قلم، کتاب اور ٹیکنالوجی کا سفر
مریم نواز شریف نے نوجوانوں کے مستقبل میں امید کے نئے چراغ روشن کر دیے
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کچھ تقریبات محض رسمی اجتماعات نہیں ہوتیں بلکہ وہ امید کے چراغ روشن کرتی، خوابوں کو تعبیر کا راستہ دکھاتی اور آنے والی نسلوں کے لیے نئے امکانات کے در وا کرتی ہیں۔ کامسٹ یونیورسٹی اٹک میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی آمد بھی ایک ایسی ہی تقریب کا منظر پیش کر رہی تھی، جہاں سیاست سے بڑھ کر علم، صلاحیت، محنت اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کا پیغام نمایاں تھا۔ وزیراعلیٰ نے ہونہار اسکالرشپ پروگرام اور لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب میں شرکت کی تو طلبہ کے چہروں پر خوشی اور آنکھوں میں مستقبل کے خواب جھلک رہے تھے۔ اس تقریب کا ایک خوبصورت پہلو خیبرپختونخوا، بالخصوص صوابی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی شرکت تھی، جن کی موجودگی نے ثابت کیا کہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور تعلیمی مواقع ہر باصلاحیت نوجوان کا حق ہیں۔ خیبرپختونخوا کے طلبہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے کے 3,600 طلبہ کو ہونہار اسکالرشپ فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سمسٹر کی فیس تقریباً دو لاکھ روپے ہونے کے باعث اعلیٰ تعلیم جاری رکھنا مشکل تھا، تاہم اس اسکالرشپ نے ان کے تعلیمی سفر کو آسان بنا دیا۔ طلبہ نے اس تعاون پر وزیراعلیٰ پنجاب کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیا۔ تقریب کے دوران طلبہ نے وزیراعلیٰ کو اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ پورٹریٹ، اسکیچز اور تحائف پیش کیے، جو ان کی محبت اور تخلیقی صلاحیتوں کا خوبصورت اظہار تھے۔ وزیراعلیٰ نے ان کی حوصلہ افزائی کی، جبکہ ارکان اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر رہنماؤں کے پاس خود جا کر ان کی خیریت بھی دریافت کی۔ ان کی آمد پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے جنرل سلامی پیش کی۔ اس موقع پر مریم نواز شریف نے ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ کے چیک تقسیم کیے۔ کسی طالب علم کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ آنا محض ایک جدید آلے کا حصول نہیں بلکہ تحقیق، جستجو اور علم کی وسیع دنیا تک رسائی کا نیا دروازہ کھلنے کے مترادف ہے، جبکہ اسکالرشپ کا سہارا ان خاندانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو محدود وسائل کے باوجود اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے پہلے، دوسرے اور تیسرے مراحل میں اب تک ایک لاکھ 8 ہزار طلبہ و طالبات میں وظائف تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اٹک کی تقریب میں راولپنڈی ڈویژن کے طلبہ کو مجموعی طور پر 6,161 لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے، جن میں 4,628 سرکاری جامعات، 257 نجی جامعات، 461 میڈیکل کالجز، 375 نرسنگ کالجز، 17 خصوصی تعلیم کے اداروں اور 423 ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کالجز کے طلبہ کے لیے مختص تھے۔ اسی طرح ڈویژن میں 19 کروڑ 69 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کے 2,590 ہونہار اسکالرشپس تقسیم کیے گئے۔
ان میں سرکاری جامعات کے طلبہ کے لیے 2,085 وظائف شامل ہیں، جن کی مالیت 17 کروڑ 2 لاکھ 10 ہزار روپے ہے، جبکہ میڈیکل جامعات و کالجز کے طلبہ کو ایک کروڑ 98 لاکھ روپے مالیت کے 314 وظائف اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے کالجز کے طلبہ کو 69 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کے 191 وظائف دیے گئے۔ ان پروگراموں کا دائرہ سرکاری و نجی جامعات، وفاقی چارٹرڈ یونیورسٹیوں، بی ایس کالجز، خصوصی تعلیم کے اداروں اور میڈیکل و ڈینٹل کالجز تک پھیلا ہوا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور باصلاحیت نوجوان ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہونہار طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد 40 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 12 ہزار کر دی ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں اب تک 48 ہزار 292 لیپ ٹاپ طلبہ و طالبات میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ بلاشبہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ صرف بلند و بالا عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں ہوتا بلکہ اصل ترقی اس وقت جنم لیتی ہے جب کسی غریب گھر کے ہونہار بچے کو تعلیم کے حصول میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، جب والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمندی کے بجائے امید کے ساتھ سوچ سکیں اور جب صلاحیت کو وسائل کی کمی کے ہاتھوں دم نہ توڑنا پڑے۔ اٹک کی اس تقریب میں خیبرپختونخوا کے طلبہ کی شرکت نے بھی ایک خوبصورت پیغام دیا کہ تعلیم، محبت اور خدمت کے رشتے صوبائی سرحدوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو قومی یکجہتی کو مضبوط اور معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ آخرکار لیپ ٹاپ اور وظائف کی اصل قدر ان کی تعداد یا مالیت سے نہیں بلکہ ان خوابوں سے متعین ہوگی جو ان کے ذریعے حقیقت کا روپ دھاریں گے۔ آج جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں علم اور ٹیکنالوجی کے وسائل دیے جا رہے ہیں، کل یہی نوجوان اپنی قابلیت، محنت اور کردار سے ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔ کیونکہ چراغ بانٹنے والوں کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ ان سے روشن ہونے والی روشنی آنے والی نسلوں تک پہنچتی رہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔