Tag: ہزارہ

  • پٹھوہاری ادیب اور بابائے پٹھوہار شریف شاد

    پٹھوہاری ادیب اور بابائے پٹھوہار شریف شاد

    پٹھوہاری ادیب اور بابائے پٹھوہار شریف شاد

    شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین پٹھوہار بڑی ہی زرخیز ہے جس نے ہر شعبہ ہائے زندگی کے لیے مخلص اور انتہائی محنتی لوگ پیدا کیے ہیں ۔ ان مشاہیر کی گراں قدر خدمات ہیں یہ بہت ہی بڑے نام ہیں جن کے بے مثال کارنامے اور بڑے بڑے کام ہیں میرے پاکستان کے لیے اور پیارے پاکستانیوں کے لیے بھی ۔ ہمارا پٹھوہار پاکستان کا مرکز ہے بلکہ پاکستان کا دل و دماغ ہے ۔ میرے خیال میں عصری تقاضوں اور زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو اب یہ لازم و ملزوم ہو گیا ہے کہ یہاں کے باسیوں کی سہولت کی خاطر اور مسائل و مشکلات کی آسانی  کے لیے ضلع راولپنڈی کو مرکز بنا کر  جہلم ، چکوال ، اور ہزارہ و اٹک تک انتظامی بنیادوں پر  "پٹھوہار” نام کا ایک الگ صوبہ ضرور ہونا چاہیے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پٹھوہاری زبان کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے اور پٹھوہاری لکھنے والوں کی پزیرائی اور حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ زبان و ادب کے فروغ ، ترقی و آبیاری کے لیے کام کرنے والے شعرا و ادبا  کی ہر لحاظ سے مدد مسیحائی بھی کی جائے ۔ عہد موجود میں یوں تو پٹھواری لکھنے والے ادیب لاتعداد ہیں مگر مندرجہ ذیل نام نمایاں ہیں ۔ محمد شریف شاد ، یاسر محمود کیانی ، عابد حسین جنجوعہ، فیصل عرفان فیصل ،  محمد عظمت مغل ، نعمان رزاق وڑائچ ، محمد شکور احسن ، شاہد لطیف ہاشمی ، ثاقب امام رضوی ، مہ وش راجہ ( بنت محمد شریف شاد ) ، ظہیر چوھدری ، راجہ نثار یاور ، راجہ عبدالوحید قاسم ، راجہ محمد نیاز جوشی ، شمسہ نورین ، جنید غنی راجہ ، عثمان اسلم ، فرزند علی ہاشمی ، جہانگیر عمران ، عامر قریشی ، مسرت شیریں ، چندا خیری (بنت دلپذیر شادؒ) ، قیصر راجا ، واجد حقیر ، کامران حشر ، صفدر حسین صفدر ، عادل سلطان خاکی ، عامر قریشی ، جہانسر محمود اخلاق ، نوید انجم جانی ، اکرام دوشی ، قیصر روگی، خرم امین ناظم ، اللہ دتہ سیٹھی ، راجہ ناصر عاطر ، تراب نقوی ، نصیر جانی ، راجہ شوکت معصوم ، ضیارب تائب ، راجہ توقیر اختر ناشاد ، مجید ذکی ، سلطان محمود نئیر ، ملک مظلوم حسین زخمی ، راجہ عابد حسین فدا ، چوھدری مطلوب شمس ، اعظم دیوانہ ، سجاد عاقل ، قمر عبد اللہ ۔ سارے نام درج کرنا اس کالم میں ممکن نہیں ہے ۔ ان کے علاوہ بھی بڑے نام ہیں جیسے مجھے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں ارشد ملک کے الفاظ میں ۔

    اتنے ڈھیر سے ناموں میں ،

    میرا نام نہ کھونے دینا ،

    میری شام نہ ہونے دینا ،

    پٹھوہاری ادیب اور بابائے پٹھوہار شریف شاد

    میری نظر میں عصر حاضر کے ان سب ناموں میں سے سب سے نمایاں اور سر بلند نام ” باباۓ پٹھوہار” جناب محمد شریف شاد جی کا ہے ۔ پٹھوہاری زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے حوالے سے صدارتی ایوارڈ یافتہ محمد شریف شاد مدظلہ سے جب میں نے ان کی علمی و فکری اور تحقیقی خدمات کے حوالے سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگے کہ  ” مجھ میں کچھ نہیں ہے میں تو بہت کمزور آدمی ہوں ، بس یہ اللہ کریم کا فضل و کرم ہے کہ 2023ء میں سیرت النبی صَلَّى ٱللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  پہ جو کتاب میں نے لکھی تھی اس پہ مجھے وزارت مذھبی امور نے ایوارڈ سے نوازا ہے ، پھر 2024ء میں سیرت پر ایک اور کتاب لکھی جس کا نام ہے "سرکار نیاں چٹھیاں” حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زندگی میں جو خطوط لکھوائے تھے مختلف حکمرانوں اور سرداروں کو ، وہ میں نے اکٹھے کیے مختلف کتابوں کو چھان کر تو وہ کوئی 80 خطوط مجھے ملے تھے ، پھر ان کا ترجمہ ، تشریح اور ان کے اثرات کیا ہوئے ۔ اس کام پہ مجھے اللہ کے کرم سے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ پھر 2025ء میں ایک اور کام میں نے کیا ، مجھے اللہ پاک نے یہ توفیق دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معجزے جو ہیں ان میں سے میں نے 500 معجزات جو ہیں وہ چنے ، اکٹھے کیے مختلف کتب میں سے اور پھر ان کو پٹھوہاری زبان میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ میری چوتھی کتاب جو چھپی ہے وہ بھی سیرت کے حوالے سے ہے اور وہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جو 99 نام ہیں ، ان کے مطالب و تشریح کرنے کی بھی اللہ پاک نے مجھے توفیق دی ۔ یہ سب اللہ پاک کا کرم ہے اور مجھ پہ خاص کرم ہے ۔ میں نےشیخ سعدی شیرازی ؒ کی اور مولانا رومؒ کی حکایات کا بھی پٹھواری ترجمہ کر دیا ہے جو الگ الگ دو کتب چھپ چکی ہیں ۔” اس کے علاوہ شریف شاد جی پٹھوہاری لغت ، پٹھوہاری قاعدہ اور پٹھوہاری گرائمر کی اچھوتی و منفرد  کتب بھی لکھ چکے ہیں ، جن میں معیار ہے اور نکھار بھی ہے مگر میری راۓ میں محترم شاد صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کا پٹھوہاری زبان میں ترجمہ کیا ہے ۔ راقم الحروف راجہ شاھد رشید نے بھی قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ ، بہت سی سورتوں اور انبیاۓ کرام کے حالات زندگی کا بھی پٹھوہاری زبان میں منظوم  ترجمہ کیا ہے اور میری محترم شاد جی سے التماس ہے کہ ایوارڈ ملے نہ ملے مگر میرا یہ کام وزارت مذہبی امور اور دیگر حکام بالا تک ضرور پہنچائیں ۔ میری اس کتاب کا نام ہے "نقطہ نقطہ نور” جس کا ٹائٹل قطعہ ہے۔ 

    آیا پہلُوں حکم رحمانی ازلی سچ دستور 

    پڑھو سُچے حرف قرآنی نقطہ نقطہ نور

  • پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    تحریر: وجیہ مہتاب 

    پوری دنیا میں زبانوں کا دن منایا جا رہا ہے جس میں ، میں اپنے قلم کو حرکت میں لانا ضروری سمجھتی ہوں میں جس خطے میں پیدا ہوئی ہوں اس مٹی اس زبان سے محبت میری فطرتی جبلت ہے میں اسی زبان ” پنجابی ”کے بارے میں بات کروں گی ۔

    اس  تاریخی پس منظر  میں آپ کو لے کر چلتی ہوں کہ اس سے نفرت کیوں کی جاتی ہے دنیا بھر میں 7457 زبانیں بولی جاتی ہے جن میں 360 زبانیں متروک  ہو چکی ہیں۔ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ برصغیر پاک و ہند میں بھی سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان پنجابی ہے جو مشرقی افغانستان سے شروع ہو کر پشاور، ہزارہ ڈویژن، پنجاب ،انڈین پنجاب اور کشمیر کے اضلا ع میں مختلف لہجوں میں بولی جاتی ہے31 سے زیادہ ان کے لیے لہجے  اور انداز ہیں ۔دنیا کی مشہور زبانوں انگریزی، فارسی ،عربی، ہندی ،ترکی ،پشتو  اور سندھی کی طرح اس کی عمر ساڑھے پانچ ہزار سال ہے اور ان زبانوں کا روڈ میپ بھی ایک ہے۔ مذکورہ زبانوں کے بے شمار الفاظ پنجابی زبان میں ملتے ہیں انڈیا ایشیائی ریاستوں اور ترک ممالک کی سب سے بڑی تجارتی منڈی تھا تاجروں کے ملاپ اور مختلف حملہ آ وروں کی وجہ سے پنجابی زبان کے ذخیرہ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اس کے بولنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ دینی و اعظین،  مجالس ،صوفی شعراء اور درباروں پر لگنے والے میلوں پر تھیٹروں اور ماضی قریب میں پنجابی فلموں نے اس کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔

     میں چونکہ پنجاب کے شمال مغربی ضلع اٹک سے تعلق رکھتی ہوں یہاں زیادہ تر پنجابی کی ایک قسم ”ہندکو”  بولی جاتی ہے ہندسے مراد ہندوستان اور کوسے مراد پہاڑ ہیں اور اسی طرح  ہندکو ہندو ستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہے اور ہندکو بولنے والوں کو ہند کوان کہتے ہیں پاکستان کے شہر پشاور، ہزارہ ڈویژن، اٹک ،چکوال ،تلہ گنگ  میں بولی جاتی ہے۔ ہندکو بولنے والوں کی تعداد 56 لاکھ ہے جو کہ ملک کی کل آبادی کااڑھائی فیصد ہے ہندکو کے بھی مختلف لہجے ہیں۔ پشاور میں خار ے پشوری ، ہزارہ میں تنولی ،اٹک چھچھ میں چھاچھی، پنڈی گھیب جنڈ اور فتح جنگ میں گھیبی لہجہ، علا قہ نلہ ، کالا چٹا پہاڑ اور قوا گاڑ کے درمیانی علاقہ باہتر، جبی، ہمک، اکھوڑی سے ملا حی ٹولہ اٹک خورد تک کیمبل پوری لہجہ ،چکوال میں دھنی اور تلہ گنگ میں اعوانکاری لہجوں کی ہندکو بولیاں شامل ہیں۔

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    مغلو ں کے زوال کے بعد 1799؁ء  میں مشرقی پنجاب سے لے کر پشاور تک سکھوں کا قبضہ ہو گیا تھا سکھ راج مسلمان اور دوسری قوموں کے لیے ظلم اور بربریت کی علامت تھا۔ پنجابی چونکہ سکھوں کی مذہبی زبان تھی اور ان کی مذہبی کتاب "گرنتھ صاحب ”   بھی پنجابی میں تھی  چنانچہ ان کے ظالمانہ نظام حکومت سے بیزار لوگ پنجابی زبان سے نفرت کرنے لگے ۔سکھا شاہی کے خلاف تحریک سید احمد شہید نے شروع کی تھی اور اس تحریک کا مرکز حضرو ضلع اٹک اور سیدو شریف کے پی کے تھا۔ سکھوں کی حکومت کا زور تحریک نے توڑ دیا تھا ۔دونوں متحارب قومیں سکھ اور مسلمان ہند کو بولنے والے تھے اور دونوں کا زور آپس میں 50 سالہ جنگ لڑ لڑ کر ختم ہو چکا تھا۔

     1849 میں انگریزوں نے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا سکھ راج ختم کر کے خود بنا حکومت بنا ڈالی اور انگریزوں کو مسلمانوں سے خطرہ تھا اس لیے انہوں نے پنجابی زبان ہندکو سے نفرت دلا کر نوزائیدہ زبان کی طرف مسلمانوں کو مائل کرنا شروع کر دیا ، سکھوں کی جنونی قوم پرستی ہندوؤں کو بھی نہ بھاتی تھی انہوں نے بھی پنجابی کے بجائے ہندی کو ترویج دینا شروع کر دیا۔ 

    1857 کی جنگ آزادی میں زیادہ تعداد پنجابی بولنے والوں کی تھی انگریزوں نے عنان حکومت سنبھالتے ہی یو پی ،سی پی ضلعوں سے اردو ہندی بولنے والوں کو کلرک، منشی اور محرر کی سیٹوں پر بٹھا دیا  جبکہ ان کے سول سروسزآفیسز سب انگریز تھے اور دفاتر سے پنجابی بولنے والے کو نکال دیا اور یوں پنجابی بولنے والے بھی اپنی زبان سے نفرت کرنے لگے اور احساس کمتری کا شکار ہو گئے اور دفاتر میں رکھ رکھاؤ کے لیے حکمرانوں کی زبان انگلش کو ترجیح دینے لگے۔

    سجاد سرور نیازی ایک ادیب اور ماہر زبان ہیں وہ کہتے ہیں کہ لندن میں ڈاکٹر جیمز ماہر لسانیات کے لیکچر میں شریک تھا دوران تقریر مختلف زبانوں پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے افریقہ کے کسی قبیلے کی آواز نقل کی اور کہا کہ آپ میں سے کوئی بھی ایسے دہرا نہ سکے گا نیازی صاحب نے اٹھ کر نقل اتار دی اور ڈاکٹر چیمز بے ساختہ بول اٹھے کہ کیا آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں؟  نیازی صاحب اعتراف کیا تو ڈاکٹر صاحب بولے کہ صرف پنجابی زبان ایسی ہے جس میں تمام دنیا کے حروف او رآوازیں موجود ہیں۔

    کوئی بھی زبان کم تر نہیں ہے غیر ملکی سامراج جہاں بھی جاتا ہے اپنے قبضہ جمانے کے لیے بغاوت کے خوف سے پہلے سے موجود زبان کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ غصہ اور جذبات کو روکا جا سکے۔ پنجابی بولنے والوں کو اجڈ گنوار قرار دیا گیا اور احساس کمتری کے غوطے دیے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے خطرے کا باعث نہ ہوں۔

    برصغیر میں انگریزی سے پہلے فارسی ہماری قومی زبان تھی جہاں سے آئی تھی وہیں انگریزوں نے بھیج دی جس میں ہمارا ثقافتی اور مذہبی اثاثہ تھا جو ختم ہو گیا۔اب اسی تہذیبی جنگ میں مغربی میڈیا اردو رسم الخط اور زبان کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔اس لیے کہ   یہ تینوں زبانیں مشرقی ہیں۔

    میں قدامت پسند نہیں روشن ضمیر اور وسیع خیالات کی حامی ہوں اردو ہماری قومی زبان اور تمام صوبوں کی اکائی ہے انگریزی بین الاقوامی سفارتی اور سائنسی زبان ہے۔ان کی اہمیت اور ضرورت سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق بچہ جو علم مادری زبان سے سیکھتا ہے وہ پرائی زبان سے نہیں ماں کی گود پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ یہیں سے تیار ہو کر قومیں ،قومیں بنتی ہیں۔

     میں خراج تحسین پیش کرتی ہوں سید ثقلین انجم بخاری، جناب مشتاق عاجز، پروفیسر سید نصرت بخاری اور پروفیسر اختر محمود ناشاد جو اٹک کی دھرتی میں  پنجابی زبان کے احیاکے لیے کو شاں ہیں۔

    وجیہ مہتاب
    لاء سٹوڈنٹ
    انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی 
    اسلام آباد

  • علم و استقامت کی مورت: ڈاکٹر صائمہ خان

    علم و استقامت کی مورت: ڈاکٹر صائمہ خان

    اردو ادب کی علمی روایت میں بعض شخصیات محض تعارف، عہدوں اور اسناد کی فہرست سے عبارت نہیں ہوتیں۔ ان کی شناخت خاموش ریاضت اور اخلاقی وقار سے تشکیل پاتی ہے۔ ایسی ہی شخصیات میں ڈاکٹر صائمہ خان کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ ان کا علمی و تحقیقی سفر اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ علم اگر خلوصِ نیت اور صبرِ مسلسل کے ساتھ حاصل کیا جائے تو وہ محض ذاتی کامیابی کا وسیلہ نہیں بنتا بلکہ ایک پورے عہد کی فکری تشکیل میں حصہ دار ہو جاتا ہے۔
    ڈاکٹر صائمہ خان نے اردو زبان و ادب کے میدان میں جس استقلال اور سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا وہ آج کی تیز رفتار، شہرت پسند اور سطحی علمی فضا میں ایک خوش گوار استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے نہ تو علم کو محض ملازمت کی سیڑھی بنایا، نہ تحقیق کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔وہ ہر مرحلے پر اسے ایک فکری امانت اور اخلاقی ذمے داری تصور کرتی ہیں۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کے علمی و تہذیبی مرکز مظفرآباد سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مظفرآباد کے پلیٹ ہائی اسکول سے مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کی طبیعت میں مطالعے کا شوق اور زبان و بیان سے فطری انس نمایاں ہونے لگا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے ایف۔اے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، مظفرآباد سے مکمل کیاجہاں ان کی فکری سَمت واضح طور پر اردو زبان و ادب کی جانب متعین ہو گئی۔
    اعلا تعلیم کے مرحلے میں انھوں نے بی۔اے اور ایم۔اے اردو آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی سے مکمل کیا۔ ایم۔اے کے دوران میں ان کی علمی صلاحیت اور تحقیقی رجحان نہ صرف اساتذہ کی توجہ کا مرکز بنا بلکہ ہم عصروں میں بھی ان کی شناخت ایک سنجیدہ طالبہ کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کے اندر محقق کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔
    طویل انتظار کے بعد ایم فل اردو کے لیے ڈاکٹر صائمہ خان نے ہزارہ یونی ورسٹی،مانسہرہ کا انتخاب کیا۔ یہاں انھوں نے تحقیقی اصولوں اور تنقیدی توازن کے عملی تقاضوں کو قریب سے سمجھا۔ ان کا تحقیقی موضوع
    “افتخار مغل بحیثیت شاعر”
    انتخاب کے اعتبار سے نہایت معنی خیز اور فکری سطح پر خاصا پیچیدہ تھا۔
    افتخار مغل کی شاعری جدید اردو شاعری میں فکری تہ داری، علامتی نظام اور عصری شعور کی نمائندہ ہے۔ اس شاعری کا تحقیقی مطالعہ محض اشعار کی توضیح یا موضوعاتی فہرست سازی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے شعری جمالیات اور فکری پس منظر کا ادراک ناگزیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس تحقیقی ذمے داری کو نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ نبھایا۔
    2015ء میں وہ اپنے ایم فل کے تحقیقی مرحلے میں تھیں اور موضوع کی نزاکت کے پیشِ نظر علمی معاونت کی تلاش میں اہلِ علم سے رابطہ کرتی رہیں۔ مسلسل مطالعے، مواد کے انتخاب، تجزیے اور تنقیدی استدلال کے بعد یہ مقالہ پایۂ تکمیل کو پہنچا اور 2017ء میں انھوں نے ہزارہ یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کی ڈگری کامیابی سے حاصل کی۔ یہ مقالہ اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہے اور بلاشبہ شائع ہونے کے بعد افتخار مغل کی شاعری کے مطالعے میں ایک مستند حوالہ بنے گا۔

    علم و استقامت کی مورت: ڈاکٹر صائمہ خان


    تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صائمہ خان کا تدریسی سفر بھی نہایت منظم اور بامقصد رہا ہے۔ وہ 2010ء سے آزاد کشمیر کے شعبۂ ہائر ایجوکیشن میں بہ طور لیکچرر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس طویل عرصے میں انھوں نے باغ اور چکار کے کالجز میں تدریسی فرائض سرانجام دیے اور ہر جگہ اپنی شناخت ایک محنتی، ذمے دار اور طلبہ نواز استاذ کے طور پر قائم کی۔
    2019ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے لیے کامیابی حاصل کی اور یوں وہ اس اہم منصب پر فائز ہوئیں۔ اس وقت وہ گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی تدریس محض نصابی متن کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ وہ طلبہ میں فکری سوال اٹھانے، تنقیدی سوچ اپنانے اور زبان کی تہذیب سیکھنے کا شعور بےدار کرتی ہیں۔
    ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کا مرحلہ کسی بھی محقق کے لیے سب سے زیادہ صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مرحلے کا آغاز بھی ہزارہ یونی ورسٹی سے کیا۔ ان کا تحقیقی موضوع
    “اعجاز رحمانی کی شاعری میں اسلامی انقلابی شاعری” تھا۔
    یہ موضوع فکری اعتبار سے نہایت حساس اور علمی سطح پر گہری بصیرت کا تقاضا کرتا تھا۔ اسلامی انقلابی شاعری محض جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی ردِعمل کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام، تہذیبی شعور اور اخلاقی نصب العین کی حامل روایت ہے۔ اعجاز رحمانی کی شاعری میں اس رجحان کا تحقیقی مطالعہ ایک ہمہ گیر تنقیدی نگاہ کے ساتھ ساتھ مذہبی علم اور ادبی توازن کا متقاضی تھا۔
    ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مقالے میں اسلامی فکر، انقلابی شعور، شعری جمالیات اور فکری تسلسل کو نہایت سلیقے اور تحقیق کے ساتھ مربوط کیا۔ یہ تحقیقی کام ڈاکٹر مطاہر شاہ کی زیرِ نگرانی مکمل ہواجن کی علمی رہنمائی اور فکری سرپرستی نے اس مقالے کو مزید استحکام اور وقار عطا کیا۔
    15 جنوری 2026ء کو ہزارہ یونی ورسٹی کے ایک ہال میں انھوں نے اپنے مقالے کا نہایت اعتماد اور علمی استدلال کے ساتھ کامیاب دفاع کیا اور یوں وہ “ڈاکٹر صائمہ خان” کے معزز خطاب سے سرفراز ہوئیں۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا مظہر تھا بلکہ اردو تحقیق کی روایت میں بھی ایک خوش گوار اضافہ ثابت ہوا۔مقالے کی ممتحن ڈاکٹر فرحت جبین ورک نے ان کے اندازِ تکلم اور اس پر شین قاف کے بہتر ہونے کو خوب سراہا۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شخصیت محض تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں بلکہ وہ ادبی و علمی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ کالج سے شائع ہونے والا ادبی رسالہ “سبدِ گل” ان ہی کی ادارت میں شائع ہوا جو ان کی ادبی بصیرت اور تنظیمی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
    اس کے علاوہ مختلف ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان تحریروں میں تحقیقی اصولوں کی پاس داری اور اسلوب کی سنجیدگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ میں اردو ریویو کمیٹی کا حصہ بھی رہی ہیں جو ان کی علمی اہلیت اور فکری اعتماد کا عملی اعتراف ہے۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شناخت کا ایک روشن پہلو ان کی تحقیقی دیانت اور فکری انکساری ہے۔ انھوں نے تحقیق کو کبھی ذاتی مفاد یا رسمی تکمیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہر مقالے اور ہر مضمون کو ایک اخلاقی ذمے داری سمجھ کر تحریر کیا۔ ان کے نزدیک تحقیق، متن اور محقق کے درمیان ایک مقدس رشتہ ہے جس کی پاس داری لازم ہے۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک جذباتی اور روحانی حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اس علمی کامیابی کو اپنی والدہ کے نام منسوب کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد ان کی والدہ کی خواہش، دعا اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ناسازیِ صحت، گھریلو ذمے داریاں، اولاد کی پرورش اور ملازمت کے ساتھ اس قدر وقیع تحقیقی کام انجام دینا آسان نہ تھا مگر ماں کی دعا نے اس سفر کو ممکن بنایا۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کا علمی و تحقیقی سفر اس امر کی زندہ مثال ہے کہ اگر علم کو اخلاص اور دیانت کے ساتھ اختیار کیا جائے تو وہ فرد کی ذات سے آگے بڑھ کر اجتماعی فکری ورثے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی کاوشیں اردو تحقیق کے افق پر ایک ایسی روشنی ہیں جو دیر تک اہلِ علم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ بلاشبہ ڈاکٹر صائمہ خان آزاد کشمیر کی اردو دنیا میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام کی حیثیت رکھتی ہیں۔

  • فخرالزمان سرحدی کالم نگار ہری پور

    فخرالزمان سرحدی کالم نگار ہری پور

    فخرالزمان سرحدی کالم نگار ہری پور

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    پیارے قارئین سرِ زمین ہری پور کے تاریخ ساز علاقہ یونین کونسل ریحانہ کے گاؤں ڈِنگ میں فخرالزمان سرحدی نے 11 نومبر 1965ء کو جنم لیا ۔ابتدائی تعلیم ریحانہ کے گورنمنٹ پرائمری سکول ریحانہ سے حاصل کی ۔ میٹرک کا سالانہ امتحان گورنمنٹ سکول ریحانہ ہری پور سے پاس کیا ۔1983ء کے سال میں گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج ہری پور سے پی ۔ ٹی ۔ سی کا کورس مکمل کیا ۔ یکم ستمبر 1984ء میں بحیثیت معلم محکمہ تعلیم ہری پور میں ملازمت کا آغاز کیا ۔ متعدد تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات ضلع ہری پور میں سر انجام دیتے رہے ۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ آئی ۔ ای ۔ آر سے ایم ۔ اے ۔ ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی ۔ ایس ۔ ایس ۔ ٹی پوسٹ سے 2018ء کو ریٹاٸر منٹ لے کر باقاعدہ تحریر و تصنیف پر توجہ مرکوز کی ۔ انٹر نیشنل رائیٹرز فورم اسلام آباد سے تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کالم نگاری کی مہارت بھی حاصل کرتے رہے ۔شہزاد افق چیئرمین انٹرنیشنل پاکستان اسلام آباد کی دلچسپی اور محبت سے قلمی سفر جاری رکھا ۔ بالآخر 2022ء اٹھارہ اگست کے دن کتاب ٫٫ چمن کی فکر ،، کی شاندار تقریب رونمائی پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں منعقد ہوئی ۔ بحیثیت مصنّف کتاب بہت زیادہ پذیرائی ملی ۔گورنمنٹ گرلز کالج سراۓ صالح ہری پور سے بی ۔ ایس کی ایک ہونہار طالبہ نے اس کتاب پر مقالہ لکھا۔قلمی سفر اللّٰہ کے فضل و کرم سے اب بھی جاری ہے ۔

    فخرالزمان سرحدی کالم نگار ہری پور

    برصغیر پاک و ہند کے معتبر اخبارات میں کالم شامل اشاعت ہوتے ہیں۔مختلف کتب اور مصنفین کی خدمات پر تجزیے اور تبصرے لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ اخبارات کے مدیران و مالکان کی محبت ہے تحریریں اور کالم خصوصی انداز سے شامل اشاعت کرتے ہیں ۔ بامقصد تحریروں سے سماج اور معاشرہ کے لیے مثبت پیغام دیتے ہیں ۔ ایک امید اور آس ان کی تحریروں سے عیاں ہوتی ہے اور مایوسی کے اندھیروں کے خاتمہ کے لیے تحریروں کی سوغات بھی پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ قلمی سفر ایک عزم اور تمناۓ دل سے جاری رکھنے کے لیے پرعزم رہتے ہیں۔شہزاد ۔ مزید برآں موٹیویشنل سپیکر کی حیثیت سے ضلع ہری پور میں متعدد تعلیمی اداروں میں قوم کے سرمایہ طلبہ سے مخاطب ہونے کا موقع ملا ۔ بزم ادب کے پروگرام ہوں کہ سالانہ نتائج یا سیرت کانفرنس تعلیمی اداروں میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیے جاتے ہیں ۔ ضلع ہری پور بلکہ ہزارہ ڈویژن کی ادبی تنظیم بزم مصنّفین ہزارہ بھی تقریبات میں دعوت پر شمولیت کا موقع ملتا ہے ۔ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات عزت اور احترام سے پیش آتی ہیں ۔ نیز بحیثیت قلم کار کوشش ہوتی ہے کہ با مقصد تحریریں پیش کی جائیں ۔ دُعا ہے اللّٰہ کریم موصوف کو ہر میدان میں کامیاب کریں ۔ قلمی سفر میں بھی شریک ہیں ۔ اس لیے دل سے محبت ہے ۔

  • آرسی رؤف کا افسانہ “تکون”

    آرسی رؤف کا افسانہ "تکون”

    آرسی رؤف کا افسانہ "تکون”: فنی و فکری مطالعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)

    rachitrali@gmail.com

    آرسی رؤف نے لکھنے کا  آغاز 2019 میں آواز صبح، ندائے خلق اور جیو ہزارہ میں آرٹیکل لکھتے ہوئے کیا۔ بعد ازاں ادب اطفال سے بھی منسلک ہو گئیں اور مختلف رسائل و اخبارات میں نظم اور کہانیاں لکھیں۔ شاعری کا ذوق بچپن سے ہی ہے۔ اپوا سے شائع  کردہ  دیوان سخن  میں بطور اشتراکی شاعرہ شمولیت اختیار کی۔انگریزی ناولٹ Ties and Knots بطور اینتھالوجی چھپ چکا ہے۔ بچوں کا ناولٹ کہاوتوں کی جادونگری ان کی تخلیق ہے۔ کبھی کبھار افسانہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتی ہیں۔

    آرسی رؤف کا اردو افسانہ "تکون” معاشرتی دباؤ، ذاتی خواہشات اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کی پیچیدہ کہانیوں کی ایک مختصر جھلک پر مبنی بہترین معاشرتی کہانی ہے۔ اس افسانے میں ربیعہ کے گرد مرکوز ایک پُرجوش اور دلچسپ کہانی بنی گئی ہے، جو کہ ایک نوجوان عورت ہے اوع روایتی ماحول میں شادی اور توقعات کے میدان میں گھوم رہی ہے۔

    افسانے کا عنوان "تکون” یعنی (مثلث)، علامتی طور پر ربیعہ کی زندگی کی مثلثی حرکیات کو سمیٹتا ہے۔ ایک ایسی زندگی جو خاندانی ذمہ داریوں، معاشرتی اصولوں، اور ذاتی تکمیل کی جستجو سے جڑی ہوئی ہے۔ کہانی ایک محدود جگہ میں سامنے آتی ہے، جو سماجی تعمیرات کے اندر ربیعہ کے محدود وجود کی استعاراتی طور پر عکاسی کرتی ہے۔

    ربیعہ جسے کمپرومائز کرنے والی اور قابل عورت کے طور پر دکھایا گیا ہے، اپنے محدود دائرے میں رہتے ہوئے خوشی کی جھلک تراشنے کے لیے سرگرداں ہے۔ مصنفہ آرسی رؤف نے اپنی فکر انگیز نثر کے ذریعے مرکزی کردار ربیعہ کو مشکلات سے نبرد آزما ہونے والی ایک ہیروئن کے طور پر پیش کیا ہے- ایک مرکزی کردار جس کی اندرونی جدوجہد اس کی تقدیر کو تشکیل دینے والی بیرونی قوتوں کی آئینہ دار ہے۔

    بیانیہ ثقافتی توقعات کے پس منظر میں محبت، فرض، اور خود حقیقت پسندی کے موضوعات کو بڑی مہارت سے تلاش کرتا ہے۔  ربیعہ  کا سفر ا‌‌‌یک فرض شناس بہو سے لے کر اپنی ذات کو قربان کرنے کا دعویٰ کرنے والی خاتون تک، روایت اور انفرادی خود مختاری کے درمیان لازوال تصادم کی مثال پیش کرتا ہے۔

    مصنفہ نے ربیعہ کی دنیا کی کہانی کو بیان کرنے کے لیے باریک بینی کی خصوصیات کا استعمال کیا ہے۔ ربیعہ کے شوہر زبیر، ربیعہ کے اس جڑے ہوئے وجود کی 

     نمائندگی کرتے ہوئے  نظر آتے ہیں، جو اس سے بھی آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ اس کی خوش فہمی اور معاشرتی پابندی  ربیعہ کے اندرونی انتشار کو جوڑ کر سامنے لاتی ہے، جو ذاتی خواہشات اور معاشرتی احکام کے درمیان تضاد کو اجاگر کرتی ہے۔

    افسانے میں  الفاظ کی  خوبصورت انداز میں منظر کشی کی گئی ہے جو بیانیہ کے جذباتی انداز کو اجاگر کرتے ہیں۔آرسی رؤف کی زبان نے  ربیعہ کے جذباتی تغیر کو واضح طور پر پکڑ لیا ہے، استغنیٰ سے بغاوت تک، مطابقت سے آزادی تک ہر موضوع کو افسانے میں شامل کیا گیا ہے۔ افسانے میں گھریلو ماحول کو سماجی ‌رویے کا ایک مائیکرو کاسم بنا کر پیش کیا گیا ہے، جہاں ربیعہ  کی خود كو حقیقت پسندی کے لیے تیار کرنے کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔

    ربیعہ کے اپنی ازدواجی قید سے آزاد ہونے کے فیصلے سے نشان زد داستان کی مذمت، کہانی کی موضوعاتی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔ ربیعہ  کا زبیر کو طلاق دینے کا عمل نہ صرف اس کے ذاتی سفر کا خاتمہ ہے بلکہ پدرانہ معاشروں میں خواتین کو درپیش رکاوٹوں پر ایک وسیع تبصرہ بھی ہے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ آرسی رؤف کا افسانہ "تکون” خواتین اور سماجی توقعات کی ایک پُرجوش تحقیق پر مبنی بہترین معاشرتی کہانی ہے۔ ربیعہ کی کہانی کے ذریعے آرسی رؤف روایت، انفرادیت، اور تکمیل کی جستجو کے سنگم پر گہری  کہانی پیش کرتی ہیں۔ یہ کہانی پائیدار انسانی روح کے ثبوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جو معاشرتی اصولوں کی حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتی ہے – ایک ایسی داستان جو قاری کے شعور میں رہتی ہے اور پہلے سے تصور شدہ تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور خود پسندی کے ناقابل تسخیر حصول کا جشن مناتی ہے۔ میں مصنفہ کو اتنی اچھی کہانی تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    Title Image by Steve Buissinne from Pixabay

  •  جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

    جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔برائے جماعت سوم کے سو صفحات ہیں اس کو منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز لاہور نے ایک ہزار کی تعداد میں چھاپا اس کی قیمت چار آنے ہے ۔ اس نایاب کتاب کی پی ڈی ایف کے لئے ھم  ڈاکٹر ناشاد صاحب ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ) کے شکر گزار ہیں ۔ اس کتاب کی تلخیص پیش خدمت ہے ۔

    200 گاؤں ملا کر اٹک تحصیل بنائی گئی ھے اس کا تحصیلدار کیمبلپور میں رہتا ہے۔فتح جنگ تحصیل میں 209 گاؤں اور پنڈی گھیب تحصیل میں 148 گاؤں ہیں۔ 102 گاؤں ملا کر تلہ گنگ تحصیل بنی ہے۔ تحصیلدار کے ماتحت کئی ذیلدار ہوتے ہیں جن کی انعام خوار مدد کرتے ہیں ذیلدار کے ماتحت ہر گاوں میں نمبردار ہوتے ہیں۔ ضلع کا رقبہ چار ہزار مربع میل ہے اس میں 659 گاؤں آباد ہیں اور پانچ لاکھ آدمی بستے ہیں۔

    اٹک ضلع میں بہت سے پہاڑ ہیں۔کالا چٹا پہاڑ ،گندگر، کھیڑی مار،کوا گاڑ،کھیری مورت ، ڈونگی ( یہاں 2024 میں تھانہ چونترہ علاقے میں جاوا ڈیم ہے )اور کوہستان نمک۔

    کالا چٹا پہاڑ 45 میل لمبا ہے یہ دریائے سندھ سے مارگلہ تک شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے ۔دریائے سندھ کے پاس اس کی۔ چوڑائی 12 میل ہے اس کی بلند ترین چوٹی رانی کوٹ ساڑھے تین ہزار فٹ بلند ہے یہ سوجنڈا باٹا کے قریب ہے۔اس پہاڑ کے دو سلسلے ہیں۔شمالی پہاڑ دریائے سندھ سے مارگلہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے پتھروں کی رنگت لائم سٹون کی وجہ سے سفید ہے اس نسبت سے اس کا نام چٹا پہاڑ ہے۔ جنوبی پہاڑ دریائے سندھ سے گگن تک ہے اس کے پتھر سینڈ سٹون ہیں جو بادو باراں سے سیاہ پڑ گئے ہیں اس لئے اس کو کالا پہاڑ بولتے ہیں ۔

    گندگر پہاڑ چھچھ کے مشرق میں ضلع ہزارہ کا پہاڑ ہے ۔گندگر اور کالا چٹا پہاڑ کے درمیان شرقاً غرباً دو پہاڑ اور ہیں۔بڑا پہاڑ 8 میل لمبا اور 2 میل چوڑا ہے اس کا نام کھیڑی مار ہے اس کا سخت پتھر کھیڑی چپل کو بھی کاٹ دیتا ہے ۔کھیڑی مار اور گندگر کے درمیان حسن ابدال اور برہان کے زرخیز علاقے ہیں ۔دوسرا پہاڑ کواگاڑ ہے ۔( گاڑ چھوٹی پہاڑی کو کہتے ہیں ۔حسن ابدال کے پاس چھوئی گاڑ نام کا گاؤں ہے )۔اٹک قلعہ کے پاس اٹک کی پہاڑیاں ہیں جن سے سلیٹ پتھر نکلتا ہے ۔

    کالا چٹا پہاڑ کے جنوب میں مکھڈ کی پہاڑیاں شرقاً غرباً ہیں نرڑہ علاقہ ان کے قریب ہے ( چھب سے جنڈ تک ان پہاڑیوں میں چار ریلوے ٹنل ہیں )۔فتح جنگ کے جنوب میں 24 میل لمبا کھیری مورت پہاڑ ہے ۔

    کوہستان نمک تلہ گنگ کے جنوب میں ھے یہ ضلع اٹک سے باہر ہے اس کا سرد مقام سکیسر ہے اٹک ،میانوالی اور شاہ پور تینوں ضلعوں کے صاحبان ڈپٹی کمشنر بہادر گرمی کے موسم میں یہاں رہتے ہیں

    سندھ ، ہرو،سواں ، سیل ، نندنہ اور گھبیر یہاں کے دریا اور نالے ہیں۔

    دریائے سندھ شملل سے آتا ہے اور ہزارہ ضلع سے ہوتا ہوا غازی کے مقام پر ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے چھچھ اور یوسف زئی کے علاقوں کو چیرتا ہوا جنوب کی طرف بہتا ہے ۔یہاں اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔بیچ میں بہت سے ٹاپو ہیں۔ اٹک قلعہ کے پاس اس کا اس کا پاٹ تنگ ہوگیا ہے کیونکہ دو طرفہ سلیٹ کے پتھر کا پہاڑ ہے ۔ اٹک سے نیچے اس کا پانی شفاف نیلگوں ہے اس لیے نیلاب کہلاتا ہے ۔اس سے نیچے ہاٹ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے ۔سوجنڈہ کے قریب اس کی چوڑائی صرف ساٹھ فٹ رہ گئی ہے یہ نام گھوڑا ترپ کہلاتا ہے مکھڈ میں اس دریا پر کشتیوں کا بڑا  پتن ہے ۔

    1841 میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا جس میں یاسین اور سرکہ کے درمیان سارے گاؤں ڈوب گئے تھے ۔اٹک قلعہ سے تین میل نیچے لوہے کا پل ہے اوپر سے ریل جاتی ہے بیچ سے لاریاں گزرتی ہیں پل پون میل لمبا ہے ۔ خوشحال گڑھ کے قریب ایک اور پل بنایا گیا ھے ۔

    ھرو دریا خانپور سے گندگر کے پہاڑوں کی طرف بہتا ہے یہ دریا اٹک قلعہ سے بارہ میل نیچے گھڑیالہ کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے ۔حسن ابدال کے پاس زراعت کے لئے اس سے نالیاں نکالی گئی ہیں ان کو کٹھہ بولتے ہیں ۔اسی سبب اس علاقے کو پنج کٹھہ کہتے ہیں اس میں سترہ گاؤں آباد ہیں ۔اکثر مقامات پر اس کے پانی سے پن چکیاں چلتی ہیں۔

    دریائے سواں مری سے نکلتا ہے اور چونترہ تحصیل فتح جنگ کے پاس ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے ۔یہ مکھڈ سے دس میل نیچے دریائے سندھ میں جا ملتا ہے ۔

    اکثر برسات میں نہایت چڑھاؤ پر ہوتا ہے سرکاری ڈاک بھی کئی روز تک رک جاتی ہے اور مسافر بھی عبور نہیں کرسکتے ۔ان دنوں ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے مسافروں کو رسد بہم پہنچانے کے لیے ایک دکان متصل بنگلہ  ڈھوک پٹھان کھولی جاتی ہے

    کھرسا میں سواں ہمیشہ پایاب ہوتا ہے اس کے قریب بعض مقامات پر اتنی ریت ( Quicksand) ہوتی ہے کہ اس میں ہاتھی بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔1850 میں حضور لاٹ صاحب جس وقت کالا باغ جا رہے تھے ان کا ایک ہاتھی اس ریت میں دھنس کر غائب ہوگیا۔ سواں کے کنارے چونترہ ,ادھوال ,  چکری ،ڈھڈھمبر،گنڈاکس،ڈھوک پٹھان،جبی ( شاہ دلاور) اور تراپ مشہور گاؤں ہیں۔

    پنڈی گھیب والی سیل ۔یہ نالہ کھیری مورت سے نکل کر  مغرب کو بہتا ہوا پنڈی گھیب کے پاس سے گزرتا ہے اور سواں میں جا گرتا ہے ۔ پنڈی گھیب کے پاس اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔اس نالے کے پہلے حصے کا نام ٹوتھل ہے ۔پنڈی گھیب کے پاس اس کا نام سیل Seel ہو گیا ہے ۔اس کے کنارے اخلاص ،پنڈی گھیب اور دندی کے قصبے ہیں ۔

    فتح جنگ والی سیل کا پنڈی گھیب والی سیل سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ دونوں مختلف نالے ہیں۔یہ نالہ کھیری مورت سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور سواں میں ( چکری کے پاس) جا ملتا ہے ۔

    نندنہ نالہ کھیری مورت سے شمال کی طرف سے نکل کر کالا چٹا پہاڑ کو چیرتا ہوا اکھوڑی پہنچ جاتا ہے ۔یہ کنجور کے قریب دریا ھرو سے جا ملتا ہے ۔

    نالہ چیل  بیس میل لمبا ہے یہ ھٹی ( ھٹیاں) کی دلدل ( اب خشک ہو گئی ) سے نکل کر شمس آباد سے گزرتا ہوامانسر کے قریب سندھ میں جا ملتا ہے ۔ھٹی کے مقام پر چھ سو ایکڑ رقبہ پر جھیل تھی اس کو ڈپٹی کمشنر گاربٹ صاحب نے خشک کرا کر آباد کر دیا ہے ۔

    جاری ہے …….

  • بساط اور فرہاد

    بساط اور فرہاد

    بساط اور فرہاد

    تحریر: ریاض ملک
    سینئر وائس چیئرمین
    بزمِ مصنّفین ہزارہ
    مجھے لگتا ہے کہ مجلہ ”بساط“ Bisaat کے ساتھ وادیئ نیلم کے فرہاد کا نام ایسے جُڑ جائے گا جس طرح لوک داستان شیریں فرہاد میں شاہ ایران کی ملکہ شیریں کے ساتھ سنگ تراش فرہاد کا نام جڑا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوگا وہ داستانِ غم تھی لیکن اب کے جو داستان جنم لے گی جو زبانِ زدِ عام ہو گی وہ اردو ادب کی داستانِ فرحت ہو گی ”بساط اور فرہاد“۔ فرہاد سچے عاشق کو کہا جاتا ہے۔ ہمارا فرہاد بھی سچا عاشق ہے،اس کی محبوبہ نہایت ہی خوبصورت نین نقش والی ہے، جس کے ہونٹ گلاب کی طرح سرخ، گردن صراحی جیسی، جھیل جیسی نیلی آنکھیں، کشمیر کے سیب جیسے سرخ رخسار، نیلم دریا کی طرح بَل کھاتی زلفیں، دیودار جیسا قد، چاند چہرے والی کوئی اور نہیں وہ حسن کی ملکہ ”اردو“ ہے جس سے وادی نیلم کے پڑھاکو فرہاد کو عشق ہو گیا ہے۔ اور وہ عشق کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر علم و ادب کے موتی نکال نکال کر بساط میں جڑتے جا رہے ہیں۔

    بساط اور فرہاد


    یہ نہایت ہی خوشی کی بات ہے کہ بساط کا تیسرا مجلہ ایک بہت بڑی ادب کی قد آور شخصیت پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کی یاد میں شائع کیا جا رہا ہے۔جنھیں حکومت پاکستان کی جانب سے 2007ء میں تمغائے امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ اور پھر ان کا تعلق بھی آزاد کشمیر ضلع پلندری سے ہے۔ مجھے کشمیر اور کشمیر کے باسیوں سے کچھ زیادہ محبت اس لیے بھی ہے کہ میرے آباؤاجداد بھی وادئ نیلم کے گاؤں بٹمنگ سے نقل مکانی کرکے رچھ بہن ایبٹ آباد میں جا کر آباد ہوئے تھے۔
    گورنمنٹ بوائز انٹرکالج میرپورہ Govt . College Mirpura کا پہلا علمی و ادبی مجلہ 2020ء میں شائع ہوا۔ اس کے مدیر اعلا فرہاد احمد فگارFarhad Ahmed Figar تھے۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد رفیق کی سرپرستی میں یہ مجلہ شائع ہوا اس مجلہ میں ڈاکٹر خواجاعبدالرحمن ناظم اعلا تعلیمات کالجز آزاد کشمیرلکھتے ہیں کہ ”علمی و ادبی مجلے کا اجرا میرے لیے باعث مسرت ہے مجھے اس بات کا پورا ادراک ہے کہ کسی بھی ادارے سے اس طرح کے مجلے کا جاری ہونا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔یہ ایک ایسا مرکز ہے جس سے طلبہ اپنی عملی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتے ہیں اس سے طلبہ کے اندر شوق، لگن اور مثبت سرگرمیاں پروان چڑھتی ہیں۔“اس بات میں ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں کہ درس گاہوں میں علم و ادب کی ترویج بزمِ ادب سے شروع ہوتی ہے اور پھر کالج اور یونی ورسٹیوں میں ان مجلوں کی وساطت سے پروان چڑھتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے سمت کا تعین ہوتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرپورہ کالج ”بساط“ کا اجرا کرکے طلبہ کے علمی و ادبی ذوق کو پروان چڑھا رہا ہے۔
    دوسرا مجلہ بساط Bisaat 2021ء بھی پروفیسر محمد رفیق (پرنسپل) کی زیرسرپرستی ہی شائع ہوا۔ اس مجلے میں جاوید الحسن جاوید سیکرٹری پبلک سرورس کمیشن آزاد کشمیر نے اسے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”یقینا یہ آزاد کشمیر کی علمی و ادبی نیز تحقیقی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔“ اسی طرح کالج کے پرنسپل اپنے پیغام میں لکھتے ہیں ”کالج کی انتظامیہ کی کوشش ہے نہ صرف نصابی سرگرمیوں کی طرف توجہ دی جائے بل کہ اس کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف بھی بھرپور توجہ دی جائے۔ گاہے بہ گاہے تقریبات کا انعقاد اور یہ مجلہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔“ ساتھ ساتھ انھوں نے فرہاد احمد فگار اور بشارت کیانی کی کاوشوں کو بھی خوب سراہا ہے۔
    فرہاد احمد فگارFarhad Ahmed Figar پہلے مجلے میں یوں عرضِ فگار کرتے ہیں ”میں اس رسالے کی اشاعت پر ان تمام چاہنے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنھوں نے اس کی اشاعت میں کسی بھی طرح کا تعاون کیا ہے۔ میں نے اپنی ”بساط“ کے مطابق کام کیا اور طلبہ نے اپنی ”بساط“ کے مطابق، یوں سب کی بساطBisaat کو ہم نے ”بساط“ کی صورت دے دی۔ کوشش رہے گی اِن شاء اللہ آئندہ بھی اس رسالے کی اشاعت باقاعدگی سے جاری رہے۔
    فگار پھر بساط2022ء کا مجلہ شائع کرکے تجدیدِ عہد کر رہے ہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خوش قسمت ہیں وہ طالب علم جن کو اس دورافتادہ علاقے کے کالج میں فگار جیسے معلم ملے ہیں اور ”بساط“ Bisaatجیسے علمی ادبی مجلہ کا اجرا ہو رہا ہے، جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔ ابتدا ہی میں اگر ایسا مضبوط مستند پلیٹ فارم میسر آ جائے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان پربتوں کی کوکھ سے بڑے بڑے لکھاری جنم لیں گے جو ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔

  • شمالی علاقہ جات کی سیاحت 1

    شمالی علاقہ جات کی سیاحت 1

    شمالی علاقہ جات کی سیاحت کچھ تجربات سفر قسط 1

    ایک دن اچانک وٹس ایپ اسٹیٹس دیکھا میرے ایک دیرینہ دوست پروفیسر عارفین بٹ جوکہ سئنیر صحافی متین حیدر بٹ کے چھوٹے بھائی ہیں نے ایک دوستانہ پروگرام ترتیب دیا تھا جس کو نام دے رکھا تھا (Explore Hunza)میں جو مشینی زندگی اور لوڈ شیڈنگ کے عزاب سے پہلے ہی تنگ فنگ بیٹھا تھا سوچا چلو پرانے دوستوں سے محفل بھی رہے گی اور ذرا ہم بھی ٹھنڈی ہوائوں کا مزہ لے لیں گے سو ان کو کال کی اور اپنا نام فہرست میں درج کروا کر ان کو اپنے حصہ کے سفری اخراجات ایزی پیسہ کردئیے۔

    raza


    25 جون 2022 یہ ہماری روانگی کی تاریخ طے ہوئی تھی سو 24 جون کی رات کو سفری بیگ ضروری سامان ہائیکنگ اسٹک جوگرز جینز کیپ گویا کہ سب ضروری آئٹمز پیک کر دئیے۔
    صبح سویرے نماز پڑھ کر آئی ٹین اسلام آباد قریبی سٹاپ پر اپنی بک شدہ گاڑی کا طے شدہ پروگرام کے مطابق انتظار کرنے لگا فکس چھ بجے ہائی روف وین سٹاپ پر آگئی اور ہم عازم سفر ہوئے۔

    raza


    موٹروے سے ہزارہ موٹروے پر گاڑی دوڑنے لگی اس میں کوئی شک نہیں کہ ہزارہ موٹروے ایک شاہکار ہے اور اس پر بنے ٹنل بہت ہی منفرد اور عجوبہ ہیں مانسہرہ کے قریب جاکر اس یہ پہلا مکمل شدہ فیز ختم ہوتا ہے اس پر قریبا اسلام آباد سے سوا دو گھنٹے لگے اور ہم موٹروے سے اتر کر بالا کوٹ جانے والے راستے پر آگئے پہاڑ اونچے ہوگئے تھے موسم بھی قدرے بہتر تھا ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے ہمارا ڈرائیور بھی ہنزہ کا ہی تھا کافی مشاق اور چاک وچوبند تھا تاہم بالا کوٹ تک قریبا بیس کلومیٹر کا راستہ انتہائی خستہ حال اور کھڈوں سے بھرپور ہے پھر کچھ آگے جاکر روڈ بہتر ہوگیا جوکہ بالا کوٹ سٹی تک قدرے حال مناسب تھا مگر اس خستہ حال روڈ پر تیزی دکھانے سے گاڑی میں خرابی ممکن ہے سو احتیاط سے چلیں ہمارا پہلا سٹاپ دریائے کنہار کے کنارے بالا کوٹ نیو سٹی کو کراس کرکے پرانے شہر سے کچھ پہلے تھا جہاں ہم نے چائے پی یہ وقت قریبا 11 بج چکے تھے ۔

    جاری …..

    Raza syed

    رضا سیّد

  • سہ ماہی جمالیات

    سہ ماہی جمالیات

    طاہر اسیر کی ادارت میں اٹک سے شائع ہونےوالے معروف ادبی شمارے سہ ماہی جمالیات کااجرا 2010ء  میں ہواسہ ماہی بنیادوں پراسےجاری رکھنےکےسلسلہ میں طاہراسیرکےہمراہ عرفان محمودعرفی تھےجواسوقت معاون مدیرکےطورپہ جمالیات میں شامل کیے گئے .  جمالیات کاپہلاپرچہ حبدارحسین سیّدکی سرپرستی میں شائع ہوابعدمیں شائع ہونےوالےنسخوں میں مجلس ادارت بدلتی رہی اوربہت سےلوگ جہاں کنارہ کش ہوتےرہےوہیں نئےلوگ اسمیں شامل ہونےلگےیہی کیفیت مجلس مشاورتکی رہی حسین امجدکومشاورت میں شامل کیاگیابعدمیں معاون کےطورپہ انہوں نےکام کیااورپھرمدیراعلیٰ بنائےگئے  جمالیات نےطاہراسیرکی ادارت میں بہت یادگارنمبرشائع کیےاوربہت سےنئےتخلیقارادبی دنیامیں متعارف ہوئےیادگارنمبرجن میں غزل نمبر،شاکرالقادری نمبر،سلام نمبر،علامہ قاضی انوارالحق نمبرقابل ذکرہیں۔ جمالیات نےبہت مختصروقت میں پاک وہندکےمعروف تخلیقاروں کواپنی جانب متوجہ کیاتقسیم ہندکےمعاملےپرکرشن چندرکےناول غدارکوقسط وارشائع کرنےپراس پرچےکوجہاں تنقیدکانشانہ بنایاگیاوہیں اسکی مانگ میں بھی اضافہ ہوا۔

    سہ ماہی جمالیات
    سہ ماہی جمالیات

    حبدارحسین سیّدجب ایک حادثہ میں انتقال فرماگئےتوجمالیات کی پیشانی پہ بیادحبدارحسین سیّدلکھاجانےلگا.

    اس معروف پرچےنےنہ صرف پاکستان کےہرشہرتک رسائی حاصل کی بلکہ بیرون ممالک تک بھی  اسے پہنچایا گیا .  جمالیات19 میں طاہراسیرنےتمام ادارت کوتبدیل کردیا  سیّدمونس رضاکوسرپرست بنایااورمعاونت ومشاورت میں آغاسیّدجہانگیربخاری،ڈاکٹرشجاع اختراعوان،سیّدصفدرعباس،خرم خلیق،عائشہ مسعود،رضوانہ رضی اورشہاب صفدرکوشامل کردیا. جمالیات کےکام  اورمقام کودیکھتےہوئےہزارہ یونیورسٹی نےاسےایم فل کےلیےموضوع بنایااورطاہرامین نامی طالبعلم نےجمالیات پہ ایم فل کرکےڈگری حاصل کی۔