واقف نہیں جو عشق و محبت کے نام سے
گذرے گا خاک عشق کے اعلیٰ مقام سے
غزل
روگ الفت کا جسے لگ جائے ہے
مری جستجو بھی عجیب ہے،مری بندگی بھی عجیب ہے
اب چھوڑ دو یہ جان کا جنجال دوستو
یہ خاک میرے دیس کی ہے کیمیا مجھے
ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے
میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح
بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے
کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے