اٹک (بیورورپورٹ)شہنشاہؑ کربلا سیدناامام حسین علیہ السلام نے ایسا صبر کیا جس کی مثال قیامت تک ملنی ناممکن ہے۔آخری وقت میں سجدہ کرکے دنیا والوں کو درس دیا کہ جان جائے تو جائے لیکن نماز کسی صورت نہیں چھوٹنی چاہیے ۔10روزہ شہنشاہ کربلا کانفرنس کے پروقار اور پرامن طریقے سے اختتام پر ہم الله تعالیٰ کی ذات کا شکر ادا کرتے ہیں۔کانفرنس کی تقاریب میں شرکت فرمانے والے پیر صاحبان،علماء،قراء،نعت خوان حضرات،شرکت کرنے والے تمام بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں اور خصوصاً لنگر حسینی ولنگر فاروقی کھلانے والے احباب اور اخباری نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ہمارے قبلہ مرشد گرامی حضور ریاض الملت قدس سرہ العزیز نے اٹک تشریف لانے کے ساتھ ہی ان کانفرنسز کے انعقاد کا سلسلہ شروع فرمایا تھا جو ہم جاری رکھے ہوئے ہیں(قبلہ پیر ہادی سرکار حفظہ الله تعالیٰ)جس بندے سے الله تعالیٰ راضی ہوتا ہے اسے دولت ایمان عطا فرما دیتا ہے اور اپنے گھر میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔جب اور زیادہ راضی ہوتا ہے تو اپنے محبوبوں کا ذکر کرانا شروع کرادیتا ہے.آپ لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ قبلہ پیر ہادی سرکار کی سرپرستی میں 10دن لگاتار اہل بیت علیھم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین خصوصاً شہداء کربلا کی عظیم قربانی،ان کے مقام اور مرتبہ کو عقیدت و احترام کے ساتھ سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔مسلمان جب وعدہ کرتا ہے تو پھر اس کے لئے وعدہ خلافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔منزل اچھی ہو تو سفر آسان ہو جاتا ہے(پیر محمد عثمان خان واجد قادری)سیدنا امام عالی مقام نے کوفہ والوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا تمھیں پتہ ہے میں کون ہوں مجھے میرے نانا کریم ﷺ نے جنتی جوانوں کا سردار فرمایا ہے اس کے باوجود تم میری جان کے دشمن ہوئے پڑے ہو میں جان دے سکتا ہوں لیکن کسی فاسق و فاجر کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرسکتا۔ہم قبلہ پیر ہادی سرکار کو ہرسال کی طرح اس سال بھی 10روزہ شہداء کربلا کانفرنس منعقد کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں (پیر قاری محمد رقیب احمد چشتی)ماہ ربیع الاول شریف میں عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر12روزہ عید میلادالنبی ﷺکانفرنس اور محرم الحرام میں10روزہ شہداء کربلا کانفرنس کا اہتمام کرنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔پیر ہادی سرکار کے مرشد گرامی حضور ریاض الملت قدس سرہ العزیز کی زیرصدارت وزیرسرپرستی اورعم گرامی فیض الملت شیخ القراء قبلہ پیر ابوالفیض غلام محمد خان قادری رحمۃ الله عليه کی زیرنگرانی 1992 میں اٹک شہر کے مرکز ریلوے گراؤنڈ میں منعقد ہونے والی سنی کانفرنس کے اثرات آج تک باقی ہیں جس میں درجنوں علماء ومشائخ کے ساتھ سنی تحریک کے بانی مولانا محمد سلیم قادری رحمۃ الله عليه نے بھی خطاب کیا تھا ۔ان شاءالله عید میلادالنبی ﷺ کانفرنسز،شہداء کربلا کانفرنسز،اہل بیت اطہارؑ ،صحابہ کرامؓ اور اولیاءؒ کرام کی شان میں محافل منعقد ہوتی رہیں گی(مولاناارشد القادری) آستانہ عالیہ ریاض آباد شریف ڈھوک فتح اٹک شہر میں 10روزہ سالانہ شہداء کربلا کانفرنس کی اختتامی تقریب جانشین ریاض الملّت قبلہ پیر ہادی سرکار حفظہ الله تعالیٰ کی زیر صدارت اورجانشین ریاض الملّت قبلہ پیر مفتی حافظ ابوالفضل محمد خان رضوی مدظلہ العالیٰ سجادہ نشین آستانہ عالیہ فیض آباد شریف اٹک کی زیر سرپرستی عقیدت واحترام کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں جانشین ریاض الملت قبلہ پیر محمد عثمان خان واجد قادری نے خصوصی خطاب فرمایا جس کو حاضرین نے عقیدت و احترام سے سنا اور خوب داد تحسین پیش کیا حافظ محمد ادیب نے تلاوت جبکہ نعت شریف فیصل محمود نقشبندی،محمد حمزہ اسحاق اعوان،عبدالقدوس اعوان اور محسن نثار نقشبندی نے پیش کی۔محفل میں میں پیرزادہ محمد حامدرضاخان قادری،خلیفہ الحاج محمد اشرف قادری،صاحبزادہ سید معین علی شاہ،سید محمد کلیم شاہ،مولاناحبیب احمد چشتی،محمد شیراز کفیل،قاری عطا محمد،قاری محمد اعظم خان قادری،حاجی محمد زاہد اقبال، افتخار احمد چیمہ،آفتاب احمد چیمہ، ملک کامران اختر، محمد عامر،محمد عمران، محمد عتیق، محمد شفیق چشتی، ملک محمد اکرم اعوان،امیر محمد،نعمان اکرم اعوان، محمد ذیشان اکرم اعوان، محمد منصور اعوان،محمد حمزہ،حمزہ امیر ، حاجی محمد مشتاق ، حاجی محمد اعجاز ، صوفی مسعود الرحمن،محمد فاضل،محمد بلاول، خالد محمود، محمد عابد، آنریری کیپٹن نورمحمد ، محمد عثمان حسن، محمد حمیر، محمد زبیر،محمد ظہور، محمد ذیشان، محمد عمران، محمد ارسلان اور محمد معز علی کے علاوہ درجنوں نوجوانوں نے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی ۔درود وسلام ، ذکر شریف،شجرہ مبارکہ کے بعد قبلہ پیر ہادی سرکار حفظہ الله نے عالم اسلام کی سربلندی استحکام،امن وامان وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جان دینے والے پاک فوج کے جوانوں اور آفیسرز جو بحالت ایمان اس دنیا سے چلے گئے ان کے درجات کی بلندی اور حافظ نصرت علی خان قادری کے والد کی مغفرت کے لئے خصوصی دعا فرمائی اور وسیع لنگر حسینی تقسیم کیا گیا
یہ سفرنامہ ءزیارات ِایران و عراق ہے ۔اس کے مصنف قمر عباس گل ہیں۔ ان کا تعلق شیرگڑھ ضلع بھکر سے ہے۔ اس کا انتساب راہ ِکربلا کے پیادہ زائرین کے نام! ہے یہ ایک مذہبی سفر نامہ ہے،جس کا قاری کو مطالعہ کرتے ہوئے خود کو سفر کربلا میں محسوس کرتا ہے،یہ سفرنامہ نگار کاکمال فن بھی ہے اور اللّٰہ پاک کی خاص عطا بھی ہے،قاری کی دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایک ہی نشست میں پڑھ کر ہی سانس لیتا ہے۔
Dargah Shah E Nainwa
سفرنامہ کا آغاز 20جون 2019ء کو لاہور ایئرپورٹ سے ہوتا ہے،جہاں زیارات کی فضیلت وثواب سے آگاہ کیا گیا ہے وہاں مقامات مقدسہ کے بارے خوبصورت انداز میں معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں اور شہر شہر کی تاریخ و ثقافت کے بارے میں کھل کر اظہار کیا گیا ہے۔ سفرنامہ نگار کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے۔جس سے ایمان کی تازگی اور روحانیت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ کہیں بھی بوریت محسوس نہیں ہوتی مقامات مقدسہ کی رنگین تصویریں میں شائع کی گئی ہیں، حدیث رسول ثقلین (ص)فرمان حضرت امام حسین علیہ السلام ذکر حسین علیہ السّلام فکر حسین علیہ السّلام اور عقیدت اس سفر نامہ میں جابجا خوبصورت انداز میں اپنی خوشبو بکھیرے ہوئے ہےجذبہ سچائی اور خلوص و محبت کی بات کی جائے تو ہر ہر سطر میں نظر آتی ہے،بیک ٹائیٹل پر ڈاکٹر شبیر اسد کی رائے ہے، کتاب دیدہ زیب طباعت سے مزین ہے،136صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 400سو روپے ہے، ملنے کا پتہ مثال پبلشرز امین پور بازار فیصل آباد موبائل نمبر 03006668284
بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،
اگر ہم دنیا میں ایسی کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں کہ جس سے ہماری دنیا بھی آباد رہے , اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت بھی ملے تو اس کے لیئے ہمیں اپنے پیارے نبی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنا ہو گا , آپ کے اُسوہء حسنہ کو اپنا ہو گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ اُسوہءِ حسنہ ہے کیا ؟ اُسوہءِ حَسنہ ہی درحقیقت ندائے حق ہے،
اُسوہءِ حَسنہ خُلقِ عظیم ہے : عفو و درگزر ہے : پیار و محبت و شفقت و مہربانی ہے : نہ صرف انسانوں سے حتیٰ کہ جانوروں سے بھی،
اُسوہءِحَسنہ استقامت و صبر و تحمل اور ایثار و قربانی ہے , ایفائے عہد ہے : اخلاص و تقویٰ ہے : عدل و انصاف و احسان ہے : خشیتِ اِلٰہی ہے،
اُسوہءِ حَسنہ تربیت و تبلیغ ہے : امر بِالمعروف ہے : نہی عن المنکر ہے : نظم و ضبط اور قانون کا احترام ہے : اتحادِ مِلّی ہے،
اُسوہءِ حَسنہ امانت و دیانت ہے : کسبِ حلال ہے : حرام سے اجتناب ہے : گھریلو اور معاشرتی زندگی میں راہنما ہے : منافقت سے نفرت ہے : عبادت و ریاضت ہے : ریاکاری سے اجتناب ہے : اور سب سے بڑھ کر فکرِ دنیا و آخرت ہے، اپنی بیٹی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے دروازے پر رُک کر اجازت طلب کرنا اور اپنی بیٹی کی تعظیم میں کھڑے ہو جانا بھی اُسوہِ حسنہ ہی ہے، اپنے نواسوں کے لیے دورانِ خُطبہ منبر چھوڑ کر نیچے اُترنا اور شہزادوں کو گود میں بٹھا کر خُطبہ دینا اور دورانِ نماز امام حسین علیہ السلام کا پشت پر سوار ہونا اور اللہ کے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کا سجدے کو طول دینا بھی اُسوہءِ حسنہ ہی ہے اور قُرآن کا یہ بھی ارشاد ہے کہ
مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللہ ِ
جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی پس بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی
اسی لیے اللہ تعالیٰ واضح اور صریح الفاظ میں ارشاد فرما رہا ہے کہ اگر تم کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ! دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہشمند ہو تو ! اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو اُن کی کامل و اکمل زندگی کو اپنے لیئے نمونہ بناؤ
دعوت و تبلیغ کے لیئے جس بلند ترین اخلاق و شفقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں اس حد تک موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ القلم کی چوتھی آیت میں کہنا پڑا کہ وَاِنَّکَ لَعلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ہ بےشک آپ حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہیں،
اور سورۃ الحشر کی ساتویں آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ
اے میرے رسول ان سے کہہ دیجیے کہ میں (ان تمام خدمات کے بدلے میں) تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میری اہلبیت سے محبت کرنا ،
اللہ کے حکم سے جھوٹوں پر لعنت کے لیے جن سچوں کو ساتھ لے کر گئے تھے وہ تو یقینی سچے تھے نا تو پھر اُن پانچوں سچوں کے ساتھ امت نے کیا کیا وہ سب بھی تاریخ میں محفوظ ہے ۔
کہا یہ جاتا ہے اور بالکل درست کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حدیث ہے کہ علماء انبیاؑء کے وارث ہیں تو کیا وراثت میں سرکار کا اُسوہءِ حسنہ مکمل طور پر نہیں لینا چاہیئے , کیا آج ہمارے علماء اخلاقی نقطہءِ نظر سے وارث کہلانے کے حقدار ہیں ؟ وہ 28 رجب تھی , جب امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر مجبور کیا جا رہا تھا, اور امامِ مظلوم اپنے بچوں , عورتوں , جوانوں , بوڑھوں غرضیکہ تمام خانوادہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اپنے نانا کے وطن مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیئے جا رھے تھے تو کیا مدینہ بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم علماء و عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے بھرا ہوا نہ تھا ؟ اور پھر 8 ذوالحجہ کو حج کے احرام کھول کر کعبہ کی حُرمت کی خاطر مکہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے شہرِ مکہ حجاج اور علماء سے بھرا پڑا تھا تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسلمان 1400 سال سے کم ہی اسوہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر کاربند رہے ہیں
رحمتِ عالم ﷺ کے عفوودرگزر کا عالم یہ تھا کہ ایک شخص قتل کا ارادہ لے کر آیا , مگر جب چہرہءِ اقدس پر نگاہ پڑی تو نور جلالت سے مرعوب ہو کر کانپنے لگا اور تلوار ہاتھ سے گر پڑی , آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر تلوار اُٹھا لی , چاہتے تو قتل فرما سکتے تھے مگر کمال مہربانی سے معاف فرما دیا , اسی وقت اس شخص نے اسلام قبول کر لیا , اپنے چچا حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کو معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا , اللہ کے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا , ایک دن آکر نہایت سخت الفاظ میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا ,اور اپنی چادر آپ ﷺ کی گردن مبارک میں ڈالی , صحابہ کرام ,رضی اللہ عنہم آگے بڑھے مگر رحمتِ مجسم ؐنے روک دیا اور فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے , اس نبی کی امت ہو , عالم ہوں , عاشقانِ مصطفےٰ ہونے کے دعویدا ہوں , اسی نبی کی حُرمت کے نام پر وحشی اور درندے بن جائیں مجھے بتائیے نا کہ وہ عاشقانِ رسولؐ کیسے ہوئے ؟ جس نبی کی نرمیِ طبیعت اور حُسنِ سلوک کی گواہی اور تذکرے قُرآن جا بہ جا کرے اس کے وارث اور امتی اس قدر ظالم ہوں کہ اپنے اُسی مہربان نبی کی اولاد کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنائیں، پانی بند کر دیں ناموسِ نبی کی باپردہ محذراتِ عصمت بیبیوں ، بچوں کو قیدی بنا کر شہر بہ شہر پھرائیں اور علمائے اُمت وارثانِ دین خاموشی اختیار کیے رکھیں، نبی کے مظلوم خانوادے کے غم کو روکنے کے لیے قتل و غارت کے بازار گرم کریں اور آج یہ عالم ہے کہ انسانوں کو اللہ کے برحق اور سچے دین سے اپنے عمل کی وجہ سے متنفر کر رہے ہیں، سورۃ آلِ عمران آیت 159 میں ارشادِ ربانی ھے کہ
پس اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ اُن کے لیئے نرم دل ہوئے , اور اگر آپ مزاج کے اکھڑ اور دل کے سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو گئے ہوتے ,
بدلہ نہ لینے والے رسول عفو و درگزر کے عملی نمونہ نبی، حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث اور امتی اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام سے منتشر اور متنفر نہیں کر رہے , ذرا دیر کو رُک کر ہمیں سوچنا ہو گا , ورنہ یہ جنت کا لالچ یہ حور و قصور کی ہوس کہیں ہمیں دین و دنیا میں تباہ و برباد نہ کر دے وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃًلِلعَالَمِین کی امت آئیے سراپا رحمت بن جائیں، قُرآن کے فرمان کے مطابق اُسوہءِ حسنہ کی جُزوی نہیں مکمل پیروی کریں، اہلبیت جن کی محبت رسالت کا اجر قرار پایا تھا، اُن پر ظلم کرنے والوں پر نفرین کریں، اور مظلوموں کا غم منائیں، اور جو لوگ اس غم کے منانے میں رکاوٹ بنیں تمام مسلمان ایسے لوگوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔
نمازِ شب کی اہمیت کو سمجھنا ہو تو کربلا کے بادشاہ ! جن کے متعلق خواجہ معین الدین اجمیری ؒ نے کیا خوب لکھا ہے
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
خواجہ معین الدین اجمیری ؒ
وہ بادشاہ جس کے طاہر بدن پر اتنے زخم لگے کہ ہوا زخموں سے باآسانی گزر جاتی تھی۔ زخموں سے چور بدن پر کربلا کی گرم ریت پڑتی تو کربلا کا بادشاہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا تھا۔ وہ کربلا کا بادشاہ جو شہزادہ علی اصغر ؑ کا درد لیے اور علی اکبرؑ کا غمِ فرقت لیے اور نہ جانے کتنے درد سینے میں لیے آخری سجدے کے لیے خیموں میں تیاری کر رہا تھا ۔تمام بیبیوں کو الوداع کر کے مقتل کی طرف چلنے لگے تو آخر میں ایک بوڑھی عورت ملتی ہے امام ؑانتہائی احترام و عقیدت سے فرماتے ہیں۔
یا فضتہ علیک السلام
یعنی اے فضہ تم پر میرا سلام ہو ۔
جنابِ فضہ کو الوداع کر کے امام ؑکچھ قدم آگے بڑھتے ہیں ۔ تو حدِ خیمہ تک محرومتہ المسرت بی بی ( جناب زینبؑ ) ساتھ آتی ہیں بی بی جانتی ہیں کہ ان کا عظیم بھائی عظیم قربانی کے لیے جارہا ہے بی بی کے دل میں غم کے طوفان امڈتے ہیں اور طوفان کیوں نہ ہوں کہ جن کے گھر کے سب افراد شہید ہو جائیں اور آخری فرد اجل کے منہ میں جا رہا ہو ۔ تو اس گھر کی عورتوں کی کیا حالت ہو تی ہے۔ لیکن میں قربان کر دوں اپنی زندگی کی ساری ساعتیں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے حوصلوں پر ، آپ کی جرات پر، آپ کے جزبے اور آپ کے ایمان پر کیونکہ دین بچ رہا ہے۔ دین کی پیاس خون حسینؑ سے بجھے گی دین کی تشنہ لبی امام دور فرمائیں گے۔
حدِ خیمہ پر پہنچ کر دونوں بہن بھائی رک جاتے ہیں غموں سے نڈھال تشنہ لب حسینؑ بہن کی غربت اور چادر کی طرف دیکھتے ہیں تو امام جانتے ہیں کہ ان کے شہادت کے بعد یہ چادرِ فاطمہ بنتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لٹ جائے گی ۔ امام نگاہیں نیچی کر لیتے ہیں تو بہن مخاطب کر کے کہتی ہے۔ کہ بھیا مجھے پتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت کم ہے اور یہ آخری رخصت ہے بھیا مجھے اماں جان نے حکم دیا تھا کہ جب حسینؑ ! وہ حسینؑ جسے میں نے بڑی محنت سے پالا ہے جب آخری بار الوداع کہے تو زینب ! میری طرف سے اس کا گلا چوم لینا ۔ مجھے ماں کی وصیت کو پورا کرنا ہے بھیا گلا کھولو۔ حسینؑ نے اپنے بند قبا کھول دیے۔ بی بی نے اپنے بھائی کے گلے پر بوسہ دیا اور امام سے لپٹ گئیں۔ اس کے بعد امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی اماں حضور نےحکم دیا تھا کہ جب آخری الوداع کروں اور جانے لگوں تو میری بیٹی زینبؑ کے بازو پر میری طرف سے بوسہ دینا۔ تم بازو کھولو میں تمہارے بازو چوم لوں ۔ حسینؑ بہن کے بازو چوم لیتے ہیں اور جانے کی اجازت طلب کرتے ہیں اور اپنی بہن کو وہ وصیت کرتے ہیں ۔ جسے شائد ہم مسلمان شیعہ اور سنی فراموش کر چکے ہیں ۔ وہ وصیت کیا تھی ! ایک درس ہے ، ایک علم ہے ، ایک ضابطہ حیات ہے اور وہ یہ کہ جتنی بھی تکالیف آئیں اس درس کو نہیں بھولنا امامؑ ارشاد فرماتے ہیں ،
امام زین العابدینؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے بعد ہم پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ہماری سواریوں کو دوڑایا گیا جسکی وجہ سے ہمارے کئی بچے اونٹوں اور گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندے گئے اتنے زیادہ مصائب و آلام ڈھائے جانے کے باوجود میری پھوپھی زینبؑ نے نمازِ شب کو کبھی ترک نہیں فرمایا۔
حضرت امام حسینؑ اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے مصائب کے عالم میں کیا کہتے ہیں میرے لکھے ہوئے قطعہ میں ملاحظہ فرمائیں :۔
شریعت کو ضرورت ہو تو جاں دینا محبت میں
خدا کے دین کی خاطر ہمیشہ رہنا سبقت میں
سواری پر اسیری میں اگرچہ سہل بھی نہ ہو
مجھے نہ بھولنا اپنی نمازِ شب کی کثرت میں
آج ملت اسلامیہ بی بی زینبؑ کی مقروض ہے وہ عظیم بی بی جس کا کچھ نہ بچا لیکن ہمارے پردے اور ہماری عزت و ناموس کو بچا گئی ہے اب وفا کا یہی تقاضا ہے کہ ہم بھی ہر مشکل ہر آسانی بلکہ زیست کی ہر ساعت میں اللہ پاک کی بارگاہ میں بی بی زینب کا شکریہ ادا کرکے نمازِ شب ادا کریں اور اپنی پیشانی اس رب کعبہ کے سامنے خم کریں جو واحد ہے لم یلد ہے ولم یو لد ہے، جس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ وہ عظیم رب جو پتھر میں بھی کیڑے کو رزق دیتا ہے کیو نکہ وہ خیرالرازقین ہے وہ کریم رب ! جو پہاڑوں سے ٹھنڈے اور میٹھے چشمے جاری کرتا ہے وہ پاک رب! جو ایک ہی مٹی سے چنبیلی بھی اگاتا ہے اور گلاب بھی ، موتیا بھی خلق کرتا ہے اور گل بنفشہ بھی ۔ اسکی ذات پاک ہے ۔ عظیم ہے۔ اعلی ہے۔ رحیم ہے کریم ہے ۔ نمازِ شب ادا کر کے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔
مجھے پہلی دفعہ عراق زیارات پر جانے کا شرف 2016 میں حاصل ہوا۔میں ایک قافلہ میں شریک تھا جس میں بیشتر افراد پہلی دفعہ زیارات پر جارہے تھے سب کے چہروں پر ایک خوشی اور تشکر کے آثار نمایاں تھے ۔ ہمارا جہاز سیالکوٹ سے اڑا اور دوبئی اترا اور پھر وہاں سے نجف اشرف عراق پہنچے ۔ یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے ایام تھے اور جب ہم نجف اشرف پہنچے تو دنیا بھر کے کروڑوں زائرین نجف و کربلا دونوں شہروں کے بیچ محو سفر تھے۔ماشی یعنی پیادہ روی ایک سفر عشق ہے جس کی ایک الگ طویل تاریخ ہے اس پر پھر کسی وقت بات کریں گے تاہم میں چہلم کرنے کربلا معلی پیدل روانہ ہوگیا اور پھر یہ روحانی سفر مکمل کرنے کے بعد واپس نجف اشرف روضہ علی مرتضیؑ پر واپس آگیا ایک عجیب ہیبت اور روحانیت باب العلم کے در پر محسوس کی دنیا کی ہر قوم کا باشندہ قبر علی ؑپر پرسہ دیتے دیکھا ۔
رضا سیّد
ایک دن صبح مجھے سالار قافلہ نے کہا کہ آج کوفہ کی جانب جانا ہے جیسے ہی اس نے کوفہ کانام لیا تو مرے ذہن میں کوفہ کے وہ درودیوار گھوم گئے جو میں نے مختلف کتب میں پڑھے اور کچھ تصاویر دیکھ رکھی تھیں ہم نجف اشرف سے نکلے تو کوفہ جڑواں شہر ہی ہے کوئی پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر تاہم کوفہ جو کبھی عروس البلاد تھااب قصبہ نما رہ گیا ہے ہم سب سے پہلے جناب میثم تمار ؓ کے روضہ اقدس پر پہنچے تو میثم تمار جیسی عظیم ہستی کے سامنے خود کو بہت ہیچ پایا یہ وہ شخصیت ہے جس نے عشق علیؑ میں جان دی ایک درخت کے ساتھ بنو امیہ نے انکو پھانسی دی اور وہ تمام عمر اسی کھجور کے درخت کی آب بیاری کرتے رہے۔کیونکہ مولائے کائنات ؑنے انکو بشارت دے دی تھی کہ اے میثم ؓ تو مری محبت میں کھجور کے اس درخت پر لٹکا دیا جائے گا۔
سیدھا کچھ آگے چلے تو بیت امیر المومنین علیہ السلام موجود ہے یہ وہ گھر ہے جہاں امیر المومنینؑ اپنے دور خلافت میں رہائش پزیر تھے اس گھر میں علی ؑکی عصمت کی سرچشمہ بیٹیوں کے حجرے ہیں وہ جگہ ہے جہاں علی مرتضیؑ کی میت رکھی گئی غسل و کفن دیا گیا ۔اسی گھر کے صحن میں سرکار امیر ؑکے ہاتھ سے کھودا ہوا میٹھے پانی کا کنواں ہے جو ایک روایت کے مطابق ہر مریض کے لیے باعث شفا ہے اس کنواں سے پانی پیا تو یہ ذہن میں یہ سوچ گھوم گئی کہ کربلا میں مولا ؑتری اولاد پیاسی ماری گئی جس پر آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے ۔
بیت امیر ؑسے بوجھل قدموں سے نکلے اور سامنے ایک طرف کھلا خالی میدان ہے جس پر گری ہوئی عمارت کا کچھ ملبہ اور اس کے آثار ہیں ۔یہ وہ کوفہ کا دار الامارہ یعنی مرکز حکومت تھا جس کے مرکزی دروازے سے سفیر حسین علیہ السلام جناب مسلم بن عقیل ؑکو نیچے گرا کرابن مرجانہ ملعون نے شہید کیا یہ دار الامارہ صدر صدام سیاسی نے پرخاش پر گرا دیا تھا ۔
اسی کے ساتھ ملحقہ عالم اسلام کی چوتھی بڑی متبرک ترین مسجدکوفہ کی پرشکوہ عمارت ہے جو چودہ صدیوں کے بعد بھی روحانیت کا مرکز ہے ۔
اس روحانی مسجد کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس میں وہ مقام موجود ہے جہاں سے تیسری مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ معراج کے لیے آسمان کی جانب بلند ہوئے ۔۔اس میں وہ جگہ ہے جہاں سے طوفان نوح ؑپھوٹا وہ چشمہ نما جگہ ابھی بھی موجود ہے جو کہ بلکل وسط مسجد میں واقع ہے اس میں جناب ابرہیم علیہ اسلام سمیت کئی انبیاء نے نماز ادا کی ان کے مصلے موجود ہیں ۔مسجد کا صحن کراس کریں تو آخر میں ایک الگ صحن میں حضرت مسلم بن عقیل ؑکی قبر اطہر ہے اور ان کے ساتھ امیر مختار ثقفی ؓ کی قبرہے جبکہ بلکہ سامنے ہانی بن عروہ ؓ کی قبر ہے جو کہ سفیر امام ؑکے میزبان تھے اور انکی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
مسجد کوفہ کے عین محراب میں مقام شہادت امیر المومنین امام المتقین فاتح خیبر نفس رسول ؐباب العلم مولود کعبہ شہید مسجد موجود ہے ۔
میں اس مصلے کے قریب کھڑا کافی دیر سوچتا رہا ہے کہ یہ امت علی ؑو اولاد علیؑ کی اس قدر دشمن کیونکر ہوگئی ؟تو جواب فقط یہ ملا کہ عدل علی ؑ!
مسجد کوفہ سے بھاری قدموں سے نکلے تو کوفہ والوں کی بے مروتی اور بے وفائی کی داستانیں دماغ میں گھوم گئیں ۔
کوفہ ایک شہر نہیں اسلامی تاریخ کا بہت پر اسرار باب ہے جس کا آغاز قتل علی ؑسے ہوتا ہوا کربلا تک جاپہنچا ۔