واقف نہیں جو عشق و محبت کے نام سے

واقف نہیں جو عشق و محبت کے نام سے
گذرے گا خاک عشق کے اعلیٰ مقام سے

وعدہ کیا ہے آنے کا جس نے ہمارے گھر
میں اسکے انتظار میں بیٹھا ہوں شام سے

میں دوسروں کے عیب کبھی ڈھونڈتا نہیں
رکھتا ہوں کام اپنا فقط اپنے کام سے

انکی نگاہِ مست سے پیتا ہوں میں سدا
مجھ کو نہیں ہے کام صبو سے نہ جام سے

دل میں اگر خلوص نہ ہو تو جہان میں
چلتا نہیں کام سلام و پیام سے

کرتے ہیں لوگ میری جو توقیر اس لئے
نسبت لگی ہوئی ہے مری تیرے نام سے

دیر و حرم کی قید سے آزاد ہوں میں فیضؔ
مجھکو نظر وہ آتے ہیں ہر اک مقام سے

faiz bahraichi

فیض ؔ بہرائچی

بہرائچ، اتر پردیش

فیضؔ بہرائچی

Next Post

کیمبل پور سے اٹک تک - 14

پیر اگست 2 , 2021
اس زمانے میں سرگودھا کا معروف بدمعاش اور خوف کی علامت چراغ بالی کیمبل پور جیل میں بند تھا ۔ جیلر نے ملک صاحب کو بتایا کہ چراغ بالی ہمیں بہت تنگ کرتا ہے
jail