آپؐ بہت یاد آئے

ہجر کی رات ڈھلی آپؐ بہت یاد آئے

بات سے بات چلی آپؐ بہت یاد آئے

آپؐ فرماتے کہ مشکل میں پکارو ربّ کو

آج مشکل جو پڑی آپؐ بہت یاد آئے

آپؐ فرماتے کہ بیٹی تو ہے ربّ کی رحمت

گھر سے بیٹی جو گئی آپؐ بہت یاد آئے

لوگ پوشاک میں اک روز برہنہ ہوں گے

آ گئی ہے وہ گھڑی آپؐ بہت یاد آئے

نصف ایمان کہا صاف صفا رہنے کو

گرد زہنوں پہ جمی آپؐ بہت یاد آئے

آپؐ نے غیبت و بہتان سے روکا تھا ہمیں

بات سے آگ لگی آپؐ بہت یاد آئے

چار جانب سے مسائل نے ہمیں گھیر لیا

اے قریشی لقبی آپؐ بہت یاد آئے

اپنے ماں باپ سے لہجے میں مروت رکھنا

ایک ماں روتی رہی آپؐ بہت یاد آئے

ماں کے قدموں میں ہے جنت یہ کہا آقاؐ نے

ماں کی میّت جو اٹھی آپؐ بہت یاد آئے

آپؐ کی سنت عالی میں فلاح داریں

ہر گھڑی آس کو بھی آپؐ بہت یاد آئے

سعادت حسن آس آف اٹک

روبالہ تخلیق

Next Post

کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے

پیر دسمبر 14 , 2020
کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے
عمران اسد