ہم یہاں تک کیسے آئے ؟

تحریر شاندار بخاری

مقیم مسقط

زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے ہم زمین پر بیٹھے نا صرف ریموٹ کے ذریعے اپنے گھر کے پنکھے وغیرہ کنٹرول کر رہے ہیں بلکہ آسمان کے مناظر بھی دیکھ رہے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے نا جاننے کو کوشش کرتے ہیں کہ یہ سب چیزیں کن مشکلات کن مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچی ہیں ۔

باہر درجہ حرارت 40 ڈگری کراس کر جائے تو ہمیں ساہبان تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم اے سی والی کمرے میں بیٹھ کر اس پر تبصرہ کرتے ہیں ، گرمی کی شدت ہلکی سی بھی محسوس ہو تو کنویں تک جانا نہیں پڑتا بلکہ فرج میں  ٹھنڈا پانی میسر ہے اور اس میں مزید زاہقے کیلئیے روح افزا ملا لیتے ہیں اسکنجبین بنا لیتے ہیں ، بھوک لگے تو کھیت میں جانے یا پکانے کی الجھن نہیں بلکہ فون پر آرڈر کر کے منگوا لیتے ہیں ، ٹھنڈ لگے تو آگ جلانے کے بجائے گرم کپڑے پہن لیتے ہیں ، بیمار ہوجائیں تو ستاروں کی چال اور حکیمون کے چکر کے بجائے ان لائن ڈاکٹر سے دوا لے لیتے ہیں ۔ ۔

لیکن یہ سب کبھی ایسا نہیں تھا جب اے سی نہیں تھے تب بھی گرمی ہوتی تھی لیکن محسوس نہیں ہوتی تھی ، جب ریستوران نہیں تھے تب بھی گھروں میں چولھا جلتا تھا ، جب فرج نہیں تھا تو مشکیزے تھے ، جب تن پر پورا لباس نہیں تھا تو آنکھوں میں حیا تھی غرض کہ ہر دور کے اپنے تقاضے تھے ۔ان دنیاوی چیزوں اور معاملات کے علاوہ اگر ہم اپنی مقصد حیات پر توجہ دیں تو یہ دیں ہمیں ایسے نہیں ملا ، تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایسے ایسے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں کہ دماغ ششدر رہ جاتا ہے کہاں وہ گرم پانی اور سوکھے چھوارے کھانے والے اور کہاں ہم۔

زمانہ بے شک بہت ترقی کر چکا ہے ہم بہت آگے آ گئے ہیں لیکن اس ترقی اور ہمیں یہاں تک لانے والوں کو بھی یاد رکھیں خوش قسمت ہیں آپ جو کلمہ گو کے گھر میں آنکھ کھولی ۔ نماز جو ہم پڑھتے ہیں اسے بچانے کیلئیے امام حسین علیہ السلام ذبح ہوئے ، اپنے 6 ماہ کے ننھے علی اصغرؑ کے گلے میں وہ تیر سہا جس سے ہاتھی کا شکار کیا جاتا تھا ، جس گھر سے پردہ قائم ہوا ان مستورات کے سروں سے چادریں چھین کر ہاتھ سر کے پیچھے باندھ کر کربلا سے شام کے بازاروں کی تنگ گلیوں تک پیدل چلایا گیا اور وہ اپنے چہروں کو بالوں سے چھپاتی تھیں ، ننھی سکینہؑ جس کو اپنے بابا کے سینے پر سونے کے عادت تھی شام کے اندھیرے زندان میں تھپڑ کھاتی ہمیشہ کیلئیے سو گئی ، خانوادہ رسول ﷺ کے کم سن بچوں کو ذبح کر کے ان کی لاشوں پر سے گھوڑے دو ڑاے انہیں پامال کیا  اور یہ سب سن 61 ہجری میں اسی ماہ محرم میں ہوا تو اب ہم اس ماہ میں خانوادہ رسول ﷺ پر پیش آنے والی صعوبتوں کو یاد کر کے خوشی کیسے منائیں ؟ یا تو ان واقعات سے بے خبر ہو جائیں یا پھر محسوس کریں اور خود پر اپنی اصلاح پر توجہ دیں کہ ہمیں اسلامی شعار کے مطابق کیسے زنگی بسر کرنی چائیے جس کی خاطر یہ لا زوال قربانیاں دی گئیں ، جس طرح ہم وراثت میں ملی زمین جائیداد اور دیگر اشیاء کی اہمیت کو نہیں سمجھ یا جان سکتے اسی طرح وراثت میں ملے دیں کو بھی نہیں جان پا رئے۔

آج یکم محرم  سن 1443ھ ہے اسلامی سال کا پہلا دن اور میری دعا ہے کہ آج کے دن سے لیکر اور جب تک آپ حیات ہیں آپ کی زندگیوں میں کوئی غم کوئی رنج و الم نا آئے سوائے غمِ امام حسین ع۔س کے ۔

الداعی الى الخير

شاندار بخاری

شاندار بخاری

شاندار بخاری

Next Post

جنت سخی حسینؑ کی ہے

بدھ اگست 11 , 2021
کسی کے بس میں کہاں ہمسری حسینؑ کی ہے کمال و اوج میں وہ برتری حسینؑ کی ہے
Hussain