اقبال کے شاہیں کی پھانسی

عروج جبر کے ہر دور

میں ہم نے وہی زنجیر

دیکھی ہے کہ جس نے روشنی

کو قید کر ڈالا

کہ جس نے ہاریوں کی

آس زخمی کی

کہ جس نے بیڑیوں کے جبر سے

پنڈلی کو نوچا ہے

سنا ہے اس کو عادت تھی

جھکانے کی ، رلانے کی

ستانے کی ، لہو قطروں کی

صورت میں بہانے کی

اسی جابر نے بھٹو کو

بڑی نفرت سے پھانسی دے

کے مارا ہے

کہ باتیں سب کے منہ پہ جا

کے کرتا تھا

غریبوں کی محبت کی

فقیروں پہ عنایت کی

اسیروں کی حمایت کی

زمیں جاگیرداروں سے

چھڑا کر سب

کسانوں کو دلانے کی

مگر گندم کے قاتل مل

گئے سارے

مروت چھوڑ کر

ظالم ،ہوئے در پئے

وہ بھٹو کے

اگرچہ تھیں وہ سب چڑیاں

مگر اقبال کے شاہیں

کو اپنے جبر سے مارا

دیا مسمار کر کے تیرگی

چاہی ، وہی ظالم

بہت اترا کے چلتے تھے

مگر یہ سب خدا نے

آسماں پہ غور سے دیکھا

جسے مفلس کی جھولی بھی

پیاری تھی

خیال “کن” سے اس نے

فیصلہ کر کے گرایا

منہ کے بل ظالم

جسے کووں نے کھایا تھا

وہی اقبال کے شاھیں

مرے بھٹو کا قاتل تھا

سید حبدار قائم آف اٹک

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

جو ہم نے دیکھا -1

پیر اپریل 5 , 2021
میں اس وقت پشاور میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا جب ھندوستان نے رات کے اندھیرے میں ، ہمارے ملک پہ حملہ کردیا ۔
سیّدزادہ سخاوت بخاری