے نام سے آپ کی کتاب ملی ہے ۔ سوچا کال کر کے آپ کو دِلی طور پر مبارکباد پیش کروں ۔ یوں ہمارے درمیان رابطے اور مکالمے کا آغاز ہوا ۔ رابطوں کا سلسلہ مزید آگے بڑھا تو معلوم ہوا کہ مقبول ذکی مقبول کئی کتابوں کے مصنّف ہیں ۔ ایک پختہ گو شاعر اور عمدہ نثر نگار ہیں ۔ وہ ایک ادبی لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادبی کار کن بھی ہیں ۔ ادب کی ترقی وترویج ان کا مشن ہے منکیرہ ( بھکر ) کو ایک معتبر دبستان بنانے کے لئے گزشتہ کئی سال سے سرگرم عمل ہیں ۔ وہ ایک درویش صفت انسان اور عشقِ محمد و آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے سرشار ہیں ۔
    ذکرِ حضرت امام حسین علیہ السّلام اور ذکرِ کربلا تو ان کی رگ رگ میں سمایا ہوا ہے ۔ وہ واقعہء کربلا اور شہادتِ حضرت امام حسین علیہ السّلام کو دین کا چہرہ تصوّر کرتے ہیں اور اس چہرے کی تلاوت ان کے ایمان کی رُوح ہے ۔ وہ ذکرِ حضرت امام حسین علیہ السّلام کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ وہ یہ عبادت خُوب اور جی بھر کے کر رہے ہیں ۔ واقعہء کربلا اور سیرت و کردارِ حضرت امام حسین علیہ السّلام ان کے ہاں ایک مستقل استعارے کے طور پر جھلملا رہے ہیں ۔


    مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ ( بھکر ) کے ادبی افق پر اس قدر نمایاں طور پر جھلملا رہے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے نشانِ منزل بن گئے ہیں ۔ وہ تخلیقی ، تنقیدی اور تحقیقی شعور ، بصیرت اور صلاحیت سے مالا مال ہیں ۔ ایک اچھے تجزیہ نگار کے طور پر بھی علمی و ادبی حلقوں میں خاصے مقبول ہیں ۔ ان کے نثر پارے ادبی دُنیا میں خاص پہچان اور مقام رکھتے ہیں ۔ ٫٫ سجدہ ،، اور ٫٫ منتہائے فکر ،، جیسی کتابیں ان کا تخلیقی معیار متعین کرنے اور ان کی شاعرانہ عظمت کے لئے کافی ہیں ۔
    ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، جیسی کتاب لکھ کے تحقیق اور تنقید کی دُنیا میں انہوں نے اپنا لوہا منوا لیا ہے ۔ عاصم بخاری ادب میں ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اور انہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں اتنی عمدگی سے طبع آزمائی کی ہے کہ پڑھنے والا عش عش کر اُٹھتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنے ہمہ جہت ادبی لکھاری پر قلم اُٹھانا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن مقبول ذکی مقبول نے عاصم بخاری کا اتنی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی فنی جہات کا اتنی عرق ریزی سے مشاہدہ کیا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مقبول ذکی مقبول نے عاصم بخاری کی شخصیت اور فن کا عطر کشید کر کے اسے لفظوں کے روپ میں قارئینِ علم و ادب تک منتقل کردیا ہے ۔ ان کی تخلیقی ، تنقیدی اور تحقیقی بصیرت تو قابلِ تحسین ہے ہی ، شاعرانہ اسلوب اور طرزِ نگارش بھی لائقِ تعریف ہے ۔ اُن کا اسلوب اتنا دلکش اور متاثر کن ہے کہ پڑھنے والا اس کے سحر میں کھو جاتا ہے ۔ ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین سنگم ہے ۔ شاعرانہ اسلوب اتنا سادہ ، سہل ، عمدہ اور پر تاثیر ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی خوشبو فوری طور پر پڑھنے والے کے رگ و پے میں اتر جاتی ہے ۔ عقیدتوں سے معمور ان کے سلام و منقبت کی مہک پڑھنے والے کو روح کی گہرائی تک سرشار کر دیتی ہے ۔ ان کے یہاں سہل ممتنع کی عمدہ مثالیں بھی موجود ہیں اور ان کی شاعری پڑھ کر تازگی کا بھی احساس ہوتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول ادبی مراکز سے دُور منکیرہ ( بھکر ) جیسے مضافاتی شہر میں ادب کی جو شمع روشن کئے ہوئے ہیں ۔ اس کی کِرنیں نہ صرف منکیرہ ( بھکر ) کے ادبی افق کو منوّر کر رہی ہیں بلکہ بھکر کےاردگرد کے علاقوں کی ادبی فضا میں بھی جھلملاہٹ پیدا کررہی ہیں ۔
    مقبول ذکی کا شعری آہنگ اِس کی صاف و شفاف شخصیت کی طرح سچا ، سُچا اور کھرا ہے ۔ رثائی ادب میں مقبول کی ایک خاص پہچان اور مقام ہے ۔ میری دُعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ مقبول ذکی مقبول کے قلم میں اور زور اور تحریریں میں مزید تاثیر پیدا کرے ( آمین)

    مقبول ذکی مقبول ایک درویش صفت ادبی لکھاری

    ممتاز عارف

     ریڈیو پاکستان سرگودھا

  • مقبول ذکی مقبول خوش قسمت شاعر

    مقبول ذکی مقبول خوش قسمت شاعر

    مقبول ذکی مقبول خوش قسمت شاعر

    تحریر : ہمایوں جاوید ( لاہور )

    گھر میں کسی شاعر یا ادیب کا ہونا کسی خاص بخشش یا نعمت سے کم نہیں بلکہ یہ بڑی خُوش نصیبی کی بات ہے کہ اُن کے رابطے اُن کی اولاد کو بھی میسر آتے ہیں اور اُن کا میل جول بڑے بڑے لوگوں سے رہتا ہے ۔ میں عمر میں چھوٹا ہی تھا جب سے مجھے میرے والد صاحب جاوید صدیق بھٹی کی وساطت سے نیشنل بلکہ انٹر نیشنل شخصیات سے ملنے کے مواقع ملے مجھے یاد ہے کہ جب کبھی نعیم واعظ اور عمانوئیل نذیر مانی ( انگلینڈ سے ) مظہر جاوید حسن ( آزاد کشمیر سے ) جن ایم فلیکس ( کراچی سے ) چودھری کرم علی کیفی ( پاک پتن سے ) قیصر ہاشمی ( ملتان سے ) پرویز اختر شاد ( اسلام آباد سے ) صابر نار ( پشاور سے ) اور ڈاکٹر شاہد ایم شاہد ( واہ کینٹ سے ) لاہور تشریف لاتے تو میرے والد صاحب سے ملنے ہمارے گھر ضرور آتے ۔ اسی بہانے مجھے بھی ملنے کا موقع ملتا یہ بالکل ایسے ہی ہوتا جیسے
    ٫٫ جھونے دے پج ڈیلے نوں پانی آؤ ندا اے ،،
    چند روز قبل والد محترم کے ایک ادیب شاعر دوست مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ ( بھکر ) سے تشریف لائے گپ شپ کے بعد انہوں نے اپنا بیک کھولا اور اپنی کتاب ٫٫ سُنہرے لوگ ،، والد صاحب کو پیش کی اور مجھے موبائل پر کتاب پیش کرتے ہوئے تصویر بنانے کو کہا جو انہوں نے بننے کے بعد فیس بُک پر بھی لگا دی اُن کے جانے کے بعد میں نے کتاب پڑھی تو پڑھتا ہی چلا گیا یہ کتاب شاعروں ادیبوں کے انٹرویو پر مبنی کتاب تھی اس کتاب میں ستائیس 27 انٹرویوز ہیں اِس خُوب صورت کتاب پر نام ور شاعروں ادیبوں نے رائے دی ہے ۔
    دیباچہ پروین سجل نے لکھا ہے ۔ 160 صفحات کی یہ کتاب ادب میں خُوب صورت اضافہ ہے ۔ مقبول ذکی مقبول خُوب صورت شخصیت کے مالک ہیں وہ بہت سی خُوبیوں کے مالک ہیں وہ شاعر ، ادیب ، صحافی اور سماجی کار کن ہیں ۔

    شخصیت پسندی بھی ان کا ایک حوالہ ہے وہ نام ور شخصیات پر مضامین بھی لکھتے ہیں اور ان کے انٹرویو کر کے ان کو اخبارات میں بھی شائع کرواتے ہیں اُن کی بہت سی کُتب شائع ہو کر قارئینِ ادب سے داد کی سند وصول کر چکی ہیں کئی کتابوں پر کام کر رہے ہیں جو جلد شائع ہو جائیں گی ۔ ان کو بہت سے ادبی اداروں اور تنظیموں نے ادبی کام پر ایوارڈ اور گولڈ میڈل بھی دیئے ہیں وہ اپنے علاقے کیا پورے ملک میں ادبی محفلوں اور مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں ۔ خاص طور پر لاہور جو ادب کا مرکز اور گڑھ ہے یہاں بھی وہ تقریباً ہر بڑے پروگرام میں مدعو ہوتے ہیں لیکن شرکت وہ مہینے میں ایک آدھ پروگرام میں کرتے ہیں پورے ملک میں بسنے والے شاعروں اور شاعرات سے ان کے روابط ہیں وہ شاعری کم کرتے ہیں نثر کی طرف اُن کا رُجحان زیادہ ہے ۔
    مقبول ذکی مقبول اچھی سلجھی شخص کے مالک ہیں سادہ اندازِ بیاں کے قائل ہیں وہ گفتار اور تحریر میں دِلکش انداز رکھتے ہیں بات کو سادہ اور سلیس کرنے کے عادی ہیں ۔ بات کو گنجلک بنانے کی کوشش نہیں کرتے ہمیشہ سچائی اور حق گوئی کی بات کرتے ہیں جھوٹ سے اجتناب کرتے ہیں ان کے قول اور فعل میں تضاد نہیں جو بات کرتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں ان کی تحریروں میں بھی ان کی شخصیت کا عکس دکھائی دیتا ہے ان کا مطالعہ اور مشاہدہ وسیع ہے اسی لئے ان کے نظریات ( Cancept ) واضح ہوتے ہیں وہ اعلیٰ خیال کے مالک ہیں ان کی تحریروں میں پڑھنے والوں کو اچھے اچھے خیال ملتے ہیں جس سے پڑھنے والوں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ وہ دوستوں کے دوست ہیں دوستوں سے محبت کرنا اور اُن کے کام آنا مقبول ذکی مقبول کی ذات کا خاصا ہے ۔ ادب سے ان کو بہت بلکہ جُنوں کی حد تک لگاؤ ہے ہر وقت کتابیں پڑھنا اور ادب کے بارے میں سوچنا ان کی ذات کا حصّہ ہے وہ ادب پرور ہیں وہ جس طرح ادبی کاموں کی پرموشن چاہتے ہیں بعض اسی طرح ادیبوں شاعروں کی حوصلہ افزائی بھی وہ اپنا فرض سمجھ کر کرتے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول کی اس عادت اور رویے کی وجہ سے سبھی دوست احباب ان کی عزت اور ان سے محبت کرتے ہیں ۔ وہ تو لوگوں کے دلوں کی قدر کرتے ہیں ۔
    ایک ادبی تنظیم بزمِ اوجِ ادب کے نام سے چلا رہے ہیں جس کے پلیٹ فارم سے کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ مشاعرے ، ایوارڈ تقریب ، اسناد تقریب ، نعتیہ نسستیں ، محفل مسالمہ اور مرحومین شعراء و ادباء کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی محفلیں بھی کرواتے رہتے ہیں ۔ بزمِ اوجِ ادب ، منکیرہ ( بھکر ) کے بانی و چئیرمن مقبول ذکی مقبول فروغِ ادب کے لئے کوشاں اور متحرک نظر آتے ہیں ۔

    ہمایوں جاوید ( لاہور )

مقبول ذکی مقبول خوش قسمت شاعر

    ہمایوں جاوید
     لاہور

  • مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    تحریر : گُلشن آراء طارق ( لاہور )

    مقبول ذکی مقبول سے میری پہلی ملاقات ناصر باغ چوپال میں ہوئی جب وہ ایک ایوارڈ تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے کے لیے لاہور تشریف لائے تھے ۔ نام ور شاعر اور پبلشر عقیل شافی خُوبصورت لہجے میں تقریب کی نظامت کر رہے تھے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہاں اس پروگرام میں مجھے اور مقبول ذکی مقبول کو اکٹھے ایوارڈ ملا تھا ۔ بعد میں بھی ان سے گاہے بگاہے ادبی پروگراموں اور مشاعروں میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ مقبول ذکی مقبول اچھے بھلے مانس اور شریف شخص ہیں ۔ لوگوں کی عزت کرتے اور اُن سے کرواتے ہیں ۔ ان کا یہ سلسلہ عام لوگوں کے لیے بھی ہے چاہے وہ شاعر ہوں یا نہ ہوں میں اُن کی شاعری اور نثر دونوں کی مداح ہوں وہ قلم اور کاغذ سے بھی اپنا رشتہ نِبھا رہے ہیں اور شاعروں اور شاعرات سے بھی ۔ وہ پورے مُلک میں سبھی شاعروں ، ادیبوں اور شاعرات سے مراسم قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ان سے روابط رکھنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ادب قبیلہ میری فیملی ہے میرا خاندان ہے وہ لوگوں کے دُکھ سُکھ میں بھی شامل ہوتے ہیں ۔

    مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    مجھے اچھی طرح یاد ہے چند سال قبل جب میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھی تو مجھے تواتر کے ساتھ مقبول ذکی مقبول کا فون آتا تھا ۔ یہ اُن کے احساس ہمدردی اور سنجیدہ ہونے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے ۔ آج کل اُن کے شب و روز ادب کے فروغ کے لیے مختلف سکیمیں سوچنے اور اُن پر عمل کرکے کامیاب کرنے پر گُزرتے ہیں ۔ اِن دونوں وہ دھڑا دھڑ ادبی کام کر رہے ہیں ۔ بہت تھوڑے عرصہ میں اُنہوں نے بہت سا ادبی کام کر لیا ہے ۔ ان کی بہت سی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ یہ کتابیں نہ صِرف شائع ہوچکی ہیں بلکہ علمی ادبی اور عوامی حلقوں سے خُوب کامیابی اور پسندیدگی کی سند بھی حاصل کر چکی ہیں ۔ ان کا طرزِ اسلوب سادہ مگر دِلکش ہے ۔ ان کی تحریروں کو جب کوئی پڑھنا شروع کرتا ہے تو پڑھتا ہی چلا جاتا ہے وہ سچ بولتے ہیں سچ لکھتے ہیں وہ اچھے اور سچے لکھاری ہیں ۔ ان کے قول اور فعل میں تضاد نہیں ۔ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں اُن کے لکھنے کا انداز منفرد اور دلچسپ ہے ان کا مطالعہ اور مشاہدہ وسیع ہے جو ان تحریروں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول اچھے اخلاق کے مالک ہیں عاجزی اور انکساری بھی ان کی ذات کا خاصا ہے مغرور لوگوں کو وہ اچھا نہیں سمجھتے وہ سب کو پیار ، محبت ، اخلاق اور امن کا درس دیتے ہیں ان کے خیال میں مختصر سی زندگی کو پیار ، محبت اور امن سے گزارنا عقل مندی ہے ۔
    آخر میں مقبول ذکی مقبول کے مجموعہ کلام ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، میں سے دو فرد قارئین کی نظر کرتی ہوں جو وطن کے حوالے سے ہیں ۔

    بڑا خُوب صورت وطن ہے ہمارا
    خُدا کے کرم سے بنے یہ نظارے

    سبز ہلالی پرچم نے ہی
    دی ہے سچ میں عظمت ہم کو

  • منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    تحریر  :  سید طاہر شیرازی ، جھنگ 

    دُنیا کے ہر خطے میں اپنے اپنے انداز اور اسلوب سے شعر و ادب اور فنونِ لطیفہ پر مختلف پیرائے میں تخلیق اور تحقیق کا عمل جاری اور ساری رہا ہے اور کائنات کے وجود تک یہ مکمل  آب و تاب کے ساتھ چلتا رہے گا ۔ جہاں تک دُنیائے ادب کا تعلق ہے ادب کی کوئی زبان نہیں ہوتی یہ اندر کے جذبات واحساسات کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ دُنیا کے ہر خطہ میں ادب ہی کی زبان کو سمجھا اور محسوس کیا گیا ہے ۔ چاہے وہ لوک ادب ہو افسانوی ، رومانوی ، داستانی  یا کہ شعری ادب ہو چاہے کسی بھی پیرائے  یا صنف میں موجود ہو ۔ اُس کی چاشنی اور مٹھاس ایک خاص لذت رکھتی ہے ۔ دُنیا کی ہر زبان میں ادب تخلیق ہوا اور وہ زبان بولنے والے لوگ اپنے اس ادبی ورثے کے امین ہیں ۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اس کی وسعت صرف اور صرف محبت ہی سے ماپی جاسکتی ہے اس کا نہ کوئی اور پیمانہ ہے اور نہ ہی پیرا میٹر جس سے ادب کی پیمائش کی جاسکے ۔ تھل صحرا کے جنوب اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے آباد بھکر کا شہر بہت قدیم ہے ۔ اس کی اپنی زبان  تہذیب  ثقافت اور کلچر ہے جہاں پر زیادہ تر بولنے والوں کی زبان سرائیکی ہے ۔ ضلع کا زیادہ تر علاقہ ریت کے ٹیلوں صحرائے تھل پر مشتمل ہے اور دیکھا جائے تو تھل کے لوگوں کا ایک اپنا رہن سہن تہذیب کلچر بود و باش اور لباس ہے جو کہ ایک خاص خوبصورتی کا حامل ہے ۔ ضلع بھکر شروع سے علم و ادب کا محور و مرکز رہا ہے اور یہاں ہر دور میں اُردو ، سرائیکی اور پنجابی ادب کے لکھنے والے شاعر ادیب اور محقق موجود رہے ہیں  ۔ اِس دھرتی پر ہر دور میں ہر صنفِ سخن میں ادب تخلیق ہوتا رہا چاہے وہ حمد ، نعت ، سلام ، منقبت ، غزل اور نظم کی صورت میں لکھا جانے والا ہو یہ ادب شعر و ادب کی تاریخ کا حصّہ رہا ہے ۔ اس علاقے کو کچھی کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے اور اس علاقے نے بہت سے نام ور اور قد آور ادب تخلیق کرنے والی شخصیات کو جنم دیا ۔ جن میں غلام سکندر خان غلام ، غلام حسن تائب ، فیروز ترک ، نذر حسین ترک ، خلشِ پیر اصحابی مضطر حیدری ، سید آلِ محمد سوز ، شکیب جلالی ، کلیم بخاری ، بشیر احمد بشر ، نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، ڈاکٹر اللّٰہ نواز شہانوی ، اقبال حسین ، ڈاکٹر اشرف کمال ، علی شاہ ،  نجف علی شاہ بخاری ، الطاف اشعر بخاری ، انیل چوہان ، محمد اقبال بالم اور مقبول ذکی مقبول اس کاروان کا حصّہ نظر آۓ ۔ رثائی ادب صدیوں سے تخلیق ہوتا چلا آرہا ہے ۔ نواسہ رسول  صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم حضرت امام حسین علیہ السّلام کے ساتھ ہونے والے سانحہ کربلا کی نسبت سے ان علاقوں میں کربلائی ادب کے اثرات ہر دور میں نمایاں رہے ہیں اور بہت سی قد آور شخصیات اُردو اور سرائیکی زبان میں رثائی ادب تخلیق کرتی رہی ہیں ۔ اسی مناسبت سے بھکر کی تحصیل منکیرہ جو کہ صحرائے تھل میں واقع ہے اس دھرتی کے باسی اور شاعر و ادیب محقق مقبول ذکی مقبول کا تذکرہ نہ کرنا ادب کے ساتھ  نا انصافی ہے ۔ کربلائی ادب کے حوالے سے ان کے دو شعری مجموعے ٫٫ سجدہ ،، اور ٫٫ منتہائے فکر ،، منظرِ عام پر آ چکے ہیں جو کہ ادبی حلقوں سے  داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔

    منتہائے فکر اور رثائی ادب

    کربلائی ادب لکھنے کیلئے ہر انسان اس کے اثر پزیری اور ابلاغ کا کس طرح تقاضا کرتا ہے کہ نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے اس کی کتنی عقیدت اور معرفت ہے پھر بصیرت کے حوالے ہی سے یہ کرم اللّٰہ پاک کا اُس کی اپنی خاص عنایت کا ادراک عطا کرتا ہے  ۔ مقبول ذکی مقبول اللّٰہ تعالیٰ کی ایک خاص عطا کا کرم ہے ۔ اگر اُن  کے مجموعہ ء کلام ٫٫ منتہائے فکر ،، کو حقیقی حوالے سے دیکھا اور سمجھا جائے تو انسان تصوراتی طور پر معراجِ عشق پر پہنچ جاتا ہے ۔ ٫٫ منتہائے فکر ،، کو لغوی معنی کے پیرائے میں دیکھیں تو سوچ کی آخری بلندی بنتی ہے اور وہاں سے کہیں کریمِ کربلا کا اور خانوادہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا مقام شروع ہوتا ہے تو پھر عام آدمی اُن کی فضیلیت و عظمت کو اس محدود سے دائرہ دماغ میں کیسے سمو سکتا ہے ۔؟  یہ تو  اللہ تعالیٰ کی کریمی ہے جس نے کچھ نہ کچھ حصّہ عطا کیا  ہے ۔ یہ انسان کو اُس کی اپنی حیثیت کے مطابق عطا کرتا ہے  ۔ جب خالق کائنات کی توحید اور رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی نبوت کو خطرہ لاحق ہوا تو رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کریم کے خانوادہ ہی سے سرکار امام حسین علیہ السّلام نے ہی دین کی بقا و سرفرازی کیلئے قیام کیا اور علم حق بلند کر کے کربلا میں دینِ مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور توحید کبریا کیلئے اپنے بہتر (ع) رفقا کے ساتھ کار زارِ کربلا میں سیسہ پلائی دیوار بَن کر کھڑے ہوئے اور  اِس وقعہ کو مقبول ذکی مقبول نے یوں بیان فرمایا ہے ۔

    آپ (ع)کی  جو  تھی امامت دین پر آئے نہ آنچ 

    کربلا میں کی قیادت دین پر آئے نہ آنچ 

    آپ (ع)کے اصحاب (ع) پر راضی ہوا ہے پاک ربّ 

    یاد ہے سب کو شجاعت دین پر آئے نہ آنچ 

    ناز کرتے ہم رہیں گے تھے بہتر (ع) باوفا 

    پی گئے جامِ شہادت دین پر آئے نہ آنچ 

    ارجمندِ مصطفٰی (صہ) تھے کربلا میں سوگوار 

    آپ (ع) کی تو ہے بسالت دین پر آئے نہ آنچ 

    یہی تو تھا فلسفہ دینِ حق جس کیلئے حضرت زہرا سلام اللّٰہ علیہا کے لال علیہ السّلام نے اپنا سب کچھ قربان کیا 

    اِک دیا روشن کیا عاشور کی شب کربلا 

    پورے عالم میں ہے اُس کا ہر طرف قصہ الگ 

    کربلا کی داستان اپنی جگہ پر ایک الگ داستانِ غم ہے اگر میدان میں حضرت عباس علیہ السّلام کے بازو کٹتے ہیں تو حجاب کی صدا بلند ہوتی ہے اگر حرمل کا تیر حضرت علی اصغر علیہ السّلام کا گلہ چیرتا ہے تو اُس کی ماں رباب سلام اللّٰہ علیہا ٹوٹ جاتی ہے اس دل سوز لمحے کو مقبول ذکی مقبول نے یوں قلم بند کیا ہے ۔ پہلا شعر حضرت عباس علیہ السّلام کے حوالے سے اور دوسرا حضرت علی اصغر علیہ السّلام کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں ۔

    بازو کٹے جو نہر پر حیدر (ع)کے لال کے (ع)

    خیموں سے اِک صدا اُٹھی ہائے مرا حجاب 

    حرمل کے تیر نے ہی تو امبر ہلا دیا 

    تڑپی صغیر ( ع ) سے بھی جو بڑھ کر وہاں رُباب (ع)

    جب طاغوتی طاقتوں اور ظلم و بریریت سے نظامِ حق اور حق خود ارادیت کیلئے چھ ماہ کے بچے کی قربانی بھی دینی پڑے تو ضروری ہے نظامِ حق کی بقا کیلئے یہ بھی لازم ہے اگر ہم آئے  دن عالمی تناظر میں دیکھیں تو فلسطین اور آزاد جموں کشمیر میں نظام حق اور حق خود ارادیت کیلئے چھ چھ ماہ بچوں کی قربانیاں پیش کی جارہی ہیں ۔ اِس کا آغاز بھی یومِ عاشورہ کربلا سے ہوا تھا ۔ اِسی تناظر میں اُن کا ایک یہ شعر بطور نمونہ پیش ہے ۔

    راہِ حق پر دیا بیٹا وہ تھا معصوم (ع) چھ ماہ کا 

    کہا تھا فوجِ ظالم سے بچائیں گے نظامِ حق 

    مقبول ذکی مقبول جتنا خوبصورت شاعر ہے اُتنا خوبصورت انسان بھی ہے اِن کے علاوہ اُن کے مزید شعری مجموعے 

     ٫٫ یہ میرا بھکر ،، ( فردیات) فروری 2024ء میں شائع ہوا 

    ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، ( اُردو ، پنجابی اور سرائیکی شاعری) 14 اگست 2024ء میں شائع ہوا 

    مقبول ذکی مقبول شاعری کے ساتھ ساتھ مختلف تحقیقی مضامین پر مبنی کتابیں لکھ چکے ہیں  جو کہ ٫٫ شذراتِ مقبول ،، مضامین و تبصرے کی کتاب جنوری 2024ء میں شائع ہو چکی ہے ۔ تحقیق کے حوالے سے بھی منکیرہ میں اور دور دراز تک کے علاقوں میں ان کے ادبی طور پر روابط موجود ہیں جو کہ مقبول ذکی مقبول کی ادب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ وہ کئی دفعہ میرے ہاں جھوک شیرازی ، جھنگ میں تشریف لائے اور جھنگ کے مختلف ادبی پروگراموں کا حصہ بنتے رہے ہیں اور میرے ساتھ تو اُن کا ایک خاص عشق کا رشتہ ہے جو ہم کو جوڑے رکھتا ہے تحقیق کے حوالے سے جو اُن کی مختلف ادبی شخصیات سے ملاقاتیں  رہی ہیں اُن کو ترتیب دے کر انٹرویوز کی شکل بنا کر اُن کو کتابی صورت میں شائع کر کے عظیم ادبی سرمائے کو محفوظ کیا اور ایک ادبی تاریخ مرتب کی ٫٫ سُنہرے لوگ ،، جون 2023ء اور ٫٫ روشن چہرے ،، جولائی 2023ء 

    اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ٫٫ اعترافِ فن ،، عاصم بخاری تحقیق و تنقید پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو یکم جنوری 2024ء  میں چھپ چکی ہے اُس کے ساتھ ساتھ ٫٫ عاصم بخاری : شخصیت اور شاعر ،، کے نام سے کتاب فروری 2025ء  میں چھپ چکی ہے ۔ یہ بھی مقبول ذکی مقبول کی تحقیق کا سر چشمہ ہے ۔ ٫٫ سید حُب دار قائم  : جگمگاتا ستارہ ،، کے عنوان سے ایک کتاب فروری 2025گء  میں شائع کر کے مؤلف و محقق کے طور پر بھی سامنے آ چکے ہیں ۔ ادب کے میدان میں جب ہم مقبول ذکی مقبول بطور شاعر و ادیب اور محقق دیکھتے ہیں تو اُن کی شخصیت واضح طور پر سامنے آتی ہے ۔ 

    صحرائے تھل کی پیاس کو مقبول ذکی مقبول علم و ادب سے  بجھانے کیلئے سر گرداں ہیں ۔ ذہنی سکون اور ادبی مسرت کیلئے شعر و ادب تخلیق کر کے اپنی دھرتی کے ساتھ محبت کا قرض اُتارنے کی کوشش کر رہیں ہیں ۔ ہر انسان پر اُس کے علاقہ کی مٹی کا حق ہوتا ہے ۔ جس نے اُس کو جنم دیا ہوتا ہے ۔ اُس کا قرض اُتارنا بھی واجب ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی سعی و کوشش اسی قرض کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔

  • مطلوب حسین طالب عزم و ہمت کی چٹان

    مطلوب حسین طالب عزم و ہمت کی چٹان

    مطلوب حسین طالب عزم و ہمت کی چٹان

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ رہے ہیں ۔ جن کا وجود نا مکمل تھا اور انہوں نے ادب کے قرینے سے اپنے وجود کو مکمل کیا ہے کیوں کہ کوئی بھی صحت مند انسان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کے شعور میں حرف و صوت کا طلسم موجود نہ ہو ۔
    کچھ اِس وقت بھی ایسے لوگ موجود ہیں ۔ جنہوں نے اپنے وجود کو ایک مکمل وجود ثابت کیا اور تاریخ نے ایسے با ہمت لوگوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جن میں ایک معروف نام مطلوب حسین طالب کا ہے جو 24 دسمبر 2023ء کو ہم سے بچھڑ گئے ۔
    مطلوب حسین طالب نے اپنی زندگی کو کتنا مشکل اور کٹھن وادیوں کا مسافر پایا ۔ مگر کبھی بھی ہمت نہیں ہاری ۔ شکر کے سجدے تادمِ آخر جاری وساری رہے ہیں ۔ نہ ہی اپنی معذوری کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیا نہ ہی احساسِ کم تری کا شکار رہا ۔ خود کو سنبھالا اور دوسروں کو کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنایا ۔

    مطلوب حسین طالب عزم و ہمت کی چٹان
    مطلوب حسین طالب


    مرشدِ دشت ( مجموعہ غزل )
    ہر ایک شعر میں معنویت ، شعریت ، مقصدیت اور جن میں بڑے بڑے مضمون موجود ہیں ۔ جو قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں ۔ اِس میں اُن کا فطری شاعر ہونے کا اپنا ایک جان دار حوالہ موجود ہے ۔ غزل کا ہر ایک شعر الہامی خوشبو سے رچا بسا کرب و درد ، اُمید اور حق و صداقت کی آواز کانوں و دماغ کو اثر انداز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
    اندھیروں سے کھینچ کر روشنی کی طرف لانا طالب کا منشورِ خاص تھا ۔ جو اُن کی غزل گوئی میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے ۔ بے ساختہ پن اور کلام میں فراوانی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ حقیقت پسندی کا جوہر اُن کے اندر موجود تھا ۔ خود غرض نہیں دوسروں کے دُکھ درد کو دیکھ کر قلم کا جہاد کرنا ایک خاص مقصدیت تھا ۔ اُن کے دارِ فانی سے چلے جانے کے باوجود آج بھی ہم میں موجود ہے جس کا ثبوت ٫٫ مرشدِ دشت ،، ( مجموعہ غزل ) ہم سے ہم کلام ہے جو معاشرے کو دَلدَل سے نکلنے کے لئے معاون ثابت ہونے جارہا ہے ۔ ندیم اقبال نے اپنے بھائی کو زندہ کر دیا ہے ۔

    مرشدِ دشت


    آخر میں دو اشعار قارئین کی بصارتوں کی نذد کرتا ہوں ملاحظہ کیجیے : ۔

    دوستوں اب تو چراغِ دِل لے کر شہر میں
    ڈھونڈیے تو کوئی بھی درد آشنا ملتا نہیں

    ہاں! فقط یادِ خدا ہے باعثِ تسکینِ جاں
    ورنہ ہنگاموں میں طالب کچھ مزہ ملتا نہیں

  • بزمِ اوجِ ادب کا مقبول ذکی

    بزمِ اوجِ ادب کا مقبول ذکی

    بزمِ اوجِ ادب کا مقبول ذکی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر : پروفیسر ڈاکٹر گُل عباس اعوان ، لیہ

    محترم امان اللّٰہ کاظم صاحب لیہ کے سینیئر ترین شاعر و ادیب ہیں ۔ ایک عرصہ تک ریڈیو پاکستان ملتان سے ان کے سرائیکی گیت نشر ہوتے رہے اور لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے رہے ۔
    مگر ہمارے دل پر تو اب بھی امان اللّٰہ کاظم کی حکمرانی ہے ۔ ایک دن انہوں نے بلایا اور منکیرہ ( بھکر) سے آ ہے ہوئے ایک نوجوان لکھاری سے متعارف کرایا ۔ یہ جوان مقبول ذکی تھے ، لکھنے پڑھنے کے شیدائی ، گفتگو سننے کا ہنر جانتے ہیں ۔ادبی حلقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور اب تو اپنا ایک حلقہ ٫٫ بزمِ اوجِ ادب ،، منکیرہ ( بھکر ) بھی تشکیل دے چکے ہیں ۔ اخبارات سے بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ ابتدا میں چھوٹے چھوٹے مضمون لکھتے رہے ، تحریر میں بلوغت آئی تو انٹرویوز کرنے لگے اور ان انٹرویوز کو تحریری شکل میں اخبارات میں بھی شائع کرتے رہتے ہیں ۔
    ان کی زیرِ نظر کتاب ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، ان کے تنقیدی مضامین پر دوسری کتاب ہے ۔ کتاب میں تحریر عاصم بخاری کا خاکہ پڑھ کر عاصم بخاری کی شخصیت کا احاطہ ہو جاتا ہے ۔یہی ایک ادیب کا کارنامہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی شخص کا خاکہ لکھے تو آپ اس شخص سے بالمشافہ ملے بغیر اس سے متعارف ہو جاتے ہیں ۔
    عاصم بخاری کی شاعری کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے ۔ ان کی شاعری کو مختلف موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ہمارے یہاں تنقید کے میدان میں ابھی بہت سے موضوعات متعارف ہونا باقی ہیں ۔ ایک اچھے تخلیق کار کو اگر اچھا نقاد میسر آ جائے تو اس کی تخلیق اپنے تمام رنگوں سمیت قارئین کے سامنے آ جاتی ہے ۔

    بزمِ اوجِ ادب کا مقبول ذکی

    ۔ عاصم بخاری کی ماحولیاتی شاعری کا تجزیہ
    *۔ عاصم بخاری کی شاعری کا ایک جاندار کردار ۔۔۔باپ
    *۔ عاصم بخاری کی طنزیہ شاعری
    *۔ عاصم بخاری کی شاعری میں شہر اور گاؤں
    *۔ عاصم بخاری کی شاعری میں پاکستانیت وغیرہ
    عاصم بخاری کا خاکہ کس قدر خوب صورت انداز میں لکھا ہے ۔ عاصم بخاری بطور ایک شخص کے سارے کا سارا ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔
    ٫٫ کشادہ پیشانی ، نیم وا مخمور آنکھیں ، سدا بہار مسکراہٹ ، بامروت ، میانہ قد ، ذیابیطس جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود ، چہرے پر بشاشت ، لالی ، بذلہ سنج۔۔۔ ،،
    ایک شاعر میں اگر یہ ساری خوبیاں موجود ہیں ۔ تو وہ شخص یقیناً بہت پیارا ہوگا ۔بذلہ سنجی تو ایک شخص کو مجلس سے جوڑ دیتی ہے ۔ بذلہ سنج شخص مجلسی ضرور ہوگا ۔ دلوں کو تسخیر کرنے کا یہی بڑا ہنر ہے ۔
    عاصم بخاری کی شاعری کا ۔
    ماحولیاتی تجزیہ پیش کرتے ہوئے وہ عاصم بخاری کا ایک شعر درج کرتے ہیں ۔

    مجھ کو اعزاز یہ بھی حاصل ہے
    میں نے ماحول پر بھی لکھا ہے

    عاصم بخاری کی شاعری کا ماحولیاتی مطالعہ کرتے ہوئے ، مقبول ذکی مقبول ان کی نظم کے اشعار درج کرتے ہوئے درست طور پر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شاعر کا کام محض حسن و عشق کے موضوعات بارے شعور دینا ہی نہیں ، بلکہ اپنے ماحول کا دفاع کرنا بھی ایک شاعر کا فرض ہے ۔

    کون فریاد سنتا بے چارے
    کتنی بے جگری سے چلے آ رے
    کتنی بے دردی سے گئے مارے
    جانے کیا جرم تھا درختوں کا

    میرے نزدیک مقبول ذکی مقبول کی یہ بہترین کاوش ہے ۔انہوں نے پروفیسر عاصم بخاری کا بھرپور مطالعہ کیا ہے ۔ اگر نقاد باریک بینی سے مطالعہ و تجزیہ کرے گا تو باریک اور لطیف نکات بھی سامنے آئیں گے ۔

    ا چانک بجنے سے دل کانپتا ہے
    سنے ہیں تو نے ہارن گاڑیوں کے

    شور کی آ لودگی کے خلاف یہ ایک بھرپور احتجاج ہے اور مقبول ذکی کا یہ کمال ہےکہ وہ ایک شاعر کی شاعری کے تمام زاویے پیش کرکے کامیاب نقاد کے روپ میں سامنے آ ہے ہیں ۔مقبول ذکی مقبول سلامت رہیں ۔

    روفیسر ڈاکٹر گُل عباس اعوان ، لیہ

     پروفیسر ڈاکٹر گُل عباس اعوان
    لیہ

  • عاصم بخاری : شخص اور شاعر

    عاصم بخاری : شخص اور شاعر

    عاصم بخاری : شخص اور شاعر

    مقبول ذکی مقبول کی کتاب ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، اشاعت کے آخری مراحل میں


    منکیرہ ( نمائندہ خصوصی) مقبول ذکی مقبول کی کتاب ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، تحریر و تحقیق پر مشتمل چوبیس مضامین شامل کئے گئے ہیں جو عاصم بخاری کے منظوم میں چھپی خوبیوں کو بیان کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ شخص پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے معروف شاعر و ادیب مقبول ذکی مقبول کے قلم سے لکھے گئے مضامین پہلے مختلف اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں اب کتاب کی صورت میں جلد مارکیٹ آنے والے ہیں

    عاصم بخاری : شخص اور شاعر

    مقبول ذکی مقبول کو اس کاوش پر پروفیسر و ڈاکٹر صاحبان کی آراء اور صاحبِ کتاب کی شخصیت و فن پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے جو کتاب میں شامل ہے ۔ عاصم شناسی کے زاویے سے یہ مقبول ذکی مقبول کا نادر ادبی شہ کار ہے ۔

  • عابد علیم سہو: شخصیت و فن

    عابد علیم سہو: شخصیت و فن

    عابد علیم سہو: شخصیت و فن

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    عابد علیم سہو ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر ہیں جو اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں اپنی شاعری کے ذریعے ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے نہایت کم عرصے میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ وہ بزمِ رفیق انٹرنیشنل پاکستان بھکر کے بانی ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مختلف اصنافِ سخن میں پیش کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری کا دائرہ کافی وسیع ہے جس میں حمد، نعت ، نظم ، گیت اور قومی و سماجی موضوعات پر غزلیں شامل ہیں۔ ان کے اشعار میں جذبات کی گہرائی، انسانی تجربات کی عکاسی اور الفاظ کی سادگی کے ساتھ معنوی گہرائی نظر آتی ہے۔

    عابد علیم سہو کا تعلق بھکر، پنجاب، پاکستان سے ہے۔ ان کی شخصیت میں عاجزی اور ادب سے محبت نمایاں طور پر نظر آرہی ہے۔ وہ محبت اور امن کے سفیر ہیں اور اپنی شاعری کے ذریعے نفرتوں کو مٹانے اور محبت کو عام کرنے کا خواب رکھتے ہیں۔ ان کی پنجابی شاعری کو ہندوستان میں گرمکھی زبان میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جو ان کے کلام کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ جلد منظرِ عام پر آنے والا ہے جو ان کے ادبی سفر میں ایک اہم سنگ میل ہوگا۔

    انہوں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات کی صداقت، فلسفیانہ سوچ اور روحانی تعلق کا امتزاج موجود ہے۔ ان کی غزلوں میں روایتی طرزِ سخن کے ساتھ ساتھ جدت کی جھلک نظر بھی آتی ہے۔ ان کے اشعار انسانی جذبات کے مختلف پہلوؤں، عشق، جدائی اور زندگی کے کٹھن تجربات کو بیان کرتے ہیں۔

    عابد علیم سہو کی غزل گوئی میں کلاسیکی روایات کے ساتھ موجودہ دور کے مسائل کا عکس بھی جابجا ملتا ہے مثلاً:

    "کسی کو اور میں اب آزما نہیں سکتا

    ہیں زخم اتنے کہ تجھ کو دکھا نہیں سکتا”

    عابد علیم سہو: شخصیت و فن
    عابد علیم سہو

    علیم اپنے اس شعر میں محبت میں ٹوٹے ہوئے دل کی کیفیت کو بیان کرتا ہے، جہاں شاعر اعتماد کے فقدان اور جذبات کی شدت کو سادہ مگر دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ شعر ملاحظہ کیجیے:

    "یہ بحر عشق ہے عابد یہاں طوفان پنہاں ہیں

    بہت سے حادثوں سے ہوگئے دوچار پانی تک”

    اس شعر میں شاعر نے عشق کی شدت اور زندگی کے سخت تجربات کو بحر و طوفان کے استعارے سے خوبصورتی سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ان کی نعتیہ شاعری عقیدت اور روحانیت کا بہترین اظہار ہے مثلاً:

    "جاں فزا ہے شہرِ طیبہ کی فضاء

    دل کشا ہے شہرِ طیبہ کی فضاء”

    شہرِ طیبہ کے تقدس اور محبت کو بیان کرتے ہوئے ان کے اشعار دل کو چھو لیتے ہیں۔

    عابد علیم سہو کے اشعار میں قومی محبت، انسانی ہمدردی اور معاشرتی مسائل کا ذکر بھی ملتا ہے مثال کے طور پر:

    "تمام نفرتیں جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا

    میرا طریق محبت کو عام کرنا ہے”

    یہ شعر ان کے فکری رجحان اور امن کے پیغام کو ظاہر کرتا ہے۔

    عابد علیم سہو کے کلام میں روانی، سادگی اور برجستگی نمایاں طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ ان کے ہاں تشبیہات اور استعارات کا استعمال عمدگی سے کیا گیا ہے جو قاری کو جذبات کی گہرائی میں لے جاتا ہے۔ ان کا اندازِ بیان سادہ مگر پراثر ہے، جس کی وجہ سے ان کے اشعار قارئین کے دل میں اتر جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    عابد علیم سہو جدید اردو شاعری کا ایک اہم نام ہیں، جنہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے ادب میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وہ شاعری میں جذبات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ محبت و امن کا پیغام بھی دیتے ہیں۔ ان کے کلام کا تنوع اور معنوی گہرائی انہیں معاصر شعراء میں منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ ان کا شعری مجموعہ ان کے فن کو مزید بلندیوں پر لے جائے گا اور ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرے گا۔