سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے پسِ منظرمیں لکھی گئ ایک نظم

چڑیا ، جگنو  ، تتلی   سارے مرتے جاتے ہیں

اک اک کر کے میرے پیارے مرتے جاتے ہیں

بوڑھی مائیں دیکھ دیکھ کے جن کو جیتی تھیں

کیسے   کیسے راج دُلارے  مرتے  جاتے  ہیں

کس کس لاشے پر میں روؤں پیٹوں کس کس کو

پھولوں  جیسے  لال  ہمارے  مرتے  جاتے ہیں

موت نہ ہو کیوں رقص کناں میرے شہروں میں

جتنے بھی  تھے آس  سہارے  مرتے  جاتے ہیں

روشنی کا وہ قحط پڑا ہے دیس میں چاروں سمت

تیرگیوں  کے خوف  سے تارے مرتے جاتے ہیں

میرے سب رانجھوں کو اپنی خیر میں مولا رکھ

اک اک  کر کے  تخت  ہزارے مرتے جاتے ہیں

اپنے خدا سے مانگ اسد، لَو بہار ِ صبحِ نو کی

زرد   رتوں  میں حُسن نظارے مرتے جاتے ہیں

عمران اسد
عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

کلام: عمران اسؔد

عمران اسؔد

Next Post

سانحہ پشاور APS

بدھ دسمبر 16 , 2020
آئیے ، ہم سب مل کر اے پی ایس کے ان ننھے شہیدوں کو یاد کریں جنہوں نے اپنے خون سے اس وطن کو سرخ رو کیا ۔
سیّدزادہ سخاوت بخاری