جعلی خطوط کی روایت

خطوط کاا نسانی زندگی میں بہت عمل دخل رہا ہے۔شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو گا جس نے کوئی خط لکھا یا لکھوایا نہ ہو؛یا کون ایسا شخص ہو گا جس کو کسی نے خط نہ لکھ اہو گا۔لیکن ایسے لوگ یقیناَ بہت کم ہوں گے جنھوں نے فرضی نام سے جعلی خطوط لکھے ہوں۔یہ کام کرنے والے لوگوں کے پیشِ نظر کئی مقاصد ہوتے ہیں؛ جن میں دو نمایاں ہیں۔  ایک یہ کہ وہ ان خطوط کی مدد سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں دوسرا یہ کہ ان مکاتیب کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانا مطلوب ہوتا ہے۔

          پہلی قسم کے خطوط لکھنے والے لوگ چالاک، مکار، ذہین اور مدبر ہوتے ہیں۔ کئی سپاہ سالاروں نے جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لئے فرضی ناموں سے جعلی خطوط لکھ کراپنے مقاصد حاصل کیے  جن کا ذکر آگے درج ہے۔

          دوسری قسم کے خطوط لکھنے والے بزدل، حاسد، کمزور شخصیت ا ور بیمار ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں یہ عام طور پر گھر کے بھیدی ہوتے ہیں۔ اُن میں سامنے آ کر وار کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ ایسے کم ظرف لوگوں سے ان کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ بھی محفوظ نہیں رہتے بلکہ گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے یہ لوگ دوست احباب کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

          بعض اوقات یہ جعلی خطوط اتنا نقصان پہنچاتے ہیں کہ صدیاں بھی اس کی تلافی نہیں کر سکتیں۔ ایسا ہی ایک خط حضروت عثمان غنی ؓ سے منسوب ہے۔ اگرچہ حضروت عثمان غنیؓ نے اس خط کو اپنا مکتوب ماننے سے انکار کر دیا تھا لیکن اُس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔ اسی خط کے نتیجہ میں نہ صرف حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی بلکہ یہ خط حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت علیؑ کے مابین کئی جنگوں کا سبب بن گیا جس کی وجہ سے مسلمان شیعانِ علیؑ اور شیعانِ معاویہؓ کے دو گروپوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے سے اتنے دور ہوتے چلے گئے ہیں کہ کم از کم اس دنیا میں ان دو گروہوں کی قربت نا ممکن ہے۔ یہی خط حضرت امام حسینؑ کی شہادت کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس خط کے متعلق حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے:

 ’’اہلِ مصر نے ابنِ  ابی سرح کی آ کر شکایتیں کیں۔حضرت عثمانؓ نے ایک  تہدید نامہ عبداللہ بن ابی سرح کو لکھا مگر اس نے اس خط کی کوئی پروا نہ کی اور جن باتوں سے حضرت عثمانؓ غنی نے منع کیا تھا انھیں کرنے لگااور جو اہلِ مصر حضرت عثمان غنیؓ کے پاس شکایت لے کر آئے گا انھیں قتل کرادیا۔۔۔اُدھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر ہوئی توآپ نے کہلا بھیجا کہ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ سے ایسے شخص کے متعلق جس پرقتل کا الزام ہے، کی معزولی کے متعلق کہتے ہیں مگر آپ کچھ پروا نہیں کرتے اور اس کے معزول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔تھوڑی دیر میں حضرت علی کرم اللہ وجہ تشریف لائے اور آپ نے بھی کہا۔۔۔آپ اس معاملے میں انصاف کیوں نہیں برتتے؟آپ[حضرت عثمانؓ] نے فرمایا کہ لوگ اپنے لیے خود ہی تجویز کرلیں۔ اس پر لوگوں نے محمد بن ابوبکرکا انتخاب کیا۔چنانچہ آپ نے ان کی تقرری اور عبداللہ بن سرح کی معزولی کا فرمان تحریر کر دیا۔۔۔یہ سارا قافلہ محمد بن ابو بکر  کے ہمراہ مدینہ طیبہ سے ابھی تیسری ہی منزل پر تھا کہ ان کو ایک حبشی غلام جو اپنی سانڈنی کو اڑائے ہوئے تیزی کے ساتھ لیے جاتاتھا؛ ملا۔۔۔صحابی نے اس کو پکڑ لیا۔۔۔اس نے کہا میں امیر المومنین کاغلام ہوں اور عاملِ مصر کے پاس جاتا ہوں۔ یہ سن کر ایک شخص نے محمد بن ابی بکر کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ عاملِ مصر یہ ہیں۔ اس نے کہا کہ میرے مکتوب الیہ یہ نہیں۔۔۔اس کی تلاشی لی گئی تو [مشکیزے سے]ایک خط امیر المومنین کی طرف سے ابنِ ابی سرح کے نام کا نکلا۔۔۔اس میں لکھا تھا کہ جس وقت تیرے پاس محمد اور فلاں فلاں شخص آئیں تو کسی حیلے سے انھیں قتل کردینا۔اس خط کو پڑھ کر تمام آدمی دنگ رہ گئے اور مدینہ طیبہ لوٹنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔۔۔آپ [حضرت عثمانؓ] نے فرمایا میں حلفیہ کہتا ہوں کہ یہ خط میں نے نہیں لکھااور نہ میں نے کسی کو لکھنے کا حکم دیااور نہ مجھے اس کے متعلق کچھ معلوم ہے۔۔۔اس کے بعد لوگوں نے پہچانا کہ یہ مروان کا خط ہے۔‘‘(1)

          خدا جانے مروان نے کس وقتی فائدے کے حصول کے لیے یہ جعلی خط لکھا تھا؛ مگر اس خط نے مسلمانوں کو دشمنوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا۔ کاش یہ خط نہ لکھا جاتا۔ اگر یہ خط نہ لکھاجاتا تو مسلمانوں کی تاریخ کی صورت کچھ اور ہی ہوتی۔ مسلمانوں کے مابین اگر اختلاف ہوتا بھی تو ایسا شدید نہ ہوتا جیسا اب ہے۔ مروان نے اس خط کے ذریعے اسلام کی پر سکون رواں دواں ندی میں ایسا پتھر مارا جو طوفان کی صورت اختیار کرگیا۔ نتیجے کے طورپر ایسا سوراخ ہواجواب شگاف کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ اس خط کے اثرات نے مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدم روک لیے۔یہیں سے مسلمان گروہوں میں بٹتے نظر آتے ہیں: جس کی وجہ سے ان کی ترقی، تنزلی میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ بیرونی فتوحات کا سلسلہ موقوف ہوتا دکھائی دیتا ہے۔عام مسلمان کو چھوڑیے؛اصحاب رسول گروہوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے لگے ہیں۔ مسلمان، مسلمان پر اپنی تلوار کے جوہر آزمارہا ہے۔ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مسلمان کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ اس خط کی ان مہلک اثرات کے علاوہ ایک اور لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ یہ مسلمانوں کی تاریخ میں پہلا جعلی خط ہے۔

ایسے ہی چند جعلی خطوط اکبر کے ہاتھوں،اس کے دیوان، خواجہ شاہ منصور کی پھانسی کا سبب بنے۔”خواجہ پر یہ الزام عائد ہوا تھا کہ وہ کابل کے حاکم کے ساتھ مل کر اکبر کے خلاف غداری کا مرتکب پایا گیا تھا۔۔۔پہلا ثبوت وہ تین خطوط تھے جو شادمان کے سامان سے برآمد ہوئے تھے۔شادمان کابل کے حاکم کا ایک جرنیل تھا۔۔۔حتمی ثبوت خطوط کے ایک پلندے پر مشتمل تھا۔یہ خطوط کیمپ کے ایک اہل کار نے پیش کیے تھے۔۔۔لہٰذا اسے 28۔فروری 1581ء کو۔۔۔پھانسی دے دی گئی۔کابل پہنچنے کے بعد اکبر۔۔۔اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ وہ تمام تر خطوط  جو خواجہ منصور سے منسوب کیے تھے،جعلی تھے۔اکبر اپنے اس فیصلے پر اکثر اظہارِ افسوس کرتا تھا۔وہ خواجہ منصور کو پھانسی چڑھانے پر ملول رہتا تھا”(2)۔

ایک اور خط جو ہمیں تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے،اس کا تعلق حضرت امیر معاویہؓ کے عہد سے ہے؛یہ خط جعلی تو نہ تھا لیکن اس میں جو جعل سازی کی گئی اس نے اسے بھی جعلی بنا دیا۔ واقعہ کچھ یوں یوں ہے کہ اسلامی عہد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک سے مکتوب نگاری کا آغاز ہو چکا تھا اور اس زمانے میں خط کو کسی لفافے،چھال یا کپڑے میں لپیٹ کربھیجنے کا رواج نہیں تھابلکہ خط لکھ کر یوں ہی غیر ملفوف پیام بر کے سپرد کر دیا جاتا تھا؛یوں اگر پیام بر چاہے تو وہ خط پڑھ بھی سکتا تھا۔حضرت امیر معاویہؓ کے دور میںایک بار یوں ہوا کہ”زیاد حاکمِ کوفہ کے نام ایک فرمان عمر بن زبیر کو ایک لاکھ درہم دینے کے لیے جاری کیا،عمر بن زبیر نے خط کھول کر دیکھ لیا اور مآۃ الف کی بجائے مآتی الف بنا دیاجو ایک لاکھ کی بجائے دو لاکھ بن گئے؛اور پھر جب زیاد نے حساب معاویہؓ کے پاس بھیجاتو معاویہؓ نے کہاکہ میں نے تو ایک لاکھ کا حکم صادر کیا تھا،اور عمر بن زبیر کوبلا کر ایک لاکھ کا مطالبہ کیا اوراس سلسلے میں جیل بھیج دیا۔۔۔مہر لگا کر خطوں کو لپیٹے جانے کا دستور اس واقعے کے بعد شروع ہوا”(3)۔

 تاریخ عالم ایسے جعلی خطوط کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ محمد قاسم فرشتہ اپنی تالیف تاریخ فرشتہ میں کئی ایک جعلی خطوط کا ذکر کرتا ہے۔ ان میں سے ایک مع سیاق وسباق یوں ہے:

’’راجہ مالدیو نے حکومت وراثت میں حاصل نہیں کی تھی بلکہ اس علاقے کے تمام راجائوں کو زیر کرکے مہاراجا بناتھا۔ مظلوم راجاؤں نے موقع پاکر شیر شاہ سے پناہ مانگی۔شیرشاہ کے مشورے سے ان راجاؤں نے مالدیو کے افسروں اور سرداروں کی طرف سے شیرشاہ کے نام ہندی زبان میں [جعلی] خطوط لکھے؛ جن کا مضمون یہ تھا’’ہم لوگ مجبوراً مالدیو کی اطاعت کررہے ہیں اور ہم نے کسی غیبی امداد کے بھروسے پرراجا کے ظلم وستم برداشت کیے۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ جیسا بادشاہ اس ملک پر حملہ آور ہوا ہے تاکہ اس ظالم سے ہمارے بدلے لے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جس وقت آپ کی فوج یہاں پہنچ جائے گی؛ ہم مالدیو سے علیحدہ ہوکر آپ کی مدد کریں گے۔‘‘ ان [جعلی]خطوط کے مضمون کے مطابق شیر شاہ کا [فرضی] جواب بھی بادشاہ کی طرف سے اسی طرح لکھا گیا کہ’’اگر خدا نے چاہا تو میں مالدیو کو شکست دے کر تمھاری دادرسی کروں گااور تمھارے موروثی علاقے تمھیں دے کر تمھارے مراتب بلند کروں گا۔ تم لوگوں کو چاہیے کہ صبروسکون کے ساتھ میرا ساتھ دو۔‘‘(4)

یوں شیر شاہ نے ان جعلی خطوط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور مطلوبہ مقاصد حاصل کیے۔جب حیدر علی کمانڈر انچیف بناتواس کی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے میسور کا علاقہ بھی اس کے سپرد کردیاگیا۔ یہ بات اس کے ایک ساتھی کھانڈے راؤ سے برداشت نہ ہوئی۔ اس نے راجا کو اعتماد میں لے کر ایک سازش تیار کی؛ جس کی وجہ سے حیدرعلی کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ حیدر علی نے کسی معرکہ کے بغیر ہی کھانڈے راؤ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا بندوبست سرانجام دیا۔ اس نے جعلی خطوط کا بندوبست کیا جو کھانڈے راؤ کے جرنیلوں کو لکھے گئے تھے اور یہ اہتمام بھی کیاگیا تھا کہ یہ خطوط کھانڈے راؤ کے مخبروں کے ہتھے چڑھ جائیں۔

’’محمود گاواں خواجہ:تاریخ میں خواجۂ جہاں ملک التجار کے نام سے مشہور ہے۔نظام شاہ بہمنی بادشاہ دکن کا وزیر تھا۔محمد دوم کے وقت میں وکیل السلطنت کا عہدہ اسے دیا گیا۔اس کے بہت سے مخالف پیدا ہو گئے تھے،جنھوں نے بادشاہ کو اس سے ناراض کر دیا اور ایک جعلی خط بنا کر بادشاہ کے حضور پیش کیاجس کی سزا میں بادشاہ نے 5۔اپریل 1481   ٔ  مطابق 5۔صفر 886ھ کو قتل کرا دیا‘‘(5)۔

ایک جعلی خط نے چنگیز خان کے ہاتھوں خوارزم شاہ کی شکست کی راہ ہموار کی تھی۔ بدر الد ین عمیدنے،جس کو خوارزم شاہ نے طبرستان کا حاکم بنایا تھا،ایک رات چوری چھپے چنگیز خان سے مل کر خوازرم شاہ کے خلاف اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور اسے یہ راز کی بات بتائی کہ:’’اگرخوارزم شاہ اور اس کے ننھیال کیے درمیان اختلاف کی خلیج کو وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی جائے تواور مزیدبے اعتمادی کی فضا پیدا کر دی جائے تو فوج میں پھوٹ پڑ جائے گی(6)۔

’’اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بدرالدین نے چنگیز خان کو رائے دی کہ ایک جعلی خط تیار کرایا جائے جس میں ترکان خاتون کے رشتہ دار امرا کی جانب سے چنگیز خان کو سلطان علائوالدین محمدخوارزم شاہ کے خلاف اپنے تعاون کا مکمل یقین دلایا گیا ہو اور اسی خط کی پشت پر چنگیز خان کی جانب سے ان کی پیش کش کا مثبت جواب ہو۔چنگیز خان نے ا س سے اتفاق کرتے ہوئے ایک جعلی خط تیار کرایا جس میں تحریر تھا:ہم ترک قبائل خوارزم شاہ کا ساتھ اس کی والدہ کے حقِ خدمت کی وجہ سے دیتے آئے ہیں۔مگر اب جب کہ ہم دنیا بھر کے بادشاہوں کے خلاف اس کی مدد کر چکے،بڑے بڑے زبردست حکمران اس کے مقابلے میں عاجز ہو گئے اور سب کی گردنیں اس کے آگے جھک گئیں،تو اب خوارزم شاہ سرکشی اور نافرمانی میں مبتلا ہو کر اپنی والدہ کے بارے میں بدنیت ہو گیا ہے اور ہمیں اس کا ساتھ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔لہٰذا ہم اب آپ کی آمد کے منتظر ہیں اور آپ کے احکام کے تابعدار ہیں۔۔۔بدرالدین عمید کی گھناؤنی سازش نے خوارزمی طاقت کو توڑنے میں راتوں رات وہ کام کر دکھایا جو چنگیز خان کے دلیر ترین جرنیل کئی مہینوں میں نہیں کر سکے تھے‘‘(7)۔

جعلی خطوط کا یہ سلسلہ ابھی موقوف نہیں ہوا۔ اب بھی جعل ساز اپنے مقاصد کے حصول کے لیے نت نئے انداز سے جعلی خطوط لکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے عہد میں بھی پیسا، شہرت، اور دیگر وقتی مفادات حاصل کرنے کے لیے مشاہیر کے نام سے جعلی خطوط لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کیے گئے لیکن ناقدین کی نظروں سے بچ نہ سکے اور مختلف انداز اور زاویوں سے محققین نے جب ان خطوط کا تجزیہ کیاتووہ جعلی ثابت ہوگئے۔ اُردو ادب میں سب سے اہم خطوط غالب کے ہیں اس لیے سب سے زیادہ جعل سازی بھی غالب کے نام پر ہوئی۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

’’[ماسٹر اختر نے ]نے پہلے تو علامہ اقبال کے نام غالب کا ایک خط لکھااور پھر میرے [خلیق انجم] مرتبہ خطوطِ غالب میں شامل غالب کے اصلی خطوط کے عکس نکال کر اس کے الفاظ کاٹ کاٹ کراپنے لکھے ہوئے خط کے مطابق ترتیب دے دیے”(8)۔

          ’’غالب کے جعلی خطوط کا دل چسپ ترین معاملہ ’’نادر خطوطِ غالب ہے۔ غالب کے اس مجموعے کے مرتب سید محمد اسماعیل رساہمدانی گیاوی ہیں۔۔۔جب خطوط کا یہ مجموعہ شائع ہواتودونوں[مالک رام،قاضی عبدالودود] نے اس مجموعے کے تمام خطوط کو غالباً ایک کے علاوہ جعلی قرار دے دیا۔۔۔جلال صاحب نے غالب کے خطوط کا ایک [جعلی] مجموعہ تیار کیاتھا لیکن ماہرینِ غالب کے تیور دیکھ کر خائف ہوگئے”(9)۔

’’صفیر بلگرامی نے اپنے اور مرزا غالب کے درمیان کچھ جعلی خطوط وضع کر لیے۔‘‘(10)

          ’’رسا ہمدانی نے غالب کے رنگ میں خطوط وضع کیے جن کا مقصد یہ ثابت کرناتھا کہ سروشِ سخن کے مصنف ’’سخن‘‘ صفیر کے شاگرد تھے‘‘(11)۔

          پروفیسرشیخ عطا اللہ نے عباس علی خان کے انتیس خطوط اپنی مرتبہ کتاب ’’اقبال نامہ جلد اول‘‘میں شامل درج کیے؛جنھیں ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے دلیل کے ساتھ جعلی قرار دیا۔ اسی طرح نیاز فتح پوری نے مجلہ ’’نقاد‘‘ کے مدیر نظام الدین شاہ دل گیر کو ایک خاتون ’’قمر زمانی بیگم‘‘ کے فرضی نام سے کئی خطوط لکھے؛ پہلا خط یہ ہے’’آپ اس خط کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ لکھنے والی کون ہے۔۔۔بھائی جان قبلہ کے پاس عرصے تک ’’نقاد‘‘ آتارہا۔ چوری چھپے میں بھی اسے دیکھ لیا کرتی تھی۔ ماشااللہ کیاطرزِ تحریر ہے اور کیا پیارا کلام ہے۔۔۔اب آپ یہ بتائیے کہ اگر کوئی دکھیا آپ سے ملنا چاہے تو کیوں کر ملے۔۔۔اگر آپ تشریف لاکر میری عزت بڑھائیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گی۔۔۔نقاد میں آپ کی تصویر دیکھ چکی ہوں لیکن اب سامنے بیٹھ کر آپ سے حالِ دل کہنے کو دل چاہتا ہے۔ للہ ملاقات کیجیے”(12)۔

          اس کے بعد کئی خطوط لکھے گئے۔ جس کا مقصد دل گیر کے آتشِ شوق کو بھڑکانا تھااور وہاں سے حسبِ توقع جو اب آنے پر یقینا نیاز فتح پوری اور ان کا گروہ لطف اندوز ہوتا ہوگا۔ اس طرح کا خطرناک گھٹیا مذاق اور گری ہوئی حرکت اُردو ادب میں پڑھی نہ سنی۔ اس غلیظ حرکت کا انکشاف دل گیر کی زندگی ہی میں ہوگیاتھااور بقول ڈاکٹر فتح پوری ’’دوستوں کی یہ دل چسپ شرارت دل گیر کے لیے زندگی کا المیہ بن گئی‘‘(13)۔

“نیاز کی محبوبانہ تفریح نے غریب دل گیر پر کیا کیا ظلم نہ ڈھائے”(14)۔

          ہمارے معاشرے میں اس قسم کی شرارت کے کسی انسان پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، یہ ہر کسی کو معلوم ہے؛ لیکن افسوس کہ آج تک کسی نے ان کی اس شرارت کی مذمت نہ کی۔ اس جان لیوا چھیڑ خانی کے خلاف کوئی آواز تو بلند ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اہلِ علم اس جان لیوا ظلم کو شرارت کہہ کر آگے بڑھ گئے۔ بعض علما نے دبے لفظوں میں اس طرح نیاز فتح پوری کا دفاع بھی کیا کہ ’’نیاز فتح پوری۔۔۔ خلوصِ دل سے یہ چاہتے تھے کہ نقاد از سرِ نو شائع کیا جائے۔۔۔ جب دلگیر صاحب رضامند نہ ہوئے توانھوں نے دلگیر کی طبیعت کا اندازہ کرکے۔۔۔قمر زمانی بیگم کے فرضی نام سے دلگیر کو دہلی سے ایک خط لکھا۔۔۔ اس کے بعد سیکڑوں خط آئے۔۔۔ایک خط میں نقاد کو دوبارہ جاری کرنے پر اصرار کیاگیا ہے”(15)۔

          دل گیر کو بعد میں لکھے گئے چند خطوط کے کچھ حصے بھی دیکھ لیجیے’’چلیے آپ سچے اور ہم جھوٹے۔اقرارِ جرم اور پھر دل گیر کے سامنے، میں اس پر کیوں نہ ناز کروں۔۔۔کوشش کررہی ہوں کہ آپ سے اخیر دسمبر میں دلی میں ملاقات کی صورت نکل آئے۔۔۔اگر زحمت نہ ہوتو نقاد کے سارے پرچے بھجوادیجیے۔۔۔ میرے دونوں خط آپ کو مل گئے ہوں گے۔ صرف ایک کا جواب آپ نے دیا۔ یہ بھی غنیمت ہے۔ میں کیا کرتی اگر آپ ایک کا جواب بھی لطف نہ فرماتے۔۔۔ میں لیڈیز کانفرنس کی تیاریاں کررہی ہوں اس لیے جلد مضمون بھیجنے کا وعدہ تو نہیں کرتی لیکن یہ یقین دلاتی ہوں کہ آپ چاہے خفا ہوجائیں نقاد کو ناراض نہیں کروں گی۔۔۔ آپ کے سرکی قسم جس وقت 5؍جنوری کو آپ کے تینوں خط ایک ساتھ ملے جوبریلی سے لکھے گئے تھے۔ سرپیٹ لیا۔ جی چاہتاتھا کہ کپڑے پھاڑ کر باہر نکل جائوں اور اپنے دل گرفتہ دل گیر کو جس طرح بنے منالاؤں”(16)۔

          ان خطوط کے مطالعے سے یہ بات تو ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہ خطوط محض ’’نقاد‘‘ کے اجرا کے لیے نہیں لکھے گئے تھے بلکہ اس سازش کا مقصد دل گیر کو بدنام اور شرم سار کرنا تھا، اور یہ خطوط کسی بدنیتی کی غرض سے لکھے گئے تھے۔

ایک جعلی خط قرۃ العین حیدر کی زندگی میں بھی طوفان لایا تھا۔اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک دوست کو خط میں لکھتی ہیں کہ:”وہ خوف ناک واقعہ  گو باسی ہو چکا ہے  اس لحاظ سے مگر اس کاذرا سا پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔۔۔میں نے کہا۔۔۔یہ خط جعلی ہے”(17)۔

 2000ء میں ایسے ہی ایک جعلی خط کے حوالے سے تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ خط مشاہیر ادب بالخصوص معروف محققین کو لکھاگیا تھا۔ اس خط پر مکتوب نگار کی حیثیت سے لطیف الزمان خان کانام درج تھا لیکن لطیف الزمان نے اسے اپنا مکتوب ماننے سے انکار کردیاتھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ انھیں اور خط میں جن شخصیات کی ذات پر کیچڑاچھالاگیاتھا؛ انھیں بدنام کرنے کے لیے اس خط کو ان سے منسوب کیاگیا۔ لطیف الزمان خاں اپنی صفائی پیش کرتے لکھتے ہیں’’یقین کے ساتھ تو نہیں کہ سکتا لیکن میرا شبہ یقین کی حد تک ہے کہ معین صاحب نے یاان کے ایما پر ان کے کسی حواری نے یہ بے ہودہ حرکت کی کہ کمپیوٹر پر ایک نہایت رکیک تحریر کمپوز کرائی، نیچے میرا نام کمپوز کرایا۔ مختلف حضرات کو لاہور سے پوسٹ کردیا۔ اس نامعقول عبارت میں مشفق خواجہ صاحب اور محترم ڈاکٹر وحید قریشی صاحب کو نامرد کہاگیااور ان کے اہلِ خانہ کے لیے بے ہودہ الفاط استعمال کیے گئے”(18)۔

2016 میں ایک قطری خط کو اس وقت بہت شہرت ملی جب میاں نواز شریف” پاناما پیپرز کیس” کی زد میں آ گئے۔یہ خط قطرکے شہزادے حمد بن جاسم بن جابر الثانی سے منسوب کیا گیاتھا۔اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام کی زد میں تھے۔جب سپریم کورٹ سے ان سے وضاحت مانگی تو انھوں نے قطری شہزادے کا خط پیش کر دیا۔عدالت ِ عالیہ،مستند کالم نگاروں اور دانش وروں نے اس خط کو مشکو ک نظروں سے دیکھاجب کہ مخالف سیاسی جماعتوں نے اس خط کو جعلی قرار دیا۔16 نومبر 2016 کے روزنامہ ایکسپریس کے مطابق سپریم کورٹ کے بنچ نے نواز شریف کے وکیل سے کہا کہ خط پیش کر کے آپ پھنس جائیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے راہ نما اعتزاز احسن نے یوں ردِ عمل ظاہر کیا:”پاناما پیپرز کیس میں قطر کے شہزادے کا خط مشکوک ہے۔۔۔خط میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ عرب ممالک میں استعمال نہیں ہوتی”(19)۔

عوامی مسلم لیگ کے بانی شیخ رشید نے کہا کہ:”ملک میں کبھی مصری مرغیاں آتی تھیں لیکن اب قطری دستاویزات آتی ہیں”(20)۔

معروف کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چودھری نے اس خط کے متعلق شک کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:”شیخ حمد کے اس حیران کن خط نے پوری دنیا کو پریشان کر دیا،کیوں؟کیونکہ الثانی فیملی کھرب پتی ہے۔۔۔یہ دوسروں کو اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کا موقع نہیں دیتی۔فیملی نے پھر یہ سہولت صرف میاں شریف کو کیوں فراہم کی؟۔۔۔میاں شریف الثانی فیملی کو 12 ملین دے کر25 سال خاموش کیوں رہے؟۔۔۔اگر میاں شریف کے الثانی خاندان کے ساتھ اتنے دیرینہ تعلقات تھے۔۔۔تو پھر میاں نواز شریف کوشیخ حمد تک پہنچنے کے لیے سیف الرحمن جیسی سیڑھی کی کیا ضرورت تھی؟”(21)۔

“تین روز قبل عدالت عظمیٰ میں پیش کیا جانے والا قطری خط کچھ اور ثابت کرے یا نہ کرے مگر یہ بات ضرور ثابت کرتا ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم نے پورے ایوان کو اوراس ایوان کی وساطت سے پوری قوم کو گم راہ کیا،جھوٹ بولا،کذب بیانی کی اورحقائق چھپائے”(22)۔ “قطری شاہی خاندان کا شہزادہ وزیرِ اعظم کے بچوں کی مدد کو آن پہنچا ہے۔۔۔ شہزادے کا خط سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے جسے کسی طور بھی ثبوت کے طور پر عدالت تسلیم نہیں کرے گی”(23)۔

ان قطری خطوط کو نواز شریف اور ان کی حکومت ہمیشہ اصلی کہتی رہی جب کہ عدالت اور دیگر سیاسی جماعتیں اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہیں۔نفی اثبات کی اس جنگ میں قطر کی حکومت کی ساکھ شدید متاثر ہوئی؛چناں چہ اپنی حکومت کی ساکھ بچانے کے پاکستان میں تعینات قطر کے سفیرسقر بن مبارک المنصری کو منظرِ عام پر آنا پڑا۔”نجی ٹی وی “آج نیوز”کو دیے جانے والے انٹرویو۔۔۔میں انھوں نے کہا کہ۔۔۔ہماری حکومت کا قطری شہزادے کے خطوط سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔یہ خط حکومتی سطح پر جاری نہیں ہوئے۔نہ ہی یہ سفارت خانے یا وزارتِ خارجہ کے ذریعے آئے ہیں”(24)۔

مسلم لیگ نوا ز کا خیال تھا کہ نواز شریف پاناما کیس سے بچ سکتے تھے لیکن عمران خان اور تحریکِ انصاف نے نواز شریف کا تعاقب کیا جس کی وجہ سے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا۔چنا ں چہ انھوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عمران خان پر کرپشن اور ٹیکس چوری کا مقدمہ دائر کر دیا۔اتفاق یہ ہے عمران خان کی طرف سے بھی ثبوت کے طور پران کی سابق بیوی جمائما خان کے خطوط پیش کیے گئے لیکن سپریم کورٹ نے ان خطوط کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا اور کہا:”ہمیں ٹھوس ثبوت دیے جائیں۔ہم نے ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ مانگا ہے؛خطوط نہیں مانگے”(25)۔

جعلی خطوط کے حوالے سے چین کی ایک کمپنی یا بائیٹ بھی گرفت میں آئی۔تفصیل یوں ہے کہ اگست 2017 میں نواز شریف کے بھائی شہباز شریف(وزیرِ اعلیٰ)پر بھی ملتان میٹرو بس پراجیکٹ کے حوالے سے کرپشن کا الزام لگایا گیا کہ یابائیٹ نامی چینی کمپنی سے رشوت لے کر میٹرو بس پراجیکٹ کا معائدہ کیا گیا لیکن بعد ازاں چین کی حکومت کی وضاحت آگئی کہ:”یا بائیٹ نامی چینی کمپنی پاکستان میں کام نہیں کرتی۔کمپنی نے حکومت کو دھوکا دینے کے لیے جعلی خطوط بنائے”(26)۔

“چینی کمپنی یابایت پاکستان میں کام نہیں کر رہی۔یابایت نے حکومت کو دھوکا دہی کے لیے جعلی خطوط تیار کیے۔۔۔کمپنی کی جانب سے جعلی دستاویزات اور خط تیار کر کے پنجاب حکومت پر بے بنیاد الزام لگائے ہیں”(27)۔

اکتوبر 2017 میں انٹیلی جنس بیورو آف پاکستان کی طرف سے لکھا جانے والاایک خط  موضوعِ گفتگو رہا۔جس میں اس بات کا تذکرہ تھا کہ انٹیلی جنس بیورو نے ایک ایسی فہرست مرتب کی ہے جس میں ان 37 /ارکانِ اسمبلی کے نام ہیں جن کے دہشت گردوں سے رابطے ہیں۔بعد ازاں یہ خط بھی جعلی نکلا اور ڈی۔ جی انٹیلی جنس بیوروآفتاب سلطان نے اس خط اور رپورٹ کی سختی سے تردید کی۔اس جعلی خط کے ذریعے کئی شخصیات متاثر ہوئیں،چنانچہ ان کی بے چینی کے پیشِ نظر:”حکومت نے۔۔۔جعلی خط کے حقائق سے اسلام آباد میں موجود غیر ملکی سفارت خانوں اور الیکشن کمشن آف پاکستان کو آگاہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا”(28)۔

2012 میں طالبان کے حوالے سے ایک جعلی خط کئی روز تک اخبارات کے پہلے صفحے پر شایع ہوتا رہا۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

“افغانستان اور پاکستان میں تحریک طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی جانب سے مبینہ طور پر جاری ایک بیان پر بحث چل نکلی ہے جس میں انہوں نے قطر مذاکرات کے مکمل ہونے تک کارروائیوں میں کمی اور عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کا حکم دیا تھا۔ بحث یہ ہے کہ یہ خط اصلی ہے یا جعلی۔افغان طالبان نے تو انتیس فروری کو اپنی ویب سائٹ پر فورا ہی اس خط کو جو محمد عمر مجاہد کی بظاہر مہر کے ساتھ جاری پشتو زبان میں اس پیغام کی تردید کر دی تھی لیکن آج (منگل کو) پاکستانی طالبان نے بھی بظاہر کافی تاخیر کے بعد اس خط کو جعلی قرار دیا ہے۔بی بی سی اردو کو منگل کو بظاہر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے موصول ہونے والی ایک ای میل میں اس جعلی خط کو امریکی پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔پاکستانی طالبان اگرچہ نظریاتی طور پر افغان طالبان ملا محمد عمر کو اپنا امیر مانتے ہیں لیکن عسکری کارروائیوں کے اعتبار سے خودمختار رہے ہیں۔ اسی وجہ سے تجزیہ نگار پاکستانی طالبان کے بیان کو غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں۔ ای میل میں ’د افغانستان اسلامی امارت د امیر المومنین د حفیظ اللہ د خصوصی دفتر اطلاعیہ‘ کے نام سے جاری خط سے صحافیوں کو مستقبل میں آگاہ رہنے کی تلقین کی ہے کہ یہ جعلی ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ملا ذبیح اللہ کے مطابق یہ پیغام مبینہ طور پر ’امریکیوں نے کابل اور دیگر صوبوں میں نشریاتی اداروں کے دفاتر میں سربمہر لفافے میں تقسیم کیا ہے۔‘ملا محمد عمر نے سن دو ہزار سے اب تک کوئی ایک ویڈیو، آڈیو یا تحریری بیان جاری نہیں کیا جس کی تصدیق ہوسکی ہو۔بعض اطلاعات ہیں کہ یہ پیغام پاکستان میں بھی طالبان کے درمیان تقسیم ہوا ہے۔ ملا محمد عمر کے اس پیغام پر تاریخ تقریباً دو ماہ پرانی ہے لیکن اس کے اصل ہونے پر بھی مبصرین کو شک ہے”(29)۔

عہد موجود میں ہر ملک کی سیکرٹ سروس طالبان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ افغان طالبان کے حوالے سے خبریں ٹاپ سٹوری کے طورپیش کی جاتی ہیں کیونکہ طالبان کا نام دہشت کی علامت بن چکا ہے۔اس طرز کی تنظیمیں اس سے پہلے صرف فلموں میں ہی ہوا کرتی تھیں۔اس تنظیم کی دہشت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض لوگوں نے طالبا ن کی طرف سے جان سے مار دینے کی دھمکیوں پر مبنی جعلی خطوط لکھے،تا کہ وہ ان جعلی خطوط کو استعمال کرتے ہوئے یورپ وغیرہ آسانی سے جا سکیں۔ممکن ہے اس تنظیم کی طرف سے اس قسم کے جعلی لکھے گئے ہوں بہر حال اس طرح کے جعلی خطوط کی تیاری اور فروخت کی ایک صورت یہ بھی رہی ہے:

“طالبان کے جعلی دھمکی آمیز خطوط، یورپ ہجرت کرنے کا نیا حربہ:افغانستان کی صورت حال واقعی بہت خراب ہے اور اگر کسی شخص کو طالبان کا دھمکی آمیز خط ملے تو یہ ڈرا دینے والی بات ہے۔ تاہم اب یورپ کی طرف ہجرت کے خواہش مندوں کے لیے ایسے خطوط خصوصی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں۔طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط یا ٹیلی فون کالز عمومی طور پر حکومتی اہل کاروں یا حکومت کے حمایتیوں کو موصول ہوتے ہیں۔ اس فہرست میں غیر سرکاری اداروں (این جی اوز) کے لیے کام کرنے والے بھی شامل ہیں، اور وہ بھی جو نیٹو افواج کے لیے ترجمے یا دیگر نوعیت کے کام کرتے رہے ہوں۔ ان خطوط میں جان سے مارنے کی دھمکی اور احتیاط برتنے کے مشورے دیے جاتے ہیں۔ جنگ زدہ ملک افغانستان میں اگر کسی کو ایسی دھمکی موصول ہو جائے تو اس کی راتوں کی نیندیں اڑنا لازمی سی بات ہے۔ متعدد ایسے افراد ان دھمکیوں کے بعد ملک چھوڑ چکے ہیں، یا ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کا رخ عمومی طور پر مغربی ممالک ہی کی طرف ہوتا ہے۔تاہم اب اگر کسی افغان کو یورپ ہجرت کرنا ہو تو وہ ایسے دھمکی آمیز خطوط خرید بھی سکتا ہے۔ یہ صورت حال ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ افغانوں کی ایک بڑی تعداد معاشی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتی ہے۔جعلی خط تیار کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایک ایسا خط جو کہ ’اصل‘ معلوم ہو، کم از کم ایک ہزار ڈالر میں خریدا جا سکتا ہے۔پینتیس سالہ مخامی، جو اب تک ایسے بیس خطوط فروخت کر چکا ہے، کا خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا: ’’میں کہہ سکتا ہوں کہ افغانوں کی جانب سے جو خطوط یورپی حکام کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، ان میں سے ننانوے فیصد جعلی ہوتے ہیں۔

اس شخص کے پاس جعلی دستاویز تیار کرنے کا بہت سادہ سا طریقہ ہے۔ خط پر تحریر کر دیجیے کہ خط خریدنے والا افغان یا امریکی افواج کے لیے کام کرتا ہے، اور طالبان کی ویب سائٹ سے اس تنظیم کا علامتی نشان نکال کر خط پر چسپاں کر دیجیے۔۔۔جعلی خطوط خریدنے والوں کی کمی نہیں ہے۔۔۔جرمنی کے ادارہ برائے مہاجرت اور مہاجرین کی ترجمان سوزانے آئیک مائیر کا کہنا ہے کہ حکام جعلی خطوط کے بارے میں باعلم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف خطوط کی بنیاد پر کسی شخص کو جرمنی میں پناہ نہیں دی جاتی بلکہ دیگر عوامل کا بھی خیال رکھا جاتا ہے”(30)۔

جعلی اور فرضی خطوط لکھنے والوں کے پیش نظر معمولی مقصد نہیں ہوتا۔بعض اوقات تو وہ ان خطوط کے ذریعے فوری مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتے  ہیں؛اگر مالی فائدہ کا حصول مقصد نہ ہو توپھر یہ خطوط یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر جعل سازی پکڑی نہ جائے تو یہ خطوط دیر تک ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؛اسی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خطوط لکھنے والے لوگ عام ذہنی سطح کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ ان کی ذہانت کا معیار عام آدمی کی ذہانت سے بلند ہوتا ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے اسے ایک ہنر بنا کر خط کا مقام و مرتبہ بلند کیا۔یہ الگ بات کہ بعض لوگوں نے اس ہنر کو مثبت استعمال کیا اور بعض تخریب کی طرف نکل گئے۔

حوالہ جات:

(1)حضرت علامہ جلال الدین سیوطی، تاریخ الخلفاء (مترجم: محمد الیاس عادل) مشتاق بک کارنر اُردو بازار لاہور، س ن، ص320۔

(2)ایم۔ایس۔بُرکے،اکبر نامہ،مترجم:مسعود مفتی،علم و عرفان پبلشرز،اردو بازارلاہور،اپریل 2006،ص232

(3)مقدمہ ابنِ خلدون،علامہ عبدالرحمن ابن خلدون،نفیس اکیڈمی، کراچی،نومبر 1980، ص 89

(4)محمد قاسم فرشتہ، تاریخ فرشتہ،جلد اول(مترجم: عبدالحئی خواجہ) شیخ غلام حسین اینڈ سنزلاہور، س ن، ص 643۔

(5)نظامی بدایونی،مشاہیرِ مشرق،تخلیقات،ٹمپل روڈ لاہور،1999،ص460

(6)مولانا اسماعیل ریحان،شیرِخوارزم سلطان جلال الدین خوارزم شاہ اور تاتاری یلغار،منھل التراث اسلامی،جنوری 2010،ص 151

(7)مولانا اسماعیل ریحان،شیرِخوارزم سلطان جلال الدین خوارزم شاہ اور تاتاری یلغار،،منھل التراث اسلامی،جنوری 2010،ص 151

(8)خلیق انجم (مضمون) غالب کی مکتوب نگاری،مرتب: پروفیسر نذیر احمد،غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی،2003ء، ص 57۔

(9)خلیق انجم (مضمون) غالب کی مکتوب نگاری،مرتب: پروفیسر نذیر احمد،غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی،2003ء، ص60۔

(10) ڈاکٹر گیان چند جین،تحقیق کا فن، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، طبع دوم 2002ء، ص 340

(11)ڈاکٹر گیان چند جین،تحقیق کا فن، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، طبع دوم 2002ء، ص 350

(12) ڈاکٹر فرمان فتح پوری، تنقیدی شذرات، الوقار پبلی کیشنز لاہور، 2005ء، ص 128۔

(13) ڈاکٹر فرمان فتح پوری، تنقیدی شذرات، الوقار پبلی کیشنز لاہور، 2005ء، ص 133۔

(14)محمد طفیل،نقوش،خطوط نمبر،جلد اول،ادارہ فروغِ اردو،لاہور،اپریل،مئی 1968، ص17

(15) ڈاکٹر فرمان فتح پوری، تنقیدی شذرات، الوقار پبلی کیشنز لاہور، 2005ء، ص 128

(16)قمر زمانی بیگم، نقوش،خطوط نمبر، ادارہ فروغ اُردو لاہور، 1968ء،ص 298۔

(17)قرۃ العین حیدر کے خطوط ایک دوست کے نام،مرتب:خالد حسن،سٹی پریس بک شاپ،صدر کراچی،2000،ص42

(18)لطیف الزمان خان، مکاتیبِ مشاہیر بنام حق نواز، مرتب: سید نصرت بخاری،جمالیات پبلی کیشن، اٹک،2012ء، ص 228

ا(19)عتزاز احسن،روزنامہ ایکسپریس،17 نومبر 2016

(20)شیخ رشید،روزنامہ ایکسپریس،18 نومبر 2016

(21)جاوید چودھری،کالم:زیرو پوائنٹ،روزنامہ ایکسپریس،18 نومبر 2016

(22)خالد مسعود خان،کالم:کٹہرا،،روزنامہ ایکسپریس،18 نومبر 2016

(23)محمد اسلم خان،کالم:چوپال،روزنامہ نوائے وقت،18 نومبر2016

(24)روز نامہ پاکستان لاہور،04/فروری 2017

(25)روزنامہ ایکسپریس اسلام آباد،29ستمبر،2017

(26)روزنامہ دینا نیوز،اسلام آباد،2/ستمبر 2017

(27)روزنامہ ایکسپریس،اسلام آباد،،2/ستمبر 2017

(28)روز نامہ نوائے وقت،اسلام آباد، 7/اکتوبر 2017

(29)ہارون رشید،بی بی سی،اردوڈاٹ کام،اسلام آباد،6/مارچ 2012 (30)22/نومبر 2015:پیرما لنک https://p.dw.com/p/1HAG1

nusrat bukhari

نصرت بخاری

مدیر اعلی

نصرت بخاری

مدیر اعلی (اٹک ویب میگزین،آئی اٹک ڈاٹ کام)-- ایم فل --پروفیسر اردو --گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

Next Post

مالیت

پیر نومبر 8 , 2021
ایسے فن کوڈھونے کاکیامطلب ہے، جس میں کوئی کمائی نہ ہو؟
worth