باکمال شاعر و ادیب

تحریر : مقبول ذکی مقبول، بھکر
پروفیسر عاصم بخاری صاحب کے گاؤں کا نام ۔۔۔۔۔ پکی شاہ مردان ہے۔ پکی شاہ مردان جناح بیراج کالا باغ کے دامن میں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے آباد ہے۔ جس کی تحصیل بھی میانوالی ہے اور ضلع بھی میانوالی ۔ یہ گاؤں میانوالی سے شمال کی جانب 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ میانوالی کے لوگوں کی روایت پسندی اور اقدار کی پاسداری کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں۔
ایک شعر ملاحظہ فرمائیں

یہاں عورت سے موٹر وے سا برتاؤ نہیں ہوتا
میانوالی کی مٹی میں ،وفا بھی ہے حیا بھی بے

پروفیسر عاصم بخاری صاحب، خوش خط، خوش گفتار، خوش مزاج۔ اخلاق المختصر خوش کے زیادہ تر سابقے ان کی شخصیت پر فائق آتے ہیں۔ ادبی تنظیم بزم ادراک و آگہی کا قیام عمل میں لایا تا حال جس کے صدر ہیں۔ اس بزم کے پلیٹ فارم سے انہوں نے دریاۓ سندھ کنارے، چاندنی راتوں میں فطری اور کوہستان ِ نمک کے قدرتی ماحول میں مشاعروں کا اہتمام کیا فروغِ ادب کے لئے ساز گار فضا پیدا کی ۔

pro asim


شعری انتخابات کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ نوآموز شعراء کی راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کی۔ اساتذہ کا کلام بہ طور نمونہ شعری انتخابوں میں شامل کر کے نوخیز ادیبوں کو اچھا ادبی نمونہ پیش کیا۔ غیر معروف شاعروں ادیبوں کو منظر عام پر لایا۔ اپنے شعری انتخابات کے ذریعے یادرفتگاں کا گوشہ قائم کیا۔ جس سے مرحوم ادیبوں کے نام اور کام کو زندہ رکھنے کی عملی اور کامیاب کوشش کی۔ ایف۔ ایم ریڈیو میانوالی کے مشاعروں میں شرکت کی۔ بچوں کے رسالے ماہنامہ” شعور “کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج کالا باغ میانوالی کالج میگزین”وجدان” کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ متعدد رسائل و جرائد کی مجلسِ ادارت ومشاورت میں شامل ہیں۔ ان کی شاعری ہو یا نثر اس میں وقت کے تقاضے کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ شاعری میں فردیات اور نثر میں بھی اختصار کا دامن نہیں چھوڑتے لفظی کفایت شعاری ان کا وصف ِ خاص ہے۔
ان کی شاعری ہو یا نثر موضوع انسان اور انسان کے مسائل ہیں۔ اپنے مخصوص اور بر جستہ لہجہ کی وجہ سے ادبی تقریبات و نظامت بہت ہی دل فریب انداز میں کر تے ہیں۔ ان کی گفتگو سے ادب اور اردو کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
پروفیسر عاصم بخاری صاحب، باغ وبہار شخصیت ہیں۔سندھ ساحل کے فطرتی اور قدرتی ماحول نےان کی سوچ میں وسعت اور نظر میں گہرائی پیدا کی۔ زمانہء طالب علمی یعنی اسکول زمانے سے ہی ادبی رجحان پایا جاتا تھا۔ ان کے اندر علم و ادب اور لفظ دوستی کا ذوق اور مطالعہ کا شوق پایا جاتا تھا۔ جیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید جلا ملی۔
انہیں فطرت اور قدرتی مناظر کو دیکھنے اور اس پر غور و خوض کرنے کا خوب موقع ملا۔ پروفیسر عاصم بخاری صاحب وہ نثر نگار ہے جسے قدرت نے احساس کے ساتھ ساتھ ہر وقت اظہار کی صلاحیت بھی عطا کی ہے۔ شاعری کی طرح نثر نگاری میں بھی اختصار کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔ ان کی نثر میں صرف” کل “ہی نہیں “آج” بھی ملتا ہے۔
تخلیقی و تحقیقی سفر
نمبر 1 پتے بکھر گئے (شعری مجموعہ کلام۔۔ 2006ء)
نمبر 2
ظلم عورت پہ (نظمیں۔۔2007ء)
نمبر 3
مدح ختم الرسل (ص) (نعتہ مجموعہ کلام۔۔۔2017ء)
نمبر 4
فردیات عاصم بخاری (فردیات۔۔۔2019ء)
نثر
نمبر 1
چراغ جہد البقا۔ 2015ء
نمبر 2
فسانہء محفل۔2020ء
تحقیق
نمبر 1
ستار سید شخصیت اور فن (غیر مطبوعہ۔ مقالہ ایم فل)2019ء
نمبر 2
شنوزہ ناول ابوالمعانی عصری (تحیقی و تنقیدی جائزہ۔2014ء)
نمبر 3
عطا محمد شاہ کی علمی خدمات (تحقیق۔ 2017ء)
نمبر 4
راحت امیر نیازی فن اور شخصیت (تحقیق۔ 2018ء)
مرتبہ شعری انتخاب
نمبر 1
سانجھے ویہڑے۔2002ء
نمبر 2
قرطاس و قلم کی دنیا۔2003ء
نمبر 3
سارے رنگ محبت کے۔2004ء
نمبر 4
اشک اشک زندگی۔2005ء
نمبر 5
شبیر (ع) کربلا وچ۔2005ء
نمبر 6
نکلے تری تلاش میں۔2009ء
نمبر 7
اردو کے اہل قلم شعرا۔2017ء
منتظر اشاعت
گردشِ ایام آپ بیتی (حصہ اول)
تخلیقی و تحقیقی سفر
نمبر 1
پتے بکھر گئے (شعری مجموعہ 2006ء
نمبر 2
ظلم عورت پہ (نظمیں 2007ء
نمبر 3
مدح ختم الرسل (ص) ( نعتیں۔ 2007ء)
نمبر 4
فردیات عاصم بخاری (فردیات 2019ء)
نمبر 5
ریزہ ریزہ (فردیات ۔2020ء)
“تم جو چاہو کرسکتے ہو”(2020ء)
آخر میں عاصم بخاری کے تروتازہ منفرد اور خوب صورت سوچ و فکر کے حامل چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر اک صنف میں ہم نے عاصم بخاری
کفایت شعاری سے لفظوں کو برتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظی تصویر دور اپنے کی
پیش لفظوں کے روپ میں کر دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر تیرے بھی مختصر عاصم
نسل ِ نو کے لباس کے جیسے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا مسلک بھی شعر گوئی میں
مِیر ، و ناصر ، و جون والا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رشتہ گاؤں سے اب بھی قائم ہے
گاؤ ں جاتے ہیں دفن ، ہونے کو
۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کے ساۓ میں لوگ سستائیں
ایسا پودا کوئی ، لگا جائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فوٹو سیشن ” کا دور ، ہے عاصم
اس میں باتیں عمل ،کی رہنے دے

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر

مقبول ذکی مقبول

Next Post

کارخیر تقریب ایوارڈ

جمعرات نومبر 25 , 2021
گوجرانوالہ میں 21 نومبر 2021 کو تیسری آل پاکستان مقابلہ کتب کی انعامی ایوارڈ تقسیم تقریب کا اہمتام بڑے شاندار اور پر وقار انداز میں المشرق سائس کالج گوجرانوالہ میں کیا گیا۔
Kar e Khair Gujranwala