کوئی پورا دکھائی دیتا ہے
اٹک کے شاعر
گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح
بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے
رنگیں نہ اور قصٗے یہاں کے سُنا مجھے
کتابیں چیختی دیکھیں
(16 دسمبر سانحہ ء پشاور)
سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے پسِ منظرمیں لکھی گئ ایک نظم
ایماں کی حرارت ہے الفت ابو طالبؑ کی
کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے
کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی
حشر کوئی اٹھاؤ سُولی پر
اٹک کے ادبی افق پر تیز روشنی کا ستارہ؛تقریر و تحریر،نظم ونثر،تنقید و تخلیق ، ہر میدان...