عروج جبر کے ہر دور
میں ہم نے وہی زنجیر
دیکھی ہے کہ جس نے روشنی
کو قید کر ڈالا
کہ جس نے ہاریوں کی
آس زخمی کی
کہ جس نے بیڑیوں کے جبر سے
پنڈلی کو نوچا ہے
سنا ہے اس کو عادت تھی
جھکانے کی ، رلانے کی
ستانے کی ، لہو قطروں کی
صورت میں بہانے کی
اسی جابر نے بھٹو کو
بڑی نفرت سے پھانسی دے
کے مارا ہے
کہ باتیں سب کے منہ پہ جا
کے کرتا تھا
غریبوں کی محبت کی
فقیروں پہ عنایت کی
اسیروں کی حمایت کی
زمیں جاگیرداروں سے
چھڑا کر سب
کسانوں کو دلانے کی
مگر گندم کے قاتل مل
گئے سارے
مروت چھوڑ کر
ظالم ،ہوئے در پئے
وہ بھٹو کے
اگرچہ تھیں وہ سب چڑیاں
مگر اقبال کے شاہیں
کو اپنے جبر سے مارا
دیا مسمار کر کے تیرگی
چاہی ، وہی ظالم
بہت اترا کے چلتے تھے
مگر یہ سب خدا نے
آسماں پہ غور سے دیکھا
جسے مفلس کی جھولی بھی
پیاری تھی
خیال “کن” سے اس نے
فیصلہ کر کے گرایا
منہ کے بل ظالم
جسے کووں نے کھایا تھا
وہی اقبال کے شاھیں
مرے بھٹو کا قاتل تھا
سید حبدار قائم آف اٹک