منفرد لب و لہجہ کا شاعر ، نقاد ، ادیب ، محقق ، تبصرہ نگار ، انٹرویو نگار، ادبی رپوٹر ، صحافی اور اچھا و مخلص انسان دبستانِ تھل کا روشن ستارہ ، ریگ زار تھل میں رہائش پذیر بھکر کی تحصیل منکیرہ ترجمان ِ ادب ۔ دُنیائے ادب میں اُردو ، سرائیکی اور پنجابی کی خوشبو جو کہ صرف تھل ، صحرا تک ہی محدود نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی جہاں اُردو ادب وہاں اپنے فن و ادب کا لوہا منوایا چکے ہیں ۔
محدود وسائل کے باوجود کمزوری کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مدد آپ کے تحت ادب کی خدمت میں پیش پیش ہیں ۔
پیدائش
مقبول ذکی مقبول کا خاندانی نام مقبول حسین قلمی نام مقبول ذکی مقبول جس سے ادبی دُنیا میں منفرد پہچان رکھتے ہیں ۔ یکم جنوری 1977ء کو کنال کالونی کے کواٹر لیّہ میں عالمِ وجود میں ہوئے ۔ آپ کے والد اقبال حسین کنال کالونی میں ملازمت کیا کرتے تھے ۔ ہمارے بزرگوں کا تعلق بھی لیّہ شہر سے ہے ۔ 1956ء کو آپ کے بزرگوں نے منکیرہ ( بھکر ) سے کوچ کر گئے تھے اور لیّہ میں آباد ہوئے تھے ۔ 1982ء کو واپس منکیرہ آ کر آباد ہوئے ۔
مقبول ذکی مقبول غریب گھر کے چشم و چراغ ہیں ۔ آپ کے والد اقبال حسین ( 1956ء / 18 دسمبر 2005ء ) شریف النفس انسان تھے ۔ ہمیشہ محنت کو شعار بنایا ۔ اقبال حسین کو اللّٰہ پاک نے پانچ بیٹے اور تین بیٹوں سے نوازا ۔ بھائیوں اور بہنوں میں مقبول ذکی مقبول پیدائش کے حوالے سے پہلا نمبر ہے ۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم گھر سے ماں کی گود سے لی پھر مسجد سے پھر مکتب سے سلسلہ چلا گورنمنٹ پرائمری اسکول میں داخلہ لیا بعد ازں رسمی و غیر رسمی انداز میں سیکھنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ تعلیم نے مقبول ذکی مقبول میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ اچھا انسان و مسلمان اور مفید شہری و پاکستانی بنایا ۔ مقبول ذکی مقبول کو پڑھنے لکھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا مگر اُس وقت کی مجبوریاں و مسائل جو کہ تعلیم مکمل نہ کرسکے ۔ البتہ ان کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں نہیں ۔
ملازمت
مقبول ذکی مقبول شروع شروع سے مٹھائی کا کام کیا اُس کے بعد کچھ عرصہ گڑ کی خرید و فروخت کا کام کیا اس کے بعد سائیکلوں کی دُکان بنائی ۔ 29 اپریل 2009ء مقبول ذکی مقبول کو والد کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں نوکری ملی ۔ تحصیل منکیرہ کے گاؤں بنڈیانوالہ گورنمنٹ ڈسپنسری میں ۔
21 نومبر 2010ء میں ٹی ، ایچ ، کیو ہسپتال منکیرہ میں 18 اکتوبر 2010ء تک جنرل ڈیوٹی سر انجام دی ۔ 12 نومبر 2021ء سے لے کر 21 فروری 2023ء ڈی ، ڈی ایچ ، او آفس منکیرہ میں جزل ڈیوٹی سر انجام دی ۔ 19 جون 2023ء سے ٹی ، ایچ ، کیو ، ہسپتال منکیرہ میں ایم ، ایس ، صاحب کے آفس میں جزل ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔ تحصیل منکیرہ کے علاقہ میں ایمرجنسی کی صورت میں بھی کائی بار ڈیوٹی کر چکے ہیں ۔
اس نوکری سے اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ اپنی بیوی بچے اور قرابت داروں سے نہایت ہی شفقت و مہربانی سے پیش آتے ہیں ۔ محکمہ کے لوگ جن کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ اور دیگر ان سے خوش ہیں ۔ اس کے علاوہ ادبی کاموں میں بھی شوق رکھتے ہیں
زمِ اوجِ ادب ، منکیرہ ( بھکر )
بزمِ اوج ادب کا آغاز دسمبر 2022ء سے کیا اس ادبی تنظیم بزمِ اوج ادب منکیرہ ( بھکر ) کے بانی و چیرمین مقبول ذکی مقبول اپنی مدد آپ کے تحت اس بزم کو جوش و خروش کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔ کسی سے چندہ وغیرہ آج تک نہیں لیا ۔ ادبی نشستیں ، ادبی مشاعرے ، نعتیہ مشاعرے ، محفل مسالمہ ، مرحوم شعراء کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ، ادبی کُتب کی اشاعت اور ایوارڈ و اسناد کی تقریبات اور دیگر ادبی سرگرمیاں جاری و ساری رہتی ہیں ۔ اس سے قبل ادبی تنظیم ٫٫ تھل ادبی سنجوک ،، منکیرہ میں خزانچی رہ چکے ہیں اور اس کے بعد ادبی تنظیم ٫٫ بزمِ نذیر ،، منکیرہ اس کے سیکرٹری نثر و اشاعت بھی کام کر چکے ہیں ۔ ادب کے فروغ کے لئے مقبول ذکی مقبول سر گرم رہتے ہیں ۔
مشاعرے
مقبول ذکی مقبول مختلف شہروں میں مشاعرہ پڑھنے کا شرف حاصل کر چکے ہیں ۔ ادبی نشستوں میں بھی اپنا کلام پیش کر چکے ہیں ۔ جن میں اسلام آباد ، لاہور ، مظفرگڑھ ، سرگودھا ، بھکر ، لیّہ ، میانوالی ، دُلے والا ، سرائے مہاجر ، اڈا جہان خان ، فتح پور ، منکیرہ اور بھی مختلف شہروں میں مشاعرہ بڑھ چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ منکیرہ اور اس کے گرد و نواب میں ممبر حضرت امام حسین علیہ السّلام میں بھی جشن کے حوالے سے معصومین علیہ السّلام کی ولادت باسعادت کی نظمیں پڑھ چکے ہیں ۔ سامعین نے بھرپور پسند کیا
ادبی سرمایہ
٫٫ سجدہ ،، سرائیکی اسلامی شاعری ( 21 مئی 2017ء ) صفحات 172 ناشر : اُردو سخن ڈاٹ کام پاکستان ، چوک اعظم ، لیّہ
مقبول ذکی مقبول کے فکر و فن پر اور بھی مقالہ جات لکھے جاسکتے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول کی فن اور شخصیت پر ایک کتاب ترتیب دے چکی ہوں ۔ جس کا نام
٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں )
اس کے صفحات 370 ہیں اس کتاب نے علمی و ادبی حلقوں میں بھرپور مقبولیت حاصل کی جبکہ دوسری کتاب جو اس وقت زیرِ تربیت ہے ۔ جس کا نام ہے ۔
٫٫ مقبول ذکی مقبول : خراجِ فن ،،
( ادبیوں کی نظر میں )
رسائل و جرائد اور اخبارات سے وابستگی
رسائل و جرائد اور اخبارات کی اگر بات کروں تو لمبی فہرست ہے ۔ چند کے نام درجِ ذیل ہیں ۔
ماہ نامہ ٫٫ کاروانِ نعت ،، لاہور
ماہنامہ ٫٫ ارژنگ ،، لاہور
ماہنامہ ٫٫!طلوعِ اشک ،، لاہور
سہ ماہی ٫٫ عالمی رنگ ادب ،، کراچی
کتاب لڑی ٫٫ راوی لہر ،، فیض پور خورد ، شیخو پورہ
سہ ماہی ٫٫ رقصِ بسمل ،، جنگ
٫٫ ریگ زارِ تھل ،، کالج میگزین منکیرہ
انٹر نیشنل ماہنامہ ٫٫ اُردُو ڈائجسٹ ،، اسپین
ماہنامہ ٫٫ ادبی پرچہ دسترس ،، انٹرنیشنل کراچی
ہفت روزہ امن انٹرنیشنل گلاسگو / سکاٹ لینڈ
ہفت روزہ ٫٫ مارگلہ نیوز ،، اسلام آباد انٹرنیشنل
ہفت روزہ ٫٫ اخبارِ اکبر ،، رحیم یار خان
ہفت روزہ ٫٫ عہدِ وطن ،، شیخو پورہ
ہفت روزہ عالمی ٫٫ حصّارِ ادب ،، سنڈے میگزین اسلام آباد
روزنامہ ٫٫ خبریں ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ اوصاف ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ خُوب رُو ،، ملتان
روزنامہ ٫٫ بدلتا زمانہ ،، ملتان
روزنامہ ٫٫ ڈیرہ نیوز ،، ڈیرہ اسماعیل خان
روزنامہ ٫٫ اعتدال ،، ڈیرہ اسماعیل خان
روزنامہ ٫٫ طالبِ نظر ،، کراچی
روزنامہ ٫٫ اٹل فیصلہ ،، لاہور / گوجرانولہ
روزنامہ ٫٫ ٹھنڈی آگ ،، گجرات
روزنامہ ٫٫ سسٹم ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ بارڈر لائن ،، لاہور
روزنامہ ٫٫ لیّہ ٹوڈے ،، لیّہ
روزنامہ ٫٫ بھکر ٹوڈے ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ نوائے تھل ،، لیّہ
روزنامہ ٫٫ اپنا ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ بھکر نامہ ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ سچائی ،، بھکر
روزنامہ ٫٫ جموں کشمیر ٹائمز ،، مظفر آباد ، آزاد کشمیر
روزنامہ ٫٫ ڈیلی گلزار ،، لاہور/ ملتان
روزنامہ ٫٫ لودھراں رنگ ،، لودھراں رنگ/ پاکستان
روزنامہ ٫٫ کھٹڑ نیوز ،، فتح جنگ
اور دیگر رسائل و جرائد اور اخبارات میں کلام شائع ہوتا رہا ہے اور شائع ہو بھی رہا ہے ۔
شخصیت کے اوصاف
مقبول ذکی مقبول مہمان نواز ہیں ۔ مہمان نوازی میں بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ مہمان کی آمد پر اللّٰہ پاک کا شکر بھی ادا کرتے ہیں ۔ غمی ہو یا خوشی اہلِ محلہ تک ہی نہیں پورے شہر میں شرکت کرتے ہیں ۔ اور قرابت داروں کا تو اس معاملہ میں زیادہ حق سمجھتے ہیں ۔ نماز روزہ کے سخت پابند ہیں ۔ آج تک کسی قسم کا نشہ نہیں کیا ۔ ایک دن اپنے بڑے چاچا سے سگرٹ لے کر پی لی تھی اس کے دھواں کی سمیل کو بڑا محسوس کیا اس کے بعد کبھی بھی سگرٹ نہیں پی ۔ اپنے علاقہ اور دور دراز سے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں ۔ اور ملک بھر میں ان کو متعارف کرایا ساتھ لے کر بھی چلتے ہیں ۔ شاعرانہ اور نثری عظمت کی بات کروں تو کمال مہارت رکھتے ہیں ۔ صرف یہ میں ہی نہیں کہتی معروف قلم کاروں کی آراء موجود ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔
یکم اکتوبر 2019ء کو مقامات مقدسہ کی زیارت کرنے کا شرف بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ ( ایران و عراق ) قافلہ میں موجود زائرین کی مقبول ذکی مقبول سے متاثر ہوئے تھے ۔ سب سے زیادہ متاثر ہوئے والوں میں جامع مسجد جعفریہ کے خطیب حاجی زوار مولانا بشیر حسین حیدری ( مرحوم ) متاثر ہوئے اور دو بڑے موقعوں پر بروز جمعہ اور ایک نمازِ جنازہ کے مقام پر زوار مقبول ذکی مقبول کے صحیح مینوں میں زوار ہونے کا ذکر کیا تھا ۔
مقبول ذکی مقبول بھکر کی ادبی تاریخ کا خوبصورت حوالہ ہیں ۔ ہزاروں لوگ ان سے محبّت کرتے ہیں ۔ بہت سی خوبیوں کا مجموعہ ہیں جو ان کی ذات میں موجود ہیں ۔ محبّت کا درس علمی اور عملی طور پر بھی پیش کرتے رہے ہیں ۔
انہوں نے اپنے دوست احباب سے جہاں نثر میں اظہارِ محبّت کیا ہے ۔ وہاں منظوم بھی عقیدت و محبّت کا اظہار کیا ہے ۔ جو کتاب ٫٫ انداز بیاں دیکھ ،، میں موجود ہے ۔
اولاد
مقبول ذکی مقبول کو اللّٰہ پاک نے ایک بیٹی اور ایک بیٹا سے نوازا ہے ۔ بیٹی بڑی ہے ۔ بیٹا چھوٹا ہے ۔ بیٹی کا نام اوج زہرا ہے ۔ جس کی تاریخ پیدائش 8 اکتوبر 2012ء ہے ۔ نہم کلاس میں پڑھتی ہے ۔ اوج زہرا نعت خوانی بھی کرتی ہے اور میلاد مبارک پڑھتی ہے ۔ اس کے الاوا مجالسِ عزا حضرت امام حسین علیہ السّلام میں اکثر مجالسِ پڑھتی ہے ۔ گجرات کے معروف بزرگ شاعر عارف یار سوہلوی گجراتی نے اوج زہرا کی حوصلہ افزائی کچھ اس طرح سے کرتے ہیں ۔
صاحبزادی اوج زہرا
مقبول ذکی مقبول اِک بیٹی حور پَری
آواز پیاری اُس دی کوئی سوز گداز بھری
منقبت حسین دی اوہ عجب بیان کری
اوج زہرا دا سوہلیا شالا زینب ہتھ پھڑی
( راوی لہر ، فیض پور خورد ، شیخو پورہ ، ص 5 )
اللّٰہ پاک نے بیٹے جیسی نعمت سے بھی نوازا جس کا نام گُفام حسین ہے ۔ اس کی تاریخ پیدائش 21 مئی 2015ء ہے ۔ ہفتم جماعت میں پڑھتا ہے ۔
عارف یار سوہلوی گجراتی نے کیا خوب کہا ہے ۔
صاحبزادہ گُلفام حسین
مقبول ذکی نوں بخشیا ربّ ہیرا برخوردار
اوہ کھڑیا پھُل گلاب دا وچ ذکی دے گلزار
اوہدی صورت شکل انو کھڑی تے لذت وچ گُفتار
گُلفام حسین سوہلیا کدی ہوسی سردار
اوہدی عُمر خضر ، الیاس توں لمی کرے خُدا
عیش بہاراں اُس توں کدی نہ ہون جُدا
عزت شرف اقبال دا او اوہدے سر تے رہے ہُما
عارف پہنچے عرش عظیم تے ایہہ شالا میری دُعا
عارف یار سوہلوی گجراتی کی ایک اور نظم بھی ملاحظہ فرمائیں
گُلفام حسین کو عارف یار کی نصیحت
کھیلوں میں کر وقت نہ ضائع بَن جا کِرم کتابوں کا
بغیر علم کے کھوج نہیں ملتا دِل کے گوھر نایابوں کا
علم اِنسان کی زیب و زینت علم اِنسان کا زیور ہے
علم سے نہ شرما پیارے علم ہے حُسن شبابوں کا
علم سے ہوتا ہے دِل روشن جہالت بڑا اندھیرا ہے
علم دیوان خُدا کی طرفوں محشر کے حسابوں کا
جاہل پہ ہے تنگ دین و دُنیا جاہل بڑا نکارا ہے
درد کانٹوں کی جھیل پیارے علم ہے پھُل کتابوں کا
( راوی لہر ، فیض پور خورد ، شیخو پورہ ، ص 5 )
مقبول ذکی مقبول کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدائش کے بعد فوت ہو گئے ہیں ۔ اِس کے بعد بچوں کی پیدائش کا سلسلہ رک گیا ہے ۔
میرے لیے بھی ایک نظم کہی گئی ہے وہ بھی
ملاحظہ فرمائیں
ریحانہ بتول کی تعریف سے عاجز ہے یہ میری زباں
اُس کی نظم و نثر سے متاثر ہے یہ بندہ ناداں
سجدہ کتاب میں چھپا ہوا ہے ریحانہ بتول کا بیاں
وہ خوش نصیب گلی ہے جس میں اُس کا مکاں
مقبول ذکی مقبول کا خاندانی پسِ منظر کتاب ٫٫ سنہرے لوگ ،، ( نام ور ادبی شخصیات سے انٹرویوز ) مصنّف مقبول ذکی مقبول عنوان مقبول ذکی مقبول نقشِ حیات صفحہ نمبر 18 پر ملاحظہ
حسب ِ روایت امسال بھی ضلع بھکر کے سالانہ ادبی جائزہ 2025 ء کے ہمراہ نیاز و عقیدت کے ساتھ آپ کا اپنا مقبول ذکی مقبول ( بھکر ) ٫٫ پیشِ خدمت جائزہ ہے سال کا ،، سالِ رواں کی اگر بات کی جائے تو استاد الشعرا سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی محلہ سردار بخش بھکر شہر میں رہائش پذیر ہیں ۔ آپ سرائیکی شاعر ہیں ۔ ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ کی رہائش گاہ ( ڈیرہ کاکا خیل ) بھکر میں آپ کی ادبی تنظیم بزمِ نذیر کے زیرِ اہتمام گزشتہ سال کی طرح سالِ رواں میں بھی آپ کے ہاں متعدد مشاعرے ، شامیں ، ادبی نشستیں ، کروا چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ نوجوان شعرا کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ہیں ۔ 12 اکتوبر 2025ء کو آپ کے دو بیٹوں کی شادی تھی اس موقع پر بھی آپ کے ڈیرہ پر کلام سننے اور سنانے کا سلسلہ جاری رہا ۔ راقم الحروف بھی موجود تھے ۔ بھکر شہر اور تھل یونی ورسٹی میں سالِ رواں میں ہونے والی ادبی تقریبات اور ادبی سرگرمیوں کی اگر بات کی جائے تو امسال کافی مشاعرے ہوئے ۔ کافی طلبہ و طالبات کے تحقیقی مقالہ جات مختلف رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوئے ۔ علاوہ ازیں پروفیسر ڈاکٹر سرور عظیم قریشی کے مختلف آرٹیکلز بھی ریسرچ جنرل کی زینت بنے ۔ مجموعی طور پر ٫٫ تھل یونی ورسٹی ،، کی ادبی خدمات قابلِ ستائش اور حوصلہ افزا رہیں ۔
ادبی بیٹھک بھکر میں نظر مارکیٹ ریلوے روڈ مدثر موبائل شاپ جو کہ جاوید دانش کے کاروبار کا ذریعہ ہے وہاں ایک ادبی بیٹھک کا درجہ بھی رکھتی ہے بھکر کے معروف شاعر جاوید دانش کے ہاں گزشتہ سال کی طرح 2025ء میں بھی آیا روز شعرا و ادباء آتے جاتے رہے ہیں ۔ وہاں علم و ادب کا ایک سما بندھا رہتا ہے ۔ راقم الحروف اور محمّد اقبال بالم کو 9 جون 2025ء میں وہاں جانے کا اتفاق ہوا کلام سننے اور سنانے کا موقع میسر آیا ۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج کلورکوٹ 26 فروری 2025 ء میں ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہوا جس کے سرپرست ڈاکٹر ملک محمّد اقبال اولکھ تھے ۔ ان کے شاندار مشاعرے میں بھکر شہر اور دُور دراز کے شعرا نے بھرپور شرکت کی اور شعراء کرام کو سامعین نے بھرپور داد سے نوازا ۔ جوئیہ سرائیکی ادبی سنگت کے زیرِ اہتمام 24 ستمبر 2025ء کو اکڑا کانجن ، کلورکوٹ میں ایک سرائیکی مشاعرہ منعقد ہوا ۔ بانیان میں میں ملک محمّد اشرف جوئیہ اور ملک غلام شبیر کانجن ہیں ۔ 20 فروری 2025ء کو لیّہ کے معروف شاعر و ادیب استاد الشعراء سئیں امان اللّٰہ کاظم کے ساتھ ایک شام وائٹ ہاؤس بھکر ( ڈاکٹر عتیق الرحمٰن قریشی کی رہائش گاہ ) خان سر روڈ پر منائی گئی اس شام میں محفل مشاعرہ منعقد ہوا سامعین میں محکمہ ہیلتھ کے ڈاکٹر صاحبان تھے بھرپور شرکت کی اور جن شعراء نے شرکت کی اُن میں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، تنویر حسین فائز بخاری ، شاہد بخاری ، مضطر کاظمی اور مقبول ذکی مقبول شامل تھے ۔ تقدیسی ادب حلقہ فروغِ ادب کے زیرِ اہتمام 22 جون 2025ء کو ارشد حسین بھٹی کی رہائش گاہ بھکر شہر میں ایک محفل مسالمہ منعقد ہوا جہاں شعرا کرام نے امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کو سلام پیش کیا وہاں نبی پاک حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شانِ اطہر میں نعتیہ کلام بھی پیش کیا گیا ۔ 22 جون 2025 ء سالانہ محفل مسالمہ بر مکان پروفیسر قلب عباس عابس ، گلشنِ مدینہ بھکر ، شعراء کرام میں حشمت رضا بہلول ، کاظم حسین کاظم ، علمدار حسین علمی ، علی عابد ، فیاض حسین بھڈا ، ناصر خیالی ، راحل بخاری اور شاہد مبشر نے شرکت کی ۔ عابد علیم سہو تحصیل بھکر کے چک نمبر 46 اڈا جہان خان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بزمِ رفیق کے بانی و صدر ہیں ۔ بزم رفیق نے 2025 ء کا پہلا پروگرام 12 جنوری 2025ء کو کتاب ٫٫ گونگے لوگ ،، کی تقریب پذیرائی اور مشاعرہ ہاشمی کلینک منڈی ٹاؤن بھکر میں منعقد ہوا دوسرا پروگرام سالانہ کتاب ایوارڈ تقریب 17 مئی 2025 ء کو سحر سٹوڈیو بھکر میں ہوا ۔ 14 اگست 2025ء کو ایک مشاعرہ بمقام سحر اسٹوڈیو بھکر میں منعقد ہوا ۔ عابد علیم سہو کے ساتھ ایک شام نذیر ٹاؤن بھکر میں منائی گئی زیرِ اہتمام اصلاح معاشرہ بھکر 8 نومبر 2025 ہفتہ اور اتوار کے درمیانی شب ادبی تنظیم بہار ادب برکت۔۔۔۔۔ کے اراکین اعجاز رازم اور باسط رمضان باسط کے زیر اہتمام محفل مشاعرہ برموقع شادی خانہ آبادی حسنین سوہا ڈیرہ مولانا محمد رمضان سوہا پر منعقد کیا گیا جس میں پروفیسر قلب عباس عابس منور سعید۔ ضیاء اللہ ضیاء۔ صابر غمگین۔ اشفاق قیس بلال حیدر اور دیگر شعرا نے حصّہ لیا – بھکر ڈیجیٹل نیٹ ورک کی تیسری سالگرہ پر نیشنل پیس کونسل کے اشتراک سے 31 مئی 2025ء کو امن مشاعرہ اور تقسیم ایوارڈز 2025 ء بمقام آنگن مار کی بھکر روڈ دریا خان میں منعقد ہوا ۔ تھل ادبی سرائیکی سنگت کا 20 واں سالانہ سرائیکی محفل مشاعرہ 11 اکتوبر 2025ء۔ کو جنجوں شریف میں منعقد ہوا ۔ تیسرا سالانہ محفل مشاعرہ بیاد نجیب اللّٰہ خان نیازی اور شاہ نواز ارشد جس کے بانی عبدالغفار نئیر اور احسن حیات مغل تھے ۔ ملک ذولفقار راقم ادبی تنظیم ٫٫ بزمِ پارت ،، کے بانی و صدر ہیں ۔ یہ تحصیل کلورکوٹ کے گاؤں غلاماں میں ہے اس بزم پارت کے زیرِ اہتمام سالِ نو کی پہلی ادبی نشست یکم جنوری 2025ء کو بر مکان ملک تنویر کانیہ آف مُوندی والا کلورکوٹ میں منعقد ہوئی ۔ یکم فروری 2025 ء کو ادبی نشست ملک ذوالفقار راقم کی رہائش گاہ غلاماں میں ہوئی ۔ پروفیسر ثناء اللّٰہ خان کے ساتھ 21 فروری 2025ء کو ایک شام کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں بھرپور شعرا نے شرکت کی ۔ 2 شوال یکم اپریل 2025ء عید ملن مشاعرہ اور عبدالمجید آصف لودھرا کی سرائیکی کُتب ٫٫ بلانگ ،، اور ٫٫ کھیچل ،، کی تقریب رونمائی ہوئی ۔ تیسرا سالانہ مشاعرہ 18 اکتوبر 2025 ء کو غلاماں شہر میں منعقد ہوا جس میں شعرا کرام اور سامعین نے بھرپور شرکت کی ۔ عید الاضحیٰ کے تیسرے دن 9 جون 2025ء بیٹھک عید ملن مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا گیا ۔ ادبی تنظیم بزمِ یاراں ، غلاماں ، کلورکوٹ اِس بزم کے روحِ رواں فاروق تھلہ فاروق ہیں ۔ جنوری 2025 ء اور فروری 2025 ء کو دو ادبی نشستیں ہوئی ہیں ۔ اِس کے علاوہ کوئی اور ادبی کام سامنے نہ آ سکا ۔ ادبی تنظیم بزمِ ٫٫ اوجِ ادب ،، یہ منکیرہ شہر میں ہے ۔ اس کے بانی و چیرمین مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ اس بزم کے زیرِ اہتمام 12 فروری 2025ء کو ایک سرائیکی نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا جس میں شعراء پروفیسر کمال الدین خاکی ( خوشاب) محمد سلیم سعد ( خوشاب ) شہباز حسین ہادی اور دیگر نے شرکت کی ۔ 22 اگست 2025ء اور 16 جون 2025ء کو مرحومین شعرا کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا مرحومین شعرا میں علی شاہ ، منکیرہ شاہنواز ارشد ، دُلے والا جمشید اقبال جمشید ، بھکر اس کے علاوہ 2025ء میں بزمِ اوجِ ادب کے زیرِ اہتمام تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ مشاعرے ادب تقریبات تقسیم ایوارڈ تقریبات تنقیدی نشستیں مسالمے نعتیہ مشاعرے ناول افسانے ادبی انٹرویوز امسال کوئی ناول منظر عام پر نہ آسکا ۔ چند افسانے لکھے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال نثر سے زیادہ شاعری ہوئی ۔۔۔ کوئی ڈراما نہیں لکھا گیا انشائیہ اور خاکہ پر بھی طبع آزمائی نظر نہ آئی۔۔۔۔ حماد علی حادی ، منکیرہ شہر سے ایک نیا قلم کار منظرِ عام پر آیا ہے ۔
مجموعی طور پر اس سال بھکر میں شاعری کا پڑا بھاری رہا جب کہ گذشہ سال نثر زیادہ لکھی گئی ۔ بھکر کے مقامی اخبارات میں روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر روزنامہ ٫٫ سچائی ،، بھکر اِن اخبارات نے گزشتہ سال کی طرح سال 2025ء میں بھی شعرا ادباء کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ان کی ادبی تحریروں کو شائع کیا اور ادبی خبریں بھی شائع کرتے رہے ہیں ۔ بھکر 2025ء میں جن قلم کاروں کی تحریریں رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ ان میں پروفیسر ڈاکٹر محمّد اشرف کمال کی ادبی سرگرمیاں گزشتہ سال کی طرح 2025ء میں بھی اپنے عروج پر رہی ہیں ۔ پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر آج کل علیل ہیں ان کی صحت یابی کے لیے دُعاوں کی درخواست ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء المصطفیٰ ، حسن خان غزالہ کشور ملک ، زوار آباد ملک نعمان حیدر حامی ، چاہ اسراں والا مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ
بھکر میں 2025ء کو منصہءِ شہود پر آنے والی ادبی کُتب کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے ۔ ٫٫ شجرہ نسب ،، ( کلیات ) نیا ایڈیشن جنوری 2025ء کو منصہءِ شہود پر آیا ہے ۔ اس کے مصنّف : نجف علی شاہ بخاری ، محلہ سادات نذد سردار بخش روڈ بھکر شہر ۔
٫٫ شیتل ،، ( افسانوی مجموعہ ) ٫٫ دِل من مسافر من ،، ( تحقیق و تنقید ) اِن کے مصنّف تحصیل بھکر کے گاؤں حسن خان سے پروفیسر ڈاکٹر محمّد ضیاء المصطفیٰ ، گورنمنٹ گریجویٹ کالج ، بھکر میں لیکچرار ہیں ۔
٫٫ بلانگ ،، (سرائیکی مجموعہ کلام ) ٫٫ کھیچل ،، ( سرائیکی مجموعہ کلام ) ٫٫ بُکَل ،، ( سرائیکی مجموعہ کلام ) ٫٫ آبلہء جاں ،، ( اُردو مجموعہ کلام ) مصنّف : عبدالمجید آصف لودھرا ، غلاماں سے ان کا تعلق ہے پیشہ کے اعتبار سے ٹیچر ہیں ۔ ٫٫ اُس پار ،، ( غزلیات ) مصنّف : عابد علیم سہو اِن کا تعلق چک نمبر 46 اڈا جہان خان سے ہے ۔ ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، ( کیفِ منظوم ) ٫٫ سید حُب دار قائم : جگمگاتا ستارہ ( شخصیات اور فن ) ٫٫ حُسنِ بیان ،، ( مضامین اور تبصرے ) اِن کے مصنّف : مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ جن کا تعلق بستی شمالی منکیرہ شہر سے ہے ۔ ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) اِس کتاب کی مؤلفہ : ریحانہ بتول ہیں ۔ ان کا تعلق بستی شمالی وارڈ نمبر 8 محلہ چھینہ والا منکیرہ شہر سے ہے ۔ برین کالج بھکر میں سال 2025ء کی آخری تقریب 21 دسمبر کو ہوئی جس کے مہمانان خاص شاعر پروفیسر قلبِ عباس عابس اور سید مضطر کاظمی تھے ۔
مقبول ذکی مقبول بھکر سے ہیں۔ حُسنِ بیان میں شامل مضامین ان کی ادب وطن اور بھکر سے محبت کا قلمی اظہار ہیں۔ وطن سے بھلا کسے پیار نہیں ہوتا۔دلی محبت اور بھکر سے ان کے جذبہ عشق کا پتہ چلتا ہے کیونکہ بھکر سے ان کے بزرگوں کا گہرا تعلق ہے اور ان کے اسی منکیرہ ( بھکر ) میں آبائی وطن سے محبت موجود ہے ۔ ان مضامین کے ذریعہ انہوں نے بھکر سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں ڈاکٹر خلیل طو قار شخصیت اور فن ، سرائیکی حسنی دوہڑہ ، ضمیر بخاری ایک جھلک ، عاصم بخاری کی شوگری شاعری ، عاصم بخاری کی شاعری کا ایک اہم موضوع بیٹی ، پروفیسر جاوید عباس جاوید روشن چراغ ، اسی طرح سترہ مضامین و تبصرے شامل ہیں ۔ سب کے سب قابلِ تعریف ہیں ۔ اسی طرح کی تحقیقی کتاب کی بڑی کمی تھی ۔
مقبول ذکی مقبول نے جن ادبی شخصیات کا ذکر کیا ہے ۔ ان کو دنُیائے ادب میں حیات جاودانی عطا کردی ۔ اُردُو تنقید و تحقیق میں قابلِ قدر کارنامہ پیش کیا ہے ۔ مجھے اُمید ہے کہ مقبول ذکی مقبول کی کاوش پاکستان کے علمی ادبی حلقوں میں مقبولیت حاصل کرے گی ۔
مقبول ذکی مقبول کی کتاب حسن بیان منصہءِ شہود پر آگئی ہے
بھکر ( نمائندہ خصوصی ) مقبول ذکی مقبول کی کتاب کو ممتاز پبلکیشنز لاہور نے بڑے خوبصورت اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے اس کتاب میں ( شامل مضامین اور تبصرے ) بھکر کے معروف اُردو غزل گو ، بھکر میں نظم نگاری ، اور بھکر میں افسانہ اور ناول نگاری کے حوالے سے شاندار مضامین شامل ہیں اور صرف یہی نہیں دیگر علاقوں سے بھی کتاب میں مضامین اہم ادبی شخصیت پر لکھے گئے ہیں جو مقبول کی مقبول کے قلم سے وجود میں آئے ہیں تحقیقی اور تنقیدی بہترین کتاب ہے اس میں مقبول ذکی مقبول کے فن اور شخصیت کے حوالے سے جن کی آرا شامل ہیں ان میں ڈاکٹر فرحت عباس ، اسلام آباد مظہر نیازی ، میانوالی پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ، آزاد کشمیر اور سید معراج جامی کراچی کی آرا موجود ہے
بیک ٹائٹل پروفیسر ڈاکٹر سیدہ آمنہ بہار ، آزاد کشمیر یونیورسٹی ، مظفرآباد نے لکھا ہے ایسی کتاب علمی و تحقیقی تنقیدی کتاب ہے یہ مقبول ذکی مقبول کے قلم سے وجود میں آئی ہے بزمِ اوجِ ادب منکیرہ ( بھکر ) کتاب کی اشاعت پر مقبول ذکی مقبول کو مبارک باد بھی کہی ہے ۔
تبصرہ : نگار مقبول ذکی مقبول ، بھکر ( پنجاب پاکستان )
سرائیکی پٹی دی گالھ کروں تاں میانوالی ، ڈیرہ اسماعیل خان ، بھکر ، لیّہ ، مظفرگڑھ ، ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، بہاولپور تے او رحیم یار خان تک ایں سرائیکی پٹی دے وچ سرائیکی زبان بولی ویندی ہے ۔ سرائیکی زبان کوئی اج توں وجود اچ نئیں آئی ۔ کئی سو سالاں توں سرائیکی زبان بولی ویندی پئی ہے ۔ ایں دی تاریخ ہک اندازہ دے مطابق چوڈاں سو سال توں زیادہ عرصہ تھی گیا ہے ۔ اے صرف پاکستان دی ایں پٹی اچ ہی نئیں بولی ویندی بلکہ پورے پاکستان دے وچ سرائیکی زبان بولن آلے ہِن ۔ ایں توں علاوہ ہندوستان دے کجھ علاقاں وچ وی بولی ویندی ہے ۔ اے سرائیکی زبان بہوں وڈی زبان ہے ۔ مثال دے طور تے عورت عربی زبان دا لفظ ہے ۔ سرائیکی دے وچ ایں عورت کُوں کائی ناں نال سڈھا ویندا ہے ۔ تریمت ، سواہنڑیں ، جنڑی ، زنانی ، ذال ، تے رَن سڈھا ویندا ہے ۔ تے شادی توں کجھ عرصہ پہلے نیِنگر تے شادی توں کجھ عرصہ بعد کُوار وی سڈھا ویندا ہے ۔ لوکاں دا وکھرا وکھرا زباناں بولن وی اللّٰہ پاک دی نشانیاں وچوں ہک نشانی ہے ۔ سرائیکی زبان دے لہجے وی ڈھیر سارے ہِن ، میانوالی دا وکھرا لہجہ بھکر دا وکھرا لیّہ ، ملتان ، رحیم یار خان انجے آلی کار ہر ہک خطہ دا لہجہ مٹھا تے پیارا ہے ۔ ایں سرائیکی زبان دا اثر وی ہے ۔ جہڑے لوگ بائیاں زباناں بولیندے ہَن جتھوں کتھوں دے ہَن تے اپنے کم کار یا کئی بائی وجہ توں سرائیکی ونڑھی دے وچ رہ ہِن تاں او وی سرائیکی بولن لگ گئے ہِن اگر اُنہاں دے وچ کئی شاعر و ادیب وی ہن تے او وی ادب سرائیکی اچ ضرور تخلیق کیتا ہے ۔ مثال دے طور تے شاعر و مصنّف انیل چوہان دی مادری زبان اُردوُ ہے اُنہاں دا سرائیکی زبان اچ افسانہ دا مجموعہ ٫٫ اَک دے امب ،، 1994ء کُوں لاہور توں چھپا ہے ۔ بھکر دے وچ اے واحد افسانہ دا مجموعہ ہے ۔ جہڑا سرائیکی زبان وچ ہے ۔ اے اعزاز انیل چوہان دے حصّے وچ آیا ہے ۔ اے وی آکھا ویندا ہے ۔ سرائیکی تے پنجابی ڈوں جاڑیاں بھینڑیں ہِن غزل عربی زبان دا لفظ ہے ۔ جیندا مطلب بنڑ دا ہے ۔ عورت نال گالھیں کرنا ہن غزل دے وچ بہوں ڈھیر ساری تبدیلی آ گئی ہے صرف عورت نال گالھیں ہی تک نئیں رہ گئی ہے ۔ بلکہ ہر ہک گالھ غزل دے وچ پاتی ویندی ہے ۔ کلچر ، ثقافت ، سیاست ، سماج ، تہذیب ، مذہب تے حیاتیاتی دے طور طریقے یعنی کے مکمل وسیب دا وسیب غزل دے وچ ملسی ۔ سرائیکی ادب دے وچ غزل کُوں سرائیکی شعرا نے بہوں چنگی سجان بخشی ہے ۔ اگر سرائیکی غزل گو شعرا دے ناں گنڑیں ونجن تاں کم و بیش ست سو دے نیڑے ہِن ۔ لیکن میں اُنہاں نانواں دا ذکر کرنا چاہندا ہاں جنہاں غزل کُوں سہنونڑاں مقام تے وقار بخشا ہے ۔ جیندے وچ اقبال سوکڑی ، سرور کربلائی ، امان اللّٰہ کاظم ، شاکر شجاع آبادی ، قیس فریدی ، عزیز شاہد ، تے نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ہے ۔ اے او ناں ہِن جہڑے سرائیکی غزل دی جان ہِن ۔ ایں دُور دے وچ سرائیکی غزل گوئی دے حوالے نال حیدر شیراز ہک سہونڑاں تے من موہناں ناں ہے ۔ راضی والا ، احسان پور ضلع مظفرگڑھ دے رہون آلے ہِن ۔ ڈوں سرائیکی شاعری مجموعے چھپ چکے ہِن ۔ سِجھ نال سفر ، نیل کھنی ایں ویلے میڈے سامنڑیں ٫٫ نین سمندر تار ،، غزالاں دا مجموعہ ہے جیندے وچ اندر دے حالات تے باہر دے حالات ہک سبق تے سنہا گِھن کے غزل دی چس کُوں ودھیندے پیائے ہِن ۔ جیندے وچ ڈھیر سارے خیالاں کُوں ضمیر دا بوہا لاہایا تے اندر دے ہر بندے تے اثر وی کریسی کیوں جو رنگیلی شاعری نئیں اے میں یقین نال آدھا ہاں حیدر شیراز دی غزلاں ہر رُت اچ سُنہا ڈیندیاں پیاں ہِن یعنی ڈھیر ساریاں غزلاں سدا بہار ہِن اے جھے شعر وی ہِن جہڑے چھوٹی چھوٹی بحر دے وچ ہِن ہک دفعہ پڑھن نال یاد تھی ویندے ہِن ۔ اے شاعر دی خوبی تے اوندے شعر آکھن دا کمالِ فن ہے ۔ جیڑا اللّٰہ پاک دی طرفوں عطا تھیا ہے ۔ حیدر شیراز دی غزل دے وچ ہر ہک شعر جان دار ہے ۔ فنی اعتبار نال وی تے سوچ فکر تے وی بیا سارے حوالہ نال اپنا پورا شاعرانہ رنگ ، ڈھنگ دے وچ بڈھا ہویا کھڑا ہے ۔ ہک تلمیح دا شعر ڈیکھ سو
اُردُو ، پنجابی ، سرائیکی ، ادب کہیں زبان وچ وی ہووے او لفظ جنان سادہ سادہ ورتے ہِن ۔ او کلام مشہور تھئے ہِن ۔ بھانویں او گیت ، ڈوہڑہ ، نظم ، غزل یا شعر ہائی مقبولِ عام تھئے ہِن ۔ عام طور تے ڈھیر بولن آلہ فقرہ ایکُوں سنہونڑے طریقے نال ورتا گیاء ہے شعر ڈیکھ سو
انگلیں بھن کئی وار اوکُوں سمجھایا ہم چھوڑ یکے تکرار مہا بے مُک ویندِن
اج کل دے ویلے دا ہک شعر بیا ڈیکھ سو
جیڑے بندے ماری ویندے سچی گالھ اے میکوں تاں اے اپنے شہر دا راکھا لگدے
بھکر ( نمایندہ خصوصی ) عصرِ حاضر کے شاعر ادیب مقبول ذکی مقبول منکیرہ بھکر کے لیے ایک اور اعزاز تفصیلات کے مطابق شعبہ اُردُو گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین فاضل پور ڈی جی خان کی طالبہ فاطمہ بلال نے مقبول ذکی مقبول کی مصاحبہ نگاری پر مقالہ لکھا ہے اور مقبول ذکی مقبول کی تمام تر محنت کو خراج تحسین پیش کیا اس کی نگرانی پروفیسر طلعت نقی نے کی
صوبہ پنجاب کا آخری ضلع بھکر جو کہ ٫٫کے پی کے ،، کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد بھکر ایک ایسا خطہ ہے جو نا وسائلی کے باوجود ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھکر کا نام روشن کیا ہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی میدان ہو پاکستان کے باقی ضلعوں کی طرح بھکر بھی پیچھے نہیں رہا ۔ خاص طور پر فنونِ لطیفہ میں تو اپنی مثال آپ ہے ۔ بھکر کو ضلع کا درجہ 1982ء میں ملا ضلع بھکر کا حدودِ اربعہ بھکر کی چار تحصیلیں ہیں جن میں بھکر ، دریا خان ، کلورکوٹ اور منکیرہ شامل ہیں ۔ مشرق کی طرف ضلع جھنگ اور ضلع خوشاب سے جاملتا ہے ۔ مغرب کی جانب ڈیرہ اسماعیل خان ، کے ۔ پی ۔ کے سے جاملتا ہے شمال کی جانب ضلع میانوالی سے جاملتا ہے اور جنوب کی طرف ضلع لیّہ سے جاملتا ہے ۔ رقبہ کے لحاظ سے منکیرہ پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل ہے ۔ میرا آج کا موضوعِ تحقیق میں افسانہ اور ناول نگاری ہے جو قارئین کے لئے پیشِ خدمت ہے ۔
ابوالعمار بلال مہدی
تحصیل منکیرہ کے شمال کی جانب 16 کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں لِتَن میں بلال مہدی ، زوار ملوک حسین کے گھر 15 مارچ 1951ء کو پیدا ہوئے اور وفات 9 دسمبر 2023ء کو ہوئی آپ ادیب ، شاعر ، تبصرہ نگار ، محقق ، افسانہ نگار ، سوانح نگار ، اور مذہبی سکالر تھے ۔ آپ کی شاہد اقبال مطہری ریسرچ لائبریری بھی ہے ۔ اُس کے انچارج آپ کے بیٹے علی حسنین مہدی ہیں ۔ انہوں نے آپ کے افسانوں کا غیر مطبوعہ مجموعہ راقم الحروف کو دکھایا جس میں 24 افسانے موجود ہیں ۔ ان کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ۔ بات ہی بات ، مارگلہ موسم ، وعدہ ، صرف ایک دن کا فرق آپ کے افسانوں میں نوجوان نسل کے لیے اصلاح کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے ۔ علی حسنین مہدی افسانوں کو کتاب کی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
الطاف اشعر بخاری
الطاف اشعر بخاری محمد مشتاق شاہ بخاری کے فرزندِ ارجمند ہیں ۔ آپ کی تاریخ و مقام پیدائش 5 اپریل 1970ء بھکر آپ نے ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ آپ کا پہلا افسانہ ٫٫ مجسمہ ،، روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر میں 13 دسمبر 2009ء کو شائع ہوا آپ نے چار افسانے لکھے ہیں ۔ اُن کے نام درجِ ذیل ہیں ۔ 1 مجسمہ 2 دومنٹ 3 یہ عشق بڑا بے دردی 4 انسان آپ کے افسانے فکر و فن کے ساتھ ساتھ سماج کی صورتِحال اور پختہ کاری میں کمال درجہ پر ہیں ۔ ہر دو طرح سے قابلِ تعریف ہیں ۔ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔
انیل چوہان
انیل چوہان ، بھکر کے اُردو ادب اور صحافت میں ایک منفرد اور نمایاں نام ہے ۔ قلمی و اشاعتی حوالے سے ان کی فروغِ ادب کے حوالے سے خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ اُن کے شعری مجموعے بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں اور نثر بھی ۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے سرائیکی زبان میں افسانوں کا مجموعہ ٫٫ اک دے امب ،، ( اگست 1994ء ) کو پاکستان پنجابی بورڈ 15 / 17 آؤٹ فال روڈ سنٹ نگر ، لاہور سے شائع ہوا ۔ جس میں اٹھارہ افسانے شامل ہیں ۔ افسانے ٹیکنیکی اور فنی اعتبار سے پختہ ہیں اور معیار پر پورے اترتے ہیں جو کہ یہ ان کی سرائیکی زبان سے محبت کا ثبوت ہے ۔ انیل چوہان کی مادری زبان اُردوُ ہے ۔ یہ بات اس بات کا اظہار اور ثبوت بھی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اِس طرح کا خوبصورت اُردُو افسانہ بھی لکھ سکتے ہیں لیکن تاحال انہوں نے اُردو افسانہ لکھنے کی طرف توجہ نہیں دی میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ اس موضوع پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ یا مضمون میں ان کے اُردو افسانے بھی شامل ہوں گے اور ان کی علمی ادبی اشاعتی کاوشوں و کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ان نام کے بغیر کوئی تحقیقی مضمون کسی صنفی لحاظ سے مکمل نہیں ہو گا ۔
جاوید عباس جاوید ( پروفیسر )
جاوید عباس جاوید اُردُو ادب کے کامیاب نثر نگار ہیں ان کا شمار بھکر کے اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا یے ۔ ان کا پہلا افسانہ لاہور کے رسالہ کھلونا میں جولائی 1974ء میں شائع ہوا جب وہ نویں جماعت میں پڑھتے تھے ۔ اس کے بعد اس رسالے میں آپ کے پانچ مزید افسانے شائع ہوئے ۔ 1990ء میں جب وہ کامرس کالج بھکر میں اُردوُ کے پروفیسر تھے انہوں نے کالج کا میگزین الفلاح جاری کیا جس میں ان کا افسانہ سوغات شائع ہوا ۔ پھر 2000ء میں رسالہ سرمایہ میں ان کا افسانہ محنت میں عظمت شائع ہوا ۔ 2007ء میں انہوں نے کامرس کالج منکیرہ کا پہلا میگزین ریگزار شائع کیا ۔ جو تحصیل منکیرہ میں چھپنے والا پہلا میگزین تھا جس میں ان کا افسانہ ریت دھوپ اور بارش شائع ہوا ۔ اس افسانے میں صحرائے تھل کی دشوار زندگی اور موسم کی تلخیوں کا ذکر خوبصورت انداز میں کیا ہے ۔ ان کی افسانہ نگاری میں منظر کشی ، جذبات نگاری اور معاشرتی ناہمواریوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔
خالد اسراں ( ڈاکٹر )
ڈاکٹر خالد اسراں ، ملک عطا محمد اسراں کے گھر ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 فروری 1977ء میں پیدا ہوئے خان دانی نام خالد جاوید قلمی نام ڈاکٹر خالد اسراں آج کل ڈی ایچ کیو ہسپتال ، بھکر میں ڈاکٹر سرجن کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ رہائش منڈی ٹاؤن بھکر میں ہے ۔ ادبی میدان میں 1999ء کو وارد ہوئے بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں ۔ غریب طبقہ کے حق میں قلمی علم بردار ہیں ۔ افسانہ ہو یا شاعری انہی لوگوں کی حمایت میں نظر آتی ہے جو غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ افسانہ مزدور سے چند سطریں ملاحظہ کیجئے ۔ ہادی جواب میں کچھ نہیں بولا اور خاموشی سے بات سُنتا رہا ۔ فرید نے اپنی بات جاری رکھی ، بیٹا! میری زندگی تنگ دستی میں گزر گئی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہارا مستقبل اچھا بن جائے ۔ میری اور تمہاری ماں کی خواہش ہے کہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے اور اسے ان تکلیفوں سے نہ گزرنا پڑے جو ہمیں جھیلنی پڑرہی ہیں ۔ وہ باتیں کررہے تھے کہ ہادی کی ماں دونوں کے لیے روٹی لے آئی ۔ آج بھی بینگن کا شوربہ پکا ہوا تھا ۔ وہ روٹی اور سالن ان کے سامنے رکھتے ہوئے بولی ، ٫٫ اف اللّٰہ! کتنی مہنگائی ہو گئی ہے ۔ غریب ٹھیک سے سبزی بھی نہیں کھا سکتا ۔ اب تو سبزی کا بھی شوربہ پکانا پڑتا ہے،، ۔ مہنگائی بہت ہو گئی تھی ۔ بازار میں سب سے سستی سبزی بینگن تھی جو فرید خرید لایا تھا اور آج تیسرا دن تھا کہ گھر میں بینگن کا شوربہ پک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ہادی مسلسل بینگن کا شوربہ کھا کر تنگ آیا ہوا تھا ۔ اس نے بڑی مشکل سے نوالے گلے میں اُتارے ۔ فضا میں خنکی بڑھ گئی تھی ۔ وہ اُٹھ کر کمرے میں آگئے ۔۔۔۔۔۔ ( فسوں زار 95 ص ) آپ کے افسانوں کے چار مجموعے اور ایک شاعری کا مجموعہ ان سب مجمو عوں کو اُردو سخن ڈاٹ کام چوک اعظم ( لیّہ ) نے شائع کیا ۔ نام ردجِ ذیل ہیں ۔ ٫٫ آبلہ پا خواب ،، افسانوی مجموعہ ( جون 2017ء ) ٫٫ درِ زنداں ،، افسانوی مجموعہ ( 2018ء ) ٫٫ سر بریدہ سائے ،، افسانوی مجموعہ ( 2021ء ) ٫٫ فسوں زار ،، افسانوی مجموعہ ( 2023ء ) اور شہرِ افلاس شعری مجموعہ ( جنوری 2021ء میں شائع ہوا ۔
خالق داد چھینہ
خالق داد چھینہ ۔۔۔۔۔۔ افسانہ اور ناول نگار جاڑے کا موسم اور 1970ء سے تین سال قبل پنجاب کی پسماندہ ترین تحصیل منکیرہ میں سرفراز چھینہ کے ہاں پیدا ہوئے ( بستی شمالی محلہ فاروق آباد ، منکیرہ ) ان کے والد سرفراز چھینہ منکیرہ کے ایک محنتی کسان اور تیل کے تاجر تھے ۔ خالق داد چھینہ نے میٹرک تک تعلیم منکیرہ سے ہی حاصل کی ۔ نہم کلاس سے باقاعدہ اخبارات و جراید میں لکھنا شروع کیا ، نام کی طرح تخلیق کا عنصر شخصیت کا نمایاں جزو ہو نے کی بنا پر یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ، افسانوں کا ایک مجموعہ ٫٫ صداۓ جرس ،، کمپوز ہو چکا ہے زیرِ طبع ہے جس میں فن پارہ ، پانچواں موسم ، عشق کی عین ، عقیدہ ، لہو رنگ گلابوں کا موسم ، ٹھاہ اس میں ایک درجن سے زائد رومانوی ، معاشرتی مسائل اور کرداروں ، رویوں پر مشتمل افسانے ہیں ۔
افسانہ ٫٫ لہو رنگ گلابوں کا موسم ،،
سکول سے واپسی پر صائمہ کا اترا ہوا چہرہ وہ ان کہی داستان کہہ گیا جو صرف ماں ہی سمجھ سکتی ہے ۔ فیس کی تو تکرار تو آئے روز کی بات تھی ، ماں روز نیا بہانہ بنا کر زبیر کو انجنئیر اور صائمہ کو ڈاکٹر بنا بے کی اُمید پر سکول روانہ کرتی تھی خود دن بھر بے تکان سوچو میں گم رہتی اِس محلے کے گندے ماحول میں بھی اجلی سوچیں ہی تو اس کی سکھیاں تھیں بچوں کو انتہائی غربت میں بھی سکول پڑھانا مختصر ترین گھر کو جنّت بنا نا اور اپنی جوانی کو غربت کی فاؤنڈری میں پگھلانا یہی پچیس سالہ بشریٰ کی زندگی کا ہی خاصہ تھا ۔ خالق داد چھینہ نے چند ناول بھی لکھے ہیں ۔ فاصلے ، زرد پتہ ، نا نجام ، جن کی طباعت نہ ہوسکی مسودے ہنوز مرتب شدہ ہیں ۔ ناول ٫٫ فاصلے ،، ٹیچر کو نائلہ کی حالت دیکھ کر بلآخر پوچھنا ہی پڑا کہہ کیا بات ہے کیونکہ نائلہ کا شمار کلاس کی اچھی لڑکیوں میں یوتا تھا ، اور آج کل طبیعت کی اس تبدیلی نے نائلہ کو چڑ چڑا کر دیا تھا اور انہوں نے ٹیچر کے سوالوں کا جواب بھی نہیں دیا تھا پھر چہرہ بھی دل کی حالت کی چغلی کھا رہا تھا ۔ خالق داد چھینہ نے اپنی تحریروں میں معاشرے کے افراد کے روشن اور تاریک رخ کو سامنے رکھ کر اصلاحی اور رومانوی پہلوؤں کے ساتھ بہت سادہ الفاظ میں اصلاح کی ہے ۔ بچوں کے لۓ کہانیاں بھی لکھیں ہیں جو بھکر کے پہلے اخبار ٫٫ نواۓ حق ،، بھکر اور نوائے حق ،، لیّہ میں چھپی نکٹھو نے مزدوری کی۔ آموں کی چوری ۔ گدھے کی سواری ۔ ہم نے سائکل سیکھی درجنوں کہانیاں لکھیں جو پھول ، تربیت ، بچوں کی دُنیا ، بزم اطفال اور کئ مقامی اور ملکی جرائد میں لکھا ۔ اخبار جہاں ، فیملی ، اُردُو ڈائجسٹ ، سیارہ ڈائجسٹ ، آدابِ عرض ، سلامِ عرض ، فنون ، افکار ، احقاف اوورسیز انٹرنیشنل ، میں شائع ہوئی ہیں ۔ ، آٹھ سال پہلے 2017ء میں بوجوہ منکیرہ سے جہان خان شفٹ ہو گئے ہیں ۔ ( نبے والا موضع کمال تھہیم مسلم کوٹ روڈ نبے والا جہان خان بھکر )
عباس خان
محمد افضل خان کے بیٹے غلام عباس خان 15 دسمبر 1943ء کو بستی گُجہ ، بھکر میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا خاندان بلوچوں جسکانی قبیلہ سے ہے ۔ افسانہ اور ناول نگاری کے حوالے سے عباس خان کے نام سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے ۔ ابتدائی تعلیم بستی گُجہ پھر بھکر ، لیّہ ، مظفرگڑھ اور ایم ۔ اے سیاسیات پنجاب یونیورسٹی اور ایل ایل بی کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے کیا ۔ پہلے آپ ایڈیشنل سیشن جج تعینات ہوئے پنجاب بھر کے مختلف شہروں میں اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور ایمان داری کے ساتھ سر انجام دیں ۔ 14 دسمبر 2003ء کو ملازمت کی مدّت پوری ہوئی ضلع بھکر میں سیشن جج کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لی ۔ افسانہ اور ناول نگاری میں آپ نے عالم گیر شہرت حاصل کی آپ کے افسانے اور ناول کالج ، یونیورسٹی ، میگزین کے علاوہ بھی اخبارات ، رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں ۔ چند کے نام درجِ ذیل ہیں ۔ سہ ماہی ٫٫ ادبیات ،، ( اکیڈمی آف لیٹرز اسلام آباد ) ماہنامہ تخلیق ، ماہنامہ ادبِ لطیف ، ماہنامہ قومی ، ڈائجسٹ ، ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ ، لاہور سہ ماہی سیپ ، کراچی روز نامہ نوائے وقت ، لاہور ماہنامہ شاعر ، بمبئی اور ہفت روزہ آگ ، بھارت ۔ عباس خان کی افسانہ نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال ( ریٹائرڈ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ) ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔ عباس خان کو علی عباس حسینی ، غلام عباس اور خواجہ احمد عباس کے پائے کا افسانہ نگار قرار دیتے ہوئے انہیں عباس چہارم کا نام دیا ہے ۔ عباس خان کے افسانوں کے مجموعوں کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ٫٫ دھرتی بنام آکاش ،، ( 1978ء ) ٫٫ تنسیخِ انسان ،، ( 1981ء ) ٫٫ قلم ، کرسی اور وردی ،، ( 1987ء ) جنگ پبلشرز 13 آغاز خان روڈ لاہور نے شائع کیا ٫٫ اُس عدالت میں ،، ( 1992ء ) ٫٫ جسم کا جوہڑ ،، ( 1999ء ) کو بیکن بکس ، ملتان نے شائع کیا
افسانچوں کے مجموعوں کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ ٫٫ ریزہ ریزہ کائنات ،، ( 1992ء ) ٫٫ ستاروں کی بستیاں ،، ( 2012ء ) بیکن بکس ، ملتان سے شائع کیا ناولوں کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ ٫٫ زخم گواہ ہیں ،، ( 1984ء ) اس کے بعد ( 1988ء ) میں بھارت میں بھی شائع ہوا تھا ۔ ٫٫ تُو اور تُو ،، ( 2005ء ) کو کلاسیک پبلیشرز 42 مال روڈ لاہور سے شائع کیا دوسرا ایڈیشن بیکن بکس ، گلگشت ملتان نے ( 2007ء ) میں شائع کیا ۔ ٫٫ میں اور امراؤ جان ادا ،، ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے پہلی بار ( 2005ء ) کو شائع کیا دوسرا ایڈیشن پبلیشرز 42 مال روڈ لاہور نے شائع اور اس کے بعد تین بار بیکن بکس گلگشت ملتان نے اس کو شائع کیا ۔ ان کے علاوہ عباس خان ایک اور موضوع پر ایک کتاب ٫٫ پل پل ،، ( 2009ء ) کو بیکن بکس گلگشت ملتان نے شائع کی ۔
علی شاہ
علی شاہ کا خان دانی نام سید اُمید علی شاہ اور ادبی دنُیا میں علی شاہ کے نام سے شہرت رکھتے تھے ۔ یکم فروری 1966ء کو سید محمد اعجاز شاہ کے گھر 38 چک ضلع خانیوال میں آنکھیں کھولیں ۔ زندگی میں 50 بہاریں دیکھ لیں ۔ 16 جون 2016ء کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں ۔ علی شاہ نے گیارہ کتابیں لکھیں ۔ زیادہ تر تحقیق اور شاعری انتخاب پر مشتمل ہیں ۔ علی شاہ کا افسانچوں کا مجموعہ ٫٫ زرد پتے ،، ( معاشرتی افسانچے ) 2000ء کو منصہء شہود پر آیا اس کو شہر یار پبلی کیشنز اسلام آباد نے شائع کیا ۔ علی شاہ کے افسانچوں میں بے رحم زمانے کی تلخ حقیقت ، دوکھا دادھئی ، رشوت کا بازار گرم اور معاشرے میں ناانصافیاں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہیں ۔ جیسے جیسے قاری مطالعہ کرتا جاتا ہے ۔ اُس کے سامنے معاشرے کا چہرہ آنکھوں کے سامنے کھومتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ جیسا کہ ایک مشہور کہاوت ہے جس کی بھیس اُسی کی لاٹھی اِس طرح کے موضوعات پائے جاتے ہیں ۔ آج سے 27 ۔ 28 سال قبل اُس وقت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ آج کل کے دور میں تو لوٹنے اور فراڈ بازی کے نئے نئے تریکے ایجاد ہو گئے ہیں ۔ علی شاہ کے افسانچوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ۔ اللّٰہ کا گھر ، چمک ، قانون ، جرنیل کا بیٹا ، چوروں کو مور ، عقیدے ، پیٹ کی آگ ، قرض شناسی ، وارننگ ، علاج ، پانچوں گھی میں ، انتقام ، سادہ لوگ ، کرامت ، موت کے سوداگر ، دولت کا نشہ ، ایک سو کے قریب افسانچے شامل کئے گئے ہیں ۔ ٫٫ زرد پتے ،، سے اقتباس
٫٫ وہ رات دس بجے کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن پر اترا اور مسافر خانے میں رات بسر کرنے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ وہاں پر موجود پولیس کے ایک سپاہی نے اسے دھر لیا تلاشی لینے پر اُس کی جیب سے ہزار روپے کا ایک نوٹ اور خانیوال سے کوئٹہ تک کا ٹرین کا ٹکٹ بر آمد ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ دیکھ کر سپاہی کی رال ٹپکنے لگی اور نوجوان کو آوارہ گردی کے جرم میں پولیس چوکی چلنے کی دھمکی دی ۔۔۔۔۔ نوجوان کی منت سماجت پر سو روپے میں مک مکا ہو گیا ۔ سپاہی نے نوٹ اپنی جیب میں رکھ لیا اور نوجوان کو نو سو کے بجائے آٹھ سو روپے واپس کئے اور بغیر گنے وہاں سے بھاگ جانے کو کہا ۔۔۔۔۔ نوجوان نے پرنس روڈ کے ایک ہوٹل میں اطمینان سے رات بسر کی ۔۔۔۔ سپاہی جب دوسری صبح کپڑے کی ایک بڑی دوکان پر ٫٫ بیگم ،، کے ہمراہ خریداری کے بعد ہزار کا نوٹ دوکان دار کے حوالے کیا تو جعلی نوٹ کے جرم میں دکان دار نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا ،، ( ص 31 )
علی شاہ نے بچوں کی کہانیاں بھی لکھیں ۔
غزالہ کشور ملک
غزالہ کشور ملک نے افسانہ نگاری کا آغاز 2022ء میں کیا ان کا پہلا افسانہ ٫٫ دکھاوا ،، اپوا تنظیم ،، کے زیرِ انتظام شائع ہونے والی کتاب ٫٫ پیام ہدایت ،، میں شائع ہوا ان کا دوسرا افسانہ ٫٫ مسیحا ،، کے عنوان سے کتاب ٫٫ چمکتے ستارے ،، میں شائع ہوا اس کے علاؤہ قسمت ، کل اثاثہ ، یقین ، محبت امید اور انتظارِ رسائل کی زینت بن چکے ہیں ۔ غزالہ کشور ملک ( زوار آباد ، بھکر ) اپنے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں بتاتی ہیں کہ
٫٫ میں نے پہلا ناول 2013ء میں دخل لکھا لیکن وہ پھر شائع نہیں ہوا ۔ اس کے علاؤہ باقاعدہ ناول نگاری کا آغاز 2024ء میں کیا پہلا ناولٹ ٫٫ تیری محبت کے اسیر ،، اکتوبر 2024ء ماہنامہ ٫٫ حنا ،، ڈائجسٹ میں شائع ہوا اس کے بعد دوسرا ناول ٫٫ میرا عشق ہو تم ،، ماہنامہ ٫٫ آنچل ،، میں شائع ہوا ہے تیسرا ناول ٫٫ قید ہجر یاراں ،، حنا ڈائجسٹ ستمبر کے شمارے میں شائع ہونے والا ہے ۔ ناولوں کا موضوع سماجی اور عورت کے مسائل اور حقوق ہیں۔ ناولوں کے موضوع رومان اور سماج کے گرد گھومتے ہیں ۔ پسندیدہ ناول نگار تو بہت ہیں لیکن فرحت اشتیاق صاحبہ میری پسندیدہ لکھاری ہیں مزید تین ناولوں پر مشتمل کتاب زیرِ طبع ہے اِن شاء اللّٰہ اکتوبر میں منظر عام پر آئے گی ۔ میرا تخلیقی و تصنیفی سفر پورے شوق اور مطالعہ سے جاری ہے ،،
انٹرویو کنندہ
مقبول ذکی مقبول ، بھکر
غلام محمد تقی متین کوٹلہ جامی
بھکر کے ادب میں ایک معتبر نام شاعر و ادیب مصنّف (والدِ بزرگوار پروفیسر جاوید عباس جاوید اور ظفر عباس ) غلام محمد تقی متین کوٹلہ جامی ( 18 اکتوبر 1920ء / 15 نومبر 1996ء ) آپ نے بچوں کے لیے اُردو میں کہانیاں بھی لکھیں ۔
فرحت پروین
فرحت پروین کی پیدائش یکم جنوری 1953ء کو غلام حیدر خان کے گھر بھکر میں ہوئی ۔ ان کا قلمی اور خان دانی نام ایک ہی ہے ۔ فرحت پروین ۔ میٹرک تک تعلیم بھکر میں حاصل کی ۔ فرحت پروین کافی عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں ۔ افسانہ نگاری میں بین الاقوامی شہرت یافتہ خاتون ہیں ۔ افسانہ کو افسانہ لکھا اور اُس کی رُوح میں اتر گئیں ۔ جس کی وجہ خاص خدا داد صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی ماحول بھی ٖمیصر آیا اور بچپن سے لکھنے اور مطالعہ کا شوق بھی جھلکتا ہوا نظر آتا ہے ۔ فرحت پروین نے افسانہ نگاری کا آغاز 1992ء میں کیا مشہور و معروف رسائل و جرائد میں افسانے شائع ہوتے رہے ہیں ۔ جن میں فنون ، سویرا ، ادبِ لطیف ، اور دیگر ملکی و غیر ملکی میں ہندوستان کا رسالہ ادب ، اور امریکہ کا رسالہ ٫٫ آواز ،، علمی و ادبی حلقوں اور قارئین میں بھرپور پزیرائی ملی ۔ فرحت پروین کی افسانہ نگاری کے بارے میں معروف کالم نگار عطا الحق قاسمی کہتے ہیں ۔ باقی جہاں تک فرحت پروین کی افسانہ نگاری کا تعلق ہے تو میں ان کے فن کے کشتگان میں سے ہوں ۔ ان کا تعلق افسانے کی حقیقت پسندانہ روایت سے ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران جو چند افسانہ نگار خواتین اپنے پورے قد کے ساتھ سامنے آئی ہیں اُن میں فرحت پروین ، طاہرہ اقبال ، نیلم احمد بشیر اور راحت وفا سر فہرست ہیں ۔ فرحت پروین کا ذکر میں نے خواتین افسانہ نگاروں کے ساتھ اس لیے کیا ہے کہ مجھے ان کے افسانوں میں ممتا بہت نظر آتی ہے ۔ اور یہ ممتا کمزروں کیلئے خصوصاً بہت طاقتور ہو جاتی ہے ۔ فرحت پروین کے افسانوی مجموعوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ۔ 1 ٫٫ منجمد ،، ( 17 فسانے شامل ہیں ) اساطیر لاہور نے 1997ء کو شائع کیا دوسرا ایڈیشن 2005ء کو روش پبلی کیشنز نے شائع کیا 2 ٫٫ ریستوران کی کھڑکی سے ،، ( 18 افسانے شامل ہیں ) جس کو مئی 2000ء میں اساطیر نے شائع کیا 3 ٫٫ صندل کا جنگل ،، ( 24 افسانے شامل ہیں ) 2010ء میں جہانگیر بکس لاہور نے شائع کیا 4 ٫٫ کانچ کی چٹان ،، ( 31 افسانے شامل ہیں ) جس کو 2012ء میں جہانگیر بکس لاہور نے شائع کیا 5 ٫٫ بزمِ شیشہ گراں ،، ( 21 افسانے شامل ہیں ) جس کو 2014ء میں بیاض نے شائع کیا زیرِ طبع ٫٫ برگ گل افسوس ،، ( ناول ) اور غزلیات کا مجموعہ ہے ۔
محمد اشرف کمال ( پروفیسر ڈاکٹر )
محمد اشرف کمال منڈی ٹاؤن بھکر سے ہیں انہوں نے چند افسانے لکھے ہیں ۔ میگزین دِلکُشا 2015ء بھکر نمبر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر اور دیگر رسائل و جرائد اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں ۔ جو انسانی قدروں کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں ۔ جن کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ شکار ، نارسائی ، مجھے میرا چہرہ لادو ، مکافاتِ عمل ، گنجا ، سپہ سالار اور نقب زن ۔
محمد ضیاء المصطفیٰ
محمد ضیاء المصطفیٰ ( پروفیسر ڈاکٹر ) مولانا محمد عاشق حسین فائق کے فرزند محمد ضیاء المصطفیٰ کا تعلق بھکر کے ایک گاؤں حسن خان سے ہے ۔ گورنمنٹ کالج ، بہل میں لیکچرار ہیں ۔ آپ کی مادری زبان سرائیکی ہے جبکہ تخلیقات اُردو میں ہیں ۔ آپ کے افسانے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ۔ اُن کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ ماہنامہ ٫٫ ادبِ لطیف ،، لاہور ماہنامہ ٫٫ قومی زبان ،، کراچی سہ ماہی ٫٫ ادبیات ،، اسلام آباد سہ ماہی ٫٫ تسطیر ،، جہلم سہ ماہی ٫٫ ادراک ،، گوجرانولہ اور سہ ماہی ٫٫ فن زاد ،، سرگودھا ۔ بھر انہی افسانوں کو حال ہی میں اگست 2025ء میں ٫٫ شیتل ،، کے نام سے افسانوی مجموعہ منصہء شہود پر آیا ۔ ناشر فکشن گیلری ، لاہور صفحات 235 پر مشتمل ہے ۔ افسانے 19 شامل کئے گئے ہیں ۔
محمد رفیق چغتائی
شاعر و مصنّف محمد رفیق چغتائی کا تعلق مسلم کوٹ سے ہے سرائیکی میں شعر کہتے ہیں ۔ سرائیکی میں افسانے بھی لکھے ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں ۔
ملک نعمان حیدر حامی
ملک نعمان حیدر حامی ضلع بھکر کی تحصیل دریا خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں چاہ اسراں چک نمبر 18 ٹی ۔ ڈی ۔ اے ۔ میں یکم مارچ 2005ء کو احمد نواز کے گھر پیدا ہوئے بچپن سے لکھنے کا شوق پیدا ہوا یعنی پانچویں کلاس میں تھے شعر کہنا شروع کر دیا ۔ ابھی طالب علم ہی ہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ادب بھی تخلیق کر رہے ہیں ۔ اِن کی تحریریں مقامی اخبارات ملکی و غیر ملکی رسائل و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں ۔ چند کے نام درجِ ذیل ہیں ۔ روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر ماہنامہ ٫٫ بیاض ،، لاہور ٫٫ املاک ،، مردان ، ہفت روزہ ٫٫ مارگلہ نیوز ،، انٹرنیشنل اسلام آباد اور ماہنامہ ٫٫ کامل ،، میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں ۔ ملک نعمان حیدر حامی کا افسانوی مجموعہ ٫٫ اے محبت مجھے معاف کر ،، 2024ء میں منصہء شہود پر آیا ہے ۔ 15 افسانے شامل کئے گئے ہیں ۔ انتساب سعادت حسن منٹو کے نام کیا گیا ہے ملک نعمان حیدر حامی کے افسانوں میں جدیدیت پائی جاتی ہے جیسا کہ افسانہ حیثیت اور پرورش یہ دو ایسے افسانے ہیں جو کہ خوبصورت منزل پر پہنچ جاتے ہیں اور قاری کے اندر موجودہ دور کی ایک تصویر کشی پیدا کرتے ہیں ۔ انہوں نے بچوں کے لئے کہانیاں بھی لکھیں ہیں ۔
منیر بلوچ ( پروفیسر )
منیر بلوچ ، بھکر شہر سے ہیں ۔ دو درجن کے قریب افسانے لکھے ہیں ۔ جو میگزین ٫٫ دِل کُشا ،، 2004ء گورنمنٹ کالج ، بھکر سہ ماہی ٫٫ سفید چھڑی ،، سرگودھا اور دیگر رسائل میں شائع ہوچکے ہیں
منظور حسین قریشی
منظور حسین قریشی ، بستی سیال بھکر میں رہائش پذیر ہیں ۔ آپ نے مختلف مضامین لکھے اور کالم بھی لکھے ہیں ۔ صحافت بھی ان کا شوق ہے ۔ آپ کے افسانے فنون ، لاہور میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ افسانہ ٫٫ شناخت ،، بہت مقبول ہوا جو کہ بیٹی کے حقوق کی طرف بھرپور توجہ دلائی یہی وجہ بنی جو افسانہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ۔ بیٹی اور بیٹے کا موازنہ بھرپور انداز میں کیا گیا ہے ۔
نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی
نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ( استاد الشعراء ) محلہ سردار بخش بھکر میں رہائش پذیر ہیں ۔ ایک ملاقات کے دوران افسانہ نگاری کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا 30/ 35 سال پہلے افسانے لکھے تھے وہ مقامی اخبار میں بھی شائع ہوئے تھے وہ میرے گھر میں موجود ہیں ۔ تلاش کرنے سے مل سکتے ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تخلیقات کا رخ سرائیکی شاعری کی طرف موڑ لیا ۔ میگزین ٫٫ احقاف ،، 1989ء گورنمنٹ کالج ، بھکر میگزین ٫٫ دِل کُشا ،، 2004ء میگزین ٫٫ ریگ زار ،، 2007ء گورنمنٹ کالج آف کامرس ( منکیرہ ضلع بھکر ) میگزین ٫٫ دِل کُشا ،، 2015ء بھکر نمبر گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ، بھکر ان کالج میگزین میں افسانے شائع ہوئے ہیں ۔ اُن میں پروفیسر افتخار احمد بشر ، کا افسانہ ٫٫اج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے ،، پروفیسر سجاد حسین شاہ ، کا افسانہ ٫٫ بھوک ،، پروفیسر عامر ملک ، کا افسانہ ٫٫ بوڑھے کا خواب ،، قاضی ظفر اقبال ، کا افسانہ ٫٫ ماضی کے دریچے سے ،، غلام اصغر ، کا افسانہ ٫٫ ہمدردی ،، احمد نواز خان ، کا افسانہ ٫٫ خلش ،، ممتاز میتلا ، کا افسانہ ٫٫ خاموشی ،، شفقت اللّٰہ ہمدانی ، کا افسانہ ٫٫ دستک ،، محمد احمد ریاض ، کا افسانہ ٫٫ ایک ناقابلِ فراموش واقعہ ،، عقیل عباس ، کا افسانہ ٫٫ خدا داد کا ایک دن ،، عامر سہیل ، کا افسانہ ٫٫ غمِ حیات ،، محمد یاسر ، کا افسانہ ٫٫ کڑوا سچ ،، قیصرہ رانا ، کا افسانہ ٫٫ شکست آرزو ،، ***
ریحانہ بتول کی کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، اشاعت کے آخری مراحل میں داخل
منکیرہ ( نمائندہ خصوصی ) ریحانہ بتول کی کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، منصہء شہود پر آنے والی ہے معروف شاعر و ادیب اور بزمِ اوجِ ادب کے بانی و چیرمین مقبول مقبول ذکی مقبول کی شخصیت اور فن پر مشاہیر کے قلم سے لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف اخبارات میں شائع ہونے کے بعد اب ان کو ریحانہ بتول نے کتاب کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔
جلد مارکیٹ میں آنے والی ہے 370 صفحات پر مشتمل کتاب میں 58 مشاہیر کے مضامین شامل کئے گئے ہیں جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کمال ، پروفیسر ڈاکٹر مختار ظفر ، پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان ، ڈاکٹر محسن مگھیانہ ، ڈاکٹر شہناز مزمل ، پروفیسر ڈاکٹر ضمیر بخاری اور پروفیسر عاصم بخاری کے سب سے زیادہ مضامین شامل کئے گئے ہیں جو مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات کا بھر پور احاطہ کرتے ہیں ۔
لیّہ ( نامہ نگار ) معروف شاعر ، مصنّف اور ادیب مقبول ذکی مقبول نے ضلع لیّہ کا خصوصی دو رہ کیا ۔ اس موقع پر ان کی ملاقات شہر کی ممتاز ادبی و صحافتی شخصیات سے ہوئی ، جس میں تخلیق ، تحقیق اور ادب کے فروغ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔
ادبی نشست میں شہر کی معروف ادبی شخصیات پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان ، امان اللہ کاظم ، شمشاد حسین سرائی ، صابر جاذب ، قنمبر نقوی ، تنویر نجف ، امداد حسین سرائی کے ساتھ ساتھ معروف شاعر نجیب چوہدری بھی شریک ہوئے ، جن کا مزاحمتی اور روح پرور شعر آج بھی اہلِ قلم کی پہچان بن چکا ہے :
"میں جھکا نہیں ، میں بکا نہیں میں چھپ چھپا کر چھپا نہیں جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر مجھے ان صفوں میں تلاش کر”
مقبول ذکی مقبول نے اس نشست میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیہ کا ادبی منظرنامہ قابلِ تحسین ہے ، جہاں تخلیق، مزاحمت اور زبان و ثقافت سے جُڑے رجحانات نمایاں طور پر موجود ہیں۔
نشست میں سینئر صحافی منیر احمد کھوکھر (چیف بیورو "سنگِ بے آب”) اور ملک اسلم کھوکھر نے بھی شرکت کی اور ادبی و صحافتی ہم آہنگی پر اظہار خیال کیا۔ حاضرین نے اس موقع کو ایک نادر علمی و فکری لمحہ قرار دیا جو ادب کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہو گا۔
مقامی ادبی حلقوں نے مقبول ذکی مقبول کی آمد کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ اس قسم کی ملاقاتیں ادبی فضا کو مزید تقویت دیں گی۔