بدمعاشوں کی اقسام

تحقیق و تحریر :

سیّدزادہ سخاوت بخاری

آپ دنیاء بھر میں جہاں بھی چلے جائیں ۔ ہر جگہ ، ہر شہر اور ہر معاشرے میں آپ کو بدمعاش ملینگے ۔ ان کے رنگ ڈھنگ ، طور طریقے ، چال چلن اور طریقہ ہائے واردات مختلف ہوسکتے ہیں مگر  سب کا منشور اور دستور ایک سا پائینگے ۔  بدمعاشی کا بنیادی مقصد ناجائز ذرائع سے دولت کمانا ہی ہوگا ۔ یہی وجہ اور سبب ہے کہ انہیں بد – معاش  یعنی غلط طریقے سے کمائی ہوئی ، معاش ( معیشت / دولت  ) کا مالک یا دعویدار ہونے کی بناء پر  ہمارے ہاں ” بدمعاش ” کہا جاتا ہے جبکہ دیگر زبانوں میں بھی یہ کردار  ایسے ہی ناموں سے پکارا جاتا ہے جس کے معنی بدمعاش کے ہوتے ہیں ۔

اب اگر مختلف زبانوں میں اس کردار کے نام گنوائے جائیں تو ایک طویل فہرست سامنے آسکتی ہے ۔  ماہرین لسانیات کے مطابق اس وقت دنیاء بھر میں کم و بیش 6000 چھوٹی بڑی زبانیں اور بولیاں رائج ہیں لھذا ہم اس کہانی کو پاک و ہند یا برصغیر تک محدود رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینگے کہ بدمعاشوں کی اقسام کتنی ہیں یا مختلف نوع کے بدمعاشوں کو اس خطے میں کن کن ناموں سے پہچانا اور پکارا جاتا ہے ۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ جسطرح زندگی کے دیگر شعبوں میں مراحل ، مدارج اور مرتبے ہیں بعینہ اسی طرح بدمعاشی کی فیلڈ میں بھی بھی کئی منزلیں طے کرنی پڑتی ہیں ۔  اس کام کے لئے  مخصوص مزاج ، بچپن کے حالات اور بری صحبت ہی کسی شخص کو اس راہ پر لیکر جاتی ہے ۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بدمعاشوں کی کتنی اقسام ہیں اور معاشرے میں ان کی پہچان کس نام سے ہے ۔

1. لوفر ( آوارہ )

شعبہء بدمعاشی میں داخل ہونے کے لئے یہ پہلا قدم ہے ۔ جن بچوں اور نوجوانوں کو والدین یا اچھے والدین کا سائیہ نصیب نہ ہو ، وہ آوارگی کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن بعض صورتوں میں امیر کبیر اور صاحبان ثروت لیکن اولاد کی اچھی تربیت سے لا پرواہ والدین کے بچے بھی آوارہ ہوسکتے ہیں ۔ قصہ مختصر آوارگی اور بے لگامی ہی بدمعاشی کی پہلی سیڑھی ہے ۔

2. اوباش

اس عربی الاصل لفظ کا مطلب ہے عیاش ہونا۔  جب کوئی فرد عیاشی کا دلدادہ ہوجاتا ہے تو وہ بدمعاشی کی طرف سفر شروع کردیتا ہے تاکہ جائز و ناجائز طریقے سے مال حاصل کرکے عیاشی کرسکے ۔

3. لچا  ( ل کے اوپر پیش کے ساتھ)

آوارگی اور عیاش مزاجی سے اگلا درجہ لچے پن کا ہے جہاں شرم و حیاء ختم اور بے شرمی شروع ہوتی ہے ۔

4. لفنگا

بدمعاشی کے اس درجے پر صرف شرم و حیاء ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس شخص کی نظر میں بڑے چھوٹے کی تمیز بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور لوگ اس سے کترانے لگتے ہیں ۔

5. اچکا   ( الف کے اوپر پیش اور چ کے اوپر زبر کے ساتھ )

اس ہندی لفظ کا مطلب ہے گھٹیا چور ۔ لوگوں کے مال اسباب اچکنے والا ۔ جو ہاتھ لگا اٹھا لیا تاکہ اپنی ناجائز ضروریات پوری کرسکے ۔

6. شہدا ( شوھدا )

یہ کردار بھی اچکے سے ملتا جلتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے بازاری آدمی ۔ کسی اصول کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مطلب نکالنے والا ۔ ناجائز فائدہ اٹھانے والا ۔  اسی فاعل سے فعل ہے شودا گیری ۔ کہنا کچھ کرنا کچھ ۔

7.  جیب تراش ( جیب کترا )

اس قسم کا بدمعاش بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر جاکر لوگوں کی جیبوں  ( Pockets ) سے نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء نکال لیتا ہے ۔ اسے جیب کترا اور پاکٹ مار بھی کہتے ہیں ۔

picpocket

8. نوسر باز  ( ٹھگ )

بدمعاشوں کی یہ قسم سادہ لوح افراد کو ٹھگنے کا کام کرتی ہے ۔ کسی اور کی زمین یا پلاٹ دکھاکر یا کسی کام کا جھانسا دیکر رقم ہتھیا لینا ۔ کسی کو نوکری کی لالچ دے کر پیسے لے لینا وغیرہ ۔

9. اٹھائی گیر

بھرے مجمعے یا بازار میں نظریں بچاکر لوگوں کا مال و اسباب چرانے والا ۔ ایسے شخص میں بلاء کی زیرکی اور ہمت ہوتی ہے ۔

shoplifting
Image by Morning Calm

10. چور

اٹھائی گیرا اور جیب تراش جب اپنے فن میں کمال حاصل کرلے تو وہ باقائدہ چور کا رتبہ حاصل کرلیتا ہے ۔ اب وہ بازاروں میں  یا دن دھاڑے کھلے عام یہ کام نہیں کرتا بلکہ منظم طریقے سے رات کے اندھیرے میں یا مناسب موقع پاکر پرائے مال پر ہاتھ صاف کرتا ہے ۔

theif
Image by d-keller from Pixabay

11. ڈاکو

جب کوئی چور اپنے فن میں ڈاکٹریٹ یعنی پی ایچ ڈی کرلے تو ڈاکو بن جاتا ہے ۔ اب یہ کوئی واردات اکیلے میں نہیں کرتا بلکہ گروہ بناکر اور پورے دھوم دھڑکے سے ڈاکہ ڈالتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مال ہاتھ لگے اور خوف کے مارے کوئی مزاحمت بھی نہ کرسکے ۔

12. غنڈہ

اب تک جتنے کردار گنوائے گئے وہ سب کے سب چلتے پھرتے فنکار تھے ۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں لیکن غنڈہ ایک ایسا گھناونا ، خوفناک اور بے شرم انسان ہے جو معاشرے کے اندر کسی مقام پر سرعام ، مستقل قیام کرکے لوگوں سے بھتہ وصول کرتا ہے ۔ پیسے لیکر کسی کی زمین جائیداد پر ناجائز قبضہ کرانا یا چھڑانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھا جاتا ہے ۔ سوسائیٹی اس سے خائف رہتی ہے ۔

gangster
Image by Lee Murry from Pixabay

13. دہشت گرد

دہشت گردی بھی بدمعاشی ہی کی ایک اعلی اور جدید قسم ہے جس کے ذریعے پوری معاشرے میں خوف کی ایک فضاء قائم کردی جاتی ہے ۔ اوپر بیان کی گئی تمام اقسام کے برعکس یہ کردار کسی ایک فرد یا افراد کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ پورے علاقے یا ملک کو خوف اور ڈر میں مبتلاء کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتا ہے ۔ اس صدی میں اس وباء نے پوری دنیاء کو اپنی لپیٹ میں لیکر افرا تفری پھیلائی ۔ جان و مال کا نقصان ہوا اور خلق خدا کو یہاں سے وہاں ہجرت کرنا پڑی ۔

قارئین کرام :

جب سے دنیاء بنی ہے جرائم ہوتے چلے آرہے ہیں اور جبتک قائم ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ دنیاء بھر کی حکومتیں اپنے اپنے قوانین کے تحت ان کے خلاف کاروائیاں بھی کرتی ہیں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ چھوٹا مجرم سزاء پاتا ہے جبکہ بڑا مجرم مزے اڑاتا ہے ۔ یہ سب دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ جسطرح بدمعاشوں کی اقسام ہیں اسی طرح قانوں کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ امیر اور بااثر کے لئے الگ اور غریب کے لئے الگ ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

مسقط، سلطنت عمان

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

مدح شاہِ زمن

بدھ جولائی 6 , 2022
حمد و نعت کہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اس کام کے لیے رب العزت ان بیدار بختوں کو چن لیتا ہےجن کے دِل میں حبِ رسول ﷺکی شمع منور ہوتی ہے۔
مدح شاہِ زمن