Tag: بھکر

  • مصاحبہ ارشد حسین سے

    مصاحبہ ارشد حسین سے


    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول،منکیرہ (بھکر)
    ارشد حسین کا تعلق بھکر شہر سے ہے ۔ یہ راجپوت بھٹی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔
    نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر ہیں۔
    یہ نوجوان بہت ساری صلاحیتوں کا حامل ہے۔اپنے اندر شاندار جذبے رکھتا ہے۔ اعلیٰ پائے کا کمپیئر بھی ہے۔بات سے بات نکالنے کا فن بخوبی جانتا ہے۔

    arshad and maqbool


    اس کی آواز میں کڑک پائی جاتی ہے اور مھٹاس سے خالی بھی نہیں ہوتی۔ان کے اشعار اکثر پروگراموں میں پڑھے جاتے ہیں۔اس شعر نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔
    شعر ملاحظہ فرمائیں
    ۔۔۔۔۔
    مٹی کا بنا ہے تو وہ گھل کیوں نہیں جاتا؟
    پتھر کا صنم ہے تو وہ انسان سا کیوں ہے؟
    ۔۔۔۔۔
    2 اشعار اور ملاحظہ کیجئے
    ۔۔۔۔۔
    ان سے ملنے کے لئے تھے اس قدر بے تاب ہم
    درمقفل دیکھ کر بھی دستکیں دیتے رہے
    ۔۔۔۔۔
    اس شہر میں ملتا ہی نہیں کوئی معزز
    دستار مرے پاس ہے سر ڈھونڈ رہا ہوں
    ۔۔۔۔۔
    چند روز قبل ان سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
    جو گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے۔
    سوال : نام۔۔۔۔؟
    جواب : ارشد حسین
    سوال : تخلص۔۔۔۔۔؟
    جواب : ارشد حسین ارشد حیدری
    سوال : آپ نے ادبی زندگی کا آغاز کب کیا۔۔۔۔۔؟
    جواب : 1990ء1991ءمیں
    سوال : استاد شاعری۔۔۔۔۔؟
    جواب : پہلے استاد بھکر کے نامور خطاط، شاعر، صحافی شمشاد نظر مرحوم تھے ان کے انتقال کے بعد لاہور میں قیام کے دوران شاعر اطہر ناسک مرحوم سے اصلاح لی
    سوال : مقام وتاریخ پیدائش۔۔۔۔۔؟
    جواب : 10اپریل 1977ء کو بھکر شہر چمنی محلہ شمالی میں پیدا ہوا
    سوال : آپ کا طبعی میلان نظم کی طرف زیادہ ہے یا نثر کی طرف۔۔۔۔
    ؟
    جواب : نظم اور نظم میں زیادہ تر غزل اور پھر پابند اور آزاد دونوں نظمیں، قطعات،سلام ،نعت،منقبت،مرثیہ،قصیدہ وغیرہ تمام اصناف میں طبع آزمائی کی زیادہ میلان غزل کی طرف رہا
    سوال : ذوق مطالعہ۔۔۔۔۔؟
    جواب : شاعری، ناول وغیرہ پسندیدہ ناول نگار اے حمید اور بانو قدسیہ نے زیادہ متاثر کیا سب سے زیادہ علیم الحق حقی سے متاثر ہوں
    سوال : پسندیدہ اصناف شعر۔۔۔۔۔؟
    جواب : غزل میری پسندیدہ صنفِ شاعری ہے
    سوال : آپ کی تخلیقات۔۔۔۔۔؟
    جواب : دو شعری مجموعے ایک زیر تربیت ہے۔پہلا شعری مجموعہ، چلو اب مان بھی جاؤ، دوسرا، مجھے دھڑکنوں میں بحال کر،
    سوال : آپ کا شاعری میدان۔۔۔۔۔:
    جواب : مزاحمت، انقلاب
    سوال : اعزازات۔۔۔۔۔؟
    جواب : چیئرمین حلقہ فروغِ ادب بھکر، گورنمنٹ کالج بھکر کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف شہروں میں ادبی مقابلہ جات میں غزل میں پہلی پوزیشن
    سوال : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی۔۔۔۔۔؟
    جواب : چیئرمین حلقہ فروغِ ادب بھکر،کے زیر اہتمام 1997ء سے دو ہزار تین تک محافل مشاعرہ کا انعقاد
    سوال : ادب کے حوالے سے آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟
    جواب : میں ادب برائے زندگی کا قائل ہوں اومانوی شاعری کرنے کے باوجود ترقی پسند تحریک کے نمائندہ شعراء سے زیادہ متاثر ہوں

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    منکیرہ (بھکر)

  • محمد اقبال بالم سے گفتگو

    محمد اقبال بالم سے گفتگو

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، بھکر

    محمد اقبال بالم صاحب ، بھکر

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    سوال : آپ کا مختصر تعارف .؟
    جواب : میرا نام محمد اقبال ہے ۔ قلمی نام محمد اقبال بالم اور چھینہ خاندان سے تعلق ہے والد کا نام فلک شیر چھینہ ہے ۔ میرا آبائی شہر منکیرہ ہے ۔ 1985 ء میں ہم بھکر نقل مکانی کر گئے تھے ۔ وجہ منکیرہ میں بے روزگاری تھی ۔ پھر 1990ء کو واپس منکیرہ آ گئے ۔ میں نے ٹیلر ماسٹر یعنی درزی کا کام کیا۔ لیکن چند سالوں میں میری قریب کی نظر کمزور ہو گئی تھی ۔ مجبوراً کام چھوڑ نا پڑ گیا فیصل آباد ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرنے چلا گیا ۔ 6 سال بعد منکیرہ واپس آ کر گولی ٹافی کا کام شروع کیا مگر شومی ء قسمت چند سال چلا 2019ء میں” مرید کے” ، وحدک دیسی دوا کی فیکٹری میں کام کرنے جانا پڑ گیا ۔ اب تک وہیں ہوں ۔ اللّٰہ پاک کا شکر ہے میرا ایک بیٹا عامر اقبال دبئی میں رہتا ہے ۔ انشاءاللہ عنقریب دوسرا بیٹا عمران اقبال وہ بھی دبئی جائے گا ۔ اللّٰہ کا شکر ہے اب کچھ مالی حالات بہتر ہیں ۔ میرے کل بچے 6 ہیں 4 بیٹے 2 بیٹیاں ۔
    سوال : آپ کے اندر کا شاعر کب اور کیسے بیدار ہوا ؟
    جواب : جناب یہ کوئی 1987ء کی بات ہے اس وقت میری جوانی بھر پور تھی ۔ مگر بے روزگاری بھی عروج پر تھی ۔ ہر دور کی طرح معاشرتی ناانصافیاں اپنے کمال پر تھیں اور غریبی کا دور دورہ تھا۔ میں بھی غریب ہو نے کے ناطے کچھ نہ کر سکتا تھا ۔ میرے اندر کے شاعر نے آنکھ کھولی تو میں نے شاعری کے ذریعے آواز بلند کی تھی ۔ معاشرے کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جو کہ اب تک جاری ہے ۔ ہاں ساتھ ساتھ رومانوی شاعری بھی کرتا ہوں ۔
    سوال : شاعری میں اصلاح کس سے لیتے ہیں ۔ ؟
    جواب : سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے جو بھکر کے معروف استادالشعراء ہیں ۔ اللّٰہ پاک استاد کو سلامت رکھے آمین ۔

    iqbal and maqbool


    سوال : آپ سرائیکی زبان کے گیت نگار بھی ہیں ۔ گیت کی اصل روح کیا ہے ۔؟
    جواب : گیت میں زیادہ تر رومان پایا جاتا ہے اور تحفے تحائف کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ آج کل تو گلے شکوے زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ میں تو یہی کہوں گا سرائیکی زبان میں گیت تخلیق کرنا بہت مشکل کام ہے ۔ شاید کسی گیت نگار کو میری اس بات سے اتفاق نہ ہو ۔
    سوال : آپ کے قلم سے لکھے گئے گیت کون کون سے گلوکاروں نے گائے ہیں ۔ ؟
    جواب :ایک طویل فہرست ہے جس میں احمد نواز چھینہ ، امجد نواز کارلو ، شہزاد شیخ ، مشتاق چھینہ ، باسط نعیمی ، رانجھا خان ارمانی ، ساجد ملتانی ، گل تری خیلوی اور اللّٰہ یار گھلو شامل ہیں ۔
    سوال : علی شاہ مرحوم کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ۔؟
    جواب : آ ہ ۔۔۔!
    علی شاہ ، علی شاہ مرحوم کا نام جب بھی آتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ اللّٰہ پاک علی شاہ مرحوم کی عالم برزخ کی منازل آسان فرمائے ۔ آمین علی شاہ مرحوم علم و ادب کے حوالے سے پورے پاکستان میں مشہور تھے ۔ 9 کتابوں کے مصنف تھے ۔ علی شاہ مرحوم نے منکیرہ کے نئے قلم کاروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کرایا ۔ اپنی کتابوں میں فن و شخصیت پر مضامین لکھ کر تاریخ ادب میں شامل کر دیا ۔ میرے پاس الفاظ نہیں علی شاہ مرحوم کو خراج تحسین پیش کیسے کروں ۔ ؟
    سوال : محسن ِتھل کے نام سے آپ علی شاہ مرحوم کی فن و شخصیت پر ایک کتاب ترتیب دینا چاہتے تھے ۔ اس کا کیا بنا ۔؟
    جواب : ذکی صاحب !
    بات یہ ہے کہ جو بھی علی شاہ مرحوم کے دوست تھے میں نے سب سے رابطہ کیا اور کہا کہ علی شاہ مرحوم کی فن و شخصیت پر مضامین لکھ کر بھیج دیں ۔ دو چار دوستوں نے مضامین اور نظمیں بھیجیں باقی کسی نے توجہ نہ کی ۔ اس طرح یہ کام نہ ہو سکا ۔
    سوال : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی ۔؟
    جواب : بزم نذ یر منکیرہ ، اس کا بانی و صدر ہوں۔ یہ استاد سئیں نذیر احمد نیر ڈھالہ خیلوی صاحب کے نام سے ہے ۔ استاد نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی بھکر کے ہیں ۔ سرائیکی ادب کے نامور شاعر ہیں ۔ اللّٰہ پاک استاد جی کو سلامت رکھے ۔ آمین
    ایف جے رائٹرز فورم پاکستان لاہور کی تنظیم کا ضلع بھکر کا صدر ہوں ۔ ایک اور ادبی تنظیم ہے ۔ انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان اسلام آباد اس کا بھی ضلع بھکر کا صدر ہوں ۔
    سوال : آپ کتنی زبانوں میں اشعار کہتے ہیں ۔ ؟
    جواب : 4 زبانوں میں شاعری کرتا ہوں ۔ 1 سرائیکی ، 2 اردو ، 3 پنجابی ، 4 رانگڑی (ہریانوی)
    سوال : کیا آپ نثر بھی لکھتے ہیں ۔؟
    جواب : 6/7 کہانیاں لکھی تھی اصل میں افسانہ لکھنے کی کوشش کی لیکن بات نہ بنی
    سوال : آپ کی کتابوں کے کیا نام ہیں ۔ ؟
    جواب :
    1 مودت دے ڈیوے ، سرائیکی نعتیہ مجموعہ ۔ صدق رنگ پبلیکشنز ملتان (2010ء)
    2 تھل دے ہیرے ، مختلف شعراء کا کلام ، انتخاب ، صدق رنگ پبلیکشنز ملتان (2012ء)
    3 دامنِ دل ، اردو مجموعہ غزل ، اردو سخن چوک اعظم ، لیہ (مئی 2016ء)
    4 چھمکاں ، سرائیکی مجموعہ کلام ، اردو سخن چوک اعظم ، لیہ (جون 2016ء)
    5 "چھلے” ، پنجابی شاعری ، اردو سخن چوک اعظم ، لیہ (مئی 2017ء)
    6 نکھیڑے چنگے تاں نئیں ، سرائیکی گیتاں دی کتاب ، اردو سخن چوک اعظم لیہ (مئی 2017ء)
    7 "جنت دے سردار” علیہ السلام ، سرائیکی مجموعہ منقبت ، اردو سخن چوک اعظم لیہ (جون 2021ء)
    8 چشم خوابیدہ ، اردو مجموعہ غزلیات اردو سخن چوک اعظم لیہ (مئی 2022ء)
    سوال : آپ کے اعزازات ۔؟
    جواب :
    1 ماہنامہ آداب عرض ڈائجسٹ (ملتان) کی سالانہ تقریب میں سند برائے حسن کارکردگی 15مئی 2013ء

    2 ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ۔اردو ڈاٹ کام چوک اعظم( لیہ) ۔9 اگست ،،2016ء

    3 ایوارڈ و سند ۔ بہترین۔ کتاب۔(دامنِ دل ) بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 3 اگست 2020 ء

    4 سند امتیاز کتاب (چھلے ) بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل( ننکانہ صاحب) 28 مارچ 20،21ء

    5 ایوارڈز و سند امتیاز بہترین تصنیف (دامن دل ) انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان (راولپنڈی) 26 جولائی 2021ء

    6 . گولڈ میڈل سند کیش اور دیگر تحائف منجانب تنظیم کارخیر (گوجرانوالہ) 21 نومبر 2021ء

    7 . ایوارڈز و سند برائے حسن کارکردگی انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان( راولپنڈی )27 نومبر 2021ء

    ،8 میڈل برائے حسن کارکردگی سند اعزازی ادبی خدمات و اتھارٹی لیٹرز ضلع (بھکر ) برائے تربیتی ورکشاپ انٹرنیشنل رائٹرز فارم پاکستان (راولپنڈی )25 دسمبر 2021ء

    9 ایوارڈ برائے حسن کارکردگی منجانب ماہنامہ اُوج ڈائجسٹ (ملتان) 16 جنوری 2022ء

    10 انٹرنیشنل ایوارڈز پروگرام ومشاعرہ ۔حسن کارکردگی سند بھلوال (سرگودھا) 28 فروری 2022ء

    11 . سردار ادبی ایوارڈز اور امتیاز منجانب زوقِ ادب جامکے چیمہ( سیالکوٹ) 13 مارچ 2020 ء

    12 ایف جے رائٹرز فورم پاکستان (لاہور) ایوارڈز برائے بہترین تصنیف( جنت دے سردار ) 26 مارچ 2012 ء

    13 بھیل ادبی ایوارڈ وسند کتب کے تحائف منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل( ننکانہ صاحب ) 27 مارچ 2022 ء

    ،14 . الوکیل کتب ایوارڈز وسند حسن کارکردگی کتب (جنت کے سردار ) (حاصل پور ) 15 مئی 2022 ء
    سوال : کوئی ایسا واقعہ جو آپ بھلا نہ پاۓ ہوں ۔؟
    جواب : واقعات تو بہت سے ہیں ۔ جو بھلائے نہیں جاسکتے ۔ مگر ایک واقعہ جب مجھے یاد آتا ہے تو آنسو نکل آتے ہیں ۔ ہوا یوں کہ برف گولے والے اکثر محلوں میں آتے ہیں ۔ پرانہ لوہا ، پلاسٹک ، نائیلون ، ردی ، کاپی کتابیں وغیرہ لیتے ہیں اور بچوں کو برف کے گولے ، پتیسہ ، چھوارے ، پتاسے وغیرہ دیتے ہیں ۔ یہی مئی کا مہینہ تھا ۔ برف گولے کھانے کی غرض سے میرے بچوں نے کتابیں کاپیاں دیں تو میرے کلام والے مسودے بھی ساتھ دے دیئے ۔ ان کو پتا نہیں تھا ۔ جب میں گھر آیا تو مسودے غائب تھے ۔ بچوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا اس نے گولے والے کو دیئے ہیں ۔ اس نے کہا اس نے دیئے ہیں ۔ بہرکیف میں بہت پریشان ہوا ۔ سائیکل نکا لی گولے والے کو گلیوں میں ڈھونڈ تا رہا مگر نہ ملا ۔ آخر کباڑ والے کے پاس گیا اس نے کہا بھائی یہاں تو ردی بیچنے والے بہت آتے ہیں ۔ دیکھ لیں بھائی تمھارے مسودے پڑے ہیں تو اٹھا لو میں نے بورے کھولے گرمی بھی بہت تھی ، بہت کوشش کی مگر مسودے نہ ملے اس واقعہ کو کبھی بھی نہیں بھولوں گا ۔ جب بھی یاد آتا ہے تو آنسو نکل آتے ہیں ۔

    maqbool and iqbal


    سوال : کیا آپ کو اکادمی ادبیات اسلام آباد کی طرف سے وظیفہ مل رہا ہے ۔؟
    جواب : کوشش تو میں نے جاری رکھی ہوئی ہے کہ مل جائے 3/4 چکر بھی مجھے اسلام آباد کے لگانے پڑ گئے تھے ۔ لیکن ابھی تک وظیفہ نہیں شروع ہوا ۔ امید ہے وظیفہ ملنا شروع ہو جائے گا ۔ 2/3 ادبی دوستوں نے بھی کوشش کی ہے کہ وظیفہ جاری ہو جائے ۔ باقی اللّٰہ پاک کرم کرے گا ۔
    سوال : آپ کو مشاعرہ پڑھنے کا کہاں کہاں اتفاق ہوا ۔؟
    جواب : اپنے علاقہ میں تو شروع سے مشاعرے پڑھتا رہا ہوں ۔ منکیرہ شہر ، دلیوالہ ، مسلم کوٹ ، بھکر ، سرائے مہاجر ، فاضل ، جنجوں شریف اور خاص طور پر گوھر والا ، جو گوھر والا کا مشاعرہ ہے پاکستان کا سب سے بڑا سرائیکی مشاعرہ ہے ۔ ہر سال کو اکتوبر میں ہوتا ہے ۔ ذکی صاحب تو بات رہی باہر کے مشاعروں کی تو اس میں میں تو آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے متعارف کرایا ۔ فتح پور ، لیہ ، چوک اعظم ، ملتان ، اسلام آباد ، لاہور ، اور سرگودھا ۔ آپ مجھے بھی ساتھ لے کے جاتے تھے اور خاص کر لاہور میں مشاعرہ کی دعوت جو آپ کو ملتی تھی ۔ آپ مجھے فون کرتے کہ ایک ساتھ شرکت کریں گے۔ ۔ بزمِ نزیر منکیرہ کےزیر اہتمام منکیرہ میں بہت سے مشاعرے کرائے ہیں ۔ آپ بھی ساتھ ہوتے تھے اور عارف سہوانی بھی ۔ اس سے پہلے تھل ادبی سجوگ ہوا کرتی تھی ۔ وہ بھی مشاعرے کراتی تھی ۔ ان ادبی تنظیموں سے پہلے بھی منکیرہ شہر میں مشاعرے ہوا کرتے تھے ۔ ان مشاعروں کا مجھے ایک یہ بھی فائدہ ہوا کہ علاقے کا ہر نئے شاعر کی اصلاح و راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کا اعزاز میرے حصے آتا۔۔ ایک پروگرام بطور مہمان شاعر” روہی” ٹیلی ویژن ملتان وہاں بھی پروگرام کرنے گیا تھا ۔
    سوال : آپ قارئین کو ایک غزل عطا کریں ۔؟
    جواب : غزل
    اک طرف تُو ۔۔۔۔۔ دوسرے تنہائیاں
    پھر کھڑی ہیں تاک میں رسوائیاں

    جو تھی غالب درد جوش و میر میں
    اب کہاں وہ شعر میں گہرائیاں

    کھو گئے ہیں ٹھمریاں اور دادرے
    گائیکی میں وہ کہاں استائیاں

    وصل عشق الفت محبت اور پیار
    ہم کو اب تک یہ نہیں راس آئیاں

    دل بھی اب ہے چڑچڑا سا ہو گیا
    اِس پہ کس کی پڑ گئی پرچھائیاں

    روز کی فاقہ کشی اور مفلسی
    یہ تو بالم ہیں مری ماں جائیاں

    maqbool zaki

  • قنبر نقوی سے مکالمہ

    قنبر نقوی سے مکالمہ

    قنبر نقوی صاحب، لیہ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات،لیہ

    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر

    سوال : آپ سادات خاندان (نقوی) سے ہیں ۔ مختصر تعارف کرائیں ۔؟
    جواب : جی ہاں نقویہ سلسلہ اولاد حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے معروف ہے ۔ ہمارے مورث اعلیٰ سید محمد شجاع طوسی رحمت اللّٰہ دسویں پشت سے حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے ملتے ہیں۔ آپ کم بیش 644 ھجری میں سندھ کے شہر سکھر کے قریب قصبہ بکھر میں آ کر مسکن پزیر ہوئے ۔ اس طرح آپ بھاکری النقوی کہلائے بعد میں آپ کی اولاد اچ شریف میں آ کر آباد ہوتی گئی ۔ اس سلسلے میں بہت سے اولیائے اللّٰہ پیدا ہوئے جن میں سید ہارون سرمست، سرکار صدر دین خطیب سرکار بدرالدین، سید سردار رحمت اللہ المعروف شاہ اویس، سید سرکار شیر شاہ نقوی، سید اللہ بندہ شاہ، سید احمد کبیر اول بھاکری النقوی، سرکار علی راجن سدابھاگ ، جنکا مزار تحصیل کروڑ ضلع لیہ

    قنبر نقوی سے مکالمہ


    سوال : آپ کا شہر لیہ ہے؟ اس کی وجہء تسمیمہ کیاہے؟
    جواب : تاریخ لیہ لکھنے والوں نے اس کی وجہ تسمیہ دو طرح کی لکھی ہیں ۔ پہلی یہ کہ یہ شہر دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد ہوا چونکہ دریا کے کنارے لایاں بہت ہوتی ہیں ۔ لوگوں نے لائیاں کاٹ کر مکان بنائے ۔ اس طرح لیہ مشہور ہوا ۔
    دوسری روایت یہ بھی ہے کہ سولویں صدی میں سردار کمال خان کے دو بیٹے تھے ایک کا نام لیئو خان تھا ۔ دوسرے کا نام میئو خان تھا ۔ لیئو خان نے لیہ شہر کے بنیاد رکھی اور میئو خان نے میانوالی شہر کی بنیاد رکھی اور وہاں آباد ہوا ۔ اس طرح لیئو خان سے لیہ مشہور ہوا ۔
    سوال : لیہ کی ادبی فضا کیسی ہے؟
    جواب : کسی زمانہ میں لیہ ادب کا لکھنؤ مانا جاتا تھا ۔ لیہ میں بہت بڑے نامور ادیب شاعر پیدا کیئے بہرحال اب بھی لیہ اپنے اس مقام پر قائم ہے ۔ کچھ عرصے سے ادبی دھڑے بندیاں قائم ہو چکی ہیں ۔ اس روایت کے اثرات مستبقل میں اچھے نہیں ہوں گے ۔
    سوال : آپ ادب کی طرف کیسے راغب ہوئے؟
    جواب : میں بچپن ہی سے شعر و ادب کا دیوانہ تھا اور اب بھی ہوں۔ یہ رغبت فطری ہے ۔
    سوال : اس مشکل ترین دور میں آپ ادبی شوق کاچراغ کیسے جلائے ہوئے ہیں ؟
    جواب : اس مشکل ترین دور میں ادب کا چراغ جلانا یقنا مشکل ہو گیا ہے ۔ ادب سے وابستگی عشق کی حدتک ہو تو حالات جیسے بھی ہوں چراغ ادب جلایا جا سکتا ہے ۔
    سوال : کیا یہ علم وادب دوستی آپ کو وراثت میں ملی ہے؟
    جواب : ہاں اس میں شک نہیں ہمارے خاندان میں علم ادب سے دوستی رہی ہے ۔ اس طرح اس کو وراثتی رغبت کہا جا سکتا ہے ۔
    سوال : آپ کے نام میں قنبر ہے۔ قنبر کا کیا مطلب ہے؟
    جواب : میرے قلمی نام قنبر جو ہے قنبر مولا علی علیہ السلام کے غلام قنبر سے مشتق ہے ۔
    سوال : آپ کی مصروفیت ۔؟
    جواب : دینی کتب ، ادبی لٹریچر کا مطالعہ ، اشعار کہنا اشعار پڑھنا میری مصروفیات ہیں ۔
    سوال : آپ کی کتابوں کے نام کیا ہیں۔؟
    جواب : میری پہلی کتاب جو غزل اور نظم پر مشتمل ہے ۔ اس کا نام اجاں کجھ دیر باقی ہے ۔
    دوسری کتاب حمد و نعت اور منقبت پہ ہے ۔ معراج عقیدت
    تیسری کتاب حمد ، منقبت اور مرثیہ اس کا نام ہے دشت میں بکھرا ہے لہو
    ویسے تو نعت منقبت پہلے سے لکھ رہا تھا مرثیہ کی ابتدا ۔
    جب میں 1993ء میں کربلا پہنچا تو کی میرا پہلا مجموعہ 2010ء کے سیلابی ریلے میں بہت سی قیمتی کتابوں کے ساتھ ضائع ہو چکا مجھے بہت دکھ ہوا ۔

    سوال : آپ چار دہائیاں سے اشعار کہے رہے ہیں۔ یہ ادبی زندگی کیسی لگی۔؟
    جواب : میں چار دہائیاں سے شعر کہہ رہا ہوں ۔ یہ زندگی اچھی لگی
    سوال : آپ کے نزدیک کون سی صنفِ سخن نازک ہے۔؟
    جواب : حمد و نعت کے بعد غزل وہ صنفِ سخن ہے جو نازک ہے ۔
    سوال : آپ نے ادب میں کون سا منفرد کام کیا ۔؟
    جواب : میرے نزدیک منفرد کام جو کیا ہو مجھے نظر نہیں آتا ۔ سوائے اس کے شوگر ملز لیہ کے شمالی گیٹ پر 14سال مسلسل آل پاکستان مشاعرے کرائے ۔ نادر سرائیکی سنگت کے بعد لجپال سنگت لیہ میں بانی کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں ۔ میری تین کتابیں شائع ہوئیں ہیں ۔ یہ تمام کام میری ادنی ادبی خدمات ہیں کوئی منفرد کام نہ نہیں۔
    سوال : مشاعرہ کی تاریخ دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں۔؟
    جواب : جب سے ملک میں دشت گردی نے جڑ پکڑی تب سے لوگوں نے عوامی اجتماع کرانا یا اس میں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا شروع کیا ۔ پھر بعد میں جدید ٹیکنالوجی نے نوجوان نسل کو مصروف کیا لیکن لوگ اب بھی مشاعروں کے مشتاق ہیں ۔ مخیر حضرات ادبی تنظمیں مشاعروں کا انعقاد کرائیں تو عوام میں شوق مشاعرہ ابھی باقی ہے۔
    سوال : شاہ صاحب درویش منش اور سادگی پسند ہیں۔ کیا یہ آپ کو وراثت میں ملی یا شعوری کوشش ہے۔؟
    جواب : درویشی تو بہت دور کی بات ہے البتہ سادگی وراثت میں ملی ہے ۔

    qanbar and zaki


    سوال : آپ کا ذوقِ مطالعہ۔؟
    جواب : ہاں میرا ذوقِ مطالعہ بہت زیادہ ہے جس میں سیرت ، تاریخ اور ادب کی کتابوں کا مطالعہ میرا پسندیدہ شوق ہے ۔
    سوال : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی۔؟
    جواب : فی الحال تو کسی ادبی تنظیم سے وابستہ نہیں ہوں ۔
    سوال : آپ کے اعزازات ۔؟
    جواب :ہاں میرے ادبی خدمات کے اعتراف میں ۔
    1 ایوارڈ، منجانب فدایان ادب ملتان، 11 اکتوبر 2019ء
    2 ایوارڈ ، منجانب فیوچئر کئیر اکیڈمی ، لیہ، یکم دسمبر 2019ء
    3 ایوارڈ برائے بہترین تصنیف ۔ منجانب انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان راولپنڈی ۔ 26جولائی 2021ء
    4 گولڈ میڈل ،سند ، کیش اور دیگر تحائف۔ منجانب تنظیم کارخیر گوجرانولہ 21 نومبر 2021ء
    5 حسن کارکردگی ایوارڈ، منجانب ماہنامہ اوج ڈائجسٹ، ملتان 16 جنوری 2022ء
    سوال : آخر میں آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے ۔؟
    جواب : جی ہاں تمام پڑھنے والوں سے عرض کروں گا کہ آپ ادب کا ساتھ دیں ۔ جس طرح علم انسان کا محافظ ہے ۔ اس طرح ادب علم کا محافظ و معاون ہے علم ادب کی زندگی پرا من زندگی ہے پرامن زندگی میں انسان ملک و قوم کے لئے بہتر سوچ سکتا ہے

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • عاصم بخاری کی نظم ونثر ( ایک جائزہ)

    عاصم بخاری کی نظم ونثر ( ایک جائزہ)

    میں اپنی تحریر کا آغاز ان ہی کے ایک خوب صورت شعر سے کرنا چاہوں گا۔

    اصلاح  کی  خاطر  ہی قلم ،اٹھتا ہے  اپنا

    مقصود  نہ تحقیر ،نہ تذلیل کسی کی

    اگر ان کے ادبی سفر پر غور کیا جاۓ تو ان کی نظم ونثر کا محور ومرکز،اصلاح  دکھائی دیتا ہے۔ان کی قلم کاری میں جہاں شعر براۓ شعر کا نظریہ  دکھائی دیتا ہے تو کہیں شعر براۓ اصلاح ۔ہر مکتبہء فکر کی اچھی بات ان کے ہاں پائی جاتی ہے مگر رنگ ان کااپنا جدا اور دل چسپ ہے۔نظم ونثردونوں میں  خوب شاعرانہ و ادیبانہ حربے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مغرب کی اندھی تقلید فیشن اور مغربی تہذیب کی اندھا دھند پیروی پر صرف کڑھتے ہی نہیں بلکہ بہت ہی موثر انداز میں قلمی جہاد کرتے ہوۓ علم ِ بغاوت بھی بلند کرتے ہیں۔ایک مسلمان ہونے کے ناتے تعلیم ِ نسواں کے تو بڑی شدت سے خواہاں ہیں۔

    مگرمخلوط تعلیم کی ان کے نزدیک بالکل گنجایش نہیں۔

    اس ضمن میں ان کا ایک  شعر دیکھیۓ۔

    رہو  باز ” کو ایجوکیشن ” سے عاصم

    نہیں دیتا” اِسلام” اس کی اجازت

    ان کی طبیعت میں رنگینی بھی پائی جاتی ہے۔جذبات واحساسات سے لبریز دھڑکتا دل رکھتے ہیں۔بطور شاعر وادیب  تہذیب اور نظم و ضبط کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ان کاشعری ونثری اسلوب سادہ بھی ہے اور طنزیہ ومزاحیہ بھی۔مغربی ثقافتی یلغار سے ہمہ وقت ہوشیار وخبر دار کرتے رہتے ہیں۔ان کی شاعری میں عصری حسیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔انھیں عصری مسائل کاخوب ادراک ہے۔ان کی شاعری کہیں کہیں اکبر الہ آبادی کا تسلسل دکھائی دیتی ہے۔ان کے شعار انہتائی سادگی کے حامل اور سہل ِ ممتنع کی بہترین مثال ونمونہ ہونے کے باعث دل میں اتر جانے والے ہیں۔ان کی شاعری کو نثر کے قریب تر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    چند اشعار قارئین کے ذوق مطالعہ اور اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر پیش ِ خدمت ہیں۔

    جیسے محسوس مجھ کو  ہوتا ہے

    ویسے شعروں میں ڈھال دیتا ہوں

    لفظی   تصویر   دور   اپنے   کی

    پیش لفظوں کے روپ میں کر دی

    بوجھ  دل  کا  اتارتا  ہوں  میں

    لوگ کہتے ہیں شاعری جس کو

    عاصم بخاری کی نثر بھی جملہ نثری خصوصیات کی حامل ہے ۔

    asim and zaki
    مقبول ذکی مقبول اور پروفیسر عاصم بخاری

    عاصم بخاری کثیرالجہات ادبی شخصیت ہیں جو بیک وقت خوب صورت شاعر ، بہترین نثر نگار ، محقق ، مرتب اور نقاد ہیں۔ شعر وادب کو اگر ان کا اوڑھنا بچھونا ہی کہ دیا جاۓ تو بے جا نہ ہوگا۔عاصم بخاری بیدار مغز باشعور اور خبردار قلم کار ہیں۔وقت کے  تقاضوں اور نزاکتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ عاصم بخاری کو نظم ونثر دونوں میں ممتاز و منفرد کرنے والی ان کی ایک اختصار پسندی ہے جو شاعری میں ان کے "فردیات ِ عاصم بخاری ” اور ” ریزہ ریزہ "کا روپ دھار لیتی ہیں۔ نثر میں مختصر افسانہ اور مضمون اور مضمون کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔خود ہی کہتے ہیں۔

    عاصم اِس اِختصار ، پسندی  کے دور  میں

    ہو مختصر نویسی  ہی ، تیرا شعار بھی

    پروفیسر ڈاکٹر عبدالماجد المشرقی(پی  ایچ  ڈی۔ لندن ) چیئرمین کار ِ خیر پاکستان۔عاصم بخاری کی نثر پر تبصرہ کرتے ہوۓ کہتے ہیں۔

        "مختصر بات کو طول دینا، عام سی بات ہے۔مگر طویل بات کو بہت مختصر پیراۓ میں بیان کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آج کے مشینی دور میں یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ چند لفظوں میں بڑی بات سمجھائی جاۓ۔یہ بات عاصم بخاری کے مختصر افسانوں ” اپنا خون ” ریٹائرمنٹ” ڈاکٹریٹ ” اور ” انٹرویو” وغیرہ میں  آپ کو بدرجہ اتم ملے گی۔”

         عاصم بخاری میں وسعت ِ مطالعہ کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کے ہاں عمیق مطالعہ و مشاہدہ ء فطرت بھی  ملتا ہے۔جو ان کی سوچ میں وسعت اور فکر میں گہرائی پیدا کرتا ہے۔ ان کے مزاج کی سادگی کا پرتو ہمیں ان کی نثر میں بھی جھلکتا ہے۔کیوں کہ فن اور فن کار آپس میں لازم وملزوم ہوتے ہیں۔ تحریر سے محرر کی تصویر جھلکتی ہے۔سادہ اور بے تکلف نثر لکھتے ہیں۔مگر اس سادگی میں بھی کیا کمال پایا جاتا ہے۔ان کی نثر اصلیت کی حامل ہے۔جس میں بیک وقت شگفتگی بھی ہے اور بے ساختہ پن بھی۔

           پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف عاصم بخاری کی نثر کے بارے کچھ ان الفاظ میں اپنی راۓ دیتے ہیں۔

        "عاصم بخاری وہ نثر نگار ہے جسے قدرت نے احساس کے ساتھ ساتھ بروقت اظہار کی صلاحیت بھی عطا کی ہے۔مختصر افسانے اور دیگر اصناف ِ نثر میں انھوں نے لفظی کفایت شعاری کی خوب راہ نکالی ہے۔اس کی بہترین مثال "آو پھر جنگل کو جائیں” ہے۔“

        آج کے وقت کی ضرورت بھی یہی ہے۔جب کتب بینی اور مطالعہ کی عادت ماند پڑتی جارہی ہے۔ایسی تیکنیک استعمال کی جاۓ جس سے قاری کتاب  اور بطور خاص نثر کے ساتھ مربوط رہے۔وہ حکمت عملی اختصار پسندی کے روپ میں ہمیں عاصم بخاری کے ہاں ہر صنف ِ ادب میں کہیں نہ کہیں مل ہی جاتی ہے۔ اور خصوصا”  نثر نگاری میں اختصار کادامن تھامے رکھنا ان کی اپنے فن پر قدرت کی دلیل اور مثال و کمال ہے۔

    عاصم بخاری کی نثر سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ ان کی نثر صرف "کل” کی نثر نہیں بلکہ ان کی نثر میں ہمیں کل کے ساتھ ساتھ "آج ” یعنی عصری شعور اور عصری مسائل بھی ملتے ہیں۔جو بات کہ ادیبوں کی اکثریت میں کم پائی جاتی ہے۔زیادہ تر لکھاری ماضی میں ہی گم ملتے ہیں۔لیکن عاصم بخاری کی نثر میں ماضی ، حال مستقبل آپس میں ایک کڑی کی صورت جڑے ملتے ہیں۔جو کہ ان ہی کا اختصاص ہے۔

      عاصم بخاری کی نثر سبق آموز ہے۔مگر انھوں نے اپنی فنکارانہ چابکدستی سے اس میں چاشنی اور دلچسپی کا عنصر برقرار رکھا۔کہیں کہیں جسب ِ ضرورت مزاح کا تڑکہ بھی لگا دیا۔جس سے تحریر تحریر میں قاری کے لیے دل کشی کا سامان بڑھ جاتا ہے۔ورنہ سبق آموزی میں واعظانہ پن آ ہی جاتا ہے جو کہ انھوں نے شعوری اور لاشعوری کوشش سے نہیں آنے دیا۔

    عاصم بخاری کی نثری کتاب ” فسانہ ء محفل ” پر تبصرہ کرتے ہوۓ صابر انصاری لکھتے ہیں۔

       "عاصم بخاری کی زیادہ تر تحریریں انسانی سوچ اور فکر کو مذہبی اور اخلاقی حوالے سے مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی فلاح وبہبود کے لیے عملی کردار ادا کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔جو بھی لکھاری معاشرے کی بہتری کے لیے قلم اٹھاتا ہے۔امر ہو جاتا ہے۔عاصم بخاری کی نثر ان جملہ اوصاف سے متصف ہے۔”

    المختصر "چراغ ِ جہد البقا سے لے کر "فسانہ ء محفل”تک ہر تحریر پڑھنے والےکے لیے دل چسپی اور معلومات کا سامان رکھتی ہے۔ایس کتب کامطالعہ ایک بار ضرور کرنا چاہیۓ۔

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • ریزہ ریزہ

    پروفیسر عاصم بخاری میانوالی کے فردیات پر مشتمل شعری مجموعہ 2021میں ارسلان پبلی کیشنز ملتان نے دیدہ ء زیب ٹائیٹل کے ساتھ شائع کیا ہے۔یہ مجموعہ 128 صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں پروفیسر منورعلی ملک۔پروفیسر رئیس عرشی پروفیسر شہاب صفدر کی آرا اور مضامین شامل ہیں جب کہ بیک ٹائیٹل پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین لیہ کا لکھا ہواہے۔یہ مجموعہ وقت کے تقاضوں اور شائقین ِ شعر وادب کے مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوۓ منظرِ عام پہ لایا گیا ہے۔تاکہ قارئین کی دل چسپی کو برقرار بھی رکھا جاۓ اور کتاب بینی کا ذوق بھی از سرِ نو بڑھے۔
    ریزہ ریزہ سے تعارفی تین شعر
    ۔۔۔۔۔۔
    واضح ہو مختصر ہو کرو بات کام کی
    عاصم بخاری دور ہے یہ اختصار کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوشش کے باوجود بھی عورت کے جسم پر
    ملبوس کو لباس کے معنی نہ مل سکے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عاصم اس اختصار پسندی کے دور میں
    ہو مختصر نویسی ہی ،تیرا شعار بھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مبصر:

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • ڈاکٹر مختار ظفر سے گفتگو

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، ملتان

    ڈاکٹر مختار ظفر صاحب، ملتان

    انٹرویو کنندہ:مقبول ذکی مقبول، بھکر

    سوال: آپ کا مختصر تعارف۔۔۔۔۔؟

    جواب : پورا نام مختار احمد ظفر ہے۔ پیدائش مشرقی پنجاب کی تحصیل نکودر ضلع جالندھرکے معروف قصبے چک مغلانی کی ذیلی بستی میں ہوئی۔ قائداعظمؒ کے معالجِ خاص ڈاکٹر کرنل الٰہی بخش اسی قصبے کے رہائشی تھے۔ انہی کی کوٹھی کے سامنے میرے والد کی زمین تھی اور میل ملاپ بھی۔ تقسیم ہند کے بعد والدین پہلے شیخوپورہ اور پھر بہاول پور کی تحصیل حاصل پور کے ایک معروف گاؤں چک 88/F میں آباد ہوئے۔ یہیں کے مڈل سکول سے تعلیم حاصل کی۔ میں ذہین اور محنتی طالب علم تھا۔ ہر کلاس میں Top کرتا رہا۔ یہیں Extensive Study بھی بہت کی۔ روزنامہ نوائے وقت، زمیندار، قندیل، چٹان، نقاد کراچی، شمع دہلی، لیل و نہار، مزاحیہ رسالہ ’’چاند‘‘ اور نصرت جیسے رسائل کا مطالعہ کیا۔ نسیم حجازی، عبدالحلیم شرر اور اے آر خاتون کے ناول اور افسانے پڑھے۔ ’’معارف‘‘ اعظم گڈھ کا تواتر سے مطالعہ کیا۔میں نے آٹھویں کلاس میں ڈاکٹرغلام جیلانی برق کی ’’دو قرآن اور دو اسلام‘‘ بھی پڑھ لی تھیں۔ اس کتاب نے میرے فکرونظر کو بہت متاثر کیا۔ میٹرک کے لئے گورنمنٹ حاصل پور میں داخلہ لیا۔ یہاں کے تعلیمی امور کو سیاسی مداخلت نے خراب کررکھا تھا۔ دسویں کلاس کے اواخر میں، ضلع بہاول نگر کے معروف سرکاری ہائی سکول ڈاہرانوالہ میں شفٹ ہوگیا۔ وہاں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ پھر بھی میں نے دسویں کے لاہور بورڈ کے امتحان میں سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ حاصل کردہ نمبروں کا پرانا ریکارڈ بھی توڑا اور ضلع میں بھی پوزیشن لی۔
    سوال:مزید اعلیٰ تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
    جواب:مالی حالات کے موانعات نے کالج میں داخل نہ ہونے دیا۔ گورنمنٹ H/S ڈاہرانوالہ کے ہیڈ ماسٹر چودھری غلام قادر نے مجھے ساتھ لے جاکر بہت تاخیر سے، 22اکتوبرکو SE کالج بہاول پور میں داخل کروادیا۔ ٹیوشن سے اخراجات پورے کرتا۔ FSc (نان میڈیکل) میں کوئی نمایاں کارکردگی نہ دکھاسکا۔ FScکے بعد پہلے بلدیاتی H/S گگو میں بطورسائنس ٹیچر تعیناتی ہوئی وہاں سے بنگلہ جملیرا کی طرف جانے والی سڑک پر تھانہ احمد یار کے قریب میرا ٹرانسفر ہوا۔ پرائیویٹ امیدوارکی حیثیت سے بہت اچھے نمبروں میں B.A کیا۔ ایم اے صحافت کرنے کے لئے کراچی گیا مگر وہاں داخلے 15اگست تک مکمل ہوچکے تھے۔ میں اکتوبرکے مہینے کے آخرمیں پہنچا تھا۔ Excise & texation کے محکمے میں سب انسپکٹر کی جاب تو مل گئی مگر یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر واپس 127/EB میں سکول سروس کو جاری رکھا۔ ایم اے (اردو) پرائیویٹ امیدوارکی حیثیت سے کیا لیکن تب سرکاری سروس پر ban لگا ہوا تھا۔ میں نے 127/EB کے H/S کوچھوڑ کر ننگل انبیاء اسلامیہ H/S ساہیوال میں جائن کرلیا۔
    سوال : مزید اعلیٰ تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی؟
    جواب : مزید اعلیٰ تعلیم کے دو مرحلے تھے، پہلا B.Ed کا، دوسرا Ph.D کا۔ B.Ed میں نے گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن سے کیا اور پورے پنجاب میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ اس کالج کی بھی پہلی پوزیشن تھی۔ حسن اتفاق سے ban ختم ہوا اور بطور ایڈہاک لیکچرار تعیناتی بھی اسی کالج میں ہوئی۔یہاں سے گورنمنٹ کالج سول لائنز میں بھی ٹرانسفر ہوا۔ بطور اسسٹنٹ پروفیسر ترقی ہوئی تو گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن ملتان میں تھا۔ یہیں سے پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن ہوئی۔ میرا موضوع تھا ’’ملتان کی شاعری روایت بحوالہ علامہ طالوت، راجہ عبداللہ نیاز، اسد ملتانی، کشفی ملتانی، کیفی جام پوری اور شفقت کاظمی‘‘۔
    Ph.D کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈائریکٹ سلیکشن ہوئی تو گورنمنٹ کالج آف سائنس میں تعیناتی ہوئی۔ یہیں سے کنٹرولرامتحانات ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ ملتان تقرر ہوا۔ تین ماہ کے بعد چیئرمین کا چارج بھی ملا۔ تب سندھ اور آزاد کشمیر کے صوبوں کی طرح باقی صوبوں (پنجاب، KPK اور بلوچستان) میں ثانوی سطح (نویں اور دسویں جماعت) کے الگ الگ امتحان کے لئے Bifircation میری صدارت میں ہوئی کیونکہ اس کے لئے بارہ بورڈز کے چیئرمینوں کی جو کمیٹی تشکیل ہوئی تھی، ملتان بورڈ اس کا کنوینر تھا۔ ایک غلط فہمی کی بنا پر یہ کیس آٹھ سال سے لٹکا ہوا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بیکن ہاؤس سکول سسٹم کے فرنچائزی سسٹم کے تحت ملتان میں نئے کھلنے والے دو ایجوکیٹرز کالجز (بوائز اور گرلز) کا پرنسپل منتخب ہوا۔ میرے زمانے میں ہمارے انٹر کے سٹوڈنٹ نے پورے پاکستان میں اول پوزیشن حاصل کی۔ تین سال کے بعد استعفیٰ دیا تو سنٹرل فار گرلز نے بطور پرنسپل خیر مقدم کیا۔ وہاں سے دی نوبلز (Nobles) کالج فار گرلز مخدوم رشید کے ملتان کیمپس نے خدمات حاصل کیں جہاں 2014ء تا 2017ء بطورHOD اورپروفیسر فرائض انجام دیئے۔ آج کل بھی Times Institute کے پیر خورشید کیمپس میں ایم فل اور Ph.D کلاسز (اردو) کے لئے HOD تعینات ہوں لیکن وہاں کلاسز شروع نہیں ہوئیں۔
    روزنامہ ’’خبریں‘‘ ملتان کے ادبی ایڈیشن کے انچارج کی حیثیت سے 2018ء تک تیرہ/ چودہ سال خدمات انجام دیں اور خطے کی تحقیقی و تنقیدی اور ادبی فعالیتوں (Potentials) کو اجاگر کیا۔ملتان بورڈ میںبورڈ آف گورنرز کی حیثیت سے چھ سال میں بہت سی اصطلاحات کروائیں۔
    سوال: آپ ادبی میدان میں کس طرح وارد ہوئے؟
    جواب: یہ حسنِ اتفاق ہے کہ میں ادبی میدان میں آیا اور خدمات انجام دیں، اس لئے کہ ہمارے خان دان میں ایسے کوئی رجحانات نہ تھے تاہم کچھ عوامل ضرور موثر ہوئے۔ مثلاً مجھے Extensive Study کا بڑا شوق تھا۔ جب کوئی پیسے ملتے، میں کوئی نہ کوئی رسالہ جاری کروالیتا… پھر لائبریری میں موجود کتابوں کا مطالعہ۔ اس سے تصنیفات کے ساتھ تخلیقات سے بھی لگن پید ہوئی۔ آٹھویں جماعت میں تھا کہ میرا ایک مضمون ’’کتاب میری بہترین دوست‘‘ نوائے وقت میں شائع ہوا اس سے حوصلہ افزائی ہوئی۔ آٹھویں جماعت میں ہمارے ایک ادب دوست استاد، اسلم صاحب نے مجھے ’’جہاں پھول کھلتے ہیں‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھنے کوکہا۔ وہ اس قدر انھیں پسند آیا، پھر اسی موضوع پر افسانہ لکھنے کی ترغیب دی۔ وہ کہانی بھی انھیں پسند آئی اور انھیں میرے اندر ایک اچھے افسانہ نگار کے آثار نظرآئے مگر ہمارے مڈل سکول کے اعلیٰ عربی استاد علامہ محمد عبداللہ نظامی نے سختی سے منع کردیا۔ انھیں خدشہ تھا کہ میں اپنی اصل تعلیم سے ہٹ جاؤں گا اور میری صلاحیتیں محور سے ہٹنے کے بعد،میرے کیریئر میں کام نہ آسکیں گی۔ اس کے باوجود شعروادب سے لگاؤ رہا۔
    سوال: آپ کی نثری خدمات کیا ہیں؟
    جواب: میں نے کم عرصے میں لکھا ہے۔ بہت سے مضامین اور آرٹیکلز مختلف رسائل و جرائد کی طباعتوں میں شامل ہوئے۔ کچھ کتابوں کی صورت میں منظرعام پر آئے۔ چنانچہ اب تک میری چودہ تصانیف ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرچکی ہیں۔
    سوال : ڈاکٹر صاحب آپ کی کتابوں کے نام کیا ہیں ؟
    جواب : ٭ علامہ طالوت … خطہ ملتان کی علمی و ادبی اور تحقیقی روایت کا معتبر حوالہ
    شعبہ ٔ اردو : بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ٗملتان 2002ء
    ٭ اسدؔ ملتانی… فکرِ اقبال کا نمائندہ شاعر ٗبیکن بکس گلگشت کالونی ملتان 2007ء
    ٭ محمد عبداللہ نیازؔ…خطۂ ملتان کی تحقیقی اور قومی شعری روایت کا منفرد حوالہ
    شعبۂ اردو: بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ٗملتان ٗ 2009ء
    ٭ ملتان کی اردو شعری روایت (مقالہ پی ایچ ڈی)بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان ٗ جنوری 2014ء
    ٭ شاعرانِ خوش نوا (تحقیق و تنقید) بیکن بکس لاہور 2015ء
    ٭ آفاقی و سرمدی سرائیکی شاعر: خواجہ غلام فرید ٗ جھوک پبلشرز ٗدولت گیٹ ٗملتان 2015ء
    ٭ نگارش کدہ… تبصرے ٗتجزیئے (کتابوں اور مجلّوں کے) ٗبیکن بکس ٗلاہور / ملتان ٗجنوری 2016ء
    ٭ پاکستانیات ٗبیکن بکس لاہور /ملتان 2017ء
    ٭ ملتان ٗادب اور تصوف ٗالکتاب گرافکس وحید پلازہ ٗحسن پروانہ روڈ ٗملتان 2018ء
    ٭ ابوالکلام آزاد… متاعِ گم گشتہ، فکشن ہاؤس لاہور 2019ء
    ٭ شعروادب کی محفلیں …ملتان کی، فکشن ہاؤس لاہور 2020ء
    ٭ سفرنامے :سوئے حرم لے چل اور کیوں نہ ہم بھی سیر کریں ساؤتھ کوریا کی، فکشن ہاؤس لاہور 2020ء
    آئینہ خانہ۔ نقاد و نظر، بکس اینڈ ریڈرز ملتان،2021ء
    مقدمے اور ابتدایئے (نامور اہل قلم کی چند کتابوں کے)
    بکس اینڈ ریڈرز ملتان، 2021ء
    پندرھویں تصنیف ’’قلمی چہرے اور شخصی مضامین‘‘ اس وقت فکشن ہاؤس لاہور میں زیرِطباعت ہے،اس انٹرویو کی اشاعت سے پہلے وہ بھی منظرعام پر آجائے گی۔
    سوال: آپ شعروسخن کی طرف کیوں نہیں آئے؟
    جواب:شعروسخن کی طرف میلان تھا اوراس کے محرکات بھی تھے۔ ہمارے گاؤں چک نمبر 88/F (تحصیل حاصل پور) میں، علاقے کے ایک بڑے زمیندار حاجی سلیمان صاحب نے اپنے مرشد اور پیر سید محمد حنیف صاحب کو ایک مربع قطعہ اراضی الاٹ کروایا تھا۔ سید صاحب گرمیوںسے پہلے یا بعد کے معتدل موسم میں، یہاں قیام کرتے۔ تقسیم ہند سے پہلے ضلع جالندھر کی تحصیل نکودر کی کسی جامع مسجد میں خطیب رہے تھے۔ میرے والدِ گرامی نے بھی ان کی اقتداء میں جمعہ کی کچھ نمازیں پڑھیں تھیں اس لئے شناسائی تھی۔ میںجب بھی ان کے پاس جاتا، تو وہ اپنے شعر سناتے۔ 1915ء میں جب علامہ اقبال کی اسرارِ خودی کے خلاف صوفیائے کرام کے حلقے سے شدید ردعمل ہوا تو سید صاحب خواجہ حسن نظامی کے گروپ میںتھے۔ اس حوالے سے ان کی جو شاعری ’’پیسہ‘‘ اخبارمیں شائع ہوتی رہیں،وہ سنایاکرتے تھے۔وہ اکثر اپنی غزلیں بھی سنایا کرتے تھے جس سے مجھے بھی شعر کہنے کی ترغیب ہوئی۔ ہمارے مڈل سکول کے اساتذہ بھی کسی بات کی توضیح کے لئے یا کسی طالب علم پر طنز کے لئے شعر کا ذریعہ اختیار کرتے اس کے بھی اثرات ہوئے۔ میں نے ساتویں جماعت میں ’’صبح کی سیر‘‘ پر کچھ شعر کہے، مثلاً:

    کیا بتاؤں صبح کا کیا حسیں سماں ہے آج
    باغِ ارض کی ہر چیز مانندِ جناں ہے آج

    تو بھی اے مختار چل اور سیر کر بوستان کی
    دیکھا نہیں ہر چیز سے نورِ خدا عیاں ہے آج

    ہمارے احاطے میں ’’رحمان‘‘ نام کا اٹھوال (اونٹ والا) رہتا تھا، وہ اپنے اونٹ سے باربرداری کا کام لیتا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ میری زندگی پر ایک قصہ لکھو تو میں بہت خوش ہوں گا۔ صرف چند شعر کہے تھے، کچھ شعر اس قصے کے اب بھی یاد ہیں، مثلاً:

    صفت سنانواں قادر تے قدیر دی
    روزی جیہدے اتھ شاہ تے فقیر دی

    مزیدار اک میں قصہ سناونداں
    ساڈے پنڈ وچ اک رحمان نام دا

    جائیداد ساری اوہدی بوتی اک سی
    پاڑھا ٹوہندا رہندا اوہدے اُتے نت سی

    دراصل اس زمانے میں شعری ماحول بھی تھا۔ گرمیوںمیں دوپہر کے وقت فارغ وقت میں درختوں کے نیچے بیٹھ کر قصے کہانیوں پر مشتمل، خوش الحان افراد، شاعری سنایا کرتے تھے۔ چنانچہ کہیں یوسف زلیخا پڑھی جارہی ہے ، کہیں ہیر رانجھا اور کہیں سیف الملوک یا سوہنی مہینوال۔ خوش مذاق شعر بھی کہتے۔ اس لئے شاعری کچھ عجوبہ نہیں تھی۔ اس ضمن میں میری طبع رواں ہوئی، تو مجھے اساتذہ نے روک دیا کہ پہلے زندگی بناؤ، پھر شعر کہو۔ اس پر تعطل جو ہوا ، تحرک سے بے گانہ رہا۔ بعد میں زندگی کے جھمیلوں نے فرصت ہی نہ دی اور نہ ضرورت محسوس کی اور نہ کوئی ایسی صحبت میسر آئی اور نہ ہی کوئی ایسی صورتِ حال بنی کہ :

    کچھ تمھارے گیسوؤں کی برہمی نے کردیئے
    کچھ اندھیرے میرے گھر میں روشنی سے ہوگئے

    سوال: آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی؟

    جواب: طبعاً گھریلو آدمی ہوں، روزمرہ زندگی کے مسائل و معاملات سے سروکار رکھتا ہوں۔ دوستوں کے ساتھ کمپنی کرنا، گپ شپ میرا مزاج نہیں۔ اس لئے ادبی تنظیموں میں شرکت نہ ہوسکی۔ بعض اوقات اردواکیڈمی کے اجلاس میں شرکت کرتا رہا۔ فاران اکیڈمی بنی تو اس میں مضمون پڑھنے کے لئے شرکت کرتا مگر باقاعدگی نہ رہی۔ ملتان آرٹس فورم کی ادبی بیٹھک میں کافی شمولیت کی ہے۔ ملتان آرٹس فورم کے پروگراموں میں شرکت کی۔ اس وقت پاکستان رائٹرز فورم کا چیئرمین ہوں مگر اس کا اجلاس بھی دیر ہوئی، نہیں ہوا۔
    سوال: اعزازات؟
    o نشانِ ملتان (چوتھی ریشم دلان کانفرنس 2020ء)
    o اعزازِ ملتان ، 2019ء
    o جنوبی پنجاب لٹریری فیسٹیول 2019ء
    o ادبی ایوارڈ ، فروغِ ادب و فروغِ زبان ملتان 2019ء
    o احمد خان طارق ایوارڈ از نقیبی ہاؤس کارروانِ ادب فیصل آباد2019ء
    o جنوبی پنجاب لٹریری فیسٹیول2019ء
    o ادبی ایوارڈ، علامہ اقبال کانفرنس 2016ء ،
    o سپیشل ایوارڈ از لالہ صحرائی فاؤنڈیشن 23فروری2014ء
    o شیلڈ ا ز روزنامہ خبریں ملتان 5جون 2007ء
    o سپیشل ایوار ڈاز دی ایجوکیٹرز پنجاب 2006ء
    سوال: حضرت علامہ اقبالؒ پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں، آپ کچھ کہنا پسند کریں گے؟
    جواب:حضرتِ اقبالؒ پر بے شمارکتابیں لکھنے کا جواز تھا اور ہے اور وہ یہ کہ یہ جہانِ معنی ایسا تازہ کار ہے کہ اس کی حکمت، بصیرت، فن اور اسرار کے نو بہ نو گلزار ان اہلِ فکرونظر کو دعوتِ نظارگی اور فکری تحریک دیتے ہیں جن کا علمی و ادبی پس منظر وسیع اور تنقیدی و تحقیقی وژن دوررس ہے اور وہ اپنی ژرف نگاہی اور بصیرت کی بدولت، اس بحرِ عمیق کی تہہ سے نئے لولوئے لالہ چن لیتے ہیں۔ خود میں نے بھی ان کے فکرونظر اور شاعری پر کئی مضمون لکھے ہیں جو میری تصانیف میں شامل ہیں۔ یہ سلسلہ تھمے گا بھی نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جاری ہے۔ یوں خیالات در خیالات نئے جہانِ معنی کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں اور بنتے رہیں گے۔ خود حضرتِ اقبال نے اپنی شاعری کے بارے میں اسی لئے کہا ہے:

    شعر را مقصود اگر آدمی گر یست
    شاعری ہم وارثِ پیعمبر یست

    (شعر کا مقصد اگر آدمیت سازی یا انسانیت سازی ہے، تو شاعری پیعمبری کی وارث ہے)
    سوال:جدید ادب کے بارے میں آپ کی رائے
    جواب: جدید ادب کے بارے میں میری رائے مثبت اور موید ہے، ادب کسی عہد میں بند رہتا ہے اور نہ رہا ہے۔ یہ تو زندگی کا ترجمان بھی ہے اور اس کا رہبر بھی۔ جب زندگی بدلتی رہتی ہے تو اس کی ترجمانی کرنے والا ادب کیسے جامد یا Static رہ سکتا ہے۔
    اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کلاسیکل ادب کو ہی سرمایۂ تخلیق سمجھتے ہیں مگر یہ کلاسیکل ادب تبھی تازہ کار رہے گا جب تک اس میں جدت کے نئے گلزار کھلتے رہیںگے۔ اردو ادب کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔ دیکھئے زبان کا ابتدائیہ کیا تھا،اس کے موضوعات کیا تھے اورکیا ہیں… گجری ادب، کبھی بہمنی دور، کبھی بیجابور اور گولکنڈہ کی خدمات، پھر دلی کی مرکزیت، دہلوی دبستان، لکھنوی دبستان، فورٹ ولیم کالج کے اثرات، مرثیہ نگاری، سرسید تحریک،غالب کی عظمتیں، اقبال کی شاعری کے نئے رنگ، فیض احمد فیض کے اثرات، ترقی پسند تحریک کے برگ و بار، حلقۂ اربابِ ذوق کی سرگرمیاں، جدیدیت کی تحریک، مابعد الجدیدیت اور پسِ جدیدیت، گویا ہر’’لحظہ نیا طور نئی برقِ تجلی‘‘ والا معاملہ ہے اور رہے گا۔
    سوال:ڈاکٹرصاحب!آپ اپنی زندگی کی غالباً پون صدی کے قریب بہاریں دیکھ چکے ہوں گے بتائیے کہ آپ نے زندگی کو کیسے پایا؟
    جواب:تلخیوں نازسائیوں اور نامرادیوں کے باوجود زندگی کو جمیل وحسین پایا …دلکش بھی اور دل فریب بھی…دکھ اور کرب توزندگی کا لازمہ ہے ہرکوئی اس سے گزرتا ہے بلکہ بقول شاعر
    جس کو دیکھو درد مجسم‘جس سے ملو وہ گریباں چاک
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس دکھ اور کرب سے گزرے کیسے‘روتے روتے‘آہ وزاری کرتے یا حوصلے اور جی داری کے ساتھ‘ہنستے مسکراتے …میں نے جب ہوش سنبھالا توہمارے مالی حالات خراب تھے۔محرومیاں تھیں‘مایوسیوں کے ڈیرے تھے مگرمیرے والدین حوصلہ مند تھے اس لئے ہم بھی حوصلہ مندی سے رہے۔انھوں نے ہماری خواہشوں کو جس ممکن حد تک پورا کرنے کی کوشش کی وہ ہماری خوشیوں کا سامان بن گئیں…میں بہت اچھا طالب علم تھا پھر خصلیں اور عادتیں بھی والدین کی تربیت یافتہ تھیں اس لئے اپنے گاؤں کے لوگوں سے شفقت اور محبت ملی۔یہی شفقت اور شاباش میرے حوصلے کو مہمیز کرتی اور خوشیاں بھی سلام کرتیں۔اس صورت حال میں زندگی دلکش بھی رہی‘لطف افزا اورمسرت آمیز بھی۔

    zaki and dr


    سوال:جیسا کہ آپ بتارہے کہ مالی حالات خستہ تھے اس صورتحال میں ضروریات زندگی توکسی نہ کسی حد تک پوری ہوسکتی ہیں مگرشوق توترستے رہتے ہیں …آپ کاکیا حال رہا ؟
    جواب:دیکھے!خوشی اور لطف کے احساس سے کوئی شخص محروم نہیں خواہ وہ غریب اور مفلوک الحال ہویا امیروصاحب استطاعت۔ بلکہ میرے مشاہدے اور تجربے کے مطابق خوشی اور لطف فطری ہے۔کسی بات یا حرکت پہ ہرکوئی خوش ہوسکتا ہے مسکرااٹھتا ہے قہقے لگالیتا ہے۔اسی طرح لذت ولطف کا معاملہ ہے اوریہ بھی ذوقی ہے۔ہوسکتا ہے کہ امیر آدمی کو پرتکلف کھانے میں وہ لطف نہ ملے جو غریب آدمی کو محض چپڑی روٹی اور اچار سے مل جاتا ہے۔ سوخوشی اور لذت ولطف ہرایک کے مزاج کا خاصہ اور لازمہ ہے اس لیے یہ ہرکسی کا حصہ ہے یہ کٹیا میں بھی رنگ بکھیرتی ہے اورایوانوں میں اپنے گجرے دکھاتی ہے۔
    سوال:شعروادب سے آپ کا تعلق کیسا رہا اورآپ نے اسے کیسا پایا؟
    جواب:شعروادب سے تعلق بچپن سے رہا ۔میری والدہ کو یوسف زلیخا جیسے قصے سننے کا شوق تھا میں الحان سے انھیں مولوی غلام رسول کی یوسف زلیخا سناتا۔مجھے ہمہ قسم کا ترنم بھاتا۔اسے سن کر دل میں خوشیوں کے نغمے پھوٹتے۔ایک دفعہ گاؤں میں کوئی سارنگی نواز گھر گھر خیرات لینے جاتا اورسارنگی کے ساز کے ساتھ گاتا کہ
    لوری دیندی مائی حلیمہ پاک محمدؐ سرور نوں
    تومجھے اتنا لطف آیا کہ پورے گاؤں میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا اور ہرگھر کے سامنے اُسے سنتا رہا۔ اس کی لذت تادیر دل ودماغ پر چھائی رہی۔اس دور میں کسی نہ کسی گاؤں میں میلے ٹھیلے ہوتے۔وہاں قوالیاں سنتے ۔گاؤں کے کسی چو ک میں کوئی ہیرانجھا پڑھتا‘کوئی یوسف زلیخا‘کوئی سوہنی مہینوال‘سیف المکوک ‘ان کے ترنم کی لہریں فضاؤں کو بھی نغمہ بار کردیتیں۔ سکولوں میں اساتذہ بھی کسی نہ کسی بات پر شعر کا استعمال کرتے طنز یا تعریف کا کام لینے کے لئے۔ہماری تیسری کلاس کے استاد سید دوالفقار علی شاہ نظم یاشعر ترنم سے پڑھتے‘ہمیں بہت لطف آتا۔ پیرسید محمدحنیف کی صحبت سے شعروادب سے دلچسپی کو فروغ ملا رسائل وجرائد کے مطالعے سے بھی شعری وادبی ذوق کو جلاملی۔
    ہمارے دور میں نہ میٹرک میں اُردو لازمی تھی اورنہ انٹر میں‘ اس لئے تعلیمی دورانیے میں اُردو بطور مضمون نہیں پڑھی۔BAمیں بھی اُردو مضمون کا انتخاب نہیں کیا۔اس میں صرف ایم اے کیا۔وہ بھی پرائیویٹ طور پر کیونکہ میری خواہش انگریزی میں ماسٹر کرنے کی تھی اور وہ بھی یونیورسٹی میں داخل ہوکر‘مگراس کیلئے وسائل میسر نہ تھے سو اُردو کے مضمون کو اختیار کرنا پڑا۔اس کی ایک وجہ اس مضمون کی ہمارے تعلیمی نظام میں حیثیت تھی کیونکہ یہ انٹر تک لازمی تھا۔
    سوال:شعروادب کے علاوہ فنون لطیفہ کے دیگرفنون میں کون سے فن پسند ہیں؟
    جواب:موسیقی بہت پسند ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ یہی سب سے زیادہ پسند ہے ۔خوش آواز اور نغمہ وساز دل کو بہت بھاتے ہیں لڑکپن میں ان سے بہت لطف اٹھایا ۔ریڈیوسیلون اور آل انڈیا سے نغمے سننا بہت فیورٹ رہا۔ نغموں میں موسیقاروں کے ابتدائی سازوں کے رنگ اور انداز سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ گانے کی دھن ‘کس موسیقار نے بنائی ہے۔ شنکرجے کشن۔نوشاد‘ہمنیت کمار‘کھیم چند پرکاش‘مدن موہن‘سی رام چندر ‘روشن جب کہ پاکستان کے خورشید انور‘جی اے چشتی‘ رشید عطرے اور فیروز نظامی پسند تھے مگر نوشاد سب سے زیادہ فیورٹ رہے نئے موسیقاروںنے زیادہ ترپرانی دھنوں سے زیادہ استفادہ کیا تخلیقی محنت کم رہی…حسن قرأت بھی دل کو بہت بھاتی ہے قاری عبدالباسط‘عبدالصمد کی قرأت میں ہوش وحواس گم ہوجاتے ہیں۔
    سوال:فنون لطیفہ کے ضمن میں ایک عمومی رجحان مخالفت کا ہے کہ اس سے اخلاقیات منفی طور پر متاثرہوتی ہیں لہذا موسیقی ہویا مصوری یا سنگ تراشی یا رقص وغیرہ ‘بچوں کو ان سے دور رکھاجاتا ہے آپ کی کیا رائے ہے؟
    جواب:زندگی میں کوئی فن‘خوبی یا جوہرایسا نہیں جوزندگی کیلئے کار آمد نہ ہو‘فنون لطیفہ کا ہررنگ زندگی کو حسن بخشتا اور اسے تابندگی دیتا ہے۔
    کوئی بھی معاشرہ اچھی قدروں(Values)پرصحیح چلتا ہے اچھی قدروں میں سچ بولنا‘جھوٹ سے نفرت‘اخلاص وہمدردی‘اخوت ومحبت‘امدادباہمی‘انصاف پسندی ‘رواداری اورفراخ دلی وغیرہ شامل ہیں یہ جب تک صحت مند رہتی ہیں معاشرے میں صحت مندی رہتی ہے اور وہ مثالی رہتا ہے مگرجب ظاہروباطن کا تضاد ہوجاتا ہے تویہ قدریں کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔جھوٹ‘تنگ نظری اورنمودونمائش کے سلسلے عام ہوجاتے ہیں۔ انھیں صحت مند کرنے کیلئے فنون لطیفہ کا سب سے زیادہ رول ہے یہ غم والم کو بشاشت اور جی داری میں بدل دیتے ہیں۔ تعصب اور تنگ نظری کے رنگ پھیکے ہوجاتے ہیں اورظاہروباطن کے تضادات ختم ہوجاتے ہیں سوفنون لطیفہ کا وجود بھی لازمی ہے اوراس کی عمل داری بھی ضروری ۔
    سوال:آپ وطن عزیز میں شعروادب کا کیا مستقبل دیکھ رہے ہیں؟
    جواب:دیکھئے تخلیقی صلاحیتیں توخداداد ہیں اورشعروادب کی روایت بھی بہت پرانی ہے اور مضبوط بھی مگراب اظہار کے نئے وسائل کے آنے سے اسے نئی راہ اختیار کرنی پڑے گی۔کتاب دوستی موجود ہے مگر کتاب کی طلب کم ہورہی ہے۔اس لئے اظہار وتخلیق کے انداز بھی نئے اپنانے پڑیں گے اوریوں شعروادب کا سلسلہ’’ چلنا چلنا مدام چلنا‘‘ کی طرح رواں دواں رہے گا۔
    ڈاکٹرصاحب بہت شکریہ۔آپ نے ہماری خواہش کا احساس کیا اوراپنے قیمتی خیالات سے آگاہ کیا۔

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • عقیدتوں کا سفیر ۔مقبول زکی مقبول

    تحریر : خالق داد چھینہ، بھکر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروفیسر عاصم بخاری کے ایک خوب صورت شعر سے مقبول ذکی مقبول کے حوالے سے اپنی تحریر کا آغاز کرنا چاہوں گا
    ہر دل عزیز شہر میں مقبول آج کل
    تم بھی نذیر یاد کی ہو نظم کی طرح

    اپنے نام کی طرح ادب کے مقبول ترین شعبہ یعنی شاعری سے منسلک ایک درویش منش انسان مگر ہمہ جہت مصروف عمل اور ادب دوست انسان ہے۔ادبی محافلِ آور اساتذہ فن سے قربت نے مقبول زکی مقبول کو خود شناسی سے بچپن ہی سے روشناس کرادیا جس بنا پر وہ شعور بیداری جیسی صفات کا حامل ہوا اور شعر گوئی کا فن اور ادبی ذوقِ و سخن مقبول زکی مقبول کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا آور دن رات کی محنت اور لگن کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اہل بیت علیہم السلام کی عقیدت ومودت نے اسکی شخصیت اور کردار کو مزید مقبول کر دیا۔ادبی سفر میں،،”سجدہ”مقبول زکی مقبول کا پہلا پڑاؤ ہے جس کو ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی۔شاعری میں مقبول نے روایتی رومانوی،مزاحمتی،ملامتی اور طربیہ شاعری سے کوسوں دور اپنے دل کے نہاں خانوں میں عشق حقیقی کو بسایا۔اور آپنے تخیل کو درود و سلام نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور حمد الہی کی صورت میں اظہار کا ذریعہ بنایا ۔مطالعہ کا شوق تو ہر ایک کو ہوتا ہے مگر حاصل مطالعہ کو استعمال کرنے کا فن ہر ایک کے بس کی بات نہیں یہ کام استاد کامل کی رہنمائی سے انجام پاتا ہے۔استاذالشعراء نذیر ڈھالہ خیلوی نے مقبول کی فنی صلاحیتوں کو جانچا اور کمال محنت اور شفقت سے قدم بقدم سرپرستی کی جس وجہ سے یہ ادبی سفر مزید آسان اور تیز ہو گیا ۔اس سفر کا دوسرا پڑاؤ،”منتہائے فکر” بلاشبہ پختہ شعر گوئی کا پتہ دیتا ہے جو حال ہی میں چھپ کر منصہء شہود پر آیا ہے۔اس اُردو مجموعہ سلام میں انتساب اپنے والد کے نام کرکے اپنے فن کا خراج ادا کیا ہے۔ حمد الہی اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاؤہ 114سلام میں سے 7غیر منقوط اور حفظ مراتب میں ردیف کو حروف تہجی کو پیش نظر رکھا۔
    ملک بھر سے درجنوں تنظیموں اور اداروں نے ان کے فن و ادب کی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں ایوارڈز سے نوازا ہے۔ منکیرہ کے اہل فن وادب کے حلقہ احباب نے ان کی محنت اور کاوشوں کو ہمیشہ سراہا اور علاقہ کیلئے باعث فخر سمجھا ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

    قاصر بندہ دیکھ نہ پایا
    دل کے اندر مالک اپنا

    سانس چلنے لگی حق کے پیغام کی
    ایسے دل میں عمل کو اتارا گیا

    بہار ساری یہ باغ تجھ سے
    ہیں دیں کے روشن چراغ تجھ سے

    ہے رکھ لیا بھرم پیغمبروں (ع)کا اس جہان میں
    جو دین حق بچا گیا غیور وہ حسین (ع) ہے

    جس کا جھولا جھلا تا آکےجبرائیل امین
    سر بریدہ دھوپ میں دیکھا گیا عاشور کو

    آخر میں مقبول ذکی مقبول کے حوالے سے سید حبدار قائم، اٹک اظہارِ محبت میں دو شعر کہتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں

    نویدِ خوشی ہو تجھے زندگی بھر
    یہ ہو کامیابی کا سہرا مبارک

    نبی (ص) کی مودت سے کھلتا رہے تو
    ترا اور نکھرے یہ چہرا مبارک

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ آمین۔

    khaliqdad

     خالق داد چھینہ

    بھکر

  • مصاحبہ

    مصاحبہ

    مصاحبہ
    ۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر خالد اسراں سے
    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر
    ڈاکٹر خالد اسراں (ڈاکٹرسرجن خالد جاوید) بھکر کے رہائشی ہیں۔قد درمیانہ،گندمی رنگت ،خوش شکل،خوش گفتار اور مہمان نواز ہیں۔ صاحب ثروت بھی ہیں۔


    غریبوں کے ہمدرد ہیں۔ عرصہ دراز سے دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔چند سال سے ٹی ایچ کیو ہسپتال منکیرہ میں ایم ایس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
    ایک اچھا انسان ہونے کے ناتے لوگ ان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ ان کا ظاہر و باطن ایک ہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اچھے شاعر و ادیب ہیں۔ ایک اچھے شاعر و ادیب میں یہ خوبیوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔

    khalid asran


    چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
    ۔۔۔۔۔
    بے ہنگم رقص ہے اب بھوک کا ہر سو
    اٹھو لوگو! بغاوت کی ضرورت ہے
    ۔۔۔۔۔
    سب لوگ گزر جاتے ہیں سنتا نہیں کوئی
    اک بھیڑ ہے جس میں کوئی لاچار گری ہے
    ۔۔۔۔۔
    جو جنگ چھڑ گئی ہے وہ کون جیتا ہے
    یہ فیصلہ تو میری ماں کی دعا کرے گی
    ۔۔۔۔۔
    نیکیوں کا یہاں کب صلہ ہوتا ہے
    خواب جنت کا بس اک ملا ہوتا ہے
    ۔۔۔۔۔
    شاہ معتبر تھا یہاں بے لباس ہو کر بھی
    غریب کپڑوں میں ملبوس بے حیا ٹھہرے
    ۔۔۔۔۔

    khalid and zaki

    گزشتہ دنوں ان سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔جو گفتگو ہوئی وہ نذر قارئین ہے۔
    س : آپ کا نام۔۔۔۔۔؟
    ج : خالد جاوید
    س : تخلص۔۔۔۔۔؟
    ج : خالد
    س : آپ نے ادبی زندگی کا آغاز کب کیا۔۔۔۔۔؟
    ج : 1999ء
    س : استاد شاعری۔۔۔۔۔؟
    ج : ناصر ملک، استاد نزیر ڈھالہ خیلوی
    س : مقام و تاریخ پیدائش۔۔۔۔۔؟
    ج : 05/02/1977 ڈیرہ اسماعیل خان
    س : آپ کا طبعی میلان نظم کی طرف زیادہ ہے یانثر کی طرف۔۔۔۔۔؟
    ج : نثر کی طرف افسانہ کی طرف
    س: ذوق مطالعہ۔۔۔۔۔؟
    ج : تاریخ، فلسفہ، ادب، میں مبارک علی (تاریخ)
    فلسفہ (کارل مارکس،(یسن ووہس) ادب، منٹو، کرشن چندر
    س : پسندیدہ اصناف شعر۔۔۔۔۔؟
    ج : غزل
    س : آپ کی تخلیقات۔۔۔۔۔؟
    ج : آبلہ پا خواب، درزندان، سربریدہ سائے،(افسانے)
    شہر افلاس (شاعری)
    س : آپ کا شاعری میدان۔۔۔۔۔؟
    ج : انقلاب شاعری
    س : اعزازات۔۔۔۔۔؟
    ج : چند شیلڈز اسناد
    س : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی۔۔۔۔۔؟
    ج : بزم فکر و دانش، چوک اعظم
    بزم لطیف
    س : آپ ایک آزاد نظم سنانا پسند کریں گے۔۔۔۔۔؟
    ج : جی ضرور

    دام
    ۔۔۔۔۔
    زخم دیکھ کر
    دکھ ماپ کر مسیحا نے کہا
    زخم ہو یا دکھ
    مسیحائی خریدی جاتی ہے
    دکھ بول پڑا
    اے مسیحا!
    میرے ساتھ نہ کھیلو
    کہ یہ کھیل
    باعثِ رسوائی ہے
    مسیحا ہنس دیا
    اس کھنکتی ہوئی ہنسی نے
    ایک لمحے میں
    سمجھا دیا کہ
    زمانہ بدل چکا ہے
    مسیحا بدل چکے ہیں
    مسیحائی بکتی ہے
    اور خریدی جاتی ہے
    ۔۔۔۔۔

    س : ادب کے حوالے سے آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟
    ج : موجودہ ادب میں پرانے رجحانات کے بجائے نئے رجحانات کی ضرورت ہے۔ معاشرے کے مسائل غریب ناانصافی پر لکھا جائے

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر

  • تھل کا شاعر مقبول ذکی

    تحریر ۔قمر عباس گِل
    ناقدین ادب, تھل دھرتی کے ضلع بھکر کو ’’تھل کا لکھنو‘‘ کہتے ہیں جس سے مجھے بھی اتفاق ہے۔ اس علا قے کے معرکہء ادب میں مقبول ذکی جیسے نوجوان شاعرکی موجودگی اس کی بھرپور ذرخیزی کا منہ بولتاثبوت ہے۔یہ نو وارد اور ابھرتا شاعر ضلع بھکر کی بلکہ پنجاب کی بڑی تحصیل منکیرہ کے باسی ہیں۔تھل دھرتی کے یہ سپوت کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے اندر بھرپور علمی اور ادبی ذوق رکھتے ہیں۔رسمی تعلیم کے میدان میں مقبول ذکی کے حصے میں خاطرخواہ فتوحات تو نہ آئیںمگریہ حقیقت ہے کہ ان کے اندر جنون کی حد تک ادبی و علمی رجحان پایا جاتا ہے۔ادب پڑھنا,ادب لکھنا اور ادب سننا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ان کے دو مجموعے سجدہ (سرائیکی ) اور منتہائے فکر (اردو) ان کے اندر پائے جانے والے شعری ذوق اورخالص عشق اہل بیت ؑ کا واضح عکاس ہیں۔

    maqbool zaki

    میدان سخن میں ان دو مجموعہ جات کے ذریعے مقبول ذکی نہ صرف اپنے علاقے میں بلکہ ملک کے اکثر ادبی وعلمی حلقوں میں مقبول ہوچکے ہیں۔بندہ حقیر سمیت کئی غیر معروف اور گمنام لکھاری علمی و ادبی حلقوںمیں اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں۔ان کا مجموعہ منتہائے فکر جسے پڑھنے کا شرف نصیب ہوا, ۲۰۲۰ ء میں منصہ شہود پر آیا۔یہ مجموعہ جس کی ابتدا حمد باری تعالیٰ اور حضور نبی مکرم ؐ کی مدحت سے ہوئی,حضرت امام حسین ؑ اور دیگر اہل بیت ؑ اور شہدا کربلا پر سلام پر مشتمل ہے, پڑھ کر ایمان تازہ ہوا۔اس مجموعے کا کلام نہ صرف عشق آل رسول ؐ کا عمدہ نمونہ ہے بلکہ اس میں شاعر نے جگہ جگہ امام عالی مقام ؑ اور ان کے پیارے اہل بیت ؑ سے محبت و عقیدت کے رنگا رنگ پھول کھلا دئیے ہیں۔کربلائی شاعری میں بھکر واقعی تھل کا لکھنو کہا جا سکتا ہے مگر مقبول ذکی کا یہ مجموعہ بھی اس دبستان شاعری میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔انتہائی سادہ اور سلیس طرز کلام ,مختصر اور طویل بحروں کا حسین امتزاج پڑھنے والوں کے ذوق سلیم میں مزید نکھار پیدا کرتا ہے۔منتہائے فکر میں مقبول ذکی کا منفر داور اچھوتا اندازفکرقاری کے اندر وہ چاہت اور لگن پیدا کرتا جو اسے ولائے اہل بیت ؑمیں مزید غرق کرتا چلاجاتا ہے۔مقبول ذکی کا کلام نہ صرف واقعہ کربلا اور اس میں بپا ہونے والے مظالم کاکھلا پرچار ہے بلکہ اس کے مطالعہ سے قاری کے اندر عشق رسول ؐؐ اور عشق اہل بیت ؑ کا نور مزید چمک اور تمازت حاصل کرتا ہے۔گوکہ مقبول ذکی کو اس جہان ِسخنوری میں پختگی کے حصول کے لئے مزید کئی منازل طے کرنا ہوں گی مگر میں ان کے ذوق سلیم ,محنت اور لگن کو دیکھ کر ان کے روشن مستقبل کے لئے پر امیداور دعا گو ہوں۔آمین

    qamar

    قمر عباس گِل

  • اوج ڈائجسٹ ملتان کے زیر اہتمام تقریب ایوارڈز

    اوج ڈائجسٹ ملتان کے زیر اہتمام تقریب ایوارڈز

    تقریب تقسیم ایورڈ
    جہانیاں منڈی (خانیوال)16 جنوری 2022ء کو ایوارڈ تقسیم تقریب۔
    ماہنامہ اوج ڈائیجسٹ ملتان کے زیر اہتمام تقریب تقسیم ایوارڈز کاانعقاد۔تقریب میں ملک بھر کے نامور شاعر اور شاعرات کو حسن کارکردگی ایوارڈز سے نوازا گیا۔تقریب کآ باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اوج ڈائیجسٹ ملتان کے چیف ایڈیٹر محمد عآصم بوٹآ نے ایوارڈز کی نامزدگیاں اور غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شاعری شعور بیداری کا نام ہے اور ادیب اور شاعر معاشرے کا نمائندہ اور حساس طبقہ ہیں جو معاشرے کے مسائل کرداروں اور حالات کی ترجمانی کرتے ہیں ان کے فن اور محنت کا صلہ دینا ممکن نہیں مگر اس کی دادو تحسین ہمارا فرض ہے۔تقرب کی نظامت کے فرائض انتظار حسین ساقی فیصل آباد نے سر انجام دیے

    تقریب میں ملک بھرکے 50کے قریب نآمور شعراء اور شآعرآت کو آن کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا جن میں مقبول ذکی مقبول بھکر، محمداقبال بالم منکیرہ،پروفیسر عاصم بخاری میانوالی،عبداللطیف اعوان ڈیرہ اسماعیل خان۔فضل عباس ظفر ڈیرہ غازی خان۔ایم بی راشد،قمر نقوی لیہ ساجن انصاری شیخوپورہ مبارک علی شمسی بہاولپور کے نمایاں نام شامل ہیں۔تقریب کے اختتام پر سب مہمانوں اور شعرائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محمد عآصم بوٹآ نے نے کہا کہ وہ اس کام کو مستقل جاری رکھیں گے۔

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر