کراچی کا بازار حسن ( Red Light Area of Karachi)

( اس سلسلے کا یہ پہلا مضمون ہے جس کا پلاٹ  بی بی سی اردو سے لیا گیا ۔ آئندہ کا موضوع

” ھیرا منڈی  لاھور تاریخ کے آئینے میں ”  زیر تحقیق ہے )

کراچی کی نیپیئر روڈ کے قحبہ خانے اور کوٹھے کیسے اجڑے؟

تلخیص و پیشکش :

سیدزادہ سخاوت بخاری

عید کا دن تھا کچھ نوجوان کراچی کے نیپیئر روڈ کے بازارمیں کھڑے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ چار خوبصورت لڑکیاں انتہائی چست لباس میں سڑک پار کر رہی ہیں جن میں سے ایک نے سرپر دوپٹہ جما رکھا ہے۔ نیپیئر روڈ پر ایسا نظارہ تو معمول کی بات تھی لیکن اتنی دلچسپی کیوں؟ اصل بات یہ تھی کہ ان لڑکیوں میں سے جس نے سر پر دوپٹہ جما رکھا تھا وہ اداکارہ بابرہ شریف تھیں جو اپنی خالہ سے عید ملنے آئی تھیں۔

بابرہ شریف
بابرہ شریف

کراچی کا نیپیئر روڈ شہر کا قدیم بازار حسن یا ریڈ لائٹ ایریا تھا۔

 ’اس دشت میں اک شہر تھا‘

کے مصنف ، اقبال رحمان مانڈویا  لکھتے ہیں کہ بابرہ شریف فلموں میں کامیاب ہو کر لاہور منتقل ہونے سے قبل اسی نیپیئر روڈ پر واقع شمشاد منزل کی دوسری منزل پر رہتی اور کام کرتی تھیں۔

نیپیئر روڈ پر خستہ حالت عمارتیں اور بالکونیوں یہاں کئی بہاریں دیکھ کر اب بیوگی کا لباس تن کیے ہوئے ہیں جہاں کئی کہانیوں نے جنم لیا اور وہیں دفن ہو گئیں۔ اس محلے کے در و دیوار میں کئی ایسے راز ہیں جو کبھی دہلیز کی دوسری طرف نہیں گئے۔

میں جب اس نیپیئر روڈ پر پہنچا تو ہر کوئی اس کو قصہ ماضی سمجھ کر بھول چکا تھا یا لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آیا۔ بالآخر سفید ٹوپی پہنے ہوئے ایک بزرگ شخص نے موجودگی کی وجہ پوچھی اور بے اختیار ان کے منھ سے ’ہائے رے‘ کے الفاظ نکلے۔

فہیم (فرضی نام) نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سامنے جو عمارت ہے یہاں بابرہ شریف رہتی تھیں اس کے بعد مختلف عمارتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں فردوس، وہاں زیبا اور نجمہ رہتی تھیں۔

’اب تو یہ موچی بازار بنا ہوا ہے نہ تو کوئی بائی رہی نہ ہی کوئی خان صاب، یہ بازار اجڑ چکا ہے۔‘

بازار حسن کا قیام

برصغیر یعنی موجودہ انڈیا اور پاکستان میں بازار حسن کی روائت قدیم ہے۔ رخسانہ افتخار

جنرل آف دی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان  ،میں اپنے مقالے

’کلونیئل ڈیزائر اورینٹ بیوٹی‘

میں لکھتی ہیں کہ برطانوی فوجیوں میں جنسی امراض کے بعد 1864 میں جنسی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کا قانون آیا جس میں ترامیم ہوتی رہیں۔ اس قانون کے تحت جسم فروشی کو قانونی حیثیت اور تحفظ حاصل ہوا۔

اس قانون کے تحت برطانیہ کے زیر انتظام انڈیا میں کنٹونمنٹ ایریاز میں مخصوص جگہوں پر ریڈ لائیٹ ایریا یا قحبہ خانوں کے قیام کے اجازت نامے جاری کیے گئے۔

کراچی کا بازار حسن ( Red Light Area of Karachi)
Red Light Area of Karachi کراچی کا بازار حسن

رخسانہ افتخار کے مطابق اس دھندے میں ملوث خواتین کے جسمانی معائنے اور پولیس کو کسی جسمانی بیماری کا شکار خواتین کی گرفتاری کا بھی اختیار دیا گیا، اس قانون کا مقصد برطانوی فوج کے سپاہیوں کو سہولت فراہم کرنا تھا جو اپنے ملک سے دور دراز کے علاقوں میں تعینات تھے۔

اس تحقیقی مقالے سے فحاشی کے اڈوں میں یورپی خواتین کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے، جس کے مطابق 1910 میں 300 سے 350 یورپی خواتین جسم فروشی کے کاروبار میں شامل تھیں۔ کلکتہ، بمبئی، رنگون، کچھ تعداد میں کراچی میں وہ اپنے دلالوں کے ذریعے یہ کاروبار چلاتی تھیں۔

عالمی جنگیں اور کراچی کی معشیت

جنگ عظیم اول اور دوئم کے کراچی کی معشیت پر مثبت نتائج مرتب ہوئے اور یہاں پیسے کی ریل پیل ہوئی، ’کراچی ملکہ مشرق‘

کی مصنفہ محمودہ رضویہ لکھتی ہیں کہ ’1914 میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی اور کراچی کو فوجی نقل و حرکت کا مرکز قرار دیا گیا۔

یہاں سےافواج خلیج فارس اور عراق میں آسانی سے پہنچ سکتی تھیں، یہاں ہر قسم کی جنگی ضروریات کے تحت ادارے اور دفاتر کھولے گئے جس کے باعث کراچی کی آبادی پچاس فیصد تک بڑھ گئی۔ مکانات اور دکانوں کی قلت ہونے لگی کئی عمارتیں بنیں، جنگ کے چار برس کے دوران  یہاں کے تاجروں نے لاکھوں روپے کمائے۔‘

اس دور میں راجستھان، ممبئی اور گوا سے سیلاوٹ ،  پارسی اور گونز کمیونٹی کے لوگ یہاں نقل مکانی کر کے آئے اور یہاں کی معشیت میں مددگار ثابت ہوئے۔

نیپیئر روڈ کا حسن

سر چارلس نیپیئر کی سربراہی میں تاج برطانیہ نے سندھ پر قبضہ کیا تھا۔ انھوں نے ہی سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد سے کراچی منتقل کیا، بندر روڈ سے لی مارکیٹ تک کی سڑک ان کے نام سے منسوب کی گئی تھی۔

نیپیئر روڈ کا حسن
نیپیئر روڈ کا حسن

کراچی میونسپل نے نیپیئر روڈ کا ریڈ لائٹ ایریا کے لیے کیوں انتخاب کیا؟ اس سوال کے جواب میں

’اس دشت میں اک شہر تھا‘

کے مصنف ، اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ اس بازار کے گاہک مسافر ہوتے ہیں یہ علاقہ بندرگاہ سے نزدیک تر ہونے کی بنا پر شپ کریو اور غیر ملکی مسافروں کے لیے پرکشش تھا، اسی طرح سٹی ریلوے سیشن سے نزدیک تر ہونے کے باعث یہ علاقہ،اندرون ملک کے مسافروں کے لیے بھی پسندیدہ تھا۔

بلوچستان و ایران سے آنے والی بسوں کا اڈہ بھی نزدیک تھا اسی سبب اطراف میں بے شمار رہائشی ہوٹل تھے یوں یہ علاقہ بازار حسن کے لیے مناسب قرار پایا۔

تمام تر قانونی تحفظ کے ساتھ یہ بازار حسن بھی ہندوستان میں قدیم زمانے سے فن، آداب اور روایات کے سائے تلے پروان چڑھا جہاں رقص اور موسیقی کی دنیا پوری آب و تاب سے قائم ہوئی اور ساتھ قحبہ خانے بھی چلے۔

بازار حسن، فلمی صنعت کی نرسری

قیام پاکستان کے بعد نیپیئر روڈ سمیت کئی بازار حسن نومولود اسلامی ریاست کو ورثے میں ملے۔ ’اس دشت میں اک شہر تھا‘  کے مصنف اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ کبھی ان کی سرپرستی اس دور کے نواب اور راجہ کرتے تھے مگر قیام پاکستان کے بعد جب نوابوں اور راجاؤں کی راج دہانیاں ختم ہو گئیں تو نیپیئر روڈ کا علاقہ کراچی میں بننے والی فلموں کے لیے فنکار تیار کرنے کی نرسری بن گیا۔

رانی اور بندیا- ماضی کی معروف اداکارائیں
رانی اور بندیا- ماضی کی معروف اداکارائیں

یہاں قحبہ خانے اور کوٹھے مختلف معیار کے تھے، تماش بین  جس قدر مہذب اور خوش زوق تھے اسی اعتبار سے یہاں مختلف کوٹھوں پر مجرا ہوتا تھا۔

جب سرشام اطراف کی مارکیٹیں بند ہونے کی تیاری میں ہوتیں تو یہاں زندگی میں بیداری کی لہر آتی اور بالا خانوں سے آتی گھنگھروں کی چھنا چھن کا ہلکا پھلکا آغاز ہوتا اور جوں جوں چاند بلند ہوتا اس مارکیٹ کی رونق کو ایک کے بعد ایک چاند لگتا جاتا۔

گھنگھروں کی چھنا چھن بڑھتی، بالکونیوں کے در کھلتے اور مجرے سے قبل کی ریہرسل شروع ہو جاتی جو دراصل تماش بینوں کو متوجہ کرنے کا ایک انداز ہوتا، کہیں کہیں رقاصہ رقص کرتی گھنگھروں کی چھنا چھن بکھیرتی بالکونی میں آ جاتی۔

گھنگرو اور مجرا
گھنگرو اور مجرا

ہار، گجرے اور کرارے نوٹ

نیپیئر روڈ پر اس وقت چپلوں، چینی دندان ساز، حکمت کی دواؤں سمیت متعدد دکانیں ہیں، ایک قدیم پان شاپ والے احمد (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ یہاں میوزک سینٹر اور گھڑیوں کی دکانیں بھی ہوتی تھیں، بازار کی خواتین کلائی پر گھڑیاں پسند کرتی تھیں۔

اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ ’رات دس بجے تک پورا علاقہ روشنی کی چکا چوند سے جگمگانے لگتا، ہار گجرے کی دکانیں اور ہاتھ میں مالا بیچتے لڑکے سب فعال ہو جاتے۔‘

یہ سارا تماشہ روپے پیسے سے منسلک ہوتا لہذا اس بازار کی ایک روایت بڑی دلچسپ ہے۔

مجرے میں جو بھی رقم نذر یا نچھاور کی جاتی وہ ہمیشہ نئے کرارے نوٹ کی صورت میں ہوتی، جو یہاں کے مستقل شائق ہوتے وہ نئے کرارے نوٹوں کا انتظام کر کے آتے اور جو نہ کر پاتے ان کے لیے بازار ہی میں پھولوں اور گجرے والوں کے پاس نئے نوٹ دستیاب ہوتے، آخری حربے کے طور پر کوٹھے کی نائکہ بھی اس کا انتظام کر رکھتی۔ روزانہ نچھاور کئے جانے والے نئے نوٹوں کی گڈیاں ان کی معرفت دوبارہ استعمال ہوتی رہتی۔

ہار اور گجرے
ہار اور گجرے

’آؤٹ آف باونڈ ایریا‘

نیپیئر روڈ کا یہ بازار نابالغوں کے علاوہ فورسز کے اہلکاروں کے لیے بھی ممنوع علاقہ تھا۔ کراچی کی تاریخ اور مقامات پر کتاب

‘ایسا تھا میرا کراچی‘

کے مصنف محمد سعید جاوید لکھتے ہیں کہ شام ڈھلے گلی کے باہر نمایاں جگہ پر ایک چھوٹا سا بورڈ رکھ دیا جاتا تھا جس پر

’آؤٹ آف باونڈ ایریا‘ لکھا ہوتا تھا جس کا مطلب عام فہم میں یہ تھا کہ یہاں مسلح افواج اور دوسرے سرکاری ملازمین کا داخلہ ممنوع ہے۔

البتہ وہاں سادہ لباس میں ہر وقت پھرتے ہوئے پولیس کے اہلکار ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتے تھے۔

اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کا انٹلیجنس نظام اس بازار میں متحرک رہتا تھا تا کہ فورسز کے اہلکاروں کو اس بازار سے دور رکھا جائے اگر کوئی رنگروٹ یا اہلکار اس بازار میں نظر آجائے تو اس کی اطلاع اوپر ہو جاتی تھی اور فوری طور پر ایک نظام حرکت میں آ جاتا۔

سیٹو سینٹو اور بازار حسن

پاکستان جب 1960 کی دہائی میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے ساتھ سیٹو سینٹو کا رکن بنا تو ایک بار پھر غیر ملکی جنگی بیڑے اور فوجیوں نے یہاں کا رخ کیا اور یہ بازار چمک اٹھا۔

’ایسا تھا میرا کراچی‘

کے مصنف محمد سعید جاوید لکھتے ہیں کہ جن دنوں کیماڑی کی بندرگاہ پر غیر ملکی نیوی کے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے تو ان کے ملاح اور ملازم ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے تھے، ان کے کا پیسے کی ریل پیل ہوتی اور وہ گولی کی طرح سیدھے یہاں (نیپیئر روڈ) پہنچتے تھے جہاں نیچے بنے مے خانوں میں شراب اور اوپر سجے کوٹھوں اور قحبہ خانوں میں شباب ان کو میسر ہوتے۔

مصنف کے مطابق حکومت اس کاروبار میں مداخلت نہیں کرتی تھی بلکہ غیر ملکیوں کے وہاں تک داخلے اور واپسی کے عمل کو ممکن اور سہل بناتی تھی، علی الصبح تک وہاں بگھیاں ان مہمانوں کی منتظر رہتی تھیں۔

’ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جب ماحول قدرے آزاد تھا، کراچی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح اور خصوصاً امریکی، برطانوی اور دوسرے ملکوں کے نیوی کے ملاح جن کے بحری جہاز مختصر عرصے کے لیے کراچی کی بندرگاہ پر رکتے وہ یہاں کا رخ کرتے تھے۔‘

قحبہ خانے اور کوٹھے ویران کب ہوئے؟

نیپیئر روڈ کے پان شاپ کے مالک احمد نے کیبن کے ساتھ واقع ہوٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ پرانا ہوٹل ہے اس میں ڈانس کی محفلیں ہوتی تھی۔‘

روڈ کی دوسری جانب ایک تین منزلہ ہوٹل کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہاں بھی محفل سجتی تھی، سب کے پاس اجازت نامہ ہوتا، کوئی غیر قانونی عمل نہیں تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جنرل ضیا الحق کی حکومت کے بعد تبدیلی آئی پہلے رات نو سے 12 بجے کا وقت مقرر کیا گیا اس کے بعد یہ سلسلہ ہی بند کر دیا گیا ورنہ 24 گھنٹے یہ بازار آباد رہتا تھا۔‘

’اس دشت میں اک شہر تھا‘  کے مصنف اقبال رحمان مانڈویا کا خیال ہے کہ یہ بازار دو مرتبہ زبوں حالی کا شکار ہوا وہ لکھتے ہیں کہ جب کراچی کی فلم انڈسٹری ختم ہوئی تو یہاں کی انڈسٹری سے روزی روٹی کمانے والے بہت سارے خاندان لاہور منتقل ہوگئے جس کے سبب بازار کی چہل پہل میں فرق پڑا۔

دوسرا اس وقت جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحریک نفاذ مصطفیٰ کے دباؤ میں آکر ملک میں نائٹ کلب، ریس کورس اور جوا خانے بند کر دیے تو اس بازار پر بھی ضرب پڑی، اس کے بعد کے دور میں اسلامی ذہن رکھنے والے جنرل ضیاالحق نے اس بازار پر ایسی ایسی پابندیاں لگائیں اور آنے والے تماشائیوں کو پولیس نے اتنا ہراساں کیا کہ یہ بازار واقعی اجڑ گیا اس بازار میں 200 سے زائد گھرانے تھے جو سکڑ کے 25 سے 30 رہ گئے تھے۔

’محفل نہیں اب کھپ ہوتی ہے‘

نیپیئر روڈ کی عمارتوں کے نام بھی دلکش تھے، جیسے بلبل ہزار داستان، جمیلہ شکیلہ بلڈنگ، شمشاد منزل، سنگیت محل، فنکار محل، موسیقی محل لیکن اب یہ تمام خاموش ہیں، بلبل ہزار داستان سمیت کچھ کی تعمیر نو کی گئی ہے۔

بلبل ہزار داستان کے داخلی راستے اور اس کے عقب میں واقع عمارت میں اب بھی کچھ خواتین نظر آتی ہی جو بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔

نعیم نے بتایا کہ’ ایک ٹی وی چینل نے یہاں چھاپہ مار کر لڑکیوں کی ویڈیوز بنائیں اس کے بعد پولیس ان کے پیچھے پڑ گئی حالانکہ یہاں سے لڑکیاں اب اسٹیج اور نجی محفلوں میں پرفارمنس کے لیے جاتی ہیں۔‘

نیپیئر روڈ کا آخری سکینڈل شاید سنہ 2000 میں سامنے آیا تھا، جب فاخرہ نامی ایک لڑکی پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ اس مقدمے میں غلام مصطفیٰ کھر کے بیٹے بلال کھر کو نامزد کیا گیا تھا، جس نے ضمانت کروا لی تھی، جبکہ فاخرہ کے متعدد آپریشنز کیے گئے لیکن اس کا چہرہ ٹھیک نہیں ہوا اور واقعے کے تقریباً دس برس بعد اخبارات میں اس کی خود کشی کی خبر آئی تھی۔

نگار سینیما چوک سے اگلے چوک پر امام بارگاہ کے قریب طبلے کی مرمت اور فروخت کرنے والوں کی دکانیں ہیں، جن میں سے کئی جانتے تو بہت کچھ ہیں لیکن بتانا نہیں چاہتے۔

وقار نامی ایک طبلہ مستری کا صرف اتنا کہنا تھا کہ ’اب محفل کہاں اب تو صرف کھپ ہوتی ہے۔ نوٹ :   ریاض سھیل کے اس تحقیقی مضمون کا خلاصہ بی بی سی اردو سے لیاگیا۔

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

لوگ یہ منظر دیکھیں گے

بدھ مارچ 10 , 2021
لوگ یہ منظر دیکھیں گے
art artistic blank page book