Tag: کامل پور سیدان

  • کامل پور سیداں کے شہتوت

    کامل پور سیداں کے شہتوت

    کامل پور سیداں کے شہتوت

    1968 کی بات ہے ہم لوگ کربلا محلہ  کیمبل پور میں رہتے تھے۔ ہمارے گھر کے قریب کے دو کنوؤں پر شہتوت کے بہت اونچے لمبے درخت تھے۔ ان پر کالی اور سفید رنگ کی لہلیں لگتی تھیں۔ ملہووالے کے توت کے درختوں کی نسبت کیمبل پور کے توت بہت بڑے تھے ۔  سائز کی وجہ سے یہ شہتوت کہلاتے تھے۔ بعض حضرات کی رائے یہ تھی   کہ یہ توت چونکہ کامل پور سیداں کے شاہ صاحبان  کی ملکیت تھے اس لئے   شاہ توت کہلاتے تھے۔

       ہم ایلومینیم کا کٹورا (کول ) ہاتھ میں لے کر درختوں پر چڑھ جاتے۔ رج کے شہتوت کھاتے اور گھر کے لیے کول بھر لیتے۔

       یہ سیزن سکول کے سالانہ نتائج کا بھی ہوتا تھا .اس لیے ایک شعر اس نازک وقت کے حسب حال بچوں کی زبان پر ہوتا تھا ۔

     رت آ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہلاں نی

     ما ..مر گئی۔۔۔۔۔ فہلاں نی

    کامل پور سیداں کے شہتوت
    Image by Kadir Kritik from Pixabay

     شہتوت کا موسم ہے۔ ناکام ہونے والے ماتم کر رہے ہیں۔ اس موسم میں بعض اوقات ہم بتائے بغیرشہتوت کھا کر گھر جاتے تو امی جان دیکھتے ہی فرماتیں  ،لہلاں کھا کے آئے او۔ہم حیران ہوتے کہ ان کو کیسے پتہ چل جاتا ہے۔ کیا ان کو جن بتا دیتے ہیں  یا ان کا  کشف کامل  ہے۔ ایک دن پوچھ لیا کہ آپ کیسے اندازه لگا لیتی ہیں ۔ فرمانے لگیں   شہتوت کھانے سے تمہارے ہونٹوں پر  لپ سٹک لگ جاتی ہے۔اس سے چوری پکڑی جاتی ہے۔

    بیروں کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ان کا موسم جولائی اگست لکھا تھا۔ میں نے بیگم صاحبہ کو ایمپریس کرنے کے لئے وہ پوسٹ پڑھوائی۔

    دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سهرا

    انہوں نے بجائے متاثر ہونے کے الٹا عتراض فرمایا کہ Ziziphus Jujube بیری کے بیر مارچ اپریل میں ہوتے ہیں۔۔

    جنگلی بیری کو جھاڑی یا جھڑ بیری کہتے ہیں ۔ جھاڑیوں…Ziziphus nummularia ..کے چھوٹے چھوٹے بیروں کا موسم جولائی اگست ہے۔جھاڑیوں کے بیر کھانے کا اتفاق ڈھوک شرفا اور پرانی بریار روڈ کیمبل پور میں ہوا۔یہ علاقہ چاچے الطاف صاحب کے سرکاری بنگلے کے قریب تھا۔

    گرمیوں میں بکریاں درختوں کے سبز پتے  لانگی کھاتیں سردیوں کے لئے جھاڑیوں کے خشک پتے سٹور کر لئے جاتے ۔ان کو   پترا کہتے تھے۔ ان میں چھوٹے چھوٹے بیر بھی ہوتے ۔  پترا  بکری کو ڈالنے سے پہلے بچہ لوگ اس سے خشک بیر چن کر کھا لیتے ۔پترا کا لفظ میری ڈسک سے ڈیلیٹ ہو گیا تھا ۔ بیگم صاحبہ نے یاد کروایا۔ بیر کی گٹھلی کو پتھر سے توڑا جاتا تو اس کے اندر سے ننھا سا بیج نکلتا ۔اس کو چیچی کہتے تھے بچے اس کو بھی کھا جاتے ۔

    مفتی سعید صاحب چھتر پارک والے فرماتے ہیں کہ میں انڈیا گیا تو مولانا منظور نعمانی صاحب کے ہاں حاضری دی ۔ان سے پوچھا کہ آپ کی کتابوں کی زبان بہت رواں اور آسان ہے۔ اس پر حضرت نے جواب دیا کہ میں کتاب لکھتے ہوئے اس کو پڑھ کر بیگم صاحبہ کو سناتا ہوں ۔جس لفظ کے معنی ان کو سمجھ نہیں آتے وہ لفظ تبدیل کر دیتا ہوں۔ مولانا منظور نعمانی صاحب کی کتاب  معارف الحدیث  انٹرنیٹ پر مو جود ہے۔

    اگر سعادت حسن منٹو اپنی تحریرات چھاپنے سے پہلے اپنی بیگم صاحبہ کو سنا دیتے تو سنسر بورڈ کے بہت سارے مقدموں سے بچ جاتے ۔

    سلسلہ خوراکاں کا بارھواں مضمون

  • تقریظ

    تقریظ

    کرنل (ر) سیّد سجاد نقوی سائیکا ٹرسٹ
    برادر عزیز جنابِ مونس رضا کی عظیم کاوش پہ رائے دینا بالکل ایسے ہی ہے جیسے خود کو فاضل قرار دینا۔ بہرحال چند پرخلوص الفاظ نذر ہیں۔ 
    علم الانساب بلاشبہ بہت محترم اور ہر دور کا رائج علم ہے، عرب ہی اس فن کے بانی اور اس علم میں ممتاز تھے، اجدادِ ختمی مرتبتؐ میں ہر دور میں اس علم کے ماہر موجود رہے، دورِ رسالت مآبﷺمیں حضرت ابو طالب علیہ السّلام علم الانساب کے ماہر اور نقیب تھے اور ان کے بعد جنابِ عقیل ابنِ ابوطالب علیہ السّلام اس علم کے وارث ہوئے۔
    برصغیر میں یہ علم عرب سے ہجرت کر کے وارد ہونے والے سادات کے ذریعے ہی داخل ہوا، وہ لوگ اپنے شجرات اور تاریخ اپنے ساتھ لائے اور اسے مزید لکھتے بھی رہے، برصغیر میں انساب و تاریخ نویسی کی کتابی شکل میں ابتدا ساتویں صدی ہجری سے ملتی ہے مبارک شاہ حسینی نے قطب الدین ایبک کے دور میں بحرالانساب کے عنوان سے کتاب لکھی جسے برصغیر میں اس موضوع پر لکھی جانے والی پہلی کتاب تسلیم کیا جاتا ہے، اور پھر گذشتہ دو صدیوں میں تو یہ علم باقاعدہ ایک سائنس کی شکل اختیار کر چکا ہے اور جنابِ مونس رضا نے بھی جدید سائنسی خطوط پر تحقیق کی ہے جوکہ یقیناً قابلِ ستائش عمل ہے ۔

    Hijraton ki dastan


    ہجرتوں کو مہاجر سے زیادہ بھلا کون جان سکتا ہے۔ ان کی ضرورت و افادیت کے ساتھ ساتھ کلفت و حزیمت۔۔۔۔گو کہ ہجرت کے بہت سارے رنگ و رخ ہیں۔ طََلَعَ الْبَدْرُعَلَیْنَا کی تھاپ میں یثرب کو مدینہ منورہ اور خون شہیداں سے نینوا کو کربلا معلی ہجرتوں نے ہی تو بنایا۔ میں خود ربع صدی قبل اٹک کی نگری میں بطور مہاجر وارد ہوا اور اس سرزمین اور اس کے باسیوں نے بالعموم اور کامل پور سیداں نے بالخصوص اپنائیت و اخوت کا سائبان تان دیا آج تک روح محبت و یگانگت کے رواں چشموں سے سیراب ہے۔ جناب مونس رضا کی ذات اس بستی کے علمی و ادبی ذوق کا ایک روشن عکس ہے۔ اس مختصرمگر انتہائی جامع کتاب میں انہوں نے نہ صرف معصومین علیہم السلام کی ہجرتوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا بلکہ نئی نسل کو تاریخِ اجداد سے متعارف بھی کروایا۔۔۔اسلاف کی پہچان بلاشبہ اصلاح و عروج کا باعٹ بنتی ہے۔ تحریر کی روانی اور عربی و فارسی کا شیریں امتزاج بلا شبہ جنابِ مونس رضا کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا ثمر ہے۔ سو اس تاریخ و ادب کے چشمہ علم سے ہم بھی سیراب ہوئے۔ اور اُمید ہے کہ آپ بھی اِن شآء اللہ مُستفید ہوں گے، اللہ تعالی مونس بھائی کی علمی صلاحیتوں کو اور زیادہ جِلا بخشے اور ہمیں مزید علمی خزانوں سے آگاہی ہو۔                                                            

    Sajjad Naqvi

    سجاد نقوی البُخاری

    اٹک

    تقریظ

  • ہیروڈوٹس سے مونس رضا تک

    ہیروڈوٹس سے مونس رضا تک

                                                             مجھے ” ہجرتوں کی داستان” پر کچھ لکھنے کو کہا گیا ہے جو مجھ جیسے کم علم کے لئے ایک آزمائش سے کم نہیں لیکن اعزاز حاصل کرنے کو جان جوکھم میں ڈالنا ہی پڑتی ہے سو میں اپنی سی کوشش کرونگا کہ کچھ سپرد قلم کرسکوں۔ زیر نظر کتاب تاریخ اور انساب پر لکھی گئی ہے اس لئے مجھے پہلے تاریخ و مورخین اور انساب  و علمائے انساب کو جاننا پڑے گا ۔آپ نے بھی اس مضمون کو پورا پڑھ لیا تو کتاب کا مطالعہ مزید دلچسپ و معلوماتی ہوجائے گا۔

                                                         تاریخ کیا ہے ؟ اس پر بے شمار اقوال موجود ہیں جن کا ذکر طوالت کا باعث ہوگا سادہ سے الفاظ میں ہر گزر جانے والا کل تاریخ ہوجاتا ہے۔ تاریخ کب سے ہے ؟ جب رات اور دن کی تخلیق ہوئی کیونکہ ہر گزرتا دن اور رات تاریخ بنتے گئے لہذا تاریخ کو ہم ابتدائے روز و شب سے شمار کریں گے۔ رہا سوال یہ کہ تاریخ نویسی کب سے شروع ہوئی تو اس کا جواب یہی ہے کہ مختلف ادوار میں الگ الگ کوششیں ضرور کی گئیں۔ کہیں دیواروں پر تو کہیں الواح پر تاریخی نوشتہ جات موجود ہیں۔ لیکن باقائدہ طور پر پہلا مورخ ہیروڈوٹس کو تسلیم کیا گیا اور اسے ابو التاریخ بھی کہا گیا ہے۔

                                               تاریخ پڑھنا جس قدر دلچسپ ہے تاریخ نویسی اتنا ہی مشکل کام ہے۔ ایک مورخ کس عرق ریزی اور محنت سے واقعات کو ایک لڑی میں پروتا ہے اس کا اندازہ پڑھنے والے کو کبھی ہو نہیں سکتا۔ ماضی کی اقوام و قبائل کے حالات و واقعات کا مسلسل اور منظم بیانیہ حال میں موجود رہ کر رقم کرنا لانا ہے جوئے شیر کا۔

                                         مورخ کی پہلی ذمہ داری اس کے ذاتی عقائد و ہمدردیوں کے خلاف ایک چوکیدار کی سی ہوتی ہے ، تاکہ وہ لکھا جائے جو ہوا تھا نہ کہ جو ہونا چاہئے تھا۔ مزید یہ کہ مورخ کو جغرافیہ ، تقویم، ہندسہ اور اپنے عہد کے چیدہ علوم پر بھی دسترس ہونا چاہیے، تاکہ واقعات و حالات کو جانچ پرکھ سکے اور منظم  رکھ سکے۔اسے زبان و بیان پر مکمل عبور ہو اور ایسا لکھ سکے جسے ہر ذہنی سطح کا شخص آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکے۔

                                                  یونانی ادیب ، جغرافیہ دان  اور مورخ ہیروڈوٹس (484-425 قبل مسیح) کو "بابائے تاریخ” ، کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ،  تاریخ نویسی کو بطور علم ایجاد کرنے کا سہرا اسی کے سر ہے، اس کا آغاز اس نے اپنے سفر ناموں اور رزمیہ داستانوں کی تحقیق سے کیا۔اپنی شاہکار تصنیف ، "تواریخ” کے آغاز میں وہ لکھتا ہے "ہمیں وقت کے ساتھ  ساتھ معدوم ہوتے  انسانی واقعات کے آثار کو مٹنے سے بچانا ہے۔” یعنی ہیروڈوٹس نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا کہ اسلاف کے کارناموں اور واقعات کو محفوظ کرو۔ اپنی کتاب میں اس نے سندھ، پنجاب، فارس سے لیکر یونان تک کے ممالک کی تاریخ،تمدن اور ثقافت کا ذکر کیا ہے۔ تواریخ اپنے عہد کے حوالے سے بحیرہ روم اور مغربی ایشیاء کی تہذیب و تمدن پر ایک نادر دستاویز ہے۔

                                                  ہیروڈوٹس کے بعد تاریخ نویسی باقائدہ ایک علم اور فن کی حیثیت اختیار کرتی گئی اس کے بعد قبل مسیح کے  قابل ذکر ناموں میں گزنفون، تاستیوس، تھوسی ڈائڈز(یونان)، تیتوس لییوس، تاسیتس(روم)، سیما چیان، بئن ژاہو (چین)، ہمارے یہاں ابن خلدون ، ابن إیاس ، ابن الأثیر الجزری، ابن تغری بردی ، ابن حیان القرطبی، ابن خلكان، ابن عبد الحكم ، البلاذری، الحسن بن زولاق،تقی الدین المقریزی ، لسان الدین بن الخطیب ، علی بن حزم الأندلسی، الواقدی، ابن الجوزی، الطبری ، ابو الفرج اصفہانی اور مزید بے شمار نام ہیں جو یہاں درج کرنا ممکن نہیں۔ اس ساری تمہید کا مقصد تاریخ اور مورخین سے تعارف تھا کیونکہ مجھے اپنے عہد کے مورخ تک جانا ہے۔ اور اپنے دور میں لکھی گئی تاریخ پر کچھ بات کرنا ہے۔ لیکن پہلے انساب پر کچھ بات ہوجائے۔

                                             علم الانساب  علوم اعلی میں سے ایک علم ہے جو لوگوں کے سلسلہ نسب کے مطالعے، تحقیق اور اس کے مقاصد سے متعلق ہے،اس کا بنیادی مقصد  تعین نسب کے معاملے میں  غلطیوں سے مبرا  دستاویزات  کا ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔ چونکہ  نسبت نسل اہم مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی  امور سے متعلق ہے ۔لہذا ، نسب کی اہمیت کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ کرام  علیھماالسلام  کی طرف سے متعدد روایات اور بہت ساری ہدایات وارد ہوئی  ہیں۔

                                                   رسول  گرامی ﷺ نے فرمایا  " تعلموا من انسابکم ما تصلون ارحامکم "، یعنی  اپنے نسب کو جانو اور اس کے ذریعے صلہ رحمی کرو۔ اور آپ ﷺ  بعض اوقات اپنے اصحاب سے فرماتے ” انا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم (عبد الهاشم) بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مره بن… ۔ شیخ طوسی اپنی کتاب امالی میں  امام رضا علیہ السلام کی روایت نقل کرتے ہیں کہ  رسول خدا ﷺ نے فرمایا   ” کل نسب و صهر منقطع يوم القيامة سترا من اللّه عليه الانسبي و سببي ” یعنی تمام انساب روز قیامت منقطع ہوجائیں گے سوائے میرے نسب اور سبب کے ۔ اور آپ دیکھئے  کہ روز بروز آنحضرت ﷺ کی  نسل مبارک  فراوان ہوتی جارہی ہے  کہ آیہ قرآن  انا اعطيناک الکوثر سے جو مقصود خدا تھا وہ آشکار تر ہوتا جا رہا ہے۔

                                                     نسب شناسی کی اہمیت کا اندازہ مولائے کائنات امیر المومنین علی المرتضیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے  اس واقعے سے کیا جاسکتا ہے۔ سیّدہ کائنات  حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد جناب امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے بھائی جناب عقیل ؑ (جو اپنے عہد کے نامور نسب شناس تھے )سے فرمایا  کہ میرے لئے ایسی ہمسر کا انتخاب کرو جو عرب کے ممتاز ترین،شجاع ترین اور شریف ترین قبیلے سے ہو۔ جناب عقیلؑ نے  بانومجلله و مکرمه، يعني حضرت ام البنين سلام اللّه عليها کا انتخاب کیا جنہوں نے کائنات کو جناب ابوالفضل العباس علیہ السلام جیسا بطل جلیل عطا کیا جن کی بہادری، جاں نثاری اور وفاداری تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ خود ایک تاریخ ہے۔

                                                       یہ  علم  سادات ابوطالب ؑکے مابین اسلام کی تاریخ کے ساتھ ساتھ مروج رہا ہے ، اور جیسا کہ انساب کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہےکہ  پہلی صدی ہجری سے اور خاص طور پر ہجرت اور کچھ نقل مکانیوں (امویوں اور عباسیوں کی وجہ سے) کی  بنا پر  خود سادات و دیگر مصنفین کتب انساب نے  اس پہلو پر خصوصی توجہ دی۔تاریخ کے اوراق سے  معلوم ہوتا ہے کہ  سادات نے  اپنے اپنے دور کے  حاکم وقت کے خلاف قیام کیا  مثلا   محمد نفس زکيه نے  مدينه  اور ان کے بھائی  ابراهيم باخمرا نے  بصره  میں قيام  کیا جس پر ظالم حکمرانوں نے ظلم کا ہر حربہ آزمایا  اور قیام شکست سے دوچار ہوئے؛ سادات کو نقل مکانی کرنا پڑی  اور انہوں نے دوسرے علاقوں میں جا سکونت اختیار کی۔ ہر وہ علاقہ جہاں سادات ظاہرا یا پوشیدہ موجود تھے ان کے ناموں کے اندراج کا باقائدہ رجسٹر تھا۔واضح رہے کہ ابتدا میں سادات کے ناموں کی رجسٹریشن مختلف طریقوں سے کی گئی تھی ، لیکن بعد میں ، ہر ایک خطے میں کچھ سادات  کی تجویز سے ، ایک شخص کو نقیب (سادات کا نگران) منتخب کیا گیا اور یہ اس کہ ذمہ داری قرار پائی۔لیکن ہر خاندان کی سطح پر بھی اس کا اہتمام رکھا گیا۔

                                                 نسب شناسی  قبل از اسلام عربوں میں  شاخت قبائل میں اہم تھی۔  لیکن صدر اسلام اور  اس کے بعد   کے ادوار میں  پیغمبر اکرم ﷺ کی نسل مبارک میں  اضافے اور ان کے مختلف مقامات پر ہجرت کر جانے کی وجہ سے انساب سادات  کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ۔ تاریخ اسلام کے اولین نسب شناس جناب عقیل بن ابو طالبؑ تھے۔

                                            فقہ  میں بھی نسب  کی اہمیت خصوصی ہے جیسا کہ   قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت نے فرمایا        اِنَّمَا یُرِیْدُ اﷲِ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطِھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا       اور فرمایا             قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى  یہ آیات واضح طور پر  جناب رسول خدا ﷺ کے خانوادہ کی عظمت و اہمیت نسب کی دلیل ہیں۔ اور  نسب سادات پر صدقہ  و زکوۃ  کا حرام ہونا   اور خمس کا ان کا حق ہونا، علمائے سادات کا سیاہ عمامہ  مخصوص ہونا،وجوب احترام سادات، اور ان کے لئے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہونا   نسب سادات کی خصوصی شرعی اہمیت  کو واضح کرتا ہے۔ اسی وجہ سے علماء و نسب شناسان سادات نے  اس خانوادے کی شجرہ نویسی و نسب شناسی پر ہر دور میں خصوصی توجہ رکھی اور انتہائی اہتمام و باریک بینی سے اس پر کام کیا۔

                                                     یونان ، روم، چین، مصر، اندلس، شام، ایران اور جزیرہ نما عرب سے ہوتا ہوا اب میں کیمبل پور پہنچ چکا ہوں ، اپنے عہد کے مورخ اور  نسب شناس تک ، اٹک (کیمبل پور) کے ارباب ذوق میں جناب مونس رضا صاحب کا نام نمایاں ترین ہے اور ان چند ناموں میں بھی سرفہرست ہے جو دامے،درمے،سخنے، قدمے صاحبان علم و دانش و اہل قلم کی بھرپور حوصلہ افزائی بلکہ سرپرستی بھی کرتے ہیں۔ وہ اکثر پرتکلف محافل سجاتے ہیں جس میں نامور محقق، ادیب، شاعر اور اساتذہ شریک ہوتے ہیں ساتھ وہ یہ مہربانی بھی کرتے ہیں کہ مجھ طالب علم کو بھی مدعو کرتے ہیں اور اس طرح مجھے اُن نابغہ شخصیات سے فیض کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

                                               مونس رضا صاحب بنیادی طور پر علوم شرقیہ کے استاد ہیں لیکن ادبیات عالم، تحقیق اور سائنسی علوم پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ دو اور دو چار کو تسلیم کرنے زیادہ اسے ثابت کرنے میں  دلچسپی رکھتے ہیں۔میں اکثر ان سے دینی اور شرعی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتا ہوں اور مجھے جو جواب ملتے ہیں وہ مکمل عالمانہ و عارفانہ ہوتے ہیں نہ کہ مولویانہ۔ میرے کئی سوالات کے جواب میں انہوں نے مکمل مضامین لکھے جو میرے ای میگزین پر شائع ہوئے اورعوام و خواص میں مقبول ہوئے۔

    چراغِ مصطفوی اور شرارِ بُو لَہبی

                                                       ہجرتوں کی داستان کو انہوں نے جس عرق ریزی سے مرتب کیا اور جس قدر مشقت اٹھائی اس کی مثالیں ہمارے ہاں کم کم ملتی ہیں۔ میں ان دنوں کا عینی شاہد ہوں جب وہ اس کار گراں میں ہمہ تن مصروف بلکہ غرق تھے۔ ایک ایک سطر پر ان کی توجہ ، تواریخ تقویم کی انتہائی باریکی سے کسی ماہر نجوم و فلکیات کی طرح جانچ پڑتال، زبان و بیان پر ماہر لسانیات جیسا دھیان، آھنگسازی صفحات پر کاتب و خطاط جیسی نظر ، سرورق اور پس ورق کی تیاری میں ایک مصور اور طراح گرافک جیسی دلچسپی انہی کا خاصہ ہے۔ ہجر رُتوں کی اس داستان کو دستاویز بنانے کی خاطر طویل سفر جیسے انہوں نے کیے میں کم از کم سوچ ہی سکتا ہوں۔

                                                       ہجرتوں کی داستان  پورے اہتمام سے لکھی گئی ہے۔ اس میں تواریخ کو سائنٹفک انداز میں جانچ پرکھ کر  ، واقعات کی صحت کو ہرممکن  تصدیق کے بعد اور انتہائی سلیس و شستہ زبان میں نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔اگرچہ  یہ کتاب سادات بھاکری کے لئے بالعموم ایک اہم کتاب ہوگی  لیکن سادات کامل پور سیدان کے لئے   باالخصوص ایک ایسی قیمتی دستاویز ثابت ہوگی  جس  میں انہیں اپنے اسلاف کی تاریخ، تہذیب ، تکالیف و  مشکلات، ان کے علمی و روحانی کمالات و درجات سے آگہی   اور مکہ سے لیکر کامل پور سیدان تک کے اسفارہجرت کے احوال  ملیں گے اور اس کا بدل  شاید آئندہ کئی دہائیوں تک انہیں مل نہیں پائیگا۔

                                          میری دعا ہے کہ ربّ کریم صدقہ محمدؐ و آل محمدؐ جناب مونس رضا صاحب کو اس عظیم کام پر جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی صحت، عمر اور علم میں برکت عطا کرتے ہوئے ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے تاکہ  ایسے مزید کار ہائے نمایاں انجام دے سکیں اور آنے والی نسلوں کے لئے بہترین علمی اثاثہ  تیار کرتے رہیں۔

    Jahangir Bukhari

    مخدوم آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری

    11 ذی الحج 1442 ھ /22 جولائی 2021ء

  • چراغِ مصطفوی اور شرارِ بُو لَہبی

    چراغِ مصطفوی اور شرارِ بُو لَہبی

    حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃاللہ علیہ نے کہیں فرمایا ہے کہ ’’کتاب کی تصنیف و تالیف کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا کہ مصنف کا نام زندہ رہے اور اس سے روشنی و علم پانے والے اس کے لیے دعا کرتے رہیں‘‘ ظاہر ہے کسی کتاب سے جو روشنی، علم، فلاح اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اُس سے صاحبِ تصنیف کو نہ صرف دعائیں ملتی ہیں بلکہ انسانیت کا وقار قائم ہوتا ہے اور علم کی شمع سدا کے لیے روشن ہو جاتی ہے۔
    ایک طویل زمانے سے میرے ذہن میں بلکہ اکثر ذہنوں میں یہ سوال اُٹھتا تھا کہ ہمارے شہر کیمپبلپور کے دل کے اندر ایک ایسی بستی آباد ہے جسے سب لوگ (گراں یا گاؤں) کہتے ہیں یہ کب وجود میں آئی؟ اور اس کے باسی کیا پس منظر رکھتے ہیں؟ میں اور شہر کے سب لوگ انہیں,, شاہ جی،، کہا کرتے ہیں اس بستی کے بچے میرے پاس پڑھا کرتے، ان میں کچھ ایسی خصوصیات ہوتی تھیں جو شہر یا آس پاس سے آنے والے دوسرے بچوں سے قطعی مختلف تھیں مثلاً وہ بولنے میں بے باک اور پوچھے گئے کسی بھی سوال کا نہایت صاف اور عمدہ زبان میں جواب دیتے، کسی موضوع پر چند فقرے روانی سے کہہ لیتے تھے، قدرتی طور پر تجسس ہوتا کہ ایسا کیوں کر ہے جبکہ یہ بھی اپنے آپ کو,, گراں،، سے وابستہ کہتے ہیں، اس گراں سے وابستہ بزرگوں سے بھی میرا تعلق رہا لیکن اس سوال کا جواب مجھے تسلی بخش نہ مل سکا، یہاں کے بچے سب اساتذہ کی نسبت میرے پاس زیادہ  تعداد میں پڑھے، پھر میرے ہم جماعتوں میں سے میرے قریب ترین لڑکے اسی ’’گراں‘‘ کے تھے بلکہ لڑکپن سے جوانی تک میرے ’’شاہ جی‘‘ حضرات سے نہ ٹوٹنے والے تعلقات رہے اور ہیں، کالج میں شروع سے آخر تک میرے بہترین دوست سید سیفی احمد نقوی تھے، سید محمد حسنین شاہ، سید ذوالفقار علی شاہ، سید یاور شاہ اور بے شمار سید برادران ہم نوالہ و ہم پیالہ رہے، میں سیفی احمد کے گھر اکثر جایا کرتا وہاں سیفی کی بیٹھک میں بیٹھے اکثر اُن کے والد میر صاحب احمد علی شاہ (خُدا اُن پر اپنی رحمتیں نازل کرتا رہے) سے ملاقات ہوتی کیا ہی رعب دار شخصیت تھی، میری سیفی احمد سے زندگی بھر مذہب پر بات نہ ہوئی۔
    لیکن سوال اُسی طرح ذہن میں رہا کہ یہ ’’گراں‘‘ کیسے آباد ہوا؟ اس کا احسن اور مدلل جواب جنابِ مونس رضا نے (ہجرتوں کی داستاں) میں تفصیل سے دیا ہے، انہوں نے اس جواب کے لیے بہت تگ و دَو کی ہے اور کہاں کہاں سرگرداں رہے لیکن خوشی یہ ہے کہ انہیں اپنے سوال کا پہلا جواب گورنمنٹ کالج کیمپبل پور کے درویش صفت لائبریرین نذر صابریؒ کے تحقیقی مقالے ’’حضرت سخی سلطان اٹکیؒ‘‘ سے ملا ان کی مزید جستجو کی داستان علیحدہ ہے۔
    اس سے پہلے مونس رضا نے اس طرح کی کوئی تحریر نہیں لکھی نہ ہی گفتگو میں اشارتاً کبھی اپنے پس منظر کا  ذکر کیا جبکہ میرے ان سے برسوں پر محیط تعلقات تھے اور میں جانتا ہوں کہ وہ علم و ادب اور شعر و شاعری کے رسیا ہیں انہوں نے سکول و کالج کے بچوں کے لیے اعلیٰ اور معیاری تقاریر لکھیں، تیار کروائیں مگر ان کی تحقیق کی جستجو سے ناواقف تھا ۔
    جب یہ کتاب مجھے ملی تو بے حد دلچسپی سے میں نے ایک ہی نشست میں اسے پڑھ ڈالا، پھر کئی دن بار بار پڑھتا رہا بعض حصے تو میں نے یوں پڑھے کہ زبانی یاد ہو گئے، یہ وہ کتاب ہے جس سے میری حکمت و دانش، رشد و ہدایت، علم و فضل اور معلومات میں بیش بہا اضافہ ہوا،یہ ایک انقلاب کی داستان ہے جو صدیوں پرانی ہے لیکن ہنوز تازہ ہے، امید، عمل، بیداری، خود شناسی، جنون اور لہو سے مزیّن داستانِ انقلاب کبھی پرانی نہیں ہو سکتی، اس انقلاب کو دائمی حیثیت حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے عظیم ساتھیوں کے پاکیزہ لہو نے بخشی۔

    چراغِ مصطفوی اور شرارِ بُو لَہبی


    جنابِ مونس رضا کی کتاب دائمی سچائیوں سے بھری پڑی ہے، اس سچائی کے سارے باب بہت روشن تھے، لیکن (ہجرتوں کی داستاں) میں آ کر اس کے کئی نئے پرت کھلے، شاہ صاحب کو مدتوں مختلف علاقوں میں بھٹکنا پڑا ایک پاکیزہ اور وسیع و عریض ورقِ تاریخ جو صدیوں پہلے کہیں رونما ہوا اُس میں ہر دور کے آئمہ کرام اپنے دینی فریضے، حق پرستی اور علم و ہنر کی تلاش میں سرگرداں رہے، یہ طاغُوتی قوتیں تھیں جو اقتدار اور ملوکیت کے زُعم میں آئمہ کرام کو صرف اس لیے ظُلم و ستم کا نشانہ بناتیں کہ وہ زُہد و تقویٰ، حُسن اخلاق اور غُرباء و مساکین کی خدمت کے سبب مقبولیتِ عام حاصل کر لیتے اور یہ دنیاوی حکمرانوں کو کسی صورت منظور نہ تھا پس ایک طرف دنیاوی جاہ و حشمت تھی اور زیادہ سے زیادہ مال کی ہوس جبرو استبداد پر مجبور کرتی تھی تو دوسری طرف صبر و برداشت، فقیری و درویشی، اعلیٰ ترین حُسنِ اخلاق، حلم و حُسنِ سلوک کا مظاہرہ تھا یہ سلسلہ ازل سے آج تک بغیر کسی فرق کے جاری و ساری ہے اسی لیے حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
    ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
    چراغِ مُصطفوی سے شرارِ بُو لَہبی
    میں نے پوری تاریخ میں دیکھا کہ بنو امیہ ہوں یا بنو عباس، ہر ایک ظلم کی مٹی سے بنا تھا آئمہ کرام کو دیکھتے ہوئے مجھے اُن کی بہادری اور صبر کی انتہا پر بار بار وہ پرانا مصرعہ یاد آتا رہا ’’تو تیر آزما میں جگر آزماؤں‘‘ جس طرح مشہور فلسفی ’’کانت‘‘ نے مابعدالطبیعات میں ایک تہلکہ خیز انقلاب برپا کر دیا تھا اسی طرح آئمہ کرام نے تاریخ انسانیت میں قدم بہ قدم، زمانہ بہ زمانہ تہذیب و تمدن کو علمی و فکری نکھار بخشا حضرت علی کی نہج البلاغہ کو ہی دیکھ لیجیے کوئی نظیر مل سکتی ہے؟ حق گوئی اور حقیقت شناسی اسی کو ہی تو کہتے ہیں ان کی درویش صفت اولادیں بھی علم و حکمت کے چراغ لے کر ایک علاقہ سے دوسرے علاقے میں روشنی پھیلاتے رہے دشوار گزار پہاڑی راستے اور صحرا ان کے قدموں کی دھول بنتے رہے جب ایک علاقے کے لوگوں تک پیغامِ حق پہنچا دیتے تو نئے علاقوں کی طرف نکل پڑتے اور پھر انہی بزرگوں کی اولاد سفر کرتے ہوئے مرزا اور کامل پور سیداں تک آ پہنچے ۔
    کتاب کا آخری حصہ خاص طور پر لائقِ مطالعہ ہے جس سے تمام سوالات کے جوابات مل جاتے ہیں، مونس رضا نے شروع سے آخر تک اُمتِ مسلمہ کو جوڑنے کی سعی کی ہے انہوں نے کسی قسم کے متنازعہ امور کو چھیڑنے سے گریز کیا ہے میں جانتا ہوں کہ وہ اس حقیقت سے کماحقہ، واقف ہیں کہ مذہبی اور مسلکی فرق کو کوئی کتنا ہی باعلم کیوں نہ ہو نہیں مٹا سکتا بالآخر ربِ کائنات خود ہی حق و باطل کا فیصلہ فرمائے گا جب ہم فیصلہ کر نہیں سکتے تو نزاع کیوں پیدا کیا جائے، مونس رضا نے جس مہارت سے نزاعی معاملات سے پہلو تہی کی ہے کہ مجھے ساحر لدھیانوی کی وہ نظم یاد آتی رہی جس کا نکتہئِ آغاز ہے ’’چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں‘‘ جس میں شاعر آگے چل کر ایک معرکۃ الآراء شعر کہتا ہے کہ
    وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
    اسے اک خُوبصُورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
    سو مونس رضا نے ہر ایسا موڑ ایسی مشاقی سے مڑا کہ داد دینا بنتی ہے، یہ پہلی تصنیف ہے جس میں کاملپور سیداں کیمپبلپور (جسے بعد میں بدقسمتی سے اٹک کے نام سے موسوم کر دیا گیا) کے لوگوں کے آباء و اجداد اور دیگر بزرگوں کا تذکرہ ملتا ہے، جن بزرگوں کا میرے زمانے سے تعلق ہے اور میں ان سے ملا ہوں وہ سبھی نہایت علم دوست، وسیع النظر، اعلیٰ ظرف اور بااخلاق لوگ تھے ہمارے بزرگوں کے بھی کامل پور سیداں کے بزرگوں سے بہترین تعلقات تھے کاش میں سب کا ذکر کر سکتا مگر بابو سید تصدق حُسین کربلائی صاحب؛ الحاج محبت حسین شاہ صاحب، بہترین شاعر اور نستعلیق شخصیات سید مشتاق حسین فیضی اور سید محمد عباس نقوی صاحب، حاجی مختیار حسین شاہ صاحب ایسے مہربان نام ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھتا ہوں ۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے کیمپبلپور کے باسیوں کے درمیان یہ محبت، یہ ہم آہنگی ہمیشہ قائم رکھے اور اہلبیت سے محبت انہیں آپس میں شیر و شکر رکھے، آمین

    anwar jalal

    انور جلال ملک

    پرفیسر ریٹائرڈ

    گورنمنٹ پوسٹ گریجوئیٹ کالج اٹک

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کامل پور سیداں کے شرق میں ناز سینماء سے لیکر پولیس لائین تک اور اس کے عقب میں اسٹیڈیم تک ، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بلاک ، اعلی افسران کی رہائش گاہیں ، کمپنی باغ ، سروسز کلب ، ڈیپٹی کمشنر ہاوس اور دیگر سرکاری عمارات ہیں ۔ اسی طرح  سیشن کورٹ اور کچہری کے بیچ ، صدر پولیس اسٹیشن کے بالمقابل ، سادات کامل پور سیداں کا آبائی اور قدیمی قبرستان ہے ، جس کے اندر اپنے وقت کے ولی ، بابا توکل شاہ عرف کبوتراں والا بابا ، کا مزار ، مرجع خاص و عام ہے ۔

    اس سے ملحق جانب سڑک ، ایک تکونی قطعہ اراضی کو بلدیہ نے ، بچوں کی تفریح اور کھیل کود کے لئے ، جھولے اور کچھ پودے لگاکر ، زیارت پارک کے نام سے باغ میں تبدیل کردیا ہے ۔ یہ پہلے سے موجود نہ تھا ۔ اسی پارک کی شمالی سمت پہ ، سڑک کے ساتھ کبھی کیمبل پور کا اولیں اور اکلوتا پیٹرول پمپ ہوا کرتا تھا ، جو سیدن گاوں کی شیخ فیملی کی ملکیت میں رہا ، اب وہاں ایک کمرہ باقی ہے ، پیٹرول پمپ ندارد ۔  آجکل تو ڈیجیٹل کا زمانہ ہے ، اس وقت ہر شے مکینیکل ہوا کرتی تھی ، شیخوں کے اس پمپ پر گاڑیوں میں تیل ڈالنے کے لئے جو مشین لگی ہوئی تھی ، اس کے درمیان میں ڈیجیٹل میٹر کے بجائے ، شیشے کے دو گھڑے نصب تھے ۔ قریب ہی ایک ھینڈل لگا تھا جب تیل بھرنا مقصود ہو تو پمپ کا ورکر ،اس ہینڈل کو گھماتا تھا ، جس طرح جنریٹر یا کسی بھی  انجن کو اسٹارٹ کرنے کے لئے ، ھینڈل گھمایا جاتا ہے ۔ اسطرح پیٹرول ، زیر زمین ٹینک سے ان گھڑوں میں بھر کر گاڑی کے پیٹرول ٹینک تک چلا جاتا ۔ یہ گھڑے پیمانہ تھا ، ایک خالی ہوتا تو دوسرا بھر جاتا اور بھرنے والا ان کا شمار کرتا رھتا کہ کتنے گھڑے یا گیلن پیٹرول ڈال دیا گیا ۔

    کچھ قارئین کو شاید یہ تفصیلات پسند نہیں ، لیکن تاریخ نویسی اور نقشہ نویسی میں فرق ہوتا ہے ، مجھے کسی گم شدہ فرد کو شہر سے نکلنے کا راستہ نہیں دکھانا بلکہ نئی نسل کو پرانے شہر اور اس وقت کے طرز زندگی سے روشناس کرانا ہے ، جو اب موجود نہیں ۔

    میرے خیال سے شہر کے گلی کوچوں ، اور محلوں کی ، اس وقت کی تصویر آپ پہ واضع ہوچکی ہوگی ۔ اگلے ابواب میں ، یہاں آباد لوگوں کے طرز زندگی ، مشاغل ،  سماجی روایات ، کھیل کود ، علمی ادبی، سیاسی و تجارتی سرگرمیوں اور اہم شخصیات پہ بات ہوگی ، لیکن اس سے پہلے شھر کے گرد و نواع کا ایک جائزہ لینا بھی ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی آبادی ، اپنے گردونواع سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔

    کیمبل پور کے شمال میں کامرہ ، پنڈ سلمان مکھن ،  مدروٹہ ، ٹھیکریاں اور حاجی شاہ وغیرہ کے مواضعات ہیں ، جنوب میں ماڑی ، کنجور اور دریائے ھرو ، ھرو پار شین باغ خورد ، ڈھیری لگال ، ڈھیری چوھان ، جنوب مشرق میں جبی اکھوڑی ، ہمک اور کئی چھوٹی چھوٹی آبادیاں مشرق میں مرزا ، جسیاں ، ڈھوک پشوری اور ڈھوک شرفاء ، جبکہ مغرب میں شین باغ کلاں ، سروالہ ، شکردرہ ، پنڈوال ، ڈھوک گاما ، سالار  دکھنیر ، کرم علیاء ، جابہ ، بروٹھہ ، ڈھیر ، سوجھنڈا ، باٹا ، گھوڑے مار ، باغ نیلاب ، چھوئی اور مونگی والی  وغیرہ کے دیہات صدیوں سے آباد ہیں ۔ ان دیہات کا شہر کی تجارت ، ثقافت اور سماجی زندگی پہ گہرا اثر رہا ہے ۔

    کامرہ کلاں کا منظر
    کامرہ کلاں کا منظر

    یاد رہے ، مذکور بالا دیہات انتظامی اور تجارتی طور پر کیمبل پور شہر پہ ہی انحصار کرتے تھے لیکن ان میں سے بیشتر آبادیوں کو پکی سڑک کی سہولت نصیب نہ تھی بلکہ کئی دیہات تک تو پگڈنڈیوں سے گزر کر جانا پڑتا تھا ۔ دشوار گزار کچے راستے اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ، ہمیشہ سے ان کا مقدر رہا ۔

    جاری ہے ……..

  • کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    ہم بجلی گھر روڈ پر کھڑے ایک تعلیمی ادارے کی بات کررہے تھے ، جہاں اب غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں ۔ قصور کس کا ، مفاد پرست ، چور ، ڈاکو اور لٹیرے ، ہر سوسائیٹی میں ہوتے ہیں لیکن ، نیکی کی قوتوں کو متحرک رھنا چاھئے تاکہ معاشرہ ترقی کرتا رہے ۔

    آئیے آگے بڑھتے ہیں ، بجلی گھر موڑ سے گیدڑ چوک تک بیچ کی جگہ خالی تھی ، جو ملک شیراحمد خان کے خاندان کی ملکیت ہے ، بعد میں انہوں نے یہاں ایک تجارتی یارڈ قائم کیا جہاں اب بھی سیمنٹ سریا اور دیگر عمارتی سامان کا کاروبار ہوتا ہے ۔

    گیدڑ موڑ یا چوک : ( وجہ تسمیہ )

    یہ ، وہ جگہ ہے جہاں آکر حمام روڈ / برق روڈ ، چھوئی روڈ سے بغل گیر ہوتا ہے ، کارنر پر اسد سویٹ ہاوس ہے ۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں چین کے شہنشاہ چنچی نے ٹریفک پولیس کی مدد سے قبضہ جما رکھا ہے ۔

    ہمارے دور میں یہ ایک کھلا علاقہ تھا ۔ جہاں اب سروالہ کی طرف منہ کرکے چنچی کھڑے ملتے ہیں ، یہاں تقسیم سے پہلے کی چند دکانیں ، ان کے عقب میں چھوٹے چھوٹے کوارٹر اور پیچھے ایک آٹا چکی موجود تھی ، اس کے بعد کھلا میدان ۔ اسی طرح شرق میں  گندے نالے تک کھلا میدان تھا ۔ گندہ نالہ سول بازار کے اختتام اور ستار چوک ( شیرانوالہ) کے عین وسط میں آتا ہے ۔ اب اسے ڈھانپ دیا گیا ہے ، شروع میں یہ معلق نالہ تھا اور مولے والی گلی اس سے منسلک نہ تھی ۔

    اس سے پہلے کہ گورا قبرستان تک پہنچ جائیں ، آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ گیدڑ موڑ کو یہ عوامی نام کیسے عطاء ہوا ۔

    جہاں اس وقت اسد سویٹ ہاوس ہے ، اسی عمارت میں ، جو قدرے اس سے بڑی تھی ، ہمارے گوانڈی میاں چاچا نے ، چائے کی دکان بنائی ، ان کے بڑے بیٹے کا نام فاروق تھا لیکن گھر والے بچپن سے اسے پیار سے گیدڑ کہ کر پکارتے تھے ۔ بڑا ملنسار اور ھنس مکھ انسان تھا ، اسی کی عرفیت نے اس ریستوران کو گیدڑ ہوٹل کا نام دیا اور ایک لمبے عرصے تک ہوٹل کی موجودگی سے یہ نام عوامی شہرت اختیار کرگیا ۔ جب ہوٹل ختم ہوگیا تو گیدڑ ہوٹل سے گیدڑ موڑ کہا جانے لگا ۔ ایک نوجوان نے مجھ سے پوچھا کہ ” کیا یہ درست ہے کہ پرانے زمانے میں گیدڑ یہاں تک آجاتے تھے ، اس لئے اسے گیدڑ موڑ کہتے ہیں ، تو اسے یہی بتایا کہ یہ بات درست نہیں بلکہ فاروق عرف گدڑا لالہ کی وجہ سے ،اسے یہ نام نصیب ہوا ۔

    چونکہ وہ زمانہ تانگے اور بیل گاڑی کا تھا ، لھذا جسطرح آج یہاں چنچی اور سوزوکی نظر آتے ہیں ، اسی طرح گیدڑ ہوٹل کے سامنے اور اطراف بیل گاڑیاں اور تانگے پارک ہوتے تھے ۔ ایک تو یہ سروالے کی پرانا اڈہ تھا ، دوسرا گیدڑ ہوٹل کی چائے بہت لذیذ اور تھکن دور کرنے والی مشہور تھی ۔ بعض ماہرین چائے کی رائے تھی کہ گدڑ لالہ کے والد میاں چاچا چائے کو افیون کے ڈوڈے یا پوست کا تڑکا لگاتے ہیں ۔ بہرحال اس زمانے میں یہ ایک معروف اور عوامی چائے خانہ اور اڈہ تھا لیکن چند تانگے اور کچھ بیل گاڑیاں ، کوئی رش اور اژدھام نہیں کیونکہ موٹر سائیکل ، سوزوکی اور چنچی نام کی کوئی آفت موجود نہ تھی ۔

    اب آگےچلتے ہیں ، جہاں سول بازار آکر چھوئی روڈ سے ملتا ہے ، اس کے سامنے مشرق کی طرف میدان اور مغرب کی طرف گندے نالے کے ساتھ پرانی اور نئی لیکن بے ترتیب آبادی موجود تھی ۔ یہ آبادی سڑک کے ساتھ ساتھ گورا قبرستان تک پھیلی ہوئی تھی ۔  گورا قبرستان کے عقب میں جنوب مغرب کی سمت کربلا محلہ جو دراصل کامل پور سیداں کی توسیع یا ایکسٹینشن ہے ، یہاں پرانے گھر موجود تھے لیکن قبرستان سے آگے فتح جنگ روڈ پر ،  تا ڈھوک فتح ، سڑک کی دونوں اطراف ، کوئی آبادی نہ تھی ۔ ڈھوک فتح بھی فتح جنگ روڈ سے شروع ہوکر ، صرف ایک دو گلیوں کی شکل میں جانب غرب ، پنڈ غلام خان کی سمت رواں تھی ۔ اس سے آگے دریائے ہرو تک مکمل ویرانہ تھا ۔

    کامل پور سیداں

    historic building in kaml pur saydan
    کامل پور سیدان میں واقع تقسیم ہند سے قبل کی ایک تاریخی عمارت| تصویر- سید مظاہر شاہ

    یہ گاوں قدیمی ہے اور شھر کے آباد ہونے سے بہت پہلے ، موجود تھا ۔ اس کا حدود اربعہ بڑا آسان ہے ، گورا قبرستان چوک سے ناز سینما ، وھاں سے نادرا آفس ، نیچے آجائیں امام بارگاہ کے آگے سے گزر کر فتح جنگ روڈ اور گورا قبرستان ۔ یہ تھا پرانا کامل پور سیداں ۔ جانب غرب ، کوچہ پریم نگر اسی کی توسیع اور نئی آبادی ہے ۔ یہاں کھیت ہوا کرتے تھے اور گندم بوئی جاتی تھی ۔ کامل پور سیداں کا ذکر ہورہا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ یہ چھوٹا سا گاوں ، کینٹ ایریا میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ صفائی کا نمونہ رھا ۔ اس کی تنگ مگر صاف ستھری گلیوں میں روشنی کے لئے پرانی طرز کے چراغدان ( Lamp Posts)نصب تھے ۔ یہاں شھر کی قدیمی امام بارگاہ واقع ہے ۔

    جاری ہے …….

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین

  • عقیدتوں کا سفر – دوم

    عقیدتوں کا سفر – دوم

    اگلے دن 19 جنوری بروز منگل صبح ملتان کے لیے روانہ ہوئے ایک مرتبہ پھر اوچ شریف انٹرچینج تک ہیڈ پنجند کو کراس کرنا اور پھر اسی اذیت سے گزرنا پڑا، موٹر وے سے اتر کر ملتان شہر میں داخل ہوتے ہی سب سے زیادہ بلندی پر شاہ سید رُکنُ الدین رُکنِ عالم رحمۃاللہ علیہ کے مزار پر نظر پڑتی ہے، تیرہویں صدی عیسوی کے عمارتی شاہکار کو دیکھ کر آج بھی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، سوچ دنگ رہ جاتی ہے،  اس سے کچھ فاصلے پر حضرت شیخ بہاؤالدین ذکریا رحمۃاللہ علیہ کا مزار ہے ، خوبصورت طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے ؛ اور پھر اس سے کچھ فاصلے پر سلطان العارفین حضرت شاہ شمس تبریز ابنِ علاؤالدین رحمۃاللہ علیہ کا مرقد ہے اور اسی روضہءِ اقدس کے احاطے میں علامہ ناصر عباس شہید کی قبر بھی ہے  اور اس کے علاوہ نامی بزرگ شخصیت حضرت یوسف شاہ گردیزی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی موجود ہے، یہ سب صاحبانِ کرامت اور مستجاب الدعوات بزرگ شخصیات تھے کہ جن کے دستِ حق پرست پر بےشمار غیر مسلم دائرہءِ نُور ِ اسلام میں داخل ہوئے اس کے علاوہ شاہ حسین درگاہی کے دربار پر بھی حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور رات گئے تک جتنا ممکن تھا ملاقاتیں کیں اور پھر واپس علی پور آدھی رات کو پہنچے

    اگلے دن یعنی 20 جنوری بروز بدھ ہم نے ڈیرہ غازی خان جانا تھا اور جاتے ہوئے تحصیل جتوئی کے مرکزی شہر سے میرے قُم ایران کے دوست جو کہ میرے کلاس اور روم فیلو بھی تھے ان کو ساتھ لینا تھا، ہماری 36 سال کے بعد ملاقات ہوئی ، علامہ مومن حسین قُمی صاحب اور مولانا منتظر مہدی جتوئی صاحب نے ڈیرہ غازی خان میں ایک مجلس سے خطاب کرنا تھا، اور میں نے اپنے پیارے دوست، باکمال خطیب لاجواب شاعر سید مُحسؔن نقوی شہید سے ملنے کربلا ڈیرہ غازی خان جانا تھا، کیا ہی بے مثل و بے نظیر شخصیت تھے  جسم میں 45 گولیاں پیوست تھیں مگر ایمبولینس یہ آخری چار مصرعے پڑھے

                      لے زندگی کا خُمس علی کے  غُلام  سے

                        اے  موت  آ ضرور  مگر  احترام  سے

                        عاشق ہوں گر ذرا بھی اذیت ہوئی مجھے

                        شکوہ  کروں  گا  تیرا  میں  اپنے امام سے

    بہت دیر تک شہید کے پاس بیٹھا  لاہور اور اٹک کی ملاقاتوں کو یاد کیا اور دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوا ، ہم شام کو ڈیرہ غازی خان سے نکلے  راستے میں مولانا منتظر مہدی جتوئی کے بےحد اصرار پر کچھ دیر ان کے گھر پر رکے اور چائے پی، اور رات 9 بجے واپس علی پور پہنچے ۔

    مرقد محسن نقوی شہید

    اگلے دن یعنی 21 جنوری کو صبح اسلام آباد کے لئے روانہ ہونے سے پہلے قبلہ علامہ مومن حسین قُمی صاحب کے خواتین کے لئے زیرِ تعمیر مدرسہ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا  دیکھنے گئے کیا ہی خُوبصُورت اور شاندار وسیع و عریض عمارت بن رہی ہے میرے لیے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ مدرسہ میں دینی و دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جا رہی ہے کمپیوٹر لیب بھی موجود ہے مدرسہ کی سات بچیاں ماسٹرز کر چکی ہیں اور ڈاکٹریٹ کی تیاری بھی کروائی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ قبلہ کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ عطا فرمائے اور جلد تکمیل کے لیے وسائل میسر ہوں، آمین  اور اس کے بعد ایک ایسے مقام پر گئے جہاں بڑا روحانی سکون ملا اس جگہ کا نام بین الحرمین رکھا گیا ہے بالکل اسی طرز پر مولا غازی عباس علمدار علیہ السلام کے روضے کی شبیہ تیار ہو چکی ہے،

    مرقد علامہ ناصر عباس شہید

    اور مولا اِمامِ حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ کی تعمیر کا کام جاری ہے، مالک اس کام میں حصہ لینے والوں کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین، اور آخر میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پہلے علمی مرکز جامعۃ الھُدی محمدیہ میں گئے مدرسہ کے بانی مؤحد اور عظیم عالمِ دین اُستاذُالعلماءِ والمجتھدین قبلہ علامہ حافظ یار محمد شاہ صاحب قبلہ کی مرقدِ انور پر حاضری دی، قبلہ کے دائیں بائیں اُن کے دو فرزند علامہ حافظ سید سبطین علی شاہ اور علامہ حافظ ثقلین علی شاہ صاحب ابدی نیند سو رہے ہیں،  اللہ تعالیٰ ان سمیت تمام علماءِ حق کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی منازل قبر و حشر کو آسان فرمائے آمین، اور پھر ہم اسلام کے لیئے روانہ ہوگئے اور شام 7:30 بجے مولانا کے گھر پہنچ گئے، رات کو آرام کیا اور 22 جنوری بروز جمعہ دن 2 بجے اٹک اپنے گھر پہنچے ، اس علمی اور تحقیقی سفر میں اگر قبلہ علامہ مومن حسین قُمی صاحب کا پر خلوص تعاون نہ ہوتا تو یہ سب کچھ ممکن نہ تھا، قبلہ کی محبت اور بہترین مہمان نوازی میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہے

    اگلے دن 19 جنوری بروز منگل صبح ملتان کے لیے روانہ ہوئے ایک مرتبہ پھر اوچ شریف انٹرچینج تک ہیڈ پنجند کو کراس کرنا اور پھر اسی اذیت سے گزرنا پڑا،
    مرقد علامہ یار محمد شاہؒ

  • عقیدتوں کا سفر – اوّل

    عقیدتوں کا سفر – اوّل

    گزشتہ دنوں میں نے اپنے آباء و اجداد کی تاریخ کے حوالے سے جنوبی پنجاب یعنی اوچ شریف اور ملتان شریف کے ساتھ ساتھ ڈیرہ غازی خان کاایک تحقیقی و مطالعاتی سفر کیا مقصد اس سفر کا یہ تھا کہ میں سادات نقوی البہاکری اور خصوصاً تاریخِ کاملپور سیداں پر کچھ تفصیلات کتابی شکل میں لکھنا چاہتا ہوں، اس کا آغاز تو  سندھ، روہڑی، سکھر، سیہون شریف، بِھٹ شاہ، حیدر آباد اور کراچی کے مطالعاتی سفر سے 2006 میں ہو چکا تھا مگر بالوجوہ  آگے نہ بڑھ سکا، اب تائیدِ ایزدی سے توفیق عطا ہوئی اور میں اتنے طویل سفر پر آمادہ ہو گیا، محترم آغا جہانگیربُخاری صاحب نے حکم دیا ہے کہ سفر نامہ لکھیں، میں نے عرض کی کہ یہ معلومات تو کتابی شکل میں لاؤں گا البتہ سفر کی روداد پیشِ خِدمت ہے،

    شاہ شمس تبریزؒ سرکار

    سب سے پہلے یہ عرض کر دوں کہ 2006 کے سفر میں بھی اور اس سفر میں بھی میرے میزبان؛ میرے محسن؛ میرے مہربان دوست جنابِ علامہ مومن حسین قُمی صاحب تھے جب کہ ہماری یہ محبت بھری دوستی قُم ایران سے 1985 سے آج تک قائم و دائم ہے اور ان شآء اللہ اگلی ابدی زندگی میں بھی قائم دائم رہے گی، میں 17 جنوری بروز اتوار شام 6 بجے گھر سے روانہ ہوا، اور اڈے سے ویگن ٹھیک 7 بجے روانہ ہوئی جبکہ میری پہلی منزل علی پور ضلع مظفر گڑھ تھی ، انڈس ڈائیوو سروس پر 18 نمبر سیٹ میرے نام سے بُک تھی اور بس نے 8:30 پر جھنگی سیداں سے روانہ ہونا تھا، جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بہاؤ شدید تھا لہٰذا ویگن کی رفتار بھی بہت آہستہ تھی اور میں پریشان کہ وقت پر کیسے پہنچوں گا، وہی ہوا جس کا ڈر تھا  میں 8:50 پر پہنچا اور گاڑی جا چکی تھی مگر بھلا ہو اڈے کے ملازم محمد حنیف کا جس کے ساتھ میں مسلسل رابطے میں تھا اس نے پچھلی بس میں میری وہی سیٹ پہلے ہی بُک کروا دی اور ٹھیک دس بجے ہم بس میں سوار ہو گئے، جب بس پر سوار ہو رہے تھے تو ڈرائیور اپنی سرائیکی زبان میں سب سے کہہ رہا تھا کہ جلدی کرو جلدی کرو  دھند کی وجہ سے موٹر وے بند ہونے والی ہے، میں نے ہنستے ہوئے سرائیکی میں ہی کہا کہ آج ان شآء اللہ بند نہیں ہو گی

    بہاؤالدین زکریا ؒ

    یوں ٹھیک 10 بجکر دس منٹ پر گاڑی روانہ ہوئی، آس پاس گُپ اندھیرا اور میرا یہ مسئلہ ہے کہ مجھے دورانِ سفر نیند بالکل نہیں آتی کچھ دیر تو انٹرنیٹ پر گزارہ مگر پھر اس ڈر سے بند کر دیا کہ بیٹری ختم نہ ہو جائے، کچھ ہی دیر میں بس ہوسٹس نے کچھ نمکین چیزیں اور پیپسی دی کچھ شغل ہوا اور پھر پوری بس سو گئی، دھند کی وجہ سے باہر تارے بھی دکھائی نہیں دیتے تھے کہ گِنتے اور رات گزر جاتی بس اللہ اللہ کر کے آدھا سفر مکمل ہوا اور گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قیام و طعام پر بس رکی اور ہم نیچے اُترے، واش روم گئے، واپس چائے والے کے پاس آئے تو ڈرائیور صاحب نے بڑی محبت سے چائے اور بسکٹ اپنی جیب سے پیش کیے اس نوازش کی وجہ پوچھی تو بولے آپ کی دعا سے 11 دن کے بعد ہم بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل موٹر وے پر جا رہے ہیں اور آخر تک ان شآء اللہ ایسا ہی موسم ہے، لہٰذا پیر سئیں کو چائے پلانا تو بنتا ہے نا ! بہر حال صبح ٹھیک 6 بجے آزانیں ہو رہی تھیں تو ہم علی پور پہنچے، مولانا قُمی صاحب کا چھوٹا فرزند حسن رضا ڈرائیور کے ساتھ اڈے پر موجود تھے، گاڑی میں سوار ہو کر قبلہ کے دولت کدے پر پہنچے نماز پڑھی دو عدد اُبلے ہوئے انڈے کھائے مزیدار گھر کے دودھ اور گھر کے گُڑ سے بنی چائے پی مولانا سے گپ شپ کی،

    شاہ سیّد رکن الدین رُکن عالم ؒ

    اب قبلہ مولانا کی خواہش تھی کہ میں کچھ دیر آرام کروں، سو جاؤں مگر میں نے عرض کی کہ میرے پاس وقت کم ہے لہٰذا ابھی ناشتے کے بعد نکلتے ہیں، انتہائی پرتکلف ناشتہ اور پھر قبلہ سئیں کا اصرار کہ سب کچھ کھانا ہے ، بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ خوب سیئر ہو کر ناشتہ کیا اور پھر مولانا کے ساتھ ان کی خُوبصُورت بالکل نئے ماڈل کی ٹویوٹا کرولا گاڑی میں علی پور سے اوچ شریف کی طرف روانہ ہوئے، جو کہ جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع ہے، یہ ہائی وے کراچی تک جاتی ہے سو اس پر بڑے بڑے ہیوی ٹرالر اور بہت زیادہ ٹریفک ہوتی ہے اوپر سے گنے کا سیزن بھی ہے گنے کی ٹرالیاں اس قدر لدی ہوئی ہوتی ہیں کہ سنگل روڈ پر دو طرفہ ٹریفک چلنا مشکل ہو جاتی ہے اور پھر گاڑی کا کراس کرنا تو محال ہی ہے، میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ بےہنگم ٹریفک کا اژدھام کبھی نہیں دیکھا تھا، بس اللہ اللہ کر کے دن ایک بجے اوچ شریف محلہ بخاری سادات میں واقع مدرسہ انوارِ فاطمیہ پہنچے، مولانا مومن قُمی صاحب نے ٹیلی فون کر کے پہلے سے میرے آنے کا مقصد بیان کر دیا تھا، لہٰذا پرنسپل مولانا سجادحسین خان صاحب نے محمد احسن عابدی صاحب کو اور مولانا مشتاق حسین صاحب کو مدرسے میں بُلا رکھا تھا، مولانا کے کھانے کے بےحد اسرار اور پھر بچتے بچاتے مدرسے میں چائے پی نماز ادا کی اور احباب کے ساتھ اولیاء اللہ سے ملاقات کے لئے نکل پڑے، سب سے پہلی حاضری اپنے جدِ امجد سلطان سید بدرالدین بدرِ عالم ابنِ سلطان سید صدرالدین صدرِ عالم کے مزار پر دی ، ایک بلند ٹیلے پر اُن کا مزار مقدس نئے سرے سے تعمیر ہو رہا ہے ،

    شیر شاہ سیّد جلال الدین سرخ پوش بخاری

    اس کے ساتھ ہی شیر شاہ سید جلال الدین سُرخ پوش بُخاری رَحمَۃُ اللہِ علیہ کی پوتی سیدہ جیونی بی بی کا مقبرہ ہے جس کی ہیئت اور ڈیزائن بالکل حضرت شاہ رکنِ عالم رحمۃاللہ علیہ کے مزار جیسا ہے اس کے بعد ہم شیر شاہ سید جلال الدین سُرخ پوش بُخاری رحمۃاللہ علیہ کے مزار مبارک پر حاضر ہوئے، حضرت سرخ پوش بُخاری رح کے ہم عصر بزرگانِ دین میں سلطان سید بدرالدین بدرِ عالم آلبہاکری  ، شیخ بہاؤالدین ذکریا ملتانی رحمۃاللہ علیہ ، شیخ فریدالدین مسعود گنجِ شکرؒ اور سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر تھے ؛ اس سے کچھ فاصلے پر حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃاللہ علیہ کا مزار ہے اور اس کے ساتھ ہی مولا علی علیہ السلام کی قدم گاہ مبارک ہے اور کچھ ہی فاصلے پر سید بہاول حلیم اور حضرت سید کبیر الدین حسن دریا اور سید جلال الدین سُرخ پوش بُخاری سرکار کے پوتے سید صدرالدین راجن قتال رحمۃاللہ علیہم کے مزارات ہیں ان تمام مزارات پر حاضری اور فاتحہ خوانی میں ہی شام ہو گئی، اس کے بعد مدرسے میں بیٹھ کر تاریخی معلومات حاصل کیں اور انہیں نوٹ کیا، اور نماز مغرب کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا اور رات 10 بجے علی پور واپس پہنچے کھانا کھایا اور سو گئے

    جاری ہے ۔۔۔۔