Tag: تائب رضوی

  • دم توڑتی شاعری کا احیاء

    دم توڑتی شاعری کا احیاء


    آج میں ایک ایسی کتاب کے بارے میں اظہارِ خیال کر رہا ہوں جو کہ اٹک کے عظیم اور نامور شاعر اور ادیب حکیم تائب رضوی مرحوم کی پنجابی شاعری پر مبنی ہے۔ حکیم صاحب نے پنجابی کے ٹکسالی اور کیمبل پوری لہجے میں خُوبصُورت اور لاجواب شاعری کی ہے۔ حکیم تائب رضوی صاحب کیمبل پور کے ایک گاؤں شمس آباد کی ایک ڈھوک شاہ پور میں 24 جنوری 1931 میں پیدا ہوئے۔ اُن کا اصل نامِ نامی سید عنایت علی تھا جبکہ قلمی نام حکیم تائب رضوی تھا۔ آپ کے والد کا اسم گرامی سید علی تھا۔ اور آپ کا گھرانہ علم و فضل میں علاقہ بھر میں منفرد مقام رکھتا تھا۔ حکیم صاحب کی پیدائش تو اٹک کی ہے مگر تعلیم لاہور میں مکمل کی۔ پرائمری کے بعد درسِ نظامی مکمل کیا اور 1955 میں ادیب فاضل اور 1956 میں حکمت کا امتحان پاس کیا۔ اور اس کے بعد کیمبل پور(آج کے اٹک) میں اپنا مطب بنایا۔ جلد ہی یہ مطب اٹک کے اہلِ علم و ادب کا مرکز بن گیا۔ حکیم صاحب کو موسیقی اور شاعری سے خاص شغف تھا۔
    آپ کی پنجابی شاعری نے جلد ہی پورے پنجاب میں مقبولیت حاصل کر لی۔ مختلف اخبارات اور رسالوں میں چھپا۔ اُن کی بعض نظموں نے تو ملک گیر شہرت حاصل کی۔ حکیم تائب رضوی صاحب کی کچھ نظمیں اور غزلیں گا کر گائیکوں نے خُوب شہرت کمائی مگر افسوس کہ کسی نے اُن کے نام کے ساتھ نہیں گایا۔ مثلاً کیمبل پوری لہجے میں اُن کی نظم
    آپڑاں گِراں ہووے۔۔۔ تُوتاں نی چھاں ہووے
    وانڑے نی مَنجی ہووے۔ سِرے تلے بانہہ ہووے
    آپڑاں گراں ہووے
    عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوئی اور ریڈیو پاکستان پر نشر ہوئی۔ اسی طرح اُن کی یہ نظم بعض لوگوں نے معمولی تبدیلی کے بعد اپنے نام سے منسوب کی اور جب گائی گئی تو بہت مقبول ہوئی۔
    تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے
    سِر چُک کے ڈولا لسی دا۔۔۔۔۔
    نی اینج نئیں اَڑیے نَسّی دا ۔۔۔۔۔
    ذرا ہولی ہولی ٹُر کُڑیے۔۔۔۔

    دم توڑتی شاعری کا احیاء


    اُنہوں نے انسانی نفسیات اور جذبوں، پنجاب کی ثقافت اور رہن سہن کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اُن کی غزلوں، نظموں اور گیتوں میں ہجر کا درد، وصل کی خوشی، عشق بیتی اور ملن کی تڑپ پورے جذبات کے ساتھ ملتی ہے۔
    تانگھ سجن دی ہر دم رہندی
    دنیا میں نُوں کملی کہندی
    طعنے دیندیاں نے مُٹیاراں
    ماہی وے ہُنڑ موڑ مہاراں
    حکیم صاحب کا کلام ادھر اُدھر بکھرا پڑا تھا۔ اُن کے نواسے آغا سید جہانگیر علی بُخاری صاحب نے اس کلام کو یکجا کیا۔ اور طویل کوشش کے بعد اپنے نانا کی اس خُوبصُورت شاعری کو کتابی شکل میں اشاعت آشنا کر کے حکیم تائب رضوی صاحب کے مداحوں کے لیے بہت بڑا کام کیا۔ رضوی صاحب کی وفات کے تقریباً 45 برس بعد اس اعلیٰ درجے کی شاعری کو گُم ہونے سے بچا لیا۔ اس کتاب میں رضوی صاحب کی 87 نظمیں،غزلیں،گیت اور دیگر اصناف شاعری شامل ہیں۔۔ کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے ہے مگر خصوصی رعایت پر دستیاب ہے۔اس کتاب کے لیے ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد صاحب نے ,, گیتاں دا ونجارا،، کے عنوان سے تائب رضوی مرحوم کی زندگی، خاندان اور شاعری کے حوالے سے خُوبصُورت ابتدائیہ تحریر کیا ہے۔ رضوی صاحب کے نواسے آغا سید جہانگیر علی بُخاری، سید زادہ سخاوت بُخاری اور طاہر اسیر نے بھی اپنی آراء لکھی ہیں۔ جمالیات پبلیکیشنز اٹک نے اس اعلیٰ معیار کی شاعری کو نہایت جمالیاتی انداز سے اشاعت آشنا کیا۔ اور اسے ,, تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے،، کا عنوان دیا گیا۔ ادب سے محبت رکھنے والوں کی لائبریری میں یہ کتاب یقیناً قابلِ قدر اضافہ ہو گی۔ کتابوں میں محفوظ ادب، ادیب اور ادب کے متلاشیوں کے لیے دائمی زندگی کا مُوجِب قرار پاتا ہے۔ بقول حکیم تائب رضوی مرحوم،
    دید وچھوڑا، موت، حیاتی
    دو گھڑیاں دے میلے
    رُتّاں چُپ چپیتیاں لنگھن
    واج نہ مارن ویلے

    تیرا جیوے کیمبل پور کُڑیے
  •  کھدو،کھینوں ،کھیندو

     کھدو،کھینوں ،کھیندو

     کھدو،کھینوں ،کھیندو

    میں لیراں دا کھدو شوھدا , لیراں لیرو لیر

      کھیندو ایک homemade گیند ہوتی ہے   ھمارے گاؤں میں اس کو کھینوں کہتے ہیں   کھینوں کا لفظ وارث شاہ اور شریف کنجاہی نے بھی استعمال کیا   ہے   سندھی میں بھی کھدو / کھینو کہتے ہیں۔ 

     1964 میں ملھوالہ اٹک میں کھینوں سے کھیلنا یاد   ہے   سب سے پہلے سائیکل کی ٹیوب کاٹ کر اس سے پتلے اور لمبے ٹکڑے بنائے جاتے  پھر ان ربڑ کے ٹکڑوں کو لپیٹ کر گولا بنایا جاتا   اس گولے کے اوپر لیریں لپیٹی جاتی تھی اور اس طرح ایک درمیانے سائز کی گیند بنا لی جاتی   ، لو جی ! کھینو  تیار ھو گیا۔ 

     بابے وارث شاہ کے زمانے میں     ربڑ     کے ٹکڑوں کے بغیر       کھینوں ھوتا تھا      بعد میں مقامی سائنس دانوں نے دماغ لڑایا اور کھینوں کے سنٹر core میں پنچر شدہ ٹیوب کے ٹکڑوں کا اضافہ کر دیا ۔  اس سے کھینوں کے اچھلنے کی قوت بہت بڑھ گئی   اسی سے شاہ پور والوں نے محاورہ بنالیا                 ست ربڑی کھدو کی طرح اچھلنا ۔ 

      کھینوں کے کھل جانے سے بچوں کا کھیل رک جاتا تو وہ لیریں سمیٹ کر ماں کی طرف بھاگتے  وہ بیچاری سارے کام چھوڑ کر     کھینوں     مرمت کرتی۔    اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے       مجلس مادران      کا اجلاس ہوا   غور و خوض کے بعد طے پایا کہ لیروں کے باھر سوئی دھاگے سے     جالی    بن دی جائے۔

     کھدو،کھینوں ،کھیندو

         تین رنگوں کے دھاگوں سے جالی بنی جاتی   خط استوا پر اس کا رنگ لال ھوتا اور قطبین poles پر جالی سبز اور کالے رنگ کی ھوتی 

     لو جی اعلیٰ نسل کا بھٹو مارکہ کھینوں تیار ہو گیا ۔ اس کا core ربڑ کا mantle لیروں کا اور crust جالی کا ہے   زمین کے گولے کے بھی اتنے ھی حصے ھیں .مزید بر آں بچوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے مختلف پارٹیوں کے رنگوں سے کھینوں کی جالی بنائی جا سکتی   ہے

      ہمارے انکل  عبد الرحیم نے 1935 میں دسوھا لائلپور میں نئی جرابیں ادھیڑ کر کھینوں بنایا اور اس پر بزرگوں سے فی البدیہہ ڈانٹ کھائی   کچھ ساتویں کلاس کی پڑھائی کا پریشر تھا    کچھ اس ڈانٹ سے دل برداشتہ ھوگئے اور پیدل فرار ہو کر اٹک پہنچ گئے ۔ 

     حماد غزنوی صاحب جنگ 30 مارچ 2023 کے کالم میں فرماتے ہیں    

     معروف طبلہ نواز عبدالستار   تاری نے بتایا کہ ایک دفعہ شدید سردیوں میں وہ شکاگو میں غزل گائیک غلام علی کے ساتھ ایک محفلِ موسیقی سے واپس ہوٹل کے کمرے میں لوٹے، کچھ دیر میں ہیٹر نے رنگ جمایا تو غلام علی نے پہلے اپنا اوور کوٹ اتارا، پھر ایک ہائی نیک سوئیٹر، اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا، بہ قول تاری، غلام علی صاحب نے نو عدد لال، نیلی، پیلی اُونی اور سُوتی قمیصیں اور سوئیٹریں ایک ایک کر کے اتاریں  اس رنگین منظر پر تاری کہتے ہیں میرے منہ سے نکل گیا کہ’ ” خان صاحب، تہاڈا تے کِھدوُ ای کُھل گیا اے  "

    حماد غزنوی: جنگ 30 مارچ 2023

     کھِدوُ پنجابی زبان میں اس گیند کو کہا جاتا ہے جو بہت سی کترنوں کو آپس میں جوڑ کر بنائی جاتی ہے، لڑکے بالے اس سے کئی کھیلیں کھیلتے ہیں، مگر کھیل کے دوران اگر ایک کلیدی گرہ ڈھیلی پڑ جائے تو پورا کِھدوُ کُھل جاتا ہے، گیند غائب ہو جاتی ہے بس رنگ بہ رنگی دھجیوں کا ڈھیر رہ جاتا ہے۔ 

     محاورہ   ہے             کھدو پھرولیے تے لِیراں ای لبھدیاں نیں 

     کھںنڈوری

     آج کل کی نوجوان نسل کو شاید اس بات کا عِلم نہ ہو کہ ہم بچپن میں پرانے کپڑوں کو جراب میں ڈال کر سلائی کر کے بال بنا کر پٹھو گرم اور کرکٹ کھیلتے تھے۔   اس بال کو تلہ گنگ کے ڈاکٹر زاہد ملک کے مطابق اعوان کاری علاقے ( تلہ گنگ سون سکیسر )میں کھِنڈوری کہتے تھے۔محلے کے سب لڑکے اکٹھے  ہو کر ایک عدد پرانے کپڑوں کو بال کی شکل میں گول کر کے اس کو پرانی جراب میں ڈال کر سلائی کرتے جاتے۔ ایک لکڑی کا بیٹ خود کا بنایا ہوا ہوتا اور جس کا بیٹ اور بال ہوتی اُس کی تو ہر طرح کی بدمعاشی کو قبول کر لیا جاتا   مثلاً میں پہلے بیٹنگ کروں گا اور پہلا اوور کرواوں گا مشکل سائیڈ پر جہاں زیادہ بھاگنا پڑے وہاں فیلڈنگ نہیں کروں گا صرف وکٹ کیپری کروں گا  ۔

      بازار کا بیٹ بہت مشکل سے ایک ایک روپیہ چندا اکٹھا کر کے سال میں کہیں اُس کی قیمت پوری ہوتی اور وہ صرف ٹورنامنٹ کے لیے مختص کیا جاتا اور ٹینس بال کو ہماری زبان میں ست ربڑی بال کہا جاتا تھا اور کبھی کبار اگر سَت ربڑی بال سے کھیلنے کا موقع مل جائے تو رات کو خوشی سےنیند نہیں آتی تھی۔ 

     کپڑے سے بنی سخت کھنڈوری (گیند) سے پٹھو گرم / سنتولیا کھیلتے تھے۔   پٹھو گرم کی گیند کی تیاری خاص طور کسی نہ کسی کی دادی ‛ نانی‛ امی یا باجی کے ذمہ ہوتی جو ہماری بعد از ہزار منت سماجت کے شرمندۂ تکمیل ہوتی   ۔اس کی تیاری کے دوران ہم متواتر مشورے کے لیے موجود رہتے تاکہ گیند خوب وزنی‛ مضبوط اور سڈول بنے   اس کا حجم عموماً کرکٹ یا ہاکی کی گیند جتنا ہی رکھا جاتا تھا تاکہ حریف کا نشانہ لیتے وقت اس پر ہاتھ کی گرفت آسانی سے جم سکے۔ 

    ۔ کھدو سے کھیلے جانے والے کھیل کھدو ٹلا اور کھدو کھونڈی پرانے تاریخی کھیل ہیں    ان کی ماڈرن شکل کرکٹ اور ہاکی   ہے   

      ست ربڑی گیند  (ٹینس بال)       ایک مضبوط گیند کو ہم ’ست ربڑی‘ گیند کہتے تھے۔   وہ تو اب کہیں جا کے معلوم ہوا کہ ربڑ کی سات تہیں ہونے کی وجہ سے ست ربڑی نام پڑا تھا   تب ہم یہی سمجھتے ت  ہے کہ شاید اچھی گیند شہر سے سات روپے میں ملتی ہوگی   وہ گیند بہت ڈھیٹ ہوا کرتی تھی   مار کھا کھا کے گنجی ہوجاتی   بالکل ویسے جیسے گرمی یا جوئیں زیادہ پڑنے کی وجہ سے ہم گاؤں کے بچے ٹنڈ کروا لیتے تھے     وہ گیند پھٹتی نہیں تھی۔ 

      کھینوں سےجڑی ہوئی لڑکیوں کی ایک کھیل کا ذکر تائب رضوی صاحب نے       کھینوں تھال     کے نام سے کیا   ہے   وکیپیڈیا میں       کھینوں گیٹے    کا بھی ذکر   ہے۔

  • ہم غمزدوں کے غم کا مداوا تمہی تو ہو

    ہم غمزدوں کے غم کا مداوا تمہی تو ہو

    ہم غمزدوں کے غم کا مداوا تمہی تو ہو
    فرقت نصیب دل کا سہارا تمہی تو ہو

    نقش و نگار عالم بالا تمہی تو ہو
    تزئین بزم عرش معلی تمہی تو ہو

    کیا کیا لقب حضور کو حق نے عطا کیے
    یٰس تمہی مزمِل و طٰہ تمہی تو ہو

    جن و بشر ملائک و غلماں تو اک طرف
    پتھر بھی جس کا پڑھتے ہیں کلمہ تمہی تو ہو

    محشر میں انبیاء کو بھی ہے جس کی جستجو
    اے صاحب شفاعت کبری تمہی تو ہو

    دامن تمہارا چھوڑ کے جائے تو کس طرف
    تائب کا اور کون ہے آقا تمہی تو ہو

    Taib Rizvi

    حکیم تائبؔ رضوی مرحوم

  • گوہر نایاب

    ( مرحوم سید رفیق بخاری کی برسی کے موقع پر نذرانہء عقیدت )

    ( الآخ المعظم و الاستاذی المکرم

    مرحوم و مغفور الحاج پروفیسر

    سید محمد رفیق احمد شاہ بخاری رحمة اللہ تعالی ( ریٹائرڈ پرنسپل )

    کی برسی کے موقع پر ، ان کے فرزند ارجمند معروف دانشور ، شاعر ، لکھاری اور آن لائن میگزین اٹک کے بانی  جناب سیّد جہانگیر علی شاہ المعروف آغا بخاری کی فرمائیش پر ، یہ چند سطور بطور ہدیہ ، اس عظیم ہستی کے نام کرتا ہوں ، کہ جن کی تربیت نے مجھے اٹھنا ، بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، لکھنا پڑھنا اور بولنا سکھایا )

    ہدیہ تحریر :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    الحاج سیّد رفیق بخاری مرحوم کا جنم ، سال 1938 میں ہمارے آبائی گاؤں موضع اڑتک پور کامرہ کلاں ، تحصیل و ضلع اٹک ، متحدہ ہندوستان میں اس وقت ہوا جب برٹش راج اپنے اختتامی سفر کی تیاری کررہا تھا لیکن اس وقت تک قرار داد پاکستان منظور نہیں ہوئی تھی ۔  ہندو ، مسلم اور سکھ باہم شیر و شکر مختلف شہری اور دیہی آبادیوں میں پرامن پڑوسیوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے ۔ ہمارے گاؤں میں بھی زمانہ قدیم سے چند ہندو خاندان آباد تھے جن کا ذکر میرے بھائی مجھ سے اکثر کیا کرتے تھے ۔ ہماری جامع مسجد ( سادات ) کے قریب ہی ہندو مندر تھا جسے ہمارے لوگ "دھرم سال ” کہ کر پکارتے تھے ۔ پڑی ( قریبی پہاڑی ) کے کالے پتھروں سے بنی یہ سادہ سی عمارت ہمارے بچپن تک قائم رہی ۔ اور اس کے صدر دروازے پر لگا تالا مجھے ابھی تک یاد ہے ۔ اب اس جگہ ہمارے گاؤں کی ایک شخصیت کا ڈیرہ وجود میں آچکا ہے

    ہندووں اور ہندو مندر کا ذکر اس لئے کیا ، تاکہ قارئین  1938 کے زمانے ( قبل از تقسیم ہند ) کا معاشرتی منظر دیکھ سکیں ۔ میرے نزدیک کسی بھی شخصیت کے کردار اور سوچ و فکر کو سمجھنے کے لئے اس ماحول کو سمجھنا اولین شرط ہے کہ جس میں اس کا جنم ہوا  اور جہاں سے اس نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا ۔

    گاؤں میں صرف لڑکوں کے لئے ایک اسکول تھا جہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی تھی اس لئے اسے مڈل اسکول کامرہ کہا جاتا تھا ۔ میرے بھائی جان نے اسی اسکول سے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاذ کیا اور جب وہ میٹرک کرچکے تو مزید تعلیم کے لئے ہمیں کیمبل پور شہر منتقل ہونا پڑا ۔

    یہ 1954 کی بات ہے جب ہم اس اجڑے ہوئے دیار میں وارد ہوئے ۔ اجڑے کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی فقط ساڑھے پانچ یا چھ برس گزرے تھے لھذا ہندوں کے ہجرت کرجانے کی وجہ سے شہر کی آبادی بہت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ، منتشر اور غیر منظم شکل میں تھی ۔

    پرانے شہر میں اگرچہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان ، ہندوں کے چھوڑے گھروں میں مقیم ہوچکے تھے لیکن ہر وارڈ اور ہر گلی کے بعض گھروں اور مندروں کے دروازوں پر تالے پڑے تھے ۔ چھوئی روڈ کے جنوب اور جنوب مغرب کی آبادی ادھر ادھر بکھری بکھری نظر آتی تھی ۔ دو گھر ادھر تو چار ادھر اور بیچ میں زرعی زمینیں ۔ بعض عمارتیں نامکمل اور ادھوری بھی رہ گئی تھیں کیونکہ ان کے مالکان کو تقسیم ہند کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے جانا پڑا۔ 

    قصہ کوتاہ ، ہم نے گاؤں سے نکل کر اس پرامن اور خاموش شہر سے نئی زندگی کا سفر شروع کیا ۔ بھائی جان جناب رفیق بخاریؒ کو گورنمنٹ کالج میں داخلہ دلا دیا گیا ۔ میری عمر اس وقت تقریبا 6 سال تھی لھذا مجھے ایم بی پرائمری اسکول نمبر 2 ( جسے مارکیٹ اسکول بھی کہتے تھے ) سے تعلیم شروع کرنے کا موقع ملا ۔

    جناب سید رفیق بخاریؒ مرحوم جب بی اے کرچکے تو بطور انگلش ٹیچر ان کی تعیناتی ڈی سی ہائی اسکول چھب علاقہ نرڑہ میں ہوگئی ۔ وہیں دوران تدریس انہوں نے ٹیچر ٹریننگ کالج بہاولپور سے بی ایڈ کی سند حاصل کی اور 1964 میں چھب کو خیر باد کہ کر گورنمنٹ ہائی اسکول ڈاک اسماعیل خیل تحصیل نوشہرہ صوبہ سرحد میں مستقل بنیادوں پر انگلش ٹیچر تعینات ہوگئے ۔

    کم و بیش ایک سال وہاں رہنے کے بعد ان کا تبادلہ گورنمٹ ہائی اسکول پبی ہوگیا ۔ بھائی جان کو میری تعلیم و تربیت کی اسقدر فکر تھی کہ چھب ، ڈاک اسماعیل خیل اور پبی میں تعیناتی کے دوران مجھے اپنے ساتھ رکھا اور اس طرح میں نے 1966 میں پبی ہائی اسکول سے میٹرک کی سند حاصل کرلی ۔

    1966 کے بعد میں گورنمٹ کالج کیمبل پور آگیا اور بھائی جان نے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔ باالآخر ترقی کرتے کرتے پرنسپل کے عہدے تک پہنچ گئے ۔

    رفیق بخاریؒ پیدائیشی طور پر اعلی شرافت کا نمونہ تھے ۔ صرف شرافت اور اعلی اخلاق ہی نہیں بلکہ دینداری اور تقوے میں بھی اعلی مقام پر فائز تھے ۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا انہیں ہمیشہ پابند صوم صلواة اور نیک ترین لوگوں میں سے پایا ۔

    کالج کے زمانے سے ان کی صحبت شاعروں ، ادیبوں ، علماء اور اور فضلاء کے ساتھ رہی ۔ گورنمنٹ کالج کے سابق لائیبریرین مرحوم غلام محمد نذر صابری ، ڈاکٹر غلام جیلانی برق ، حکیم تائب رضوی ، جامع حنفیہ سولبازار کے بانی خطیب قاضی انوارالحق مرحوم اور اسی اعلی درجے پر فائز اہل علم سے ان کی دوستی اور تعلق قائم رہا ۔

    آپ بسلسلہء ملازمت جہاں بھی مقیم رہے ہر خورد و کلاں ان کی نیک سیرت اور اعلی اخلاق کا گرویدہ دکھائی دیا ۔ اپنے ہوں یا پرائے ، دوست احباب ہوں یا ان کے شاگرد سب کے سب ان کے اعلی کردار کے ہمیشہ قائل اور ثناء خواں رہے ۔

    آپ کو علم و ادب سے ہمیشہ گہرا شغف رہا ۔ مجلس نوادرات علمیہ اٹک اور محفل شعر و ادب کے پلیٹ فارم سے انہوں نے علمی و ادبی خدمات انجام دیں ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اہل شہر کی سماجی ، علمی ، ادبی اور فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ ان کے اعلی کردار کی بناء پر اہل علاقہ نے انہیں چیئرمین زکواة کمیٹی مقرر کردیا اور ایک عرصے تک یہ خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔

    ان کی برسی کے موقعے پر یہ چند الفاظ میری طرف سے بطور نذرانہء عقیدت ان کی خدمت میں پیش ہیں ۔ یہ بات میں نہیں کہ رہا بلکہ ان کی وفات پر جب سوگوار ہم اہل خانہ سے تعزیت کے لئے آتے تو ہر ایک کی زبان سے یہی جملہ ادا ہوتا   ،

    شاہ جی تو ولی اللہ تھے ۔ دعاء ہے اللہ کریم میرے مشفق بھائی کے درجات اور بلند کرے اور ہم سب کو اس گوہر نایاب کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء ہو ۔ آمین ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین

  • ونگاں – پنجابی مجلہ

    ونگاں – پنجابی مجلہ

                رسالے پر سنِ اشاعت درج نہیں،تاہم جنوری 2017 میں اس کی پہلی اشاعت منظرِ عام پر آئی۔یہ اس لحاظ سے تاریخی مجلہ ہے کہ ضلع اٹک میں اس سے پہلے پنجابی زبان میں کسی مجلے کی اشاعت نہیں ہوئی۔ثقلین انجم اس کے مدیراعلیٰ اور مشتاق عاجز سرپرست ہیں۔مجلسِ مشاورت میں توقیر چغتائی جیسی بڑی شخصیت کا نام شامل ہے۔” پہلی سری گل”کے عنوان سے اداریہ لکھا گیا ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رسالے کی اشاعت ماں بولی سے محبت اور اپنی تہذیب سے پیار کا اظہار ہے۔ مدیرِ اعلیٰ کہتے ہیں:”سنگیو،سوہنیو تے بھرائو!آپنی مٹی نی خشبو توں ودھ کوئی خشبو نئیں ہونی تے اساں اسی خشبوآلی مٹی ناں سوجھ ودھانے واسے اک بغیچہ لائیاوے۔۔۔سنگیو گل ایہہ وے جے فرنگی موبائل بنایا پرے اس آپنی وینی تو گھڑی نئیں لائی۔اُس انٹرنیٹ تے ای میل کڈی پرے اس خط لکھنا نئیں چھوڑیا۔ہُن آپنے پاسے ویکھو۔اساں کی [کیہ[ کجھ چھوڑ دتا تے آپنی نویں نسل آں کی کجھ دتا۔ جندر ،چکی ، چرخہ ،کھوہ تے ہور بئوں کجھ اکھیوں اوہلے ہو گیا۔رہتل تے وسیب ناں حلیہ ای وگڑ گیا۔اساں آڑے ،ہجرے،ہجانگ ،ویا شادیاں نی رسماں ،کھیڈاں،سانگ تماشے ، میلے ٹھیلے آپنا رنگ وٹانے پین تے کجھ سروں ہی اکھیوں اوڈر ہو گئین۔۔۔مطلب ترقی نی مخالفت نئیں تے نانہہ ہی پچھے پیری مُڑنے نی گل اے۔گل ہو رئی آپنی مٹی نی خشبو نی۔۔۔اساں نی زبان پنجابی نا اساں نی رہتل نال بئوں  پکا جوڑ اے۔۔۔ماں بولی آں بھلنا آپنی مائو آں بھلنے نے برابر ہے تے اس نال کھچ بنانی آپنی مائو نال کھچ بنانے نے برابر ہے۔اساں اس بغیچے  ناں ناں”ونگاں” رکھیا۔اس پنج حرفی نائیں وچ بئوں سارے گن ان۔ایہہ محبتاں ناں گول دائرہ وے۔ایہہ کھوہ ،چکی،جندر،تے اساں نے وسیب نی ہک بئوں سوہنی تے رومانوی علامت بی اے”۔(1)

    ونگاں 5

     "ونگاں”کا یہ پہلا شمارہ 96 صفحات پر مشتمل ہے اور 5/7سائز میں چھاپا گیا ہے۔اس میں تائب رضوی کے متعلق گوشہ شامل ہے۔ایک مقالہ ،چھے کہانیاں اور بیس منظومات رسالے کا  حصہ ہیں۔جولائی 2017 میں اس مجلے کی دو سری چھے ماہی اشاعت منظرِ عام پر آئی۔اس بار اس میںشایع ہونے والوں میں توقیر چغتائی،پروین ملک،ڈاکٹر ریاض شاہد ،ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد،منزہ شاہد ،اورراول راٹھ جیسے معروف لکھاریوںکے نام بھی شامل ہیں”گوشۂ ،منظور عارف”اس اشاعت کا خاص تحفہ ہے۔پہلی اشاعت میں اپنی ماں بولی اوراپنی تہذیب سے محبت کا جو اظہار کیا گیا تھا ؛دوسری اشاعت میں بھی اس کا تسلسل نظر آتا ہے مثلاََ مدیر اعلیٰ لکھتے ہیں:”اساں ایہہ بی خوشی ہے جے اساں آپنی ماں بولی نی ترقی تے ترویج بارے جاری تحریک وچ آپنا حصہ پایا۔دوستاں نی محبت ۔۔۔اساں نی کوشش ہے جے اسی آپنے سوہنے وسیب نا سوہنا تےمن موہنا رخ پیش کراں ۔سماج نیاںترٹنیاں تے رڑھنیاں  قدراں ااس نویں تہذیب نے[نیں] ہڑ کولوں بچانواں۔جگنی،ماہیے ڈھولے،بولیاں تے رس رسیلے گاون چپ ہو گئے تے سبھ کجھ بے سُرا ہو ویسی۔جے کدے اسی کورے گھڑے ناں پانی ،ساہنکی چ پیا وا سالن ،بٹھلے چ لسی،مکھن،مکئی،ساگ تے چٹنی بھلا دتی تے سبھ کجھ بے سادا تے بے ذائقہ[ذیقہ]رہ ویسی۔لڈی،بربلہ، تے سمی اکھیوں اوڈر ہو گئے تے زندگی نے سارے رنگ پھکے پے ویسن۔اساں پہلے ای چینجک دمہ،کوکلا چھپاکی تے چھپن چھوت جئیاں کھیڈاں وسار کے آپنیاں گلاں تے ویہڑیاں نیاں رونقاں مکا سٹیان۔۔۔بس ایہا گل سمجھانا چاہنا واں سنگیو!آپنا آپ تے آپنی ماں بولی کدے نانہہ بھلیو،نئیں تے سبھ کجھ بھل ویسو”۔(2)

    "ونگاں”کے تیسرے شمارے میں بھی اپنی جڑ سے محبت کا درس ہے۔اپنی تہذیب اپنی دھرتی سے جُڑے رہنے کی تبلیغ ہے۔لکھتے ہیں:”سوچیا کوئی نویں تے نویکلی گل کراں پر کجھ نئیں سُجھیا۔نویاں نویکلیاں کتاباں پھرولیان جے چلو انہاں چوں ای کوئی وکھری جئی گل مل ونجے،کوئی اکھر  ایہجے  مل ونجن جنہاںواں پڑھ کے بندہ آکھے واہ واہ۔۔۔پر گل نئیں   بنی۔ڈبل روٹی چٹنی نال پئے کھاوو سوادنئیں   آنا تے برگر نال لسی ڈُھکنی نئیں   ۔مُڈ ھ پکا نانہہ ہووے تے رُکھ زیادہ چِر نھیری اَگے نئیں   ٹِک سکنا۔ایہا گلاں سوچنیاں سوچنیاں مینڈی نظر حضرت میاں محمد بخش نی "سیف الملوک”تے ونج پئی۔جیہڑا ورکا کھولیا نویاں تے وَن سوَنیاں گلاں۔۔۔حضرت بابا غلام فرید ،حضرت وارث شاہ،حضرت بلھے شاہ تے ہور بئوں سارے۔جنہاں نی ہر گل وِچ ہِک سمندر چُھپیا ہوئیا اے۔سادے اکھر تے ڈُوہنگیاں گلاں۔۔۔میں آکھناں ایہہ چاہنا واں جے پنجابی چ  لکھے وَئے ادب پارے چ نِری پنجابی اِی نہ ہووے پنجاب بھی نظری آوے تے پنجاب نیاں سوہنیاں رسماں رَہتاں  بی۔تاں جے اُساں پڑھ کے دِلے وِچ پنجاب نیں محبت جاگے تے آپڑیں لوک ،آپڑیں مٹی تے آپڑیں بولی چنگی لگن لگ پوَے(3)۔

    ونگاں 4

     کتابوں پر تبصرے کے لیے”پڑچول”کا باب قائم کیا گیا۔مجلے کے حوالے سے موصول خطوط کی اشاعت کے لیے "خط پتر”کے نام سے باب مخصوص کیا گیا۔ہنوزتائب رضوی ،منظور عارف اور طاہر اسیر کے شعری گوشے شایع ہو چکے ہیں۔رسالے کی اشاعت باقاعدہ نہیں لیکن ہنوز جاری ہے ۔

    حوالہ جات :

    (1)ثقلین انجم،اداریہ،چھے ماہی ونگاں،شمارہ1،جمالیات پبلی کیشنز،اٹک،س ن،

    (2)ثقلین انجم،اداریہ،چھے ماہی ونگاں،شمارہ2،جمالیات پبلی کیشنز،اٹک،جولائی تا دسمبر 2017،

    (3)ثقلین انجم،اداریہ،چھے ماہی ونگاں،شمارہ3،جمالیات پبلی کیشنز،اٹک،جولائی تا دسمبر 2017،