“منتہاۓ فکر”مطالعہ کی میز پر

تحریر : ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم ، سرگودھا

خجستہ نصیب ہیں وہ شعراء جن کے تخیلات کی سر زمین پر ہمہ وقت مناقبِ اہلبیت علیہ السّلام کی پُر وقار و دلبہار صورت میں عشق و عقیدت کے گلھائے رنگا رنگ کھل کر ذوق و شوق کےجلو میں دعوتِ نظارہ کا اہتمام کرتے ہیں ۔ مناقبِ اہلبیت علیہ السّلام میں”کربلائی شاعری”کو جو اہمیت حاصل ہے اس کی رفعتوں اور عظمتوں کو کوئی ذی شعور اور صاحب ادراک نظر انداز کرنے کی جرات ہی نہیں کر سکتا ۔ عشق و عقیدت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس موضوع سے ہمکنار شعر و سخن کو ہر لمحہ اپنی آنکھوں کا نور اور دل کا سُرور تصور کیا جائے ۔ یقیناً یہ وہی نور ہے جس سے ایمان و ایقان کو جِلا ملتی ہے اور ظلمتوں کی گھٹائیں جو زیست کے سر پر دیوانہ وار منڈلارہی ہوتی ہیں روشنیوں میں یکسر تبدیل ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت امام عالی مقام سیدنا حسین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس حق و صداقت کی وہ طاقت ور اور توانا آواز ہے جس نے تاریخ انسانی کے اوراق پر بے مثال انمٹ نقوش مرتب کیے ۔ آپ نے اپنے عزیز و اقربا اور رفقاء کی قیمتی جانوں کا نذرانہ بارگاہِ رب العزت میں اخلاص کے ساتھ پیش کر کے حق و صداقت کے عظیم پرچم کو سرنگوں ہونے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امام عالی مقام حضرت حسین علیہ السلام کی شان میں مناقب کہہ کر دلوں کو تسکین و راحت کی مہکار سے ہمکنار کرنا اہل ایمان و ایقان کا شاندار وطیرہ رہا ہے ۔ شعرائے کرام کا اس حوالے سے عظیم الشان کردار و عمل روزِ روشن کی طرح عیاں ہے ۔ ہر دور میں اس ارفع و اعلیٰ اور روح پرور موضوع کو بنیاد بنا کر اپنی والہانہ عقیدت و محبت کے خوش نما فانوس روشن کیے گئے ۔ اور تیرگی کے اس ماحول میں روشنی کا خاطر خواہ سماں پیدا کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیگر شعرائے کرام کی طرح میرے محترم دوست جناب مقبول ذکی مقبول کا بھی اس حوالے سے خوبصورت کردار سامنے آیا ہے ۔ انہوں نے عشق و عقیدت کی خوشبو سے معمور اپنے والہانہ جذبات کے جلو میں مناقبِ حضرت امام حسین علیہ السلام کا جلوہ دکھایا ہے -انہوں نے”منتہاۓ فکر” کی پُروقار و سدا بہار صورت میں مناقب پر مشتمل” دیوان” تخلیق کر کے اپنی بہتر صلاحیتوں اور پختہ فکر و فن کے مناظر جبینِ قرطاس پر سجا کر احبابِ فکر و فن اور اصحاب شعر و سخن کو ورطہ ٕ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول شعر و سخن کے میدان میں اپنے راہوارِ قلم کو شبانہ روز رواں دواں رکھنے میں منہمک رہتے ہیں ۔ ان کا انداز بیاں اور طرزِ سخن خوش اسلوبی اور حسن و خوبی سے آراستہ و پیراستہ ہوتا ہے ۔ ان کے تخیلات کی رعنائیاں اور تواناٸیاں نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں ۔ مختلف رسائل و جرائد میں انکا دلکش کلام صفحات کی زینت بن کر منظرِ عام پر آتا رہتا ہے اور قارٸین کے دلوں کو بھاتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“منتہاۓ فکر” ایک حسین و جمیل اور درد وغم سے معمور ، نہایت پُر اثر اور فکر انگیز”منقبتیہ دیوان”ہے ۔ اس کے انگ انگ میں پھولوں کی طرح کھلا ہوا بامعنی کلام اپنی بھینی بھینی خوشبوؤں سے قارئین کے قلوب و اذہان میں راحت و تسکین کے نئے نئے دریچے و باغیچےکھولتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول نے جس منفرد انداز کے ساتھ حضرت امام عالی مقام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقائے کرام کو اشعار کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کیا ہے وہ ان کی امام عالی مقام علیہ السلام اور اہلبیت اطہار سے سچی محبت و عقیدت کا عکاس اور واضح اظہار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“منتہاۓ فکر” کے کورے کورے صفحات پر عقیدتوں کی جو پُرتقدس کہکشاں سجی ہوئی ہے اس میں موجود ہر لفظ ، ہر حرف ، ہر شعر اور ہر منقبت اپنے آنگن میں ستاروں کی سی چمک دمک اور رعنائی رکھتی ہے ۔۔
الغرض ! روشنیوں سے ہمکنار سارا کلام ہی اپنے اندر ایک خاص قسم کی کشش اور جاذبیت رکھتا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ ہر دور میں اس منقبتیہ دیوان کی تابش و توانائی قلوب و اذہانِ عاشقان پر اپنے گہرے اثرات مرتّب کرتی رہے گی ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو سخن پاکستان آرٹ لینڈ چوک اعظم لیہ کے زیرِ اہتمام زیورِ طباعت سے آراستہ و پیراستہ ہونے والا یہ دیوان دو سو صفحات پر محیط ہے ۔ انفرادیت و جاذبیت کے رنگوں سے مزیّن ٹائیٹل اور آفسٹ کاغذ پر طباعت نے اس مجموعہ ٕ کلام کو عالی ومثالی بنا دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“منتہاۓ فکر”کی کامیاب اشاعت و طباعت پر میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے جناب مقبول ذکی مقبول کو ہدیہء تبریک پیش کرتا ہوں ۔ میری دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزّت ، شہدائے کربلا کے طفیل اس مجموعہء پُر جمال کو چاہتوں کا محور بنا دے آمین

musharraf

ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم

سرگودھا

سونیا بخاری

Next Post

کتاب کی صورت میں چھپے ہوئے لفظوں کی اہمیت

منگل اپریل 5 , 2022
کا غذ کی یہ مہک،یہ نشہ روٹھنے کو ہے یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
کتاب کی صورت میں چھپے ہوئے لفظوں کی اہمیت

مزید دلچسپ تحریریں