مری جستجو بھی عجیب ہے،مری بندگی بھی عجیب ہے

مری جستجو بھی عجیب ہے،مری بندگی بھی عجیب ہے

جو قریب تھا وہ بعید ہے، جو بعید تھا وہ قریب ہے

نہ امارت غم زندگی، نہ شکوہ فقر کی سادگی

تو امیر شہر ضرور ہے، ترا مفلسی ہی نصیب ہے

تری ملکیت میں ہیں سیم و زر پہ تو الفتوں سے ہے بے خبر

تو ہی سب سے ظالم و کم نظر، تو ہی دل کا سب سے غریب ہے

نہ ہو شوق جسکی نماز میں، نہ اثر ہو جس کے کلام میں

وہ امام کوئ امام ہے، وہ خطیب کوئ خطیب ہے

ہے عجیب دل کا معاملہ، کبھی مجھ سے خوش  تو کبھی خفا

مری جلوتوں کا رفیق ہی مری خلوتوں کا رقیب ہے

یہ جو نفرتوں کا حصار ہے ترے ارد گرد بنا ہوا

یہی مقتل غم زیست ہے، یہی الفتوں کی صلیب ہے

کبھی بن کے تیرا جو آ ئنہ، کرے تجھ کو تجھ سے ہی آ شنا

وہی ہمنوا ہے ترا یہاں، وہی درد دل کا طبیب ہے

ابھی نفرتوں کی نہ بات کر، کہیں جا کے اسکو تلاش کر

وہی ایک اکملؔ در بدر جو محبتوں کا نقیب ہے

اکمل نذیر

Next Post

حسنؑ آ گئے

بدھ اپریل 28 , 2021
یہ کوئل جہاں کو بتانے لگی حسنؑ آ گئے مسکرانے لگی
Hassan AS