Tag: اٹک کے شاعر

  • ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے

    ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے

    ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے
    کچھ تم بھی بتاؤ تم کو کس بات کا دُکھ ہے
    بھر جائیں گے یہ زخم تو دو چار دنوں میں
    جو دل پہ لگائی ہے اسی گھات کا دُکھ ہے
    بستر کی سلوٹیں بھی یہی کہہ رہی ہیں اب
    بیتی جو بنا تیرے اُس رات کا دُکھ ہے
    پیمان سبھی ضبط کے تھے یاد مگر اب
    محفل پہ جو برسی تھی اس برسات کا دُکھ ہے
    تاعمُر جسے پوجا خدا جان کے اپنا
    اُس کو بھی فقط اپنی ہی بس ذات کا دُکھ ہے
    دیکھا تجھے تو جھوم اُٹھا کیسے مرا دل
    سینے میں اسؔد میرے جو جذبات کا دُکھ ہے
    کلام: عمران اسؔد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

    میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

    میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
    میرے شعروں کی روانی دُکھ ہے
    جس نے غربت میں ہوں کھولی آنکھیں
    اُس کا بچپن و جوانی دُکھ ہے
    تو نے دیکھی نہیں حسرت میری
    تجھ کو ہر بات بتانی دُکھ ہے
    وہ عزیزی ہے رگِ جاں کی طرح
    اُس سے بچھڑے کی نشانی دُکھ ہے
    دفن خود کرتا ہوں ایسے خواب اسؔد
    جن کی تعبیر بتانی دُکھ ہے


    کلام: عمران اسؔد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • کوئی پورا دکھائی دیتا ہے

    کوئی پورا دکھائی دیتا ہے

    کوئی پورا دکھائی دیتا ہے
    کوئی آدھا دکھائی دیتا ہے
    کوئی دِکھتا ہے سروقامت اور
    کوئی بونا دکھائی دیتا ہے
    آدھے آدھے کے عادی لوگوں کو
    آدھا آدھا دکھائی دیتا ہے
    جس طرف بھی نگاہ دوڑائیں
    ایک دھوکہ دکھائی دیتا ہے
    اُتنا سیدھا وہ ہے نہیں، جتنا
    سیدھا سادہ دکھائی دیتا ہے
    آنکھ میں آنسوؤں کا دریا ہے
    دل میں صحرا دکھائی دیتا ہے
    ایسا بوڑھا ہوں جو کہ چہرے سے
    ایک بچہ دکھائی دیتا ہے
    کر کے اِتنے جتن بھی وہ مجھ سے
    بدگماں سا دکھائی دیتا ہے
    آئینہ رُو برو کروں تو مجھے
    عکس تیرا دکھائی دیتا ہے
    آج ہر فرد وقت کے ہاتھوں
    پارہ پارہ دکھائی دیتا ہے


    کلام عمران اسدؔ

    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح

    گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح

    گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح

    اور میں رہتا ہوں تیرے پاس گوہر کی طرح 

    وقت اس تفریق کی تحقیق کر لے گا کبھی

    تو ہے باہر کی طرح اور میں ہوں اندر کی طرح

    کیا خبر کس آن تجھ کو ڈھال دوں کس شکل میں

    میں ہوں اب بھی عادتوں میں ایک آزر کی طرح

     وقت اور حالات نے بدلی ہیں ایسی کروٹیں

    گھر میں رہتا ہوں اپنے ایک بے گھر کی طرح

    میں مسلسل عزم کا پیغام ہی دیتا رہا

    وقت نے سمجھا مجھے بیکار پتھر کی طرح 

    رات کٹ جاتی ہے غفلت اور گہری نیند میں

    دن گزر جاتا ہے کاموں میں کسی شر کی طرح

    بے وضو سونے کا شاید تھا نتیجہ خواب میں

     وقت تھا میرے مقابل باد صرصر کی طرح

    عمر بھر میں تجھ پر فخر و ناز نہیں کرتا پھروں

     میرے حصے میں جو تو آجائے جوہر کی طرح طرح

    وقت کے ہاتھوں کھلونا بن کے میں ہوں رہ گیا

     پیش کرتے ہیں مجھے اب لوگ آفر کی طرح

     تیرے ہاتھوں میں اسد شفقتیں ہی شفقتیں

    سر برہنہ ہوں جو ان کو ڈھانپ چادر کی طرح

    کلام: عمران اسد

  • بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے

    بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے

    بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے
    آنسو تمہاری یاد کے تھے ،کام آگئے
    کیا کیا کلام خط میں وہ لکھتے رہے مجھے
    کِس کِس ادا سے نامے میرے نام آگئے
    خوابوں کی وادیوں میں اُترنے کے ساتھ ہی
    کتنے حسین چہرے سرِ بام آ گئے
    دن بھر وہ ہم کو دیکھ کے چُراتے رہے نظر
    راتوں کو میل جول کے پیغام آگئے
    چِھڑتے ہی ذِکر ایک پری وَش کا دوستو
    گردش میں جیسے سوۓ ہوئے جام آگئے
    میں نے تو اسپِ عزم روانہ کیے مگر
    ہو کر ہر ایک موڑ سے ناکام آگئے
    کم بخت ، بد نصیب ، دغا باز، بدلحاظ
    تحسین کے بجائے یہ دُشنام آگئے
    فرمان ِ احتساب میں جانے تھا کیا لکھا
    زیرِ زمین سارے ، سرِ عام آگئے
    کلام عمران اسؔد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • رنگیں نہ اور قصّے یہاں کے سُنا مجھے

    رنگیں نہ اور قصّے یہاں کے سُنا مجھے

    رنگیں نہ اور قصٗے یہاں کے سُنا مجھے
    آئی نہ راس شہر تیرے کی ہوا مجھے
    دربار ِایزدی میں ہے ہر َپل یہی دُعا
    محفوظ مشکلات سے رکھے خدا مجھے
    پروانگی کا رنگ ہے شاید اسی سبب
    تکتا رہا تھا رات بھر تنہا دِیا مجھے
    خوش بختیاں ہمیشہ رہیں میرے پاؤں میں
    اک روز میری ماں نے یہ دی تھی دُعا مجھے
    میں نے ہمیشہ منہ پہ کھرا سچ ہی ہے کہا
    آتی نہیں ہے جھوٹ میں لپٹی ادا مجھے
    کل تک میں تیرا دیوتا تھا یاد کرذرا
    نظروں سے آج اپنی نہ اِتنا گِرا مجھے
    کلام عمران اسؔد

    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • کتابیں چیختی دیکھیں

    کتابیں چیختی دیکھیں

     (16 دسمبر سانحہ ء پشاور)

    دسمبر کی وہ سولہ تھی

    پشاور پہ خموشی تھی

    سراسیمہ سی ماوں نے

    اٹھایا اپنے بچوں کو

    کھلایا وقت پر کھانا

    کتابیں ڈالیں بستے میں

    تیاری کے وہ عالم میں

    یہ بچوں کو بتاتی تھیں

    اگر تم کو کوئی مارے

    ستمگر آ کے گولی سے

    مرے بچو، نہ ڈرنا تم

    عدو کے سامنے جانا

    چھپانا نہ جگر اپنا

    کلیجہ سامنے رکھنا

    ڈرانا اس کو بستے سے

    قلم لہرا کے یہ کہنا

    وطن کا میں تو بیٹا ہوں

    عدو سے میں نہیں ڈرتا

    چلاو تم ذرا گولی

    دکھاو بزدلی اپنی

     بجھائے گی تری طاقت

    دیا کیسے پشاور کا

    یہ سن کر ماں کی سب باتیں

    گئے بچے سکولوں میں

    گرج اک پھر سنائی دی

    ہوا یوں کہ پشاور میں

    دھماکے کی صدا اٹھی

    سنی اک تڑتڑاہٹ جو

    تو مائیں دوڑتی آئیں

    جہاں پہ بچے بھیجے تھے

    وہاں بستے کتابیں سب

    قلم زخمی ہوئے ایسے

    کہ جن کی روشنی ہر سو

    مٹاتی تیرگی کو تھی

    وہاں پہ پھول چھلنی تھے

    کتابیں چیختی دیکھیں

    قلم روتے ہوئے دیکھے

    مگر بچے شہادت پہ

    بہت نازاں و فرحاں تھے

    سراسیمہ سی نظروں سے

    بتاتے تھے وہ ماوں کو

    کہ ہم نے لاج رکھ لی ہے

    وطن کی آبرو رکھ لی

    بتایا یہ بھی ماوں کو

    اگر دشمن کبھی آئے

    وہ پھر سے حملہ آور ہو

    اسے پیغام یہ دینا

    ہمارا دل ،جگر قرباں

    وطن پہ جان بھی قربان

    اسے کہنا کہ ہم اب بھی

    حسینی ہیں حسینی ہیں

    علی اصغؑر کے فوجی ہیں

    تو ڈر کیسا، نہیں ڈرتے

    نہیں ڈرتے،نہیں ڈرتے

    مقابل آ کے دشمن سے

    جگر کو زخمی کر کے ہم

    قلم سے اپنے لڑتے ہیں

    کتابیں ڈھال اپنی ہیں

    عدو ! تُو سوچ کر مر جا

    کہ تو بچوں کا قاتل ہے

    کہ تو بچوں سے ڈرتا ہے

    سید حبدار قائم آف غریبوال اٹک

  • سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے پسِ منظرمیں لکھی گئ ایک نظم

    سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے پسِ منظرمیں لکھی گئ ایک نظم

    چڑیا ، جگنو  ، تتلی   سارے مرتے جاتے ہیں

    اک اک کر کے میرے پیارے مرتے جاتے ہیں

    بوڑھی مائیں دیکھ دیکھ کے جن کو جیتی تھیں

    کیسے   کیسے راج دُلارے  مرتے  جاتے  ہیں

    کس کس لاشے پر میں روؤں پیٹوں کس کس کو

    پھولوں  جیسے  لال  ہمارے  مرتے  جاتے ہیں

    موت نہ ہو کیوں رقص کناں میرے شہروں میں

    جتنے بھی  تھے آس  سہارے  مرتے  جاتے ہیں

    روشنی کا وہ قحط پڑا ہے دیس میں چاروں سمت

    تیرگیوں  کے خوف  سے تارے مرتے جاتے ہیں

    میرے سب رانجھوں کو اپنی خیر میں مولا رکھ

    اک اک  کر کے  تخت  ہزارے مرتے جاتے ہیں

    اپنے خدا سے مانگ اسد، لَو بہار ِ صبحِ نو کی

    زرد   رتوں  میں حُسن نظارے مرتے جاتے ہیں

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

    کلام: عمران اسؔد

  • ایماں کی حرارت ہے الفت ابو طالبؑ کی

    ایماں کی حرارت ہے الفت ابو طالبؑ کی

    ایماں کی حرارت ہے الفت ابو طالبؑ کی

    ” قرآن سے ظاہر ہے عظمت ابو طالبؑ کی”

    احمؐد کو کھلایا ہے سینے سے لگایا ہے

    دنیا یہ کہاں جانے شوکت ابو طالبؑ کی

    جس جس نے حفاظت کی آقؐا کی رسالت کی

    اس اس پہ یہ حاوی ہے عزت ابو طالبؑ کی

    اک سمت رسالت ہے، اک سمت ولایت ہے

    تقسیم خدا نے کی  نکہت ابو طالبؑ کی

    یہ چاند حسیں جیسے روشن ہے ستاروں میں

    ایسے ہی زمیں پر ہے رفعت ابو طالبؑ کی

    سرکار بٹھاتے تھے گودی میں نبی اکرمؐ

    آقؐا نے سنی ہو گی مدحت ابو طالبؑ کی

    جو عقد کیا جاری سرکار نے آقؐا کا

    اس عقد سے زندہ ہے عظمت ابو طالبؑ کی

    احسان کیے اس نے اسلام کی عظمت پر

    پھر کیسے کوئی بھولے خدمت ابوطالبؑ کی

    خالق، ابوطالبؑ کے ہاتھوں کو کہے اپنے

    قرآں میں یہ دیکھی ہے حرمت ابو طالبؑ کا

    حبؔدار زمانے کا انکار نہیں لیکن

    ہر ایک سے بڑھ کر ہے عفت ابو طالبؑ کی

    سیّد حبدار قائم آف اٹک

  • کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے

    کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے

    کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے

    بے فائدہ عمل ہے اُلجھنا سراب سے

    شاید اسی لئے تو تمہیں کر دیا ہے رد

    نا مطمئن تھے سارے تمھارے جواب سے

    اس میں نہیں ہے دوش کسی اور کا کوئی

    تم خود قصوروار ہو ہر حساب سے

    یہ مانتے نہیں ہو تمہارا بھی ہے قصور

    لیتے ہو انتقام وفا کی کتاب سے

    َپل کی خبر نہیں ہے کسی کو حیات کی

    فرصت ملے جو، پوچھ ، کسی پَل حباب سے

    حرف آۓ جس سے محکماتِ دین پر کوئ

    وہ باب ہی نکال دیا ہے نصاب سے

    لاکھوں جتن کئے ہیں اسؔد پھر بھی دہر کو

    مرعوب کر سکے نہ کبھی رُعب داب سے

    کلام عمران اسدؔ