جو ہم نے دیکھا -1

تحریر

سیّد زادہ سخاوت بخاری

ویسےتو پاکستان کے چھٹے وزیراعظم مرحوم آئی آئی چندریگر سے لیکر میجر جنرل اسکندر مرزا تک کا زمانہ ، ایک بھولے بسرے خواب یا سپنے کی طرح ہمارے ذھن کے کسی خانے میں موجود ہے لیکن سچ بات یہ ہے کہ ، جب ہم ہوش کی دھلیز کی طرف بڑھے تو اسکندر مرزا کی رخصتی اور جنرل ایوب خان کی آمد کا بگل بج رہا تھا ۔ 

اس زمانے میں ٹی وی تھا اور نہ سوشل میڈیا بلکہ ٹیلیفون کی سہولت بھی گنتی کے چند شھریوں کو حاصل ہوا کرتی تھی ۔ ریڈیو پاکستان کے علاوہ چند اخبارات تھے اور ان کی ترسیل بھی شھری علاقوں تک محدود تھی لھذا جب اسکندر مرزا نے 7 اکتوبر 1958 کو مارشل لگاکر ، اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تو اس بات کی اطلاع ، ریڈیو اور محدود اخبارات کے ساتھ ساتھ ، بذریعہ اشتہارات عوام تک پہنچائی گئی ۔ وہ اشتہار آج بھی میری یاداشت میں محفوظ ہے ، جس میں لکھا تھا ،” ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا گیا ہے اور جنرل محمد ایوب خان مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر ہونگے وغیرہ ” ۔مارشل لاء کے نفاذ کے فورا بعد ، جنرل ایوب خان نے جناب اسکندر مرزا کو معزول کرکے ، مع بیگم ناھید مرزا ، لندن کی راہ دکھائی اور خود صدر پاکستان کا تاج سر پہ سجاکر ، ملک کے بلا شرکت غیرے حکمران بن بیٹھے ۔ایوب خان کا دور حکومت تقریبا 12 سال کے عرصے پہ محیط ہے ۔ انہوں نے آتے ہی ایسے سخت اور حقیقی اقدامات اٹھائے کہ چور ، اچکے ، اسمگلر ، ذخیرہ اندوز ، ملاوٹ کرنے والے ، بدمعاش اور غنڈوں کی شامت آگئی ۔ پاکستان میں ابتک چار جرنیلی حکومتیں آئیں لیکن ایوب خان جیسا مارشل لاء پھر دیکھنے کو نہ ملا ۔ آج کا سیاسی مورخ ایوب خان پہ لاکھ تنقید کرے ، کتنا ہی برا بھلا کہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظہور پاکستان کے بعد ، اگر ملک میں تعمیر و ترقی کی بات ہوگی تو ایوب خان کا ذکر منہاء نہیں کیا جاسکے گا ۔پن بجلی کے وارسک ، منگلا اور تربیلا جیسے عظیم الشان منصوبے ، مختلف مصنوعات کے کارخانے ، زرعی اصلاحات ، وفاقی دارلحکومت کی کراچی سے منتقلی اور اسلام آباد کی تعمیر کے علاوہ اعشاری سکے کے قیام سے لیکر ، جنگ ستمبر 1965 تک ان کے کارنامے ناقابل فراموش ہیں ۔ 

President Ayub Khan meeting Soviet Premier Alexei Kosygin in 1960s.
فیلڈ مارشل ایوب خان روسی کونسل وزرا کے سربراہ آلکسی کاسیگین کے ساتھ

میں اس وقت پشاور میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا جب ھندوستان نے رات کے اندھیرے میں ، ہمارے ملک پہ حملہ کردیا ۔ صبح جب ہم اسکول گئے تو ہمارے استاد محترم نے ہم سے کہا ، بچو کیا آپ کو پتہ ہے ، ھندوستان نے ہم پہ حملہ کردیا ہے اور شب گزشتہ وزیر آباد ریلوے اسٹیشن پہ کھڑی ایک مال گاڑی کو نشانہ بنایا ، جس کی زد میں آکر ایک بچی شھید ہوگئی ۔عجیب حیرت اور ھندوستان کے خلاف غم و غصے کا ماحول تھا ، ہماری عمریں اس وقت 16 اور 17 برس کے لگ بھگ تھیں لیکن ہر لڑکا محاذ جنگ پہ جانے اور ھندوستان کے خلاف لڑنے کی خواھش رکھتا تھا ۔ کچھ ہی دیر میں تعلیمی ادارے حفظ ما تقدم کے طور پر بند کردئے گئے اور ہم گھروں کو روانہ ہوگئے ۔یوں تو اس جنگ کی بہت ساری یادیں ہیں لیکن جس بات کو اس وقت کے لوگ ابتک بھلا نہیں پائے ، . وہ تھی جنرل ایوب خان کی اس موقع پہ تقریر ۔غالبا 6 ستمبر 1965 کی شام ، بہت سارے لوگ ، پشاور میں ہماری قیام گاہ کے قریب ایک ڈھابہ نماء قہوہ خانے پہ جمع تھے ، ہم چند لڑکے بھی تجسس میں وھاں جاکر بیٹھ گئے، مکمل سکوت طاری تھا ، کوئی قہقہ نہیں ، کوئی ہنسی مذاق نہیں ، پتہ چلا ، ایوب خان ریڈیو پہ قوم سے خطاب کرنے والے ہیں ۔ریڈیو آن تھا ، تھوڑی دیر میں اناونسر نے کہا ، خواتین و حضرات ، صدر پاکستان ، ترانہ بجا اور شیر کی آواز گونجی ،بسم اللہ الرحمن الرحیم میرے عزیز ہم وطنوالسلام علیکم آپ کے علم میں ہوگا کہ رات کے اندھیرے میں ھندوستان نے ہم پہ حملہ کردیا ہے ، دشمن کو معلوم نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے ۔ایوب خان کے اس تاریخی جملے نے قوم میں ایسا جذبہ اور ہمت پیدا کردی کہ ہمارے نوجوان دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے ۔ نوجوانوں کو یاد رکھنا چاھئے کہ عالمی جنگوں کی تاریخ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی چڑھائی ، ھندوستان نے ہم پہ کی لیکن مادر وطن کے عظیم سپوتوں نے اس یلغار کو اپنے سینوں پہ روکا ۔جنگ ستمبر17 روز تک جاری رہی ، یہ وہ واحد جنگ تھی ، جس میں ہم نے کھویا کم اور پایا بہت زیادہ ۔ دشمن نے رات کے اندھیرے میں لاھور سیکٹر پہ چڑھائی کردی اور لاھور کے قریب باٹا پور تک آگئے مگر ہمارے طرف سے میجر عزیز بھٹی شھید نشان حیدر جیسے سپاہی موجود تھے جنھوں نے جانوں پہ کھیل کر دشمن کو راہ فرار اختیار کرنے پہ مجبور کردیا ۔ سندھ سیکٹر میں ہمارے کچھ علاقے پہ دشمن نے قبضہ ضرور کیا مگر سیالکوٹ سیکٹر میں ہمارے بہادر جوان چھمب جوڑیاں اور اکھنور تک جا پہنچے ۔کہاں تک سناوں کہاں تک سنوگے ، اس جنگ پہ بہت ساری کتابیں لکھی جا چکی ہیں ، میں یہاں صرف اپنی یاداشتیں قلمبند کررہا ہوں اور اس کہانی کو قسط وار تجزیاتی زاوئے سے موجودہ دور تک لانے کی کوشش کرونگا ۔ایک زمانے میں یہاں کے انگریزی اخبارٹائمز آف عمان کے ریڈرز فورم میں ، پاکستان کے اس وقت کے حالات پہ میرا ایک تجزیاتی خط چھپا ، جس میں ایوب خان کی تعریف و توصیف موجود تھی ، اشاعت کے اگلے روز ، اپنے ہی ادارے کے ایک اعلی اہلکار نے مجھے فون کرکے ، نہائت شائستہ انداز میں ڈانٹ پلائی کہ یہ آپ نے کیا لکھ دیا ۔ ان کی اپنی مجبوری تھی لیکن ہم تاریخ کو بدل نہیں سکتے ۔ میں نے شروع میں لکھا کہ آپ ایوب خان کے دور پہ جتنی چاھیں تنقید کرلیں لیکن ، آج 2018 میں قوم کو درپیش صورت حال کا موازنہ اگر ہم ایوب خان کے دور سے کریں تو یقین نہیں آتا کہ یہ وہی پاکستان ہے ۔میں بحیثیت چشم دید گواہ بہ یک جنبش قلم کہ سکتا ہوں کہ آج ہم جن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ، ان مسائل کا نام و نشان نہ تھا ۔آج کے ترقی یافتہ کوریا سے ایک وفد نے اس دور میں یہ جاننے کے لئے پاکستان کا دورہ کیا کہ ، یہ ملک کس گیدڑ سنگھی کی بنیاد پہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا ہے ۔ یہی پاکستان تھا جس نے اس زمانے میں جرمنی کو کروڑوں روپیہ بہ طور قرض دیا ۔ آپ کو یقین نہیں آئیگا کہ ایوب خان کے دور میں خالص دیسی گھی 4 سے 5 روپے سیر اور چینی ڈیڑھ روپے سیر تھی اور جب چینی ایک روپیہ آٹھ آنے سے ایک روپیہ چودہ آنے ہوئی تو چینی چور کے نعرے لگ گئے کیونکہ ایوب خان کا مردان سے ایک وزیر عبدلغفور ہوتی شوگرملز کا مالک تھا اور یہی ھنگامے ایوب خان کو لے ڈوبے ۔

جاری ہے ….

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سرپرست اٹک ای میگزین

مسقط، سلطنت آف عمان

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

سنگِ پارَس

منگل اپریل 6 , 2021
وہ اگر لوہے سے مس کیا جائے یا چھو جائے تو اسے سونے میں بدل دیتا تھا اس پتھر کو پارس کہا جاتا ہے اور عرف عام میں سنگ پارس بھی کہتے ہیں
شاندار بخاری