ہیروڈوٹس سے مونس رضا تک

                                                         مجھے ” ہجرتوں کی داستان” پر کچھ لکھنے کو کہا گیا ہے جو مجھ جیسے کم علم کے لئے ایک آزمائش سے کم نہیں لیکن اعزاز حاصل کرنے کو جان جوکھم میں ڈالنا ہی پڑتی ہے سو میں اپنی سی کوشش کرونگا کہ کچھ سپرد قلم کرسکوں۔ زیر نظر کتاب تاریخ اور انساب پر لکھی گئی ہے اس لئے مجھے پہلے تاریخ و مورخین اور انساب  و علمائے انساب کو جاننا پڑے گا ۔آپ نے بھی اس مضمون کو پورا پڑھ لیا تو کتاب کا مطالعہ مزید دلچسپ و معلوماتی ہوجائے گا۔

                                                     تاریخ کیا ہے ؟ اس پر بے شمار اقوال موجود ہیں جن کا ذکر طوالت کا باعث ہوگا سادہ سے الفاظ میں ہر گزر جانے والا کل تاریخ ہوجاتا ہے۔ تاریخ کب سے ہے ؟ جب رات اور دن کی تخلیق ہوئی کیونکہ ہر گزرتا دن اور رات تاریخ بنتے گئے لہذا تاریخ کو ہم ابتدائے روز و شب سے شمار کریں گے۔ رہا سوال یہ کہ تاریخ نویسی کب سے شروع ہوئی تو اس کا جواب یہی ہے کہ مختلف ادوار میں الگ الگ کوششیں ضرور کی گئیں۔ کہیں دیواروں پر تو کہیں الواح پر تاریخی نوشتہ جات موجود ہیں۔ لیکن باقائدہ طور پر پہلا مورخ ہیروڈوٹس کو تسلیم کیا گیا اور اسے ابو التاریخ بھی کہا گیا ہے۔

                                           تاریخ پڑھنا جس قدر دلچسپ ہے تاریخ نویسی اتنا ہی مشکل کام ہے۔ ایک مورخ کس عرق ریزی اور محنت سے واقعات کو ایک لڑی میں پروتا ہے اس کا اندازہ پڑھنے والے کو کبھی ہو نہیں سکتا۔ ماضی کی اقوام و قبائل کے حالات و واقعات کا مسلسل اور منظم بیانیہ حال میں موجود رہ کر رقم کرنا لانا ہے جوئے شیر کا۔

                                     مورخ کی پہلی ذمہ داری اس کے ذاتی عقائد و ہمدردیوں کے خلاف ایک چوکیدار کی سی ہوتی ہے ، تاکہ وہ لکھا جائے جو ہوا تھا نہ کہ جو ہونا چاہئے تھا۔ مزید یہ کہ مورخ کو جغرافیہ ، تقویم، ہندسہ اور اپنے عہد کے چیدہ علوم پر بھی دسترس ہونا چاہیے، تاکہ واقعات و حالات کو جانچ پرکھ سکے اور منظم  رکھ سکے۔اسے زبان و بیان پر مکمل عبور ہو اور ایسا لکھ سکے جسے ہر ذہنی سطح کا شخص آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکے۔

                                              یونانی ادیب ، جغرافیہ دان  اور مورخ ہیروڈوٹس (484-425 قبل مسیح) کو “بابائے تاریخ” ، کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ،  تاریخ نویسی کو بطور علم ایجاد کرنے کا سہرا اسی کے سر ہے، اس کا آغاز اس نے اپنے سفر ناموں اور رزمیہ داستانوں کی تحقیق سے کیا۔اپنی شاہکار تصنیف ، “تواریخ” کے آغاز میں وہ لکھتا ہے “ہمیں وقت کے ساتھ  ساتھ معدوم ہوتے  انسانی واقعات کے آثار کو مٹنے سے بچانا ہے۔” یعنی ہیروڈوٹس نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا کہ اسلاف کے کارناموں اور واقعات کو محفوظ کرو۔ اپنی کتاب میں اس نے سندھ، پنجاب، فارس سے لیکر یونان تک کے ممالک کی تاریخ،تمدن اور ثقافت کا ذکر کیا ہے۔ تواریخ اپنے عہد کے حوالے سے بحیرہ روم اور مغربی ایشیاء کی تہذیب و تمدن پر ایک نادر دستاویز ہے۔

                                              ہیروڈوٹس کے بعد تاریخ نویسی باقائدہ ایک علم اور فن کی حیثیت اختیار کرتی گئی اس کے بعد قبل مسیح کے  قابل ذکر ناموں میں گزنفون، تاستیوس، تھوسی ڈائڈز(یونان)، تیتوس لییوس، تاسیتس(روم)، سیما چیان، بئن ژاہو (چین)، ہمارے یہاں ابن خلدون ، ابن إیاس ، ابن الأثیر الجزری، ابن تغری بردی ، ابن حیان القرطبی، ابن خلكان، ابن عبد الحكم ، البلاذری، الحسن بن زولاق،تقی الدین المقریزی ، لسان الدین بن الخطیب ، علی بن حزم الأندلسی، الواقدی، ابن الجوزی، الطبری ، ابو الفرج اصفہانی اور مزید بے شمار نام ہیں جو یہاں درج کرنا ممکن نہیں۔ اس ساری تمہید کا مقصد تاریخ اور مورخین سے تعارف تھا کیونکہ مجھے اپنے عہد کے مورخ تک جانا ہے۔ اور اپنے دور میں لکھی گئی تاریخ پر کچھ بات کرنا ہے۔ لیکن پہلے انساب پر کچھ بات ہوجائے۔

                                         علم الانساب  علوم اعلی میں سے ایک علم ہے جو لوگوں کے سلسلہ نسب کے مطالعے، تحقیق اور اس کے مقاصد سے متعلق ہے،اس کا بنیادی مقصد  تعین نسب کے معاملے میں  غلطیوں سے مبرا  دستاویزات  کا ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔ چونکہ  نسبت نسل اہم مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی  امور سے متعلق ہے ۔لہذا ، نسب کی اہمیت کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ کرام  علیھماالسلام  کی طرف سے متعدد روایات اور بہت ساری ہدایات وارد ہوئی  ہیں۔

                                               رسول  گرامی ﷺ نے فرمایا   تعلموا من انسابکم ما تصلون ارحامکم “، یعنی  اپنے نسب کو جانو اور اس کے ذریعے صلہ رحمی کرو۔ اور آپ ﷺ  بعض اوقات اپنے اصحاب سے فرماتے ” انا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم (عبد الهاشم) بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مره بن… ۔ شیخ طوسی اپنی کتاب امالی میں  امام رضا علیہ السلام کی روایت نقل کرتے ہیں کہ  رسول خدا ﷺ نے فرمایا   ” کل نسب و صهر منقطع يوم القيامة سترا من اللّه عليه الانسبي و سببي ” یعنی تمام انساب روز قیامت منقطع ہوجائیں گے سوائے میرے نسب اور سبب کے ۔ اور آپ دیکھئے  کہ روز بروز آنحضرت ﷺ کی  نسل مبارک  فراوان ہوتی جارہی ہے  کہ آیہ قرآن  انا اعطيناک الکوثر سے جو مقصود خدا تھا وہ آشکار تر ہوتا جا رہا ہے۔

                                                 نسب شناسی کی اہمیت کا اندازہ مولائے کائنات امیر المومنین علی المرتضیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے  اس واقعے سے کیا جاسکتا ہے۔ سیّدہ کائنات  حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد جناب امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے بھائی جناب عقیل ؑ (جو اپنے عہد کے نامور نسب شناس تھے )سے فرمایا  کہ میرے لئے ایسی ہمسر کا انتخاب کرو جو عرب کے ممتاز ترین،شجاع ترین اور شریف ترین قبیلے سے ہو۔ جناب عقیلؑ نے  بانومجلله و مکرمه، يعني حضرت ام البنين سلام اللّه عليها کا انتخاب کیا جنہوں نے کائنات کو جناب ابوالفضل العباس علیہ السلام جیسا بطل جلیل عطا کیا جن کی بہادری، جاں نثاری اور وفاداری تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ خود ایک تاریخ ہے۔

                                                   یہ  علم  سادات ابوطالب ؑکے مابین اسلام کی تاریخ کے ساتھ ساتھ مروج رہا ہے ، اور جیسا کہ انساب کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہےکہ  پہلی صدی ہجری سے اور خاص طور پر ہجرت اور کچھ نقل مکانیوں (امویوں اور عباسیوں کی وجہ سے) کی  بنا پر  خود سادات و دیگر مصنفین کتب انساب نے  اس پہلو پر خصوصی توجہ دی۔تاریخ کے اوراق سے  معلوم ہوتا ہے کہ  سادات نے  اپنے اپنے دور کے  حاکم وقت کے خلاف قیام کیا  مثلا   محمد نفس زکيه نے  مدينه  اور ان کے بھائی  ابراهيم باخمرا نے  بصره  میں قيام  کیا جس پر ظالم حکمرانوں نے ظلم کا ہر حربہ آزمایا  اور قیام شکست سے دوچار ہوئے؛ سادات کو نقل مکانی کرنا پڑی  اور انہوں نے دوسرے علاقوں میں جا سکونت اختیار کی۔ ہر وہ علاقہ جہاں سادات ظاہرا یا پوشیدہ موجود تھے ان کے ناموں کے اندراج کا باقائدہ رجسٹر تھا۔واضح رہے کہ ابتدا میں سادات کے ناموں کی رجسٹریشن مختلف طریقوں سے کی گئی تھی ، لیکن بعد میں ، ہر ایک خطے میں کچھ سادات  کی تجویز سے ، ایک شخص کو نقیب (سادات کا نگران) منتخب کیا گیا اور یہ اس کہ ذمہ داری قرار پائی۔لیکن ہر خاندان کی سطح پر بھی اس کا اہتمام رکھا گیا۔

                                             نسب شناسی  قبل از اسلام عربوں میں  شاخت قبائل میں اہم تھی۔  لیکن صدر اسلام اور  اس کے بعد   کے ادوار میں  پیغمبر اکرم ﷺ کی نسل مبارک میں  اضافے اور ان کے مختلف مقامات پر ہجرت کر جانے کی وجہ سے انساب سادات  کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی ۔ تاریخ اسلام کے اولین نسب شناس جناب عقیل بن ابو طالبؑ تھے۔

                                        فقہ  میں بھی نسب  کی اہمیت خصوصی ہے جیسا کہ   قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت نے فرمایا        اِنَّمَا یُرِیْدُ اﷲِ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَ یُطِھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا       اور فرمایا             قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى  یہ آیات واضح طور پر  جناب رسول خدا ﷺ کے خانوادہ کی عظمت و اہمیت نسب کی دلیل ہیں۔ اور  نسب سادات پر صدقہ  و زکوۃ  کا حرام ہونا   اور خمس کا ان کا حق ہونا، علمائے سادات کا سیاہ عمامہ  مخصوص ہونا،وجوب احترام سادات، اور ان کے لئے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہونا   نسب سادات کی خصوصی شرعی اہمیت  کو واضح کرتا ہے۔ اسی وجہ سے علماء و نسب شناسان سادات نے  اس خانوادے کی شجرہ نویسی و نسب شناسی پر ہر دور میں خصوصی توجہ رکھی اور انتہائی اہتمام و باریک بینی سے اس پر کام کیا۔

                                                 یونان ، روم، چین، مصر، اندلس، شام، ایران اور جزیرہ نما عرب سے ہوتا ہوا اب میں کیمبل پور پہنچ چکا ہوں ، اپنے عہد کے مورخ اور  نسب شناس تک ، اٹک (کیمبل پور) کے ارباب ذوق میں جناب مونس رضا صاحب کا نام نمایاں ترین ہے اور ان چند ناموں میں بھی سرفہرست ہے جو دامے،درمے،سخنے، قدمے صاحبان علم و دانش و اہل قلم کی بھرپور حوصلہ افزائی بلکہ سرپرستی بھی کرتے ہیں۔ وہ اکثر پرتکلف محافل سجاتے ہیں جس میں نامور محقق، ادیب، شاعر اور اساتذہ شریک ہوتے ہیں ساتھ وہ یہ مہربانی بھی کرتے ہیں کہ مجھ طالب علم کو بھی مدعو کرتے ہیں اور اس طرح مجھے اُن نابغہ شخصیات سے فیض کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

                                           مونس رضا صاحب بنیادی طور پر علوم شرقیہ کے استاد ہیں لیکن ادبیات عالم، تحقیق اور سائنسی علوم پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ دو اور دو چار کو تسلیم کرنے زیادہ اسے ثابت کرنے میں  دلچسپی رکھتے ہیں۔میں اکثر ان سے دینی اور شرعی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتا ہوں اور مجھے جو جواب ملتے ہیں وہ مکمل عالمانہ و عارفانہ ہوتے ہیں نہ کہ مولویانہ۔ میرے کئی سوالات کے جواب میں انہوں نے مکمل مضامین لکھے جو میرے ای میگزین پر شائع ہوئے اورعوام و خواص میں مقبول ہوئے۔

hijraton ki daastan

                                                   ہجرتوں کی داستان کو انہوں نے جس عرق ریزی سے مرتب کیا اور جس قدر مشقت اٹھائی اس کی مثالیں ہمارے ہاں کم کم ملتی ہیں۔ میں ان دنوں کا عینی شاہد ہوں جب وہ اس کار گراں میں ہمہ تن مصروف بلکہ غرق تھے۔ ایک ایک سطر پر ان کی توجہ ، تواریخ تقویم کی انتہائی باریکی سے کسی ماہر نجوم و فلکیات کی طرح جانچ پڑتال، زبان و بیان پر ماہر لسانیات جیسا دھیان، آھنگسازی صفحات پر کاتب و خطاط جیسی نظر ، سرورق اور پس ورق کی تیاری میں ایک مصور اور طراح گرافک جیسی دلچسپی انہی کا خاصہ ہے۔ ہجر رُتوں کی اس داستان کو دستاویز بنانے کی خاطر طویل سفر جیسے انہوں نے کیے میں کم از کم سوچ ہی سکتا ہوں۔

                                                   ہجرتوں کی داستان  پورے اہتمام سے لکھی گئی ہے۔ اس میں تواریخ کو سائنٹفک انداز میں جانچ پرکھ کر  ، واقعات کی صحت کو ہرممکن  تصدیق کے بعد اور انتہائی سلیس و شستہ زبان میں نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔اگرچہ  یہ کتاب سادات بھاکری کے لئے بالعموم ایک اہم کتاب ہوگی  لیکن سادات کامل پور سیدان کے لئے   باالخصوص ایک ایسی قیمتی دستاویز ثابت ہوگی  جس  میں انہیں اپنے اسلاف کی تاریخ، تہذیب ، تکالیف و  مشکلات، ان کے علمی و روحانی کمالات و درجات سے آگہی   اور مکہ سے لیکر کامل پور سیدان تک کے اسفارہجرت کے احوال  ملیں گے اور اس کا بدل  شاید آئندہ کئی دہائیوں تک انہیں مل نہیں پائیگا۔

                                      میری دعا ہے کہ ربّ کریم صدقہ محمدؐ و آل محمدؐ جناب مونس رضا صاحب کو اس عظیم کام پر جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی صحت، عمر اور علم میں برکت عطا کرتے ہوئے ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے تاکہ  ایسے مزید کار ہائے نمایاں انجام دے سکیں اور آنے والی نسلوں کے لئے بہترین علمی اثاثہ  تیار کرتے رہیں۔

Jahangir Bukhari

مخدوم آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری

11 ذی الحج 1442 ھ /22 جولائی 2021ء

آغا جہانگیر بخاری

بانی مدیر و چیف ایگزیکیٹو

Next Post

7فروری ...تاریخ کے آئینے میں

پیر فروری 7 , 2022
7فروری ...تاریخ کے آئینے میں
7فروری …تاریخ کے آئینے میں