سنگِ پارَس

تحریر و تحقیق : شاندار بخاری

مقیم مسقط

کیا پتھروں میں بھی جان ہوتی ہے ؟

 کیا وہ بول سکتے ہیں یا کچھ بتا سکتے ہیں ؟

 کیا وہ بوقت ضرورت ہمارے کسی کام آ سکتے ہیں ؟

یہ سوال اور اس قسم کے کئی سوال ہم اکثر گاہے بگاہے سنتے رہتے ہیں اور اس پر طرح طرح کی رنگین بحثیں سننے کو ملتی ہے ، عجیب و غریب واقعات سننے کو ملتے ہیں ۔

اگر آپ کے ذہن میں بھی یہ سوالات گردش کر رہے ہیں اور اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو جی ہاں پتھروں میں بالکل جان ہوتی ہے ، وہ ضرور بول سکتے ہیں اور بوقت ضرورت ہمارے کام بھی آ سکتے ہیں ۔

قرآن مجید فرقان الحمید میں ارشاد باری تعالی ہے ربنا ما خلقت هذا باطلا ترجمہ : اے ہمارے رب تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا (سورہ آل عمران)

اسکول میں اردو کے قاعدے میں شامل نصاب ایک نظم پڑھتے تھے جس کا ایک مصرع یوں تھا ” نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں ” جو کہ اس آیت کریمہ کے مفھوم کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے ۔ ہم اگر اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو پتھر کا استعمال خانہ کعبہ ہو یا اہرام مصر ،  شعر و شاعری ہو یا سڑک ، گھر ہو یا کمرہ عدالت ، بادشاہ کا محل ہو یا جیل / مرکز تصلیح غرضیکہ ہر جگہ نظر آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ ہمارے کئی طرح سے کام آتا رہا اور ہمارا اس سے رشتہ کتنا پرانا ہے ۔ یہاں میں نے شعر کا ذکر کیا تھا تو وہ اس لئیے کہ بعض اوقات رویوں کے سخت ہونے پر انہیں پتھر کی سختی سے تشبیہ دی جاتی ہے ‘ سنگ دل ‘ وغیرہ کہ کر ‘ پتھر کے صنم ‘ کہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔

اب ہم اگر اپنے فطرتی ماحول سے ہٹ کر تھوڑا دور جائیں بلکہ جنگلوں اور صحراؤں میں نکل جاہیں تو معدنیات جن میں پٹرول ، ڈیزل ، گیس ، ہیرے ، سونا اور مختلف اقسام کی دھاتوں کو تلاش کرنے میں جدید آلے استعمال کئیے جاتے ہیں وہ قیاس کیلئیے پتھروں کے نمونے ہی اکٹھے کرتے ہیں ۔ انہیں طرح طرح کے مخصوص پیمانوں میں ماپ کر تول کر ٹھونک بجا کر مختلف اقسام کے محلول میں حل کر کے پرکھا جاتا ہے اور ان تجربات کی بنا پر حاصل ہونے والے نتائج کی روشنی میں ان کی ساخت ، عمر اور دیگر معلومات کی اعداد و شمار مرتب کی جاتی ہیں ۔  تو اگر پتھر بے جان تھا تو بولا کیسے ؟ بولا نہیں تو پتا کیسے چلا کہ یہاں اس جگہ زیر زمین کتنی گہرائی میں تیل یا کون سا مادہ یا دھات موجود ہے ؟ تو اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پتھروں میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کہ صحیح پیمانوں سے ناپی اور پرکھی جاہیں تو ان سے کئی قسم کی معلومات ملتی ہیں یہاں تک کہ ان کی عمر کا بھی تعین کیا جاسکتا ہے ۔ زمین تو کیا خلاء میں گردش کرتے پتھر ‘ میٹیوراہٹ ‘ اکثر اپنے مدار سے خارج ہو کر زمین پر آ گرتے ہیں اور سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں ۔

ایک پتھر وہ بھی تھا جو کہ جنت سے آیا تھا ہم اسے حجر الاسود کے نام سے جانتے ہیں حجر عربی زبان میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود کے معنی ہیں سیاہ کے ، راوی بیان کرتے ہیں کے جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے بیت اللہ کی تعمیر شروع کی تو اس زمانے میں اونچی تعمیرات کیلئیے ان کے پاس سیڑھی نہیں تھی تو اللہ کے حکم سے اس پتھر پر کھڑے ہو جاتے تھے اور چاہتے تو اونچا ہو جاتا چاہتے تو جس رخ پر موڑ لیتے اور دنیا سے رخصت فرما تے ہوئے اللہ کے گھر کی اس نشانی کو چھوڑ گہے جو بعد میں کئی سازشوں کا شکار ہوا اس موضوع پر آیندہ آنے والے مضامین میں تبصرہ کروں گا۔  آج آپ کو ایک ایسے پتھر سے متعارف کرواتا ہوں جو کہ اک خیالی پتھر ہے جس کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اگر لوہے سے مس کیا جائے یا چھو جائے تو اسے سونے میں بدل دیتا تھا اس پتھر کو پارس کہا جاتا ہے اور عرف عام میں سنگ پارس بھی کہتے ہیں اور میں کافی عرصے تک یہی سمجھتا رہا کہ یہ ایک خیالی پتھر ہے جس کا ذکر صرف الف لیلا کی داستانوں میں ہوتا ہے ۔ لیکن کچھ دن پہلے جب اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک نئی جماعت پی ڈی ایم  کے بارے مین پڑھا تو یقین آگیا کہ واقعی ایسا ایک پتھر حقیقت میں موجود ہے ۔ اگر نام نہاد علماء اور چوروں کی جماعت کا آپس میں اتحاد ہوسکتا ہے تو پھر لوہے کو چھو کر سونا بنا لینا کون سا مشکل کام ہے ؟

شاندار بخاری

شاندار بخاری

شاندار بخاری

Next Post

میرا گاؤں غریب وال - 2

بدھ اپریل 7 , 2021
گاؤں کی گلیاں82 ۔1981 میں یونیسف ادارے کے تعاون سے بنی تھیں جو کہ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ووٹ لینے والے وعدہ کرتے رہے ہیں

مزید دلچسپ تحریریں