ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے
عمران اسؔد
میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
کوئی پورا دکھائی دیتا ہے
گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح
بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے
بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے حضور
رنگیں نہ اور قصٗے یہاں کے سُنا مجھے
سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے پسِ منظرمیں لکھی گئ ایک نظم
کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے
کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی
رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی
حشر کوئی اٹھاؤ سُولی پر