Tag: نذر صابری

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 4

    کیمبل پور سے اٹک تک – 4

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    تیسری قسط میں ہم سول ھسپتال تک پہنچے تھے ، جسےشھر کے وسط سے بہت دور ، ویرانے میں تعمیر کیا گیا ، بڑے بوڑھے اور بزرگ اس بات پہ حکومت سے سخت نالاں تھے کہ مریضوں کا وھاں تک چل کر جانا ممکن نہیں ۔ یاد رہے ، یہ دور ، پیدل چلنے، جانوروں پہ اور سائیکل سواری کا تھا ، سب سے بڑی سواری تانگہ ہوا کرتا تھا لیکن تانگے کا کرایہ کون دے ۔عام آدمی کی تنخواہ 80 سے 100 روپے تک تھی ، اگرچہ اشیائے ضرورت کے نرخ بھی اسی حساب سے کم تھے ، تاھم تانگہ بک کرنا ، امارت، عیاشی یا مجبوری کے ذمرے میں آتا تھا ۔ عام حالات میں لوگ پیدل چلنےکو ترجیع دیتے تھے ۔ اس دور کی تصویر کشی میں نے اپنے مضامین بعنوان ” جو ہم نے دیکھا ” میں کرنے کی کوشش کی ہے ، چند قسطیں سوشل میڈیا کی نظر کرچکا ہوں ، بوجوہ جاری نہ رکھ سکا ، اب اس سیریل کی تکمیل کے بعد ، اسے بھی آگے بڑھانے کا ارادہ ہے ۔ واپس چلتے ہیں شھر کی ھیئت کی طرف ، چھوئی روڈ کے شمالی علاقے کی سیر آپ نے کرلی ، جو پرانے شھر سے عید گاہ تک تھا ، اب چلتے ہیں ، جنوب کی طرف ، مغرب میں ملٹری فارم المعروف ڈیری فارم سے لیکر گورا قبرستان یا فتح جنگ روڈ تک کی آبادی کا نقشہ کیا تھا ۔ یہاں اگر میں شھر کی اس وقت کی حدود کا تعین کردوں تو آپ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ شمال میں محلہ مہر پورہ کی مختصر آبادی سے شروع ہوکر ، جنوب میں محلہ امین آباد کی گنجی ، بے ترتیب اور بلدیاتی قوانین سے ماوراء آبادی ، مشرق میں آرٹلری سینٹر اور ایڈمنسٹریشن بلاک سے شروع ہوکر مغرب میں ریلوے لائین یا عیدگاہ محلہ تک کو شھر کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ چھوئی روڈ کا جنوب :شھر کی حدود میں قدرے اضافہ کرتے ہوئے ، عرض ہے کہ ریلوے لائین کی شین باغ سمت پہ ، سڑک کے جنوب میں جو فوجی احاطہ ہے ، یہاں انگریز کے زمانے میں کیمل کور Camel Core یا اونٹوں والی فوج مکین تھی ، جس کے پاس اونٹ گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ہمارے بچپن تک یہ اونٹ گاڑیاں سڑکوں پہ رواں دواں نظر آتی تھیں ۔ تقریبا15 یا 20 فٹ طویل لکڑی کی بنی ریڑھہ نماءگاڑی ، جس کے آگے اونٹ جوت کر ، غیر جنگی ساز و سامان ، مثلا راشن ، گھاس وغیرہ ادھر سے ادھر منتقل کیا جاتا تھا ۔ یہ کیمل کور انگریز دور کا تھا ، بعد میں اس کی نوعیت بدل گئی ، اونٹ رہے نہ اونٹ گاڑیاں ۔ اسی کیمل کور کی مخالف سمت پہ ایک دوسرا فوجی احاطہ اسلام لائن کے نام سے قائم ہے ۔ یہ بعد کی پیداوار ہے ۔ جس جگہ اسلام لائین ہے ، یہاں کبھی ، ہمارے لڑکپن میں ، پاکستان ٹوبیکو کمپنی کا تمباکو خریداری مرکز تھا ۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ، اس زمانے میں ، شین باغ ، سروالہ ، ڈھیر ، جابہ ، بروٹھہ ، دکھنیر ، کرم علیا اور آس پاس کے دیہات میں کاشتکار ، اپنی چاھی زمینوں میں سگرٹی تمباکو کاشت کرتے تھے ، جسے اونٹوں ، خچروں ، بیل گاڑی اور دیگر جانوروں پہ لاد کر شین باغ کے نواع میں اس خریداری مرکز تک لایا جاتا تھا ۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے ، وقت نے کروٹ لی ، کاشتکاروں نے تمباکو کاشت کرنا بند کردیا لھذا ، برطانوی مالکان پہ مشتمل ، پاکستان تمباکو کمپنی اس خریداری مرکز کو بند کرکے رخصت ہوگئی ۔ یہ زمین شین باغ کے حمید اکبرخان کے خاندان کی ملکیت تھی ، ایک عرصے تک بند رھنے کے بعد کیمل کور کی توسیعی ضرورت کے تحت ، فوج کو فروخت کردی گئی اور اب اسے اسلام لائین کے نام سے جانا جاتا ہے ، ورنہ شروع میں یہ تمباکو کمپنی کے نام سے مشھور تھی ۔ آئیے اب ریلوے لائن اور پھاٹک کراس کرکے چلتے ہیں ، ڈیری فارم کی طرف اور جائزہ لیتے ہیں کہ ڈیری فارم سے گورا قبرستان تک ، سڑک کی اس جانب کیا صورت حال تھی۔ ریلوے لائن کراس کرتے ہی جنوبی سمت پہ ایک مسجد ہے ، جو شھر کے معروف سنار مکھن نے ہمارے بچپن میں تعمیر کرائی ،کوئی نصف صدی کا قصہ ہے ، زیادہ پرانی بات نہیں ۔ اس سے آگے ڈیری فارم کی حدود شروع ہوتی ہے ،آرٹلری سینٹر وغیرہ کی دودھ دہی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ، یہ ملٹری فارم غالبا سن ساٹھ کی دھائی میں قائم کیا گیا ۔ اس کا صحیح سن تعمیر ، فارم کے میں گیٹ پہ لکھا ہے ، مجھے اس وقت یاد نہیں آرھا ، البتہ اس کی تعمیر سے پہلے ، ہم بچے اس جگہ کھیلا کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے ، کبھی کبھی "کتوں کی لڑائی ” جسے ہم اپنی بولی میں "کتیاں نا بھیڑ ” کہتے ہیں ، اس خالی زمین پر منعقد ہوتا تھا ۔ ڈیری فارم کے عقب سے لیکر ماڑی گاوں تک کوئی آبادی نہ تھی البتہ بعد میں شھر کے معروف ٹھیکیدار میاں غلام ربانی نے فارم سے ھٹ کر ماڑی گاوں کی سمت ، ریلوے لائین سے متصل ایک وسیع رقبہ ، موضع ماڑی کے مالکان سے خرید کر ، زرعی فارم بنوایا ، جسے عرف عام میں ” ربانی نا کھوہ ” کہا جاتا تھا ۔ موجودہ ماڑی روڈ پہ جائیں تو سابقہ 7 نمبر چونگی کا علاقہ آتا ہے ۔ فارم کی دیوار کے ساتھ مغرب کی طرف جو آبادی ہے ، اس کا بیشتر حصہ ، ربانی کے کھوہ کی زمین پر مشتمل ہے ۔ ادھر آجائیں ، ماڑی موڑ کی طرف تو ، ماڑی موڑ نام کا کوئی موڑ کیمبل پور شھر میں موجود نہ تھا ۔ ماڑی گاوں جانے کے لئے تاریخی راستہ بجلی گھر روڈ تھا جو محلہ امین آباد سے ہوتا ہوا ، پگڈنڈیوں کی شکل میں ماڑی تک جاتا تھا ۔ ماڑی موڑ اور ماڑی گاوں کی سڑک نہ تھی لیکن اس راستے کی مشرقی سمت پہ ، طولا ، ایک پرانی بے ترتیب آبادی ٹوٹے پھوٹے گھروں پہ مشتمل ، موجود تھی ۔ آبادی کے ساتھ ساتھ زرعی زمینں اور کئی کھوہ تھے جو یہاں سے شروع ہوکر ، نشیب کی طرف سے ایک ھالہ بناتے ہوئے ، محلہ امین آباد ، شاہ آباد ، سمندر آباد ، کربلاء محلہ اور ڈھوک فتح تک ، ایک سرسبز و شاداب وادی کا نظارہ پیش کرتے تھے ۔ ” وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہااور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا”کیمبل پور کا یہ جنوبی حصہ ، علاقہ چھچھ جیسی شادابی اور خوبصورتی کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ، تاذہ اور صحت افزاء سبزیوں کا مرکز تھا ۔ شھر بھر کی سبزی کی ضروریات اس چھوٹے سے دائرے سے پوری ہوتی تھیں لیکن ، دولت کی حرص اور لالچ یا نادانی نے اسے ، اینٹ اور گارے کے بے ھنگم سمندر میں غرق کردیا ۔ کہاں گئے وہ لہلہاتے کھیت ، رھٹ کی آوازیں ، بیلوں کے گلوں میں معلق گھنٹیوں کی ٹناٹن ، بیل گاڑیاں ، محلہ شاہ آباد اور پنڈ غلام خان کے جھرنے ، سب کے سب بڑھتی آبادی کے بوجھ تلے دب گئے ۔

    (جاری ہے )

    iattock
    سیّدزادہ سخاوت بخاری
  • تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    سیدزادہ سخاوت بخاری

     تحریر کے عنوان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیمبل پور کیسا ہوگا ، جس کی شان میں میرے مانموں ، پنجابی زبان کے نامور شاعر اور فرزند کیمبل پور ، مرحوم حکیم تائب رضوی نے اتنی پیاری نظم لکھی  ۔

    کیمبل پور کے عشق میں ڈوبی ان کی اس نظم کا ایک بند ملاحظہ ہو

    ” سر چک کے ڈولا لسی دا

    نی اڑئیے انج نہیں نسی دا

    وچوں بھانویں دل پیا رووے

    اتوں کھڑ کھڑ ھسی دا

    ذرا ہولی ہولی تر کڑئیے

    تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    یہ نظم اس وقت لکھی گئی جب کیمبل پور ایک چھوٹا سا ، صاف ستھرا ، پرامن اور خالص کیمبلپوریوں کا شھر تھا ۔ ابھی دوسرے صوبوں اور شھروں سے نقل مکانی کرکے لوگ یہاں نہیں پہنچے تھے ۔ آبادی اتنی کم کہ شھر بھر کے لوگ ایک دوسرے سے شناسا ، خوشی اور غم میں شریک ، دکھ سکھ کے ساتھی ۔

    ؓانگریزوں اور ھندووں کے بسائے ہوئے اس شھر کے نقشہ نویس کا تو علم نہیں لیکن داد دینے کو جی چاھتا ہے ۔ ہر گلی سیدھی ، آبادی چھوٹے چھوٹے بلاکس میں تقسیم ، ہر بلاک کے مرکزی چوک میں پانی کا کنواں اور اس کے گرد سماجی تقریبات کے لئے چاروں طرف کشادہ جگہ ۔ تقریبا تمام گھروں کی اونچائی ایک جیسی ، پتھر کی سیڑھیاں اور مٹی کی اینٹوں سے پختہ کی گئیں گلیاں ، کسی فلم کا نظارہ پش کرتی تھیں ۔

    گزشتہ چند برسوں میں مجھے مشرقی یورپ کے ان چند ممالک میں جانے کا موقع ملا جو کبھی کمیونسٹ سوویٹ یونین کا حصہ تھے ۔ یقین جانئیے کئی شھروں کے نقشے ، گلیاں ، اینٹوں سے بنی عمارتیں ، ڈیوڑھیاں ، جھروکے ، کوکے دار دروازے ، پتھروں سے پختہ کی گئی سڑکیں اور راھداریاں دیکھ کر شک سا ہونے لگا کہ میں

    تبلیسی ، باکو ، یراوان اور اصحاب کہف کے شھر نخچیوان میں کھڑا ہوں یا کیمبل پور کی گلیوں میں گھوم رھا ہوں ۔ یہ گمان اور تصور اس لئے پیدا ہوا کہ جس کیمبلپور میں ، میں نے آنکھ کھولی ، بچپن اور لڑکپن گزارا وہ اپنی طرز تعمیر ، تصویر اور تطھیر کے اعتبار سے کسی قدیم یورپی شھر سے کم نہ تھا ۔

    کاش کوئی مجھے میرا کیمبل پور واپس لوٹادے ۔ اب تو یہاں تولہ رام بلڈنگ کے علاوہ کچھ بچا ہی نہیں ۔ سنا ہے اس تاریخی عمارت کو  زبح کرنے کے لئے بھی چھریاں اور ٹوکے تیز کئے جارہے ہیں ۔

    شھر کی اصلی اور مکمل تصویر

    ان شاء اللہ آپ میری زیر تکمیل کتاب

    ” کیمبل پور سے اٹک تک ” میں دیکھ سکیں گے جسے ابتک چھپ جانا چاھئیے تھا لیکن بیرون ملک اقامت اور کورونا کی وجہ سے سفر پر پابندیوں نے ایسا ہونے نہیں دیا ۔

    ۔

    آج کا مضمون اس خبر کے زیر اثر تحریر کررہا ہوں جس کے مطابق چند رکشا ڈرائیوروں اور دوکانداروں کے مابین ایک جھڑپ ہوئی اور نتیجتا کمیونٹی دو حصوں میں بٹ گئی ۔ کچھ لوگ رکشا والوں اور کچھ دوکانداروں کی حمائت میں سامنے آئے ، لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ کوئی ایک فرد بھی شھر کی حق میں بات نہیں کررہا ۔

    رکشا والوں اور دکانداروں کی باالآخر صلح ہوجائیگی ۔ دکاندار مال بنانے میں مصروف ہوجائینگے اور رکشاء والے حسب دستور شھر بھر کی ٹریفک میں خلل ڈالنے کا فریضہ انجام دیتے نظر آئینگے ۔ میں پورے یقین سے یہ بات کہ سکتا ہوں کہ اصلاح کا کوئی پہلو نہیں نکلے گا۔ یہ سب وقتی ابال اور باتیں ہیں ۔ شھر کے نظم و نسق پہ پہلے کسی نے توجہ دی اور نہ آئیندہ دے گا ۔ یہ لاوارث شھر ہے ۔ اس کا کوئی والی وارث نہیں ۔ اگر میری بات درست نہ لگے تو بتائیے  کیا اس شھر میں بلدیہ نام کا کوئی ادارہ نہیں ؟ کیا یہاں ٹریفک پولیس اور دیگر انتظامی محکمے موجود نہیں ۔ ایوب خان کے دور سے لیکر نوازشریف کے آخری دور تک بلدیاتی انتخابات ہوتے رہے ۔ لوگ ممبر ، کونسلر اور چیئرمین بنے لیکن شھر کی حالت سدھرنے کی بجائے بگڑتی ہی چلی گئی ۔

    جو آیا , تصویروں کے ساتھ ساتھ مال بنایا اور حاجی صاحب بن کر رخصت ہوگیا ۔ دنیاء کے ہر شھر کا ایک ماسٹر پلان ہوتا ہے جس کے مطابق اسے وسعت دی جاتی ہے لیکن یہاں تو ہر طرف خان ہی خان نظر آتا ہے ، پلان نام کی کوئی شے موجود نہیں ۔ مقامی نو دولتیوں کے ساتھ ساتھ غیر مقامی اور دور دراز سے آئے افراد نے اس کے تعمیراتی حسن کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی ۔ اور اگر کوئی کسر باقی تھی تو وہ افغانی پناہ گزینوں نے پوری کردی ۔ صاف ستھرا شھر غلاظت اور کوڑے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوگیا ۔

    ہم تاریخ کے جبر سے اپنے آپ کو آذاد نہیں کراسکتے ۔ وقت اور زمانہ بدلتا ہے تو ذرائع نقل و حمل بھی بدل جاتے ہیں ۔ بیل گاڑی اور تانگے سے  آٹو موبیل تک آنا وقت کی ضرورت تھی لیکن کیا کسی نے ان نئی ایجادات کے استعمال اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل پہ بھی توجہ دی ۔

    چھوٹا سا شھر ، مسافروں سے زیادہ رکشے ، موٹر سائیکلوں کا سونامی ، ریڑھی بانوں کے غول ، ٹریکٹر ٹرالیاں  اور اس بیچ ادھر ادھر بھاگتے افغانی ، کبھی کبھی تو یہ احساس دلاتے ہیں کہ شاید ہم کوئی بھیانک خواب یا کسی دست بہ دست جنگ کی ڈاکومینٹری دیکھ رہے ہیں ۔

    اگرچہ اس شھر کے بانی انگریز تھے اور آبادی کی اکثریت ھندووں پر مشتمل تھی لیکن جب ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو یہاں مقامی اور مہاجر مسلمانوں کا دور دورہ تھا ۔ پرانے شھر میں اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی مثلا اس مقام کو لے لیں جہاں رکشا اور دکاندار جھگڑا ہوا ۔ اسے صدیقی روڈ کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ شرقا غربا سول بازار سے لیکر آخر تک شیخ صدیقی قبیلے کے لوگ آباد تھے جن میں اکثریت وکیل اور سول سروس سے وابستہ افراد کی تھی ۔ ہر دوسرے گھر پر آویزاں نام کی تختی پہ لفظ علیگ لکھا ہوتا تھا یعنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لیکن اتنے  سادہ لوگ کہ موسم گرما میں رات کو اسی  سڑک کنارے بان کی چارپائیاں بچھا کر سوجاتے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ شیخ فداحسین مرحوم نقشہ نویس کی چارپائی کی پائینتی کی طرف مٹی کا گھڑا مع پیالہ (بٹھل ) رکھا ہوتا تھا ۔ چونکہ اس وقت تک ٹی وی اور اس کے پوتے سوشل میڈیا نے جنم نہیں  لیا تھا لھذا چارپائیوں پر لیٹ کر گپ شپ اور دن بھر کی خبریں ایک دوسرے سے شئیر کی جاتی تھیں ۔ ایک وہ زمانہ کہ لوگ سڑک کنارے چین کی نیند سوتے تھے اور اب گھر کے اندر بھی رکشاء ، سوزوکی اور موٹرسائیکل کا شور سکون سے سونے نہیں دیتا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کسی کارخانے میں سورہے ہیں جہاں ہر طرف مشینیں ہی مشینیں اور ان کا شور ہے ۔ وہ صدیقی روڈ جو کبھی اھل علم و دانش اور شرفاء کا مرکز تھا آج رکشاوں کے شور اور دھوئیں تلے دب چکا ہے ۔

    سوشل میڈیا کے ذریعے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہماری نئی نسل کے جوان سوشل ورک کی طرف راغب ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں ۔ میری ان تاذہ دم نوجوانوں سے اپیل ہے کہ افراد کے ساتھ ساتھ اپنے شھر کیمبل پور کی شکل و صورت ، صحت و صفائی اور تاریخ کے تحفظ پہ بھی توجہ دیں ۔ پرانا شھر مٹ رہا ہے ۔ تاریخی عمارات پلازوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں ۔ مہذب قومیں پرائیویٹ تاریخی عمارات کو بھی خرید کر قومی اثاثے کے طور پر محفوظ کرلیتی ہیں تاکہ آنیوالی نسلیں اپنی تمدنی تاریخ سے آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت شھر میں دو عمارتیں تولہ رام بلڈنگ اور رئیس خانہ اس بات کی متقاضی ہیں کہ انہیں مٹ جانے سے بچا لیا جائے ۔

    پلیڈر لائین میں تاریخی عمارت رئیس خانہ  ، ڈسٹرکٹ کونسل ، بلدیہ اور شھر کے سیاسی ذعماء کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں کھنڈر بن چکی ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ اس کی بحالی اور تزئین و آرائیش کے لئے آواز اٹھاکر اسے ایک کمیونٹی سینٹر میں تبدیل کردیا جائے ۔ اس طرح عمارت بھی بچ جائیگی اور شھریوں کو ایک کمیونٹی سینٹر بھی دستیاب ہوگا ورنہ کچھ ہی عرصے میں سیاست دانوں کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مالیت کی یہ عوامی  پراپرٹی اونے پونے فروخت ہوکر پلازہ میں تبدیل ہوجائیگی ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین
  • کیمبل پور سے اٹک تک – 3

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    ذکر ہورہا تھا تولہ رام بلڈنگ کا ، جو اس شھر کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جب بھی کیمبل پور جاتا ہوں ، آتے جاتے ، فن تعمیر کا یہ شاھکار مجھے ، ماضی کے جھروکوں میں لے جاتا ہے ، کیسا نقشہ نویس تھا ، کون تھے معمار ، کسے داد دوں ، تولہ رام کو ، آرکیٹیکٹ کو یا جس نے تیسی کرنڈی چلائی ، کہاں گئے یہ لوگ ، سنا تو یہ ہے کہ ہم علوم و فنون میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں لیکن اب ایسے شاھکار کیوں تخلیق نہیں ہوتے ، یہی سوچیں مجھے تاریخ کے وسیع و عریض میدانوں میں لے جاتی ہے ، وادئ بابل و نینواء کی سیر کو نکل جاتا ہوں ، جہاں تہذیب و تمدن نے جنم لیا ، منارہ بابل کی تعمیر ہوئی ، کہ جس پر بیٹھ کر بابلی لوگ ستاروں کا حساب کتاب کیا کرتے تھے ، یہ قصہ حضرت مسیح کی آمد سے بہت پہلے کا ہے، جب بابل شھر میں معلق باغات اگائے گئے ، چاہ بابل جس میں دو فرشتے ھاروت و ماروت آج بھی زنجیروں میں بندھے الٹے لٹکے ہوئے ہیں ، موجود ہے ، لیکن اس کے معمار نظر نہیں آتے ۔قارئین سوچ رہے ہونگے کہ شاہ جی آپ ہمیں کیمبل پور کی سیر کرانے نکلے تھے ، یہ بابل اور نینوا ، منارہ بابل اور ھاروت و ماروت کہاں سے آگئے ، ھاں بھئی صحیح کہ رہے ہیں آپ ، لیکن ، تاریخ کو ساتھ لیکر چلنا بھی ضروری ہے ۔

    اھل بابل نے تہذیب و تمدن کو جنم دیا ، فن تحریر اور علم نجوم کے موجد بھی یہی بابلی ہیں لیکن پھر کیا ہوا ، آج وہی عراق لخت لخت ہے ، نااھل حکمرانوں نے قوم کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ، جہاں منارہ بابل اور معلق باغات کے معمار پیدا ہوئے ، آج وھاں خودکش بمبار اور داعش کے پالتو درندے ، اپنے آباء کی لکھی ہوئی تاریخ کو اپنے ھاتھوں مٹانے میں مصروف ہیں ۔ یہی کام ہم نے کیمبل پور کے ساتھ کیا ، چھوٹا سا ، پرامن اور صاف ستھرا شھر ، افغان مہاجرین اور دیگر گھس بیٹھیوں کے در آنے سے ، غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے ، شھر کا دلکش آرکیٹیکچر بے ھنگم تعمیرات نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ، اب بالکونیاں ہیں نہ جھروکے ، ڈیوڑیاں ہیں نہ چوبارے ، عمرانی حسن و خوبصورتی کی تباہی تو ایک طرف ، موٹر سائیکل ، سوزوکی ، ٹریکٹر ٹرالی ، پتھارے اور چنچی کی یلغار کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹڈی دل نے ھرے بھرے کھیتوں پہ حملہ کردیا ہو ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہم یا کوئی اور ؟ یہ کام بلدیہ اور بلدیاتی نمائندوں کا تھا کہ شھر کے تاریخی حسن کو برقرار رکھتے ۔ نئی تعمیر ہونیوالی عمارات کے لئے کوئی کوڈ آف آرکیٹیکٹ ہوتا ، پرانی تاریخی عمارتوں کو محفوظ کیا جاتا ، شھر کے بنیادی ماسٹر پلان کو سامنے رکھ کر تعمیرات کی اجازت دی جاتی لیکن نہائت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سب کے سب ڈنگ ٹپاو تھے ، اپنے عھدے اور سیٹ سے تو پیار تھا ، شھر کو لاوارث چھوڑ دیا ۔ باھر سے آنیوالے خودکش بمباروں نے کچھ مقامی مفاد پرستوں کے ساتھ مل کر میرے کیمبل پور کا حلیہ بگاڑ دیا ۔ معاف کیجئے فرط جذبات میں کہاں سے کہاں نکل گیا ، آئیے آپ کو کیمبل پور کی پرانی آبادی کی سیر کراوں ۔ یہ تو پہلے بیان کرچکا ہوں کہ پرانا شھر پلیڈر لائن سے شروع ہوکر چھوئی روڈ پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ مغرب کی طرف عیدگاہ محلہ ہے ، اسے ایک زمانے میں گڑیالہ محلہ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ موضع گڑیالہ کے خوانین یہاں آباد تھے ۔ یہ آبادی بھی تقسیم سے پہلے کی ہے ۔ ماڑی موڑ کے سامنے سے لیکر پرانے قبرستان تک چند پرانے گھر طولا پھیلے ہوئے تھے ۔ اس کے عقب میں جانب ریلوے اسٹیشن کوئی آبادی نہ تھی بلکہ سفید ریت کا ایک چھوٹا سا صحراء تھا۔ ادھر آجائیں ، چھوئی روڈ کے ساتھ موجودہ کرسچین کالونی سے لیکر سڑک کے ساتھ ساتھ محلہ عید گاہ تک ، بیچ کا یہ علاقہ زرعی فارمز پہ مشتمل تھا جسے ہم اپنی زبان میں ” کھوہ ” کہتے ہیں ۔ کرسچین کالونی سے متصل پہلوان افضل خان مالک ناز ہوٹل کا کھوہ تھا ، اس سے آگے ملک امین اسلم آف شمس آباد کا کنواں اور تین اور کھوہ تھے ، جہاں سبزیاں اور دیگر اجناس اگائی جاتی تھیں ۔ اس طرح سے آخر میں محلہ عیدگاہ ایک الگ تھلگ آبادی تھی ، جہاں عیدگاہ اور ڈنگر ھسپتال انگریزوں نے تعمیر کرائے ۔ آخر میں بلدیہ کیمبل پور کی طرف سے انگریز دور میں منظور کیا گیا ، پہلا قبرستان ، جو ریلوے لائن پہ جاکر ختم ہوجاتا ہے ۔ ریلوے لائن کی پرلی طرف والا قبرستان بہت بعد میں قائم ہوا۔ شھر کا مشرقی حصہ یعنی محلہ مہر پورہ ، یہ آبادی بھی پرانی ہے ، ریلوے کی حدود کے ساتھ ساتھ ، کامرہ روڈ سے شروع ہوکر جانب مغرب ایک قطار کی شکل میں موجود تھی ۔اس سے آگے صرف زراعت فارم تھا جو آج بھی موجود ہے ، یہ شھر کی آخری آبادی تھی اس کے بعد کھیت کھلیان اور اجاڑ بیابان ۔کامرہ روڈ کے مغرب میں ریلوے لائین کے بعد بلدیہ کی محصول چونگی تھی جہاں باھر سے آنے والے مال اسباب اور سامان تجارت پہ محصول یا ٹیکس وصول کیا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ دوچار پرانے گھر تھے ، اس سے آگے اور پیچھے زرعی زمینیں ، جہاں گندم اور چنے کی فصلیں کاشت ہوتی تھیں ۔ سول ھسپتال ایوب خان کے دور میں تعمیر ہوئی اور شھر کے لوگ حکومت کو کوسنے دیتے تھے کہ کہاں جنگل میں شھر سے دور ھسپتال بنادی ۔کون جائیگا اتنے دور دواء لینے۔

    (جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک -2

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری

    پہلی قسط میں بات ریستورانوں تک پہنچی تھی جنھیں ہم پاکستان میں ھوٹل کہتے ہیں ۔جب ہم نے ہوش سنبھالا تو پاکستان کو بنے ابھی سات آٹھ برس ہوئے تھے ، ھندو آبادی کےکیمبل پور سے ھجرت کرجانے کے بعد ، ھندوستان سے ھجرت کرکے آنیوالے اردو اور پنجابی بولنے والے ہمارے بھائی بہن ، خاندان اور کنبے ، ھندو متروکہ املاک میں جلوہ گر تھے ۔ پرانے شھر کے اکثر بلاک ان ہی کے حصے میں آئے ۔ مقامی قبیلوں اور مہاجرین پہ مشتمل کیمبل پور ، آبادی کے تنوع میں قوس قزح کے رنگ لئے ہوئے تھا ۔ کیمبل پوری شلوار قمیص کے ساتھ ساتھ دکنی اسٹائل کے کھلے پونچے والے اور چوڑی دار پائجاموں میں ملبوس مرد و خواتین ، شھر کے حسن میں اضافے کا سبب بنے ۔ نسوار اور چلم (دیسی حقہ ) تو پہلے سے موجود تھے ، پان کے اضافے نے شھر کے گالوں میں سرخی بھردی ۔ فوارہ چوک میں جہاں اب اسٹینڈرڈ بیکری ہے ، یہاں کبھی چاچا الف دین کی دکان ، کلکتہ بوٹ ھاوس ، ہوا کرتا تھا ، جس کے باہر کونے میں کالو پان والے کی کھوکھا نماء دکان تھی ۔ شام ہوتے ہی صاحبان ذوق وھاں پان کھانے پہنچ جاتے تھے۔ ہمارے دوست اور معروف صحافی مرحوم اکبر یوسف زئی ، جو پان کے رسیاء تھے ، اگر کہیں نہ ملیں تو کالو پان والے کے پاس کھڑے مل جاتے تھے ۔ بازاروں کا حال کچھ اسطرح تھا کہ کمیٹی چوک سے فوارہ چوک اور پھر نیچے ناز ہوٹل کی طرف مڑ جائیں تو موجودہ ملا کنڈ کباب ھاوس تک ، بس یہی بازار تھا ۔ چوک فوارہ سے اوپر پلیڈر لائین کی سمت اور مغرب کی طرف چند دکانیں تھیں ۔ جامع مسجد کے پچھواڑے سے لیکر سیدھا آئیں تو گیدڑ موڑ تک اکا دکا چھوٹی موٹی دکان نظر آتی تھی ۔ بلال میڈیکل اسٹور سے ذرا اوپر، غالبا تقسیم ھند سے پہلے کا ایک حمام تھا اور اسی حمام کی نسبت سے اسے حمام روڈ پکارا جانے لگا ۔ اب شاید سرکاری طور پر اسے برق روڈ کہا جاتا ہے اور ایک مصروف بازار کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ جس جگہ بلال میڈیکل اسٹور ہے ، یہ کسی ھندو کی وسیع و عریض حویلی تھی اور بازار کی طرف دیوار میں سنگ مرمر کے ٹکڑے پہ مالک مکان کا نام ھندی میں کندہ نظر آتا تھا ۔ ھندوں کے چلے جانے کے بعد یہاں خواتین کے لئے دستکاری اسکول قائم ہوا جو ماضی قریب تک موجود رھا ۔ شھر میں چونکہ ھندوں کی اکثریت آباد تھی لھذا کئی ایک مندر بھی تعمیر کئے گئے ، جو تقسیم کے بعد اسکولوں اور مساجد میں تبدیل کردئے گئے ۔ مثال کے طور پر صرافہ بازار سے مغرب کو صدیقی روڈ پر ، جو ڈاک خانہ ہے ، یہ ھندوں کی دھرم شالہ تھی ، سول بازار میں شھر کی معروف جامع مسجد حنفیہ بھی ایک مندر کی عمارت میں قائم ہے ۔ مجھے اسے اس کے اصلی روپ میں دیکھنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ صحن تھا اور دو کمرے ، ایک کمرے میں وہ چبوترا قائم تھا کہ جس پر مورتیاں سجائی جاتی ہونگی ۔ اس سے قبل شھر میں ایک ہی جامع مسجد تھی ، مسلمانان ھند کے ورود کے بعد ، ان ہی کی کوششوں سے اس مندر کو حنفیہ مسجد میں تبدیل کیا گیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ جامع مسجد شروع سے دیوبندی مکتب فکر کے پاس تھی لھذا بریلوی خیال کے لوگوں نے جامع حنفیہ قائم کی اور وہاں کے پہلے خطیب کے طور پر ، استادی المکرم مرحوم قاضی زاھد الحسینی کے بڑے بھائی مرحوم قاضی انوارالحق کو مقرر کیا گیا ۔ ۔ آپ زندگی کے آخری ایام تک یہاں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ مرحوم اپنے بھائی کے برعکس بریلوی مکتب فکر کے بے پایاں عالم اور خطیب تھے ۔ حسن اتفاق سے جہاں اس مسجد کے بانی ھندوستان سے ھجرت کرکے آئے تھے وہیں ان کو ایک ایسا عالم مل گیا ، جس نے ساری عمر ریاست جوناگڑھ میں قاضی اور خطیب بن کر گزاری ۔ تعلق علاقہ چھچھ کے گاوں شمس آباد سے تھا مگر ھندوستان میں اتنا لمباعرصہ گزارا کہ زبان ، لباس اور چال ڈھال سب یوپی اور بہار کے رنگ میں ڈھل گیا ۔ وہی چوڑی دار پاجامہ ، ھلکے سلیٹی رنگ کی شیروانی ، سر پہ قراقل اور پاوں میں کولہا پوری نرم و گداز کھسہ ۔آگے چل کر علماء و مشائخ کے باب میں ان کا مزید ذکر ہوگا ۔ اس کے علاوہ سول بازار ہی میں مولے والی گلی میں ایک مندر تھا جہاں بعد میں پرائمری اسکول قائم ہوا اور اسے مندر والا اسکول کہا جاتا تھا ۔ ایک اور مندر اے بلاک میں تھا جہاں اب غالبا لڑکیوں کا اسکول ہے ۔ کچہری بازار میں باٹا کی دکان کے سامنے ایک گلی اوپر جاتی ہے ، آگے جائیں تو بہت بڑا چوک ہے ، اس کے دائیں ھاتھ پہ کونے والی عمارت دھرم شالہ تھی ۔ ان سب عمارتوں کو ہم نے ان کی اصلی ھندوانہ مذھبی شکلوں میں دیکھا ۔کیمبل پور کی اکثر عمارات ھندوں کی تعمیر کردہ تھیں جن سے ان کا ذوق تعمیر جھلکتا تھا ، بغیر پلستر کے اینٹوں سے بنے گھر ، چوبارے ، ڈیوڑیاں ، اینٹوں ہی سے بنے نقش و نگار ، جھروکے ، کوکے دار دروازے اور کھڑکیاں ، روشن دان ، دروازوں کے اوپر چراغ دان اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر گھر کی سیڑھی ، سلیٹی رنگ کے بڑے بڑے پتھر تراش کر بنائی جاتی تھی ۔ یوں تو شھر کی ہر عمارت فن تعمیر کا شاھکار تھی لیکن صرافہ بازار سے نیچے کی طرف جائیں تو معروف تولہ رام بلڈنگ ، جس کے سرخ رنگ کے برآمدے اور نقش و نگار آج بھی دعوت نظارہ دیتے نظر آتے ہیں ۔ میں تقریبا نصف صدی سے بیرون ملک آباد ہوں اور کئی ممالک گھوم چکا ہوں ، ایسا ذوق تعمیر بہت کم نظر آیا ۔ گزشتہ برس کوہ قاف کے دیس گیا تو وہاں کی قدیم عمارات میں ، اپنے شھر کی شبیہ نظر آئی ، اسقدر اپنائیت تھی کہ تین ماہ تک کوہ قاف کی گلیوں میں گھوم کر ان کے آرکیٹیکچر سے محظوظ ہوتا رہا ۔

    (جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک -1

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے وقت سر کولن کیمپبل ( Sir Colin Campbell) برطانوی افواج کے سربراہ تھے ، ان ہی کی سوچ اور منصوبے کے مطابق ، ھندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے یعنی موجودہ خیبر پختونخواہ سے اٹھنے والی شورشوں اور اس علاقے میں برطانوی مفادات کے تحفظ کے لئے ، تاریخی مقام اٹک اور دریائے اٹک ( سندھ) سے کچھ فاصلے پر ایک فوجی چھاونی قائم کی گئی ، جسے آج ہم آرٹلری سینٹر اور اس کی ملحقات کے نام سے جانتے ہیں ۔ چونکہ اس علاقے میں یہ ایک اہم آبادی تھی لھذا لینڈ مارک (ؒLand Mark)یا شناخت کی حیثیت اختیار کرگئی اور ہمارے بچپن تک ، ہم سے پہلی نسل کے افراد ( بزرگ ) کیمبل پور کو فقط ” چھاونی ” یا چھونڑیں کے نام سے پکارتے تھے ۔

    یہ بات یاد رکھیں کہ چھاونی بہت پہلے قائم ہوئی اور پھر 1908 کے لگ بھگ جانب مغرب ، ایک شھر کی بنیاد رکھی گئی ، جسے برطانوی فوجی کمانڈر سر کولن کیمبل کے نام کی مناسبت سے کیمبل پور کا نام دیا گیا ۔

    اس شھر کے نقشہ نویس Architect کا علم نہیں ، لیکن ، میں اسے داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جیومیٹری کی مدد سے سیدھی اور کشادہ گلیاں ، چھوٹے چھوٹے وارڈز ( محلے)، ہروارڈ کے بیچوں بیچ ایک کشادہ چوک اور اس کے عین وسط میں پانی کا کنواں ، یہی چوک اس زمانے میں مختلف سماجی تقریبات کے لئے استعمال ہوتے تھے ۔

    سیدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری – سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

    1970 میں ، بحیثیت طالب علم سال چہارم ، گورنمنٹ کالج کیمبل پور ، میرا ایک مضمون ، کالج کے مجلہ ” مشعل ” میں چھپا ، جس کا عنوان تھا ” کیمبل پور کا جغرافیہ ” ، یہ عنوان میں نے ، استاد محترم پروفیسر محمد انور جلال صاحب کی مشاورت سے ، پطرس بخاری کے مضمون

    ” لاھور کا جغرافیہ ” سے متاثر ہوکر منتخب کیا۔ چونکہ کیمبل پور اس وقت تک اپنی اصلی عمرانی حالت میں موجود تھا لھذا شھر اور گردونواع کی حقیقی تصویر میرے اس مضمون میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

    شھر کی گلیوں کو اس وقت کے معروف خشت ساز ، جوالا رام سنگھ، آف جسیاں ، کے بھٹے کی اینٹوں سے پختہ کیا گیا ۔ میں نے اپنے مضمون میں طنزا لکھا تھا کہ بلدیہ والے ، گلیوں کی مرمت کے نام پہ اینٹوں کی کروٹ بدل دیتے ہیں یعنی جب اینٹ گھس جاتی ہے تو سال دو سال بعد اسی کو الٹ کر لگادیتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا بچپن ، ٹانگہ ، ریڑھہ ، اونٹ گاڑی ، بیل گاڑی اور سائیکل کا زمانہ تھا ، موٹر کار اور موٹر سائیکل خال خال نظر آتی تھی ، ٹریکٹر ٹرالی ، سوذوکی ، ویگن اور چنچی کا جنم نہیں ہوا تھا پھر بھی ، شھر کا نقشہ بنانے والوں نے حادثات کی روک تھام کے لئے ، گلیوں کو یکطرفہ ٹریفک کے لئے ڈیزائن کیا ، ہر گلی کی ایک سمت پہ قریبی پہاڑیوں سے پتھر تراش کر چھوٹے چھوٹے ستونوں کی شکل میں گاڑ دئے گئے تاکہ پیدل افراد تو گزر سکیں لیکن کسی سواری کا گزر نہ ہوسکے ۔

    پلیڈر لائن سے شروع ہونے والا شھر چھوئی روڈ پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ چھوٹا سا شھر ، کم کم آبادی ، صاف ستھرا اور پرامن ماحول ، شروع سے آخر تک ایک ہی بازار جسے انگریز سول بازار کا نام دے گئے تھے ، سر شام بند ہوجاتا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ایک ایک ھائی اسکول ، ایک گورنمنٹ کالج جہاں ہمارے دور تک مخلوط تعلیم تھی ۔ چند پرائمری اسکول اور جہاں اب لڑکیوں کا کالج ہے کامل پور سیداں کے پاس ، یہ شھر کا پہلا سرکاری ھسپتال تھا ۔ موجودہ ڈسٹرکٹ ھیڈ کوارٹرز ھسپتال ہمارے بچپن میں تعمیر ہوا ۔

    کھیلوں کے لئے ایک وسیع میدان ” کرشنا گراونڈ ” کے نام سے موجود تھا ، جسے اب لالہ زار یا کسی اور نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ ھائی اسکول ( موجودہ پائیلٹ ) ، گورنمنٹ کالج کا گراونڈ اور ایک قیدی گراونڈ تھا جہاں آجکل لاری اڈے کے قریب جوڈیشیل کمپلیکس اور ٹیلیفون ایکسچینج ہے ۔ سیرو تفریح کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پہ کمپنی باغ تھا ( موجودہ جناح پارک ) متصل ڈپٹی کمشنر ھاوس ۔

    چھوئی روڈ کے جنوب میں شھر کا پہلا بجلی گھر تعمیر کیا گیا ، ہم نے ہوش سنبھالی تو یہ ادارہ سردار ممتاذ علی خان کی ملکیت میں تھا ، پرانے شھر کے علاوہ بجلی کی ترسیل کہیں نہ تھی لھذا ہم امین آباد اور ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کا لڑکپن لالٹین کی روشنی میں پروان چڑھا ۔ میرا ایک ہم جماعت

    محمد زمان قریشی سکنہ گل آباد حاجی شاہ ، جو آجکل اٹک کے نامور وکیل ہیں ، اور میں جب بی اے کے امتحان کی تیاری کررہے تھے توایک مشترکہ لالٹین جلاکر آس پاس بیٹھ جاتے اور رات بھر پڑھتے رہتے ۔

    ہمارے محلے امین آباد کے قریب ویرانے میں محلہ شاہ آباد کی حدود میں ھندووں کا شمشان گھاٹ تھا ، جہاں شھر کے آخری ھندو وکیل لالہ فقیر چند کا کریا کرم کیا گیا ۔

    مجھے یاد ہے لالہ فقیرچند ایڈووکیٹ نابینا تھے ۔ بار روم کے برآمدے میں ایک ستون کے قریب ھندو پگڑی باندھ کر بیٹھے نظر آتے ، ان کا منشی انہیں اخبار پڑھ کر سناتا اور وہ چپ چاپ سنتے رھتے ۔

    اخبار سے یاد آیا ، خزینہء علم و ادب ، کچہری روڈ پر اخبارات ، رسائل اور کتابوں کا مرکز تھا ۔ اس زمانے کے اخبار ، کوھستان ، امروز ، نوائے وقت اور تعمیر نمایاں تھے ، بعد میں جنگ اور مشرق اس قافلے میں شامل ہوگئے ۔ جو لوگ اخبار خرید کر نہیں پڑھ سکتے تھے ان کے لئے بلدیہ کی لائیبریری میں اخبار مہیاء کئے جاتے تھے ۔

    معروف ریستورانوں میں ماسٹر فضل دین کا ھمدرد ، یہ اٹک کا پاک ٹی ھاوس تھا جہاں شاعر اور ادیب جمع ہوتے تھے ، چوک کے اندر تاج اور حبیب معروف ریستوران تھے ۔

    (جاری ہے )

  • سعادت حسن آسؔ- اٹک کا درویش نعت گو

    سعادت حسن آسؔ صاحب سے میری پہلی ملاقات کچھ سال قبل 13 رجب کی ایک محفل میں ہوئی۔ میں کچھ تاخیر سے اُس مجلس میں پہنچا تھا، اس لیے خاموشی سے جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا۔شناساؤں میں کچھ نئے چہرے بھی تھے جن میں سے ایک آس صاحب بھی تھے۔ انہیں پہلی نظر دیکھ کر مجھے قطعا اندازہ نہ ہوا کہ یہ شاعر ہیں بلکہ میں انہیں کوئی درویش سمجھتا رہا تاوقتیکہ انہیں دعوت کلام دی گئی۔ لیکن جب تعارف ہوا اور اس کے بعد مزید ملاقاتیں ہوئیں تو مجھے یقین ہوگیا کہ میرا گمان درست تھا، آس صاحب واقعی درویش صفت اور صوفی منش انسان ہیں۔ میں نے اس دور میں ایسے نفیس اور عاجز طبع لوگ بہت ہی کم دیکھے ہیں ، ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم اور سعادت صاحب انہی میں سے ایک ہیں۔

    سعادت حسن آس
    سعادت حسن آسؔ

    سعادت حسن آسؔ 15 اکتوبر 1952ء کو اٹک شہر (کیمبل پور) کی ریلوے کالونی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیر محمد ریلوے میں گینگ میٹ تھے۔ آس صاحب کے اجداد کا تعلق گاؤں گگن تحصیل فتح جنگ سے ہے آپ کے دادا 1922ء میں اٹک آ کر آباد ہوگئے تھے۔
    والدین کا سایہ انتہائی بچپن میں سر سے اُٹھ گیا تو آپ کی پرورش کی ذمہ داری بڑی بہن نے اُٹھا لی۔ اُن کے خاوند آرمی میڈیکل کور میں صوبیدار تھے، اور اس وقت بنوں خیبر پختونخواہ میں تعینات تھے۔ آس صاحب نے ابتدائی تعلیم بنوں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی پھر چھٹی جماعت میں پائیلیٹ اسکول اٹک میں داخل ہوئے اور یہیں سے میٹرک کیا۔ 1973ء میں ریلوے کی ملازمت اختیار کی اور دوران ملازمت ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ 1979ء میں ریلوے کی نوکری چھوڑ کر واپڈا میں بھرتی ہوگئے اور واپڈا سے ہی ریٹائر ہوئے۔

    سعادت حسن آس
    سعادت حسن آس، مونس رضا صاحب کے پاس محو مطالعہ

    آس صاحب پیدائشی شاعر ہیں انہوں نے انتہائی بچپن میں شعر کہنا شروع کردیا تھا اور 1968-1969ء سے باقاعدہ شعر کہنے اور کلام لکھنے لگے۔ انہیں اُس دور کے نامور اہل قلم کی صحبت حاصل رہی جن میں نذر صابری، رفیق بخاری، حافظ مسکین،حکیم حیدر واسطی اور دیگر ادبی شخصیات شامل تھیں۔ 1986ء میں آس صاحب کا تبادلہ راولپنڈی ہوگیا ، اس شہر کی ادبی محافل میں آپ کو رشید نثار، پروفیسر کرم حیدری، منور ہاشمی اور سیّد ضمیر جعفری جیسے بڑے ادیبوں کے ساتھ نشست کا موقع ملا۔

    آسؔ صاحب کے فن کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ان کے ابتک 9 مجموعہ ہائے کلام اشاعت آشنا ہوچکے ہیں جو بہر حال ان کے شاعرانہ وصف کا اظہار ہیں لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مدحِ خیرالوریٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی شاعری کا پہلا، مکمل اور مستند حوالہ ہے۔ آس صاحب کی نعت گوئی سے ہی میں ان کی شاعرانہ صفت اور ادبی قد سے واقف ہوا۔ اور نصف صدی سے نعت کہتے ہوئے اس کا اقرار وہ ان الفاظ میں خود بھی کررہے ہیں۔

    ؀ سخنوروں میں اگر ہے شمار، آپؐ سے ہے

    اس عہد کم ظرف میں جب کہ شعر کی تفہیم اور شاعر کی تکریم کے معانی ہی بدل چکے ہیں ؛ غیر معیاری اور بازاری ادب تخلیق ہورہا ہے۔ آسؔ صاحب نعت مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جس جذبے، عقیدت اور عشق سے فروغ دے رہے ہیں وہ لائق تحسین ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔  وہ جذب و کیف میں نعت کہتے ہوئے عشق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اعلی منازل پر نظر آتے ہیں۔

    آسؔ صاحب کے نو مجموعہ کلام اشاعت آشنا ہوچکے ہیں
    1.آقا ہمارے 1982ء
    2.آس کے پھول 1990ء
    3.آدھا سورج 1996ء
    4.آسمان 2006ء
    5.آواز 2010ء
    6.آس 2017ء
    7.آپ بہت یاد آئے 2018ء
    8.آیات عجائب 2019ء
    9.آپؐ سا کون ہے 2020ء
    ان میں سے چھ نعتیہ ہیں۔

    اہل علم و صاحبان قلم نے بھی آپ کی پذیرائی خوب کی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ظہیر احمد صاحب نے “سعادت حسن آسؔ کی شاعری کا فنی اور فکری جائزہ” مقالہ لکھ کر ایم فل کیا جب کہ ایم فل کا ہی ایک اور مقالہ سعادت حسن آسؔ کا فن نادرن یونیورسٹی میں جمع کروایا گیا ہے۔

    جب ان کا نعتیہ مجموعہ “ آپؐ سا کوئی نہیں “ زیر طبع تھا تو انہوں نے مجھ سے پس ورق لکھنے کی فرمائش کی جو میں نے بصد ادب پوری کی۔ میرے لیے اعزاز کا مقام ہے کہ مدحِ شاہِ اُمم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مجموعہ “ آپؐ سا کوئی نہیں” کے پس ورق پر ہمیشہ موجود رہوں۔

    ؀ خوشبوُ کی کہانی میں میرا نام تو آیا

    آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری
    14 ربیع الآخر 1442 ھ

  • ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد

    ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد

    ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد

    اٹک کے ادبی افق پر تیز روشنی کا ستارہ؛تقریر و تحریر،نظم ونثر،تنقید و تخلیق ، ہر میدان میں بہت ثروت مند ہیں‘‘اصل نام ارشد محمود ہے،”ناشاد” تخلص ہے لیکن ایک جگہ لکھتے ہیں” غزل میں بطور تخلص اس کا استعمال اب میں تقریباََ چھوڑ چکا ہوں”یکم جنوری1970ء میں تحصیل پنڈی گھیب  کے گاؤں ڈومیال میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔والد کا نام اصغر علی ہے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی؛لیکن ’’سیماب پائی کے باعث ثانوی تعلیم تک کئی ادارے تبدیل کیے ‘‘ 1986ء میں ایف جی بوائز ہائی سکول اٹک کینٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا؛بعدازآں گورنمنٹ کالج اٹک میں داخلہ لیا اور1988ء میں ایف اے میں کامیاب ہوئے؛اسی کالج سے1991ء میں بی اے میں سر خ رو ہوئے۔1993ء میں پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے اردو اور1995ء میں ایم اے پنجابی کے امتحانات یکے بعد دیگرے پاس کیے۔2006ء میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی نگرانی میں ’’اردو غزل کا تکنیکی ،ہیئتی اور عروضی سفر ‘‘کے موضوع پر مقالہ لکھا اور پنجاب یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔1994ء میں اورینٹل ڈگری کالج اٹک سے ملازمتی زندگی کا آغاز کیا۔کچھ عرصہ پی اے سی کامرہ میں ایم او ڈی سی کور کے جوانوں کو پڑھاتے رہے۔ 1996ء میں پاکستان انٹر نیشنل پبلک سکول اینڈ کالج گوجرانوالہ میں استاد شعبۂ اردو مقرر ہوئے۔مارچ 1997ء میں گورنمنٹ کالج آف کامرس میں تعینات کیے گئے۔2007 میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو سے منسلک ہوئے۔1985ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا اوربزرگ شاعر اصغر بریلوی سے اصلاح لینے لگے۔بہت جلد اپنے جداگانہ اسلوب کی وجہ سےاٹک کے اساتذۂ فن کی توجہ حاصل کر لی۔شروع شروع میں شعر گوئی کے ساتھ ساتھ سخت گیر ناقد کے طور پر بھی شہرت حاصل کی بعد ازآں تحقیق کی طرف رجحان زیادہ ہو گیا۔علاقائی سطح کے علمی کام تو منظرِ عام پر آتے رہے لیکن ضلع اٹک کے لیے خلوصِ نیت سےعلمی کام کرنے کی بنیاد ارشد محمود ناشاد نے رکھی۔ضلع بھر کے تاریخی مقامات کی تصاویرلیں اور انھیں اپنے پاس محفوظ کر لیا،ضلع کے تاریخی مقامات کی اتنی تصاویر شاید ہی کسی کے پاس ہوں گی۔اصغر بریلوی کے بعد آپ نے غیر اعلانیہ طور پرنذر صابری کے سامنےزانوئے تلمذ تہہ کیا،نذر صابری کی صحبت ، تربیت،اعتماد اور حوصلہ افزائی نےان کی صلاحیتوں کوجلا ملی؛ان کی تنظیموں’’ محفل شعر و ادب اورمجلس نوادرات علمیہ کے اجلاسوں میں شرکت کے باعث ادب کا ذوق نکھرا‘‘۔اس کے بعدشہرت اورترقی کے مدارج یوں طے کیے کہ معجزہ معلوم ہوتا ہے۔محنت پر یقین نہ کرنے والوں کے لیے آپ مثال ہیں۔اردو اور پنجابی زبان میں لکھتے ہیں۔آغازِ سفر میں یوں دکھائی دیتا تھا کہ آپ پنجابی زبان و ادب کی طرف جائیں گے لیکن بعد ازآں آپ کا رجحان اردو زبان کی طرف دکھائی دیا۔1994ء میں قلم قافلہ، کھاریاں نے غزل ایوارڈ سے نوازا۔الاقربا فائونڈیشن ،اسلام آباد نے شاعری پر2004ء میں’’نشانِ سپاس‘‘عطا کیا۔’’آپنا گراں ہووے‘‘پر مسعود کھدر پوش ایوارڈ حاصل کیا۔ عروض پر کامل دست گاہ حاصل ہے۔1990میں پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی؛اس کے علاوہ پاکستان رائٹر گلڈلاہور،مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک،اقبال اکادمی پاکستان لاہور کے رکن ہیں۔رسالہ ’’پنجابی ادب،اٹک نمبر‘‘کی ادارت کی۔ماہ نامہ "اسلوب اٹک”کے ادبی حصے کی ادارت بھی کی،

    ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد
    ڈاکٹرارشد محمود ناشاد

    "آنکھوں دیکھا”ا خبار کے ادبی گوشہ بھی مرتب کرتے رہے۔ گورنمنٹ کالج آف کامرس کے مجلے’’امکان‘‘کے پہلے مدیر ہونے کا اعزاز حاصل ہےنیز ’’امکان ‘‘کا اجرا آپ کی مسلسل کوشش کا منت پذیر ہے ۔۔’’سرمد اکادمی‘‘کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بھی ان کی ملکیت ہے۔

     تصانیف و تالیفات:

    آغوشِ گل (شاعری) ، مقالاتِ برق(ترتیب)، ابھی تک تم نہیں سمجھے(شاعری) ، ضلع اٹک دے پنجابی شاعر(تحقیق) ، اشلوک(ترجمہ)،اٹک کے اہلِ قلم(تحقیق)،یاد گار احمد بخش برننگ،چھاچھی بولی(تحقیق)،آفتاب ِسر ہند،اردو غزل کا تکنیکی ،ہیئتی اور عروضی سفر ( تحقیق ) ، مکاتیب ِ رشید حسن خاں بنام رفیع الدین ہاشمی ،مکاتیبِ آرزو بہ نام ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی،رنگ ( شاعری:اس مجموعے کا ابتدائی نام ’’ اجما ل ‘‘تھا)،اپنا گراں ہووے(تحقیق)،تذکرۂ علما(تحقیق)،اطرافِ تحقیق (تحقیق)،بادہ ٔ ناخوردہ ،انتخاب کلیاتِ میر ،کتاب نامہ (مثنوی)،جادۂ تحقیق (تحقیق)  ،کتب خانہ مولانا محمد علی مکھڈی دے پنجابی خطی نسخے، شاہ نصیر:ترتیب و تعارف،تدریسِ علومِ شعریہ(تدوین) ،وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

    حوالے:

    (1)۔نذر صابری،ارمغانِ اتک بحضور سیدِ لولاکﷺ،محفل شعرو ادب ، اٹک ، 009،ص192

    (2)ارشد محمود ناشاد،خط،مشمولہ:صحیفہ،لاہورجنوری تا جون2017،،مجلس ترقیِ ادب،ص463

    (3)ارشد محمود ناشاد،اٹک کے اہلِ قلم،پنجابی ادبی سنگت، اٹک، جون 2000، ص 108

    (4)ارشد محمود ناشاد،اٹک کے اہلِ قلم،پنجابی ادبی سنگت، اٹک، جون 2000، ص 108

    ماخذات:

    (1)۔ارشد محمود ناشاد،ضلع اٹک دے پنجابی شاعر،پنجابی ادبی سنگت ، اٹک ، 1995، ص  92

    (2)۔ارشد سیماب ملک،تذکرہ،قندیل ادب،اٹک،اکتوبر2012،ص208

    (3)۔اہل قلم ڈائریکٹری،اکادمی ادبیات اسلام آباد،2008،ص23

    (4)۔ارشد محمود ناشاد،اٹک کے اہلِ قلم،پنجابی ادبی سنگت، اٹک، جون 2000، ص 108

    (5)۔نذر صابری،ارمغانِ اتک بحضور سیدِ لولاکﷺ،محفل شعرو ادب ، اٹک ، 2009،ص192

    nusrat bukhari

    پروفیسر نصرت بخاری

    مدیر اعلی