کتاب کی صورت میں چھپے ہوئے لفظوں کی اہمیت

فرہنگ آصفیہ میں کتاب کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے، ’’کتاب (ع) مؤنث، نوشتہ، نامہ، مکتوب، لکھت، پستک، پوتھی، گرنتھ، شاستر، مقالہ، جلد، نسخہ، رسالہ۔‘‘(١)

انگلش ڈکشنری آکسفورڈ میں کتاب کی تعریف کچھ اسطرح سے درج ہے

“A written or printed work consisting  of  pages glued  or  sewn  together along one side and bound in covers.”(٢)

انگریزی زبان میں کتاب کے لیے لفظ “book” استعمال کیا جاتا ہے جیسے قدیم انگریزی میں “BOC” کہا جاتا تھا بعد ازاں یہ سہہ حرفی لفظ برچ ٹری کے معنوں میں مستعمل ہوا ۔

  سادہ زبان میں کتاب کی تعریف کچھ یوں ہے۔

 ١ :لکھی ہوئی تحریروں یا چھپے ہوئے صفحات پر مشتمل پلندے کو یک جا کر کے پشت سے سی دئیے جانے والے مجموعے کو کتاب کہتے ہیں۔

 ٢ : لفظ کتاب لاطینی آزاد سے ہے ، جو اصطلاح درخت کی چھال سے منسلک ہے۔ کتاب کاغذ کی چادروں یا کچھ اسی طرح کے مواد کا ایک مجموعہ ہے جو پابند ہونے پر ایک حجم بن جاتی ہے ۔

 ٣ :حرفوں کے مجموعے کو لفظوں کے قالب میں ڈھالنے کے بعد جو تحریر سامنے آتی ہے اُسے باضابطہ طور پر  یک جلد کی صورت میں چھاپا جاتا ہے وہ جلد ایک بھی ہو سکتی ہے اور ایک سے زیادہ جلدوں پر مشتمل بھی ہو سکتی ہے پس انہی جلدوں کو کتاب کہا جاتا ہے۔

کتاب کا آغاز اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کی اپنے پغیمروں پر بھیجی گئی کتب سے ہوتا ہے ۔ جنہیں ہم کتب سماویہ یا آسمانی و الہامی کتب کہتے ہیں۔

کتب بینی کی ابتدا بھی انہیں آسمانی کتابوں کے ساتھ شروع ہوئی

حضرت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآ لۃ وَسَلَّم پر جب پہلی وحی سورہ علق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رب العزت نے فرمایا ” اقراء ” یعنی پڑھ جس سے  مطالعہ کی اہمیت مذید واضع ہوتی ہے ۔

ان آسمانی کتب کو پہلے پتھر کی سلوں ، چمڑے کے ٹکڑوں ،مٹی کی تختیوں، درختوں کی چھال ، کپڑے کے ٹکڑوں ، جانور کی کھال اور ہڈیوں، کھجور کی شاخوں اور مختلف دھاتوں پر لکھ کر محفوظ کیا جاتا تھا۔

فنِ کتابت کا یہ سلسلہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کے عہد تک جاری رہا۔ اسی طرح طویل عرصے تک  پپرس  یعنی درخت کی چھال کو کتابت کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ۔

سکندریہ کے مشہور کتب خانے میں تقریباً ۵٠ قبل مسیح تک پپرس پر لکھی گئی پانچ سے سات لاکھ تک کتب کا سراغ ملتا ہے۔

کاغذ کی ایجاد سے قبل کتب کو ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ اُردو زبان میں ہاتھ سے لکھی کر محفوظ کی جانے والی کتب کو مخطوطات کہا جاتا ہے۔یہ قدیم متون آج بھی دُنیا کی مختلف لائبریوں میں محفوظ ہیں ۔١٠۵ قبل مسیح میں چین کے شہری تسائی لون نے کاغذ ایجاد کر کے کتب خانوں میں ایک نئی روح پھونکی یوں قدیم متون کاغذ کے دامن پر تحریر کیا جانے لگا۔ کاغذ کی ایجاد نے فنِ کتابت میں ایک نئی حرارت پیدا کی تو یہ ادبی سرمایہ کاغذی شکل میں محفوظ کیا گیا ۔

کتب خانوں کا ابتدا ئی علم قدیم نینوا سے ملنے والے کھنڈارت  سے ہوتا ہے جو 7000ہزار قبل مسیح میں تعمیر ہوا ۔اس کتب خانے میں تقریباً ٢٢٠٠ ہزار کتب کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں جن میں بڑی تعداد مٹی کی تختیوں پر لکھے گئے متون کی ہے جو آج بھی برٹش میوزیم میں محفوظ ہیں۔

بابل کے کتب خانوں میں بھی مٹی کی ایسی تختیاں محفوظ ہیں۔ اسی طرح ایتھنز میں چوتھی صدی قبل کا کتب خانہ موجود تھا۔اس کے علاوہ یونان ، سکندریہ کے کتب خانے بھی بہت عمدہ تھے ۔ان کتب خانوں کو  ۴٧  قبل از مسیح میں جولیس سیزر کے لشکر نے جلا کر راکھ کر دیا تھا یوں یورپ کا علمی سرمایہ کافی حد تک ضائع ہو گیا

جلائے جانے والے کتب خانوں کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے۔

 ١ ۔اسپین میں عیسائی غلبے کے بعد وہاں کے کتب خانے جلا دیے گئے۔

 ٢ ۔سن ۵٠٣ء ہجری میں طرابلس پر عیسائیوں نے قبضہ کیا تو وہاں کے کتب خانوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا ۔

 ٣ ۔ اس دور میں Cardinal Ximenez’s نامی شخص نے ایک ہی دن میں کم و بیش ٨٠ ہزار کتب کو نذر آتش کر دیا۔

۴-سکنریہ کتب خانوں کو  ۴٧  قبل از مسیح سر جولیس سیزر نے جلا دیا۔

 ۵ – صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں نے مصر، شام، سپین اور دیگر اسلامی ممالک کے کتب خانوں کو بری طرح جلا کر تباہ و برباد کر دیا۔ ان کتب کی تعداد ٣٠لاکھ سے زائد تھی۔

 ٦ : ٦۵٦ ہجری میں ہلاکو خان نے بغداد کو تاراج کرنے کے بعد وہاں کے عظیم الشان کتب خانوں کو دریائے دجلہ میں بہا دیا ۔ دریائے دجلہ میں غرق کی جانے والی کتب کی تعداد تقریباً  ٦ لاکھ سے متجاوز تھی بغداد میں علامہ سید رضی موسوی کا کتب خانہ جہاں نہج البلاغہ جیسی معرکۃ الآراء کتاب تالیف ہوئی اسے بھی دریا برد کر دیا گیا۔

 ٧ ۔تاتاریوں نے بغداد کے کتب خانے تباہ کئے اور تمام کتب کو دریا برد کر۔دیا ۔تاتاریوں کا یہ سیلاب صرف بغداد تک ہی محدود نہ رہا بلکہ ترکستان ،

خراسان، فارس، عراق اور شام سے گزرا اور تمام علمی یادگاریں مٹاتا چلا گیا ۔انہوں نے تمام کتب بہا دی جس سے دریا کا پانی اس قدر سیاہ ہو گیا تھا جیسے روشنائی کہیں گرا دی جائے تو وہ پھیل جاتی ہے۔

  ٨  ۔ اسلامی دنیا کے سب سے پہلے عمومی کتب خانہ جسے ابو نصر شاپور وزیر بہاء الدولہ نے  ٣٨١ھ  میں بغدادا کے ایک محلہ کرخ میں بنوایا تھا اس کتب خانے میں تقریباً دس ہزار سے زائد ایسی کتابیں موجود تھیں جو خود مصنفین یا مشہور خطاطوں  لکھی ہوئی تھیں (جہنیں مخطوطات کہا جاتا ہے) ۔یاقوت الحموی جس نے دنیائے اسلام کے بہتر سے بہترین کتب خانے دیکھے تھے، لکھا ہے کہ دنیا میں اس سے بہترین اور اعلیٰ پائے کا کوئی کتب خانہ نہ تھا۔ اس کتب خانہ کو مورخین نے ’’دار العلم ‘‘ کے نام سے موسوم کیاتھا۔یہ مایہ ناز کتب خانہ  ۴۵١ھ  میں طغرل بیگ سلجوقی نے جلا کرخاکستر کر دیا تھا۔

  ٩  ۔ قاضی ابن عمار نے بھی طرابلس میں عالیشان کتب خانے  بنوائے جس میں کم و بیش ایک لاکھ سے زائد کتب موجود تھیں۔یہ کتب خانہ صلیبی جنگوں کے دوران نیست و نابود ہوگئے۔

  ١٠  -فاطمین مصرکے دور میں قاہرہ کے قصر شاہی کا عدیم النظیرکتب خانہ تمام اسلامی دنیا کے کتب خانوں پر سبقت لے گیا تھا جسے صلاح الدین ایوبی نے جلا کر خاکستر کر دیا۔

  ١١  ۔صاحب بن عباد وزیر کا عظیم الشان کتب خانہ’’ جو دارالکتب رے ‘‘کے نام سے معروف تھا، سلطان محمود غزنوی نے جلا کر تباہ کر دیا ۔

  ١٢  : جب  ۴٢٠ھ  میں سلطان محمود غزنوی نے رے فتح کیا تو وہاں کے تمام کتب خانوں کوجلوا دیا۔

  ١٣  ۔ بغداد میں ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کا کتب خانہ  ٣٨۵ھ  تا  ۴٢٠ھ  کئی مرتبہ جلایا گیا۔آخری مرتبہ ۴۴٨میں اسطرح جلایا گیا کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہ بچا۔

  ١۴  ۔  ۵٨٦ھ  میں ملک الموید نے نیشا پور کے باقی ماندہ کتب خانوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔۔

  ١۵  ۔  ۵۴٩ھ  میں ترکوں کے ایک باغی گروہ  نے ماوراء النہر سے آکر نیشا پور کے تمام  کتب خانوں کو جلا دیا۔

سلاطین کی ضد،ہٹ دھرمی اور انّا کا رُخ صرف انسانوں تک ہی محدود نہ رہا بلکہ انہوں نے علمی و ادبی ذاخائر کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔

اگر عربوں کی بات کی جائے تو انہوں  نے بھی اپنے دور اقتدار میں بہت  سے کتب خانے تعمیر کروائے ۔اہلِ عرب نے جو اہم کتب خانے تعمیر کروائے ان میں اندلس کا مکتبہ قرطبہ، مصر کا دارلعلم، بغداد کا دار الحکمت ، دمشق کا مکتبہ نظامیہ اہم ہے ۔

 عثمانیہ دور میں ترکی کے کتب خانے مسلم عہد کے عظیم دور کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ماضی کے جھرکوں میں جھانک کر دیکھا جائے تو مسلم تاریخ  کے وہ تاریک باب ذہن میں گردش کرنے لگتے ہے جب اغیار نے ہمارے علمی سرمایہ کو غصب کر کے یورپ کی لائبریریوں میں منتقل کیا ۔آج بھی مسلمانوں کی بے شُمار کتب یورپ کی لائبریریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں مگر افسوس ہمارے علمی سرمائے سے اغیار نے تو فائدہ اُٹھایا لیکن اصل وارثین اس سرمائے کی وقعت و اہمت کو نہ سمجھ پائے ۔

بقول اقبال

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی​

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا​

۴:

​بر صغیر پاک و ہند میں کتب خانوں کی ابتداخلیجی نے کی انہوں نے عوامی سطح پر کتب خانے بنائے اور امیر خسرو کو ان کتب خانوں کی نگرانی کے فرائض سونپے۔

ہمایوں نے بھی ایک کتب خانہ تعمیر کروایا جس کے آثار آج بھی دہلی کے شاہی قلعے میں دیکھائی دیتے ہیں ۔

ہمایوں کے بعد اکبر نے بھی کتب خانہ بنوایا جس میں حکمت،فلسفہ، تصوف اور علوم اسلامیہ پر مبنی تقریباً  ٢۴٠٠  کتب کا زخیرہ موجود تھا جس کی نگرانی کے فرائض عبدالرحیم اور خان خاناں سر انجام دیتے تھے ۔

شہزادی زیب انساء بھی علم و ادب کی حامل شخصیت تھی اور شاعری کا شغف رکھتی تھیں۔ ان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی علماء ہند کے لیے ایک کتب خانہ بنوایا۔

ان کتب خانوں کے علاوہ بیجا پور کے حکمران عادل شاہی کے دور میں بھی کتب خانے تعمیر کئے گئے ۔اسی طرح میسور میں ٹیپو سلطان نے کتب خانہ تعمیر کیا اُن کی دستخط شدہ کتابیں آج بھی کلکتہ ایشیاٹک سوسائٹی میں لائبریری میں موجود ہیں۔

بر صغیر میں انگریز دور میں بھی کتب خانے بنوائے گئے جن میں  ١٩٠٣ء  کلکتہ کی ایمپریل لائبریری تعمیر ہوئی جس کا نام بعد میں نیشنل لائبریری میں تبدیل کر دیا گیا ۔جبکہ ممبئ رائل ایشیاٹک  ١٩٠۴ء  میں تعمیر ہوئی ۔اس کے علاوہ  ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کتب خانے بنائے گئے،جیسےبڑودہ،مدارس،گجرات،پنجاب،وغیرہ بڑدوہ کے کتب خانے کو ایک امریکی لائبریرین ویلم بورڈن نے منظم کیا جیسے بڑودہ کے حکمران راجہ سیر سیاجی گائیگورڈ نے اپنے کتب خانے کو منظم کرنے کے لیے بطور خاص ہند بلوایا تھا۔

  ١٨٩٦ء  میں لفٹینٹ گورنر نے

  ویلم بورڈن کو  پنجاب یونیورسٹی کے کتب خانے کو

  ١٨٨۴ء  کے خراجات کا تخمینہ لگانے اور حسابات کی تحقیق کرنے اور از سر نو مرتب کرنے کے لیے بھی بطور خاص بلوایا تھا۔

برصغیر میں کتب خانوں سے متعلق پہلی بار لائبریری سائنس کا مضمون بھی ویلم بورڈن نے  ہی معتارف کروایا۔

ان کتب خانوں کی تعمیر کا بنیادی مقصد عوام الناس میں علم دوستی کو پروان چڑھنا اور کتب بینی کے شوق کو جلا بخشنا تھا۔ گذشتہ کئی صدیوں سے کتاب اور اہل کتاب کا باہمی رشتہ ایک تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔کاغذ میں کتب کو ڈھالنے کے بعد اُن کی تزین و آرائش کے ساتھ پیشکش کا سلسلہ اب برس ہا برس سے جاری ہے ۔کتابوں کی اہمیت و افادیت ہر دور میں مسلم حقیقت رہی ہے۔ اسی لیے کتاب کو بہترین رفیق کہا گیا ہے جس سے نہ صرف قاری کو ذہنی و قلبی سکون میسر ہوتا ہے بلکہ اہم معلومات تک رسائی بھی ملتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کتابیں معلومات مہیا کرنے اور  ذہنی استعداد کو بڑھانے کا اہم زریعہ تصور کی جاتی ہیں۔

کتب بینی کا زوق رکھنے والے افراد دوسروں کے حالات و واقعات ،مشاہدات و تجربات سے استفادہ کرتے ہیں جس سے اُن کی ذہنی ،فکری، علمی و ادبی اور فنی صلاحیتیں کو جلا ملتی ہے۔انسانی عقل و شعور کی بالیدگی کے لیے مطالعہ اہم جزو لاینفیک مانا جاتا ہے کیونکہ مطالعہ کی وسعت کے بغیر انسانی ذہن کے ادراک کی سطح بلند نہیں ہوتی ۔مطالعہ کا شوق و جذبہ انسان میں علم کے نئے چراغ روشن کرنے کے ساتھ، ساتھ اس کی سوچ کو انوکھے زاوئیے عطا کرتا ہے۔ جس سے اس میں جاننے اور پرکھنے کی خوابدیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں اور وہ کائنات کے سربستہ رازوں کو کھوجنے کی جستجو کرنے لگتا ہے ۔

 کتابیں ہمارے لیے علم کے حصول کا موثر زریعہ ہیں۔ تاریخ ہو یا جغرافیہ، طب ہو یا قانون، فلسفہ ہو یا نفسیات ، علمِ نباتات ہو یا حیوانات، حیات ہو یا کائنات، علمِ فلکیات ہو یا علمِ حساب، معاشرت ہو یا معیشت، لسانیات ہو یا ادبیات، فنونِ لطیفہ ہو یا سائنسی علوم غرض کے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے لیے مطالعہ اہم ہے ۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارو مدار شرح خواندگی پر ہوتا ہے ۔وہی قومیں عروج حاصل کرتی ہیں جو اپنے اسلاف کے علمی و ادبی سرمائے اور اُن کی تحقیقی و تخلیقی کاوشوں کی سہی معنوں میں حفاظت اور ترجمانی کرتی ہیں ۔

مطالعاتی زوق  ہمیں مختلف مذاہب ، زبان و بیاں اور  قوموں کے تہذیبی و ثقافتی ورثے سے جوڑتا ہے۔

دورِ حاضر میں بڑھتی ہوئی مصروفیات نے جہاں نظامِ زندگی کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے وہی کتب بینی کا زوق بھی تنزلی کا شکار نظر آتا ہے ۔ صد افسوس کہ قاری اور کتاب کا رشتہ اس مادہ پرست دور نے نگل لیا ہے ۔

انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے پھیلاوٴ نے نظامِ زندگی کے ساتھ وقت کا بہت سا حصّہ اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات و میلانات کی وجہ مطالعہ کی عادت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے خاص کر نوجوان نسل صرف کورس کی کتابوں کو لگے بندھے ہاتھ لگاتے ہیں ۔گھر اور درس گاہوں میں تربیتی فقدان کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل جو پہلے علم کی پیاس بجھانے کے لیے لائبریریوں کی جانب رُخ کیا کرتی تھی آج وہ ویڈیو گیمز ،ٹک ٹاک اور ایسی دیگر فضولیات کی عادی ہو رہی ہے۔کتب کا حصّول اب صرف ڈگری کے لیے یا مقالوں میں حوالہ جاتی ضرورت کو پُورا کرنے کی حد تک اہم سمجھا جاتا ہے ۔

آج کل انٹر نیٹ پر موجود ڈیجٹل لائبریریوں کا رجحان بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ 

 کتب کو خرید کر پڑھنے کی بجائے”پی ڈی ایف” پر ضرورت کے تحت مطالعہ کیا جاتا ہے۔اس کی ایک بڑی  وجہ تو نایاب کتب کی عدم دستیابی ہے تو دوسری جانب مہنگی کتب کی خرید غریب اور بے روزگار طالبعلم کے بس کی بات نہیں ہے ۔ایسے میں جو طالبعلم یا قارئین مطالعہ کتب خریدنے کی اسطاعت نہیں رکھتے وہ با آسانی “پی ڈی ایف ” سے استفادہ کرتے ہیں۔

عصر حاضر  میں موجودہ نسل کتاب کے لمس اور کاغذ کی خوشبو سے انجان ہوتی جارہی ہے ۔ آج کتابیں لائبریریوں میں بند شیشوں کے اوٹ سے قاری کا انتظار کرتے ہوئے اُس کے لمس کو ترستی ہیں ۔

اس حوالے سے گلزار کی ایک  نظم ملاحظہ ہو!

 کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں

جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں’ اب اکثر

گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر

بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں

انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

جو قدریں وہ سناتی تھیں

کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے

وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں

جو رشتے وہ سناتی تھیں

وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں

کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے

کئی لفظوں کے معنی گر پڑے ہیں

بنا پتوں کے سوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ

جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے

بہت سی اصطلاحیں ہیں

جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں

گلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالا

زباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا

اب انگلی کلک کرنے سے بس اک

جھپکی گزرتی ہے

بہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر

کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے

کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے

کبھی گودی میں لیتے تھے

کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بنا کر

نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے چھوتے تھے جبیں سے

وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئندہ بھی

مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول اور

مہکے ہوئے رقعے

کتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے

اُن کا کیا ہوگا ؟

وہ شاید اب نہیں ہوں گے!

۵:

 موجودہ زمانے میں کتاب سے قاری کا رشتہ رفتہ،رفتہ کمزور ہو رہا ہے۔

بقول سعود عثمانی

کا غذ کی یہ مہک،یہ نشہ روٹھنے کو ہے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

اب تعلیمی اداروں کے سربرہان کی یہ زمہ داری ہے کہ اس نازک زمانے میں جہاں کتب بینی کا زوق انحطاط کا شکار ہے انہیں چاہیے کہ وہ  طالبعلموں کے زوقِ مطالعہ کو بڑھائیں اور مطالعے کی اہمت کو اُ جاگر کریں۔ مذید یہ کہ تعلمی سطح پر ایسی سرگرمیاں منعقد کروائی جانی چاہیے جس سے طالبعلم دوبارہ کتب بینی کی جانب راغب ہوں۔ اس ضمن میں حکومتی سطح پر بھی مذید سرکاری لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا جا نا چاہیے تاکہ اہلِ زوق اور تحقیق کے طالبعلموں کی مطالعاتی ضرورت کو پورا کیا سکے۔

  حوالہ جات  :

١:         مولوی سید احمد دہلوی، ترقی اردو بیورو نئی دہلی

٢:         Oxford dictionary, Oxford University press, Karachi ,Date of publish 2019,30th Edition, p 911.

۴: محمد اقبال ،ڈاکٹر،نوجوانوں سے خطاب، حصّہ سوئم بانگِ درا، سنِ اشاعت ١٩٨٠

شُمائلہ مُنیب شُمائل

Next Post

محمد ساجد سے گفتگو

بدھ اپریل 6 , 2022
میرا نام محمد ساجد ہے اور یہ ہی میرا قلمی نام ہے۔ میری پیدائش 11 اپریل 1983ء کو بنگلہ بستی کاہنہ نو ضلع لاہور میں ہوئی
محمد ساجد سے گفتگو