رنگیں نہ اور قصّے یہاں کے سُنا مجھے

رنگیں نہ اور قصٗے یہاں کے سُنا مجھے
آئی نہ راس شہر تیرے کی ہوا مجھے
دربار ِایزدی میں ہے ہر َپل یہی دُعا
محفوظ مشکلات سے رکھے خدا مجھے
پروانگی کا رنگ ہے شاید اسی سبب
تکتا رہا تھا رات بھر تنہا دِیا مجھے
خوش بختیاں ہمیشہ رہیں میرے پاؤں میں
اک روز میری ماں نے یہ دی تھی دُعا مجھے
میں نے ہمیشہ منہ پہ کھرا سچ ہی ہے کہا
آتی نہیں ہے جھوٹ میں لپٹی ادا مجھے
کل تک میں تیرا دیوتا تھا یاد کرذرا
نظروں سے آج اپنی نہ اِتنا گِرا مجھے
کلام عمران اسؔد

عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

عمران اسؔد

Next Post

پاکستان کیوں ٹوٹا ؟

ہفتہ دسمبر 19 , 2020
ہماری نئی نسل تاریخ سے آگاہ نہیں ۔ نصابی کتابوں میں بھی اس بات کی کوشش نہیں کی گئی کہ آنیوالی نسلوں کو حقائق سے روشناس کرایا جاسکے ۔ یہی نہیں بلکہ 1971 کے بعد سے پاکستان میں جس سیاسی طرز عمل اور سوچ نے اودھم مچایا ، اس کے نتیجے میں سچ اور جھوٹ گڈ مڈ ہوکر رہ گیا اور آج کا ہمارا نوجوان یہی سمجھتا ہے کہ جنرل نیازی ڈرپوک تھا
سیّدزادہ سخاوت بخاری