کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے

کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے

بے فائدہ عمل ہے اُلجھنا سراب سے

شاید اسی لئے تو تمہیں کر دیا ہے رد

نا مطمئن تھے سارے تمھارے جواب سے

اس میں نہیں ہے دوش کسی اور کا کوئی

تم خود قصوروار ہو ہر حساب سے

یہ مانتے نہیں ہو تمہارا بھی ہے قصور

لیتے ہو انتقام وفا کی کتاب سے

َپل کی خبر نہیں ہے کسی کو حیات کی

فرصت ملے جو، پوچھ ، کسی پَل حباب سے

حرف آۓ جس سے محکماتِ دین پر کوئ

وہ باب ہی نکال دیا ہے نصاب سے

لاکھوں جتن کئے ہیں اسؔد پھر بھی دہر کو

مرعوب کر سکے نہ کبھی رُعب داب سے

کلام عمران اسدؔ

عمران اسؔد

Next Post

امید اور خوف

پیر دسمبر 14 , 2020
امید اور خوف
نوائے مونس