انعامات کی بارش
تحریر: اظہر سجاد
اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ انعامات کے بعد دنیا میں کسی کارنامے یا خدمات کے اعتراف پر ملک و قوم سے انعام حاصل کرنا ہر انسان کے لیے نہ صرف فخر و انبساط کا باعث ہوتا ہے بل کہ حوصلہ افزائی کا سبب بھی بنتا ہے۔ ہمارے ہاں چوں کہ کارنامے ذرا کم ہی ہوتے ہیں اور ہوں بھی تو صاحبان ِ اختیار کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص پر انعامات کی بارش برسا دی جاتی ہے۔ حکمران بڑھ بڑھ کر تصویریں بنواتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہم گزشتہ برس دیکھ چکے ہیں۔ مگر صد افسوس کہ جن پر انعامات کی بارش ہوئی اُن کی کارکردگی اس سال کافی مایوس کن رہی۔
انعامات کا یہ سلسلہ اُس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب کوئی شخص اپنی جان کی پروا کیے بغیر لوگوں کی جان بچاتے ہیں۔
پمز ہسپتال میں 14 نو مولود معصوموں کی ہلاکت ایک المناک سانحہ ہے ۔ حکومت نے ایک نومولود کی جان بچانے پر نرس رضیہ نورین کو ”ستارہِ خدمت“ اور ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ امید ہے کہ باقی اہلِ اقتدار بھی ہمدردی اور اختیار جتلانے کے لیے حسبِ توفیق حصہ ڈالیں گے یا کم از کم کچھ تصویریں ضرور بنوائیں گے۔
بلا شبہ ایک اہل کار کی فرض شناسی پر انھیں انعام و اکرام سے نوازا جانا ایک مستحسن اقدام ہے،مگر ہمیشہ کی طرح یہ واقعہ بھی اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔ ہم بھی پہلے کی طرح چند دنوں بعد ایک نئی بتی کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیں گے۔ اس سانحے سے جنم لینے والے بہت سے سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ بلا شبہ انعامات حوصلہ افزائی کا باعث ہوتے ہیں۔ مگر انعامات کی یہ رقم بر وقت متعلقہ شعبے کی بہتری پر خرچ کی جائے توکیا اس نوعیت کے حادثات میں کمی نہ آئے گی۔ کسی ایک فرد کو نواز دینا ہر گز بھی قابل تعریف نہیں ہے۔ بل کہ متعلقہ اداروں میں اہل افراد کو تعینات کر کے اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو بہتر بنا کر متعلقہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مگر شاید ہمارے حکمران اور سربراہان اتنے اعلیٰ ظرف ہیں کہ وہ انعامات کی بارش تو کر سکتے ہیں مگر حادثات کی بارش کو روکنے کے قابل نہیں۔

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں