کامرہ کلاں – حصہ اوّل

اگر آپ پشاور سے اسلام آباد ،راولپنڈی جا رہے ہوں توکامرہ کلاں گاؤں گوندل سے چند فرلانگ آگے جی۔ٹی روڈکے سیدھے ہاتھ پر واقع ہے۔یہ قصبہ اسلام آباد اور پشاور کے تقریباَ وسط میں واقع ہے۔اٹک شہر سے جانے والے اسےاٹک سےتقریباَ سات کلومیٹر شمال مشرق کی طرف پائیں گے ۔کامرہ کلاں کا شمار ضلع اٹک کا چار بڑے گاؤں(مرزا،غورغشتی،حاجی شاہ،کامرہ) میں شمار ہوتا ہے۔آج سے تقریباَ چالیس سال پیشتر کامرہ گاؤں کا بس سٹاپ اسی جرنیلی سڑک پر واقع تھا۔یہاں سڑک کے کنارے ایک مغلیہ دور کاکنواں تھا،جس کو چٹی باؤلی کہا جاتا تھا۔یہی چٹی باؤلی کامرہ کا بس سٹاپ ہوا کرتا تھا۔کامرہ گاؤں سے کیمبل پور(جس کو اس وقت گاؤں کے لوگ چھاؤنی بھی کہتے تھے) شہر جانے والے لوگ تانگہ بھی استعمال کرتے رہے ہیں،تانگہ اسی چٹی باؤلی کے راستے ،گوندل اور حاجی شاہ سے ہوتا ہوا کیمبل پور (حال:اٹک)پہنچ جاتا تھا۔بعد ازآں پاکستان ایئر فورس کی آمد سے یہ سٹاپ اور باؤلی ختم ہو گئی ۔

عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کامرہ کے علاقہ پہلی بار ایئرفورس کے استعمال میں آیا ہے؛لیکن ایسا ہر گز نہیں۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں انگریزوں نے اسی جگہ پر جنگی جہازوں کے استعمال کے لیے یہاں رن وے بنایا تھا اور اسے دوسری جنگ عظیم میں استعمال بھی کیا جاتا رہا ہے۔قدیم رن وے کے آثار راقم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔گاؤں کے نوجوان سائیکل سیکھنے کے لیے اسی قدیم رن ۔وے کو استعمال کرتے تھے۔اس کے بعد گاؤں کے لوگوں نے آہستہ آہستہ سرکاری زمین پر قبضہ کرنا شروع کیا ،حکومتوں نے بھی کبھی اس کی پروا نہ کی،جس کی وجہ سے تمام سرکاری زمین پر قبضہ ہو گیا۔اَسی کی دہائی تک یہاں لوگوں کو استعمال شدہ گولوں کے شیل ملتے رہے۔

یہاں پر گولہ بارود اور دیگر فوجی سازوسامان پہچانے کے لیے کامرہ گاؤں کے وسط سے فوجی گھوڑا گاڑیاں گزرا کرتی تھیں۔یہ وہی راستہ ہے جوکامرہ  امام بارگاہ کے پہلو سے ہوتا ہوا،”ڈھوکاں “کو جاتا ہے ۔یہ راستہ ایک قدیم قبرستان کو کاٹ کر بنایا گیا تھا۔راقم الحروف نے راستے کے دونوں طرف اپنی آنکھوں سے قبریں دیکھی ہیں۔اگرچہ دم تحریر گاؤں کے درمیان کا موجودہ راستہ بہت تنگ ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہاں سرکاری راستہ چالیس فٹ ہے۔

کامرہ کلاں ضلع اٹک کا قدیم ترین تاریخی علاقہ ہے۔راقم نے بعض لوگوں سے سنا ہے کہ” کامرہ “سے پہلے اس علاقے کو “جگوالہ”کہتے تھے اور قدیم ترین آبادی اس جگہ تھی جہاں آج کل کامرہ گاؤں کا”بس سٹاپ”ہے۔یہاں ایک قدیم کنواں تھا جو چند سال پہلے تک اگرچہ خستہ حال تھا لیکن آباد تھا۔اس کنویں کو”گاؤں کے لوگ”کَھنڈا کُھو” (ک پر زبر)کہتے تھے۔میرا خیال ہے کہ یہ کنواں کامرہ کی قدیم آبادی کے لیے پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کھودا گیا تھا ۔راقم نے خود کئی بار اس کنویں سے پانی لیا ہے۔کنواں بہت کشادہ تھا۔پانی تک پہنچنے کے لیے تقریبا دو دو گز کی گھڑے ہوئےپتھروں کی چوڑی چوڑی سیڑھیاں تھیں ۔کوئی بچہ بھی ان سیڑھیوں سے اتر کر بہت آسانی سے پانی حاصل کر سکتا تھا۔گاؤں سے باہر اس علاقے میں کھیتی باڑی سے وابستہ لوگوں کے لیے پانی کا یہ واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ایئر فورس کی موجودہ انتظامیہ نے اس کنویں کی قدامت کو پیش نظر نہیں رکھا اور اب وہ کنواں شاید مٹی اور پتھروں سے بھر دیا گیا ہے۔

کامرہ گاؤں کی موجودہ مقام پر منتقلی کے اسباب کیا تھے؟ان کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ اٹک قلعہ اور یہاں پل کی تعمیر کے بعد نیلاب کا شہر اور راستہ آہستہ آہستہ غیر معروف ہونے لگا اور اس کی بجائے موجودہ جی۔ٹی۔روڈ کا راستہ زیادہ استعمال ہونے لگا،جس کی وجہ سے گاؤں کے لوگ آہستہ آہستہ معروف راستے کے قریب ہوتے چلے گئے،جس کی دلیل یہ ہے کہ کامرہ گاؤں کے محلہ کسراں کا ایک حصہ باسیہ کے ساتھ اب بھی واقع ہے اور اسے آج بھی کسراں ہی کہتے ہیں۔اس کسراں کے لوگ آج سے دس پندرہ سال پہلے تک ووٹ ڈالنے کے لیے کامرہ گاؤں میں ہی محلہ کسراں کے پولنگ سٹیشن پر آتے تھے۔پاکستان ایئر فورس کی آمد سے وہاں علاقہ کامرہ سے علاحدہ ہو کر علاقہ چھچھ میں شمار ہونے لگا ہے لیکن دراصل وہ کامرہ کا حصہ ہے۔

کامرہ گاؤں کے ایک قدیم کنویں سے “مجلس نوادرات علمیہ”اٹک نے ایک کتبہ دریافت کیا تھا۔کتبہ کی عبارت پڑھنے کے لیے آسٹریلیا سے قدیم زبانوں کا ایک ماہر بلوایا گیا تھا جس نے بتایا تھا کہ یہ کنواں کنشک کی پیدائش کی خوشی میں کھوادا گیا ہے ۔

کنشک Kanshaka کشن یا کشان یا کوشان سلطنت کا بادشاہ تھا۔ کنشک اپنی فتوحات اوربدھ مت کی سرپرستی کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن افسوس ہے ہمارے پاس اس کے عہد اور کارناموں کے بارے میں محدود معلومات ہیں۔(آزاد دائرۃ المعارف وکی پیڈیا)۔

ماہرین کا خیال یہ ہے کہ کامرہ گاؤں کنشک کا آبائی علاقہ ہو سکتا ہے؛یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی ماں کا تعلق کامرہ سے ہو ؛کیونکہ بچے کی پیدائش کی اتنی زیادہ خوشی دادا خیل یا نانا خیل ہی کو ہو سکتی ہے۔

کامرہ پڑی(پہاڑی):

کامرہ گاؤں میں واقع پہاڑی کو عرف عام میں کامرہ پڑی کہتے ہیں۔یہ پہاڑی اس گاؤں کی خاص شناخت ہے کیونکہ اس گاؤں کے چاروں طرف میلوں دور تک کوئی پہاڑ یا پہاڑی نہیں ۔یہ پہاڑی شرقاََ غرباََ تقریبا دو کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ پہاڑی صدیوں سے درختوں سے خالی تھی اور عام تاثر یہ تھا کہ یہ پہاڑی شجر کاری کے لیے مفید نہیں لیکن پاکستان ائیر فورس نے اسے اپنی ملکیت میں لے کر گھنا جنگل بنا دیا۔اس جنگل میںسور کثرت سے ہیں۔

تصویر بشکریہ سید مظاہر حیدر

بنھیں(تالاب):

کامرہ گاؤں میں پانی کے کئی قدرتی تالاب تھے جنھیں مقامی زبان میں” بنھ “کہا جاتا ہے ۔ “کسراں والی بنھ” یا”نِکی بنھ”(چھوٹی بنھ)،”خانزادے والی بنھ” یا  “وَڈی بن”(بڑی بنھ) ،”پنھوڑے والی بنھ”۔”کسراں والی بنھ”  اور”خانزادے والی بنھ” کامرہ (پڑی) پہاڑی کے دامن میں واقع تھیں ،یہ علاقہ اب ائیر فورس کی ملکیت شمار ہوتا ہےجسے دیوار بنا کر علاحدہ کر دیا گیا ہے۔پنھوڑے والی بنھ اس جگہ واقع تھی جہاں آج کل جلال سٹی ہے،اسی بنھ کے شمال میں لبِ سڑک”کھنڈا کھو “تھا۔ایک بنھ” بگے بابا والی بنھ” کہلاتی تھی،یہ بنھ اب بھی کامرہ گاؤں کی سڑک کے ساتھ جہاں بڑا موڑ ہے،وہاں واقع ہے لیکن اب اس کی بنھ والی صورت نہیں رہی۔موجودہ اہلِ حدیث مسجد کے سامنے “کچی بنھ” ہوا کرتی تھی۔موجودہ ہسپتال والی جگہ” وساکھی والی بنھ” ہوا کرتی تھی۔ایف ۔6 کالونی کے اندر “رتی جناح پارک”والی جگہ پر بھی ایک بنھ تھی،اسے ، پردے والی بنھ کہتے تھے۔

محلے:

کامرہ گاؤں کو “محلہ میر پور حسین،محلہ اُرتک پور اورمحلہ کسراں” میں تقسیم کیا گیا ہے۔اس سے متصل کامرہ خُرد،پنڈ سلیمان مکھن اور ٹھیکریاں کے علاقے ہیں جو دراصل کامرہ ہی کے لوگوں کی آباد کی ہوئی بستیاں ہیں اور انھیں کامرہ ہی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

تصویر بشکریہ سید مظاہر حیدر

یونین کونسل:

کامرہ کلاں کو 1961ء میں یونین کونسل کا درجہ دیا گیا۔دمِ تحریر زیارت(ٹھیکریاں)،مدروٹہ،گوندل اور فتح چک یونین کونسل کامرہ کا حصہ ہیں۔قاضی عبدالرحمٰن اس یونین کونسل کے پہلے چیئرمین تھے؛اس کے علاوہ محمد شاہ،فقیر صادق،حاجی خالق بھی چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔حاجی خالق تین بار چیئرمین رہے،چودھری عبدالسلام اورمحمد اشفاق ناظم رہ چکے ہیں۔نظامت کی سیٹ دو بار چودھری عبدالسلام کے حصے میں آئی۔

آبادی:

1998 کی مردم شماری کے مطابق گاؤں کی آبادی 16ہزار تھی۔دم تحریر اس کی آبادی تیس ہزار سے زیادہ ہے۔

تصویر بشکریہ سید مظاہر حیدر

اسکول:

کامرہ میں ابتدا میں ایک پرائمری سکول تھا جس کو بعد میں مڈل سکول کا درجہ دیا گیا؛1988 میں اسے ہائی سکول کا درجہ دیا گیا۔اس کے علاوہ ایک سرکاری مڈل سکول بھی ہے۔لڑکیوں کے لیے ہائی سکول بھی تقریباََ دس بارہ سال پہلے بنایا گیا ہے؛اس سے پہلے گاؤں کی لڑکیاں میٹرک سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پی۔اے۔سی گرلز ہائی سکول میں جاتی تھیں۔ کچھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں ۔

اسپتال:

گاؤں میں ہسپتال بہت عرصے سے قائم ہے ؛ابتدا میں یہ دو تین کمروں پر مشتمل ہسپتال تھا اور جہاں آج کل مڈل سکول ہے،وہاں اس کی چھوٹی سی خوب صورت عمارت تھی۔بعد ازآں اسے Basic Health Unitکا درجہ دے کر توسیع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چندپرائیویٹ کلینک بھی کھولے گئے ہیں۔

ڈاک خانہ: کامرہ گاؤں کا ایک چھوٹا سا ڈاک خانہ بھی ہے جو گاؤں کے لوگوں کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔

ٹیلی فون ایکسچینج:

1996 ء میں سید اعجاز بخاری کی کوشش سے کامرہ میں ٹیلی فون ایکسچینج کی بنیاد رکھی گئی جس سے گاؤں کے لوگوں کو ٹیلی فون کی سہولت میسر آئی۔

سوئی گیس:

2005ء میں سید اعجاز بخاری ہی کی کوشش سے کامرہ گاؤں میں سوئی گیس کی فراہمی کا آغاز ہوا۔

سڑکیں:

کامرہ گاؤں سے تین سڑکیں بڑی شاہ راہوں سے جا ملتی ہیں۔ایک سڑک کامرہ سے اٹک جانے والوں کے لیے بنائی گئی ہے۔دوسری سڑک کامرہ سے قطبہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جہاں وہ جی۔ٹی۔روڈ سے مل جاتی ہے۔تیسری سڑک کامرہ سے گوندل تک ہے۔

تصویر بشکریہ سید مظاہر حیدر

ٹرانسپورٹ:

کامرہ گاؤں کے بہت سے لوگوں کے پاس موٹر سائیکل کی سہولت موجود ہے ؛بعض لوگ ذاتی کار بھی رکھتے ہیںتاہم گاؤں کی اکثریت سوزوکیاں اور رکشے آمدورفت کے لیے استعمال کرتی ہے۔

جاری ہے…….

nusrat bukhari
پروفیسر نصرت بخاری

تصاویر کے لئے ہم سیّد مظاہر حیدر آف کامرہ کلاں کے شکر گزار ہیں

نصرت بخاری

مدیر اعلی (اٹک ویب میگزین،آئی اٹک ڈاٹ کام)-- ایم فل --پروفیسر اردو --گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

Next Post

واٹر ھیٹرگیزر کو آن کرنا

جمعہ جنوری 8 , 2021
سب سے پہلے آپ ماچس لیں۔ اور اپنے گیزر کے گیس کنیکشن کو والو کو آن کریں
water heater geyser