شعبہ نفسیات میانوالی میں مینٹل ہیلتھ سیمنار کا احوال
از پروفیسر محمد ارشد حسان، میانوالی
یونیورسٹی محض اسناد حاصل کرنے کا ادارہ نہیں، بلکہ علم کی تخلیق، افکار کی تشکیل، تحقیق کے فروغ اور انسانی شعور کی بالیدگی کا مرکز ہوتی ہے۔ کسی بھی یونیورسٹی کا حقیقی علمی معیار صرف اس کے نصاب، امتحانی نتائج اور ڈگریوں سے متعین نہیں ہوتا، بلکہ اس بات سے بھی متعین ہوتا ہے کہ وہاں علمی مکالمے، تحقیقی سرگرمیوں اور نئی فکر کی تشکیل کے کتنے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس تناظر میں سیمینار یونیورسٹی کی علمی و تحقیقی زندگی کا ایک بنیادی اور مؤثر ذریعہ ہے۔
سیمینار طلبہ اور اساتذہ کو جدید علمی رجحانات، نئے نظریات اور تحقیقی نتائج سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات کے اظہار اور دوسروں کی آرا سے استفادے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ محض معلومات کی فراہمی کا ذریعہ نہیں، بلکہ تنقیدی شعور، تجزیاتی صلاحیت اور تحقیقی ذوق کی بیداری کا وسیلہ بھی ہے۔ ایک معیاری سیمینار طلبہ کو سوال اٹھانے، دلائل کا جائزہ لینے اور مسائل کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی تربیت دیتا ہے۔
سیمینار کی بدولت طلبہ میں تحقیقی مقالہ نویسی، تقریر، ابلاغ، اظہارِ خیال اور سوالات کے جوابات دینے کی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ علمی اختلاف کو برداشت کرنے، دوسروں کی آرا کا احترام کرنے اور اپنی فکر کو دلیل کی بنیاد پر پیش کرنے کا سلیقہ سیکھتے ہیں۔ اس طرح سیمینار ان کی علمی و فکری تربیت کے ساتھ شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سیمینار اساتذہ اور طلبہ کے درمیان علمی روابط کو مضبوط بنانے کے علاوہ مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں کے مابین تعاون کے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف شعبہ ہائے علم کے ماہرین ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے اور بین العلومی تحقیق کے نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں ادب، نفسیات، سماجیات، تاریخ، سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کے باہمی اشتراک سے علمی تحقیق کو نئی وسعتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔
تاہم سیمینار کی حقیقی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اسے محض ایک رسمی تقریب کے بجائے سنجیدہ علمی سرگرمی بنایا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ موضوعات بامقصد ہوں، تحقیق مستند ہو ، طلبہ کو سوالات اور مباحثے میں شرکت کا موقع ملے اور سیمینار کے نتائج کو آئندہ تحقیق و تدریس سے مربوط کیا جائے۔
مختصراً، سیمینار یونیورسٹی کی علمی و تحقیقی ترقی، طلبہ کی فکری تربیت اور معاشرے میں علمی شعور کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک زندہ اور متحرک یونیورسٹی وہی ہوتی ہے جہاں سوال کرنے کی آزادی، دلیل کی اہمیت، اختلافِ رائے کا احترام اور تحقیق کی حوصلہ افزائی موجود ہو۔
شعبہ نفسیات یونیورسٹی آف میانوالی کے تحت مینٹل ہیلتھ کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمنار مندرجہ بالا تمام اہداف و مقاصد کے تناظر میں ایک کامیاب ترین سیمینار تھا۔ اس سیمینار میں خاکسار نے بھی اسلامی نفسیات پر کچھ معروضات پیش کیں۔ شعبہ نفسیات کی سربراہ میڈم ڈاکٹر عرفانہ نیازی ایک انتہائی قابل ، مخلص اور فعال شخصیت ہیں۔ ان کے خلوص ، لگن اور وژن کی وجہ سے سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ میانوالی یونی ورسٹی کا سب سے متحرک اور کامیاب ترین ڈیپارٹمنٹ بن چکا ہے۔ مجھے سب سے بڑھ کر جس چیز نے متاثر کیا وہ اس شعبے کے طلباء و طالبات تھے۔ اتنے فرماں بردار، مؤدب ، قابل اور ذہین بچے بچیاں دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی ۔ اور اس تعلیم و تربیت کے پیچھے یقیناً میڈم عرفانہ نیازی صاحبہ اور دیگر اساتذہ کی ہی شخصیات ہیں۔
اس سیمینار میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض خدیجہ فاطمہ اور عائشہ مرتضی نے سر انجام دیے۔ تلاوت کا شرف عائشہ جاوید نے پایا جب کہ نعت کی سعادت عروج کے حصے میں آئی ۔کئی احبابِ علم و فضل نے پر مغز گفت گو کی جو کئی صفحات کا تقاضا کرتی ہے۔ کلیدی خطاب ڈاکٹر عرفانہ نیازی صاحبہ ہی کا تھا جس میں انہوں نے اپنے بیش بہا تجربات کی روشنی میں سیمینار کے مقاصد کے ساتھ ساتھ تمام سپیکرز کی گفتگو کا خلاصہ بھی پیش کر دیا اور مجموعی طور پر سیمینار کے عنوان پر سیر حاصل گفتگو بھی کی ۔ خاکسار نے مینٹل سائنس اور سائیکالوجی پر اسلام بالخصوص سیرت النبی کی روشنی میں گفتگو کی ۔ دیگر مقررین میں مس عمارہ ،مس کومل،جناب انیس احمد،سر عمیر،ڈاکٹر ماہین،ڈاکٹر وارث ،سر عبد العزیز،میڈم ماریہ،سر لیاقت،سر عیسیٰ، میڈم زاہدہ اور میڈم ثمرین کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔
اس شعبہ سے میرے تعارف اور پہچان کی وجہ میری ہونہار شاگردہ سعدیہ خان بنی ۔سعدیہ خان وہاں پچھلے چند سال سے بی ایس کلاسز کو پڑھا رہی ہیں ۔ سعدیہ از حد ذہین و فطین بچی ہے اور ہر جگہہ خومخواہ مجھ ناچیز کی شان میں قلابے ملاتی رہتی ہے ۔
سیمینار کے بعد طالبات کے پیش کردہ مختلف پیغامات پر مشتمل ماڈلز اپنے کمال و جمال و فکر کی وجہ سے مہمان سپیکرز کی داد کے مستحق ٹھہرے ۔ وال آف ہوپ ، ڈرا یور سیلف، Mental Health Awareness Walk ، Alhamdulillah Jar ، کیسے نمٹیں گے؟ (How Would You Copeجیسی سرگرمیوں کے افادی پہلوؤں پر الگ سے کلام کیا جا سکتا یے۔ سپیکرز سے مختلف مسائل پر سوالات بھی کیے گئے جو طالبات کی فکری پختگی کے غماز تھے۔ میں ایسے صحت مند تعلیمی مجالس کے اہتمام پر پورے سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ بالخصوص میڈم عرفانہ نیازی کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی علمی و فکری برکات میں اضافے کے لیے دعا گو ہوں ۔

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔