خبردار!   آگے خطرناک موڑ ہے

( وطن عزیز پاکستان اس وقت جن کٹھن ، نامساعد اور تشویشناک حالات و واقعات سے گزر رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن انجام سے بے خبر ،  ہم سب ،  آنکھیں بند کرکے ،  ایک خطرناک موڑ کی طرف سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں ، نتیجہ کیا ہوسکتا ہے ، اسی پر چند سطور پیش خدمت ہیں ) 

تجزیہ و تحریر :

سیّدزادہ سخاوت بخاری

یوں تو تاریخ عالم ایسے واقعات و حادثات کے ذکر سے بھری پڑی ہے  جن کے نتیجے میں ملک ٹوٹے ، قومیں بکھریں لیکن ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں ، اگر ہم 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان پر ہی نظر دوڑا لیں تو بات سمجھ میں آجاتی ہے ۔

میری نسل ( Generation ) کے لوگ اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ ماضی میں جب ہم اسی قسم کے فکری اور سیاسی اختلاف و انتشار کا شکار ہوئے تو قوم و ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ قیام پاکستان کے صرف 25 سال کے اندر ملک ٹوٹ گیا ، 90 ہزار کے قریب فوجی اور سویلین جنگی قیدی بنا لئے گئے ، نہ صرف عالمی سطح پر جگ ھنسائی اور شرمندگی ہمارے حصے میں آئی بلکہ ہمیں از سر نو بچے کھچے پاکستان کی تعمیر کرنا پڑی جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی بجائے , ایک جھٹکے میں 25 سال پیچھے چلے گئے ۔

میرے وطن کے نوجوان اس بات سے آگاہ نہیں کہ جنرل ایوب خان سے یحیی خان کے دور تک سیاسی حالات کیا تھے ۔ کون کیا کہ رہا تھا ۔ دشمن نے کیا کیا چالیں چلیں اور پھر ہم کس عذاب سے گزرے ۔ یقین جانیئے اس وقت بھی ہم بعینہ آج کی طرح ، کئی گروہوں میں بٹے مختلف راگ الاپ رہے تھے کہ دشمن نے ہمیں گردن سے دبوچ لیا ۔ پاکستان ٹوٹ گیا ۔ گھر گھر صف ماتم بچھ گئی ۔  وہ بنگالی پاکستان کو چھوڑ کر بنگلہ دیشی بن گئے کہ جو  پاکستان کے بانی تھے ۔ یاد رہے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کسی پنجابی ، سندھی ، بلوچ یا پٹھان نے قائم نہیں کی ، بلکہ اس کی بنیاد 1905 میں سر حمید اللہ خان نواب آف ڈھاکہ کے گھر مشرقی بنگال ( بعد میں مشرقی پاکستان ) میں رکھی گئی اور اس جماعت کا پہلا صدر ، ایک شش امامی شیعہ سر آغا خان کو منتخب کیا گیا ۔

تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم کوئی ڈراونا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ہزار سال تک برصغیر پر حکمران رہنے والے 1857 میں مکمل طور پر غلام بنادئے گئے ۔ یہیں سے جنگ آزادی کا آغاذ ہوا اور تقریبا 100 سال تک مسلسل لڑتے لڑتے آخر کار 1947 میں لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرایا اور ابھی ہم سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ 1971 میں ، جبکہ پاکستان کی عمر صرف 25 سال تھی ، ہمیں ، ہماری کوتاھہیوں کی بناء پر ایک اور سانحے سے گزرنا پڑا ۔

خیال یہ تھا کہ اتنے بڑے سانحے سے گزرنے کے بعد ہم ہوش کے ناخن لینگے ، سب مل کر وطن کی ترقی اور استحکام کے لئے کام کرینگے  تاکہ اقوام عالم کے سامنے سر اٹھا کر چل سکیں لیکن یہ سپنا بھی ٹوٹتا نظر آرہا ہے ۔

باہمی اختلاف تو اپنی جگہ لیکن سب سے خطرناک بات یہ کہ اب ماضی کے برعکس ، جانے مانے محب وطن بھی افواج پاکستان پر طعنہ زنی کرتے نظر آتے ہیں جو ایک نہایت تشویشناک بات ہے ۔ اس سے قبل چند پاکستان مخالف گروہ اور مفاد پرست سیاست دان ہی ، پاک فوج اور اس کی قیادت  کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تھے لیکن اب اس میں ، بغیر سوچے سمجھے ، وہ آوازیں بھی شامل ہوگئی ہیں کہ جن سے اس بات کی توقع نہ تھی ۔

میرے ناقص خیال کے مطابق ہمارے موجودہ مسائل کا حل یہ نہیں کہ ہم اپنی ہی فوج کے خلاف محاذ کھول دیں بلکہ اس سازش کی تہہ تک جانے کی ضرورت ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم اس صورت حال تک پہنچے ہیں ۔ ہمیں دشمن کی اس چال کو سمجھنا ہوگا ۔ اس نے کمال ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسا ماحول تخلیق کیا کہ جس میں  نہ صرف ہم آپس میں گتھم گتھا ہیں بلکہ سب نے مل کر فوج کو بھی برا بھلا کہنا شروع کردیا ہے ۔ غلطیاں ہوئی ہیں اس بات سے انکار ممکن نہیں لیکن کیا ہمیں ذاتی مفاد ، اقتدار اور  جھوٹی انائیں ملکی سلامتی سے زیادہ عزیز ہیں ۔ حزب اقتدار اور اپوزیشن دونوں کے لئے امتحان کا وقت ہے ۔ اگر اس جنگ کے نتیجے میں کوئی بڑا حادثہ رونماء ہوگیا تو نقصان ملک و قوم کا ہوگا ۔

military
Image by Joan Greenman from Pixabay

قارئین کرام

کسی بھی ملک و قوم کی سلامتی ، استحکام اور بقاء کے لئے تین چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ۔

اولا یہ کہ ، پوری قوم یا کم از کم اس کی واضع اکثریت ملکی نظام کو چلانے کے لئے ہم خیال ہو یعنی

 وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا راہنماء کی پیروی پر متفق ہوں ۔

دوسری اہم ترین چیز  کسی بھی ملک کی مضبوط اور توانا معیشت یا مالی حالت

اور تیسرے نمبر پر مضبوط اور بہادر فوج کا ہونا دفاع کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔

بدقسمتی سے ہم اس وقت ان تین اوصاف میں سے  دو

 1. قومی اتحاد و اتفاق 

اور

 2. معیشت

کو کھو چکے ہیں ۔

 سیاست میں  دشمنی ، انتقام ، خودغرضی  اور مفاد پرستی کی بھرمار نے قوم کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔ 

ماضی میں قومی خزانے سے ہونے والے کھلواڑ  سے معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ۔ ملک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے اس برے طریقے سے دبا ہے کہ ہمارے پاس غیرملکی قرضوں کا سود دینے کے لئے بھی رقم موجود نہیں ۔

رہی بات ہماری بہادر اور مضبوط فوج کی تو اب ہم اس کا مورال گرانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں ۔

رک جائیے ، ابھی ہم نتیجے پر نہیں پہنچے ۔ یہ مان کر چلتے ہیں کہ اختلافات فروعی اور وقتی ہیں ، ہوسکتا ہے آگے چل کر ختم ہوجائیں ، ہماری فوج بھی مضبوط ہے الحمدللہ ، لیکن معیشت کا کیا ہوگا جو اس وقت انتہائی نگہداشت یا آئی سی یو وارڈ میں وینٹیلیٹر پر ہے  ؟

یاد رکھیں ، سابق سوویت یونین فوجی لحاظ سے ایک سپر پاور تھی اور آج بھی روس کے پاس ایک مضبوط اور بڑی فوج موجود ہے لیکن خراب معیشت اور اندرونی اختلافات نے اس کے 15 ٹکڑے کردئے ۔ سری لنکا سیاست دانوں کی لوٹ مار اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے حال ہی میں کنگال ہوچکا ۔ لھذا اگر ہم نے بھی باہمی جنگ و جدل جاری رکھا ، باہم مل کر قومی معیشت کو نہ سنبھالا تو خدا نخواستہ ہمارا حشر بھی سوویت یونین اور سری لنکا جیسا ہوسکتا ہے ۔

 اس لئے میں  پوری قوم سے گزارش کرتا ہوں  کہ وقت کی نزاکت اور پکار پر دھیان دیتے ہوئے چلیں

آگے خطرناک موڑ کا بورڈ صاف نظر آرہا ہے کہیں ہم اتنی گہری کھائی میں نہ جا گریں جہاں سے نکلنا مشکل ہو ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

مسقط، سلطنت عمان

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

عمان پاکستان بھائی چارہ زندہ باد

ہفتہ جون 25 , 2022
عُمان پاکستان کا سب سے قریب تر ہمسایہ ہے اور یہاں سے کراچی تک کا سفر صرف 1 گھنٹہ اور 15 منٹ کا ہے، اور دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ سمندری حدود مشترک ہیں۔
عمان پاکستان بھائی چارہ زندہ باد