اُسوہءِ حَسَنہ اور کربلا

بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ

لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللہِ اُسوَۃُُ حَسَنَۃُُ

الاحزاب 21

بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے،

اگر ہم دنیا میں ایسی کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں کہ جس سے ہماری دنیا بھی آباد رہے  , اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت بھی ملے تو اس کے لیئے ہمیں اپنے پیارے نبی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنا ہو گا , آپ کے اُسوہء حسنہ کو اپنا ہو گا

آئیے دیکھتے ہیں کہ اُسوہءِ حسنہ ہے  کیا ؟  اُسوہءِ حَسنہ ہی  درحقیقت  ندائے حق ہے،

اُسوہءِ حَسنہ خُلقِ عظیم ہے : عفو و درگزر ہے : پیار و محبت و شفقت و مہربانی ہے : نہ صرف انسانوں سے حتیٰ کہ جانوروں سے بھی،

اُسوہءِحَسنہ استقامت و صبر و تحمل اور ایثار و قربانی ہے , ایفائے عہد ہے : اخلاص و تقویٰ ہے : عدل و انصاف و احسان ہے : خشیتِ اِلٰہی ہے،

اُسوہءِ حَسنہ تربیت و تبلیغ ہے : امر بِالمعروف ہے : نہی عن المنکر ہے : نظم و ضبط اور قانون کا احترام ہے : اتحادِ مِلّی ہے،

اُسوہءِ حَسنہ امانت و دیانت ہے : کسبِ حلال ہے : حرام سے اجتناب ہے : گھریلو اور معاشرتی زندگی میں راہنما ہے : منافقت سے نفرت ہے : عبادت و ریاضت ہے : ریاکاری سے اجتناب ہے : اور سب سے بڑھ کر فکرِ دنیا و آخرت  ہے، اپنی بیٹی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے دروازے پر رُک کر اجازت طلب کرنا اور اپنی بیٹی کی تعظیم میں کھڑے ہو جانا بھی اُسوہِ حسنہ ہی ہے، اپنے نواسوں کے لیے دورانِ خُطبہ منبر چھوڑ کر نیچے اُترنا اور شہزادوں کو گود میں بٹھا کر خُطبہ دینا اور دورانِ نماز امام حسین علیہ السلام کا پشت پر سوار ہونا اور اللہ کے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کا سجدے کو طول دینا بھی اُسوہءِ حسنہ ہی ہے اور قُرآن کا یہ بھی ارشاد ہے کہ

مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللہ ِ

جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی پس بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی

اسی لیے اللہ تعالیٰ واضح اور صریح الفاظ میں ارشاد فرما رہا ہے کہ اگر تم کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ! دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہشمند ہو تو ! اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو اُن کی کامل و اکمل زندگی کو اپنے لیئے نمونہ بناؤ

دعوت و تبلیغ کے لیئے جس بلند ترین اخلاق و شفقت کی ضرورت ہوتی  ہے وہ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں اس حد تک موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ القلم کی چوتھی آیت میں  کہنا پڑا کہ وَاِنَّکَ لَعلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ہ بےشک آپ حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہیں،

اور سورۃ الحشر کی ساتویں آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ

وَمَآ اٰتٰكُمُ الْرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَانَھٰكُمْ عَنهُ فَانْتَھُوْاج وَاتَّقُوااللهَ ط اِنَّ اللهَ شَدِيْدُالْعِقَابِ *

الحشر 7

اور جو كچھ تمہیں رسولؐ دے دیں اُسے لے لو اور جس سے منع کر دیں اس سے باز رہو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ۔ بےشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔

رسولِ خُدا صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے پورے کا پورا دین دیا، قُرآن دیا، اپنے رب کے حکم سے اپنی اہلبیت کے ساتھ محبت کا حُکم دیا

قُلْ لَّا اَسئَلُکُم عَلَيْهِ اَجْراً اِلَّا المَوَدَّتَ فِی القُربی 

الشوری 23

اے میرے رسول ان سے کہہ دیجیے کہ میں (ان تمام خدمات کے بدلے میں) تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میری اہلبیت سے محبت کرنا ،

اللہ کے حکم سے جھوٹوں پر لعنت کے لیے جن  سچوں کو ساتھ لے کر گئے تھے وہ تو یقینی سچے تھے نا تو پھر اُن پانچوں سچوں کے ساتھ امت نے کیا کیا وہ سب بھی تاریخ میں محفوظ ہے ۔

کہا یہ جاتا ہے اور بالکل درست کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حدیث ہے کہ علماء انبیاؑء  کے وارث ہیں تو کیا وراثت میں سرکار کا اُسوہءِ حسنہ مکمل طور پر نہیں لینا چاہیئے , کیا آج ہمارے علماء اخلاقی نقطہءِ نظر سے وارث کہلانے کے حقدار ہیں ؟ وہ 28 رجب تھی  , جب امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر مجبور کیا جا رہا تھا, اور امامِ مظلوم اپنے بچوں , عورتوں , جوانوں , بوڑھوں غرضیکہ تمام خانوادہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر اپنے نانا کے وطن مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیئے جا رھے تھے  تو کیا مدینہ بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم علماء و عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے بھرا ہوا نہ تھا ؟ اور پھر 8 ذوالحجہ کو حج کے احرام کھول کر کعبہ کی حُرمت کی خاطر مکہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے شہرِ مکہ حجاج اور علماء سے بھرا پڑا تھا تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسلمان 1400 سال سے کم ہی  اسوہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر کاربند رہے ہیں

Imam_Husayn_Shrine_(karbala) (1)
تصویر بشکریہ علی ماجد عبود ویکیپیڈیا

رحمتِ عالم ﷺ کے عفوودرگزر کا عالم یہ تھا کہ ایک شخص قتل کا ارادہ لے کر آیا , مگر جب چہرہءِ اقدس پر نگاہ پڑی تو نور جلالت سے مرعوب ہو  کر کانپنے لگا اور تلوار ہاتھ سے گر پڑی , آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر تلوار اُٹھا لی , چاہتے تو قتل فرما سکتے تھے مگر کمال مہربانی سے معاف فرما دیا , اسی وقت اس شخص نے اسلام قبول کر لیا , اپنے چچا حضرت حمزہ  کے قاتل وحشی کو معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا , اللہ کے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا , ایک دن آکر نہایت سخت الفاظ میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا ,اور اپنی چادر آپ   ﷺ    کی گردن مبارک میں ڈالی , صحابہ کرام ,رضی اللہ عنہم آگے بڑھے مگر رحمتِ مجسم ؐنے روک دیا اور فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے , اس نبی کی امت ہو , عالم ہوں , عاشقانِ مصطفےٰ ہونے کے دعویدا ہوں , اسی نبی کی حُرمت کے نام پر وحشی اور درندے بن جائیں مجھے بتائیے نا کہ وہ عاشقانِ رسولؐ کیسے ہوئے ؟ جس نبی کی نرمیِ طبیعت اور حُسنِ سلوک کی گواہی اور تذکرے قُرآن جا بہ جا کرے اس کے وارث اور امتی اس قدر ظالم ہوں کہ  اپنے اُسی مہربان نبی کی اولاد کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنائیں، پانی بند کر دیں ناموسِ نبی کی باپردہ محذراتِ عصمت بیبیوں ، بچوں کو قیدی بنا کر شہر بہ شہر پھرائیں اور علمائے اُمت وارثانِ دین خاموشی اختیار کیے رکھیں، نبی کے مظلوم خانوادے کے غم کو روکنے کے لیے قتل و غارت کے بازار گرم کریں اور آج یہ عالم ہے کہ انسانوں کو اللہ کے برحق اور سچے دین سے اپنے عمل کی وجہ سے متنفر کر رہے ہیں، سورۃ آلِ عمران آیت 159 میں ارشادِ ربانی ھے کہ

فَبِمَا رَحمَۃٍ مّنَ اللہِ لِنتَ لَھُم وَلَو کُنتَ فَظًا غَلِیظَ القَلبِ لاَنفَضُّوامِن حَولِکَ

آلِ عمران 159

پس اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ اُن کے لیئے نرم دل ہوئے , اور اگر آپ مزاج کے اکھڑ اور دل کے سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو گئے ہوتے ,

بدلہ نہ لینے والے رسول  عفو و درگزر کے عملی نمونہ نبی، حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث اور امتی اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام سے منتشر اور متنفر نہیں کر رہے , ذرا دیر کو رُک کر ہمیں سوچنا ہو گا , ورنہ یہ جنت کا لالچ یہ حور و قصور کی ہوس کہیں ہمیں دین و دنیا میں تباہ و برباد نہ کر دے وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃًلِلعَالَمِین کی امت آئیے سراپا رحمت بن جائیں، قُرآن کے فرمان کے مطابق اُسوہءِ حسنہ کی جُزوی نہیں مکمل پیروی کریں، اہلبیت جن کی محبت رسالت کا اجر قرار پایا تھا، اُن پر ظلم کرنے والوں پر نفرین کریں، اور مظلوموں کا غم منائیں، اور جو لوگ اس غم کے منانے میں رکاوٹ بنیں تمام مسلمان ایسے لوگوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔

monis raza

سیّد مونس رضا

معلم، مدبر، مصنف

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

ہم یہاں تک کیسے آئے ؟

منگل اگست 10 , 2021
خوش قسمت ہیں آپ جو کلمہ گو کے گھر میں آنکھ کھولی ۔ نماز جو ہم پڑھتے ہیں اسے بچانے کیلئیے امام حسین علیہ السلام ذبح ہوئے
شاندار بخاری