رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

دیر ہونے پر خود آتا ہے وہی

رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

میری منزل کا نشان بھی خود ہے وہ

میرے رَستے بھی بناتا ہے وہی

دیر تک سونے نہیں دیتا کبھی

وقت پر مجھ کو جگاتا ہے وہی

ساری تعبیریں بھی اُس کے پاس

خواب بھی سارے دکھاتا ہے وہی

دوڑنےبھی وہ نہیں دیتا مجھکو

گر پڑوں تو خود اُٹھاتا ہے وہی

دن کو بن جاتا ہے بِینائی میری

رات کو اندھا بناتا ہے وہی

میری سوچوں پر اُسی کا راج ہے

اپنی مرضی پر نچاتا ہے وہی

میرے تو بس ہونٹ ہلتے ہیں اسٓد

در حقیقت گیت گاتا ہے وہی

کلام: عمران اسد

عمران اسد
عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

عمران اسؔد

Next Post

کیمبل پور سے اٹک تک -1

بدھ دسمبر 9 , 2020
اس شھر کے نقشہ نویس Architect کا علم نہیں ، لیکن ، میں اسے داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جیومیٹری کی مدد سے سیدھی اور کشادہ گلیاں ، چھوٹے چھوٹے وارڈز ( محلے)، ہروارڈ کے بیچوں بیچ ایک کشادہ چوک اور اس کے عین وسط میں پانی کا کنواں ، یہی چوک اس زمانے میں مختلف سماجی تقریبات کے لئے استعمال ہوتے تھے ۔
campbellpore-to-attock-