سردار سلیم حیدر خان: گورنر پنجاب کے منصب پر ایک درویش منش خدمت گار
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
عوامی خدمت کا جذبہ جب کسی صاحبِ منصب کے عمل سے ظاہر ہو تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی جانب سے ضلع اٹک میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے لیے 10 ایکڑ اراضی عطیہ کرنے کا اعلان بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اعلان 27 اکتوبر 2026ء کو لاہور میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی آٹھویں دو سالہ کانفرنس کی اختتامی تقریب میں کیا گیا۔ مجوزہ ہسپتال کا مقصد اٹک اور گردونواح کے عوام کو معیاری طبی سہولیات، بالخصوص مفت علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ غریب اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ صحت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اگر یہ منصوبہ مطلوبہ وسائل اور سہولیات کے ساتھ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو علاقے کے عوام کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔ اراضی عطیہ کرنے کا یہ اعلان اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی خدمت صرف مسائل سننے تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
پنجاب محض ایک صوبے کا نام نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، ثقافت، روایات اور محبتوں کی سرزمین ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس صوبے کی سیاسی اور انتظامی تاریخ میں گورنر کا منصب خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس منصب پر مختلف ادوار میں نامور سیاسی، سماجی اور عسکری شخصیات فائز رہیں، جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں صوبے کے معاملات چلائے اور عوامی خدمت میں اپنا کردار ادا کیا۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے بعد پنجاب میں گورنر کا عہدہ قائم ہوا۔ سر فرانسس موڈی پنجاب کے پہلے گورنر مقرر ہوئے۔ ان کے بعد سردار عبدالرب نشتر، ابراہیم اسماعیل چندریگر، میاں امین الدین، حبیب ابراہیم رحمت اللہ اور نواب مشتاق احمد گورمانی نے اس منصب پر ذمہ داریاں ادا کیں۔ 1955ء میں ون یونٹ کے نفاذ کے باعث پنجاب کی الگ صوبائی حیثیت ختم ہوگئی، تاہم یکم جولائی 1970ء کو ون یونٹ کے خاتمے کے بعد پنجاب دوبارہ ایک الگ صوبے کی حیثیت سے بحال ہوا۔ اس کے بعد پنجاب کے گورنر رہنے والی شخصیات میں لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمٰن، غلام مصطفیٰ کھر، صادق حسین قریشی، نواب محمد عباس عباسی، اسلم ریاض حسین، لیفٹیننٹ جنرل سوار خان، لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان، سجاد حسین قریشی، جنرل ٹکا خان، میاں محمد اظہر، چوہدری الطاف حسین، جنرل اقبال خان، راجہ سروپ خان، خواجہ طارق رحیم، شاہد حامد، سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ، لیفٹیننٹ جنرل محمد صفدر، لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول، سلمان تاثیر، لطیف کھوسہ، سید احمد محمود، چوہدری محمد سرور، ملک محمد رفیق رجوانہ، عمر سرفراز چیمہ اور محمد بلیغ الرحمٰن شامل ہیں۔ ان تمام شخصیات نے اپنے اپنے دور کے حالات اور تقاضوں کے مطابق اس منصب کی ذمہ داریاں ادا کیں۔
تاہم بعض لوگ اپنے عہدے سے بڑھ کر اپنے طرزِ زندگی، سادگی اور عوام سے قربت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ سردار سلیم حیدر خان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو بھی یہی ہے۔ سردار سلیم حیدر خان کا تعلق ضلع اٹک کے علاقے فتح جنگ سے ہے۔ ان کا سیاسی سفر طالب علمی کے زمانے میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (MSF) سے شروع ہوا، جہاں وہ تین مرتبہ صدر منتخب ہوئے۔ 1997ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔ 2002ء میں یونین کونسل کے ناظم منتخب ہوئے اور 2008ء میں رکن قومی اسمبلی بنے۔ بعدازاں وفاقی وزیر مملکت برائے دفاعی پیداوار اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی سمیت اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔ طویل سیاسی جدوجہد، پارٹی سے وابستگی اور عوامی رابطوں کے سفر کے بعد 10 مئی 2024ء کو گورنر پنجاب کے منصب کا حلف اٹھایا۔ یوں فتح جنگ کی مٹی سے اٹھنے والا ایک سیاسی کارکن پنجاب کے اہم ترین آئینی منصب تک پہنچا۔
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو سادگی، عاجزی اور درویشانہ طبیعت ہے۔ عمرے اور زیارات کا شوق، ہاتھ میں تسبیح، لبوں پر ورد و وظائف اور مزاج میں ملنگی کا رنگ ان کی شخصیت کو ایک منفرد پہچان دیتا ہے۔ بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے بعد اکثر لوگوں کے گرد پروٹوکول اور رسمی آداب کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں، لیکن سردار سلیم حیدر خان کے بارے میں یہ تاثر ملتا ہے کہ انہوں نے عام آدمی سے اپنا تعلق برقرار رکھا ہے۔ گورنر ہاؤس میں آنے والے لوگوں سے محبت سے ملنا، انہیں اپنے ساتھ بٹھانا، کھانے میں شریک کرنا اور ان کی بات توجہ سے سننا ان کے عوامی رویے کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کے مسائل سننا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ان کی داد رسی کے لیے ہدایات دینا بھی اسی طرزِ عمل کا حصہ ہے۔ ایک عام شہری کے لیے یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ کسی بڑے عہدے پر بیٹھا شخص اس کی بات سنے، اس کے مسئلے کو سمجھے اور اسے عزت و احترام دے۔ بعض اوقات کسی پریشان حال انسان کی فریاد سن لینا بھی اس کے لیے بڑی دل جوئی کا باعث بن جاتا ہے۔
رمضان المبارک میں گورنر ہاؤس کے ملازمین کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کرنا اور گورنر کیمپ آفس میں چٹائیاں بچھا کر اپنے اسٹاف کے ہمراہ زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول کرنا ان کی سادگی اور انکساری کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ یہ رویہ اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ عہدہ اور مرتبہ اپنی جگہ، مگر انسان کی اصل خوبصورتی دوسروں کے ساتھ اس کے برتاؤ میں ہوتی ہے۔ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو عزت دینا، ان کے ساتھ بیٹھنا اور اپنائیت کا اظہار کرنا بھی خدمتِ خلق ہی کا ایک انداز ہے۔
سردار سلیم حیدر خان کی شخصیت کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو ان کا عوامی مزاج ہے۔ فتح جنگ کے چھپر ہوٹل پر عام لوگوں کے درمیان بیٹھنے، ان کی باتیں سننے اور ان کے ساتھ بے تکلفی سے ملنے والا شخص جب گورنر ہاؤس پہنچ کر بھی اسی انداز کو برقرار رکھے تو یہ اس کے اپنے لوگوں سے تعلق کی ایک خوبصورت تصویر بن جاتی ہے۔ وقت بدلا، ذمہ داریاں بڑھیں اور منصب تبدیل ہوا، مگر ان کے مزاج میں وہی سادگی اور اپنائیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کے طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گورنر بننے کے بعد بھی انہوں نے خود کو عام لوگوں سے الگ نہیں کیا۔ یہی عوامی وابستگی ان کی شخصیت کا ایک اہم حوالہ ہے۔
گورنر ہاؤس ایک تاریخی عمارت اور صوبے کے اہم آئینی منصب کا مرکز ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت تب بڑھتی ہے جب عام شہری بھی وہاں اپنی بات پہنچا سکے۔ کسی غریب، بے سہارا یا پریشان حال شخص کے لیے یہ احساس بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی فریاد سننے والا کوئی موجود ہے۔ سردار سلیم حیدر خان کے ہاں عوام سے ملاقات، ان کے مسائل سننے اور متعلقہ اداروں تک ان کی آواز پہنچانے کی روایت اسی تصور کو آگے بڑھاتی ہے کہ سرکاری منصب عوام سے دوری کا نہیں بلکہ ان کی خدمت کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
پنجاب کی سیاسی تاریخ میں مختلف ادوار کے گورنروں نے اپنے اپنے انداز میں ذمہ داریاں ادا کیں۔ سردار سلیم حیدر خان کی شخصیت کا نمایاں حوالہ ان کی سیاسی جدوجہد کے ساتھ سادہ طرزِ زندگی، درویشانہ مزاج اور عام آدمی سے قربت ہے۔ ان کے لیے یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ ایک عام شہری اپنے مسائل لے کر گورنر ہاؤس آئے تو اسے عزت سے سنا جائے اور اس کی ممکنہ مدد کی جائے۔ یہی رویہ کسی بھی عوامی منصب کو لوگوں کے لیے قابلِ احترام بناتا ہے۔
منصب انسان کو پہچان دیتا ہے، مگر انسان کا کردار منصب کو پہچان دیتا ہے۔ ہاتھ میں تسبیح، چہرے پر مسکراہٹ، طبیعت میں درویشی اور دل میں عام آدمی کے لیے جگہ رکھنے والا یہ انداز سردار سلیم حیدر خان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جسے ان کے عہدے سے ہٹ کر بھی یاد رکھا جا سکتا ہے۔ آخرکار کسی بڑے عہدے کی اصل خوبصورتی پروٹوکول اور اختیار میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کے دروازے عام آدمی کے لیے کتنے کھلے ہیں اور اس کی آواز سننے والا کتنا قریب ہے۔ فتح جنگ کے چھپر ہوٹل سے گورنر ہاؤس تک کا سفر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ منصب بدل سکتا ہے، مقام بدل سکتا ہے، مگر انسان کی اصل پہچان اس کا کردار اور اپنے لوگوں سے تعلق ہوتا ہے۔ جو شخص بڑے عہدے پر پہنچ کر بھی اپنے لوگوں کے درمیان بیٹھنا، ان کے دکھ درد بانٹنا اور غریب کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا نہ بھولے، وہ اپنے کردار سے منصب کو وقار عطا کرتا ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔